مسعود احمد برکاتی؛ میرے عظیم استاد کی چند ذاتی یادیں

استادِ محترم و مکرم سید مسعود احمد برکاتی سے میرا تعلق لگ بھگ تیرہ سال پر محیط ہے۔ فروری 1992 سے لے کر 16 فروری 2005 تک ایک طویل رفاقت ہے جو ماہ نامہ ہمدرد نونہال اور ماہ نامہ ہمدرد صحت کے حوالے سے یادوں کا ایک عظیم ذخیرہ رکھتی ہے۔ استاد گرامی سے میری پہلی ملاقات 1991 کے کسی مہینے ہوئی کہ جب میں ان کے پاس اپنی چند شائع شدہ تحریریں لے کر ہمدرد نونہال کے دفتر پہنچا۔ وہ اس وقت ہمدرد صحت ترتیب دے رہے تھے۔ مجھ سے مختصر سی ملاقات کی اور فرمایا کہ چند روز بعد آنا۔ تاہم، وہ چند روز، چند ماہ میں بدل گئے۔ اس زمانے میں موبائل فون تو ہوا نہیں کرتا تھا، جیسے تیسے لینڈ لائن پر بات ہوئی تو انہوں نے وقت دیا۔ دوسری ملاقات میں انہوں نے میری تحریروں والی فائل دیکھی جس میں کئی مؤقر روزناموں اور جرائد میں شائع شدہ میرے تراجم جمع تھے۔

برکاتی صاحب کےلیے سب سے اہم بات یہ تھی کہ میں نے چند برس استاد گرامی جناب سید قاسم محمود مرحوم کی زیر ادارت شائع ہونے والے ماہ نامہ سائنس میگزین میں بطور اسسٹنٹ ایڈیٹر گزارے ہیں۔ حکیم محمد سعید شہید اور مسعود احمد برکاتی، سید قاسم محمود کی بہت زیادہ عزت کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ شخص جن ہے، کیوں کہ اس نے وہ کام تن تنہا کیے ہیں جو ادارے کرتے ہیں۔ خیر، برکاتی صاحب نے مجھے دوبارہ آنے کو کہا۔ غالباً انہوں نے میرے جانے کے بعد سید صاحب (سید قاسم محمود مرحوم) کو فون کیا تھا تاکہ وہ میری بات کی توثیق کر سکیں، کیوں کہ ہمدرد میں ملازمت کے کچھ عرصے بعد میری ملاقات سید صاحب سے دورانِ سفر بس میں ہوئی تو انہوں نے مجھے بتایا کہ برکاتی صاحب کا فون آیا تھا، وہ تمہارے بارے میں پوچھ رہے تھے۔

برکاتی صاحب کا حکیم محمد سعید اور ہمدرد نونہال کے ساتھ سفر کا باقاعدہ آغاز 1952 میں ہوا جب حکیم صاحب مرحوم نے انہیں ماہ نامہ ہمدرد نونہال کی ادارت سنبھالنے کو کہا۔ ساتھ ہی ماہ نامہ ہمدرد صحت کے مدیر منتظم کی ذمے داریاں بھی دیں، جبکہ حکیم صاحب ہمدرد صحت کے مدیر اعلا تھے۔ اس سے قبل انہوں نے اپنے بڑے بھائی حکیم محمود برکاتی شہید کے ساتھ مل کر محنت مزدوری کی۔ بتاتے تھے کہ جب پاکستان آنے کے بعد ہم کراچی آئے تو ہمیں پتا چلا کہ حیدرآباد اسٹیشن کی تعمیر ہو رہی ہے اور وہاں مزدوروں کی ضرورت ہے۔ چنانچہ ہم دونوں مزدوری کرنے حیدر آباد چلے گئے۔ حیدرآباد اسٹیشن پر ہم دونوں بھائیوں کے ہاتھ کی لگائی گئی اینٹیں بھی ہیں۔ بعد میں ٹیوشن مل گئیں تو جسمانی مزدوری چھوڑ دی اور ذہنی مزدوری پر آگئے۔

ہمدرد سے تقریباً پینسٹھ سالہ پیشہ ورانہ رفاقت کے دوران انہوں نے بلا ناغہ ہمدرد نونہال کو اپنی معیاری تدوین کے ذریعے نسلوں کی ذہنی اور جسمانی نمو کا ذریعہ بنایا۔ مدیر کی حیثیت سے ان کا سب سے بڑا کمال یہ رہا کہ کتنے ہی نشیب و فراز آئے، ٹیکنالوجی بدلی، لیکن انہوں نے ہمدرد نونہال کے معیار اور بالخصوص مزاج پر حرف نہ آنے دیا۔ حکیم صاحب مرحوم کے بہ قول، برکاتی صاحب کا اس سے زیادہ کمال یہ ہے کہ انہوں نے ایک شمارے میں بھی ایسی بات نہیں لکھی جو ہمدرد نونہال کی ساکھ کو متاثر کرے اور اس کی اشاعت متاثر ہو۔ جو لوگ صحافت اور خاص کر ادارت سے تعلق رکھتے ہیں، وہ اس بات کی گہرائی کو محسوس کر سکتے ہیں۔

برکاتی صاحب کے ساتھ کام کرتے ہوئے ان کے کام اور مزاج کا خوب اندازہ ہوا۔ خاص طور پر جب مذکورہ بالا رسالے مرتب کرتے تو انتہائی یکسوئی اور توجہ سے کام کرتے۔ ایک رسالے کی ترتیب میں عموماً دو ڈھائی گھنٹے اور بعض اوقات چار پانچ گھنٹے لگا دیتے تھے۔ اس دوران کسی کو مخل ہونے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اتنا معیاری رسالہ پینسٹھ سال تک جاری رکھا بلکہ تحریروں کے معیار پر کبھی حرف نہ آنے دیا۔

تدوین کے مراحل میں پروف خوانی (پروف ریڈنگ) انتہائی مشکل کاموں میں سے ہے اور یہ کام مشاق اور تجربہ کار آدمی ہی کو کرنا چاہیے۔ برکاتی صاحب سے یہ فن بھی خوب سیکھنے کا موقع ملا۔ عموماً لوگ پروف خوانی مبتدین کے ذمے لگادیتے ہیں۔ یہ بڑی غلطی ہے۔ پروف خوانی کے حوالے سے برکاتی صاحب نے ایک واقعہ سنایا کہ ایک مرتبہ جب ان کی ملاقات علامہ سید سلیمان ندوی سے ہوئی تو ان سے باتوں باتوں میں تحریر کی پروف خوانی پر بات چل نکلی۔ برکاتی صاحب نے کہا کہ اس کا کوئی حل بتائیے کہ تحریر شائع ہونے کے بعد جو غلطیاں سامنے آتی ہیں، وہ تحریر کی اشاعت سے پہلے درست کر لی جائیں۔ علامہ ندویؒ نے فرمایا کہ جب آدمی پروف خوانی کرتا ہے تو بعض الفاظ پر شیطان اپنی انگلی رکھ دیتا ہے۔ گویا، کچھ بھی کر لو، چند غلطیاں تو اشاعت کے بعد ہی سامنے آتی ہیں۔

برکاتی صاحب کے ساتھ کام کر کے اندازہ ہوا کہ وہ ایک اچھے لکھاری اور بہترین مدیر ہونے کے علاوہ ایک کامیاب منتظم بھی تھے۔ تیرہ سے پندرہ افراد کے شعبے کو چلانا انہیں آتا تھا۔ تمام افراد کو ان کے مزاج کے مطابق چلاتے تھے۔ کام کے دوران اگر بہت زیادہ جلدی نہ ہو تو دھیمی رفتار سے کام کرتے تھے، کیوں کہ علمی کاموں کےلیے انتہائی یکسوئی اور صبر کی ضرورت ہے جو آج، بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ، مفقود ہے۔ کام کے دوران برسبیل تذکرہ، اپنی زندگی کے مختلف واقعات بھی بتاتے رہتے تھے جو میری پیشہ ورانہ زندگی میں بہت ہی کارآمد ہیں اور میرے لیے ایک اثاثہ بھی۔

دراصل، ہمدرد فاؤنڈیشن میں ہونے کی وجہ سے ان کی ملاقات دنیا کے بڑے ذہنوں سے ہوتی رہتی تھی اور وہ اپنی یادداشتیں اگرچہ تحریر تو نہ کر پائے، لیکن زبانی ذکر ضرور کرتے تھے۔ ہمدرد فاؤنڈیشن میں اُن کا رعب اور دبدبہ خوب تھا۔ کہتے تھے کہ میں اگر دفتر میں نہ ہوں، تب بھی سب کو دیکھتا رہتا ہوں۔ دوسری جانب کسی کی بہتر کارکردگی پر کچھ تعریف و تحسین بھی کرتے تھے۔ اول، انتہائی سینئر تھے اور دوم، سنجیدہ طبیعت کے مالک تھے، اس لیے عملہ ان سے دور ہی رہنے کی کوشش کرتا تھا۔ تاہم، بعض عوامل کے باعث میں چند امور پر ان سے نہ صرف اختلاف کیا کرتا تھا بلکہ ان سے ادب کے ساتھ اس اختلاف کا اظہار بھی کرتا تھا۔ چنانچہ آخری چند برسوں میں وہ مجھ سے کئی ادارتی، ادارہ جاتی اور ذاتی معاملات پر مشورہ بھی کرنے لگے تھے۔

ایک مرتبہ میں نے ایک تعلیمی ادارے میں داخلہ لے لیا اور برکاتی صاحب کو اپنا استعفا پیش کیا۔ نوجوانی کا جوش تھا اور کوئی گھریلو ذمے داریاں نہ تھیں، لہٰذا ایسا کرنے میں مجھے کوئی پس و پیش نہ تھا۔ برکاتی صاحب نے پوچھا، اپنی والدہ کو بتایا ہے کہ تم استعفا دے رہے ہو؟ میں نے کہا کہ نہیں۔ انہوں نے میری والدہ کو فون کر دیا اور مجھ سے اظہارِ ناراضی کیا کہ جب تک تمہاری والدہ مجھے نہیں کہیں گی، میں تمہارا استعفا قبول نہیں کروں گا۔ مزید تعلیم حاصل کرنی ہے تو یہیں رہتے ہوئے تمہارے پاس بہت موقع ہے۔

برکاتی صاحب کو دنیا بچوں کے ادب کے حوالے سے جانتی ہے۔ لیکن بہت کم لوگوں کو یہ پتا ہے کہ برکاتی صاحب کا نام اُردو تدوین اور انشا پردازی میں سب سے بلند ہے۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ اردو قواعد و انشا پر سب سے بڑی اتھارٹی ڈاکٹر رشید حسن خاں صاحب (شاہ جہاں پور، ہندستان) نے اپنی ایک کتاب ‘‘اُردو املا’’ کا انتساب ہی مسعود احمد برکاتی صاحب کے نام منسوب کیا۔ اس کے علاوہ میں نے اپنے دَورِ ہمدرد میں دیکھا کہ ڈاکٹر شان الحق حقی مرحوم جو اس زمانے میں آکسفورڈ کی مشہورِ زمانہ ڈکشنری کا انگریزی سے اُردو میں ترجمہ کر رہے تھے، جب وہ کسی لفظ کے ترجمے میں پھنس جاتے تھے تو برکاتی صاحب کے پاس آ جایا کرتے تھے اور ان سے اس مشکل لفظ کا ترجمہ پوچھتے تھے۔

برکاتی صاحب اور حقی صاحب کے درمیان اس دَور کی مجلسیں میرے لیے نہ صرف ناقابل فراموش یادیں ہیں بلکہ میرے پیشہ ورانہ علم اور تجربے میں نایاب اضافہ بھی۔ جب ترجمے کے کسی مسئلے پر حقی صاحب مرحوم پھنس جاتے تو برکاتی صاحب کے پاس آجاتے۔ برکاتی صاحب مجھے بلا لیتے، کیوں کہ پے در پے مختلف لغات کی ضرورت پڑتی تھی اور ادارتی عملے میں واحد نوجوان میں ہی تھا جو بھاری بھرکم لغات سے واقف بھی تھا اور انہیں اٹھا کر برکاتی صاحب کی میز تک پہنچا سکتا تھا۔ چنانچہ برکاتی صاحب کے کمرے میں بڑی میز کے ایک جانب برکاتی صاحب ہوتے تو دوسری جانب ان کے سامنے ڈاکٹر شان الحق حقی؛ اور میں ان دونوں کے درمیان بیٹھا ان دونوں کی لغوی بحثوں سے محظوظ ہوتا۔ اس دوران میں نے ان دونوں اُردو دانوں کو ایک لفظ کی زیر زبر پیش پر وَاللہ، دو دو ڈھائی ڈھائی گھنٹے بحث کرتے دیکھا۔

لغت کی بات چلی تو میں یہ ذکر کرتا چلوں کہ برکاتی صاحب کے دفتر میں اردو، عربی، فارسی اور روسی زبانوں کی درجنوں لغات موجود تھیں۔ برسبیل تذکرہ یہ بھی بتاتا چلوں کہ انہوں نے ایک زمانے میں روسی زبان بھی سیکھی تھی، لیکن اس میں مہارت نہیں تھی۔ البتہ اردو، فارسی اور عربی میں خوب گیرائی رکھتے تھے۔ ایک مرتبہ کسی صاحب نے ایک ترجمے میں ’’دماغ افروغ‘‘ لکھا تو لغات کھول کر بیٹھ گئے اور تقریباً پون گھنٹے کی تحقیق کے بعد انہوں نے اسے ’’ذہن افزوں‘‘ سے تبدیل کر ڈالا۔ لغت کا استعمال خوب کیا کرتے تھے۔ ان کی صحبت کے باعث مجھ میں بھی یہ عادت پختہ ہو گئی۔

میں آج دیکھتا ہوں کہ بڑے بڑے اہل زبان اور اہل قلم، بہ شمول صحافی، لغت سے استفادے کی اس عظیم صفت سے عاری ہیں۔ چنانچہ انہیں لفظ کا شعور ہے نہ وہ زبان دانی کا مزاج رکھتے ہیں۔ اپنی سستی اور علمی نا دوستی کے باعث انہوں نے غلط العوام ہی کو اپنا شیوہ بنا رکھا ہے۔ استاد محترم و مکرم کا پورا نام سید مسعود احمد برکاتی تھا، لیکن وہ اپنا نام ’’مسعود احمد برکاتی‘‘ ہی لکھا کرتے تھے۔ میں نے ایک مرتبہ یہ ذکر چھیڑا تو کہنے لگے کہ تین لفظی قلمی نام ہی سب سے اچھا لگتا ہے۔ دو لفظی نام چھوٹا ہو جاتا ہے جبکہ تین سے زائد الفاظ کا نام بولنے اور یاد کرنے میں بھاری ہوتا ہے۔ یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ مسعود احمد برکاتی صاحب حکیم نہیں تھے۔ میں نے فیس بک پر بعض افراد کی پوسٹس دیکھیں جن پر ’’حکیم مسعود احمد برکاتی‘‘ درج تھا۔ شاید یہ غلط فہمی ان کے بڑے بھائی حکیم محمود احمد برکاتی شہید کے نام سے مماثلت کے باعث ہوئی ہے۔

استادِ گرامی سے میری آخری ملاقات مؤرخہ 2 نومبر 2015 کو ان کے دفتر واقع ہمدرد فاؤنڈیشن، ناظم آباد، کراچی میں ہوئی۔ اس کے بعد سے میری کوشش یہ رہی کہ ایک نالائق (یا لائق) شاگرد کی حیثیت سے اپنےاستاد محترم کا جامع انٹرویو کر لوں۔ ان سے دو تین مرتبہ فون پر اس حوالے سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ مجھے اپنے سوالات لکھ کر بھیج دو۔ میں نے چند سوالات مرتب کیے اور انہیں کوریئر کر دیے۔ مجھے نہیں معلوم کہ ان تک یہ سولات پہنچے یا نہیں، کیوں کہ اس کے بعد ایک آدھ مرتبہ جب میں نے ان سے انٹرویو کی بات کی تو انہوں نے یہی فرمایا۔ میں آج جس منصب اور مرتبے پر ہوں، اور جس معیار کا پیشہ ورانہ کام کر رہا ہوں، اس شخصیت کی تشکیل اور پیشہ ورانہ مہارت میں میرے استادِ عظیم مسعود احمد برکاتی مرحوم کا بہت کردار ہے۔ اللہ تعالیٰ استاد گرامی کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلا ترین مقام عطا فرمائے (آمین)۔

سید عرفان احمد

Advertisements

بہن کے ہاتھوں بہن کے قتل میں اہم کردار اسمارٹ فون کا نکلا

ملیر سعود آباد میں بہن کے ہاتھوں بہن کے قتل میں اہم کردار اسمارٹ فون کا نکلا جس نے معاشرے میں کئی سوالات پیدا کر دیئے، والدین کی جانب سے اولاد کیلئے وقت نہ ہونا المیہ ہے ۔ ایس ایس پی کورنگی نعمان صدیقی نے اپنی پریس کانفرنس میں کئی سوال اُٹھا دیئے۔ نعمان صدیقی نے کہا کہ جب بچوں کو اسمارٹ فون کی ضرورت نہیں تو ان کے ہاتھوں میں یہ کیوں ہیں، اسمارٹ فون ہی اس بلیک میلنگ اور قتل کا سبب بنے، علینہ کے قتل میں والدین کی بیٹیوں سے بے خبری اور اسمارٹ فون کا اہم کردار نکلا، والدین کے پاس بچوں کیلئے وقت نہ ہونا المیہ ہے۔

ہمدرد نونہال کے مدیر مسعود برکاتی انتقال کر گئے

پاکستان کے نامور ادیب اور مشہور میگزین ہمدرد نونہال کے مدیر مسعود احمد برکاتی طویل عرصے کی علالت کے بعد 87 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔
مسعود احمد برکاتی کے رشتہ داروں اور دوستوں نے بتایا کے وہ کافی عرصے سے علیل تھے اور ان کا انتقال گزشتہ روز اتوار کو ہوا۔ وہ گزشتہ 65 سال سے ہمدرد نونہال میگزین کی ادارت کے فرائض انجام دے رہے تھے جبکہ انہوں نے بچوں کے ادب کے حوالے سے 20 کتابیں بھی تحریر کیں۔

بہت سے تجزیہ کاروں نے ایسا بھی لکھا کہ مسعود احمد برکاتی کا اس میگزین کی ادارت کا یہ عرصہ ایک ورلڈ ریکارڈ بھی ہے۔ مسعود برکاتی اس میگزین کے مالک حکیم محمد سعید کے ساتھی بھی تھے، مسعود برکاتی کا تعلق ہندوستانی ریاست ٹونک سے تھا۔ ان کے بڑے بھائی حاکم محمود احمد برکاتی ایک محقق اور اسکالر تھے۔ انہوں نے سوگوران میں تین بیٹیوں اور ایک بیٹے کو چھوڑا۔

جنید جمشید کی زندگی پر اک نظر

3 ستمبر، 1964ء کو پیدا ہونے والے جنید جمشید 7 دسمبر، 2016ء کو یہ جہان چھوڑ کر چلے گئے۔ پورا ملک ان کے نام سے واقف ہے۔ 1980ء اور 90ء کی دہائی میں جوان ہونے والی نسل جانتی ہے کہ بطور پاپ گلوکار انہیں کتنی شہرت حاصل ہوئی۔ بعد ازاں انہوں نے نعت خوانی میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ آپ کراچی میں پاکستان ائیرفورس کے گروپ کیپٹن جمشید اکبر کے ہاں پیدا ہوئے۔ آپ کو پاک فضائیہ میں بطور فائٹر پائلٹ شامل ہونے کا بہت شوق تھا۔ لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ پھر انہوں نے یونیورسٹی آف انجینئرنگ لاہور میں داخلہ لیا اور انجینئرنگ کی سند حاصل کی۔

ان کے موسیقی کے گروپ وائٹل سائنز کا آغاز 1980ء کی دہائی میں ہوا۔ یہ گروپ مختلف مقامات اور تقریبات میں گانا گانے لگا۔ اسی دوران سرکاری ٹی وی اور پھر معروف فنی شخصیت شعیب منصور کی توجہ اس گروپ نے حاصل کی۔ شعیب منصورنے اس گروپ کے پہلے البم کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا جو بہت مقبول ہوا۔ 1987ء میں پہلے البم دل دل پاکستان کی ریلز کے ساتھ ہی جنید جمشید شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئے۔ وہ پاپ موسیقی گروپ وائٹل سائنز کے نمائندہ گلوکار تھے۔ ان کے گائے ہوئے بہت سے گانے مقبول ہوئے۔ وائٹل سائنزکے پہلے البم کی ریلیز کے ساتھ ہی پورے ملک میں اس گروپ اور جنید جمشید کی آواز کو پہچانا جانے لگا ۔ اسی البم میں ’’دل دل پاکستان‘‘ شامل تھا۔

موسیقی کے اس گروپ کی مقبولیت اور مالی کامیابی کے سبب پاکستان میں راک موسیقی پروان چڑھنے لگی۔ اس کے بعد جنید جمشید کی آواز کا جادو 1994ء ، 1999ء اور 2002ء میں ریلیز ہونے والے البمز میں جگا۔ یہ سب کامیاب ہوئے۔ اس دوران وائٹل سائنز ٹوٹ پھوٹ کا شکار بھی ہوا لیکن جنید کی مقبولیت کا ستارہ جگمگاتا رہا۔ ان کے گانے سرکاری ٹی وی پر عموماً نشر ہوتے رہتے تھے اور ان کے گانوں کی کیسٹس بھی خوب فروخت ہوا کرتی تھیں۔ 1994ء میں ریلیز ہونے والا البم ’’جنید آف وائٹل سائن ‘‘ ان کا ’’سولو‘‘ البم تھا۔ جبکہ 1999ء میں ریلیز ہونے والا البم ’’ان راہ پر‘‘ دوسرا ’’سولو‘‘ البم تھا۔ جنید جمشید اپنے البم کے گانوں کو خود بھی لکھا کرتے تھے۔

تاہم بعد ازاں ان میں اسلامی تعلیمات کی طرف رجحان بڑھ گیا۔ اس کے نتیجے میں انہوں نے موسیقی کی صنعت کو خیر آباد کہہ دیا۔ پھر وہ نعت خوان اور تاجر کے طور پر جانے جاتے رہے۔ 2004ء میں جنید جمشید نے موسیقی چھوڑنے کا باقاعدہ اعلان کیا اور بتایا کہ وہ اپنی زندگی اسلام کے لیے وقف کر رہے ہیں۔ بعدازاں انہوں نے دینی علم کے حصول اور تبلیغ کی جانب خاصی توجہ دی۔ 7 دسمبر 2016ء کو پی آئی اے کی ایک فلائٹ حادثے کا شکار ہوئی جس میں جنید جمشید بھی شامل تھے۔ بعد ازاں ان کی موت کی تصدیق کر دی گئی۔ وہ اپنی دوسرے شریک حیات کے ساتھ چترال گئے ہوئے تھے۔ وہ اسلام آباد واپس آ رہے تھے کہ فلائٹ خیبر پختون خواہ کے مقام حویلیاں میں حادثے کا شکار ہو گئی۔

رضوان عطا

پاکستان میں اے ٹی ایم فراڈ سے کیسے بچا جائے ؟

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے حال ہی میں نجی حبیب بینک لمیٹڈ کی اے ٹی ایم مشینوں سے صارفین کی معلومات چوری ہونے کے واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ حبیب بینک کی انتظامیہ کے ساتھ مل کر صارفین کی رقوم لوٹانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے حکام کے مطابق گذشتہ ماہ نجی بینک حبیب بینک لمیٹڈ کے بینک اکاؤنٹس کو اے ٹی ایم (آٹومیٹڈ ٹیلر مشین) کارڈز کے ذریعے ہیک کر لیا گیا اور اب تک ان واقعات میں بینک کے 296 صارف متاثر ہوئے ہیں۔ ان صارفین کے اکاؤنٹس سے کل ایک کروڑ دو لاکھ روپے چوری کیے گئے ہیں۔ تاہم ابھی تک وفاقی تحقیقاتی ایجنسی یعنی ایف آئی اے کو اس بارے میں بینک کی جانب سے کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے ایف آئی اے میں سائبر کرائمز کے ڈائریکٹر کیپٹن ریٹائرڈ محمد شعیب نے کہا ہے کہ اس بارے میں ابھی صرف سوشل میڈیا یا مقامی خبر رساں اداروں سے ہی معلومات حاصل ہو رہی ہیں۔ ‘بینک ہمیں باضابطہ شکایت درج کرائے گا اس کے بعد ہی تحقیقات کا آغاز ہو سکے گا‘۔ دوسری جانب بینک دولت پاکستان کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق متاثرہ بینک نے ان تمام اے ٹی ایم کارڈز کو بند کر دیا ہے جنھیں ہیک کرنے کے بعد استعمال کیا گیا، جبکہ متاثرہ صارفین کو یہ رقم واپس کرنے کے عمل کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔

اے ٹی ایم سکِیمنگ یا فراڈ میں ہوتا کیا ہے؟
واضح رہے کہ اے ٹی ایم سکِیمنگ یا فراڈ ایک ایسا عمل ہے جس میں اے ٹی ایم کارڈ کی مقناطیسی پٹی پر موجود تمام اہم ڈیٹا چوری کر لیا جاتا ہے۔ اس کے لیے مشین میں کارڈ پاکٹ میں سکینر نصب کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ اے ٹی ایم مشین کے ‘کی پیڈ’ پر ایک اور کی پیڈ نصب کیا جاتا ہے جو وہ خفیہ پِن کوڈ محفوظ کر لیتا ہے جو کارڈ استعمال کرنے کے لیے صارف مشین میں داخل کرتا ہے۔ اس کے علاوہ خفیہ کیمرہ بھی نصب کیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ معلومات کسی بھی دوسرے کارڈ پر باآسانی منتقل کی جا سکتی ہیں جو دنیا کے کسی بھی حصے میں بینک اکاؤنٹ سے پیسے چوری کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

احتیاطی تدابیر
آئی ٹی اور سیکیورٹی سے متعلق اشاعت و تشہیر سے وابستہ آئی ٹی ماہر عبداللہ سعد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں اب ڈیبِٹ اور کریڈٹ کارڈ کے استعمال میں خاصا اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے گذشتہ چند سالوں میں دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان ایسے ہیکرز کی توجہ حاصل کر رہا ہے۔ عبداللہ سعد کے مطابق کسی بھی صارف کے لیے یہ خاصا مشکل ہے کہ وہ یہ جانچ سکیں کہ ان کے زیر استعمال اے ٹی ایم مشین پر ڈیٹا چوری کرنے کے لیے کوئی آلہ نصب کیا گیا ہے تاہم وہ صارفین کو چند احتیاطی تدابیر ضرور دیتے ہیں:

1. ایسی اے ٹی ایم مشینیں جہاں عام طور پر رش رہتا ہے، وہاں سکیمنگ کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ اس لیے انہیں استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

2. اگر آپ کسی اے ٹی ایم مشین کو باقاعدگی سے استعمال کرتے ہیں تو مشین پر موجود کسی بھی تبدیلی کو نظرانداز نہ کریں، ایسی مشین پر کارڈ ہرگز استعمال نہ کریں، اور متعلقہ بینک کو اطلاع دیں۔

3. بینک کے ساتھ یا بینک کے اندر موجود اے ٹی ایم مشینیں نسبتاً محفوظ ہوتی ہیں۔

4. صارف دو اکاؤنٹس رکھیں، جن میں سے ایک اکاؤنٹ کا اے ٹی ایم یا ڈیبٹ کارڈ جاری کروائیں اور اس اکاؤنٹ میں صرف ضرورت کے مطابق رقم رکھیں۔ تاکہ ہیکنگ ہونے کی صورت میں بھی بڑے نقصان سے بچا جا سکے۔

عبداللہ سعد یہ بھی کہتے ہیں کہ صارف کے پاس کارڈ سے رقم نکلوانے کی حد مقرر کرنے کا اختیار ہونا چاہیے۔

پاکستان میں اس وقت بینکوں نے چوبیس گھنٹوں میں اے ٹی ایم مشین سے پچاس ہزار روپے نکلوانے کی حد مقرر کی ہے، جو کہ عبداللہ سعد کے مطابق زیادہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ صارف کے پاس اپنا اے ٹی ایم کارڈز ’آف ‘کرنے کا اختیار بھی ہونا چاہیے جیسا کہ دنیا کے کئی ممالک میں یہ نظام رائج ہے۔ اس نظام میں بھی صارف صرف اس وقت کارڈ ’آن‘ کرتا ہے جب وہ اے ٹی ایم مشین استعمال کر رہا ہوتا ہے۔

فرحت جاوید
بی بی سی اردو، اسلام آباد

کراچی کے قریب 660 میگا واٹ کے پاک چین بجلی گھر کا افتتاح

کراچی کے قریب بندرگاہ محمد بن قاسم پر کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹ کے پہلے فیز کا افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ سی پیک اور توانائی کے منصوبوں کی تکمیل سے ملک میں معاشی انقلاب آئے گا اور ملک میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ حکومت نے توانائی کا جو منصوبہ شروع کیا ہے اسے بروقت مکمل کیا جا رہا ہے۔ آج پاکستان اضافی بجلی پیدا کرنے کے قابل ہو چکا ہے۔ پورٹ قاسم پر 1320 میگا واٹ کے بن قاسم کول پاور پروجیکٹ کے پہلے فیز کا افتتاح کیا گیا ہے۔ منصوبے کے پہلے فیز سے 660 میگاواٹ بجلی حاصل ہو گی۔ یہ منصوبہ چین کے تعاون سے مکمل کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق منصوبے کا دوسرا فیز فرور​ی 2018 میں مکمل کر لیا جائے گا۔ یہ بجلی گھر سی پیک منصوبے کا حصہ ہیں۔

وزارت توانائی کے دعوے کے مطابق گذشتہ تین سال کے دوران تقریبا 7 ہزار میگا واٹ قومی سسٹم میں شامل کی گئی ہے۔ 2018 کے آخر تک نیشنل گرڈ میں 10 ہزار میگا واٹ بجلی شامل کرنے اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ حکام کے مطابق اس وقت ملک کو کم از کم 15 ہزار میگا واٹ یومیہ بجلی درکار ہے۔ ملک میں گذشتہ گرمیوں میں بجلی کا شارٹ فال 10 ہزار میگا واٹ تک پہنچ گیا تھا، تاہم سردیوں میں طلب کی کمی کے باعث یہ شارٹ فال قدرے کم ہو جاتا ہے۔

محمد ثاقب

پاکستان میری ٹائم میوزیم

پاکستان میری ٹائم میوزیم کا افتتاح 27مارچ 1997ء کو کیا گیا تھا۔ اسے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، اس کے احاطے میں انتظامیہ کے دفاتر کے ساتھ ساتھ مختلف گیلریاں بنائی گئی ہیں۔ گیلریوں کے فرش ، دیواروں اور ستونوں پر شیشم کی لکڑی سے کام کیا گیا ہے۔’’ میرین ہسٹری گیلری‘‘ میں محمد بن قاسم کا مجسمہ بنا کر اس پر لوہے کی زنجیروں سے بنی ہوئی زرہ بکتر پہنائی گئی ہے قریبی بنے ہوئے شیشے کے شیلف میں ڈھال رکھی ہوئی ہے، یہ دونوں قیمتی تاریخی اشیاء اور ماڑی کی بندرگاہ کی کھدائی کے دوران ملی تھیں۔ ان کی ساخت کو دیکھتے ہوئے قیاس کیا جاتا ہے کہ یہ دونوں قیمتی اشیاء محمد بن قاسم کے دور کی ہیں۔

گیلری میں موہنجوداڑو کے تجارتی راستوں، محمد بن قاسم کی فوج کے دیبل پر حملے ، مسلمانوں کے قدیم بحری سازو سامان اور نقشوں کی پینٹنگز آویزاں کی گئی ہیں ۔’’نیول گیلری‘‘ میں 1965ء کی جنگ کے دوران بحریہ کی کامیابیوں کی عکاسی کی گئی ہے۔ یہاں بحریہ کے سازو سامان کا ڈسپلے کیا گیا ہے ۔ ’’دوار کا آپریشن پورٹس اینڈ ہاربر گیلری ‘‘میں پاکستان کی مختلف بندرگاہوں اور منوڑہ فورٹ قاسم کی پینٹنگز آویزاں کی گئی ہیں۔ کراچی کی بندرگاہ کا ماڈل بھی بنایا گیا ہے۔ ایک گیلری میں لکڑی کی پرانی طرز کی بنی ہوئی بارودی سرنگ کے خول میں کمپیوٹر ٹچ سسٹم کے ذریعہ پاک بحریہ اور میوزیم کے اوپن ایریا میں رکھی گئی چیزیں دکھائی جاتی ہیں۔ جن بچوں کو کمپیوٹر استعمال کرنا نہیں آتا وہ کمپیوٹر کی اسکرین پر انگلی رکھیں تو پوری اسکرین پر میوزیم کے کھلے علاقے میں رکھی گئی اشیاء کی فہرست آ جاتی ہے ۔

اس فہرست میں جو چیز دیکھنا چاہیں اس پر انگلی رکھنے سے اسکرین پر وہی چیز سامنے آ جاتی ہے۔ دوسرے کمپیوٹر سے نیوی کی تاریخ کے بارے میں معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔ ایک لابی میں وہ ڈنر سیٹ بھی محفوظ کیا گیا ہے جس میں حضرت قائد اعظمؒ کو پاک بحریہ کے پہلے دور کے موقع پر کھانا پیش کیا گیا تھا، دوسرے منزل کے داخلی راستے کے دائیں جانب دیوار میں ’’ شہدا آف پاکستان نیوی‘‘ کے عنوان سے ان تمام شہدا کے نام دیئے گئے ہیں جنہوں نے وطن عزیز کے دفاع کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ ’’ نیول چیف گیلری ‘‘ میں بحریہ کے تمام ریٹائر ہونے والے سربراہوں کے پورٹریٹ ، یونیفام اور زیر استعمال اشیاء محفوظ کر کے رکھی گئی ہیں ۔’’میرسن لائف گیلری ‘‘ فائبر سے بنائی گئی ہے، اس وسیع گیلری میں زیر آب دنیا کے مختلف حسین قدرتی مناظر دکھائے گئے ہیں۔

پہلی منزل پر ’’ بوٹ گیلری‘‘ میں ایک قدیمی نامکمل کشتی رکھی گئی ہے۔ عمارت میں ساٹھ سیٹوں پر مشتمل ایک ائیرکنڈیشنڈ آڈٹیوریم بھی بنایا گیا ہے جہاں سرکاری وفود کو بریفنگ دینے کے علاوہ دستاویزی فلموں کی نمائش بھی کی جاتی ہے۔ عمارت میں موجود لابرئیری میں تقریباً ایک ہزار کتب کا ذخیرہ موجود ہے۔ پاکستان میری ٹائم میوزیم ’’ تقریباً 22ایکڑ رقبے پر قائم کیا گیا ہے۔ میوزیم کے داخلی گیٹ کے بالکل سامنے ایک آہنی مچھلی کا ماڈل بنایا گیا ہے۔ اس کے احاطے میں ایک بڑی جھیل بنا کر یہاں سمندری ماحول بنانے کی کوشش کی گئی ہے بارش کا پانی جھیل میں جانے سے روکنے کے لیے جھیل کے کنارے پتھروں کی دیوار بنائی گئی ہے اس جھیل میں ایک مائن سوئیپر اور ایک مچڈ ( چھوٹی آبدوز) رکھی ہوئی ہے۔

مائن سوئیپر کا نچلا حصہ لکڑی کا ہے یہ بحری جہاز سمندر میں دشمن کی جانب سے بچھائی جانے والی بارودی سرنگیں صاف کرنے کا کام کرتا ہے۔ میوزیم میں اس لائٹ ہاؤس کا ایک ماڈل بنایا گیا ہے جس میں اوپر جانے کے لیے زینہ موجود ہے لائٹ ہاوس سے میوزیم کا دلکش نظارہ کیا جا سکتا ہے ان پر کشش اہم چیزوں کے علاوہ کھلے علاقے میں پی این ایس ہاربر کا پرانا ماڈل بوفرگسن ، مارک 7 اے ( توپ) ڈیتھ چارج 5-38 انچ مارک 38 ( توپ) 21 انچ تار پیڈو مارک 20 ایم ایم گن ، میزائل لانچر ، مارٹر مارک 10 سکوڈ ماونٹنگ ، سمیت معلوم کرنے کا آلہ کمانڈ اینڈ کنٹرول کنسول، سمت معلوم کرنے کی کیبنٹ ، ٹارگٹ ایکوریشن یونٹ     ( ریڈار کا حصہ) مارک 4556 انچ ، رینچ فانڈر ، شنگین ، ویبلے ریوالور مارک 6 کولٹ 38، رلوایور نمبر 2 مارک اور ریوالور ، 32 انچ دھانے کا ریوالور وغیرہ موجود ہیں یہاں پاک بحریہ کی وہ میت گاڑی بھی رکھی گئی ہے جس میں حضرت قائد اعظم محمد علی جناحؒ کا جنازہ گورنر ہاؤس کراچی سے قائد کی آخری آرام گاہ تک لے جایا گیا۔ بعد میں لیاقت علی خانؒ اور دیگر اکابرین کی میتیں لے جانے کے لیے بھی یہی میت گاڑی استعمال کی گئی ۔

شیخ نوید اسلم

(کتاب’’پاکستان کے آثارِ قدیمہ‘‘سے منقبس)