وٹس ایپ کی بے پناہ مقبولیت اور دلچسب حقائق

وٹس ایپ کا نام what’s up سے لیا گیا ہے، جس کا اُردومیں معنی ’’کیا چل رہا ہے‘‘کے ہیں ۔ وٹس ایپ کو آپ مستقبل کا سوشل میڈیا بھی کہہ سکتے ہیں، جس کی وجہ اس کے جدید فیچرز ہیں۔ وٹس ایپ کا ہیڈ کوارٹر ماؤٹین ویو، کیلیفورنیا میں واقع ہے۔ پہلے پہل وٹس ایپ iOS آپریٹنگ سسٹم رکھنے والے سمارٹ فونز کے لیے ہی دستیاب تھا، بعدازاں اس کی بڑھی ہوئی مقبولیت کے پیشِ نظر پہلے بلیک بیری، پھر اینڈرائیڈ اور آخر میں ونڈوز کے لیے بھی الگ سافٹ ویئرز متعارف کروا دِیے گئے۔ وٹس ایپ سے وائس کال، ویڈیو کال، ٹیکسٹ میسج، PDF فائلیں، تصویریں، اپنا مقام، آڈیو اور ویڈیو فائلیں بھی بھیجی سکتی ہیں، لیکن یہ سب تو آج کی بات ہے۔ اس سے قبل یعنی 2008ء سے 2009ء تک یہ فیچرز دستیاب نہ تھے۔

وٹس ایپ کو مشہورِ زمانہ سرچنگ اور سوشل ویب سائٹ ’’یاہو‘‘ کے ملازمین برین ایکٹن اور جین کوم نے ڈیزائن کیا۔ 2007ء میں یاہو سے مستعفی ہونے کے بعد دونوں دوستوں نے اپنا ذاتی سافٹ ویئرز ڈیزائن کرنے کا سوچا، جس کے لیے وہ جنوبی امریکا پہنچے، یہاں انہوں نے فیس بک اور ٹویٹر میں نوکری کے لیے کئی بار تگ و دو کی، لیکن ناکام ٹھہرے۔ اسی اثناء میں جین کوم نے ایک روسی ڈویلپر کے ساتھ مل کر وٹس ایپ ڈیزائن کیا اور جلد ہی اسےiOS کے ایپ سٹور پر ریلیز کر دیا۔ ریلیز کے کچھ عرصہ بعد ہی وٹس ایپ دنیا بھر میں مقبول ہو گئی، یہاں تک کہ 2009ء میں دنیا کی سب سے زیادہ استعمال کی جانے والی میسجنگ ایپلی کیشن بن گئی۔ 2013ء تک وٹس ایپ پرقریباً 200 ملین صارفین سرگرم رہے ۔

اس دوران اعداد و شمار کی ذمہ داری 50 ملازموں پر مشتمل سٹاف پر تھی۔ 2014ء تک صارفین کی تعداد بڑھ کر 500 ملین تک پہنچ گئی۔ اپریل 2014ء کی ایک رپورٹ کے مطابق وٹس ایپ صارفین ہر روز 700 ملین تصویریں، 100 ملین ویڈیوز، 10 بلین میسج کیا کرتے تھے۔ جین کوم نے وٹس ایپ کو اِن کارپوریٹ کروایا اور 19 فروری 2014ء کو 19.3 بلین ڈالر میں فیس بک کو فروخت کر دیا ۔ 19.3 بلین کی بھاری رقم دنیا ئے تاریخ کی سب سے زیادہ خریداری میں صرف کی جانے والی رقم تھی۔ بقول جین اور کوم اگر فیس بک یا ٹویٹر انہیں اپنے پاس ملازمت دے دیتے، تو ان سے بے شمار فائدے اُٹھا سکتے تھے۔ فیس بک نے وٹس ایپ میں ہر وہ چیز شامل کی، جس کی عام مواصلاتی زندگی میں لوگوں کو ضرورت ہوتی ہے۔

70 فیصد کے قریب وٹس ایپ صارفین روزانہ کی بنیاد پر آن لائن ہوتے ہیں۔ وٹس ایپ کے مطابق ہر روزقریباً 1 ملین نئے صارف شامل ہوتے ہے۔ وٹس ایپ اینڈرائیڈ سمارٹ فونز میں تیسری سب سے زیادہ ڈاؤن لوڈ کی جانے والی ایپ ہے۔ وٹس ایپ اب کمپیوٹر پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، جس کے لیے سمارٹ فون سے صرف ایک QR کوڈ سکین کرنا ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں1 بلین دفعہ ڈاؤن لوڈ ہونے کے دوران کوم سمیت صرف 4 لوگ وٹس ایپ کے تمام اعداد و شمار سنبھالے ہوئے تھے، جو اپنے آپ میں ایک ورلڈ ریکارڈ ہے۔ ٹویٹر اور فیس بک کی طرف سے رد کیے جانے پر برین ایکٹن نے ٹویٹ کیا کہ ’’یہ میرے لیے ایک بڑا موقع تھا کہ میں فیس بک یا ٹویٹر کے با کمال سٹاف کے ساتھ کام کر تا، لیکن ایسا نہ ہوا، پھر بھی میرا ایڈونچر ابھی باقی ہے‘‘ اور دلچسپ بات یہ کہ ایکٹن کے اس ٹویٹ کے کچھ عرصے بعد وٹس ایپ کا قیام عمل میں آیا۔

دانش احمد

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s