بچوں کی تربیت کیسے کریں ؟

bp21

آجکل کے والدین کو اپنے بچوں سے سب سے پہلے جو شکایت ہوتی ہے وہ یہ کہ اُن کی بات نہیں مانتے ،چھوٹے ہوتے ہیں تب بھی نہیں مانتے اور جب بڑے ہو جائیں تو پھر تو بہت ہی کم والدین ہیں جو اپنے بچوں کی تابعداری سے مطمئن ہیں ایک زمانہ تھا جب بچے چاہے کتنے بڑے کیوں نہ ہو جائیں والد بغیر کسی جھجک کے کسی بھی غلط بات پہ پٹا ئی بھی کر دیں تو اولاد سر جھکا کر مار کھا لیتی تھی لیکن آجکل کے دور میں تو شائد ہی ایسے گھرانے ہوں گے جہاں والدین کی اتنی عزت اور اہمیت ہو گی۔

Pictures in the News: Islamabad, Pakistanایک دفعہ مسجد میں ایک بچے کو دیکھا کہ مولانا صاحب جو بچے کے اُستاد تھے وہ اپنے جوتے باہر اُتار کر مسجد میں چلے گئے پیچھے یہ بچہ آ رہا تھا اِس نے یہ دیکھا کہ لوگ مسجد میں داخل ہو تے جا رہے ہیں اور اُس کے اُستاد کی جوتیوں پر جوتیاں رکھ کر گزرتے جا رہے ہیں ، بچہ تیزی سے آگے لپکا اور اپنے اُستا د یعنی مولوی صاحب کی جوتیاں اپنے ہاتھوں سے صاف کیں اور ایک طرف رکھ دیں جبکہ اُس کے اُستاد وہاں موجود بھی نہیں تھے کہ یہ کہا جا سکتا کہ شائد بچے نے اپنے اُستا د کے خوف سے یہ عمل کیا ۔ بظا ہر یہ معمولی سی بات ہے لیکن یہ عمل بہت بڑی بات کا پتہ دے رہا ہے کہ بچے کے دل و دماغ میں اپنے اُستاد کیلئے اتنی عزت اور مقام کیسے پیدا ہو گیا ؟

اتنی بات تو میں سمجھ گیا کہ یقینا اس کی تربیت ہوئی ہے لیکن یہ تربیت کیسے کی گئی ؟ مجھے اپنے سوال کا جواب مل گیا کہ بچوں کی تربیت یہی ہے جو وہ اپنے والدین اور اساتذہ کو کرتے دیکھتے ہیں ، لہٰذا آپ کو بچوں سے یہ شکائیت نہیں ہو نی چاہیے کہ وہ آپ کی تابعداری نہیں کرتے یا بات نہیں مانتے چاہے وہ چھوٹے ہوں یا بڑ ے۔ اس کے علاوہ ایک اور اہم چیز جو اس واقعہ سے ثابت ہو ئی کہ جو ماحول آپ نے اُنھیں مہیا کیا ہو گا بچے ویسے ہی بنیں گے ، ماحول بہت اہم کردار ادا کرتا ہے بچوں کی تربیت میں،بچوں کو ہمیشہ وہ ماحول دیں جیسا آپ اُنھیں بنانا چاہتے ہیں اسلئے کہ جب بچے اجتماعی طور پر سب کو ایک ہی کام کرتے دیکھتے ہیں پھر وہ وہی کرتے ہیں۔

بعض والدین تعلیمی اداروں کے چنائو میں غیر محتا ط ہوتے ہیں اور اس بات کا خیال نہیں رکھتے کہ جس ادارے میں وہ بچوں کو پڑھنے بھیج رہے ہیں وہاں کا ماحول کیسا ہے؟ کہیں وہ اُن کے اسلامی کلچر ، ثقافت ،روایات سے متصادم تو نہیں ہے؟ اور اگر ایسا ہو جائے تو اس بات کا احساس والدین کو تب ہوتا ہے جب بچے غلط راستے پر چل پڑتے ہیں اور معاملہ اُن کے ہاتھ سے نکل چکا ہو تا ہے۔ اسلئے بچوں کی تربیت میں ان باتوں کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔

عمیر احمد قادری

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s