Beauty Of Interior Baluchistan Pakistan

A boy walks with his camels in Jaffarabad district in the southeast of the Pakistani province of Balochistan.
Advertisements

بلوچستان نایاب جنگلی حیات کی سرزمین

  بلوچستان نہ صرف حسین قدرتی مناظر سے سجی سرزمین ہے بلکہ یہ قدرتی وسائل سے بھی مالا مال ہے یہاں نایاب اور خوبصورت جانور بھی پائے جاتے ہیں جو اس کے حسن کو چار چاند لگاتے ہیں، یہاں پائے جانے والے جنگلی بکرے مارخور کو قومی جانور ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ بلوچستان میں چنکارہ ہرن، گولڈن چیتا، اڑیال،لومڑی، مخصوص بلی یعنی سینڈ کیٹ sand cat اور مختلف اقسام کے سانپ، کچھوے، چھپکلی اورکئی اقسام کے پرندے بھی پائے جاتے ہیں، نایاب جانوروں میں کئی ایسے بھی ہیں جن کے ختم ہوجانے کا خدشہ لاحق ہے۔

اس کی بڑی وجہ غیرقانونی شکار اور ان کےلئےضروری مخصوص ماحول اور سہولیات کی کمی ہے، جس کےباعث ان کی تعداد کم سےکم تر ہوتی جا رہی ہے۔ اس کااندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اب ہزارگنجی نیشنل پارک میں سلیمان مارخور کی تعداد چند سو رہ گئی ہے۔ اس حوالے سے کنزرویٹر جنگلی حیات ونیشنل پارکس شریف الدین بلوچ نے بتایا کہ بلوچستان میں کافی اہم وائلڈ لائف species ہیں ،اس حوالے سے بلوچستان کی خاص اہمیت ہے ، جنگلی حیات میں صوبے میں کئی رینگنے والے اور دیگر mammals جانور ، اور reptiles کی سب سے زیادہ اقسام بلوچستان میں پائی جاتی ہیں،اسی طرح کئی طرح کے پرندے بھی یہاں پائے جاتے ہیں۔

یہ امر خوش آئند ہے کہ جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے صوبائی محکمے متحرک اور فعال ہیں اور اس سلسلے میں کوئٹہ کے نواح میں چلتن پہاڑ کےدامن میں تین لاکھ پچیس ہزار ایکڑ رقبے پر ہزار گنجی چلتن نیشنل پارک اور ہنگول میں نیشنل پارک قائم کیا گیا ہے۔ ہنگول نیشنل پارک کی ملک میں منفرد حیثیت کا حامل ہے، اس پارک کا ایریا بلوچستان کے تین اضلاع لسبیلہ، گوادر اور آوارا ن میں آتا ہے ، جبکہ ایک ہزار 650 مربہ کلومیٹر پر پھیلے اس پارک کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ اس کا کچھ حصہ مکران کےساحلی علاقے سے بھی ملحق ہے۔ محکمہ جنگلات اور جنگلی حیات بلوچستان کی جانب سے اب تیسرا نیشنل پارک زیارت میں قائم کرنےکافیصلہ کیا گیا ہے، یہ سلیمان مارخور کےتحفظ کےلئے ہو گا، تاہم محکمہ جنگلی حیات کو عملے کی کمی اور دیگر مسائل کا سامنا ہے۔

ماہرین کے مطابق جنگلی حیات کو بچانے کے لیے عوام میں شعور بیدا ر کرنے کے علاوہ قدرتی ماحول کےتحفظ کے لیے بھی بھرپور اقدامات کرنا ضروری ہیں۔

اس حوالے سے نایاب جنگلی حیات کےغیرقانونی شکار پر عائد پابندی پر سخت عملدرآمد کی بھی ضرورت ہے۔ ابھی حال ہی میں کوئٹہ کےنواح میں مارخور کےشکار پر کارروائی کرتے ہوئے صوبائی وزیرداخلہ میر سرفراز بگٹی کےخلاف بھی مقدمہ درج کیا گیا، یہ الگ بات ہے کہ اس کے کچھ دنوں بعد صوبائی سیکرٹری جنگلی حیات کو ہی عہدے سے ہٹا دیا گیا، صوبائی حکومت کےایک نوٹیفکیشن کےمطابق سیکرٹری جنگلی حیات کا یہ تبادلہ public interest یعنی عوامی مفاد میں کیا گیا ہے۔

راشد سعید

کوئٹہ حملہ : شہید کیپٹن روح اللہ کیلئے تمغہ جرأت

 آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کوئٹہ کے پولیس ٹریننگ سینٹر میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے دوران جان کی بازی ہارنے والے کیپٹن روح اللہ کے لیے تمغہ جرأت اور زخمی نائب صوبیدار محمد علی کے لیے تمغہ بسالت کا اعلان کردیا۔ پاک افواج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کیپٹن روح اللہ اور نائب صوبیدار محمد علی کے لیے تمغوں کا اعلان کیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق دونوں جوان پولیس ٹریننگ سینٹر میں دہشت گردوں کے خلاف جوانمردی سے لڑے اور انھوں نے ایک خودکش حملہ آور کے حملے کو ناکام بنایا۔ کیپٹن روح اللہ کی فیس بک پروفائل کے مطابق وہ 5 مئی 1999 کو پیدا ہوئے تھے۔

یاد رہے کہ پیر 24 اکتوبر کی رات 11 بج کر 10 منٹ پر کوئٹہ کے سریاب روڈ پر واقع پولیس ٹریننگ کالج پر دہشت گردوں نے اس وقت دھاوا بولا جب کیڈٹس آرام کررہے تھے جس کے بعد فائرنگ اور دھماکوں کا آغاز ہوگیا۔ حملے کے نتیجے میں 60 اہلکار جاں بحق جبکہ 100 سے زائد زخمی ہوئے، عام طور پر اس اکیڈمی میں 700 کے قریب کیڈٹس موجود ہوتے ہیں۔ حملے کے بعد جائے وقوعہ پر فرنٹیئر کور (ایف سی) اور فوج کے اسپیشل سروسز گروپ (ایس ایس جی) کمانڈوز پہنچے جنہوں نے ریسکیو آپریشن شروع کیا۔

بلوچستان کے وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے بتایا تھا کہ واقعے میں تین دہشت گرد ملوث تھے، انہوں نے پہلے واچ ٹاور میں موجود گارڈ کو نشانہ بنایا اور پھر اندر اکیڈمی گراؤنڈز میں داخل ہوگئے۔ جوابی آپریشن کی قیادت کرنے والے فرنٹیئر کانسٹیبلری(ایف سی) بلوچستان کے آئی جی میجر جنرل شیر افگن نے بتایا تھا کہ ’ایف سی کے آنے کے تین سے چار گھنٹے بعد صورتحال پر قابو پالیا گیا‘۔

انہوں نے بتایا کہ دہشت گرد افغانستان میں موجود اپنے ساتھیوں سے مسلسل رابطے میں تھے، تینوں حملہ آوروں نے خود کش جیکٹس بھی پہن رکھی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ’دو حملہ آوروں نے خود کو دھماکے سے اڑالیا جبکہ تیسرے دہشت گرد کو سیکیورٹی اہلکاروں نے ہلاک کیا‘۔ واقعے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم داعش نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا جبکہ حملہ آوروں کی تصاویر بھی جاری کردی گئیں۔

دہشتگردی کی روک تھام صرف ہماری ذمے داری ہے : وسعت اللہ خان

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر خودکش بمبار اتنی زیادہ چیک پوسٹیں عبور کر کے اپنے آٹھ کلو گرام بارود سمیت سول اسپتال کوئٹہ کی ایمرجنسی تک کیسے پہنچ گیا؟ پیچھے یقیناً زبردست منصوبہ بندی تھی۔ مقامی دہشتگردوں میں تو اتنا دماغ نہیں کہ وہ ایسی غیرمعمولی پلاننگ کر سکیں کہ جب وہ بلوچستان بار کے سابق صدر بلال انور قاضی کو گولی ماریں گے تو ان کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے سول اسپتال لائی جائے گی اور مقامی روایات کے مطابق جس وکیل کو اس واقعے کی اطلاع ملتی جائے گی وہ سول اسپتال پہنچتا چلا جائے گا اور جب سب قابلِ ذکرِ وکیل جمع ہو جائیں گے تو پھر بم پھاڑ کر انھیں ختم کر دیا جائے گا۔ ایسی سائنسی منصوبہ بندی تو کوئی اعلیٰ بدیسی دماغ ہی کر سکتا ہے۔ لہٰذا اندرونی چھوڑئیے صرف یہ سوچئے کہ اس طرح کی حرکت کا کس کس غیر ملک کوفائدہ ہو سکتا ہے؟

اب جب کہ ہم اصل واقعے کی فورنزک و انٹیلی جینس تحقیقات مکمل ہونے سے بہت پہلے ہی اصل مجرموں کی نشاندھی میں کامیاب ہو چکے ہیں تو اس جانب توجہ دی جائے کہ اے پی ایس پشاور، بڈبیر، باچا خان یونیورسٹی چار سدہ، لاہور گلشنِ اقبال پارک، واہگہ چیک پوسٹ دھماکا یا سول اسپتال کوئٹہ جیسی عوامی جگہوں پر ہونے والی وارداتوں کو پیشگی ناکام بنانا کن کن ملکی اداروں کی ذمے داری ہے؟ کالم میں اتنی جگہ نہیں کہ ہم ایک ایک مذکورہ واردات پر تفصیلاً بات کر سکیں۔ لہٰذا اپنی آسانی کے لیے تازہ اور فوری واردات یعنی کوئٹہ بم دھماکے کو روکنے کی ممکنہ ذمے داری پر بات کر لیتے ہیں۔ جو بھی نتیجہ نکل کے آئے گا وہ دیگر وارداتوں کے تجزئے کے لیے بھی ماڈل کا کام دے سکتا ہے. پہلی ذمے داری تو جیالوجیکل سروے آف پاکستان پر عائد ہوتی ہے کہ جس کا ہیڈکوارٹر کوئٹہ میں ہے۔ یہ وہ ادارہ ہے جو زمین کے اندر چھپے ہوئے عناصر کا بھی کھوج نکال لیتا ہے۔ تو پھر اس کی نگاہ سے دہشتگردوں کا انڈر گراؤنڈ نیٹ ورک کیسے چوک گیا؟

اب اگر جیالوجیکل سروے کے اہلکار کہیں کہ صاحب یہ ہمارا کام نہیں ہم تو صرف زمین کی اندرونی تبدیلیوں اور موادپر نگاہ رکھتے ہیں۔ تو ان حیلہ طرازوں سے کوئی پوچھے کہ گوگل ارتھ میں تمہیں صرف پہاڑ، ندی نالے ہی نظر آتے ہیں کوئی انسان یا کوئٹہ شہر کی سڑکیں یا ان سڑکوں سے گزرنے والا بارودی ٹرک یا مشکوک موٹر سائیکل نظر نہیں آتا؟ تم جیسا ادارہ جس سے زمین کا کوئی چپہ پوشیدہ نہیں صرف یہ کہہ کے تو جان نہیں چھڑا سکتا کہ دہشت گرد تلاشنا یا انھیں روکنے کے لیے بروقت اطلاع دینا ہماری ذمے داری نہیں۔

چلیے اگر جیالوجیکل سروے اپنی بنیادی ذمے داری پوری نہیں کر سکا تو اسپتال کے گیٹ پر کیا واچ اینڈ وارڈ کا عملہ نہیں تھا؟ اُسے خود کش بمبار اسپتال میں داخل ہوتا کیوں دکھائی نہیں دیا؟ یہ تو کوئی بہانہ نہیں کہ اسپتالی محافظوں کے پاس جو دستی سکینرز ہوتے ہیں وہ اصلی سکینرز کی میڈ ان چائنا فرسٹ کاپی ہوتے ہیں۔ اور یہ بھی کوئی بہانہ نہیں کہ اسپتال جیسی جگہوں پر روزانہ ہزاروں افراد اور سیکڑوں مریض آتے جاتے ہیں لہٰذا چار پانچ کچے پکے تربیت یافتہ آٹھ ہزار روپے ماہانہ تنخواہ والے چوکیدار کس کو روکیں اور کسے جانیں دیں؟ اگر وارادت کے بعد یہی بہانے کرنے ہیں تو اسپتال انتظامیہ ان مٹی کے پُتلوں کو تنخواہ دینے کے بجائے گھر کیوں نہیں بھیجتی؟

حق بات تو یہ ہے کہ جتنے بھی پبلک مقامات پر دہشتگردی کا خطرہ ہے۔ ان مقامات پر دہشتگردی روکنا انھی اداروں کا کام ہے جن کے تحت یہ پبلک مقامات آتے ہیں۔ مثلاً اسکولوں کی سیکیورٹی محکمہ تعلیم کی ذمے داری ہے جسے ہر اسکول کو سرکلر بھیجنا چاہیے کہ کسی مشکوک فرد کو اسکول میں داخل نہ ہونے دیں بھلے وہ خود کو خودکش بمبار ہی کیوں نہ کہے۔ اسی طرح اسپتالوں کو دہشتگردی سے بچانا محکمہ صحت کی اور پبلک پارکس کے تحفظ کی ذمے داری متعلقہ شہر یا قصبے کی بلدیہ کے ڈائریکٹوریٹ پارکس اینڈ ہارٹیکلچر کی ہے۔ ( یہ تو ہماری عدالتیں اور آئین بھی کہتے ہیں کہ ہر ادارے کو اپنے اپنے دائرے میں رہ کر کام کرنا چاہیے اور کسی دوسرے ادارے کے دائرے میں نہیں گھسنا چاہیے)۔

چلیے اگر مذکورہ ادارے اپنے صارفین کو تحفظ نہیں دے پا رہے تو ان کی نااہلی کا رونا رونے کے بجائے صارف کو اپنے گریبان میں بھی تو جھانک کے سوچنا چاہیے کہ وہ خود کامنِ سینس (عقلِ سلیم) سے کام لیتے ہوئے اپنی حفاظت کیوں نہیں کر پا رہا؟

اور کسی شہر کے نہ سہی مگر کوئٹہ کے وکلا کو تو یہ معلوم ہونا چاہیے تھا کہ بلوچستان بار کے صدر بلال انور قاضی کی شہادت دراصل وہ کانٹا ہے جس میں دہشتگرد وکلا برادری کو اٹکا کر شکار کریں گے۔ دہشتگردوں نے اس طرح کی تکنیک کوئی پہلی بار تھوڑا استعمال کی ہے؟ ماضی میں انھوں نے ایک پولیس افسر کو مارا اور پھر اس کی نمازِ جنازہ میں شریک دیگر پولیس افسروں پر خودکش حملہ کیا۔ وکیلوں کو تو ویسے بھی مجرموں کی نفسیات ہم سے زیادہ معلوم ہوتی ہے اور وہ باریک سے باریک موشگافی تک پہنچنے اور بال کی کھال اتارنے کے لیے مشہور ہوتے ہیں۔ تعجب ہے کہ انھیں سامنے کی بات کیوں سجھائی نہیں دی کہ دہشتگرد ایک شحض کی لاش کو چارہ بنا کر پورے قانونی غول کو اپنے ساتھ لے جائیں گے۔ امیدہے زندہ رہ جانے والے وکلا آیندہ صرف اپنے کلائنٹس کے مفادات ہی کی نہیں بلکہ اپنی حفاظت بھی خود کریں گے۔ انھی خطوط پر اگر پبلک پارک کا تحفظ مقامی بلدیہ اپنی ذمے داری نہیں سمجھتی تو پھر والدین کو اس کا ذمے دار ہونا پڑے گا، انھیں اپنے بچوں کے اسکولوں کی بھی حفاظت کرنا ہو گی، مشکوک افراد اور اشیاء پر بھی نگاہ رکھنا ہو گی، متعلقہ حکام کو بھی مطلع کرنا ہو گا اور پھر اپنے روٹی روزگار کا بھی ساتھ ساتھ سوچنا ہو گا۔

وہ کسی کا شعر ہے نا کہ

یہ شہادتِ گہہِ الفت میں قدم رکھنا ہے

لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا

کوئٹہ سانحے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے محمود اچکزئی سمیت کچھ افراد ایجنسیوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ڈال رہے ہیں۔ یہ رویہ مناسب نہیں۔ کوئٹہ کے دھماکے کو اگر جیالوجیکل سروے آف پاکستان چاہتا تو روکا جا سکتا تھا۔ اس کا الزام ایجنسیوں کی غفلت کو ٹھہرانا کسی طور مناسب نہیں۔ ایجنسیاں بچاری تو اس موقع پر دور دور تک نہیں تھیں۔ اس کے علاوہ میں سائبر کرائم بل کی پارلیمنٹ سے بروقت منظوری کا بھی خیر مقدم کرتا ہوں۔ جو لوگ ملکی سالمیت کے معاملے پر کسی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔ سائبر کرائم بل کے ذریعے ان کے پیچ کس کے ایک پیج پر لانے میں مدد ملے گی۔ یوں ہم سب اس پرچم کے سائے تلے ہنسی خوشی رہنا سیکھ لیں گے۔

وسعت اللہ خان