دریائے ستلج

ستلج کو یونانی زبان میں زرد روز اور ویدک میں ستوری کہا جاتا ہے۔ دریائے ستلج جنوب مشرقی تبت کی جھیل لنکا سو سے 15200 فٹ کی بلندی سے نکلتا ہے۔ اس کی کل لمبائی 1448 کلو میٹر ہے۔ دریائے ستلج ہمالیہ کی گھاٹیوں سے گزر کر ہماچل پردیش کی ریاست میں 900 میل تک کے علاقے کو سیراب کرتا ہوا، ضلع ہوشیار پور کے میدانی علاقوں میں آ جاتا ہے۔ یہاں سے ایک بڑی نہر کی شکل میں جنوب مغرب کی طرف بہتا ہوا دریائے بیاس میں گر کر ہندوستان اور پاکستان میں ضلع قصور کے میدانی علاقوں سے دیپالپور کے نزدیک ہیڈ سیلمانکی سے گزرتا ہوا بہاولپور اور بہاولنگر کے اضلاع کی زمینوں کو سیراب کرتا ہے۔ نواب بہاول پور نے اپنی ریاست کو زرخیز بنانے کے لیے دریائے ستلج سے نہریں نکالیں، جن کا پانی نہ صرف زمینوں کو سیراب کر رہا ہے بلکہ صحرائے چولستان کے کچھ علاقوں میں فصلیں اگانے میں استعمال ہوتا ہے۔

1849ء میں سکھوں اور انگریزوں کے درمیان جنگ سے پہلے یہ دریا ایک سرحد کا کام انجام دیتا تھا۔ کوٹ مٹھن کے مقام پر دریائے ستلج، دریائے سندھ سے مل جاتا ہے۔ زمانہ قدیم میں دریائے ستلج تحصیل احمد پور شرقیہ کے قصبہ اُچ شریف کے نزدیک سے گزرتا تھا ۔ اس کے نشانات آج بھی موجود ہیں۔ 1960ء کے سندھ طاس منصوبے کے تحت اس کے پانی پر بھارت کا حق تسلیم کرلیا گیا ہے ۔ ہندوستان نے دریائے ستلج پر بھاکڑہ ننگل ڈیم تعمیر کیا ہے، جس سے 450,000 کلو واٹ بجلی پیدا ہوتی ہے اور اس کا پانی زرعی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ہندوستان نے دریائے ستلج سے سرہند کینال اور وادیٔ ستلج کے نام سے نہری منصوبے تعمیر کرکے علاقے کو زرخیز بنا دیا ہے۔

شیخ نوید اسلم

 (پاکستان کی سیر گائیں)

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s