سی ایس ایس امتحان میں صرف 2 فیصد امیدوار کامیاب

 قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی کابینہ سیکریٹریٹ کے اجلاس میں سیکریٹری ایف پی ایس سی امیر طارق عظیم نے انکشاف کیا کہ رواں سال سی ایس ایس رزلٹ میں صرف 2 فیصد طلبا پاس ہوئے جس پر چیئرمین کمیٹی اور ارکان نے سی ایس ایس امتحان میں بدترین رزلٹ کا نوٹس لیتے ہوئے پبلک سروس کمیشن سے کامیابی کی اتنی کم شرح پر 30 دن میں رپورٹ طلب کر لی۔ اجلاس چیئرمین محمود حیات کی زیر صدارت ہوا، سیکریٹری ایف پی ایس سی امیر طارق عظیم نے کمیٹی کو بتایا کہ اس سال ایف پی ایس سی کے رزلٹ میں صرف 2 فیصد طلبا پاس ہوئے جس پرکمیٹی اراکین نے سوال کیا کہ کیا اس سال سلیبس تبدیل ہونے سے نتائج پر اثر پڑا ؟

اس پر سیکریٹری ایف پی ایس سی نے بتایا کہ حالات کے ساتھ سلیبس کو بہتر اور نئے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلیے تبدیل کیا گیا، انھوں نے مزید بتایا کہ پنجاب سے 146، بلوچستان سے 4، گلگت بلتستان اور فاٹا سے ایک، پختونخوا 18، سندھ اربن سے 13 اور سندھ رورل سے 16 طالب علم پاس ہوئے، ناکام رہنے والے ایک طالب علم زاہد احمد نے کمیٹی میں پیش ہوکر درخواست دی کہ 12 سبجیکٹس میں سے صرف ایک انگلش کے سبجیکٹ میں فیل ہونے پر ناکام قرار دیا گیا۔  چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ہماری قوم کو انگلش فوبیا ہوگیا، ترکی اور چین کے سربراہان پاکستان آتے ہیں تو اپنی زبان میں تقاریر کرتے ہیں لیکن ہم اپنی قومی زبان کو ترجیح نہیں دیتے، دونوں شخصیات نے اپنی زبان میں تقاریر کیں، ہمیں بھی اپنی قومی زبان کو اہمیت دینی چاہیے.

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s