حلب کی پکار : ‘انسانیت کو بچاؤ’

شام کے شہر حلب کے مشرقی حصے میں پھنسے ہوئے شہریوں نے اُس وقت ٹوئٹر اور دیگر سوشل میڈیا سائٹس پر ‘الوداعی پیغامات’ پوسٹ کیے جب حکومتی فورسز باغیوں کے زیرقبضہ علاقے کے قریب پہنچ گئیں۔ اقوام متحدہ کے ترجمان کے مطابق ہزاروں عام شہری مشرقی حلب میں پھنسے ہوئے ہیں اور یہ ‘انسانیت کا جنازہ نکل جانے جیسا ہے’۔ ان حالات میں متعدد افراد نے دل خراش ‘الوداعی’ پیغامات پوسٹ کیے ہیں جن میں سے ایک 7 سالہ بچی بانا ال عبید کا پیغام بھی ہے جو گزشتہ چند ماہ کے دوران حلب کی صورتحال پر کیے جانے والے پیغامات سے دنیا بھر میں مشہور ہوئی، اس بچی کا ٹوئٹر اکاﺅنٹ اس کی والدہ فاطمہ چلاتی ہیں۔

بچی نے لکھا ‘میرا نام بانا ہے، میں سات سال کی ہوں، میں اس وقت مشرقی حلب سے دنیا سے بات کر رہی ہوں، یہ میرے آخری لمحات ہیں’۔ اس سے قبل اس نے ایک ٹوئیٹ میں یہ بھی بتایا تھا کہ اس کے والد زخمی ہوچکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کے ترجمان نے بتایا ‘حکومتی فورسز مشرقی حلب میں داخل ہوچکی ہیں اور گھروں میں گھس کر شہریوں کو مار رہی ہے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں’۔ اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے پناہ گزین نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا، ‘ہم حلب سے ملنے والی رپورٹس سے خوفزدہ ہیں اور محصور شامیوں کے تحفظ کا مطالبہ کرتے ہیں’۔ مشرقی حلب کے اس حصے میں موجود مختلف افراد نے بھی ٹوئٹر پر دنیا سے اپیلیں کیں۔

لینا شامی نامی ایک سرگرم کارکن نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ مشرقی حلب میں رہ جانے والے ‘قتل عام کے خطرے’ کی زد میں ہیں ‘جو کوئی مجھے سن سکتا ہے حلب کو بچاؤ، انسانیت کو بچاؤ’۔ حلب پر باغیوں کا قبضہ چار سال سے تھا اور اب صدر بشار الاسد اور ان کی اتحادی فورسز شہر کے بڑے حصے کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر چکی ہیں جبکہ مشرقی حلب میں جھڑپیں جاری ہیں۔ عبدالکافی الحمدو نامی ایک استاد نے ٹوئیٹ کی، ‘یہ ایک پکار ہے اور شاید آخری پکار ہے، حلب کے لوگوں کو بچاﺅ، میری بیٹی اور دیگر بچوں کو بچاﺅ’۔ انہوں نے اس جگہ کی ایک پیری اسکوپ ویڈیو بھی شیئر کی۔

عبدالکافی نے اپنی بیٹی کی تصویر بھی ٹوئیٹ کی اور لکھا، ‘کیا میں اسے کسی اور دن دیکھ پاؤں گا’۔ ایک ڈینٹسٹ ڈاکٹر سلیم ابو النصیر نے بھی کچھ ایسے ہی جذبات کا اظہار کیا، ان کا کہنا تھا ‘ یہ شاید میری آخری اپیل ہے، ہر وہ شخص جو اپنی حکومت، اپنے ملک کو پیغام بھیج سکتا ہے، اس جارحیت کو روکنے کا مطالبہ کرے، قتل عام کو روکو، جنگ کو روکو’۔ ایک فوٹو گرافر امین ال حلبی نے فیس بک پر لکھا ‘میں موت یا اسد حکومت کے ہاتھوں گرفتاری کا منتظر ہوں، میرے لیے دعا کریں اور ہمیشہ یاد رکھیں’۔ دیگر افراد نے بھی کچھ اس قسم کے پیغامات سوشل میڈیا پر پوسٹ کیے: کہا جارہا ہے کہ حلب کے اس چھوٹے سے حصے میں ایک لاکھ کے لگ بھگ افراد پھنسے ہوئے ہیں۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s