پاکستان کے عجوبے

وطن ِعزیز (پاکستان) خوبصورت اور عجب مقامات کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ خاص طور پر پاکستان کے شمالی علاقے اور کشمیر شاندار سیاحتی مقامات میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ ملک کا یہ حصہ (کشمیر) اپنے آسمانوں کو چھوتے پہاڑوں، دلکش اور سرسبز دیہاتوں، خوبصورت جھیلوں اور حیران کن حیوانی زندگی کی وجہ سے بھی دنیا بھر میں مقبول ہے۔ ملک کے اس حصہ کے مرکزی سیاحتی مقامات میں نیلام، سوات اور ہنزہ شامل ہیں۔ یہ تمام مقامات دنیا کی حقیقی خوبصورتی کی عکاسی کرتے ہیں۔ پاکستان میں سیرو تفریح کے لیے با کمال آثارِ قدیمہ بھی موجود ہیں، جس وجہ سے ہر سال بڑی تعداد میں سیاح،اس دیس کا رُخ کرتے ہیں۔ دنیا کے 7 عجوبوں میں تاج محل، دیوارِ چین، پیسا ٹاور، پیٹرا، کولوسییم، چیچن عتزا اور ماچو پیچو شامل ہیں جبکہ پاکستان کی شاہراہ قراقرام کو دنیا کا آٹھواں عجوبہ سمجھا جاتا ہے۔

شاہراہ قراقرم

پاکستان کے عجوبوں کی بات کی جائے، تو ان سب میں سرفہرست اور دنیا کا آٹھواں عجوبہ شاہراہ قراقرم ہے۔ یہ ہائی وے N-35 اور نیشنل ہائی وے کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ زمین سے 15,397 فٹ کی بلندی پر واقع قراقرم ہائی وے پاکستان اور چائنا کی گہری دوستی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ 1300 کلومیٹر طویل یہ ہائی وے پاکستان کے صوبہ پنجاب میں واقع حسن ابدال سے شروع ہو کر گلگت بلتستان، خنجراب پاس پر ختم ہوتا ہے۔ پاکستان چائنا بارڈر کے اُس پار چائنا کا نیشنل ہائی وے 314 شروع ہو جاتا ہے۔ شاہراہ قراقرام کے خوبصورت اور دلکش مناظر دنیا بھر سے سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ شاہراہ قراقرم کو دنیا کے سب سے اونچے اور پکے ہائی وے ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ قراقرم ہائی وے کی اس قدر بلندی کی وجہ سے اسے کئی قسم کے موسمی حالات سے بھی نپٹنا پڑتا ہے، اسی لیے اس کی مرمت وقفے وقفے سے جاری رہتی ہے۔ قراقرم ہائی وے پر دوران ِسفر کئی خوبصورت پہاڑ بھی دیکھنے کو ملتے ہیں، جن میں نانگا پربت ، راکا پوشی اور دیران سرفہرست ہیں۔ مشہور برطانوی اخبار دی گارڈینز کے مطابق سیاحوں متوجہ کرنے کے حوالے سے شاہراہ قراقرم پاکستان میں تیسرے نمبر پر آتی ہے۔ اس شاہراہ کے ساتھ کئی غمناک یادیں بھی وابستہ ہیں، جیسا کہ دورانِ تعمیر قریباً 500 پاکستانی اور چائنیز مزدوروں کی موت واقع ہوئی، اسی وجہ سے اسے دنیائے تاریخ کا سب سے غیر یقینی اور خوفناک انجینئرنگ منصوبہ بھی سمجھا جاتا ہے۔ اس ہائی وے کی تعمیر 1978ء سے شروع ہو کر 1982ء کو اختتام پذیر ہوئی ، تاہم بین الاقوامی سیاحوں کے لیے اسے 1986ء میں کھولا گیا۔

موہنجو داڑو موہنجو داڑو جس کے اُردو میں معانی ’’ مردہ لوگوں کا ٹیلا‘‘ کے ہیں، پاکستان کے صوبہ سندھ میں آثار قدیمہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی تاریخ اتنی پرانی ہے کہ آج بھی اس کے اصل نام کی تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم ماہرین کی بڑی تعداد ’’کوکو ترما‘‘ یعنی مرغے کی لڑائی پر اتفاق کرتی ہے۔ ایک اندازے اور تاریخی شواہد کے مطابق موہنجوداڑو کی تعمیر 2500BCE یعنی آج سے 4500 سال قبل مکمل ہوئی۔ موہنجوداڑو وادیٔ سند ھ کی قدیم تہذیب اور ماضی میں یہاں کے لوگوں کے عروج و زوال کی بھرپور نشاندہی کرتا ہے اوراس کا شمار دنیا کے قدیم ترین گنجان آباد اور ماضی کے ترقی یافتہ علاقوں میں کیا جاتا ہے، جہاں پورے برصغیر سے لوگ جوق در جوق تجارت کے سلسلے میں آیا کرتے تھے۔ 19ویں صدی میں موہنجوداڑو کی تباہی اور زوال کے بعد بڑی تعداد میں لوگ یہاں سے ہجرت کر گئے۔ اس کے بعد 1920ء تک اسے دوبارہ دریافت نہ کیا گیا۔ بعدازاں 1980ء میں اسے بین الاقوامی ادارے ’’UNESCO ورلڈ ہیری ٹیج سائٹ‘‘ یعنی دنیا کے قدیم ثقافتی ورثے میں شامل کر لیا گیا، تاہم آج یہ قدیم ثقافتی ورثہ غیرمناسب دیکھ بھال اور موسمی تبدیلی کی وجہ سے بد حالی سے دوچار ہے۔ اس سب کے باوجود بھی ہر سال بڑی تعداد میں بین الاقوامی سیاح اس قدیم تہذیب کو دیکھنے کی غرض سے پاکستان کا رُخ کرتے ہیں۔

بلتت فورٹ

بلتت فورٹ کا شمار بھی پاکستان کی خوبصورت اور پرُاسرار جگہوں میں ہوتا ہے۔ بلتت فورٹ گلگت بلتستان کے ایک گاؤں ہنزہ میں واقع عجیب و غریب مقام ہے۔ بلتت فورٹ کی تاریخ 700 سال پرانی ہے اور اس طویل عرصہ میں کئی بار اسے مختلف حکومتوں کے ادوار میں مرمت و تعمیر کیا جاتا رہا ہے۔ 16 ویں صدی میں ایک مقامی راجہ نے بلتستان کی رانی سے شادی رچائی، تو ماسٹر بلتی (ماضی میں بلتستان کے مشہورمعمار) کے کاریگروں کو خرید لیا اور بلتت فورٹ کی تجدید اور توسیع میں لگا دیا۔ بلتت فورٹ دراصل بلتستان کی رانی کی جاگیر تھی، جو شادی کے بعد راجہ کی ہو گئی۔ ایک لمبے عرصے بعد 1945ء میں یہا ں کے مقامی لوگوں نے شدید سردی اورضروریاتِ زندگی کے وسائل کی کمی کی وجہ سے اس جگہ کو چھوڑ کر نچلی پہاڑیوں میں رہنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے بعد لندن کی رائل جیوگرافیکل سوسائٹی نے یہاں کا معائنہ کیا اور اس جگہ کو ایک میوزیم میں بدل دیا اور اس میں کئی متعلقہ چیزیں بھی رکھیں،جن میں تصاویر، پرانے برتن ،اوزار اور ہتھیاروغیرہ شامل ہیں۔ بلتت فورٹ اور اس مقام سے دکھنے والے خوبصورت مناظر کی نظیر دنیا بھر میں کہی نہیں ملتی۔

جھیل سیف الملوک

سیف الملوک بڑے بڑے دیو قامت پہاڑوں میں گھری ایک خوبصورت اور دلکش جھیل ہے۔ یہ جھیل پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شمالی آخر کاغان میں واقع ہے۔ یہ جھیل سمندری سطح سے قریباً 10578 فٹ اُونچائی پر ہے۔ سیف الملوک کا شمار پاکستان کی سب سے اونچی جھیلوں میں بھی ہوتا ہے۔ اس کے خوبصورت مناظر اور سال بھر رہنے والے پر لطف موسم سے محظوظ ہونے، ہر سال دنیا بھر سے ہزاروں لوگ اُمنڈ آتے ہیں۔ اس شاندار جھیل کے قریب ہی کاغان کی سب سے اونچی چوٹی ’’ملکہ پربت‘‘ بھی واقع ہے۔ آج سے قریباً 3 لاکھ سال پہلے یہ جھیل سرد تر موسم کی وجہ سے منجمد رہی ۔ بعدازاں بدلتے موسموں نے کاغان کی برفانی پہاڑیوں کو براہِ راست متاثر کیا اور آخر یہ برف پگھل کر اس جھیل کی صورت میں اُبھر آئی۔ سیف الملوک کی خوبصورتی اور دلکشی کے پیشِ نظر ماضی کے کئی شعرا اور اُدبا اس کی تعریفوں کے پُل باندھ چکے، جن میں مشہورِ زمانہ صوفی شاعر میاں محمد بخش بھی شامل ہیں۔ میاں محمد بخش اس جھیل کے بارے لکھتے ہیں کہ فارس کا ایک مشہور راجا شہزادہ سیف الملوک، اسی جھیل کے کنارے پری نما شہزادی بدری جمالہ کے پیار میں گرفتار ہو گیا تھا اور تب سے آج تک یہ جھیل ’’سیف الملوک‘‘ کے نام سے جانی جاتی ہے۔

دانش احمد

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s