پاکستان میں چائلڈ لیبر کی سب سے بڑی وجہ غربت ہے

پاکستان میں اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے محنت (آئی ایل او) کے نمائندے ظہیر عارف کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بچوں سے محنت و مشقت سے متعلق 21 سال پرانے اعدادوشمار دستیاب ہیں جن میں گھروں میں کام کرنے والے بچوں سمیت بدترین اقسام کی چائلڈ لیبر شامل نہیں ہیں۔ غیر رسمی شعبوں میں بچوں سے کروائی جانے والی محنت مشقت پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئےانھوں نے بتایا کہ ‘ہم سب جانتے ہیں کہ گھروں میں بچوں کی ایک بڑی تعداد ڈومیسٹک ورکرز کے طور پر کام کرتی ہے، اس کے علاوہ چوڑیاں بنانے کے کام سے لے کر سرجیکل آلات، کھیلوں کے سامان اور گہرے پانیوں میں ماہی گیری جیسے خطرناک پیشوں کی ایک پوری فہرست ہے جو ‘ورسٹ فارم آف چائلڈ لیبر’ یا بچوں سے مزدوری کی بدترین اقسام میں آتے ہیں لیکن اس کے بارے میں کوئی اعدادوشمار نہیں ہیں۔’

واضح رہے کہ پاکستان کے ادارہ برائے شماریات نے بچوں سے محنت مشقت کےاعدادوشمار آخری بار ایک سروے کے ذریعے سنہ 1996 میں جمع کیے تھے جس کے مطابق ملک میں 33 لاکھ بچہ مزدور تھے۔ آئی ایل او کے کنونشن فار ورسٹ فارم آف چائلڈ لیبر پر پاکستان نے سنہ 2001 میں دستخط کیے تاہم اب تک اس بارے میں کوئی اعداد وشمار اکھٹے نہیں کیے جا سکے ہیں۔ انھوں نے کہا: ‘تعلیم و آگہی نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو اندازہ نہیں ہوتا ہے کہ بچے کے ساتھ کیا کیا ہو سکتا ہے۔ وہ ٹریفکنگ میں آ سکتا ہے، دہشت گرد کاروائیوں میں استعمال ہو سکتا ہے۔ خطرناک پیشوں میں کام کرنے کی وجہ سےاس کی جان جا سکتی ہے۔’

ظہیر عارف نے تشویش ظاہر کی کہ اعدادوشمار اکھٹے نہ کرنے کی جانب حکومتوں کی عدم توجہی کی وجہ سے اس بنیادی مسئلے کو جڑ سے ختم کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ‘شاید یہ حکومت کی ترحیجات میں شامل نہیں ہے۔ کسی مسئلےسے نمٹے کے لیے پہلے تو ہمیں یہ پتا ہو کہ ہمارے ہاں کس حد تک چائلڈ لیبر ہے۔’ آئین میں 18 ویں ترمیم کے بعد صوبوں نے چائلڈ لیبر سے متعلق قانون سازی تو کی ہے لیکن اس پر سختی سے عمل درآمد کرانے کے ایک مربوط میکینزم بنانے کی ضرورت ہے۔ صوبوں کےمحکمہ لیبر کی استعداد بڑھانے پر زور دیتے ہوئے ظہیرعارف نےکہا کہ ‘محکمہ لیبر کے پاس انسپکٹرز موجود ہیں لیکن انھیں اتنی آگہی نہیں ہے جتنی کہ ضرورت ہے۔ (آئی ایل او) اس سلسلے میں ان کی تربیت کرتا ہے۔’

بچہ مزدوری کی وجوہات پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستان سمیت تمام ترقی پذیر ممالک میں یہ بات قابل قبول ہے کہ بچوں سے کام کرایا جائِے۔ ‘سب سے بڑی وجہ غربت ہے۔ یہ ایک شیطانی چکر ہوتا ہے جس سے نکلنا بہت مشکل ہے۔ بچوں کو کام پر اس لیے رکھا جاتا ہے کہ ایک بالغ آدمی کو انھیں پوری مزدوری دینا پڑے گی جبکہ بچہ سستے میں یا مفت میں کام کر دے گا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ بچہ ایک نوجوان کی نسبت زیادہ دیر تک اور زیادہ انرجی کے ساتھ کام کرتا ہے جس سے زیادہ سے زیادہ کام لیا جا سکتا ہے۔’

بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں آئی ایل او کا کیا لائحہ عمل ہوتا ہے؟ اس پران کا مؤقف تھا کہ’عام طور پر حکومتیں جن کنونشنز پر دستخط کرتی ہیں ان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ ان پر پوری طرح سےعمل کریں۔ خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ حکومت کو مطلع کیا جاتا ہے اور ادارہ میکینزم بنانے میں ان کی مدد کرتا ہے۔’ انھوں نے سیالکوٹ میں سرجیکل آلات کی صنعت میں کسی حد تک بچہ مزدوری کنٹرول کرنے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ’ ہم نےسیالکوٹ چیمبرآف کامرس، ایمپلائیز ایسوسی ایشنز، ٹریڈ یونینزاور ورکرز فیڈریشن کےساتھ مل کرکام کیا تا کہ آجر اور مزدور دونوں کی یونین کے نمائندگان کو آگاہی دی جا سکے۔’

شمائلہ خان

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

Advertisements

پاکستان میں کم سِن گھریلوں ملازمین تشدد کا شکار کیوں بنتے ہیں؟

ماں باپ کا سہارا بننے کے لیے گھر سے نکلنے والی رضیہ تین مہینے بعد گھر لوٹی تو لہولہان تھی۔ فیصل آباد میں گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی رضیہ کا ایک ہی قصور تھا: روٹی جلنا۔ رضیہ ان ہزاروں پاکستانی بچوں میں شامل ہے جو غربت کے باعث لوگوں کے گھروں میں کام کرنے پر مجبور ہیں، کبھی قرضہ اتارنے کے لیے تو کبھی گھر کے معاشی حالات سدھارنے کے لیے۔ رضیہ کا تعلق فیصل آباد کے گاؤں بچیانہ سے ہے اور وہ فیصل آباد کے ایک متمول گھرانے میں ملازم تھیں۔ رضیہ نے خود پر ہونے والے تشدد کے بارے میں بتایا۔

‘میں روٹی بنانے گئی تو روٹی جل گئی۔ مالکن نے بہت مارا۔ میں ڈر کر چھت پر چھپنے کے لیے بھاگی۔ لیکن وہ مجھے چھت سے کھینچتے ہوئے نیچے لے آئی۔ پھر شیشے کی بوتل میرے سر پر دے ماری۔ دوسری بار مارنے لگی تو میں نے ہاتھ آگے کر دیا۔ میرے ہاتھ پر لگی اور میں بری طرح زخمی ہو گئی۔ لیکن وہ نہیں رکی، اس کے بعد اس نے مجھے چھری ماری۔’ پاکستان میں نابالغ بچوں کو گھروں میں ملازم رکھنا عام ہے۔ مگر ان کم عمر بچوں کے بنیادی حقوق اور تحفظ کے لیے کوئی قانون موجود ہی نہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں گھریلو ملازمین بالخصوص بچوں پر تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

گذشتہ برس پاکستان 167 ممالک کے گلوبل سلیوری انڈیکس یعنی غلامی کے عالمی اشاریے میں چھٹے سے تیسرے نمبر پر آ گیا تھا۔ ڈومیسٹک ورکرز یونین کے سیکریٹری مختار اعوان نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معاشرتی بے حسی اور معاشی مجبوری کے باعث پاکستان میں کم عمر بچوں سے مشقت کروانا ایک ایسا جرم ہے میں خود والدین اعانت جرم کے مرتکب ہیں۔

‘یہ لوگ دیہی علاقوں سے آتے ہیں اور انتہائی غریب لوگ ہوتے ہیں۔ کچھ پیسوں کے عوض اپنے بچوں کو دوسروں کے گھروں میں کام کرنے کے لیے چھوڑ آتے ہیں۔ گھریلو ملازمین میں زیادہ ترچھوٹی عمر کی بچیاں رکھی جاتی ہیں کیونکہ نہ اس نے بولنا ہے اور نہ ہی کسی چیز سے انکار کرنا ہے۔ گھریلو ملازمین پر تشدد کے تقریباً 80 سے 90 فیصد کیس رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔’

مبینہ تشدد کے بعد رضیہ کے گھر والوں نے اس کے خلاف آواز بلند کرنے کی بہت کوششیں کیں۔ رضیہ کے والد نے تھانے کے متعدد چکر لگائے لیکن ایف آئی آر تک نہ کٹی۔ محمد اسلم کا کہنا تھا کہ انصاف صرف امیروں کو ہی ملتا ہے۔ ‘غریب ہیں، جس تھانے میں بھی جاتے ہیں وہ آگے کہیں اور بھیج دیتے ہیں۔ وہ امیر لوگ ہیں انہوں نے پیسے دیے ہوئے ہیں، ہمارے پاس کوئی پیسہ نہیں، اسی لیے ہماری نہیں سنی گئی۔’ گلوبل سلیوری انڈیکس ترتیب دینے والے ادارے واک فری فاؤنڈیشن کے مطابق اس وقت پاکستان میں اکیس لاکھ سے زیادہ بچے جبری مشقت پر مجبور ہیں۔

اس کی بنیادی وجہ متعلقہ قانون کی عدم موجودگی ہے۔ اسی لیےاگر رضیہ جیسے متاثرین تھانے تک پہنچ بھی جائیں تو معاملہ لمبی کاغذی کارروائی کی نظر ہو جاتا ہے۔ رضیہ کا کیس فیصل آباد کے تھانے مدینہ ٹاون میں زیر تفتیش رہا۔ تاہم کئی ہفتے گزرنے کے بعد بھی ایف آئی آر تک درج نہ ہوئی۔ جب بی بی سی نے مدینہ ٹاون تھانے کے انویسٹی گیشن انچارج محمد اشرف سے اس بارے میں پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ کیس کی تحقیقات زخمیوں کی نوعیت کا تعین نہ ہونے کی وجہ سے رکی ہوئی ہے۔ جس کے لیے میڈیکل رپورٹ ڈیکلیئر ہونا ضروری ہے۔

رضیہ کے والدین کا کہنا ہے کہ وہ شہر سے دور رہتے ہیں مگر کرایہ نہ ہونے کے باوجود وہ تھانے کے کئی چکر لگا چکے ہیں۔ تاہم کیس میں خاطرخواہ پیش رفت نہیں ہوئی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ طویل قانونی چارہ جوئی سے بچنے کے لیے عام طور پر اس طرح کے معاملات میں کچھ رقم لے دے کر معاملہ رفع دفع کر دیا جاتا ہے۔ مختار اعوان کا کہنا ہے اس کیس میں بھی رضیہ کے والدین کو بالآخر صلح کرنی پڑی۔

حنا سعید

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہو

پاکستان : 33 لاکھ بچے جبری مشقت کرتے ہیں

وفاقی وزیر محنت و افرادی قوت  نے وقفہ سوالات کے دوران قومی اسمبلی کو بتایا کہ ملک میں تینتیس لاکھ بچے جبری مشقت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جبری مشقت کرنے والے بچوں میں سے ستر فیصد صرف تین شعبوں زراعت، ماہی گیری اور جنگلات کے شعبوں میں کام کرتے ہیں۔ جبکہ ان کے مطابق انیس فیصد صنعتی شعبہ اور گیارہ فیصد سیلز کے شعبے میں جبری مشقت کرتے ہیں۔

آمنہ بھٹی گذشتہ پچاس برس سے گیلی مٹی کو اینٹوں میں تبدیل کر رہی ہیں۔ ان کے بقول ان کے والدین نے اینٹوں کے بھٹے کے مالک سے کچھ رقم ادھار لی تھی اور وہی بوجھ اتارتے اتارتے انہیں نصف صدی گزر چکی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وہ صرف دس برس کی تھیں جب انہیں جبری مشقت کی اس بھٹی میں جھونک دیا گیا تھا۔ ان پر ڈھائی لاکھ روپے کا قرضہ تھا اور ابھی تک وہ صرف ایک لاکھ روپے واپس کر پائی ہیں۔ بارہ برس قبل ان کے شوہر بھی ان کا ساتھ چھوڑ گئے۔ شوہر کے انتقال کے بعد انہوں نے اپنے آجر سے مزید رقم ادھار لے لی۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ آمنہ بھٹی شاید زندگی بھر قرضے کے اس بوجھ سے نجات حاصل نہیں کر پائیں گی۔

آمنہ بھٹی نے بتایا کہ ہم بہت غریب لوگ ہیں اور ہم زندگی بھر غریب ہی رہیں گے۔ جب انسان اس راستے پر چل نکلے، تو مرنے کے بعد ہی اسے اس سے چھٹکارا نصیب ہوتا ہے۔ پاکستان میں صرف اینٹوں کے بھٹوں پرکام کرنے والے افراد کا ہی یہ حال نہیں بلکہ زرعی زمینوں پر اور اسی طرح کے دیگر کام کرنے والے کارکن بھی اپنے آجروں سے لیے جانے والے ادھار کو اتارتے اتارتے زندگی ہی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ پاکستان میں اکثر ایسے واقعات منظر عام پر آتے رہے ہیں، جن میں والدین اپنا قرضہ اپنی اولاد کے سپرد کر دیتے ہیں اور بعض اوقات تو جبری مشقت کا یہ سلسلہ نسل در نسل جاری رہتا ہے، لیکن ادھار ہمیشہ اپنی جگہ واجب الادا رہتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق بھٹہ مزدوروں کو ایک دن میں ساڑھے تین سو روپے تک ادا کیے جاتے ہیں۔

ان مزدوروں کو اکثر انتہائی مشکل حالات میں زندگی گزارنا پڑتی ہے اور انہیں زندہ رہنے کے لیے بنیادی سہولیات بھی دستیاب نہیں ہوتیں۔پاکستان میں جبری مشقت کے شکار افراد کی اصل تعداد کے حوالے سے سرکاری سطح پر کوئی اعداد و شمار موجود نہیں ، تاہم مزدوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں میں کھیتی باڑی، قالین بافی، اینٹوں کے بھٹوں اور اسی طرح کے دیگر شعبوں میں کام کرنے والے ایسے مزدوروں کی تعداد لاکھوں میں ہے، جو اپنے آجرین سے رقم ادھار لینے کے بعد غلامی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ ایسے پاکستانی شہریوں کی زندگی میں استحصال کے تسلسل کی کوئی کمی نہیں ہوتی اور قرض لی گئی، رقوم کی مکمل ادائیگی کا عملاًکوئی امکان نہیں ہوتا ہے۔

عدنان اسحاق

اینٹ ساز مزدور بچے

ملک بھر میں مزدوری کی بدترین اور شرمناک صورت ہمیں اینٹوں کے بھٹوں پر دکھائی دیتی ہے جہاں والدین اور بہن بھائیوں سے لے کر چھوٹے بچوں تک پورا گھر مزدوری کرتا ہے ان کے بڑے عموماً بکے ہوئے ہوتے ہیں وہ یوں کہ انھیں بھٹے کا مالک کچھ رقم ادھار دے دیتا ہے اور جب تک یہ قرض ادا نہیں ہوتا وہ اس کے بھٹے پر کام کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
مقامی اصطلاح میں ان مقروضوں کو قرضدار نہیں بکا ہوا کہا جاتا ہے عموماً یہ مزدور اپنا قرض ادا نہیں کر پاتے اور زندگی بھر ’بکے‘ رہتے ہیں اگر کوئی بھاگتا ہے تو وہ پولیس کے ہتھے چڑھ جاتا ہے کیونکہ ایک اشٹام کے ذریعے وہ ادائیگی قرض تک قیدی بن کر رہتا ہے۔ کسی زمانے میں جب غلام ہوتے تھے تو وہ بکا کرتے تھے اور ان کا خریدار ان کا مالک ہوتا تھا۔
آج اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والے اکثر اسی غلامی کی زندگی بسر کرتے ہیں اور اسی میں ختم ہو جاتے ہیں لیکن ان کے بچے جو ان کے ساتھ کام کرتے ہیں دیکھنے میں تو ہر کوئی دل ہی دل میں ان پر افسوس کرتا ہے مگر عملاً کوئی کچھ نہیں کرتا۔ جب پاکستان بنا تھا تو یہ بچے اس وقت بھی کسی بھٹے پر غلامی بسر کر رہے تھے اور اب جب پاکستان ایک ایٹمی ملک تک بن گیا ہے تب بھی یہ بچے کسی بھٹے پر غلامی کر رہے ہیں اور ان کی یہ زندگی بہت مشہور ہے ہر کوئی اس پر دکھ کرتا ہے۔
ان بچوں کو ہر حکمران نے دیکھا ہے لیکن کسی نے ان کے لیے کیا کچھ نہیں، تعجب ہوا یہ سن کر کہ ایک صوبے کے حکمران نے ان بچوں کو زندہ رکھنے بلکہ کار آمد زندگی دینے کی سعی کی ہے۔ یہ ایک چھوٹا سا انقلاب ہے جو یوں تو صرف ایک صوبے کے باشندوں کے ایک گروہ کی زندگی میں برپا ہوا ہے لیکن حیرت انگیز ہے اور قابل رشک۔ یہ انقلاب صاحب حیثیت لوگوں کے گناہوں کا کفارہ بھی بن سکتا ہے لیکن وہ صرف اس صوبے کے وزیراعلیٰ کو زبانی کلامی داد دینے تک محدود رہیں گے اور اسی کو اپنا کفارہ سمجھ لیں گے۔ اب مختصراً ان انقلابی مراعات پر ایک نگاہ ڈال لیجیے۔
پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف نے اپنے صوبے میں اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والے بچوں کے لیے ایک خصوصی پیکیج کا اعلان کیا ہے جس کے تحت ان بچوں کے لیے خصوصی تعلیم کا اہتمام کیا جائے گا اسکول جانے والے ہر بچے کو سو فی صد تعلیمی اخراجات کے علاوہ ایک ہزار روپے ماہانہ وظیفہ ملے گا۔
کسی بچے کے اسکول داخلے پر اس کے والدین کو دو ہزار روپے سالانہ وظیفہ بچوں اور والدین کو علاج کی مفت سہولتیں علاوہ ازیں بچوں کے لیے مفت کتابیں اسٹیشنری یونیفارم جوتے اور اسکول بیگ بھی فراہم کیے جائیں گے۔ بھٹوں سے چائلڈ لیبر کے خاتمے کا آرڈی ننس بھی منظور کیا گیا ہے جس کے تحت بچوں سے مزدوری کرانے والے بھٹہ مالکان کو چھ ماہ تک قید کی سزا ہو گی۔
خلاف ورزی کرنے پر بھٹہ مالک کا سمری ٹرائیل ہو گا اور پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ ہو گا اور ساتھ ہی بھٹہ بھی سیل کر دیا جائے گا۔ یہ ضلع کے ڈی سی او اور ڈی پی او باقاعدہ چیکنگ کریں گے اور اس کی رپورٹ دیا کریں گے۔ دور دراز جانے والے بچوں کے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بھی حکومت ادا کرے گی۔ چائلڈ لیبر کی چیکنگ کے لیے ضلع کی سطح پر کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی۔
ان معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ وزیراعلیٰ ان بچوں کو مزدوری اور وہ بھی اینٹوں کے بھٹے کی مکروہ مزدوری کی خرابیوں سے نجات دلانے میں بہت سنجیدہ ہیں اور اس کے لیے ہر ممکن طریقہ اختیار کرنے پر آمادہ ہیں۔ اسلامی تعلیمات میں کسی مسلمان ملک کی حکمرانی کو انتہائی ذمے داری کا عہدہ قرار دیا گیا ہے جس کے بارے میں یہان تک کہا گیا کہ کسی کو مسلمان ملک کا حکمران بنانے کا مطلب یہ ہے کہ اسے گویا کُند چھری سے ذبح کردیا گیا ہے، میاں شہباز شریف بھی محاورتاً کُند چھری سے ذبح کیے گئے ہیں اور جب تک وہ اس منصب پر فائز رہیں گے وہ اسی ’’خونریز‘‘ کیفیت سے گزرتے رہیں گے۔
خدا کا شکر ہے کہ وہ اپنی ذمے داری کا احساس رکھتے ہیں اور اس بگڑی ہوئی انتظامیہ سے اس کے تصور سے بڑھ کر کام لینا چاہتے ہیں۔ اگر میاں صاحب اپنے موقف اور احساس ذمے داری پر قائم رہے اور انھوں نے اپنے ماتحتوں پر ثابت کر دیا کہ وہ سنجیدہ ہیں تو ان سے زیادہ کون جانتا ہے کہ ہمارے ہاں حکم حاکم کی کتنی اہمیت ہوتی ہے جن لوگوں نے انگریز کا دور دیکھا ہے وہ جانتے ہیں کہ یہی لوگ کس قدر محنتی اور دیانت دار ہوتے تھے کرپشن کی ہمت اور جرات نہیں ہوتی تھی اور کام کو ٹالنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا یہ سب اس لیے تھا کہ انگریز جو اپنی عزت کے لیے دیانت اور محنت سے کام لیتا تھا دوسروں سے بھی یہی توقع رکھتا تھا چنانچہ وہ دیانت و امانت کا زمانہ تھا۔
آزادی کے بعد جب مقامی حکمران آئے تو وہ اپنے پیشرو انگریزوں کی طرح سخت گیر نہیں تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ رفتہ رفتہ انتظامیہ ڈھیلی پڑتی گئی اور پرانی خرابیاں جو خواب بن گئی تھیں جاگ اٹھیں اور آج حالت یہ ہے کہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن رشوت ستانی اور کام چوری ہے۔
بات صاف ہے اور ہر کوئی جانتا ہے کہ بہتری اوپر سے آتی ہے نیچے سے اوپر نہیں جاتی ،اوپر بیٹھا صوبے کا وزیراعلیٰ چاہے گا اور وہ سنجیدہ ہو گا تو بھٹوں پر مزدوری کرنے والے پاکستانی بچے اس عذاب سے چھوٹ جائیں گے اور دوسرے بچوں کی طرح زندگی بسر کریں گے اور ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم ہر پاکستانی بچے کو ایک معقول زندگی کے اسباب فراہم کریں اور یہ وسائل اور موقع ان بچوں کے غریب والدین فراہم نہیں کر سکتے یہ کام حکومت کا ہے اور خوشحال پاکستانیوں کا ہے۔
میاں صاحب نے جس جذبے سے کام شروع کیا ہے پورا صوبہ ان کے ساتھ ہے دعا گو ہے اور ان کی کامیابیوں کا منتظر ہے کیونکہ وہ ان کے ارادوں اور فیصلوں کو حیرت کے ساتھ دیکھ رہے ہیں کہ پہلے تو ایسا کبھی نہیں ہوا دیکھیں اب کیا ہوتا ہے۔
عبدالقادر حسن

Over 250,000 children work in brick kilns in Pakistan

  Laborers move baked bricks from an oven at a kiln on outskirts of Peshawar, Pakistan.

Somewhere between two-fifths to two-thirds of all the working children in Pakistan toil in brick kilns. According to UNICEF estimates, it comes to around 250,000 children. But these are not just cases of child labour. Entire families work in brick kilns, striving to pay off their debts that are so much beyond their means that they will remain unpaid even after decades of continuous work.
The Bonded Labour System (Abolition) Act of 1992 defines this as bonded labour, where the workers enter a contract to pay off a debt and work for nominal or no wages. Even though the act banned such labour 18 years ago, practically not much has been done to eradicate this modern form of slavery. Pakistan Institute of Labour Education and Research estimates that there are 11,000 brick kilns in Pakistan. Of these, 5,000 brick kilns are in Punjab alone, mostly (about 90 per cent of them) in rural areas.
An NGO Ercelawn estimates that there are anywhere between 750,000 and 900,000 people from 200,000 families languishing in these brick kilns, most of them as bonded labourers. Ishtiaq Ahmad, a social activist who works for EAST, another NGO, said that women and children are at an elevated risk of suffering at the hands of the brick kiln owners. “Women are prepared to work at very low wages in rural areas,” he said, “The environment is very bad for these women, especially their children.”
However, bonded labour is not inextinguishable. Citing examples of some 95 families who were recently freed from bonded labour in a village near Peshawar, Ahmad said that public mobilisation was the only viable way to eradicate this evil. Four years ago a three-member bench led by the Chief Justice, Iftikhar Muhammad Chaudhry, directed all four Chief Secretaries to get all brick kilns in the country registered.

World Day Against Child Labor observed in Pakistan

Pakistani boys sell fruits on a roadside in Peshawar, Pakistan, a day before World Day Against Child Labor. World Day Against Child Labor will be observed on 12 June across the world including Pakistan to raise awareness and contribute to ending child labor. The theme of this year’s ‘No to Child Labor, Yes to Quality Education’.