کیا ہم خود کو زیادہ خوش رکھ سکتے ہیں؟

خوش رہنے کی دعا عام طور پر دی جاتی ہے جس سے اس انمول شے کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ تاہم خوشی ہر ایک کا نصیب نہیں ہوتی۔ زندگی میں غم اور دکھ ہمارا پیچھا کرتے رہتے ہیں لہٰذا ضروری ہے کہ ان سے چھٹکارہ پانے اور خوشی حاصل کرنے کے طریقوں کا پتا چلایا جائے۔ بعض اوقات انسان خوشی پانے کے ہنر سے آگاہ نہ ہونے پر بھی زندگی کا لطف نہیں اٹھا پاتا۔ ان لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا شروع کریں جن سے آپ کو مسرت اور دلی سکون ملتا ہے۔ عام طور پر ہمارا دن تین حصوں میں تقسیم ہوتا ہے۔ گھر، دفتر اور دوست۔ تینوں میں خوشی کی تلاش اور پریشانیوں سے نجات کے لیے قدرے مختلف حکمت عملی ضرورت ہوتی ہے۔

گھر میں شریک حیات کے ساتھ بہتر اور خوش گوار تعلقات کا ہونا ضروری ہے۔ دفتر میں اپنے ہنر کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ کام کرنے والوں سے اچھا تعلق ہونا چاہیے۔ ایسی جگہ کام کرنے کو ترجیح دینی چاہیے جہاں کا ماحول آپ کو پریشان نہ کرے۔ منفی خیالات اور جذبات کو اپنے ذہن میں نہ آنے دیں کیونکہ یہ ہماری خوشی کے دشمن بن جاتے ہیں۔ ان اندرونی خیالات کی وجہ سے بیرونی خوشی کا احساس نہیں ہو پاتا۔ آئیے اس بارے میں مزید جانتے ہیں۔ خوشی کاارادہ کریں خوش رہنے کے لیے شعوری فیصلہ کرنا چاہیے ۔

معروف برطانوی فلسفی برٹرینڈ رسل اپنی کتاب کنکوئسٹ آف ہیپینس میں کہتے ہیں کہ خوشی انعام کی صورت میں نہیں ملتی اسے پانا پڑتا ہے۔ اسے پانے کے لیے انسان کو اپنی اندرونی اور بیرونی دنیا کو بدلنے کی کوششیں کرنا ہوتی ہے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق خوش رہنے کے لیے خوش رہنے کا ارادہ کرنا ضروری ہے۔ اپنے آپ سے خوش رہنے اور پریشان نہ ہونے کا عہد کرنا ہوتا ہے۔ خوشی کو اپنی زندگی کے بڑے مقاصد میں سے ایک بنانا پڑتا ہے۔ خوشی کے چھوٹے سے موقع کو بھی اہم جاننا چاہیے۔ دوسروں کی تعریف کریں شاید ہی کوئی فرد اپنی تعریف نہ سننا چاہے لیکن دوسروں کی تعریف کرنے میں کنجوسی پرتی جاتی ہے۔ اگر کسی نے تھوڑا سا بھی اچھا یا نیکی کا کام کیا ہے تو اس کی تعریف ضرور کرنی چاہیے اور شکریہ بھی ادا کرنا چاہیے۔ یہ کھلے دل کی علامت ہے۔ تنگ دل لوگ نہ خود خوش ہو پاتے ہیں اور نہ ہی دوسروں کو خوش دیکھ پاتے ہیں۔ ان میں خود کو شامل مت کیجیے۔ لوگوں کی مناسب انداز میں تعریف کر کے آپ نا صرف ان کے لیے مسرت کا سامان پیدا کریں گے بلکہ وہ آپ کے بارے میں مثبت تاثر قائم ہوتا ہے۔ گھر ہو یا دفتر تعریف کرنے سے لوگوں کے رویے بہتر ہوتے ہیں۔

اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ بے جا تعریف کی جائے۔ معاف کرنا سیکھیں کسی نے آپ کے ساتھ کچھ برا کیا ہو تو دکھ اور تکلیف کا ہونا فطری ہوتا ہے۔ لیکن اگر یہ دل و دماغ پر چھا جائے توانسان ہمہ وقت کوفت میں رہتا ہے جس سے خوشی جاتی رہتی ہے۔ بعض اوقات معاف نہ کرنے کی صورت میں پیدا ہونے والا ذہنی دباؤ ہمیں پریشان کیے رکھتا ہے ۔ یہ تشویش اورمایوسی کو بڑھا کر ہماری خوشی چھین لیتا ہے۔ اس سے چھٹکارہ پانے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ درگزر کو اپنی شخصیت کا حصہ بنالیں۔ معاف کرنا آسان نہیں ہوتا لیکن یہ ناممکن بھی نہیں۔ اگر کسی نے دھوکا دیا ہے تو معاف کرنے کی جانب پہلا قدم یہ ہو گا کہ آپ دھوکا دینے والے کے نکتہ نظر سے حالات کا جائزہ لیں اور یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ اس نے ایسا کیوں کیا ہو گا۔ اس وقت کو یاد کریں جب آپ نے کسی کو معاف کیا تھا۔ اپنے آپ سے کا عہد کریں کہ آپ درگزر سے کام لیں گے اور پھر اس پر قائم رہیں۔ منفی خیالات دور بھگائیں جسمانی صفائی کی طرح ذہنی صفائی بھی لازمی ہے۔

جسم سے میل اور گندگی کو صاف کرنا پڑتا ہے تو ذہن سے منفی خیالات کو۔ان خیالات کی آمد از خود ہوتی ہے تاہم انہیں ذہن سے نکالنے کے لیے شعوری کوشش کرنا پڑتی ہے۔ یہ مختلف طریقوں سے کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے سب سے پہلے اس وقت کویاد کرنا چاہیے جب منفی خیالات وارد نہیں ہوئے تھے۔ اس کے بعد زندگی کے مثبت پہلوؤں کی جانب توجہ مبذول کرنی چاہیے۔ متعدد سرگرمیاں منفی خیالات کو ذہن سے نکالنے میں مدد دیتی ہیں۔ ان میں مراقبہ، سیروسیاحت اور کتب بینی شامل ہیں۔ دولت خوشی نہیں خرید سکتی زندگی کی بنیادی ضروریات کا پورا ہونا ضروری ہے جس کے لیے دولت کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن اگر دولت ہی کو خوشی سمجھ لیا جائے تو خوشی روٹھ جاتی ہے۔

دولت کو سب کچھ سمجھ کر اس کی دوڑ میں بعض لوگ اتنے اندھے ہو جاتے ہیں کہ انہیں اور کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ وہ اپنوں سے دور ہو جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ اپنے لیے بھی وقت نہیں نکال پاتے۔ یقینا دولت چاہیے ہوتی ہے لیکن اسے خوشی کی قیمت پر حاصل نہیں کرنا چاہیے۔ اچھے دوست بنائیں ان افراد سے دوستی کریں جو آپ کا خیال رکھتے ہیں اور جن کے ساتھ وقت بتا کر مسرت کا احساس ہوتا ہے۔ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ زیادہ تعداد میں اچھے دوست رکھنے والے افراد زیادہ خوش و خرم رہتے ہیں۔ پس نئے اور اچھے دوستوں کی تلاش شروع کیجیے۔ مقصد تلاش کریں روزمرہ کی زندگی میں بہت سے کام ہماری ضرورت ہوتے ہیں چاہے ہم انہیں پسند کریں یا نہ کریں۔

مثال کے طور پر ہمیں بعض اوقات اس جگہ بھی ملازمت کرنی پڑتی ہے جہاں ہم کرنا نہیں چاہتے۔ تاہم کچھ فارغ وقت بھی ملتا ہے جسے بہت سے لوگ ٹی وی، فلم یا انٹرنیٹ پر ضائع کر دیتے ہیں۔ اس کی ایک اہم وجہ زندگی میں مقصد نہ ہونا ہے۔ زندگی کا بامعنی اور بامقصد ہونا ضروری ہے ۔ جتنا وقت ملے اپنے مقصد کے حصول کی کوشش کرنی چاہیے۔ چاہے چھوٹا ہو یا بڑا اپنی زندگی کا کوئی مثبت مقصد بنائیں اور اسے پانے کے جتن کریں۔ اس سے خوشی اور روحانی سکون بھی ملے گا اور دوسروں کا بھلا بھی ہو گا۔

محمد اقبال

کامیاب افراد صبح 4 بجے کیوں اٹھتے ہیں؟

صبح سورج طلوع ہونے سے پہلے اٹھنا ہوسکتا ہے بیشتر افراد کو ناممکن کام لگتا ہو مگر بڑی تعداد میں کامیاب کاروباری افراد اور لیڈروں کا ماننا ہے کہ علی الصبح 4 بجے بستر سے نکل آنا ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ یہ بات ایک نئی رپورٹ میں سامنے آئی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق صبح بہت جلد اٹھنا کسی فرد کی ذہنی وہ جسمانی کارکردگی میں اضافے کا باعث بنتا ہے کیونکہ اس وقت مداخلت کا امکان نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ یعنی اس وقت لوگ سوشل میڈیا کو نہیں دیکھتے جبکہ اتنی صبح ایس ایم ایس یا میسجنگ وغیرہ کے لیے بھی کوئی فرد دستیاب نہیں ہوتا۔

رپورٹ کے مطابق اس وقت کو کام سے ہٹ کر سرگرمیوں جیسے ورزش، ذاتی نگہداشت، ذاتی نشوونما، روحانی نشوونما اور خاندان کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ہمارا جسم دن کے آغاز میں زیادہ متحرک ہوتا ہے، جبکہ ذہن بھی علی الصبھ زیادہ الرٹ ہوتا ہے جس کے باعث ذہنی و جسمانی کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ ایپل کے سی ای او او ٹم کک سمیت اس وقت متعدد کامیاب ترین افراد صبح چار بجے اٹھنے کو اپنی کامیابی کی ایک وجہ قرار دیتے ہیں۔

خیال رہے کہ 1400 سال قبل اسلامی تعلیمات میں بھی صبح جلد اٹھنے کی تاکید کی گئی تھی۔ اب سائنس نے بھی اس کی تصدیق کی ہے تاہم صبح جلد اٹھنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو رات کو جلد سونا ہے۔ اس لیے رات کو دوستوں سے ملنے یا دیگر مشاغل کا وقت کم ہوتا ہے تاہم زندگی میں کامیابی کے لیے اتنی قربانی تو دینی پڑتی ہے۔

حقیقی خوشی دولت سے نہیں ملتی : نئی تحقیق

ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ آمدن دگنی ہونے کی نسبت اچھی صحت اور اچھا شریکِ زندگی لوگوں کی زندگیوں کو زیادہ خوش و خرم بناتا ہے۔ لندن سکول آف اکنامکس کی اس تحقیق میں دو لاکھ لوگوں کی زندگیوں پر مرتب ہونے والے مختلف حالات کا جائزہ لیا گیا۔ اس سے پتہ چلا کہ ڈپریشن یا بےچینی کی بیماری لوگوں کی خوشی پر سب سے زیادہ اثرانداز ہوتی ہے، جب اچھے شریکِ حیات کی وجہ سے سب سے زیادہ خوشی نصیب ہوتی ہے۔ تحقیق کے شریک منصف کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے ‘ریاست کا نیا کردار سامنے آتا ہے۔’ یہ تحقیق دنیا بھر میں کیے جانے والے رائے عامہ کے متعدد بین الاقوامی جائزوں پر مشتمل ہے۔

سائنس دانوں نے معلوم کیا کہ آمدن دگنی ہو جانے سے ایک سے لے کر دس تک کے پیمانے میں خوشی صرف 0.2 درجے کے قریب بلند ہوئی۔ تحقیق کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ اپنی آمدن کے خود پر پڑنے والے اثر کی بجائے دوسروں سے اپنی آمدن کے تقابل کا زیادہ احساس کرتے ہیں۔ تاہم اچھا شریکِ حیات مل جانے سے خوشی میں 0.6 درجے اضافہ ہو جاتا ہے، جب کہ شریکِ حیات کی موت یا علیحدگی سے اسی قدر کمی واقع ہوتی ہے۔ تاہم اس پیمانے پر سب سے زیادہ منفی اثر ڈپریشن اور بےچینی کی بیماری سے پڑتا ہے، جس سے خوشی 0.7 درجے گر جاتی ہے۔ اسی طرح بےروزگاری سے بھی اسی قدر کمی واقع ہوتی ہے۔

تحقیق کے شریک مصنف پروفیسر رچرڈ لیئرڈ نے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاست کو اپنے شہریوں کی خوشی میں نیا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے، اور وہ دولت پیدا کرنے سے زیادہ خوشی پیدا کرنے پر زور دے۔ انھوں نے کہا: ‘شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ جو چیزیں ہماری خوشی اور دکھ میں سب سے زیادہ کردار ادا کرتی ہیں وہ ہمارے سماجی تعلقات اور ہماری ذہنی اور جسمانی صحت ہیں۔

‘ماضی میں ریاست غربت، بےروزگاری، تعلیم اور جسمانی صحت جیسے مسائل کے خلاف جنگ لڑتی رہی ہے۔ لیکن گھریلو تشدد، کثرتِ شراب نوشی، ڈپریشن اور بےچینی، امتحانوں کا دباؤ، وغیرہ بھی اتنے ہی اہم ہیں۔ انھیں مرکزی اہمیت دینے کی ضرورت ہے۔’

مفید ترین شخصیت کیسے بنا جا سکتا ہے؟….

جس کمپنی یا ادارے میں آپ کام کر رہے ہیں، اس میں ترقی کی طرف بڑھنا آپ کا حق ہے۔ لیکن ترقی حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہ بیٹھے رہیں۔ بلند سے بلند تر مقام حاصل کرنے کے لیے بنیادی شرط ’’مسلسل جدوجہد‘‘ ہے۔ یہ جدوجہد ایسی ہونی چاہیے کہ جس سے یہ ظاہر ہو کہ آپ متعلقہ ادارے کے خیرخواہ ہیں۔ اس کی ترقی کے لیے کوشاں ہیں۔ اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو ادارے میں آپ کی حیثیت پہیے کے دندانوں جیسی رہے گی۔اگر آپ ترقی کے خواہش مند ہیں تو اس کے لیے سب سے مفید اور بنیادی کلیہ یہ ہے۔

-1پہلے سوچییے! -2پھر اسے لکھ لیجیے! -3 اور پھر اس پر عمل کیجیے! عمل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ اس مفید آئیڈیے کو مفید سمجھتے ہیں تو اس کا اظہار اپنے مالک سے کر دیجیے۔ ڈاکٹر ولیم۔ ایم۔ سکال نے کہا تھا:’’اگر آپ کو کوئی مفید خیال سوجھتا ہے تو اس پر فوراً عمل کیجیے یا اپنے مالک کو بتا دیجیے۔ اگر آپ مناسب موقعے یا وقت کا انتظار کرتے رہیں گے تو یہ مناسب وقت کبھی نہیں آنے والا۔ پھر پچھتانا احمقانہ بات ہو گی۔‘‘ اپنے خیال کو کسی دوسرے وقت پر نہ ٹالیے۔

ایسا کرکے آپ سنہرے موقعے کو ضائع کرتے ہیں۔ جو لمحہ آپ کے ہاتھ میں ہے اس سے فائدہ اٹھایئے۔ اپنے خیال یا تجویز یا مشورے کو مت چھپایئے۔ آپ کا یہ رویہ آپ کو بہت نقصان پہنچا سکتا ہے۔اس خوف کو دل سے نکال دیجیے کہ آپ کی تجویز یا مشورہ آپ کو ندامت سے دوچار کر سکتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ سننے والا اسے ناقابل عمل کہہ دے۔ اس سے دل برداشتہ ہو جانا اپنے آپ کو ’’شکست خوردہ‘‘ ثابت کرنا ہے۔ ہمت نہ ہاریئے اور اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہیے۔ کوشش کریں کہ آپ کے پاس زیادہ سے زیادہ مفید تجاویز ہوں۔ اپنے آپ کو ’’مفید ترین شخصیت‘‘ بنائیے۔ اس میں آپ کی جیت ہے۔ صرف اسی طریقے سے آپ جلد از جلد امیر ترین بن سکتے ہیں۔

 (ایم- آر- کوپ میئر کی تصنیف سے مقتبس)

انٹرنیٹ پر وقت ضائع کرنے کے 7 بہترین طریقے…..

انٹرنیٹ کے لیے ہمارا جنون اب یونیورسٹیوں کا بھی حصہ بن چکا ہے اور پانچ جنوری سے امریکا کی پینسلوانیا یونیورسٹی میں دنیائے ویب پر وقت ضائع کرنے کی تعلیم کا سلسلہ شروع ہورہا ہے۔
اور یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ انٹرنیٹ پر وقت کا ضیاع اپنے عروج پر ہے اور دنیا بھر میں ایک تہائی صارفین روزانہ کم از کم دو گھنٹے ضائع کرنا زیادہ پسند کرتے ہیں خاص طور پر سوشل میڈیا سائٹس تو اس حوالے سے بدنام یا نیک نام ہیں۔
تو اگر اس طرح وقت ضائع کرنا اعلیٰ تعلیم یافتہ بنانے کا باعث بن سکتا ہے تو ہم نے آپ کے لیے انٹرنیٹ کی دنیا پر وقت ضائع کرنے والے سب سے بہترین طریقے ڈھونڈ نکالیں ہیں جن کو اپنانے کی صورت میں آپ کبھی بھی کمیونیکشن کے ذریعے کو پیداواری مقصد کے لیے استعمال نہیں کرسکیں گے۔
گوگل پر گیمز کھیلنا
جی ہاں آپ چاہے تو اس سرچ انجن کے پیج کو بند کیے بغیر اپنی زندگی کے متعدد گھنٹوں کو ضائع کرسکتے ہیں۔
گوگل کے سرچ بار پر کچھ خاص الفاظ اگر ٹائپ کیے جائیں تو وہ آپ کو ایسے مختلف پرمزاح چیزیں سامنے آتی ہیں کہ صارف ان میں کھو کر رہ جاتا ہے، مثال کے طور پر سرچ بار پر “do a barrel roll” ٹائپ کرکے انٹر کریں اور پھر دیکھیں کیسے آپ کی اسکرین 360 ڈگری پر گھومتی ہے یا اسکرین کو کچھ ٹیڑھا کرنا ہو تو “tilt” لکھ کر دیکھیں اور ایسے الفاظ کی کوئی کمی نہیں۔
فیس بک پوسٹس کو لائکس کرنا
یہ وہ سرگرمی ہے جو دوبدو بات چیت کا متبادل بن چکی ہے۔ کوئی بھی پیغام ہو فیس بک کا اوپر اٹھا انگوٹھا موجودہ عہد میں دوستی کا نشان بن چکا ہے۔
تو پھر کوئی کیوں فون اٹھانے کی زحمت کرکے کسی سے بات چیت کرنے کی مشقت اٹھائے جب آپ اپنا مدعا کسی دوست کی پروفائل تصویر کو لائک کرکے ہی بیان کرسکتے ہیں؟
اب چاہے آپ کسی شخص کو پسند نہ بھی کرتے ہو مگر آپ اس کی فیس بک پروفائل کی گہرائی میں جائیں گے تو ہوسکتا ہے کہ وہ آپ کا پسندیدہ ترین شخص بن جائیں (مگر اس کی ضمانت نہیں دی جاسکتی)۔
سوشل میڈیا پر بے مقصد گھومنا
رات گئے اس سے زیادہ وقت ضائع کرنے والی سرگرمی کوئی نہیں ہوسکتی کہ آپ ٹوئیٹر، فیس بک، انسٹا گرام یا ایسی ہی ویب سائٹس پر چلے جائیں اور دیکھیں آپ کے دوست یا فالورز کیا کچھ کررہے ہیں۔
وہاں آپ کو ایسی چیزیں معلوم ہوگی جو آپ جاتنے بھی نہیں ہوگے یا جاننا چاہتے ہوگے۔
اب وہ معروف شخصیات کے درمیان چل رہی زبانی جنگ ہو، پیارے پیارے جانوروں کی لاتعداد تصاویر یا اپنے دوستوں کی مضحکہ خیز سیلیفز سب کچھ ملے گا۔
مگر مسئلہ بس یہ ہے کہ ایک بار جب آپ اس کام میں لگ جائیں گے تو اس بے مقصد مٹرگشت کا کوئی بامقصد اختتام کبھی نہیں ہوگا۔
گوگل ارتھ اور اسٹریٹ ویو
اگر آپ اپنے دوستوں کے گھروں کو برڈ آئی ویو سے دیکھیں تو وہ کبھی پرانا نہیں ہوگا۔ حال ہی میں اسٹریٹ ویو میں چوروں کو پکڑنے کا فیچر بھی شامل کرلیا ہے اور دنیا بھر میں لوگ ہزاروں میل دور بھی ایسا بہت کچھ دیکھ سکتے ہیں جو وہ اپنے پڑوس کے گھر میں نہیں دیکھ سکتے۔
یوٹیوب پر جانوروں کی ویڈیوز دیکھنا
مکڑی بن کر دہشت پھیلانے والے کتے سے لے کر نیویارک میں بلیوں لی کڑائیوں تک یوٹیوب پر لاتعداد بے مقصد وڈیوز مفت دستیاب ہیں۔
اور ان میں جو چیز مشترک ہے وہ یہ کہ ان میں اسٹار کردار بلیوں کا ہوتا ہے جو چیزوں پر اچھل رہی ہوتی ہیں، کہیں گر رہی ہوتی ہیں، ناراض نظر آتی ہیں اور بھی بہت کچھ۔
اگر آپ ان میں مگن ہوجائے تو پتا بھی نہیں چلے گا کہ کب دوپہر گزر گئی اور رات سر پر آکھڑی ہوئی اور آخر میں یہ بھی جان لیں ان میں سے بیشتر مقبول ترین وڈیوز درحقیقت وڈیوز ہوتی ہی نہیں بلکہ وہ بہت اچھی شکل میں کی جی آئی ایف تصاویر ہوتی ہیں۔
وقت ضائع کرنے والی گیمز
فیس بک سے لے کر ہر جگہ آپ کے سامنے گیمز کی بھرمار ہوگی جو مفت کھیلنے کی پیشکش کررہی ہوگی۔
اور اگر آپ نے کسی بھی ایک میں جانے کی ہمت پکڑ لی تو پھر ایسا چسکا لگے گا کہ دنیا کے تمام کام ایک طرف رہ جائیں گے اور آپ کھیلتے چلے جائیں گے۔
بلکہ اب تو ایک ویب سائٹ خاص طور پر ایسے گیمز تیار کررہی ہیں جو ظاہری طور پر ایکسل یا ورڈ دستاویزات کا دھوکہ دیتی ہیں اور ان کو کھیلتے ہوئے لوگوں کو ایسا ہی لگتا ہے کہ آپ پوری محنت سے کام کررہے ہیں۔
بے مقصد مضامین پڑھنا
اور اب یہاں تک اگر آپ پہنچ گئے ہیں تو آپ کو اس جملے کی اہمیت کا احساس واقعی ہوگیا ہوگا۔
فیصل ظفر