پاکستان میری ٹائم میوزیم

پاکستان میری ٹائم میوزیم کا افتتاح 27مارچ 1997ء کو کیا گیا تھا۔ اسے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، اس کے احاطے میں انتظامیہ کے دفاتر کے ساتھ ساتھ مختلف گیلریاں بنائی گئی ہیں۔ گیلریوں کے فرش ، دیواروں اور ستونوں پر شیشم کی لکڑی سے کام کیا گیا ہے۔’’ میرین ہسٹری گیلری‘‘ میں محمد بن قاسم کا مجسمہ بنا کر اس پر لوہے کی زنجیروں سے بنی ہوئی زرہ بکتر پہنائی گئی ہے قریبی بنے ہوئے شیشے کے شیلف میں ڈھال رکھی ہوئی ہے، یہ دونوں قیمتی تاریخی اشیاء اور ماڑی کی بندرگاہ کی کھدائی کے دوران ملی تھیں۔ ان کی ساخت کو دیکھتے ہوئے قیاس کیا جاتا ہے کہ یہ دونوں قیمتی اشیاء محمد بن قاسم کے دور کی ہیں۔

گیلری میں موہنجوداڑو کے تجارتی راستوں، محمد بن قاسم کی فوج کے دیبل پر حملے ، مسلمانوں کے قدیم بحری سازو سامان اور نقشوں کی پینٹنگز آویزاں کی گئی ہیں ۔’’نیول گیلری‘‘ میں 1965ء کی جنگ کے دوران بحریہ کی کامیابیوں کی عکاسی کی گئی ہے۔ یہاں بحریہ کے سازو سامان کا ڈسپلے کیا گیا ہے ۔ ’’دوار کا آپریشن پورٹس اینڈ ہاربر گیلری ‘‘میں پاکستان کی مختلف بندرگاہوں اور منوڑہ فورٹ قاسم کی پینٹنگز آویزاں کی گئی ہیں۔ کراچی کی بندرگاہ کا ماڈل بھی بنایا گیا ہے۔ ایک گیلری میں لکڑی کی پرانی طرز کی بنی ہوئی بارودی سرنگ کے خول میں کمپیوٹر ٹچ سسٹم کے ذریعہ پاک بحریہ اور میوزیم کے اوپن ایریا میں رکھی گئی چیزیں دکھائی جاتی ہیں۔ جن بچوں کو کمپیوٹر استعمال کرنا نہیں آتا وہ کمپیوٹر کی اسکرین پر انگلی رکھیں تو پوری اسکرین پر میوزیم کے کھلے علاقے میں رکھی گئی اشیاء کی فہرست آ جاتی ہے ۔

اس فہرست میں جو چیز دیکھنا چاہیں اس پر انگلی رکھنے سے اسکرین پر وہی چیز سامنے آ جاتی ہے۔ دوسرے کمپیوٹر سے نیوی کی تاریخ کے بارے میں معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔ ایک لابی میں وہ ڈنر سیٹ بھی محفوظ کیا گیا ہے جس میں حضرت قائد اعظمؒ کو پاک بحریہ کے پہلے دور کے موقع پر کھانا پیش کیا گیا تھا، دوسرے منزل کے داخلی راستے کے دائیں جانب دیوار میں ’’ شہدا آف پاکستان نیوی‘‘ کے عنوان سے ان تمام شہدا کے نام دیئے گئے ہیں جنہوں نے وطن عزیز کے دفاع کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ ’’ نیول چیف گیلری ‘‘ میں بحریہ کے تمام ریٹائر ہونے والے سربراہوں کے پورٹریٹ ، یونیفام اور زیر استعمال اشیاء محفوظ کر کے رکھی گئی ہیں ۔’’میرسن لائف گیلری ‘‘ فائبر سے بنائی گئی ہے، اس وسیع گیلری میں زیر آب دنیا کے مختلف حسین قدرتی مناظر دکھائے گئے ہیں۔

پہلی منزل پر ’’ بوٹ گیلری‘‘ میں ایک قدیمی نامکمل کشتی رکھی گئی ہے۔ عمارت میں ساٹھ سیٹوں پر مشتمل ایک ائیرکنڈیشنڈ آڈٹیوریم بھی بنایا گیا ہے جہاں سرکاری وفود کو بریفنگ دینے کے علاوہ دستاویزی فلموں کی نمائش بھی کی جاتی ہے۔ عمارت میں موجود لابرئیری میں تقریباً ایک ہزار کتب کا ذخیرہ موجود ہے۔ پاکستان میری ٹائم میوزیم ’’ تقریباً 22ایکڑ رقبے پر قائم کیا گیا ہے۔ میوزیم کے داخلی گیٹ کے بالکل سامنے ایک آہنی مچھلی کا ماڈل بنایا گیا ہے۔ اس کے احاطے میں ایک بڑی جھیل بنا کر یہاں سمندری ماحول بنانے کی کوشش کی گئی ہے بارش کا پانی جھیل میں جانے سے روکنے کے لیے جھیل کے کنارے پتھروں کی دیوار بنائی گئی ہے اس جھیل میں ایک مائن سوئیپر اور ایک مچڈ ( چھوٹی آبدوز) رکھی ہوئی ہے۔

مائن سوئیپر کا نچلا حصہ لکڑی کا ہے یہ بحری جہاز سمندر میں دشمن کی جانب سے بچھائی جانے والی بارودی سرنگیں صاف کرنے کا کام کرتا ہے۔ میوزیم میں اس لائٹ ہاؤس کا ایک ماڈل بنایا گیا ہے جس میں اوپر جانے کے لیے زینہ موجود ہے لائٹ ہاوس سے میوزیم کا دلکش نظارہ کیا جا سکتا ہے ان پر کشش اہم چیزوں کے علاوہ کھلے علاقے میں پی این ایس ہاربر کا پرانا ماڈل بوفرگسن ، مارک 7 اے ( توپ) ڈیتھ چارج 5-38 انچ مارک 38 ( توپ) 21 انچ تار پیڈو مارک 20 ایم ایم گن ، میزائل لانچر ، مارٹر مارک 10 سکوڈ ماونٹنگ ، سمیت معلوم کرنے کا آلہ کمانڈ اینڈ کنٹرول کنسول، سمت معلوم کرنے کی کیبنٹ ، ٹارگٹ ایکوریشن یونٹ     ( ریڈار کا حصہ) مارک 4556 انچ ، رینچ فانڈر ، شنگین ، ویبلے ریوالور مارک 6 کولٹ 38، رلوایور نمبر 2 مارک اور ریوالور ، 32 انچ دھانے کا ریوالور وغیرہ موجود ہیں یہاں پاک بحریہ کی وہ میت گاڑی بھی رکھی گئی ہے جس میں حضرت قائد اعظم محمد علی جناحؒ کا جنازہ گورنر ہاؤس کراچی سے قائد کی آخری آرام گاہ تک لے جایا گیا۔ بعد میں لیاقت علی خانؒ اور دیگر اکابرین کی میتیں لے جانے کے لیے بھی یہی میت گاڑی استعمال کی گئی ۔

شیخ نوید اسلم

(کتاب’’پاکستان کے آثارِ قدیمہ‘‘سے منقبس)

عافیہ صدیقی کی رہائی ایک ’خط‘ کی دوری پر

امریکا میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی اور وطن واپسی کی جو ایک آسان راہ دکھائی دے رہی ہے اس کی مدت نہایت کم بچی ہے لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ ایوان بالا میں روایتی خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی محض ایک ’خط‘ کی محتاج ہے جو صدر مملکت یا وزیراعظم پاکستان کی جانب سے امریکی حکومت کو لکھا جائے گا۔ واضح رہے کہ مارچ 2016 میں عافیہ کے امریکی اٹارنی اسٹیفن ڈاؤنز سے امریکی انتظامیہ نے رابطہ کرکے کہا تھا کہ صدر بارک اوباما اپنی دوسری صدارتی مدت مکمل کرنے سے قبل قیدیوں کی سزائیں معاف کرکے رہائی دیں گے لیکن چونکہ ڈاکٹر عافیہ پاکستان شہری ہیں اس لیے ان کی رہائی کے لیے صدر مملکت یا وزیراعظم پاکستان کا ایک خط لازمی طور پر درکار ہوگا۔

چونکہ بارک اوباما کی صدارتی مدت 20 جنوری 2017 کو مکمل ہورہی ہے اس لیے صائب ہوگا کہ حکومت پاکستان اس معاملے کو نمٹاتے ہوئے ایک خط لکھنے کی ’زحمت‘ گوارا کر ہی لے تاکہ قوم کی بیٹی کو وطن واپس لایا جاسکے۔ عافیہ وہ مظلوم پاکستانی شہری ہے جسے اس کے تین معصوم بچوں سمیت کراچی سے اغوا کرکے امریکیوں کے حوالے کیا گیا تھا، عافیہ صدیقی کو ایک امریکی عدالت نے 86 برس کی سزا سنائی، دوران اسیری ان سے متعلق افسوسناک خبریں میڈیا کی زینت بنیں، بعض ماہرین قانون نے اسے انصاف کا قتل قرار دیا تھا۔ عافیہ صدیقی کے خلاف مقدمہ پر صرف پاکستانی ہی نہیں بلکہ کئی امریکی اور یورپی صحافیوں نے بھی خامہ فرسائی کی ہے جس میں برطانوی نومسلم صحافی اور مصنف ایوان رڈلی نے غیر معمولی تجزیاتی رپورٹس لکھیں۔ ایوان رڈلی کا کہنا ہے کہ عافیہ کیس میں امریکا سے زیادہ پاکستان کا کردار اہم ہے۔

ان کی تحقیقات کے مطابق بھی امریکی عافیہ کو پاکستان کی تحویل میں دینے پر راضی ہیں۔ عافیہ کی بے گناہی اور معصومیت کی ساری دنیا قائل ہو چکی ہے اور اب جب کہ امریکی انتظامیہ نے عافیہ کی رہائی کے لیے خود رابطہ کیا ہے بلکہ خط تحریر کرنے کی رہنمائی بھی دی ہے تو حکمرانوں کو وقت ضایع نہیں کرنا چاہیے۔ وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف نے بھی عافیہ کی والدہ عصمت صدیقی سے 2013 میں برسر اقتدار آنے کے فوراً بعد عافیہ کو 100 دن میں وطن واپس لانے کا وعدہ کیا تھا۔ اس وعدے کے ایفا کا وقت آچکا ہے۔ حکمرانوں کے ایک خط سے قوم کی معصوم بیٹی کی 14 سالہ اذیت ناک قید کا خاتمہ اور جلد وطن واپسی ممکن ہوسکتی ہے۔

اداریہ ایکسپریس نیوز

سانحہ 12 مئی پاکستان کی تاریخ کا سیاہ باب

 

منوڑہ : کراچی کا پُرامن ترین علاقہ

سمندروں میں بحری جہازوں کی رہنمائی کے لیے کئی ایک طریقے استعمال کیے جاتے ہیں، جن میں سے کئی طریقے تو صدیوں سے رائج ہیں، ان طریقوں میں سے ایک طریقہ روشنی کے ذریعے بحری جہازوں کی رہنمائی کا بھی ہے۔ اہم سمندری راستوں اور بندرگاہوں پر ’’لائٹ ہاؤسز‘‘ کی تعمیر کا سلسلہ بھی بہت پرانا ہے، جہاں سے نکلنے والی روشنی کی شعاعوں سے بحری جہاز کو اپنے راستے پر چلنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی۔ ’’لائٹ ہاؤسز‘‘ کی تعمیر کا مقصد بحری جہازوں کو راستے کی رکاوٹوں سے آگاہ کرنا بھی ہوتا ہے۔ پاکستان کی سب سے بڑی بندرگاہ کراچی میں ہر وقت بحری جہازوں کی آمدروفت کا سلسلہ جاری رہتا ہے، جن کی رہنمائی کے لیے منوڑہ میں ایک بہت بڑا لائٹ ہاؤس موجود ہے۔

یوں تو کراچی کو بندرگاہ کے طور پر اٹھارویں صدی میں ہی استعمال کرنا شروع کر دیا گیا تھا، لیکن تب یہاں آنے جانے والوں کو بے تحاشا مشکلات کا سامان کرنا پڑتا تھا آج کی کراچی کی بندرگاہ کی ابتدائی تعمیر کا سہرا ایک انگریز انجینئر جیمز واکر کے سر ہے۔ 1889ء میں منوڑہ میں بحری جہازوں کی رہنمائی کے لیے لائٹ ہاؤس بھی تعمیر کر دیا گیا اور جب 1909ء میں اس لائٹ ہاؤس کو نئی روشنیوں سے آراستہ کیا گیا، تو اسے دنیا کے سب سے طاقتور لائٹ ہائوس ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہوگیا ۔اس وقت تک کراچی، برصغیر کی تین سب سے زیادہ معروف بندرگاہوں سے ایک تھی۔ اس کی اہمیت کے پیش نظر پہلی جنگ عظیم کے دوران اس کے اردگرد کچھ معرکوں سے لائٹ ہاؤس کو بہت نقصان پہنچا، جس کی بعد میں مرمت کی گئی۔ پتھروں سے تعمیر کردہ یہ لائٹ ہاؤس طاقتور لینرز سے لیس ہے، جن کے ذریعے نکلنے والی شعاعیں 14 لاکھ موم بیتوں کی روشنی کے برابر ہوتی ہیں۔ اس کے کام کرنے کا طریقہ بہت آسان ہے اور اس کی دیکھ بھال بھی مشکل نہیں۔

یہ لائٹ ہاؤس بہت جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ ہے اور یہاں جدید آلات نصب ہیں۔ یہاں 1871ء میں بہت سے خوبصورت گھر بھی تعمیر کیے گئے تھے،جن میں بیشتر اس وقت بہت بری حالت میں ہیں۔ ان کی کھڑکیاں اور دروازے ٹوٹ چکے ہیں اور ان سے میں سے بیشتر عمارتوں کے صرف ڈھانچے ہی باقی رہ گئے ہیں البتہ اب ایک کمپنی ڈی سی ہاؤس اور پائلٹ ہاؤس ان کی بحالی کا کام کر رہی ہے۔ منوڑہ میں واقع تاریخی عمارتوں کی بحالی کا کام کرنے والی کمپنی ابتدائی طور پر یہاں واقع 21 تاریخی مکانوں کی حالت بہتر بنانے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔ ان عمارتوں کی بحالی کے بعد انہیں یہاں آنے والے سیاحوں کے لیے ٹورسٹ ہاؤسز کے طور پر استعمال کیا جائے گا ،اس منصوبے میں کمپنی کو کراچی پورٹ ٹرسٹ کا تعاون بھی حاصل ہے۔ منوڑہ کو ایک دلکش تفریحی مقام میں تبدیل کرنے کا کام ایک مغربی خاتون ’’جسیسی برنز‘‘ کی نگرانی میں کیا جائے گا، جو خود بھی ایک نیول آفیسر کی بیٹی ہیں۔ منوڑہ سے برنز کی کچھ دلکش یادیں وابستہ ہیں۔

بہت عرصہ پہلے وہ منوڑہ رچکی ہیں۔ ایک طویل عرصے کے بعد جب انہیں دوبارہ منوڑہ جانے کا موقعہ ملا تو انہیں یہ دیکھ کر بہت حیرانی ہوئی کہ منوڑہ کا نقشہ ہی بدل چکا تھا اور وہ عمارتیں جو کبھی اپنا ثانی نہیں رکھتی تھیں ،اب ان میں سے بیشتر کھنڈرات کا ڈھیر بن چکی ہیں۔ برنز نے بہت سوچ بچار کے بعد یہاں کی تاریخی عمارتوں کی بحالی کے کام کا بیڑا اٹھایا اور اب وہ اس کام میں مصروف ہیں۔ برنز کا خیال ہے کہ ایسے تاریخی پس منظر کی وجہ سے یہ مقام بہت اہمیت کا حامل ہے ۔ اس کام میں برنز کو کراچی پورٹ ٹرسٹ، پاکستان نیوی اور کئی دوسرے پاکستانی اداروں کے علاوہ غیر ملکی اداروں کا تعاون بھی حاصل ہے۔

شیخ نوید اسلم

 (بحوالہ ’’پاکستان کی سیر گاہیں‘‘ )

شاہ تراب الحق

شاہ تراب الحق حیدرآباد دکن کے شہر ناند ھیڑ کے مضافاتی علاقے کلمبر میں اپنے وقت کے معروف عالم دین سید شاہ حسین قادری کے ہاں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم جامعہ نظامیہ حیدرآباد دکن میں حاصل کی۔ سقوط حیدر آباد کے بعد وہ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ پاکستان آگئے اور کراچی میں مستقل سکونت اختیار کی اور ’’دارالعلوم امجدیہ‘‘ سے دینی علوم سے بہرہ ور ہوئے۔ دینی تعلیم مکمل کرنے کے بعد مختلف مساجد میں خطیب کے فرائض انجام دیئے اور آخری وقت تک ’’میمن مسجد‘‘ مصلح الدین گارڈن سابقہ کھوڑی گارڈن کے خطیب رہے۔

جمہوریت کی لانڈری

ایک معمولی پولیس اہلکار جس کے ہم کاتب تقدیر ہیں، جس کا دانہ پانی ہم جب چاہیں روک دیں اور جب چاہیں فراخ کر دیں، جس کی عزت و ذلت بھی ہمارے ہاتھ میں ہے، جب چاہیں اسے کامیاب پولیس آفیسر قرار دے کر میڈل سے نواز دیں اور جب چاہیں بددیانتی، ماورائے قتل یا کسی اور جرم کا الزام لگا کر اسے زمانے بھر میں بدنام کر دیں۔ پولیس آفیسر بھی اس شہر کا‘ جہاں بھتہ خوروں، بوری بند لاشوں کے ٹھیکیداروں، اغواء برائے تاوان کے مجرموں، مسخ شدہ لاشوں کے تحفے دینے والوں اور انسانوں کے جسموں میں ڈرل مشینوں سے سوراخ کر کے چنگیز خان اور ہلاکو کی وحشت و بربریت کی داستانیں رقم کرنے والوں کے خلاف جب آپریشن ہوا تو ایسے سب ’’معمولی‘‘ پولیس اہلکار جو اس آپریشن کو ایک فرض منصبی سمجھ کر شریک ہوئے تھے، انھیں ایک ایک کر کے چن چن کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا، عبرت کا نشان بنا دیا گیا۔

حالت یہ ہے کہ برطانیہ میں کراچی کا ایک پولیس آفیسر پناہ کی درخواست دیتا ہے تو برطانوی جج اپنے فیصلے میں لکھتا ہے کہ اسے پناہ اس لیے دی جا رہی ہے کہ کراچی میں اس کے ساتھی دو سو پولیس آفیسروں کو قتل کر دیا ہے اور اگر یہ پاکستان واپس چلا گیا تو اسے بھی قتل کر دیا جائے گا۔ ایسے شہر میں اس پولیس آفیسر کی یہ جرأت کہ جمہوری طور پر منتخب ایک ممبر صوبائی اسمبلی اور لیڈر آف اپوزیشن کو قتل اور گھیراؤ جلاؤ جیسے فوجداری جرائم کے تحت درج مقدموں میں گرفتار کرنے جائے، اس کو اس بات کا احساس تک نہیں یہ ایک ایسی شخصیت کا گھر ہے جسے ووٹ کی طاقت نے پاکبازی و معصومیت کا سرٹیفکیٹ عطا کر دیا ہے۔

اسے اندازہ نہیں اس نے خواجہ اظہار کو گرفتار نہیں کیا‘ جمہوریت کی عزت و حرمت پر ہاتھ ڈالا ہے۔ اس کی یہ جرأت، یہ ہمت جب کہ اس ملک میں ایک ایسی حکومت ہے جس نے پاکستان کی ساری بیوروکریسی اور ساری پولیس کو پرونواز اور اینٹی نواز میں تقسیم کرنے کا ’’شرف‘‘ حاصل کیا ہے۔ اس معمولی پولیس اہلکار کو جاننا چاہیے تھا کہ ساری بیوروکریسی اور ساری پولیس جمہوری نظام کی بقاء کے لیے کیا کچھ کر گزرتی ہے اور تب جا کر ان جمہوری حکمرانوں کی آنکھوں کا تارا بن جاتی ہے۔ اسے نہیں معلوم کیسے الیکشن کے دنوں میں یہ تمام افسران رائے ونڈ اور بلاول ہاؤس میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔

اپنے اپنے عظیم ’’جمہوری‘‘ رہنماؤں کو بہترین مشوروں سے نوازتے ہیں۔ بتاتے ہیں کہ ہم نے پولنگ اسکیم کیسے بنائی ہے کہ آپ ہی جیتیں گے‘ بتاتے ہیں کہ ہم نے ان کے مخالفین کے اہم ترین لوگوں کو کیسے مقدموں میں الجھا دیا ہے۔ ہم نے کیسے دباؤ ڈال کر جعلی کیس بنا کر کتنے لوگوں کو مجبور کیا ہے کہ وہ آپ کی حمایت کا اعلان کریں۔ ہم نے پولنگ اسٹیشنوں کے عملے کو انتہائی احتیاط سے تعینات کیا اور اب آپ بے فکر ہو جائیں، ہم موجود ہیں فیلڈ میں، کوئی ہم پر شک تھوڑا کرے گا کہ ہم میاں نواز شریف کے وفادار ہیں یا آصف علی زرداری کے۔ ہم پولیس اور انتظامیہ کے آفیسر ہیں، غیر جانبدار۔ جیتنے پر انعامات کی سب سے پہلی بارش انھی افسران پر ہوتی ہے۔

ایک منظور نظر کو جب پنجاب کا چیف سیکریٹری لگایا تو وہ بہت جونیئراور دیگر سیکریٹری سینئر تھے۔ جو نالاں رہتے تھے ایک دن اس نے سیکریٹری کمیٹی میں بے لاگ اور کھرا سچ بول دیا۔ اس نے کہا دیکھو میں نے پہلے دن اس بات کا اندازہ لگا لیا تھا کہ یہ نوکری اب سیاسی وفاداریوں کی نوکری بن چکی ہے۔ ضیاالحق کا دور تھا جب میں سروس میں آیا اور سب سے منظور نظر گھرانہ ماڈل ٹاؤن کا شریف گھرانہ تھا۔ میں نے ان کی چوکھٹ پر خود کو ’’سرنڈر‘‘ کیا اور آج تک ان کا وفادار ہوں۔ جب تک یہ ہیں میرا کوئی کچھ نہیں بگاڑسکتا۔ یہ نوکری عوام کی نہیں گھرانوں کی نوکری ہے۔

اس ’’معمولی‘‘ پولیس آفیسر کو اس بات کا احساس تک نہیں کہ جمہوریت کی بقا اور سسٹم کے تحفظ کے لیے کیا کچھ کرنا پڑتا ہے۔ اخلاق، ضمیر، قانون اور ذاتی غیرت کو بھی میٹھی نیند سلانا پڑتا ہے۔ جمہوری حکمران تمہیں میٹنگ میں بے نقط سنائے، عوام کے سامنے بے عزت و رسوا کرے، بے شک تم پولیس کے انسپکٹر جنرل ہو جاؤ، تمہارے چہرے پر شرعی داڑھی ہو، وہ تمہیں تحقیر کے ساتھ ’’دڑھیل‘‘ کہہ کر پکارے، تمہیں سب سننا پڑتا ہے۔ تمہیں سیاسی مخالفین کے خلاف جھوٹے کیس بنانا ہوتے ہیں۔ ان کے گھروں پر چھاپے مار کر ان کی بیٹیوں، بہنوں، بہوؤں اور ماؤں تک کو تھانے میں لا کر بٹھانا ہوتا ہے۔ تم سوچ بھی نہیں سکتے کہ کوئی ممبر اسمبلی قتل بھی کر سکتا ہے، یا کروا سکتا ہے۔ چوری کر بھی سکتا ہے یا چوروں کی سرپرستی بھی کر سکتا ہے۔ توبہ توبہ، ہزار بار توبہ۔ جس شخص کو یہ قوم منتخب کر کے اسمبلی میں بھیجتی ہے اس کے بارے میں ایسا سوچنا بھی تمہاری نوکری میں جرم ہے۔

یہ تو معصوم لوگ ہیں۔ اللہ کے بنائے معصوم تو پیغمبر ہوتے ہیں۔ لیکن پاکستان کی جمہوریت کے بنائے معصوم پارلیمانی نظام کے منتخب لوگ ہوتے ہیں۔ جمہوری نظام کے ستون، جن کے دست قدرت میں سارا نظام یرغمال ہے۔ اگر آپ کا وفادار نیب کا سربراہ ہے، ایف آئی اے کا ڈائریکٹر ہے، پولیس کا انسپکٹر جنرل ہے اور ایف بی آر کا چیئرمین ہے تو آپ پر لاکھ الزام لگے، پوری قوم کا بچہ بچہ جانتا ہو کہ آپ نے بددیانتی کی ہے، قتل کروائے ہیں، لوگوں کی جائیدادیں ہڑپ کی ہیں، آپ پاکستان کی کسی بھی عدالت میں سزا کے مستحق نہیں ہو سکتے۔

اس لیے کہ آپ کے خلاف مقدمے کے شواہد جج نے نہیں، نیب نے، پولیس نے، ایف آئی اے یا ایف بی آر نے جمع کروانے ہیں اور آپ نے کس خوبصورتی سے ان کو رائے ونڈ اور بلاول ہاؤس کی چوکھٹوں کا غلام بنا لیا ہے۔ جب ان عہدوں پر ایسے وفادار بیٹھے ہوں گے تو کون ان سیاستدانوں کو مجرم ثابت کرنے کے لیے ثبوت اکٹھا کرے گا۔ 1999ء تک یہ جمہوری لیڈران تھوڑے بے وقوف تھے۔ ایک دوسرے کے خلاف ثبوت اکٹھا کرتے تھے۔ اب یہ سب متحد ہو گئے ہیں۔ یہ کس کے خلاف متحد ہوئے ہیں اٹھارہ کروڑ عوام کے خلاف۔ کس ڈھٹائی سے کہا جاتا ہے تمہاری جرأت تم ایک رکن اسمبلی پر ہاتھ ڈالو جس پر قتل کا الزام ہے۔ ہاتھ ڈالنے کے لیے اٹھارہ کروڑ عوام جو موجود ہیں۔ جاؤ ان کے گھروں پر چھاپے مارو، جاؤ ان کی عورتوں کو اٹھا کر تھانے لاؤ، جاؤ ان کو ننگی گالیاں نکالو، جاؤ ان کو تھانے لے جا کر اتنا مارو کے ان کی چمڑی ادھڑ جائے، ان پر بے گناہ کیس بناؤ، تمہیں کوئی کچھ نہیں کہے گا۔

لیکن خبردار جمہوری طور پر منتخب شخص کی طرف آنکھ اٹھا کر مت دیکھنا اور دیکھو ہمیں قاتل، بددیانت، چور، بھتہ خور مت بولو، جب تک عدالت میں جرم ثابت نہ ہو جائے اور جرم تمہارا باپ بھی ثابت نہیں کر سکتا۔ تفتیش کرنے والے سب کے سب تو اپنی مٹھی میں ہیں، آدھے رائے ونڈ کی غلامی میں اور آدھے بلاول ہاؤس کی۔ کراچی والوں کا کیا ہے ان کو تو دو سو پولیس افسروں کی لاشیں ہی ڈرانے کے لیے کافی ہے اور جو ایسا پولیس آفیسر جرأت کرے اسے نشان عبرت بنا دو۔ اگر عدالت میں ثابت ہونے سے ہی کوئی شخص واقعی مجرم کہلاتا ہے تو کیا مسند اقتدار پر بیٹھے یا اپوزیشن کے عظیم جمہوری لیڈران اپنی بیٹیوں کا رشتہ جان بوجھ کر کسی ایسے لڑکے سے کریں گے جس کے بارے میں مشہور ہوکہ وہ قاتل ہے، بھتہ خور ہے، چوروں کا سرغنہ ہے، جوئے کا اڈہ چلاتا ہے، کئی بار خواتین کے ساتھ جنسی تشدد میں ملوث ہوا مگر ثبوت نہ ہونے پر صاف بچ نکلا۔ کیا یہ سیاست دان ایسے شخص کو اپنی شوگر مل، اسٹیل مل یا کسی دفتر میں ملازم رکھیں گے، حالانکہ اس کے خلاف کوئی جرم تو ثابت نہیں ہوا ہوتا۔ وہ بھی یہی کہتے پھرتے ہیں کہ ہم پر پولیس نے ناجائز کیس بنائے ہیں۔ لیکن تمہارا فیصلہ چونکہ جمہوری بنیاد پر نہیں بلکہ بہترین مفاد کے لیے ہوتا ہے اس لیے آپ بیٹی یا بیٹے کا رشتہ اور اپنا ملازم تک اس کی شہرت دیکھ کر رکھتے ہیں۔ عدالت کے فیصلے نہیں مانگتے۔

ان جمہوری لیڈران کو اگر اس بات کا اندازہ ہو جائے کہ ان کی شہرت کیا ہے اور اللہ اس پر انھیں شرمندہ ہونے کی توفیق عطا فرما دے تو شرم کے مارے سب کچھ چھوڑ کر جنگلوں کو بھاگ جائیں لیکن کیا کیا جائے جس ملک میں جرم دھونے کی سب سے بڑی لانڈری الیکشن ہو وہاں کبھی انصاف اپنی جڑیں نہیں پکڑ سکتا۔

اوریا مقبول جان

 

Preliminary report blames Awam Express driver for Multan train accident

Rescue workers pass a stretcher with an injured passenger out of the wreckage after two trains collided near Multan, Pakistan.