کشمیر ہماری شہ رگ ہے

kashmir

5 فروری کو قوم سڑکوں پر آ کر بھارتی ظلم و استبداد اور جبروتشدد کے شکار خون میں لت پت کشمیریوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کرتی ہے جس میں دنیا کو یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ ” مسئلہ کشمیر ” اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے ۔ اقوام متحدہ کے ریکارڈ پر سب سے قدیم اس مسئلے کو ایک مخصوص منصوبہ بندی کے تحت دو ملکوں کا زمینی تنازعہ بنا نے کی کوشش جاری ہے ۔ یہ دو ممالک کا تنازعہ نہیں، بلکہ سوا کروڑ کشمیریوں کے مستقبل کا مسئلہ ہے، جس میں ان کے عقیدے، ثقافت اور رضامندی کے خلاف زندگیاں گزارنے پر مجبور کیا جا رہا ہے ۔ ان کی آبادی کو کم کیا جا رہا ہے ، بنیادی حقوق کی خلاف ورزیاں معمول بن چکا ہے، مہذب دنیا کے ملکی قانون کے مطابق کسی فرد کو تحریری وجہ بتائے بغیر گرفتار نہیں کیا جا سکتا ، لیکن بھارت میں جمہوریت کی دیوی کا ظہور ہونے کے باوجود نہ صرف لوگوں کو بغیر کسی وجہ کے گرفتار کیا جاتا ہے، بلکہ ان کو قتل کر دیا جاتا ہے یا نا معلوم گڑھوں میں پھینک دیا جاتا ہے ۔ یہاں جنگل کا قانون ہے جو خونخوار اور وحشی درندوں کے ہاتھوں میں ہے ۔ اسی وحشت، سفاکیت،چنگیزیت ، جارحیت اور جبر کے خلاف مظلوم کشمیری سات دہائیوں سے احتجاجی تحریک جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ جب سے اس تحریک نے زور پکڑا ہے پاکستانی عوام کشمیریوں سے یک جہتی کے اظہار کے طور پر ملک کے طول و عرض میں ہر سال پانچ فروری کویہ دن مناتے ہیں ۔ اس کا ایک اہم مقصد عالمی ضمیر کو بیدار کرنا بھی ہے، جس نے کشمیریوں کی طرف سے پُر اسرار خاموشی اختیار کر رکھی ہے ۔ دوسرا بھارت کے دعوے کو ” جس میں وہ کشمیر کو اٹوٹ انگ سمجھتا ہے ” غلط ثابت کرنا ہوتا ہے ۔

پاکستان نے یہ تہیہ کر رکھا ہے کہ وہ کشمیریوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا، کیونکہ دونوں لازم و ملزوم ہیں ۔ پاکستان ایک جسم ہے اور کشمیر اس کی شہہ رگ ہے ۔ فطرت نے کشمیر کی تمام وادیوں ، دریاؤں، شاہراہوں اور گزرگاہوں کا دروازہ پاکستان کی طرف کھول کر شہہ رگ سے جسم کو جوڑ دیا ہے ۔ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں۔ ایک حصے کو تکلیف ہو تو پورا جسم درد محسوس کرتا ہے۔ یہی درد پاکستان بھی محسوس کرتا ہے ۔ بھارتی درندوں نے آج پوری وادی کو حصار میں لے رکھا ہے۔ امت کی بیٹیوں کی ردائے عصمت تار تار کی جاتی ہے نوجوانوں کو پکڑ کر عقوبت خانوں میں بند کر دیا جاتا ہے، جہاں وہ تڑپ تڑپ کر جان اور جسم کا رشتہ توڑ دیتے ہیں ۔ان مصائب، تکالیف اور درد سے جہاں کشمیری تڑپتے اور بلکتے ہیں، وہاں پاکستانیوں کے دل بھی کڑھتے اور خون کے آنسو روتے ہیں ۔ پانچ فروری کو پاکستانی کشمیری بھائیوں کے کرب اور تکلیف کو بانٹنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ تنہا نہیں ہیں۔

کشمیری بھائیوں کے حق میں آواز بلند کرنا پاکستانی اپنا فرض سمجھتے ہیں ، لیکن ازلی دشمن (بھارت) بڑی عیاری اور مکاری سے اپنے قبضے کو طوالت دیتا جا رہا ہے ۔ اس سلسلے میں دنیا بھر میں ایک بھر پور قسم کی بیداری مہم کی ضرورت ہے ۔ پانچ فروری کا احتجاج بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ یہ تحریک جنوبی ایشیائی یا بین الاقوامی تحریکوں کی طرح نہیں، جہاں محروم طبقات اپنے حقوق کے لئے جدو جہد کر رہے ہیں، بلکہ یہ بھارت کے سامراجی ہتھکنڈوں کے خلاف ایک آواز ہے ، امت مسلمہ کی گئی ایک فریاد اور عالمی اداروں کے لئے یاد دہانی ہے ۔ دیگر تحریکیں وطنیت اور مخصوص علاقوں کی بنیاد پر جاری ہیں، لیکن کشمیر کی تحریک دو قومی نظریے کی بنیاد پر جاری ہے، جہاں ایک طرف بھارتی بالادستی کا استرداد ہے اوردوسری طرف غاصبانہ بھارتی قبضے کے خلاف ایک احتجاج ہے ۔

کشمیریوں کے پاس اپنی سر زمین موجود ہے، جہاں وہ اپنی صدیوں پرانی روایت، مذہب اور ثقافت کے مطابق زندگیاں گزارنے کا پیدائشی حق رکھتے ہیں ۔ اس سے انکار غیر فطری اور غیر منطقی ہے ۔ اگر یہ تحریک نظریے کے بجائے کسی دوسری بنیاد پر استوار ہوتی توکب کی ختم ہو چکی ہوتی ۔ نظریات کی تحریکوں کا دورانیہ طویل وقت پر محیط ہوتا ہے اور لازمی طور پر اپنی منزل کو پا لیتی ہیں ۔ مزید یہ کہ دونوں طرف کے کشمیریوں کو جوڑنے کی اساس چونکہ لا الہ الا اللہ ہے، اس لئے اسے کامیابی سے ہمکنار ہونے سے کوئی طاقت نہیں روک سکتی ۔ 80کے عشرے کے آخری سالوں میں مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں نے ریاست میں جاری نام نہاد سیاسی نظام کا حصہ بننا چاہا تو دہلی میں بیٹھے سیاسی پنڈتوں کو یہ پسند نہ تھا کہ مسلم جماعتوں کا اتحاد کامیاب ہو ۔ ریاستی حکومت سمیت سب ہندوؤں کو خدشہ تھا کہ مسلمان جموں و کشمیر اسمبلی میں اکثریت حاصل کر کے ان کو کسی بحران سے دو چار نہ کر دیں ، لہٰذا جیسے تیسے بھی ہو انتخابات (1987ء) میں اس اتحاد کو کامیاب نہ ہونے دیا جائے ۔ ان انتخابات میں وسیع پیمانے پر رگنگ کر کے جس بد دیانتی کا مظاہرہ کیا گیا، اس کے خلاف کشمیریوں نے شدید احتجاج کیا اور تحریک آزادی کو ایک نیا رنگ دیتے ہوئے بھارتی فوجی درندوں کے خلاف ڈٹ گئے ۔

1988ء کے بعد بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خلاف جاری تحریک میں یہ ایک نیا موڑ تھا۔ کشمیریوں نے اس ریاستی اقدام کے خلاف احتجاج اور مظاہروں میں بہت چھو ٹے پیمانے پر طاقت کو استعمال کرنا شروع کر دیا ۔ اس کا سبب بھی 1987ء میں ہونے والے ریاستی انتخابات تھے، جن کے دوران کچھ سیاسی جماعتوں نے اپنے مسلح ونگ تشکیل دیئے۔ بھارتی افواج کو کشمیر میں احتجاج کرنے والوں کو ریاست میں غیر ملکی عنصر قراردے کر قتل کرنے کی کھلی چھٹی دی گئی تھی۔ سیاسی جماعتوں کے ان غنڈوں اور انتہا پسند ہندو گروپوں نے ہزاروں کی تعداد میں مسلمانوں کو قتل کیا جن میں ریاستی فوج اور انتظامی محکموں کے سرکاری اہلکاروں کی معاونت بھی شامل تھی ۔ وسیع پیمانے پر بڑھتے ہوئے ریاستی تشدد اوربنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، خصوصاََ مذہبی اور سیاسی حقوق کی پامالی نے جلتی ہوئی آگ پر تیل کا کام کیا ۔ مقامی لوگوں کا مذکورہ ریاستی اقدام کے خلاف اٹھ کھڑے ہونا بھارت کو سخت ناگوار گزرا ۔ پاکستان کی طرف سے کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری تھی ۔ بھارت کی طرف سے پاکستان کی شمولیت کا ڈھنڈورا پیٹا گیا اور اس پر کشمیری مجاہدین کی مدد کا الزام بھی لگایا گیا۔ ان حالات میں پاکستان نے پانچ فروری کے دن کو کشمیریوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس دن پاکستان کے تمام حلقے کشمیریوں سے مکمل یک جہتی کا اظہار کرتے ہیں ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بھارت کے ان تمام حیلوں بہانوں سے پردے اٹھتے جا رہے ہیں، جن کی بنیاد پر بھارت نے قبضے کا ڈرامہ رچایا تھا۔ پاکستان کے علاوہ کشمیر کا کوئی مستقبل نہیں ۔ تمام سیاسی جماعتیں اس دن بڑھ چڑھ کر اس مسئلے پر اتحاد کا مظاہرہ کرتی ہیں کہ کشمیر ہر لحاظ سے پاکستان کا حصہ ہے، جسے بھارت نے ایک فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر رکھا ہے ۔ دونوں ملکوں میں کشیدگی کی بنیادی وجہ کشمیر ہے، جس سے بھارت کو ایک دن دست بردار ہونا پڑے گا اور اقوام متحدہ کی منظور کردہ قراردادوں پر عمل درآمد کروانے کے لئے کشمیری عوام کو حق خودارادیت دینا ہو گا۔

طارق احسان غوری

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s