مقدمہ جماعت اسلامی کا

جماعت اسلامی کے پی کے میں تحریک انصاف کی حکومت کی حلیف ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ جماعت اسلامی کی وجہ سے ہی کے پی کے میں تحریک انصاف کی حکومت مستحکم ہے ورنہ جماعت اسلامی ہمیشہ ہی اس پوزیشن میں رہی ہے کہ اس حکومت کو ختم کر سکتی تا ہم اتنی اہم سیاسی پوزیشن کی وجہ سے بھی اس نے کبھی عمران خان کو سیاسی طور پر بلیک میل نہیں کیا۔ اس کو امیرجماعت  سراج الحق کی نرم مزاجی بھی کہا جا سکتا ہے اور شرافت بھی۔ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے درمیان بیک وقت ایک نفرت اور محبت کا رشتہ ہے۔ محبت اس لیے کہ کے پی کے کی حکومت قائم رہے اور نفرت اس لیے کہ جماعت اسلامی تحریک انصاف کی بی ٹیم بننے کے لیے تیار نہیں۔ اس نے دھرنے میں شریک ہونے سے انکار کر دیا اور وہ عمران خان کے ہر قدم کی تائید نہیں کر تی۔

اسی طرح جماعت اسلامی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان گزشتہ تین دہائیوں سے بیک وقت محبت اور نفرت کا رشتہ ہے۔ دونوں اتحادی بھی بن جاتے ہیں اور حریف بھی۔ لیکن دونوں ایک دوسرے پر اپنا حق سمجھتے ہیں اور یہ حق نہ ملنے پر ایک دوسرے کی مخالفت بھی کرتے ہیں۔ آجکل بھی یہی صورتحال ہے ۔ جماعت اسلامی پانامہ میں فریق بن چکی ہے اور مسلم لیگ (ن) اس پر ناراض ہے‘  اسی ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں سراج الحق پرسیاسی طعنوں کے تیر چلا ئے۔ خواجہ آصف کا موقف ہے کہ جماعت اسلامی ہمیشہ تاریخ کے غلط طرف کھڑی ہوتی ہے۔ خواجہ آصف کا موقف ہے کہ جب جماعت ا سلامی ہمارے ساتھ مل کر انتخاب لڑتی ہے تو پھر پانامہ کا کیس کیوں لڑ رہی ہے۔

جماعت اسلامی کے ترجمان امیر العظیم سے میں نے پوچھا کہ آپ کیوں تاریخ کی غلط سمت کھڑے ہو جاتے ہیں۔ وہ مسکرائے اور کہنے لگے کہ بس عمران خان کے شدید دباؤ کے باوجود دھرنے میں شریک نہ ہوئے اور تاریخ کی غلط طرف کھڑے ہو گئے۔ پرویز مشرف کے مارشل لا میں جب ن لیگ اکیلے الیکشن لڑنے سے ڈرتی تھی اور منصورہ کے طواف کرتی تھی تو ہم ان کے ساتھ کھڑے تھے اور تاریخ کی غلط طرف کھڑے تھے۔ جب مشرف کے مارشل لا کے بعد مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے ہم سے اپنی غلطیوں کی معافی مانگی اور ہم نے معاف کر دیا اور ان کا ساتھ دیا ہم تاریخ کی غلط طرف ہی کھڑے تھے۔

جب پہلی دفعہ آئی جے آئی میں میاں نواز شریف کو وزیر اعظم بنانے کی مخالفت کی جا رہی تھی تو جماعت اسلامی نے ان کو وزیر اعظم بنانے کی حمایت کی تب بھی جماعت تاریخ کی غلط طرف ہی کھڑی تھی۔ جب مشرف دور میں ہم ن لیگ کے اتحادی بن گئے تھے تب بھی تو ہم تاریخ کی غلط طرف ہی کھڑے تھے۔ جب میاں نوازشریف میاں اظہر کا انتخاب ہرانے کے لیے جماعت اسلامی کے حافظ سلمان بٹ کو کھڑ اکرنے کی خواہش کرتے تھے ۔ تب بھی تو ہم تاریخ کی غلط طرف ہی کھڑے تھے۔

امیر العظیم کا موقف ہے کہ مشرف کی صدارت کے انتخاب کے موقع پر جب مولانا فضل الرحمٰن مشرف کو صدر بننے دینا چاہتے تھے اور جماعت اسمبلی نے اسمبلیوں سے استعفیٰ دینے کے لیے متحدہ مجلس عمل ہی توڑ دی تب ن لیگ ہمارے صدقے واری جا رہی تھی لیکن شاید تب بھی ہم تاریخ کی غلط طرف ہی کھڑے تھے۔ جماعت اسلامی کو بھی ن لیگ سے کافی گلے شکوے ہیں۔ اور ن لیگ کو بھی جماعت اسلامی سے کافی گلے شکوے ہیں۔ ن لیگ کی خواہش ہے کہ جب بھی اس کو ضروت ہو جماعت اس کے ساتھ کھڑی ہو جائے۔ لیکن جواب میں جماعت اسلا می کوکچھ دینا نہ پڑے۔

دھرنے کے دنوں میں سراج الحق اور ن لیگ کے درمیان ایک بہترین انڈر اسٹینڈنگ قائم ہو گئی تھی۔ سراج الحق کے مصالحتی کردار کا ن لیگ کو فائدہ تھا۔ پانامہ کے شروع ہونے پر بھی خواجہ سعد رفیق منصورہ پہنچ گئے تھے۔ لیکن اس بار پانامہ میں سراج الحق نے مصا لحتی کردار کے بجائے فریق بننے کا فیصلہ کیا۔ جو ن لیگ کو پسند نہیں آ رہا۔ خواجہ آصف نے یہ انکشاف کیا ہے کہ دھرنے کے دنوں میں سراج الحق ان سے پوچھتے تھے کہ اسٹیبلشمنٹ ان کے ساتھ ہے کہ نہیں۔ میں سمجھتا ہوں وہ ٹھیک ہی پوچھتے تھے کیونکہ دوسری طرف تحریک انصاف جو بار بار ان سے کہہ رہی تھی کہ  اسٹیبلشمنٹ  اس کے ساتھ ہے ۔ بس جماعت اسلامی دھرنے میں ساتھ شامل ہو جائے۔

اسلام آباد کے خیبر ہاؤس میں ہونے والی ایک میٹنگ میں عمران خان کئی گھنٹے سراج الحق کو یہ یقین دلاتے رہے کہ جماعت اسلامی اس دھرنے میں شریک ہو جائے جواب میں جماعت اسلامی کو جو چاہیے مل جائے گا۔ عمران خان ایک سیاسی بلینک چیک سراج الحق کو دے رہے تھے۔ لیکن سراج الحق نہ مانے۔ جس کے بعد ایک لمبے عرصہ تک سراج الحق اور عمران خان کے درمیان تعلقات میں سر د مہری رہی۔ جو شاید کہیں نہ کہیں آج بھی قائم ہے ۔ ابھی حال ہی میں جب عمران خان نے اسلام آباد کے لاک ڈاؤن کی کال دی تھی تب بھی  جماعت اسلامی نے اس لاک ڈاؤن میں شرکت سے انکار کر دیا تھا۔

میں نے جماعت اسلامی کے رہنماؤں سے کئی بار پوچھا ہے کہ آپ کیا کرتے ہیں۔ پانامہ میں فریق بن جاتے ہیں۔ لیکن اسلام آباد لاک ڈاؤن میں شریک نہیں ہو تے۔ دھرنے کی مخالفت کرتے ہیں لیکن ن لیگ کے ساتھ اتحاد نہیں بناتے۔ حکومت کو گرانے کی ہر تحریک کی مخالفت کرتے ہیں لیکن نواز شریف کو ناہل قرار دلوانے کے درپے ہیں۔ جماعت اسلامی کہتی ہے کہ اس نے جمہوریت کے خلاف سازشوں کو نا کام کیا ہے لیکن حکمرانوں کے تحفظ کا ٹھیکہ نہیں لیا ہوا۔ لیکن اپنی اس پالیسی سے جماعت اسلامی نے دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کو ناراض کر لیا ہے۔ اسی لیے جماعت اسلامی سیاسی تنہائی کا شکار ہے۔ یہ تنہائی اگلے انتخابات میں خطرناک بھی ہو سکتی ہے۔ تا ہم جماعت اسلامی کا موقف ہے کہ ا ن دو نوں بڑی سیاسی جماعتوں نے گزشتہ انتخاب میں بھی جماعت اسلامی کو سیاسی طور پر تنہا چھوڑ دیا تھا۔ اس لیے اب جماعت اسلامی اس کی عادی ہو گئی ہے۔ اب ہمیں سیاسی تنہائی سے کوئی نہیں ڈرا سکتا۔ ہم اس کے عادی ہو گئے ہیں۔

مزمل سہروردی

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s