صحرائے چولستان

 چولستان وادی سندھ کے قدیم تمدن کا خوبصورت شاہکار رہا ہے۔ یہاں پہلے کبھی دریا ہاکڑا بہتا تھا لیکن اب یہاں ویرانیوں نے ڈیرے لگا رکھے ہیں۔ جگہ جگہ کچے قلعے عظمت رفتہ کی گواہی دیتے ہیں۔ چولستان کو روہی بھی کہتے ہیں اسی نسبت سے وہاں کے باسی روبیلے کہلاتے ہیں۔ کوئی ایسا بچہ نظر نہیں آئے گا جس کے تن پر پورا لباس ہو۔ میلوں تک پانی نام کی کوئی شے نہیں ملے گی۔پاکستان میں اس سے زیادہ شاید ہی کوئی پس ماندہ علاقہ ہو۔ لاکھوں کی آبادی پر مشتمل یہ خطہ بنیادی تعلیم اورطبی سہو لتوں سے محروم ہے ۔ لوگ بیمار ہو جائیں تو پہلی ہنگامی امداد دعا ہوتی ہے۔ دو ڈھائی سو کلومیٹر کا سفر طے کرتے کرتے مریض کا دم راستے میں ہی مسافر ہو جاتا ہے اور کوئی پرسان حال نہیں۔ وبائی امراض پھوٹ پڑیں تو آبادیاں قبرستان بن جاتی ہیں۔ اگر سال میں معمول سے زیادہ بارش ہو تو روبیلے کھل اٹھتے ہیں ورنہ نقل مکانی ان کی زندگی کا خاصا ہے۔

اس سال پانچ برس بعد چولستان میں بارش ہوئی۔ تالابوں اور ذخیرے کا مناسب بندوبست نہ ہونے کی وجہ سے بیشتر پانی ضائع ہو گیا اور قحط سالی کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا،انسانی تہذیبی ارتقاء کی نعمتوں سے محروم چولستان میں نہ کوئی غیر سرکاری ادارہ غم بانٹنے آتا ہے اور نہ ہی کسی صاحب منصب کو غم گساری کی توفیق ہوتی ہے۔ انسانوں کی ان بستیوں میں روا رکھے جانے والے ناروا سلوک کے برعکس ہندوستان کے صحرا راجستھان میں زبردست ترقیاتی کام ہوئے ہیں اور وہاں کی تہذیب و تمدن کو عالمی سطح پر متعارف کرایا گیا ہے۔ راجستھان میں پٹریاں بچھا کر سیاحت کو زبردست فروغ دیا گیا ۔ بھارتی حکومت نے چھوٹے بڑے بند باندھ کر صحرا کو نخلستان میں بدل ڈالا جبکہ ہمارے ہاں چولستان کی زندگی کو بنیادی ضرورتیں بھی میسر نہیں لوگ سارا سال سخت محنت کرتے، بھیڑ بکریاں پالتے اور موسم کی شدت سے بچ جانے والے جانوروں کو عیدالاضحی پر فروخت کرتے ہیں۔ یہی ان کا ذریعہ روزگار ہے۔

چولستان کے لو گ بڑے صابر اور شاکرہیں۔ تمام تر محرومیوں اور ناانصافیوں کے باوجود بندوق اٹھاتے ہیں اور نہ ہی ریاست کی رٹ کو چیلنج کرتے ہیں۔ اس قدر سادہ لوح ہیں کہ چوری چکاری سے بالکل ناآشنا ہیں۔ وہاں جرائم کا تصور نہیں۔ سال میں ایک دو مرتبہ جعلی پیر وہاں کا چکر لگا کر سادہ لوح عوام کو چکمہ دے کر بچا کھچا مال اسباب بھی لوٹ کر لے جاتے ہیں۔ یہاں کے لوگ مذہب سے دور ہیں۔ اکثر لوگوں کو کلمہ نہیں آتا۔ نمازی نہ ہونے کی وجہ سے مسجدیں ویران ہیں اور اس کی وجہ محض غربت ہے، پیٹ کی آگ بجھانے سے فرصت ملے تو وہاں کے لوگ دین و ایمان کی بات کریں۔ لوگ غربت و افلاس کے باوجود اپنی زندگی میں مست ہیں۔ وہ محض ایک امید پر جئے جا رہے ہیں کہ خدا ان کے حالات بدلے گا۔ چولستان میں نہ سڑک ہے نہ بجلی دور دور تک ریت کا سمندر ہے۔

اندرون چولستان کوئی مسافر راستہ بھول جائے تو اس کی واپسی ناممکن ہوتی ہے۔ وہ بھوکا پیاسا ریت پر تڑپ تڑپ کر جان دے دیتا ہے۔ چولستان میں اکثر جگہوں پر مردہ جانوروں کے پنجر ملتے ہیں۔ 400 کلومیٹر لمبے اور 300 کلومیٹر چوڑے رقبے پر پھیلے چولستان میں شاید ہی پکا مکان ملے۔ صرف گھاس پھوس کی جھونپڑیوں میں سسکتی زندگی ملے گی۔ لوگوں کی شدید خواہش پوچھی جائے تو زمین، قرضے کی بجائے صرف پانی اور طبی سہولت کا مطالبہ ہوگا۔ بچیوں کو میلوں مسافت طے کرکے پانی کے گھڑے لانے پڑتے ہیں۔ وہ آنے جانے ہی میں جوان ہو جاتی ہیں۔ ایک ہی گھاٹ پر انسان اور ڈنگر پانی پیتے ہیں۔ چولستان میں ریت کے اڑتے جھکڑ، کمزور اور لاغر انسان، تعلیم سے محروم بچے اور دوران زچگی ادویہ نہ ہونے سے موت کی آغوش میں جانے والی عورتیں ہیں۔

چولستانی اللہ بخش نامی بوڑھے کی یہ فریاد آنکھیں کھول دینے کے لئے کافی ہے۔ وہ کہتا ہے ’’کچھ دن پہلے یہاں سے تبلیغی جماعت کا گزر ہوا۔ ہم نے ان سے گذارش کی کہ ہمارے کچھ لوگوں کے جنازے پڑھاتے جائو۔ انہوں نے کہا آپ لوگ جنازے لے آئیں ہم اتنی دیر میں وضو کر لیتے ہیں۔ انہیں بتایا گیا کہ مردے تو دو سال قبل دفن کر دیئے گئے ہیں۔ جماعت کے لئے یہ بات حیران کن تھی کہ جب ان کی تدفین ہوئی تو اس وقت جنازے کیوں نہیں پڑھائے گئے۔‘‘ اللہ بخش کہتا ہے کہ ’’تب یہاں کوئی جنازہ پڑھانے والا نہیں تھا۔‘‘ پھر آسمان کی طرف منہ کر کے دعا کرتا ہے ،اے خدا! جب میری روح قبض ہو تو کوئی جنازہ پڑھانے والا ضرور میسر کرنا۔‘‘ بوڑھے چولستانی کی یہ دعا سن کر روح کانپ اٹھتی ہے۔ چولستان کے علاقے میں ہر ذی روح کا سلسلۂ تنفس عذاب میں گھرا اور ٹوٹتا نظر آئیگا۔ انسان تو کیا، جانوروں اور پرندوں کیلئے بھی اس علاقے کا ماحول ازلی سوگ میں ڈوبا نظر آتا ہے۔ ملک کے دوسرے علاقوں میں قحط اور خشک سالی کے خطرے کی باتیں شائد فیشن کے طور پر اور سیاست بازی کے شوق میں بھی کرلی جاتی ہیں مگر اس خطرے کو محسوس کرنا ہو تو ذرا ایک چکر چولستان کا لگا آئیے جہاں پائپوں میں تو پینے کے پانی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔

ندی نالوں کا کھارا گدلا پانی ایک ہی گھاٹ پر انسان بھی پیتے ہیں اور جانور بھی، نہانے دھونے کیلئے پانی کی وافر دستیابی ان علاقوں کے مکینوں کا حسرت بھرا خواب بن چکا ہے۔ قیام پاکستان سے پہلے دیگر ریاستوں کی طرح ریاست بہاولپور کی بھی آزاد اور خودمختار حیثیت تھی اور اس ریاست کے نواّبین کا طوطی بولتا تھا۔ ان کے ادوارِ نوابی میں چولستان کی کیا حالت تھی، مجھے اس کی تاریخ کا صحیح علم نہیں مگر حقائق یہی بتاتے ہیں کہ والیان بہاولپور نے چولستان جس میں ان کے اپنے قلعے میں بھی موجود تھے، کی تعمیر و ترقی کی جانب توجہ دی ہوتی اور وہاں پانی کے ذخائر بنالئے ہوتے تو آج کا اجڑا چولستان بھی خوشحال، خوش اور مطمئن انسانوں کی بھرپور زندگیوں کی ترجمانی کر رہا ہوتا مگر ان نواّبین کو شادیاں کرنے اور دنیا جہان کی نعمتیں اپنے محلوں میں لا سجانے سے ہی فرصت نہیں تھی اس لئے قیام پاکستان کے بعد سب سے زیادہ پسماندگی جنوبی پنجاب کے علاقے چولستان کے مقدر کا حصہ بنی۔ یہاں کی سب سے زیادہ بدقسمتی یہ ہے کہ اس علاقے کے بدنصیب، مفلوک الحال، پسے پسماندہ عوام سے ووٹ حاصل کرکے اقتدار کے بڑے بڑے ایوانوں تک پہنچنے والے قائدین نے بھی چولستان کو اپنی عیاشیوں کا مرکز تو ضرور بنایا مگر یہاں کسی سہولت کی جھلک دکھانے کی کبھی ضرورت محسوس نہیں کی چنانچہ چولستان کی غریبی، بدنصیبی آج ضرب المثل بن چکی ہے۔

عبدالستار ہاشمی

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s