فیس بک پر ان کاموں سے گریز کریں

فیس بک بہت مقبول ہے اور ایسا بلاوجہ نہیں۔ ایک دوسرے کو جاننے اور نئے لوگوں سے ملنے کا جذبہ اور شوق کم و بیش ہر فرد میں ہوتا ہے۔ فیس بک اس کی تکمیل کا ایک ذریعہ بن چکی ہے۔ کون نہیں چاہے گا کہ خوب سے خوب تر نظر آئے لیکن چند کام ایسے ہیں جو ناسمجھی میں کر لیے جاتے ہیں مگر جنہیں دوسرے ناپسند کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک حد سے زیادہ تصاویر شیئر کرنا ہے۔ کچھ لوگوں کی عادت بن جاتی ہے کہ وہ اپنی، اپنے کپڑوں اور ساتھیوں وغیرہ کی ایک کے بعد دوسری تصویر شیئر کرتے رہتے ہیں۔ اگر خاندان کے افراد یا دوستوں کی تصاویر زیادہ تعداد میں شیئر کی جائیں گی تو انہیں برا بھی لگ سکتا ہے۔ کچھ لوگ نہیں چاہتے کہ ان کی تصاویر سرعام دیکھی جائیں۔ بعض دوست یا خاندان کے افراد اپنی مرضی کی تصاویر ہی شیئر کرنا چاہتے ہیں۔

فیس بک پر بہت زیادہ فرینڈز بنانا بھی اچھا خیال نہیں کیا جاتا۔ زیادہ تر ان افراد کو پسند کیا جاتا ہے جو سوچ سمجھ کر فرینڈز کا انتخاب کرتے ہیں۔ جن کے بہت زیادہ فیس بک فرینڈز ہوں ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ فیس بک پر ضرورت سے زیادہ توجہ دے رہے ہیں یا انہیں توجہ حاصل کرنے کا جنون ہے۔  فیس بک پر انتہائی نجی معاملات کو بیان کرنے والوں یا ان پر بحث کرنے والوں کو اچھا خیال نہیں کیا جاتا۔ ان کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ وہ عام زندگی میں بھی لاپرواہ ہوں گے۔ اسی طرح دوسروں کے نجی معاملات پر گفتگو بھی غیر اخلاقی اور نامناسب خیال کی جاتی ہے۔ دوسروں کی ٹوہ لگانا اور بار بار سوال کرنا بھی ناموزوں ہوتا ہے۔ ایسا کرنے والوں کے بارے میں اچھی رائے قائم نہیں ہوتی۔

فیس بک پر بہت قریب سے لی گئی تصویر کو پروفائل پکچر کے طور پر نہیں لگانا چاہیے۔ یہ عام طور پر بدنما لگتی ہے۔ اسی طرح ہر مرتبہ سنجیدہ تصاویر شیئر کرنابھی اچھا نہیں ہوتا۔ سنجیدگی کے ساتھ ہنستی مسکراتی تصاویر بھی نظر آنی چاہئیں۔ فیس بک پر خودنمائی مت کریں۔ چاہیے آپ کو معلوم نہ ہو لیکن دل ہی دل میں آپ کے فرینڈز جان لیں گے کہ آپ ایسا کر رہے گے۔ اسی طرح خود کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا بھی اچھا خیال نہیں کیا جاتا۔ بعض افراد جب بھی کسی مہنگے ہوٹل، ایئرپورٹ یا اچھے ریسٹورنٹ میں جاتے ہیں اپنی تصویر یا مقام فیس بک پر ضرور شیئر کرتے ہیں۔ یہ خودنمائی دوسروں کو آسانی سے سمجھ میں آ جاتی ہے۔

سماجی تنہائی کا سبب سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال

امریکی ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ ٹوئٹر، فیس بک اور پنٹریسٹ جیسی سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کی وجہ ہے زیادہ تعداد میں لوگ تنہائی محسوس کر رہے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق ایک دن میں دو گھنٹے سے زیادہ سوشل میڈیا کے استعمال سے ایک فرد میں سماج سے الگ تھلگ ہونے کے امکانات دگنے ہوسکتے ہیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دوسرے افراد کی زندگیوں کے خیالی تصور سے حسد کے جذبات پیدا ہوسکتے ہیں۔ یونیورسٹی آف پٹسبرگ کے شعبہ طعبیات کی پروفیسر اور رپورٹ کی معاون مصنف الزبتھ ملر کا کہنا ہے کہ ’یہ تحقیق انسٹاگرام، سنیپ چیٹ اور ٹمبلر استعمال کرنے والوں سے متعلق ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ پہلے کیا آتا، سوشل میڈیا کا استعمال یا پہلے سے ہی موجود تنہائی کا رجحان۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’یہ ممکن ہے کہ نوجوان جو ابتدائی طور پر معاشرے میں تنہا محسوس کرتے ہیں انھوں نے سوشل میڈیا کا رخ اختیار کیا ہو ۔ یا یہ ان کا سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال ہو سکتا ہے جس کی وجہ سے وہ حقیقی دنیا میں تنہائی محسوس کرنے لگ گئے ہوں۔‘ اس رپورٹ کے مطابق ایک فرد جتنا زیادہ وقت آن لائن صرف کرتا ہے اتنا ہی کم وقت وہ حقیقی دنیا میں میل جول کرتا ہے۔ سوشل میڈیا کے استعمال سے بے دخل کیے جانے کے جذبات بھی بڑھ سکتے ہیں، جیسا کہ کسی تقریب میں دوستوں کی تصویر دیکھنا جہاں آپ کو مدعو نہ کیا گیا ہو۔

یہ تحقیق کرنے والی ٹیم نے 19 سے 32 سال کے عمر کے تقریبا 2000 افراد سے سوشل میڈیا کے استعمال کے بارے میں سوالات کیے تھے۔ یونیورسٹی آف پٹسبرگ کے سکول آف میڈیسن کے پروفیسر برائن پریمیک کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک اہم معاملہ ہے کیونکہ دماغی صحت کے مسائل اور سماجی تنہائی نوجوانوں میں وبائی امراض کی سطح پر ہیں۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ’ہم خلقی طور پر سماجی جانور ہیں، لیکن جدید زندگی ہمیں یکجا کرنے کے بجائے تقسیم کرنے کا رجحان رکھتی ہے۔‘ وہ کہتے ہیں: ’اگرچہ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ سوشل میڈیا سماجی تنہائی ختم کرنے کے مواقع فراہم کرتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ وہ حل نہیں جس کی لوگ امید کر رہے ہیں۔‘

پاکستان میں انٹرنیٹ کا بڑھتا ہوا نشہ

ایک حالیہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ طلبہ کی تقریباً 16.7 فیصد تعداد انٹرنیٹ کے نشے میں مبتلا ہے اور اس سے لڑکے اور لڑکیاں دونوں یکساں طور پر متاثر ہیں۔ پاکستان جرنل آف میڈیکل سائنسز کے حالیہ شمارے میں شائع ہونے والی ایک مقالے کے مطابق آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے جن طلبہ نے تحقیق میں حصہ لیا، ان میں سے 16.1 فیصد انٹرنیٹ کے درمیانے نشے میں مبتلا پائے گئے، جب کہ 0.6 فیصد کو اس نشے کا شدید طور پر شکار کہا جا سکتا ہے۔ تحقیق کے نتائج کے مطابق انٹرنیٹ کا عادی ہونے کے معاملے میں کوئی صنفی امتیاز نہیں پایا گیا اور طلبہ اور طالبات تقریباً یکساں شرح سے اس میں مبتلا ہوتے ہیں۔

تحقیق میں ایک اور بات یہ سامنے آئی کہ جو طلبہ کسی قسم کے کھیلوں یا جسمانی سرگرمی میں حصہ لیتے تھے، ان کے اس مخصوص نشے میں گرفتار ہونے کی شرح دوسروں کے مقابلے پر کم تھی۔ انٹرنیٹ کو عام ہوئے زیادہ عرصہ نہیں گزرا، لیکن حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ انٹرنیٹ کے نشے کے لیے باقاعدہ طبی اصطلاح ‘انٹرنیٹ ایڈکشن ڈس آرڈر’ یا آئی اے ڈی وضع کی جا چکی ہے، جس کی تعریف کچھ یوں ہے: ‘انٹرنیٹ کے استعمال میں خود پر قابو نہ رکھ پانا، جس کی وجہ سے مریض جسمانی، نفسیاتی اور سماجی مسائل کا شکار ہو سکتا ہے۔’

انٹرنیٹ جہاں ایک طرف طلبہ کو رابطے، معلومات اور تفریح کا سستا اور سہل وسیلہ فراہم کرتا ہے، تو دوسری جانب یہ ان نوجوانوں کو کسی نشے کی طرح اپنی لپیٹ میں بھی لے سکتا ہے۔ پچھلے چند برسوں میں ہمارے ملک میں انٹرنیٹ کا استعمال جنگل کی آگ کی طرح پھیلا ہے۔ سوشل میڈیا مینیجمنٹ کے ادارے ہُوٹ سویٹ کی رپورٹ ‘ڈیجیٹل ان 2017’ کے مطابق 2016 کے مقابلے پر حالیہ برس میں پاکستان میں انٹرنیٹ کے استعمال میں 20 فیصد کا اضافہ ہوا ہے اور اب ملک بھر میں ساڑھے تین کروڑ افراد انٹرنیٹ استعمال کر رہے ہیں، جن کا 72 فیصد حصہ موبائل فون کے ذریعے آن لائن ہوتا ہے۔

ظاہر ہے کہ اس تعداد کا بہت بڑا حصہ طلبہ پر مشتمل ہے، جو اپنی پڑھائی کے لیے انٹرنیٹ استعمال کرتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انٹرنیٹ پر تعلیمی وسائل کی کوئی حد نہیں اور یہ میڈیم طلبہ کو تعلیم و تحقیق میں بہت مدد دے سکتا ہے، لیکن کسی بھی طالبعلم کو پڑھائی کے دوران توجہ کے ارتکاز کی اشد ضرورت ہوتی ہے، لیکن انٹرنیٹ اس کے بالکل برعکس توجہ بٹانے کے بےشمار مواقع فراہم کرتا ہے، جس سے طالبعلم بھٹک کر کسی اور طرف نکل جاتا ہے۔ جرنل آف میڈیکل سائنسز میں شائع ہونے والی تحقیق کے نتائج کے مطابق طلبہ و طالبات یکساں طور پر انٹرنیٹ کے اسیر تھے۔ تاہم ہانگ کانگ اور ایران میں اسی قسم کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ لڑکے زیادہ اس عارضے کا شکار ہوتے ہیں۔

اس کے علاوہ جو طلبہ کسی قسم کی جسمانی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، ان کے اندر اس نشے کا شکار ہونے کی شرح کم تھی، کیوں کہ ایسے طلبہ جلدی سونے کے عادی تھے اور وہ اپنے وقت کا خاصہ حصہ موبائل یا لیپ ٹاپ سے دور کھیل کے میدان میں گزارتے تھے۔ عام طلبہ کے مقابلے پر انٹرنیٹ کے عادی طلبہ میں امتحانات میں ناکامی کی شرح ڈھائی گنا زیادہ تھی۔ تحقیق تحقیقی مقالے کے مرکزی مصنف لیفٹیننٹ کرنل پروفیسر عالمگیر خان آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں پروفیسر آف فزیالوجی ہیں۔ انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا: ’انٹرنیٹ کا نشہ کسی بھی دوسرے نشے کی مانند ہوتا ہے اور اس کے چھوٹنے کی بھی ویسے ہی جسمانی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔’

اس نشے میں اور دوسرے نشوں میں کیا فرق ہے؟ اس سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ‘نشے کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ کسی چیز کے عادی ہو جائیں اور وہ چیز آپ کو نہ ملے تو اس سے زندگی میں دلچسپی ہی ختم ہو جائے، کوئی چیز اچھی نہ لگے، آپ چڑچڑے پن کا شکار ہو جائیں، یا ڈیپریشن میں چلے جائیں۔’ انھوں نے کہا کہ ان کی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ’انٹرنیٹ کے نشے کا شکار لوگوں سے آپ ان کے گیجٹ لے لیں تو انھیں لگتا ہے کہ جیسے زندگی کا کوئی مقصد ہی نہیں ہے۔’

اس سے قبل پروفیسر عالمگیر اور ان کے ساتھیوں کی ایک اور تحقیق سے ظاہر ہوا تھا کہ انٹرنیٹ کا نشہ طلبہ کی تعلیمی سرگرمیوں پر بری طرح سے اثرانداز ہوتا ہے۔ جرنل آف اسلامک انٹرنیشنل میڈیکل کالج میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق عام طلبہ کے مقابلے پر انٹرنیٹ کے عادی طلبہ میں امتحانات میں ناکامی کی شرح ڈھائی گنا زیادہ تھی۔ پروفیسر عالمگیر کہتے ہیں کہ اس سلسلے میں والدین اور اساتذہ کا کردار بنتا ہے کہ وہ اپنے بچوں، خاص طور پر ایسے بچوں پر نظر رکھیں جن کی تعلیمی کارکردگی اچھی نہیں ہے اور دیکھیں کہ کہیں وہ انٹرنیٹ کے نشے کا شکار تو نہیں ہو گئے؟

پاکستان میں کیے جانے والے ان مطالعہ جات سے یہ بات کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ کسی بھی ٹیکنالوجی کی طرح انٹرنیٹ بھی دودھاری تلوار کی مانند ہے اور یہ بےتحاشا فائدے کے ساتھ ساتھ بے پناہ نقصان بھی پہنچا سکتی ہے۔ اس معاملے میں طلبہ، والدین، اساتذہ اور تعلیمی اداروں سب کو محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔

ظفر سید

بی بی سی اردو ڈاٹ کام

فیس بک کا استعمال بند کر دینا چاہیے، کیوں؟

آپ نے اکثر مضامین میں یہ پڑھا ہو گا کہ سوشل میڈیا کا استعمال کس طرح خود اعتمادی کو بری طرح نقصان پہنچاتا ہے اور احساس کمتری پیدا کرتا ہے، لیکن گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ صرف ایک ہفتے تک فیس بک کا استعمال ترک کر دینا دماغی صحت کو کافی بہتر بنا سکتا ہے۔ سائبر سائیکولوجی نامی جریدے میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق ڈنمارک کے 1100 افراد کو ایک ہفتے کے لیے فیس بک ترک کرنے یا اس پر مسلسل موجود رکھنے کے لیے چنا گیا۔ تحقیق سے پہلے اور بعد میں شرکا سے چند سوالات کیے گئے، جس میں پوچھا گیا کہ وہ زندگی سے کتنے مطمئن ہیں اور تنہائی، خوشی، پریشانی اور جوش جیسے جذبات کی سطح کو کتنا محسوس کرتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ لوگوں کا سوشل میڈیا استعمال کرنے کا انداز نتائج پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے۔

رضا کاروں کی جانب سے فیس بک پر صرف کیے گئے وقت اور ان کے دوستوں کی تعداد طے کرتی ہے کہ وہ سائٹ کتنی استعمال کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ سروے میں پوچھا گیا کہ فیس بک رضاکاروں کو حاسد بناتا ہے اور آیا وہ زیادہ پوسٹ کرتے ہیں یا ایسے ہی سکرول کرتے رہتے ہیں۔ ایک ہفتے بعد جو سائٹ سے دور رہے، انہوں نے زندگی میں اطمینان اور جذبات میں ٹھہراؤ میں بہتری ظاہر کی جبکہ سوشل میڈیا زیادہ استعمال کرنے والوں نے ذہنی صحت میں سب سے زیادہ مدد حاصل کی جبکہ کبھی کبھار اپنے پیجز دیکھنے والوں میں کوئی تبدیلی نہیں دکھائی دی، تو اس سے پہلے کہ آپ فیس بک کا ’’ڈی ایکٹیویٹ بٹن ڈھونڈیں۔ یہ جان لیں کہ یہ تحقیق کافی محدود تھی۔

رضاکاروں کو معلوم تھا کہ انہیں فیس بک کا استعمال ترک کرنا ہے یا جاری رکھنا ہے۔ اس لیے ہو سکتا ہے، پہلے سے ہی ان کا ذہن بنا ہوا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ انہوں نے سو فیصد سچ نہ بولا ہے۔ اس کے باوجود اگر آپ خود پر غور کریں، تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ فیس بک کی وجہ سے حسد اور عداوت بڑھ رہی ہے۔ خاص طور پر ان فیس بک صارفین نے، جو بہت زیادہ سماجی معلومات پیش کرتے ہیں اور یوں تقابل کا ایک سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔

انٹرنیٹ پر جھوٹی خبر کس حد تک اثرانداز ہو سکتی ہے ؟

ایک جھوٹی خبر کس حد تک اثرانداز ہو سکتی ہے اس کا مظاہرہ تین ہفتے قبل واشنگٹن نے دیکھا جب ایک شخص ایک جھوٹی خبر کے ردعمل میں ایک پیزا ریستوران میں فائرنگ کر دی۔ اطلاعات کے مطابق اس واقعے میں کسی کو نقصان نہیں پہنچا اور پولیس نے مسلح شخص کو حراست میں لے لیا۔ اسی طرح حال ہی میں منعقدہ امریکی انتخابات میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک کر جھوٹی خبروں کی اشاعت کا معاملہ سامنے آیا اور یہ دعویٰ کیا گیا کہ ان سے امریکی ووٹروں کی رائے عامہ میں تبدیلی ہوئی۔

جھوٹی خبروں اور اس کے ردعمل کے طور پر کوئی بیان جاری کرنے یا کوئی قدم اٹھانے کا معاملہ یہیں ختم نہیں ہوا۔ اس کے حالیہ شکار پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف بنے ہیں۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے اسرائیل کو خبردار کیا کہ کیا اسرائیل بھول گیا ہے کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے۔ وزیر دفاع نے یہ بیان اسرائیل کے وزیر دفاع کے مبینہ بیان کے جواب میں دیا۔  منگل کے روز آے ڈبلیو ڈی نامی ویب سائٹ پر شائع ایک خبر شائع ہوئی جس میں کہا گیا ‘اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ اگر پاکستان نے کسی بھی بہانے سے شام میں زمینی فوج بھیجی تو ہم اس ملک کو ایٹمی حملے میں تباہ کر دیں گے۔’ اس خبر کے مطابق اسرائیل کے سابق وزیر دفاع موشے یالون نے پاکستان کو دھمکی دی۔

اے ڈبلیو ڈی میں شائع ہونے والی کہانی کے مطابق یالون نے مزید پاکستانی فوج کی شام میں آمد کے حوالے سے کہا ‘جہاں تک ہمارا تعلق ہے یہ ایک دھمکی ہے اور اگر بدقسمتی سے وہ شام میں آتے ہیں تو ہمیں معلوم ہے کہ ہم نے کیا کرنا ہے۔ ہم ان کو ایٹمی حملے میں تباہ کردیں گے۔’ اس ‘دھمکی’ کے جواب میں پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ‘اسرائیلی وزیر دفاع نے پاکستان کے شام میں داعش کے خلاف کردار پر قیاس آرائی کرتے ہوئے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی دی۔ اسرائیل بھول رہا ہے کہ پاکستان بھی جوہری صلاحیت رکھتا ہے الحمداللہ۔’

تاہم اسرائیلی وزارت دفاع نے ٹوئٹ میں خواجہ آصف کو ٹیگ کرتے ہوئے کہا ہے ‘جو بیان سابق وزیر دفاع یالون کے حوالے سے نشر کیا گیا ہے وہ کبھی دیا ہی نہیں گیا۔’  ایک اور ٹوئٹ میں اسرائیلی وزارت دفاع نے ایک بار پھر خواجہ آصف کو ٹیگ کرتے ہوئے کہا ہے ’خواجہ آصف جس رپورٹ کا ذکر کر رہے ہیں وہ بالکل من گھڑت ہے۔’ تاہم واضح رہے کہ موشے یالون اسرائیل کے وزیر دفاع نہیں ہیں۔ ان کو عہدے سے مئی میں ہٹا دیا گیا تھا اور ان کی جگہ لائیبرمین کو مقرر کیا گیا ہے۔ حال ہی میں فیس بک پر غلط خبروں کے معاملے پر تنازع اس وقت کھڑا ہوا تھا جب بعض صارفین نے کہا کہ فیس بک پر پھیلنے والی بعد غلط خبریں امریکی صدارتی انتخاب کے نتائج پر اثرا انداز ہوئی ہیں۔

خیال رہے کہ کچھ اعداد و شمار سے یہ امر سامنے آیا تھا کہ کچھ جعلی خبریں فیس بک پر بڑے پیمانے پر شیئر کی گئی تھی جبکہ ان کی تردید زیادہ شیئر نہیں ہوئی۔ خیال رہے کہ انٹرنیٹ پر نقلی خبروں پر نظر رکھنے والی ایک ویب سائٹ mediabiasfactcheck.com کے مطابق انٹرنیٹ پر کئی ایسی ویب سائٹس ہیں جو نقلی خبریں پھیلاتی ہیں۔ ‘ایسی ویب سائٹس یہ غلط خبریں چھاپتی ہیں جن کی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔ ان ویب سائٹس پر خبریں قیاس آرائیوں پر مبنی ہوتی ہیں۔’

رضا ہمدانی

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

وٹس ایپ کی بے پناہ مقبولیت اور دلچسب حقائق

وٹس ایپ کا نام what’s up سے لیا گیا ہے، جس کا اُردومیں معنی ’’کیا چل رہا ہے‘‘کے ہیں ۔ وٹس ایپ کو آپ مستقبل کا سوشل میڈیا بھی کہہ سکتے ہیں، جس کی وجہ اس کے جدید فیچرز ہیں۔ وٹس ایپ کا ہیڈ کوارٹر ماؤٹین ویو، کیلیفورنیا میں واقع ہے۔ پہلے پہل وٹس ایپ iOS آپریٹنگ سسٹم رکھنے والے سمارٹ فونز کے لیے ہی دستیاب تھا، بعدازاں اس کی بڑھی ہوئی مقبولیت کے پیشِ نظر پہلے بلیک بیری، پھر اینڈرائیڈ اور آخر میں ونڈوز کے لیے بھی الگ سافٹ ویئرز متعارف کروا دِیے گئے۔ وٹس ایپ سے وائس کال، ویڈیو کال، ٹیکسٹ میسج، PDF فائلیں، تصویریں، اپنا مقام، آڈیو اور ویڈیو فائلیں بھی بھیجی سکتی ہیں، لیکن یہ سب تو آج کی بات ہے۔ اس سے قبل یعنی 2008ء سے 2009ء تک یہ فیچرز دستیاب نہ تھے۔

وٹس ایپ کو مشہورِ زمانہ سرچنگ اور سوشل ویب سائٹ ’’یاہو‘‘ کے ملازمین برین ایکٹن اور جین کوم نے ڈیزائن کیا۔ 2007ء میں یاہو سے مستعفی ہونے کے بعد دونوں دوستوں نے اپنا ذاتی سافٹ ویئرز ڈیزائن کرنے کا سوچا، جس کے لیے وہ جنوبی امریکا پہنچے، یہاں انہوں نے فیس بک اور ٹویٹر میں نوکری کے لیے کئی بار تگ و دو کی، لیکن ناکام ٹھہرے۔ اسی اثناء میں جین کوم نے ایک روسی ڈویلپر کے ساتھ مل کر وٹس ایپ ڈیزائن کیا اور جلد ہی اسےiOS کے ایپ سٹور پر ریلیز کر دیا۔ ریلیز کے کچھ عرصہ بعد ہی وٹس ایپ دنیا بھر میں مقبول ہو گئی، یہاں تک کہ 2009ء میں دنیا کی سب سے زیادہ استعمال کی جانے والی میسجنگ ایپلی کیشن بن گئی۔ 2013ء تک وٹس ایپ پرقریباً 200 ملین صارفین سرگرم رہے ۔

اس دوران اعداد و شمار کی ذمہ داری 50 ملازموں پر مشتمل سٹاف پر تھی۔ 2014ء تک صارفین کی تعداد بڑھ کر 500 ملین تک پہنچ گئی۔ اپریل 2014ء کی ایک رپورٹ کے مطابق وٹس ایپ صارفین ہر روز 700 ملین تصویریں، 100 ملین ویڈیوز، 10 بلین میسج کیا کرتے تھے۔ جین کوم نے وٹس ایپ کو اِن کارپوریٹ کروایا اور 19 فروری 2014ء کو 19.3 بلین ڈالر میں فیس بک کو فروخت کر دیا ۔ 19.3 بلین کی بھاری رقم دنیا ئے تاریخ کی سب سے زیادہ خریداری میں صرف کی جانے والی رقم تھی۔ بقول جین اور کوم اگر فیس بک یا ٹویٹر انہیں اپنے پاس ملازمت دے دیتے، تو ان سے بے شمار فائدے اُٹھا سکتے تھے۔ فیس بک نے وٹس ایپ میں ہر وہ چیز شامل کی، جس کی عام مواصلاتی زندگی میں لوگوں کو ضرورت ہوتی ہے۔

70 فیصد کے قریب وٹس ایپ صارفین روزانہ کی بنیاد پر آن لائن ہوتے ہیں۔ وٹس ایپ کے مطابق ہر روزقریباً 1 ملین نئے صارف شامل ہوتے ہے۔ وٹس ایپ اینڈرائیڈ سمارٹ فونز میں تیسری سب سے زیادہ ڈاؤن لوڈ کی جانے والی ایپ ہے۔ وٹس ایپ اب کمپیوٹر پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، جس کے لیے سمارٹ فون سے صرف ایک QR کوڈ سکین کرنا ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں1 بلین دفعہ ڈاؤن لوڈ ہونے کے دوران کوم سمیت صرف 4 لوگ وٹس ایپ کے تمام اعداد و شمار سنبھالے ہوئے تھے، جو اپنے آپ میں ایک ورلڈ ریکارڈ ہے۔ ٹویٹر اور فیس بک کی طرف سے رد کیے جانے پر برین ایکٹن نے ٹویٹ کیا کہ ’’یہ میرے لیے ایک بڑا موقع تھا کہ میں فیس بک یا ٹویٹر کے با کمال سٹاف کے ساتھ کام کر تا، لیکن ایسا نہ ہوا، پھر بھی میرا ایڈونچر ابھی باقی ہے‘‘ اور دلچسپ بات یہ کہ ایکٹن کے اس ٹویٹ کے کچھ عرصے بعد وٹس ایپ کا قیام عمل میں آیا۔

دانش احمد

سوشل میڈیا کے دور میں خوش کیسے رہا جائے؟

صبح ہوئی ہے، آنکھ کُھلی نہیں پر ہاتھ ہیں کہ حرکت میں آچکے ہیں۔ ایک ہاتھ سے آنکھیں مسل رہا ہوں، دوسرے سے سیل فون ٹٹول رہا ہوں۔ کدھر ہے؟ رات کو سرہانے ہی تو رکھا تھا، کہیں گر تو نہیں گیا؟ کسی نے اٹھا تو نہیں لیا؟ خدانخواستہ کہیں نیچے آ کر ٹوٹ ہی تو نہیں گیا۔۔۔۔ او یہ رہا۔۔۔۔ شکر ہے۔ ذرا دیکھوں تو کتنے میسجز آئے ہیں۔ فیس بُک کھولتا ہوں، نہیں پہلے انسٹا گرام یا پھر ٹوئٹر۔ یہ ہے ہم میں سے بہت ساروں کے دن کا آغاز۔ رینڈم فوٹوز لائک کرنا، نائیس ہے، اچھا ہے، بہت خوب، اوسم اور ایسے دو چار اور لگے بندے لفظوں سے ہر دوسرے تیسرے فوٹو یا ویڈیو پر کمنٹ کرنا۔ اِدھر کی چیز اُدھر اور یہاں کی وہاں شئیر کرتے ہوئے صبح کا آغاز کرنا اور سارا دن یہی کرتے رہنا۔

کوئی دوست ملنے آیا، بیٹھا، بات کی، سنی نہ سنی، فیس بک پر لگے رہے۔ وہ کالج کا کوئی واقعہ سناتا رہا یا کوئی اور بات یہ پتا نہیں، البتہ اس کے ساتھ لی ہوئی سیلفی تبھی اپ لوڈ ہو گئی۔ اسکول، کالج میں استاد نے کیا پڑھایا، کس موضوع پر بات کی، دھیان نہیں، یاد نہیں۔ ماں نے تو شوق سے کھانا بنایا ہے لیکن کیا، کیا جائے فاسٹ اینڈ فیوریس ایٹ کا ٹریلر بھی تو دیکھنا ہے۔ اس لئے ایک ہاتھ میں نوالہ اور دوسرے میں سیل فون ضروری ہے۔ بیوی بچوں کے ساتھ گھوم رہے ہیں، سب کا موڈ خوشگوار ہے۔ اچانک ایک نوٹیفکیشن آیا۔ دو سال پرانے ایک فوٹو پر کسی پرانے دوست نے لکھا ’’واہ وہ بھی کیا دن تھے جب توسارا دن نگہت کے ساتھ گزار دیتا تھا اور ہمیں سلام تک نہ کرتا تھا‘‘۔ سب کچھ جیسے دھڑام سے آ گرا۔ نگہت کون ہے؟ بیوی غصہ، بچے خوف زدہ اور صاحب پریشاں۔

یہ زندگی اور پھر گلہ کہ خوش نہیں ہم۔ 24 گھنٹے سوشل میڈیا سے جکڑے ہوئے اور شکوہ کے زندگی میں کوئی مزہ نہیں، پریشانی ہے، ڈپریشن ہے، بیوی فضول میں شک کرتی ہے، میاں بے جا پابندیاں لگاتے ہیں۔ بھئی زندگی جیو گے تو خوشی ملے گی ناں؟ سیل، لیپ ٹاپ، کمپیوٹر، سوشل میڈیا۔۔۔ یہ تو تمہاری زندگی کو آسان کرنے کے لئے تھے، انہیں تو تمہاری زندگی کا جزو ہونا تھا اور تم نے انہیں ہی اپنی زندگی کا کُل بنا لیا۔ دوست، گھر والے، بیوی، بچے رشتے دار، کسی کے لئے کوئی وقت نہیں لیکن انجان لوگوں کے لئے دن رات آن لائن۔ ’سوشلی کنیکٹیڈ‘ لیکن حقیقت میں کسی سے کوئی واسطہ نہیں۔ اسی سے پھر پریشانی اور ڈپریشن جنم لیتا ہے۔ حد سے تجاوز کرنے کے بجائے اعتدال میں رہتے ہوئے ان مصنوعات کا فائدہ اٹھائیے اور سہولت کو زحمت نہ بناتے ہوئے فیس بُک پڑھنے کے بجائے بکس پڑھی جائیں، فضول کمنٹس کی بجائے کچھ کام کا لکھیئے۔

عمران خوشحال راجہ

فیس بک کے دلچسپ حقائق

فیس بک کا ہیڈ کوارٹر امریکی ریاست کیلی فورنیا میں واقع ہے جو اس کی اپڈیٹنگ اور اعداد و شمار کا ذمہ لیے ہوئے ہے۔ فیس بک کا شمار دنیا کی بہترین سوشل میڈیا ویب سائٹس میں ہوتا ہے۔ فیس بک پر سوشل ورک کے ساتھ ساتھ پروڈکٹس کی تشہیر بھی کی جا سکتی ہے۔ فیس بک کے مالک مارک زکر برگ ہیں جنہوں نے 4 فروری 2004ء کو اس کی بنیاد رکھی۔ دورانِ تعلیم زکر برگ نے اپنے دوست احباب سے تعلیمی معاملات اور دیگر سرگرمیوں میں آپسی تعلق بنائے رکھنے کے لیے فیس بک ڈیزائن کی۔ شروعات میں فیس بک کی حدیں نہایت محدود رہیں۔ یہاں تک کہ یہ صرف زکر برگ کے دوستوں کے زیرِ استعمال رہی۔

بعدازاں مختلف کالجز اور یونیورسٹی کے طالب علموں کے لیے بھی فیس بک کا ایک نیا ورژن متعارف کروایا گیا۔ 2006ء میں 13 سال تک کے بچوں کو بھی اپنا اکاؤنٹ رجسٹر کروانے کی اجازت دے دی گئی، لیکن چند ضروری پالیسیوں کا پابند ہونا ضروری تھا۔ فیس بک کا لفظ دراصل دو الفاظ ’’فیس‘‘ اور ’’بک‘‘ پر مشتمل ہے۔ یہ لفظ امریکی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں استعمال کی جانے والی طالب علموں اور اساتذہ کی ڈائریکٹری جس میں ان کی تصویر سمیت تمام تعلیمی اور دیگر عام معلومات درج کی جاتی تھی، سے لیا گیا ہے۔ اس طرح صارف اپنے قریبی رشتے داروں، دوستوں اور آفس سٹاف کا الگ الگ گروپ بنا سکتا ہے، 2012ء میں انکارپوریٹ ہوجانے کے بعد فیس بک نے ’’انٹل پبلک آفرنگ‘‘ شروع کی۔ اس طرز کی آفرنگ میں کمپنی اپنے شیئرز سرمایہ کاروں کو فروخت کرنے کی پیش کش کرتی ہے۔ زکر برگ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ صرف 3 مہینوں میں وہ اپنی کمپنی کے 104 بلین ڈالر زکے شیئرز بیچ چکے تھے، جو اس وقت کے سٹاک مارکیٹ میں سب سے زیادہ تھے۔ 13 جولائی 2015ء میں فیس بک تیزی سے ترقی کرتی ہوئی سٹاک مارکیٹ میں 250 بلین ڈالر کی حد عبور کر گئی۔ 30 ستمبر2016ء کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں فیس بک پر 1.79 بلین صارفین ہر روز سرگرم رہتے ہیں۔ جبکہ اپریل 2016ء کے اعداد و شمار کے مطابق فیس کے 65 فیصد صارفین 13 سے 18 سال کی عمر کے ہیں۔ فیس بک کے بارے کچھ دلچسپ حقائق یہ ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر ہیکرز فیس بک پر 6 لاکھ مرتبہ اکاؤنٹس ہیک کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بیشتر صارفین 40 منٹ روزانہ فیس بک استعمال کرتے ہیں۔ فیس بک کی پہلی اپ لوڈ کی جانے والی تصویر الپاچینو کی تھی۔ فیس بک پر تقریباً 30 ملین مرے ہوئے لوگوں کے اکاؤنٹ موجود ہیں۔ ٹویٹر کی طرح فیس بک بھی چائنہ میں 7 سال سے پابندی کا شکار ہے۔ کسی بھی پینترے سے فیس بک پر مارک زکر برگ کو بلاک نہیں کیا جا سکتا۔ فیس بک ہر امریکی صارف سے تقریباً 5.85 ڈالر کماتا ہے۔ فیس بک کے مالک مارک زکر برگ نے 2013ء میں 1 بلین ڈالر غرباء کو عطیہ کیے اور اس طرح وہ دنیا کے سب سے بڑے عطیہ کرنے والے بن گئے ۔

فیس بک پر موجود ’’Like‘‘ کا بٹن دراصل ’’زبردست‘‘ کا مونوگرام ہے۔ تقریباً 8.7 فیصد فیس بک اکاؤنٹس جعلی ہیں۔ فیس بک پر ہر منٹ میں 1.8 ملین لائکس کیے جاتے ہیں۔ سٹاک مارکیٹ نیچے آنے پر فیس بک ہر منٹ میں 25 ہزار ڈالر گنوا دیتا ہے۔ 2005ء میں ’’مائی سپیس‘‘ نامی کمپنی نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ فیس بک خرید رہی ہے لیکن 75 ملین ڈالر جیسی چھوٹی رقم لینے سے زکر برگ نے انکار کر دیا۔ مارک زکر برگ مالک ہونے کی حیثیت سے ماہانہ 1 ڈالر یعنی 100 روپے تنخواہ لیتے ہیں۔ فیس بک نے اپنے ایک ملازم کو بچے کی پیدائش پر 3 مہینے کی چھٹی تنخواہ کے ساتھ دی تھی۔ فیس بک میں ایک ایسا آپشن بھی ہے جس کے استعمال سے مرنے سے قبل کوئی شخص اپنا اکاؤنٹ کسی دوسرے کے حوالے کر سکتا ہے۔ فیس بک کا پہلا ’’سالانہ ہیکر کپ کوڈنگ چیلنج‘‘ گوگل کے ایک سافٹ ویئر پروگرامر نے جیتا تھا۔ یہ شخص جب اپنا انعام لینے فیس بک کے ہیڈ کوارٹر پہنچا تو اس نے گوگل کا بیچ لگایا ہوا تھا۔

دانش احمد انصاری

ٹویٹرانہ جمہوریت اور وٹس ایپ آمریت : وسعت اللہ خان

’ سوشل میڈیا اور ابلاغ ’’ کے موضوع پر اگر کوئی شخص کچھ کہنے کے لیے سب سے زیادہ غیر موزوں ہے تو وہ میں ہوں۔ مگر غلطی میری ہے۔ مجھے اپنے مدعوئین کو پیشگی آگاہ کرنا چاہیے تھا کہ بھائی اس موضوع پر بات کرنے کے لیے صرف ان اصحاب کو زحمت دیں جن کے پاس اینڈورائیڈ ٹیکنالوجی سے مسلح  ٹچ موبائل فون ہوں کہ جن میں فور جی نہ سہی تو تھری جی ہی آتا ہو۔ میرے پاس تو سترہ سو ساٹھ روپے والا نوکیا  چھتیس دس ماڈل ہے۔ اس میں تھری جی تو خیر کیا ہوگا اسے تو جی تھری بھی اپنے نشانے پر نہ باندھے۔ اگرچہ میرے اکثر لنگوٹئیے دوست میرا شمار خشکوں میں کرتے ہیں۔ مگر اینڈورائیڈ ٹیکنالوجیانہ علت سے پاک ہونے کے سبب میں اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ جہاں تک آئی کنٹیکٹ یا منہ در منہ گفتگو کا معاملہ ہے میں اپنے تئیں سوشل میڈیائی ہتھیاروں سے مسلح تمام احباب سے زیادہ سوشل ہوں۔ جب اپنے اردگرد فیس بک ، ٹویٹر اور جانے کیا کیا سے مسلح احباب کے دونوں ہاتھوں کو مسلسل اس ڈجیٹل بٹیر سے کھیلتے دیکھتا ہوں تو شکر بجا لاتا ہوں کہ میرے پاس جو موبائل فون ہے اس میں کال کرنے اور ریسیو کرنے کے علاوہ واحد اضافی سہولت ایس ایم ایس کی ہے۔ میرا ماننا ہے کہ آدمی ہو نہ ہو فون جس قدر لادین ہوگا زندگی اتنی ہی سکھی گذرے گی۔ ایک انگلی سے ٹچ اسکرین کو گھساتے  فونچی احباب و رشتے داروں کی طرح کم ازکم یہ تو نہیں کہنا پڑے گا  کہ ہاں ہاں میں سن رہا ہوں تم بولتے رہو۔ میں ایک اہم وٹس ایپ چیک کر رہا ہوں۔

مجھے کئی برس سے اس شخص کی تلاش ہے جس نے ان سوشل میڈیا میں سے ان کا لفظ غائب کر کے ’’ انی پا دتی’’ اور پھر اس کا نام سوشل میڈیا رکھ دیا۔ ہو سکتا ہے کہ سوشل میڈیااس نیت سے تخلیق کیا گیا ہو کہ یہ بلا رنگ و نسل و مذہب و ملت اس کرہ ارض کو صحیع معنوں میں ایک گلوبل ولیج بنا دے گا۔ ہم ایک دوسرے سے ربط میں آکر نہ صرف اپنے دکھ سکھ رئیل ٹائم میں بانٹنے کے قابل ہو جائیں گے بلکہ ان گنت مشترکہ مسائل کے درجنوں حل بھی ڈھونڈھ پائیں گے۔میں اب بھی سمجھتا ہوں کہ آٹھ ہزار برس پہلے پہیے کی ایجاد کے بعد انسان نے جو سب سے اہم ایجاد کی ہے وہ انٹرنیٹ ہے۔

ابھی کل کی ہی تو بات ہے جب انیس سو بانوے میں بی بی سی اردو کے سائنس میگزین دریافت میں بطور پریزینٹر میں نے ہی یہ خبر پڑھی تھی کہ وائٹ ہاؤس کے ساؤتھ ونگ سے نارتھ ونگ تک ایک کمپیوٹر کے زریعے صدر بل کلنٹن نے پہلی ای میل بھیجی ہے۔ اور آج چوبیس برس بعد جب میں یہ واقعہ سوچتا ہوں تو خود ہی ہنس پڑتا ہوں۔ یہ بالکل درست ہے کہ سوشل میڈیا تک ہر شخص کی ممکنہ رسائی کے سبب اب خبر پر خبر کے ٹھیکیداروں کی اجارہ داری ختم ہو چکی ہے۔اب کوئی چاہے بھی تو یو ٹیوب بند کرنے کے باوجود یو ٹیوب نہیں بند کر سکتا کیونکہ میرے ہاتھ میں اس تک گھوم گھما کر پہنچانے والے کئی سافٹ وئیرز ہیں۔اب کوئی ایڈیٹر میرا مضمون چھپانے سے انکار کرے گا تو میں اسے فیس بک پر ڈال دوں گا۔

سوشل میڈیا نے لوگوں کی زباں بندی کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کالعدم کردیا۔ جن ممالک میں سوشل میڈیا کو سائبر قوانین کی زنجیریں پہنانے کی کوشش کی گئی، انھی ممالک میں دس پندرہ سال کے بچوں نے ان زنجیروں کو اڑا کے رکھ دیا۔ وکی لیکس سوشل میڈیا کی انقلابی فضا میں ہی پنپ سکتا تھا۔ اگر انٹرنیٹ نہ ہوتا تو پانامہ لیکس بھی نہ ہوتا۔ ریختہ کی ویب سائٹ بھی نہ ہوتی جس نے اردو کو زبان کی حد سے نکال کر عالمی لسانی فیشن کے ریمپ پر کھڑا کردیا۔ اگر تیونس  کے ایک لاچار سبزی فروش کی خود سوزی کی خبر سوشل میڈیا کے ذریعے بریک نہ ہوتی تو دنیائے عرب کی خزاں عرب اسپرنگ میں شائد اتنی تیزی سے نہ بدلتی۔ ترکی کے ساحل پر تین سالہ ایلان الکردی کی اوندھی لاش وائرل نہ ہوتی تو یورپ شامی پناہ گزینوں کے لیے اپنے دروازے شائد نہ کھولتا۔ غرض سوشل میڈیا نے ان گنت امکانات کا دروازہ کھول دیا۔

لیکن میں پھر اسی جانب آوں گا کہ جس بے دریغانہ طریقے سے ہم سوشل میڈیا ٹول استعمال کر رہے ہیں۔ اس کے سبب کیا ہم ایک دوسرے سے جڑ رہے ہیں یا دور ہو رہے ہیں۔ مثلاً اس کا کیا کریں کہ پہلے ہم میاں بیوی ، میاں بیوی ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے دو چار منٹ  ہی سہی پر اچھی اچھی باتیں کر لیتے تھے۔ اب وہ رات بھر میرے پاس ورڈ کی تلاش میں رہتی ہے اور میں دن بھر اس کا پاس ورڈ بریک کرنے کی ترکیبوں کے بارے میں سوچتا  رہتا ہوں۔ جب بجلی نہ ہو تو میرا بیٹا میری گود میں سر رکھ کے کہانی سننے کی فرمائش کرتا ہے اور جیسے ہی بجلی آتی ہے وہ کہانی آدھے میں چھوڑ کر انٹرنیٹ کی گود میں سر رکھ دیتا ہے اور میں ’’ ایک منٹ سن تو لو بیٹا ’’ کرتا رھ جاتا ہوں۔

بفضلِ سوشل میڈیا ٹیکنا لوجی اپنے بچوں کے لیے میں ایک بیک ورڈ باپ ہوں کیونکہ مجھے ڈاؤن لوڈنگ کے نئے شارٹ کٹس نہیں معلوم۔ میں ان کی طرح تیزی سے کی بورڈ پر انگلیوں کو کتھک نہیں کروا سکتا۔ میں وقت بچانے کی خاطر ہا ہا ہا ویری فنی کے بجائے ایل او ایل لول نہیں لکھ پاتا۔ مجھ جیسے کروڑوں سادوں کا اگر سوشل میڈیا سے تعلق ہے تو فیس بک کے ناتے سے۔ کیونکہ باقی سوفٹ وئیر میری سمجھ میں نہیں آتے۔ لیکن یوزر فرینڈلی فیس بک پر کسی سنجیدہ موضوع پر اپنی پسند کا مضمون یا ڈھنگ کی بات تک پہنچنا بھی دن بدن کوہِ قاف کے قلعے میں قید پری تک پہچننے جیسا ہوتا جا رہا ہے۔ راستے میں انتہا پسندی و شدت پسندی سے لتھڑے بیسیوں تبصراتی ندی نالے پھلانگنے پڑتے ہیں۔ یہی پتا نہیں چلتا کہ جو تصویر مجھے خوش یا اداس کر رہی ہے واقعی اوریجنل ہے یا فوٹو شاپ کے بیت الخلاسے گذر کے مجھ تک پہنچی ہے۔

کہنے کو سوشل میڈیا نے مجھے آزاد کر دیا ہے۔ مگر صرف مجھے آزاد نہیں کیا۔ریچھوں، بندروں، لومڑیوں، سانپوں اور حشراتِ الارض کو بھی آزاد کر دیا ہے۔کچھ پتہ نہیں چلتا کہ آپ کے کس جملے کا کوئی مفہوم کوئی بھی آدمی کچھ اور لے کر آپ کو کب دائرہِ اسلام سے خارج کردے یا داخل کر لے۔ اپنی پسندیدہ شخصیت پر زرا سی بھی تنقید کے ردِ عمل میں آپ کو لسانی بدفعلی کے نشانے پر رکھ لے۔ آپ کی تصویر کو ہار پہنا دے یا آپ کا چہرہ کاٹ کے خنزیر پر فٹ کر دے۔ اب آپ پر افراد حملے نہیں کرتے۔ پورے پورے سائبر غول آپ کی رائے پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ مجھے تو یہی نہیں معلوم ہوتا کہ جو نورین میری ہر تحریر کی تحریری پرستار ہے وہ واقعی نورین ہے یا چوہدری ستار ہے۔

مگر نورین کی مشکل یہ ہے کہ اگر وہ سوشل میڈیا پر اپنی اصل آئیڈنٹیٹی کے ساتھ اصلی تصویر لگائے تو بلیک میلر لگڑ بگے اس کا جینا حرام کرنے کے لیے شست لگائے منتظر رہتے ہیں۔ یہ سوشل میڈیا کا ہی تو فیض ہے کہ جنھیں پڑھنا چاہیے وہ لکھ رہے ہیں۔ جنھیں سننا چاہیے وہ بول رہے ہیں۔ جنھیں بولنا چاہیے وہ چپ ہیں۔ ہاں سوشل میڈیا پر اردو ویب سائٹس  اور پیجز بھی ہیں۔ ان پر معیاری مضامین اور تنقیدی مباحث بھی دکھائی دینے لگے ہیں۔ بعض ویب سائٹس زیادہ سے زیادہ لوگوں کو شائستگی کے ساتھ تحریری اظہار کا موقع بھی فراہم کرتی ہیں اور اختلافِ رائے کا بھی خیر مقدم کرتی ہیں۔ مگر ایسی ویب سائٹس کی تعداد ابھی بہت کم ہے۔

پہلے لیڈر بیان جاری کرتے تھے اب صرف ٹویٹیاتے ہیں۔ پہلے اسٹیبلشمنٹ پریس ریلیز جاری کرتی تھی، پریس کانفرنس کرتی تھی، خبر گیروں سے رابطہ کر کے موقف سمجھاتی تھی۔ اب ملک پر ٹویٹر والی سرکار کی حکمرانی ہے۔ پہلے پترکار اور تجزیہ کار بالمشافہ بریفنگ لیتے تھے۔ اب فیصلہ سازوں  کے وٹس ایپ گروپ میں داخل اور خارج ہونے پر سینہ پھلاتے ہیں۔ آمریت بھی وٹس ایپ پر اتر آئی ہے اور جمہوریت بھی۔ فرقہِ تسلیہ میں شامل میرے دوست کہتے ہیں کہ ذاتی خون نہ جلاؤں اور اپنی توجہ سنجیدہ ویب سائٹس ، پڑھے لکھے چاٹ رومز اور معیاری ٹیگنگ پر رکھوں تو بہتر ہے۔ سوشل میڈیا ابھی بچہ ہے۔ ذرا بڑا ہو گا تو خود بخود سدھر جائے گا۔ مگر جب میں ایسے خوش امید دوستوں سے کہتا ہوں کہ جو لوگ اپنی گلی کا کچرا صاف کرنے کے لیے بھی چینی اور ترک کمپنیوں کو ٹھیکے دے رہے ہوں۔ وہ سوشل میڈیا کو انوائرنمنٹ فرینڈلی اور محفوظ بنانے کا ہمالیہ کام کیسے سر کریں گے۔ تو اس پر میرے یہ دوست ذرا دیر کے لیے چپ ہو جاتے ہیں۔اور پھر ان میں سے کوئی ایک دوسری طرف منہ کرتے ہوئے بڑ بڑاتا ہے ’’ رہے گا نہ یہ لعنتی کا لعنتی‘‘۔

وسعت اللہ خان

فیس بُک انتظامیہ نے 7 فلسطینی صحافیوں کے اکاؤنٹس بغیر وجہ بند کردیئے

 فیس بُک نے گزشتہ ہفتے دو الگ الگ نیوز ایجنسیوں سے تعلق رکھنے والے سات فلسطینی صحافیوں کے ذاتی اکاؤنٹس کوئی وجہ بتائے یا نوٹس دیئے بغیر بلاک کردیئے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق جن فلسطینی صحافیوں کے ذاتی فیس بُک  اکاؤنٹس بند کئے گئے ہیں ان کا تعلق شہاب نیوز ایجنسی اور قدس نیوز نیٹ ورک سے ہے۔ فیس بُک کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ غلطی سے ہوا ہے اور ان میں سے 6 صحافیوں کے اکاؤنٹس بحال کردیئے گئے ہیں۔ ساتویں فلسطینی صحافی کا فیس بُک اکاؤنٹ اب تک بحال نہیں کیا گیا ہے۔

اس کے برخلاف فلسطینی صحافیوں کا مؤقف ہے کہ ایسا کسی غلطی کے باعث نہیں ہوا بلکہ یہ فیس بُک کے اعلی عہدیداران اور اسرائیلی حکام کے مابین تل ابیب میں ہونے والی حالیہ ملاقات کا نتیجہ ہے۔ اس ملاقات میں فیس بُک نے اسرائیلی حکومت کے تعاون سے ایسا تمام مواد اس سوشل میڈیا سائٹ سے ہٹانے کا اعلان کیا تھا جو اسرائیل مخالف ہو یا اسرائیل میں تشدد کا باعث بن سکتا ہو۔ اس اعلان پر انٹرنیٹ ناقدین نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ مذکورہ ’’تعاون‘‘ کا اصل ہدف وہ تمام لوگ بالخصوص فلسطینی اور عرب افراد ہوں گے جو سوشل میڈیا کے ذریعے اسرائیل کے خلاف احتجاج کرتے رہتے ہیں۔ سات فلسطینی صحافیوں کے فیس بُک اکاؤنٹس لاک کرنے کی ’’غلطی‘‘ عملاً فیس بُک کی اسی پالیسی کو ظاہر کرتی ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کی وجہ سے اسرائیل میں گزشتہ اکتوبر (2015) سے تشدد کی ایک نئی لہر پھیل رہی ہے جس میں اب تک سینکڑوں افراد قتل کئے جاچکے ہیں۔ لیکن ’’الجزیرہ‘‘ کے مطابق، اسرائیلی اعداد و شمار جھوٹ کا پلندہ ہیں کیونکہ اکتوبر 2015 سے جاری ’’الیکٹرونک انتفادہ‘‘ کے دوران اسرائیل میں اب تک 230 فلسطینی، 34 اسرائیلی، دو ا مریکی، ایک اردنی، ایک اریٹریائی اور ایک سوڈانی قتل ہوچکے ہیں۔ خود اسرائیلی فوج نے اعتراف کیا ہے کہ ’’تشدد/ بغاوت‘‘ پر اُکسانے والا مواد فیس بُک پر شیئر کرانے کی پاداش میں گزشتہ نومبر سے اب تک 100 سے زائد فلسطینیوں کو گرفتار بھی کیا جاچکا ہے جنہیں نظر بندی، کئی ماہ تک قیدِ بامشقت اور ہزاروں امریکی ڈالر کے مساوی جرمانوں جیسی مختلف سزائیں دی جاچکی ہیں۔

فیس بُک کی اسرائیل نوازی پر نکتہ چینی کرنے کے بعد الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں (فلسطینی صحافیوں کا حوالہ دیتے ہوئے) یہ بھی لکھا ہے کہ شہاب نیوز ایجنسی کے اکاؤنٹس ایک سال میں چار بار بند کئے گئے ہیں جن میں سے دو مرتبہ کی بندش عارضی تھی جبکہ دو مرتبہ یہ فیس بُک اکاؤنٹس مستقل بنیادوں پر ختم کردیئے گئے تھے جنہیں نئے سرے سے بنانا پڑا تھا۔ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے تبصرہ نگاروں کا کہنا ہے کہ فلسطینی صحافیوں کے اکاؤنٹس بند کرنے کا معاملہ کسی غلطی کا نتیجہ رہا ہو یا ایسا جان بوجھ کر کیا گیا ہو، ہر صورت میں اب انٹرنیٹ پر اظہارِ رائے کی آزادی محدود اور چند مخصوص ممالک کی پسند و ناپسند کے تابع ہونے جارہی ہے۔