فیروز والہ

ضلع شیخوپورہ کا قصبہ اور تحصیل، اس کے شمال میں گوجرانوالہ، جنوب میں ضلع امرتسر (بھارت) اور ضلع لاہور، مغرب میں ننکانہ صاحب اور مشرق میں ضلع سیالکوٹ واقع ہے۔ لاہور سے پشاور جانے و الی جی ٹی روڈ پرواقع ہے۔ کئی سو سال پہلے اس کو بھٹی قوم کے ایک فرد فیروز دین نے آباد کیا اور اپنے نام پر فیروز والہ نام رکھا۔ اس کے ہاں نرینہ اولاد نہ تھی۔ دو بیٹیاں تھیں جو بُٹر اور ران قوم میں بیاہی گئیں۔ فیروز نے گائوں کی تمام ملکیت اپنے دامادوں کے نام کر دی۔ یہا ں کے زمیندار رعایت خان کی مہاراجہ رنجیت سنگھ کے باپ مہان سنگھ سے لڑائیاں ہوئیں۔ بعدازاں کرم سنگھ بھنگی نے رعایت خان کو پکڑ کر نظر بند کردیا۔ اس طرح فیروز والہ مہان سنگھ کے قبضے میں آگیا۔ اس علاقے کی گندم بہت مشہور رہی ہے۔ ۱۸۱۱ ء میں اس کی آبادی ۲۸۳۸ افراد پر مشتمل تھی جبکہ یہاں ۵۰۲ گھر اور ۴۲ دوکانیں موجود تھیں۔ فیروز والہ ابتدا میں ضلع گوجرانوالہ میں شامل رہا۔ بعد میں جب شیخوپورہ کو ضلع بنایا، تو اس میں شامل کر دیا گیا۔

اب یہ تحصیل کا درجہ رکھتا ہے، جس میں ۴۵۷ دیہات شامل ہیں۔ یہاں تحصیل سطح کی عدالتیں، تھانہ، طلبا و طالبات کے ہائی ، مڈل اور پرائمری سکول، ریسٹ ہائوس اور ہسپتال موجود ہیں۔ ممتاز صحافی اور ادیب مولوی محبوب عالم کا تعلق فیروز والہ سے تھا۔ ابتداً فیروز والہ میں خادم التعلیم کے نام سے ایک چھاپہ خانہ قائم کیا۔ ایک سال بعد ۱۸۸۶ء میں ماہنامہ ’’زمیندار‘‘ جاری کیا، جس کی ادارت، کتابت، سنگ سازی اور طباعت خود کرتے تھے۔ پھر ہفت روزہ ’’ہمت‘‘ جاری کیا۔ ۱۸۸۷ ء میں پیسہ اخبار جاری کیا ۔ جب پریس کو لاہور منتقل کیا تو پیسہ اخبار بھی لاہور سے چھپنا شروع ہوا۔ یہ اپنے دَور میں ہندستان کا مقبول ترین اخبار تھا۔ آپ نے مختلف موضوعات پرقریباً پچاس تصانیف مرتب کیں۔ ۱۹۳۳ ء میں آپ کا انتقال ہوا۔

معروف پنجابی شاعر اور ادیب شیخ محمد شریف صابر کا تعلق بھی فیروز والہ سے ہے، وہ اس کے قریبی گائوں سرائے بختہ میں ۱۹۲۸ء میں پیدا ہوئے۔ فرہنگ نگار ہیر وارث شاہ ، مکمل کافیاں بُلّھے شاہ، مکمل ابیات باہُو، سیف الملوک میاں محمد۔ پورن بھگت قا دریار وغیرہ آپ کی تصنیفات و تالیفات ہیں۔ اسلام آباد میں مقیم معروف ادیب اکبر حمیدی کا تعلق بھی فیروز والہ سے ہے۔ آپ ۱۹۳۶ء میں پیدا ہوئے۔ لہو کی آگ، آشوب صدا، جزیرے کا سفر، تلوار اس کے ہاتھ، تتلی کے تعاقب میں، شہربدر، قدم آدم، مضامین غیب، وزیر آغا کے خطوط اکبر حمیدی کے نام، دشت بام و در، جھاڑیاں اور جگنو اور عالم افغاں وغیرہ آپ کی تخلیقات ہیں۔ ۱۹۹۸ء کی مردم شماری کے مطابق فیروز والہ کی آبادی ۵۵۴۳۳ نفوس تھی جبکہ اب اس کی آبادی ۷۵ ہزار کے قریب ہے۔

(کتاب ’’نگر نگر پنجاب:شہروں اور قصبات کا جغرافیائی، تاریخی، ثقافتی اور ادبی انسائیکلوپیڈیا‘‘ سے مقتبس) –

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s