پاکستان میں چائلڈ لیبر کی سب سے بڑی وجہ غربت ہے

پاکستان میں اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے محنت (آئی ایل او) کے نمائندے ظہیر عارف کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بچوں سے محنت و مشقت سے متعلق 21 سال پرانے اعدادوشمار دستیاب ہیں جن میں گھروں میں کام کرنے والے بچوں سمیت بدترین اقسام کی چائلڈ لیبر شامل نہیں ہیں۔ غیر رسمی شعبوں میں بچوں سے کروائی جانے والی محنت مشقت پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئےانھوں نے بتایا کہ ‘ہم سب جانتے ہیں کہ گھروں میں بچوں کی ایک بڑی تعداد ڈومیسٹک ورکرز کے طور پر کام کرتی ہے، اس کے علاوہ چوڑیاں بنانے کے کام سے لے کر سرجیکل آلات، کھیلوں کے سامان اور گہرے پانیوں میں ماہی گیری جیسے خطرناک پیشوں کی ایک پوری فہرست ہے جو ‘ورسٹ فارم آف چائلڈ لیبر’ یا بچوں سے مزدوری کی بدترین اقسام میں آتے ہیں لیکن اس کے بارے میں کوئی اعدادوشمار نہیں ہیں۔’

واضح رہے کہ پاکستان کے ادارہ برائے شماریات نے بچوں سے محنت مشقت کےاعدادوشمار آخری بار ایک سروے کے ذریعے سنہ 1996 میں جمع کیے تھے جس کے مطابق ملک میں 33 لاکھ بچہ مزدور تھے۔ آئی ایل او کے کنونشن فار ورسٹ فارم آف چائلڈ لیبر پر پاکستان نے سنہ 2001 میں دستخط کیے تاہم اب تک اس بارے میں کوئی اعداد وشمار اکھٹے نہیں کیے جا سکے ہیں۔ انھوں نے کہا: ‘تعلیم و آگہی نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو اندازہ نہیں ہوتا ہے کہ بچے کے ساتھ کیا کیا ہو سکتا ہے۔ وہ ٹریفکنگ میں آ سکتا ہے، دہشت گرد کاروائیوں میں استعمال ہو سکتا ہے۔ خطرناک پیشوں میں کام کرنے کی وجہ سےاس کی جان جا سکتی ہے۔’

ظہیر عارف نے تشویش ظاہر کی کہ اعدادوشمار اکھٹے نہ کرنے کی جانب حکومتوں کی عدم توجہی کی وجہ سے اس بنیادی مسئلے کو جڑ سے ختم کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ‘شاید یہ حکومت کی ترحیجات میں شامل نہیں ہے۔ کسی مسئلےسے نمٹے کے لیے پہلے تو ہمیں یہ پتا ہو کہ ہمارے ہاں کس حد تک چائلڈ لیبر ہے۔’ آئین میں 18 ویں ترمیم کے بعد صوبوں نے چائلڈ لیبر سے متعلق قانون سازی تو کی ہے لیکن اس پر سختی سے عمل درآمد کرانے کے ایک مربوط میکینزم بنانے کی ضرورت ہے۔ صوبوں کےمحکمہ لیبر کی استعداد بڑھانے پر زور دیتے ہوئے ظہیرعارف نےکہا کہ ‘محکمہ لیبر کے پاس انسپکٹرز موجود ہیں لیکن انھیں اتنی آگہی نہیں ہے جتنی کہ ضرورت ہے۔ (آئی ایل او) اس سلسلے میں ان کی تربیت کرتا ہے۔’

بچہ مزدوری کی وجوہات پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستان سمیت تمام ترقی پذیر ممالک میں یہ بات قابل قبول ہے کہ بچوں سے کام کرایا جائِے۔ ‘سب سے بڑی وجہ غربت ہے۔ یہ ایک شیطانی چکر ہوتا ہے جس سے نکلنا بہت مشکل ہے۔ بچوں کو کام پر اس لیے رکھا جاتا ہے کہ ایک بالغ آدمی کو انھیں پوری مزدوری دینا پڑے گی جبکہ بچہ سستے میں یا مفت میں کام کر دے گا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ بچہ ایک نوجوان کی نسبت زیادہ دیر تک اور زیادہ انرجی کے ساتھ کام کرتا ہے جس سے زیادہ سے زیادہ کام لیا جا سکتا ہے۔’

بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں آئی ایل او کا کیا لائحہ عمل ہوتا ہے؟ اس پران کا مؤقف تھا کہ’عام طور پر حکومتیں جن کنونشنز پر دستخط کرتی ہیں ان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ ان پر پوری طرح سےعمل کریں۔ خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ حکومت کو مطلع کیا جاتا ہے اور ادارہ میکینزم بنانے میں ان کی مدد کرتا ہے۔’ انھوں نے سیالکوٹ میں سرجیکل آلات کی صنعت میں کسی حد تک بچہ مزدوری کنٹرول کرنے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ’ ہم نےسیالکوٹ چیمبرآف کامرس، ایمپلائیز ایسوسی ایشنز، ٹریڈ یونینزاور ورکرز فیڈریشن کےساتھ مل کرکام کیا تا کہ آجر اور مزدور دونوں کی یونین کے نمائندگان کو آگاہی دی جا سکے۔’

شمائلہ خان

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان : 33 لاکھ بچے جبری مشقت کرتے ہیں

وفاقی وزیر محنت و افرادی قوت  نے وقفہ سوالات کے دوران قومی اسمبلی کو بتایا کہ ملک میں تینتیس لاکھ بچے جبری مشقت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جبری مشقت کرنے والے بچوں میں سے ستر فیصد صرف تین شعبوں زراعت، ماہی گیری اور جنگلات کے شعبوں میں کام کرتے ہیں۔ جبکہ ان کے مطابق انیس فیصد صنعتی شعبہ اور گیارہ فیصد سیلز کے شعبے میں جبری مشقت کرتے ہیں۔

آمنہ بھٹی گذشتہ پچاس برس سے گیلی مٹی کو اینٹوں میں تبدیل کر رہی ہیں۔ ان کے بقول ان کے والدین نے اینٹوں کے بھٹے کے مالک سے کچھ رقم ادھار لی تھی اور وہی بوجھ اتارتے اتارتے انہیں نصف صدی گزر چکی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وہ صرف دس برس کی تھیں جب انہیں جبری مشقت کی اس بھٹی میں جھونک دیا گیا تھا۔ ان پر ڈھائی لاکھ روپے کا قرضہ تھا اور ابھی تک وہ صرف ایک لاکھ روپے واپس کر پائی ہیں۔ بارہ برس قبل ان کے شوہر بھی ان کا ساتھ چھوڑ گئے۔ شوہر کے انتقال کے بعد انہوں نے اپنے آجر سے مزید رقم ادھار لے لی۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ آمنہ بھٹی شاید زندگی بھر قرضے کے اس بوجھ سے نجات حاصل نہیں کر پائیں گی۔

آمنہ بھٹی نے بتایا کہ ہم بہت غریب لوگ ہیں اور ہم زندگی بھر غریب ہی رہیں گے۔ جب انسان اس راستے پر چل نکلے، تو مرنے کے بعد ہی اسے اس سے چھٹکارا نصیب ہوتا ہے۔ پاکستان میں صرف اینٹوں کے بھٹوں پرکام کرنے والے افراد کا ہی یہ حال نہیں بلکہ زرعی زمینوں پر اور اسی طرح کے دیگر کام کرنے والے کارکن بھی اپنے آجروں سے لیے جانے والے ادھار کو اتارتے اتارتے زندگی ہی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ پاکستان میں اکثر ایسے واقعات منظر عام پر آتے رہے ہیں، جن میں والدین اپنا قرضہ اپنی اولاد کے سپرد کر دیتے ہیں اور بعض اوقات تو جبری مشقت کا یہ سلسلہ نسل در نسل جاری رہتا ہے، لیکن ادھار ہمیشہ اپنی جگہ واجب الادا رہتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق بھٹہ مزدوروں کو ایک دن میں ساڑھے تین سو روپے تک ادا کیے جاتے ہیں۔

ان مزدوروں کو اکثر انتہائی مشکل حالات میں زندگی گزارنا پڑتی ہے اور انہیں زندہ رہنے کے لیے بنیادی سہولیات بھی دستیاب نہیں ہوتیں۔پاکستان میں جبری مشقت کے شکار افراد کی اصل تعداد کے حوالے سے سرکاری سطح پر کوئی اعداد و شمار موجود نہیں ، تاہم مزدوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں میں کھیتی باڑی، قالین بافی، اینٹوں کے بھٹوں اور اسی طرح کے دیگر شعبوں میں کام کرنے والے ایسے مزدوروں کی تعداد لاکھوں میں ہے، جو اپنے آجرین سے رقم ادھار لینے کے بعد غلامی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ ایسے پاکستانی شہریوں کی زندگی میں استحصال کے تسلسل کی کوئی کمی نہیں ہوتی اور قرض لی گئی، رقوم کی مکمل ادائیگی کا عملاًکوئی امکان نہیں ہوتا ہے۔

عدنان اسحاق

اینٹ ساز مزدور بچے

ملک بھر میں مزدوری کی بدترین اور شرمناک صورت ہمیں اینٹوں کے بھٹوں پر دکھائی دیتی ہے جہاں والدین اور بہن بھائیوں سے لے کر چھوٹے بچوں تک پورا گھر مزدوری کرتا ہے ان کے بڑے عموماً بکے ہوئے ہوتے ہیں وہ یوں کہ انھیں بھٹے کا مالک کچھ رقم ادھار دے دیتا ہے اور جب تک یہ قرض ادا نہیں ہوتا وہ اس کے بھٹے پر کام کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
مقامی اصطلاح میں ان مقروضوں کو قرضدار نہیں بکا ہوا کہا جاتا ہے عموماً یہ مزدور اپنا قرض ادا نہیں کر پاتے اور زندگی بھر ’بکے‘ رہتے ہیں اگر کوئی بھاگتا ہے تو وہ پولیس کے ہتھے چڑھ جاتا ہے کیونکہ ایک اشٹام کے ذریعے وہ ادائیگی قرض تک قیدی بن کر رہتا ہے۔ کسی زمانے میں جب غلام ہوتے تھے تو وہ بکا کرتے تھے اور ان کا خریدار ان کا مالک ہوتا تھا۔
آج اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والے اکثر اسی غلامی کی زندگی بسر کرتے ہیں اور اسی میں ختم ہو جاتے ہیں لیکن ان کے بچے جو ان کے ساتھ کام کرتے ہیں دیکھنے میں تو ہر کوئی دل ہی دل میں ان پر افسوس کرتا ہے مگر عملاً کوئی کچھ نہیں کرتا۔ جب پاکستان بنا تھا تو یہ بچے اس وقت بھی کسی بھٹے پر غلامی بسر کر رہے تھے اور اب جب پاکستان ایک ایٹمی ملک تک بن گیا ہے تب بھی یہ بچے کسی بھٹے پر غلامی کر رہے ہیں اور ان کی یہ زندگی بہت مشہور ہے ہر کوئی اس پر دکھ کرتا ہے۔
ان بچوں کو ہر حکمران نے دیکھا ہے لیکن کسی نے ان کے لیے کیا کچھ نہیں، تعجب ہوا یہ سن کر کہ ایک صوبے کے حکمران نے ان بچوں کو زندہ رکھنے بلکہ کار آمد زندگی دینے کی سعی کی ہے۔ یہ ایک چھوٹا سا انقلاب ہے جو یوں تو صرف ایک صوبے کے باشندوں کے ایک گروہ کی زندگی میں برپا ہوا ہے لیکن حیرت انگیز ہے اور قابل رشک۔ یہ انقلاب صاحب حیثیت لوگوں کے گناہوں کا کفارہ بھی بن سکتا ہے لیکن وہ صرف اس صوبے کے وزیراعلیٰ کو زبانی کلامی داد دینے تک محدود رہیں گے اور اسی کو اپنا کفارہ سمجھ لیں گے۔ اب مختصراً ان انقلابی مراعات پر ایک نگاہ ڈال لیجیے۔
پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف نے اپنے صوبے میں اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والے بچوں کے لیے ایک خصوصی پیکیج کا اعلان کیا ہے جس کے تحت ان بچوں کے لیے خصوصی تعلیم کا اہتمام کیا جائے گا اسکول جانے والے ہر بچے کو سو فی صد تعلیمی اخراجات کے علاوہ ایک ہزار روپے ماہانہ وظیفہ ملے گا۔
کسی بچے کے اسکول داخلے پر اس کے والدین کو دو ہزار روپے سالانہ وظیفہ بچوں اور والدین کو علاج کی مفت سہولتیں علاوہ ازیں بچوں کے لیے مفت کتابیں اسٹیشنری یونیفارم جوتے اور اسکول بیگ بھی فراہم کیے جائیں گے۔ بھٹوں سے چائلڈ لیبر کے خاتمے کا آرڈی ننس بھی منظور کیا گیا ہے جس کے تحت بچوں سے مزدوری کرانے والے بھٹہ مالکان کو چھ ماہ تک قید کی سزا ہو گی۔
خلاف ورزی کرنے پر بھٹہ مالک کا سمری ٹرائیل ہو گا اور پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ ہو گا اور ساتھ ہی بھٹہ بھی سیل کر دیا جائے گا۔ یہ ضلع کے ڈی سی او اور ڈی پی او باقاعدہ چیکنگ کریں گے اور اس کی رپورٹ دیا کریں گے۔ دور دراز جانے والے بچوں کے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بھی حکومت ادا کرے گی۔ چائلڈ لیبر کی چیکنگ کے لیے ضلع کی سطح پر کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی۔
ان معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ وزیراعلیٰ ان بچوں کو مزدوری اور وہ بھی اینٹوں کے بھٹے کی مکروہ مزدوری کی خرابیوں سے نجات دلانے میں بہت سنجیدہ ہیں اور اس کے لیے ہر ممکن طریقہ اختیار کرنے پر آمادہ ہیں۔ اسلامی تعلیمات میں کسی مسلمان ملک کی حکمرانی کو انتہائی ذمے داری کا عہدہ قرار دیا گیا ہے جس کے بارے میں یہان تک کہا گیا کہ کسی کو مسلمان ملک کا حکمران بنانے کا مطلب یہ ہے کہ اسے گویا کُند چھری سے ذبح کردیا گیا ہے، میاں شہباز شریف بھی محاورتاً کُند چھری سے ذبح کیے گئے ہیں اور جب تک وہ اس منصب پر فائز رہیں گے وہ اسی ’’خونریز‘‘ کیفیت سے گزرتے رہیں گے۔
خدا کا شکر ہے کہ وہ اپنی ذمے داری کا احساس رکھتے ہیں اور اس بگڑی ہوئی انتظامیہ سے اس کے تصور سے بڑھ کر کام لینا چاہتے ہیں۔ اگر میاں صاحب اپنے موقف اور احساس ذمے داری پر قائم رہے اور انھوں نے اپنے ماتحتوں پر ثابت کر دیا کہ وہ سنجیدہ ہیں تو ان سے زیادہ کون جانتا ہے کہ ہمارے ہاں حکم حاکم کی کتنی اہمیت ہوتی ہے جن لوگوں نے انگریز کا دور دیکھا ہے وہ جانتے ہیں کہ یہی لوگ کس قدر محنتی اور دیانت دار ہوتے تھے کرپشن کی ہمت اور جرات نہیں ہوتی تھی اور کام کو ٹالنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا یہ سب اس لیے تھا کہ انگریز جو اپنی عزت کے لیے دیانت اور محنت سے کام لیتا تھا دوسروں سے بھی یہی توقع رکھتا تھا چنانچہ وہ دیانت و امانت کا زمانہ تھا۔
آزادی کے بعد جب مقامی حکمران آئے تو وہ اپنے پیشرو انگریزوں کی طرح سخت گیر نہیں تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ رفتہ رفتہ انتظامیہ ڈھیلی پڑتی گئی اور پرانی خرابیاں جو خواب بن گئی تھیں جاگ اٹھیں اور آج حالت یہ ہے کہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن رشوت ستانی اور کام چوری ہے۔
بات صاف ہے اور ہر کوئی جانتا ہے کہ بہتری اوپر سے آتی ہے نیچے سے اوپر نہیں جاتی ،اوپر بیٹھا صوبے کا وزیراعلیٰ چاہے گا اور وہ سنجیدہ ہو گا تو بھٹوں پر مزدوری کرنے والے پاکستانی بچے اس عذاب سے چھوٹ جائیں گے اور دوسرے بچوں کی طرح زندگی بسر کریں گے اور ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم ہر پاکستانی بچے کو ایک معقول زندگی کے اسباب فراہم کریں اور یہ وسائل اور موقع ان بچوں کے غریب والدین فراہم نہیں کر سکتے یہ کام حکومت کا ہے اور خوشحال پاکستانیوں کا ہے۔
میاں صاحب نے جس جذبے سے کام شروع کیا ہے پورا صوبہ ان کے ساتھ ہے دعا گو ہے اور ان کی کامیابیوں کا منتظر ہے کیونکہ وہ ان کے ارادوں اور فیصلوں کو حیرت کے ساتھ دیکھ رہے ہیں کہ پہلے تو ایسا کبھی نہیں ہوا دیکھیں اب کیا ہوتا ہے۔
عبدالقادر حسن

Over 250,000 children work in brick kilns in Pakistan

  Laborers move baked bricks from an oven at a kiln on outskirts of Peshawar, Pakistan.

Somewhere between two-fifths to two-thirds of all the working children in Pakistan toil in brick kilns. According to UNICEF estimates, it comes to around 250,000 children. But these are not just cases of child labour. Entire families work in brick kilns, striving to pay off their debts that are so much beyond their means that they will remain unpaid even after decades of continuous work.
The Bonded Labour System (Abolition) Act of 1992 defines this as bonded labour, where the workers enter a contract to pay off a debt and work for nominal or no wages. Even though the act banned such labour 18 years ago, practically not much has been done to eradicate this modern form of slavery. Pakistan Institute of Labour Education and Research estimates that there are 11,000 brick kilns in Pakistan. Of these, 5,000 brick kilns are in Punjab alone, mostly (about 90 per cent of them) in rural areas.
An NGO Ercelawn estimates that there are anywhere between 750,000 and 900,000 people from 200,000 families languishing in these brick kilns, most of them as bonded labourers. Ishtiaq Ahmad, a social activist who works for EAST, another NGO, said that women and children are at an elevated risk of suffering at the hands of the brick kiln owners. “Women are prepared to work at very low wages in rural areas,” he said, “The environment is very bad for these women, especially their children.”
However, bonded labour is not inextinguishable. Citing examples of some 95 families who were recently freed from bonded labour in a village near Peshawar, Ahmad said that public mobilisation was the only viable way to eradicate this evil. Four years ago a three-member bench led by the Chief Justice, Iftikhar Muhammad Chaudhry, directed all four Chief Secretaries to get all brick kilns in the country registered.

World Day Against Child Labor observed in Pakistan

Pakistani boys sell fruits on a roadside in Peshawar, Pakistan, a day before World Day Against Child Labor. World Day Against Child Labor will be observed on 12 June across the world including Pakistan to raise awareness and contribute to ending child labor. The theme of this year’s ‘No to Child Labor, Yes to Quality Education’.

دور جدید کی غلامی، اربوں ڈالر کی صنعت…..

صدیوں پہلے طاقت اور مال و زر نے ایک زنجیر تیار کی تھی۔ اس زنجیر کی کڑیوں میں ظلم، بربریت، وحشی پن، تشدد، ایذا، جبر، تذلیل، سفاکی، کرب اور توہین جیسے بدترین اور تاریک جذبوں کا رقص ہمہ وقت جاری رہتا۔ یہ زنجیر کم زور اور مفلس انسان کو طاقت ور اور مال دار انسان کا قیدی بنادیتی تھی۔ اُس دور میں کچھ لوگ ’آقا‘ کا خطاب پاکر بلند رتبہ ٹھیرے اور زنجیروں کی منحوس اور بھونڈی آواز سننے کے لیے اپنے ہی ہم جنسوں میں ’غلام‘ بنالیے۔
یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ عدم مساوات، استحصال کی قدیم، مگر تاریک اور بھیانک شکل یعنی غلامی نے دنیا بھر میں تین کروڑ 60 لاکھ انسانوں کو جکڑ رکھا ہے۔ یہ اعدادوشمار بین الاقوامی ادارے واک فری فاؤنڈیشن کی ایک رپورٹ میں ظاہر کیے گئے ہیں۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آج بھی انسان مختلف صورتوں میں غلام ہے۔
گلوبل سلیوری انڈیکس 2014کے مطابق دنیا بھر میں سب سے زیادہ غلام رکھنے والا ملک بھارت ہے، جہاں ایک کروڑ 40 لاکھ سے زاید افراد غلامی میں زندگی بسر کر رہے ہیں، جب کہ آئس لینڈ اور لیکسمبرگ میں غلاموں کی تعداد سب سے کم ہے۔
ممالک میں کیے گئے سروے کے مطابق صرف پانچ ممالک بھارت، چین، پاکستان، ازبکستان اور روس میں ہی تقریباً دو کروڑ بیس لاکھ افراد بہ طور غلام ہیں جو کہ دنیا میں غلاموں کی کُل تعداد کا 61 فی صد ہے۔ اگر جغرافیائی تناظر میں دیکھا جائے تو ایشیا پیسیفک میں دور جدید کے غلاموں کی تعداد 2کروڑ 35 لاکھ 42 ہزار800 ہے، جو کہ دنیا بھر میں غلامی کرنے والے 3کروڑ 60 لاکھ افراد کا 65 اعشاریہ8 فی صد بنتا ہے، جب کہ اس خطے میں جدید غلامی اپنی تمام شکلوں بشمول جبری مشقت، جنسی استحصال کے لیے انسانی اسمگلنگ، اور زبردستی شادی، میں پائی جاتی ہے۔
ایشیائی خطے بالخصوص پاکستان اور بھارت میں اکثروبیشتر پورے پورے خاندان کو غلام بناکر تعمیراتی، زرعی زمینوں، اینٹوں کے بھٹوں اور گارمنٹ فیکٹریوں میں جبری مشقت کرائی جاتی ہے، جب کہ وہ نیم خواندہ اور غیرہنر مند ایشیائی باشندے جو روزگار کی تلاش میں خلیجی ممالک کا رخ کرتے ہیں، وہاں ان میں سے بہت سوں سے غلام کے طور پر کام کروایا جاتا ہے۔ اگرچہ موجودہ دور میں غلاموں کی باقاعدہ خریدوفروخت تو نہیں کی جاتی، لیکن قرض ادا نہ کرنے پر غلام بنانے کا طریقہ اب دنیا کے بیشتر ممالک خصوصاً جنوبی ایشیا میں رائج ہے۔
اس طریقۂ کار میں اپنی شرائط پر قرض دینے والا نادہندہ کو پورے خاندان سمیت اپنے پاس قید کرلیتا ہے اور کبھی نہ ختم ہونے والے اس قرض کو نادہندہ کی کئی نسلیں جبری مشقت کر کے اتار تی رہتی ہیں۔ دوسری طرف انسانی اسمگلنگ بھی اس خطے میں عروج پر ہے، جہاں غلام بنائی جانے والی عورتوں اور بچوں سے قحبہ خانوں میں غیراخلاقی کام کروائے جاتے ہیں۔
یہ رپورٹ دور جدید کی غلامی کو انسانی اسمگلنگ، جبری مشقت، قرض کی عدم ادائیگی پر قید، زبردستی شادی اور تجارتی بنیادوں پر جنسی استحصال کے نکات پر وضع کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق غلاموں کی تعداد میں گذشتہ سال کی نسبت 20 فی صد اضافہ ہوا ہے۔
واک فری فاؤنڈیشن کے بانی اور چیئرمین اینڈریو فاریسٹ کا کہنا ہے،’’لوگوں کا مفروضہ ہے کہ غلامی قدیم دور کا مسئلہ ہے یا یہ صرف جنگ اور غربت سے تباہ حال ملکوں میں پائی جاتی ہے، جو کہ بالکل غلط ہے۔‘‘ ان کا کہنا ہے،’’غلامی کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے ہمارا پہلا قدم اس کی شدت اندازہ لگانا ہے اور اس معلومات کی بنیاد پر استحصال کی سب سے خطرناک قسم کو حتمی طور پر ختم کرنے کے لیے ہم سب کو، حکومتوں، کاروبار اور سول سوسائٹی کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔‘‘
اگرچہ دنیا کی سب سے زیادہ آبادی رکھنے والی کچھ اقوام دور جدید کے غلاموں کا گڑھ ہیں تو دوسری طرف دیگر ممالک میں بھی ان کی فی صد شرح بہت زیادہ ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مغربی افریقا کے ملک موریطانیہ میں اس کا پھیلاؤ بہت زیادہ ہے اور ایک محتاط اندازے کے مطابق اس کی 4فی صد آبادی غلامی یا نجی قید میں ہے۔ ازبکستان ، ہیٹی اور قطر میں یہ شرح بالترتیب3 اعشاریہ 97، 2 اعشاریہ 30اور1اعشاریہ35 فی صد ہے۔ قطر جو 2022میں فٹ بال ورلڈ کپ کی میزبانی کرے گا، میں لیبر لا (مزدوروں کے حق میں قانون) پر تحفظات اور کفالا اسپانسر شپ سسٹم، جس کے تحت کفیل جو مقامی شہری ہوتا ہے، کا ہر کام میں شامل ہونا ضروری ہے) جو غیرملکی مزدوروں کی تحریک کے حق کو محدود کردیتا ہے، پر کئی سوال پیدا کردیے ہیں۔
واک فری فاؤنڈیشن کی پالیسی اور ریسرچ مینیجر جینا ڈیفیلیا کا کہنا ہے کہ قطر میں غیرملکی مزدوروں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ساتھ اس قوم میں تارکین وطن مزدوروں کو غلام بنانے کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اور یہ ملک کُل آبادی کا 1اعشاریہ 4 فی صد حصہ دور جدید کے غلاموں پر مشتمل ہونے کی وجہ سے گلوبل سلیوری انڈیکس میں چوتھے نمبر پر ہے۔
گذشتہ ماہ ہی قطر کی حکومت نے کفالا اسپانسر شپ نظام پر کڑی تنقید کے بعد 2015کے آغاز میں اس متنازعہ قانون کو مزید کسی بہتر قانون سے تبدیل کر نے کا اعلان کیا تھا۔ رپورٹ کے مرکزی مصنف کیون بیلز کا کہنا ہے کہ پناہ گزین غلامی کے لیے سب سے زیادہ غیرمحفوظ ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ایسے ممالک جہاں پناہ گزینوں کی تعداد زیادہ ہے وہاں غلامی کا پھیلاؤ بھی بڑھ رہا ہے۔
گلوبل سلیوری انڈیکس 2014میں پاکستان چھٹے نمبر پر ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ’جدید غلاموں‘ کی تعداد20 لاکھ58ہزار سے زاید ہے۔ پاکستان کے صوبے پنجاب اور سندھ مزدوروں سے کم اجرت پر زبردستی کام لینے کا گڑھ ہیں، جہاں ان مزدوروں سے اینٹوں کے بھٹوں، زراعت اور قالین بانی کی صنعت میں کام لیا جا رہا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے محتاط اندازے کے مطابق پورے ملک میں اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والے ’جدید غلاموں‘ کی تعداد تقریبا ً45 لاکھ ہے۔
انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کے مطابق سندھ اور پنجاب میں اینٹوں کے بھٹے پر کام کرنے والے افراد اور ان کے اہل خانہ کو مسلح افراد کی نگرانی میں قید رکھا جاتا ہے، جہاں انہیں نہایت معمولی اجرت دی جاتی ہے ۔ دوسری طرف سندھ میں زمیں دار ’’ہاری سسٹم‘‘ کے تحت ایک معاہدہ کر تے ہیں، جس کی رو سے ہاری اپنی تمام فصل زمیں دار کو دے دیتا ہے اور زمین دار اسے نہ ہونے کے برابر رقم کی ادائیگی کرتا ہے۔
سر چھپانے کے لیے جگہ اور کھانے پینے کے لیے اخراجات پورے کرنے کے لیے ہاری کو مجبوراً زمیں دار سے رقم ادھار لینی پڑتی ہے اور ایک بار پیسے لینے کے بعد اس کی ساری عمر اور آنے والی نسلیں بھی زمیں دار کا قرض اتارنے کے لیے اس کی غلام بن کر کام کرتی ہیں۔پاکستان میں جبری مشقت کرنے والے بچوں کی تعداد ایک کروڑ ہے، جن میں سے 38لاکھ بچے اینٹوں کے بھٹے، زراعت، گھریلو ملازم، گاڑیوں کے گیراج، قالین سازی کے کارخانوں میں جبری مشقت اور تجارتی بنیادوں پر جنسی استحصال کا نشانہ بنتے ہیں۔
پاکستان میں جدید غلامی کی ایک مثال منو بھیل کی ہے۔ ہاری منو بھیل اور ان کے اہل خانہ اندرون سندھ کے ایک زمین دار عبدالرحمٰن کی زمینوں پر ہاری تھے۔ جو ان سے جبری مشقت لیتا تھااور انہیں اپنے کھیتوں میں مبینہ طور پر قید کر رکھا تھا۔ موقع ملنے پر منو بھیل نجی جیل سے فرار ہوگیا اور اس نے ایک غیرسرکاری تنظیم سے رابطہ کیا، جس نے زمین دار عبدالرحمٰن کی نجی جیل پر چھاپا مار کر وہاں قید 71 ہاریوں کو آزادی دلوائی۔
منو بھیل کا زمیں دار کی جیل سے فرار اور وہاں چھاپا پڑوانے کی ’’جسارت‘‘ کرنے پر 1998 میں متعلقہ زمیں دار نے اپنے مسلح ساتھیوں سمیت اس کے اہل خانہ کو اغوا کرلیا، جو تاحال وہ لاپتا ہیں۔ اغوا ہونے والوں میں منو بھیل کے والد خیرو بھیل، والدہ اخو، بھائی جلال، بیوی موتاں، دو بیٹیوں مومل اور ڈھیلی، دو بیٹوں چمن اور کانجی کے علاوہ ایک مہمان کِرتو بھیل شامل ہیں۔
٭ دور جدید کی غلامی، اربوں ڈالر کی صنعت
دور جدید کی غلامی سالانہ اربوں ڈالر کا منافع کمانے والی صنعت بن چکی ہے۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) کے مطابق جبری مشقت اور جنسی استحصال کے ذریعے سالانہ اربوں ڈالر منافع کمایا جا رہا ہے۔ جو کہ پچھلے اعداد و شمار کی نسبت تین گنا زیادہ ہے۔
(آئی ایل او) کے اندازے کے مطابق جبری مشقت کی صنعت ہر سال 150ارب ڈالر سے زاید کا ناجائز منافع کماتی ہے، اور یہ منشیات کی تجارت کرنے والی بین الاقوامی جرائم پیشہ تنظیموں کا منافع کمانے کا دوسرا بڑا ذریعہ ہے۔ خواتین اور بچوں کے جنسی استحصال سے حاصل ہونے والے منافع کی شرح جبری مشقت کی نسبت چھے گنا زیادہ ہے، کیوں کہ قحبہ خانے چلانے والے افراد کی آپریٹنگ کاسٹ (پیداواری لاگت) کم اور گاہک کی جانب سے ملنے والی رقم زیادہ ہوتی ہے۔ آئی ایل او کے مطابق یہ شعبہ سالانہ تقریباً 99ارب ڈالر منافع کما رہا ہے۔
جبری مشقت کی بدولت مینو فیکچرنگ، کان کنی، اور یوٹیلیٹیز اور دیگر صنعتوں کا سالانہ منافع34 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے جس میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے۔ زراعت کاشعبہ 9ارب ڈالر اور 8ارب ڈالر کا منافع گھروں میں معمولی اجرت پر کام کرنے والے افراد سے مل رہا ہے۔ آئی ایل او کے محتاط اندازے کے مطابق دنیا بھر میں ماڈرن سلیوری (جدید غلامی) کرنے والوں میں نصف تعداد خواتین اور ایک چوتھائی تعداد اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں کی ہے۔ جبری مشقت سے ایشیا پیسیفک کا خطہ 51ارب 80کروڑ ڈالر سالانہ منافع کماتا ہے، اور اس خطے میں متاثرین کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔
ترقی یافتہ معیشت اور یورپی یونین جبری مشقت سے 46ارب 90کروڑ ڈالر، سابق سوویت ریاستیں 18ارب، افریقا13 ارب10کروڑ، لاطینی امریکا اور کیریبین ممالک 12ارب، مشرق وسطی8ارب50کروڑ ڈالر سالانہ منافع کما رہا ہے۔ یورپی یونین جیسی ترقی یافتہ معیشت بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے سے محروم نہیں ہے۔ یہاں ایک ’مشقتی غلام ‘ کی بدولت سب سے زیادہ رقم کمائی جاتی ہے جو اوسطاً34 ہزار800ڈالر سالانہ ہے۔ مشرق وسطی 15ہزار، سابق سوویت ریاستیں 12ہزار9سو، لاطینی امریکا اور کریبین 7ہزار 5سو، ایشیاء پیسیفک 5ہزار، افریقا3ہزار9سو ڈالر کا سالانہ منافع ایک مشقتی غلام سے کما رہا ہے۔
اگر ان اعداد و شمار کو شعبہ جاتی لحاظ سے دیکھا جائے تو ایک ’’جدید غلام‘‘ کے جنسی استحصال سے سالانہ 21ہزار8سو ڈالر، جبری مشقت (گھریلو کام کے علاوہ) سے 4ہزار8 سو ڈالر، زراعت میں 2ہزار5سو ڈالر، اور گھریلو کام کرنے والے غلاموں کی بدولت سالانہ 2ہزار3سو ڈالر منافع کمایا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جبری مشقت سے ہونے والے منافع کا درست اندازہ لگانا ممکن نہیں ہے، کیوں کہ بچوں کو بہ طور فوجی بھرتی کرنے جیسی سرگرمیوں کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا کے 58 ممالک میں کم از کم 122مصنوعات کی پیداوار کے پیچھے ’جدید غلاموں‘ کی محنت کارفرما ہے۔ یہ صنعت تھائی لینڈ میں ماہی گیری کرنے والے افراد سے کانگو میں ہیروں کی کان کنی کرنے والے، ازبکستان میں کپاس چنتے بچوں، پاکستان میں اینٹیں ڈھوتے بچے اور بھارت میں فٹ بال کی سلائی کرتی بچیوں سے گھروں میں سلائی کرنے والی خواتین تک پھیلی ہوئی ہے۔
تصویر کے دوسرے رُخ کو دیکھا جائے تو آئس لینڈ اور لیکسمبرگ جیسے ممالک بھی ہیں جہاں غلاموں کی تعداد سو سے بھی کم ہے اور یہاں اس کا پھیلاؤ بھی نہ ہونے کے برابر ہے، جب کہ نیدر لینڈ، سوئیڈن، امریکا اور آسٹریلیا اس بین الاقوامی مسئلے کے حل کے لیے سنجیدگی سے کوششیں کر رہے ہیں۔
جدید غلامی ایک ایسا عالم گیر مسئلہ بن چکی ہے جس کے تدارک کے لیے صرف انسانی ہم دردی کے دو بول ہی کافی نہیں بل کہ یہ انفرادی اور اجتماعی طور پر ہم سب کی ذمے داری ہے۔ دنیا کا تقریباً ہر ملک بین الاقوامی کنوینشن کے ساتھ معاہدوں اور قومی پالیسیوں کے ذریعے ’جدید غلامی‘ کے تدارک کے لیے کوشاں ہے۔ تاہم جبری مشقت، انسانی اسمگلنگ، جنسی استحصال کی روک تھام کے حکومتی سطح پر مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔
٭ غلامی کی تاریخ
قدیم دور میں غلامی کو قانونی تصور کیا جاتا تھا اور کسی جنس کی طرح غلاموں کی خرید و فروخت بھی کی جاتی تھی۔ جس طرح جانوروں کی خریدوفروخت میں صحت اور تن درستی کی بنا پر ان کی قیمت بڑھتی ہے، اسی طرح غلاموں کی خریداری میں بھی ان کی صحت کو مد نظر رکھا جاتا تھا۔ غلام بننے والے فرد پر تاحیات اپنے مالک کے ہر حکم کی بجا آوری کرنا لازم تھا۔ انسانوں کو غلام بنائے جانے کی روایت قدیم مصر، قدیم چین، اکادین سلطنت، ہندوستان، یونان، رومن سلطنت، اسلامی خلافت سے لے کر اٹھارہویں صدی تک یورپی ممالک میں رہی ہے۔ جہاں جنگی قیدیوں کو غلام تصور کیا جاتا تھا اور غلام کا بچہ بھی اپنے والدین کی طرح ساری عمر غلامی میں گزارتا تھا۔
اگر موجودہ دور کی بات کی جائے تو تین دہائی قبل سوڈان میں ہونے والی دوسری سول وار کے دوران 14سے20 ہزار افراد کو غلام بنایا گیا، جن میں زیادہ تعداد خواتین اور بچوں کی تھی۔ افریقی ملک موریطانیہ میں خواتین اور بچوں سمیت 6 لاکھ افراد غلامی کی زندگی گزار رہے ہیں جو کہ کل آبادی کا 20فی صد بنتا ہے، جن میں سے زیادہ تر کو قید میں رکھ کر مشقت کرائی جا رہی ہے۔
اگرچہ جدید دور میں غلامی کو ایک جرم تصور کیا جاتا ہے اس کے باوجود مختلف شکلوں میں لوگوں کو غلام بنانے کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ایک دہائی قبل ایک غلام کو ہزاروں ڈالر میں فروخت کیا جاتا تھا اور آج آپ اپنی پسند کے غلام کو محض 90ڈالر میں خرید سکتے ہیں۔
٭ غلامی کی اقسام
جنسی استحصال اور جبری مشقت
جبری مشقت کی تعریف کچھ اس طرح کی جاسکتی ہے کہ ڈرا دھمکا کریا تشدد سے آپ کو مرضی کے برخلاف کام کے لیے مجبور کیا جائے۔ انسانی اسمگلنگ کی وجہ سے دنیا بھر میں بچوں اور خواتین کو قحبہ خانوں میں عصمت فروشی پر مجبور کیا جا رہا ہے، جب کہ بچوں کے جنسی استحصال کے لیے تھائی لینڈ، کمبوڈیا، بھارت، میکسیکو اور برازیل سر فہرست ہیں جہاں دنیا بھر سے اسمگل کیے گئے بچوں اور خواتین کو قید کر کے زبردستی قحبہ گری کرائی جاتی ہے، جب کہ فحاشی کی صنعت میں بھی بچوں کا جنسی استحصال کیا جا رہا ہے۔ بچوں کی فحش فلموں، کتابوں، آڈیو ٹیپس اور دیگر مواد سے یہ صنعت سالانہ لاکھوں ڈالر منافع کما رہی ہے۔
جبری مشقت کا ایک اور تاریک پہلو انہیں بہ طور فوجی استعمال کرنا ہے۔ تاریخ میں کئی قومیں ایسی گزری ہیں جنہوں نے کم عمر بچوںکو زبردستی فوجی تربیت دے کر جنگ کا ایندھن بنادیا۔ پہلی جنگِ عظیم میں برطانیہ نے 19سال سے کم عمر کے ڈھائی لاکھ بچوں کو زبردستی فوج میں بھرتی کیا۔ دوسری جنگ عظیم میں بھی بچوں کی فوج نے مشرقی یورپ اور وارسو کے محاذ پر جنگ لڑی۔ خانہ جنگی اور جنگ میں بچوں کو نہ صرف فرنٹ لائن پر رکھا جاتا رہا ہے، بل کہ انھیں پورٹر، پیغام رسانی، جاسوسی، خودکش حملوں اور انسانی شیلڈ کے طور پر بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ کچھ جنگ جو گروپ معصوم بچوں کو اپنی حیوانی خواہشات پوری کرنے کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔
٭ انسانی اسمگلنگ….. زبردستی شادی
مرضی کے برخلاف شادی بھی جدید غلامی کی ایک شکل ہے۔ شادی کی اس قسم میں لڑکی کے والدین رقم کے عوض کسی بھی شخص سے اپنی لڑکی کی شادی کردیتے ہیں۔ رقم کی ادائیگی کرنے والا فرد لڑکی کو نہ صرف جنسی مقاصد کے استعمال کرتا ہے بل کہ اسے قید رکھ کر کسی معاوضے کے بنا گھریلو ملازمہ کا کام بھی لیا جاتا ہے۔ شادی کے نام پر لڑکیوں کی خرید و فروخت کی رسم اب بھی دنیا کے بہت سے ممالک خصوصاً جنوبی ایشیا، مشرقی ایشیا اور افریقا میں جاری ہے، جب کہ افریقی ملک ایتھوپیا سمیت دنیا کے کچھ ممالک میں شادی کے لیے لڑکیوں کو اغوا کرنے کی روایت بھی اب تک ختم نہیں ہو سکی ہے۔ ایتھوپیا میں شادی کے لیے لڑکیوں کو اغوا کرنے کی شر ح دنیا بھر میں سب سے زیادہ 69فی صد ہے۔
٭ غلاموں کا انقلابی راہ نما اسپارٹیکسSpartacus
غلاموں کا کردار ہمیشہ سے ظلم و جبر برداشت کرنے والا رہا ہے، لیکن تاریخ میں ایک غلام ایسا بھی گزرا ہے جس نے نہ صرف اپنے جیسے غلاموں کے ساتھ ہونے والے ظلم و جبر کے خلاف آواز بلند کی، بل کہ ایک ایسا انقلاب بھی برپا کیا جس نے رومن فوج کو ناکوں چنے چبوا دیے تھے۔ 73قبل مسیح میں ’’تھرڈ سروائل وار‘‘ کے نام سے برپا ہونے والے انقلاب کو مورخ ’’اسپارٹیکس کی جنگ‘‘ کا نام بھی دیتے ہیں۔ رومی فوج کے خلاف ہونے والی غلاموں کی بغاوت اگرچہ کام یابی سے ہم کنار نہیں ہوسکی لیکن تاریخ میں اسپارٹیکس کا نام امر کرگئی۔
دوسری صدی کے یونانی مورخ Appian نے لکھا ہے کہ اسپارٹیکس کا تعلق جنوب مشرقی یورپ کے ایک قبیلے ’تھریشین‘ سے تھا اور وہ رومی فوج میں ایک فوجی کے طور پر اپنی خدمات سرانجام دے چکا تھا۔ تاہم بعد میں غلاموں کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک کے خلاف آواز اٹھانے پر اسے گلیڈی ایٹر ( لڑنے بھڑنے میں ماہر جنگ جو) بنانے کے لیے فروخت کر دیا گیا۔
73قبل مسیح میں اسپارٹیکس گلیڈی ایٹرز کے اس گروپ میں شامل تھا جو قید سے فرار کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ تاہم اس منصوبے کا راز فاش ہوگیا۔ اسپارٹیکس نے اپنے 70 ساتھیوں کے ساتھ فرار کے لیے لڑتے ہوئے رومیوں کے ہتھیاروں پر قبضہ کرلیا۔ Appianنے ’’غلاموں کی تیسری جنگ‘‘ کا محرک اسپارٹیکس کو قرار دیا ، جس نے براہ راست رومیوں کو دہشت میں مبتلا کردیا تھا۔
اسپارٹیکس کی اس بغاوت کو رومی فوج نے بڑے پیمانے پر کارروائی کرکے ختم تو کردیا تھا لیکن وہ روم کے باشندوں کے دل سے اس کا خوف ختم نہیں کرسکے۔ اسپارٹیکس کی زندگی پر 1951میں امریکی لکھاری ہوورڈ فاسٹ نے ’’اسپارٹیکس‘‘ ہی کے نام سے ناول لکھا، جس نے فروخت کے سارے ریکارڈ توڑ دیے تھے۔ اس ناول کی بنیاد پر 1960میں بننے والی فلم ’’اسپارٹیکس‘‘ نے بھی کام یابی کے نئے ریکارڈ قائم کیے تھے ۔ ایک کروڑ 20لاکھ ڈالر کی لاگت سے بننے والی اس فلم نے باکس آفس پر 6کروڑ ڈالر کا کاروبار کیا تھا۔