علمائے کرام خاموش کیوں ؟

گذشتہ چند ہفتوں کے دوران جو کچھ ہوا اُس معاملہ میں پاکستان کے جید علمائے کرام کو سب کی رہنمائی کرنی چاہیے کیونکہ جو معاملہ انتخابی قوانین میں متنازع تبدیلیوں سے شروع ہوا وہ ایک ایسے مرحلہ میں داخل ہو چکا ہے جہاں حکومت سے تعلق رکھنے والے چند افراد سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ کچھ مخصوص مذہبی شخصیات کے سامنے پیش ہو کر اپنے ایمان کی تجدید کروائیں اور اپنے آپ کو مسلمان ثابت کریں۔ سابق وزیر قانون زاہد حامد نے اپنے آپ کو مسلمان ثابت کرنے کے لیے ویڈیو پیغام دیا، دھرنا دینے والوں کے نمائندوں کے سامنے اپنے ایمان کی قسمیں کھائیں، حج و عمرہ کی تصویریں سوشل میڈیا میں ڈال دیں، ختم نبوت پر اپنے ایمان کا یقین دلایا اور اپنے استعفیٰ میں ایک بار پھر لکھا کہ وہ اور اُن کے آبائو اجداد پکے مسلمان ہیں۔

ابھی تک انتخابی قوانین میں متنازع تبدیلیوں (جن کو درست کیا جا چکا ہے) کے معاملے پرکسی پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوئی اور توقع ہے کہ آئندہ ایک دو ہفتوں کے دوران راجہ ظفر الحق صاحب اپنی حتمی رپورٹ مکمل کر کے اپنے پارٹی رہنما کو دے دیں گے جس سے یہ پتا چلے گا کہ کیا جو ہوا وہ پارلیمنٹ کی مشترکہ غلطی کا نتیجہ تھا یا اس معاملہ میں کسی سازش کا بھی کوئی عمل دخل تھا۔ لیکن یہاں نتیجہ سے پہلے ہی زاہد حامد سے استعفیٰ لے کر اُنہیں نہ صرف ’’مجرم‘‘ بنا دیا گیا بلکہ اُن کے ایمان پر بھی سوال اُٹھا دیئے گئے۔ اب رانا ثنا اللہ کے استعفے کی بات ہو رہی ہے اور اُن سے بھی یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے ایمان کی تجدید کے لیے کسی خاص مذہبی شخصیت کے سامنے پیش ہوں جو وزیر قانون پنجاب کو سن کر فیصلہ کریں گے کہ آیا رانا ثنا اللہ سے استعفیٰ لیا جائے یا اُن کے مسلمان ہونے پر یقین کر لیا جائے۔

راجہ ظفر الحق رپورٹ آنے کے بعد نجانے کتنے اور لوگوں کو اسی طرح اپنے ایمان کی تجدید کے لیے کسی نہ کسی مذہبی شخصیت کے سامنے پیش ہو کر اپنے آپ کو مسلمان ثابت کرنا پڑے گا۔ میڈیا میں ان معاملات پر بہت باتیں ہو رہی ہیں اور سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا یہ سلسلہ اگر چل نکلا تو کہیں رکنے کا نام لے گا۔ عدالت اور میڈیا میں یہ بھی سوال اٹھائے جا رہے ہیں کہ آیا گزشتہ دنوں اسلام کے نام پر جس انداز میں احتجاج کیے گئے، جو زبان استعمال کی گئی، جس طرح قومی و نجی املاک کو نقصان پہنچایا گیا اُس کا کسی بھی طرح اسلام سے کوئی تعلق ہے؟ پاکستان کے جید علمائےکرام سے میری گزارش ہے کہ وہ مل بیٹھ کر ان معاملات پر مسلمانوں کی رہنمائی فرمائیں اور عوام کے ذہنوں میں اٹھنے والے سوالات کا جواب دیں۔

ویسے آج کل عدالتیں، میڈیا، سیاستدان اور حکمران اسلام کی تعلیمات کا کافی حوالہ دے رہے ہیں لیکن کوئی یہ سوال نہیں اٹھا رہا کہ پاکستان کو قائم ہوئے ستر سال ہو چکے، یہ ملک اسلام کے نام پر بنا، ہمارا آئین اس ملک کو اسلامی ریاست بنانے کی ضمانت دیتا ہے لیکن کسی نے پاکستان کو اسلامی ریاست بنانے کے لیے عملی اقدامات کیوں نہ کئے؟ جب ریاست اسلام کے نفاذ سے ہاتھ کھینچ لے گی اور مذہبی معاملات کو دوسروں پر چھوڑ دیا جائے گا تو پھر یہی حال ہو گا جو آج پاکستان کا ہے جہاں مسجدیں فرقوں اور مسلکوں کے لحاظ سے پہچانی جاتی ہیں، فرقے اور مسلک اسلام سے آگے ہو گئے، جس کا دل چاہے جو فرقہ بنا لے کوئی پوچھنے والا نہیں، جو چاہے کسی دوسرے کو کافر کا فتویٰ لگا دے۔

آج ہماری یہ حالت ہے کہ اسلام کے نام پر مسلمان مسلمان کا قتل کر رہا ہے۔ ان حالات کو ٹھیک کرنا ہے تو ریاست کو اپنی ذمہ دار ی پوری کرنی پڑے گی، قرآن و سنت کی تعلیمات عام کرنی ہوں گی، ہر تعلیمی ادارے میں قرآن پاک ترجمہ کے ساتھ اور آپﷺ کا اسوہ حسنہ پڑھانا ہو گا، اپنی نسلوں کی تربیت اسلامی اقدار، روایات اور اصولوں کے مطابق کرنی ہو گی۔ حضرت محمد ﷺ سے کسی مسلمان کی محبت پر کسی دوسرے کو سوال کا کوئی حق حاصل نہیں لیکن سیاستدانوں اور حکمرانوں سے اس بات کی توقع ضرور ہے کہ اس محبت کی خاطر وہ اس ملک میں نظام مصطفیٰ ﷺ کے نفاذ کے لیے اقدامات ضرور اٹھائیں گے۔

جہاں تک میڈیا کا تعلق ہے، اُس کے بارے میں جو سپریم کورٹ کے معزز جج قاضی عیسیٰ نے کہا وہ غور طلب ہے۔ چند دن قبل فیض آباد دھرنے کا سو موٹو کیس سنتے ہوئے انہوں نے سوال اٹھایا کہ میڈیا کیوں فتنہ پھیلا رہا ہے؟ کیا میڈیا کا کام صرف پگڑیاں اچھالنا ہے؟ انہوں نے کہا کہ اس دوران کس چینل نے اسلام کی بات کی؟ قاضی عیسیٰ نے کہا کہ نہ سرکاری ادارے نہ میڈیا اسلام کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام میڈیا چینلز کی انتظامیہ کو قرآن پاک، آئین پاکستان اور پیمرا قوانین کی کاپیاں بھجوائی جائیں۔ انہوں نے اس با ت پر افسوس کا اظہار کیا کہ اس کیس کے گزشتہ سماعت کے دوران عدالت کی طرف سے قرآن و حدیث کے جو حوالے دیے گئے انہیں میڈیا نے اہمیت نہیں دی۔ دوسروں پر انگلی اٹھانے والے میڈیا کو چاہیے کہ اپنی بگڑتی حالت کو دیکھے اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔

انصار عباسی

Advertisements

ن لیگ کی خود احتسابی کا بہترین وقت ؟

میاں نواز شریف کے لیے بلخصوص اور ن لیگ کے لیے بلعموم یہ بہترین موقع ہے کہ اپنا محاسبہ کر کے غور کریں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ اُن کے لیے مصیبتیں اور مشکلات روز بروز بڑھتی جا رہی ہیں اور ختم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔ سب سے اہم بات غور کرنے کی یہ ہے کہ اپنے موجودہ دور حکومت کے دوران ن لیگی قیادت نے اپنے فیصلوں اور پالیسیوں سے کہیں اللہ تعالیٰ کو ناراض تو نہیں کیا ؟ یہ وقت ہے کہ میاں صاحب اور ن لیگی قیادت کے لیے سوچنے کا کہ غیروں کے ساتھ ساتھ یہاں موجود مغرب زدہ سیکولر طبقہ کو خوش کرنے کے لیے اُنہوں نے گزشتہ چار سال کے دوران کچھ ایسا تو نہیں کیا جس نے اسلامی نظریہ پاکستان کے تصور کو دھندلانے کی کوشش کی ہو ؟

میں یہاں بہت سے ایسے متنازعہ حکومتی اقدامات گنوا سکتا ہوں جن کے بارے میں میں ان سالوں کے دوران وقتا فوقتا لکھتا رہا اور جو بڑی تعداد میں عام پاکستانیوں کے ساتھ ساتھ بہت سے ن لیگیوں کے لیے بھی حیران کن تھے۔ کئی لیگیوں نے مجھے خود بتایا کہ معلوم نہیں کہ اُن کی اعلیٰ قیادت کے مشیر کون ہیں جنہوں نے ن لیگ کو اپنے آپ کو سیکولر اور لبرل ثابت کرنے کے لیے ایسے ایسے فیصلے کروائے جو اسلام پسندوں اور مذہبی طبقوں کے لیے انتہائی پریشان کن تھے۔ وہ ن لیگ جس کو دائیں بازو کی سیاسی طاقت مانا جاتا تھا ان سالوں کے دوران پاکستان کو لبرل اور ترقی پسند ریاست بنانے کا وعدہ کرتی رہی۔ ویسے تو جب میاں نواز شریف کو حکومت سے اقامہ جیسے بہانے پر وزارت عظمی سے نکالا گیا اور ہمیشہ کے لیے نااہل بھی قرار دے دیا گیا جس پر انہیں چاہیے تھا کہ ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ کا سوال اپنے آپ سے بھی کرتے اور پوچھتے کہ کہیں میں نے اللہ تعالیٰ کو ناراض تو نہیں کیا ؟

گزشتہ دو روز کے دوران پاکستان بھر میں جو سنگین صورتحال پیدا ہوئی اُس کے نتیجے میں ن لیگی حکومت کو سیاسی طور پر کیا قیمت ادا کرنی پڑے گی اس بارے میں فیصلہ تو مستقبل کرے گا لیکن جس انداز میں راولپنڈی اسلام آباد کو ملانے والے علاقہ فیض آباد کو کھولنے کے لیے ن لیگی حکومت نے آپریشن کیا اُس نے فیض آباد میں محدود احتجاج کو پاکستان بھر میں پھیلا دیا، ن لیگیوں پر حملے کروا دیے، کئی قیمتی جانوں کا ضیاع ہو گیا اور ایسی صورتحال پیدا ہو گئی کہ کسی کے کنٹرول میں نہیں۔ کسی کو کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ معاملہ کہاں اور کیسے رکے گا ؟

یہ بہترین وقت ہے کہ ن لیگی اور اُن کی قیادت سیاسی اور انتظامی حکمت عملی بنانے کے ساتھ ساتھ اللہ سے معافی بھی طلب کریں۔ ورنہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ پندرہ بیس دن کے فیض آباد دھرنے کو اس طرح ملک بھر میں پھیلا دیا جائیگا۔ کوئی ہوش مند دھرنے والوں کے خلاف آپریشن کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا کیوں کہ سب کو معلوم تھا کہ جس مسئلہ پر دھرنا دیا گیا وہ انتہائی نازک معاملہ ہے اور اُسے طے کرنے کے لیے طاقت کے استعمال کا مطلب یہ ہو گا کہ صورتحال کو مزید خراب کر دیا جائے۔ معلوم نہیں حکومت اور انتظامیہ کو کیا ہوا اور یہ کیسی حکمت عملی تھی کہ آپریشن کا فیصلہ بھی کیا تو میڈیا کو بتا کر اور اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ آپریشن اور گھیراو جلاو کو پوری دنیا کو میڈیا کے ذریعے دکھایا جائے۔

اس بات کو بھی یقینی بنایا گیا کہ جب پولیس اور ایف سی کو مار پڑے تو انہیں بھی بھاگتا ہوا دکھائیں۔ جب ٹی وی چینلز نے یہ صورتحال پورے پاکستان کو دکھا دی اور ملک بھر میں اشتعال پیدا ہو گیا، لوگ گھروں سے باہر نکل آئے تو پھر فیصلہ ہوا ٹی وی چینل بند کر دیں۔ ویسے تو فیض آباد اور اس کے گردو جوار کے علاقوں میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس کو دھرنے کے ابتدائی دنوں میں بند رکھا گیا لیکن آپریشن کے دوران ٹی چینلز کی لائیو کوریج کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی یقینی بنایا گیا کہ اس علاقہ میں نہ تو موبائل بند ہوں اور نہ ہی سوشل میڈیا۔ اس ’’بہترین حکمت عملی‘‘ پر وزیر داخلہ احسن اقبال کو کم از کم اس وزارت سے تو فوری طور پرفارغ کر دینا چاہیے۔

وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ دھرنے کی سازش میں بھارت کا بھی ہاتھ ہے۔ احسن اقبال صاحب انکوائری کروائیں ہو سکتا ہےفیض آباد آپریشن کے حکمت عملی بھی بھارتی سازش کا ہی نتیجہ ہو۔ بہتر ہو گا کہ اپنی غلطیوں اور خرابیوں کا بوجھ کسی دوسرے پر نہ ڈٖالا جائے۔ ویسے اگر میاں نواز شریف راجہ ظفرالحق کمیٹی کی سفارش پر چند ایک افراد کے خلاف ایکشن لے لیتے تو معاملہ دھرنے تک بھی نہ پہنچتا۔ ختم نبوت کے متعلق الیکشن قانون میں متازعہ ترامیم کیا کسی غلطی کا نتیجہ تھی یا کوئی سازش؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنا کسی بھی دوسرے معاملہ سے زیادہ اہم ہونا چاہیے تھا لیکن حکومت اور ن لیگی قیادت کو یہ بات سمجھ نہیں آئی۔

اس معاملہ کو جس طریقہ سے حکومت نے ہینڈل کیا ہے اُس سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کی آنکھوں پر پردے پڑ گئے ہوں اور ذہن ماوٗف ہو گیا ہو کیوں کہ جو بات ایک عام آدمی کی سمجھ میں آسانی سے آ رہی تھی وہ ن لیگ کے بڑے بڑے رہنمائوں اور تجربہ کار سیاستدانوں کو سمجھ نہ آئی اور انہوں نے اس آگ کو پورے پاکستان میں پھیلا دیا۔ پہلے معاملہ ایک وزیر کی رخصت سے حل ہو سکتا تھا لیکن اب ایک دو یا تین وزراء برطرف کر دیے جائیں اور حکومت بچ جائے تو بھی ن لیگ کے لیے مہنگا سودا نہیں۔ لیکن دیکھتے ہیں کہ اللہ کو کیا منظور ہے!!!

انصار عباسی

مردان واقعہ اور ریاست کی ذمہ داری

 مردان یونیورسٹی میں ایک طالب علم کو توہین مذہب کے الزام پر یونیورسٹی کے  ہی طلبہ نے بے دردی سے قتل کر دیا۔ نہ ان سنگین الزامات کی تحقیقات کی گئیں، نہ ہی معاملہ پولیس اور عدالت کے پاس گیا بلکہ ہجوم نے خود ہی الزام لگایا، اپنی عدالت لگائی اور سزا بھی دے دی۔ اس واقعہ کی وزیر اعظم نواز شریف، عمران خان، آصف علی زرداری، مولانا سمیع الحق، مفتی محمد نعیم اور دوسرے کئی سیاسی و مذہبی رہنمائوں نے مذمت کی جبکہ وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا اور متعلقہ پولیس ڈی آئی جی کے مطابق ابھی تک کی تحقیقات میں توہین مذہب کے کوئی ثبوت نہیں ملے۔ خیبر پختون خوا حکومت نے معاملہ کی جوڈیشل انکوائری کا حکم دے دیا ہے جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان نے بھی اس معاملہ کا سو موٹو نوٹس بھی لے لیا ہے۔

امید ہے آئندہ چند ہفتوں میں کیس کے تمام حقائق سامنے آ جائیں گے اور یہ کہ مشال خان پر لگائے گئے الزامات کی نوعیت درست تھی یا غلط یا کہ اُسے کسی سازش کا نشانہ بنا کر اس طرح قتل کروایا گیا۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ ریاست کے ہوتے ہوئے کسی بھی گروہ یا افراد کے مجمع کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ الزام کے بنیاد پر قانون ہاتھ میں لے کر کسی کی جان لے لیں۔ الزام کیسا بھی ہو اس کے لیے معاملہ پولیس، عدالت اور ریاست کے حوالے کیا جائے۔ اگر ہجوم اور گروہوں کو الزام لگا کر لوگوں کو مارنے کی اجازت دے دی جائے تو پھر تو یہاں کوئی بھی نہیں بچے گا اور خصوصاً ایک ایسے معاشرے میں جہاں سنگین سے سنگین الزامات لگانے کا رواج عام ہو اور اس کام کے لیے میڈیا اور سوشل میڈیا کو خوب استعمال کیا جاتا ہو۔

یہاں ریاست اور ریاست کے ذمہ داروں کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے اور اس سوال پر غور کرنا چاہیے کہ آخر ہماری ریاست گستاخی کے الزام میں سزا پانے والوں میں سے کسی ایک کی سزا پر بھی عمل درآمد میں کیوں ناکام رہی۔ ریاست کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ شہریوں کو قانون کی عمل داری نظر آئے تا کہ ہر کسی کو یقین ہو کہ کسی بھی قسم کا جرم کرنے والا سزا سے نہیں بچ سکتا۔ مردان واقعہ کا ایک ا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ مشال خان کے قتل کا حوالہ دے کر ایک طبقہ نے اسلام، blasphemy law اور ماضی قریب میں عدالت، حکومت اور پارلیمنٹ کی طرف سے سوشل میڈیا پر سے گستاخانہ مواد کو بلاک کرنے اور گستاخی کے مرتکب افراد کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات پر سوال اٹھانے شروع کر دیئے۔ کچھ نے کہا کہ مردان یونیورسٹی کا واقعہ blasphemy law کا غلط استعمال ہے۔

کوئی ان سے پوچھے یہ قانون کہاں کسی مجمع یا گروہ کو الزام کی بنیاد پر کسی بھی فرد کو مارنے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ قانون تو ریاست کو گستاخی کے الزام پر کارروائی کی ہدایت دیتا ہے۔ جو کچھ حال ہی میں عدلیہ، پارلیمنٹ اور حکومت نے سوشل میڈیا پر سے گستاخانہ مواد کو ہٹانے کے لیے کیا وہ انتہائی قابل تعریف اقدام ہے اور اس کا مقصد ایک ایسے فتنہ پر قابو پانا ہے جو کسی بھی اسلامی معاشرے میں اشتعال انگیزی، نفرت اور غم و غصہ کا باعث بنتا ہے۔ کسی ایک واقعہ کا بہانہ بنا کر کوئی اگر یہ چاہے کہ blasphemy law کو ہی ختم کر دیا جائے یا کوئی آزادی ٔرائے کے مغربی standards کو یہاں لاگو کیا جائے تو ایسا ممکن نہیں ہو سکتا کیوں کہ اس سے فتنہ بڑھے گا۔ مردان کا واقعہ کسی مدرسہ میں نہیں بلکہ عبدالولی خان یونیورسٹی میں ہوا جس میں ملوث طلبہ کی اکثریت کا مبینہ طور پر ایسی سیاسی جماعتوں کی طلبہ تنظیموں سے تعلق ہے جو اپنے آپ کو سیکولر اور لبرل کہتی ہیں لیکن افسوس کہ بحث ساری اسلام کے متعلق کی جا رہی ہے۔

ایسے موقعوں پر ہی ٹی وی چینلز کو علماء کرام کو بلا کر یہ پوچھنے کا موقع ملتا ہے کہ اسلام اس بارے میں کیا کہتا ہے۔ مردان واقعہ پر عدلیہ اور حکومت دونوں نے نوٹس لے لیا اور امید کی جا سکتی ہے کہ اس معاملہ میں پورا پورا انصاف ہو گا لیکن کیا چیف جسٹس آف پاکستان، وزیر اعظم نواز شریف، عمران خان، دوسرے رہنما اور ہمارا میڈیا زرا اس بات پر غور کرے گا کہ ہر ایسے موقع پر ہم اسلام کو لا کر کٹہرے میں تو کھڑا کر دیتے ہیں لیکن اسلام کی تعلیمات کو فروغ دینے کے لیے ہم کیا کر رہے ہیں۔ جب ہم اسکولوں میں، اپنے گھروں میں، میڈیا کے ذریعے اور حکومتی سطح پر معاشرے کو اسلامی تعلیمات سے آگاہ نہیں کریں گے اور اس ضد پر قائم رہیں گے کہ ریاست کا مذہب کے معاملات میں کوئی کردار نہیں تو پھر اسلام سے شکایت کیسی۔

میں چوہدری نثار علی خان سے متفق ہوں کہ مشال خان کے وحشیانہ قتل کو مذہب کے ساتھ جوڑنا قابل افسوس ہے۔ میری حکومت، پارلیمنٹ ، عدلیہ، سیاسی جماعتوں اور میڈیا سے گزارش ہے کہ لوگوں کو اسلام پڑھانے اور معاشرہ کو قرآن و سنت کے مطابق ماحول فراہم کرنے میں اپنا اپنا کردار ادا کریں جیسا کہ آئین پاکستان کی منشاء ہے۔ جہاں تک توہین مذہب اور گستاخی کے جرم کا تعلق ہے تو اس بارے میں ایک اصول پر ہم سب کو کاربند رہنا چاہیے اور وہ یہ کہ جس پر یہ جرم ثابت ہو گیا اُسے نشان عبرت بنائیں جس نے کسی پر جھوٹا الزام لگایا اُس پر قذف لگائیں۔ اسی طرح سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر کو روکا جائے اور ایسا کرنے والوں کو سزائیں دی جائیں۔

اس کے ساتھ ساتھ میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے دوسروں پر توہین مذہب کے جھوٹے الزامات لگانے والوں سے بھی سختی سے نپٹا جائے، انہیں سزائیں دی جائیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسے مواد (جھوٹے الزامات) کو بھی سوشل میڈیا پر بلاک کیا جائے اور میڈیا پر ان کی تشہیر کو سختی سے روکا جائے۔ ہمیں نوجوانوں اور بچوں کو یہ تعلیم بھی دینی چاہیے کہ وہ نہ صرف ہر صورت میں اپنے دین اور مقدس ہستیوں کا احترام کریں بلکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق دوسروں کے مذاہب کو بھی بُرا مت کہیں۔

انصار عباسی