مغلیہ دور کا شاہکار : 99 گنبدوں والی شاہجہاں مسجد

یہ ایک عظیم الشان مسجد ہے جو ہنوز زیر استعمال ہے اور یہ شہر ٹھٹھہ میں ہے مقامی تواریخ کے مطابق یہ شہنشاہ شاہجہان کا ایک تحفہ تھا جو اس نے شہر کی مہمان نوازی کے اعتراف کے طور پر دیا جب وہ اپنے والد سے باغی ہو کر کچھ عرصہ یہاں پناہ گزین رہا تھا یہ 1644ء میں شروع ہوئی اور 1647ء میں مکمل ہوئی لیکن اس کی فرش بندی گیارہ سال بعد تک ہوتی رہی اس پر 9 لاکھ روپے لاگت آئی یہ ایک کاروان سرائے کی شکل میں بنی ہے ایک بڑا صحن ہے جس کے اردگرد 90 گنبد ہیں کمروں کی غلام گردش ہے جبکہ ایک طرف کے وسط میں اصل مسجد ہے اور اس کے مقابل اس کا مثنیٰ ہے یہ 190X315 ہے اور 6316 مربع گز زمین گھیرے ہوئے ہے بیرونی حصہ بالکل سادہ اور سفید ہے جبکہ پورا اندرونی حصہ زمین سطح سے بلند ترین گنبد کے مرکز تک رنگین ٹائیلوں سے بنا ہوا ہے جن میں نہایت حیرت انگیز تنوع کے خوبصورت نمونے کنندہ ہیں۔

پہلوئوں کے چھوٹے چھوٹے گنبد ایسے نمونوں سے لائے ہوئے نہیں ہیں لیکن شروع میں وہ بھی ایسے ہی تھے یہ عمارت بہت بری طرح مرمت طلب تھی جب سربارٹل فریدے نے 1855ء میں چندہ جمع کر کے اسے بچا لیا جس میں حکومت نے بھی 5 ہزار روپے دیے تھے۔ 1894ء میں اس طرح ساڑھے 20 ہزار روپے جمع کیے گئے اور ہالہ اور ملتان میں بنی ہوئی ٹائیلوں سے دیواروں کے عریاں چہروں کو بحال کیا گیا۔ نیا کام پرانے کے معیار کا تو نہیں ہے لیکن خوش قسمتی سے دیواروں کے زیریں حصوں پر ہی زیادہ کام کی ضرورت تھی جہاں نمونے نسبتاً سادہ ہوتے ہیں اوپر کی طرف نمونے مربع یا چھ طرفی ٹائیلوں پر کنندہ نہیں کیے گئے جیسا کہ مکلی پہاڑیوں کے مقابر پر ہیں بلکہ ان پر مختلف رنگوں اور شکلوں کی باریک ٹائیلوں کے ساتھ پچی کاری کی گئی ہے۔

شیخ نوید اسلم

Advertisements