خان صاحب سے یہ امید نہ تھی

542494-ImranKhanAFP-1367304756-882-640x480

انصار عباسی

Advertisements

لاہور دھماکے سے کئی گھر اُجڑ گئے

 dd76c75ae1a4411283660002826b18e1_18

لاہور کی پنجاب اسمبلی کے سامنے ہونے والے خودکش دھماکے سے پورے ملک کی فضا سوگوار ہے۔ خودکش دھماکے کے نتیجے میں ٹریفک سیکشن کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) کیپٹن (ر) احمد مبین اور سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) آپریشنز زاہد گوندل سمیت 13 افراد اپنی جان کی بازی ہار گئے تھے جبکہ 85 زخمی بھی ہوئے۔

انارکلی کا مقبرہ

مغلوں نے 1526ء سے 1700ء تک ہندوستان میں حکومت قائم رکھی۔ جب برطانیہ نے یہاں قبضہ جمایا تو مغلوں کے بارے بہت سے واقعات رپورٹ کیے گئے۔ جن میں سے بیشتر حالات مغل بادشاوں نے اپنے قلم سے نوشتہ ہیں۔ مغلوں نے اپنے راج میں آئے دن تہذیب و ثقافت، فن تعمیر ادب و موسیقی کی صورت میں اپنے انمٹ نقوش چھوڑے ان میں بدقسمت محبت کا افسانہ انارکلی بھی منسوب ہے جس نے آج بھی لوگوں کے دل و دماغ کو گرفتہ کر رکھا ہے۔ بعض مورخین تو واشگاف الفاظ میں انارکلی کے وجود کو ہی تسلیم نہیں کرتے اور جو کرتے ہیں وہ بھی انار کلی کی موت کے بارے میں خاموش ہیں۔ سلیم جو بعد میں جہانگیر کے نام سے حکمران بنا انار کلی کی محبت میں گرفتار ہو گیا۔ اکبر نے شیشے میں دیکھا کہ انارکلی شہزادہ سلیم کو مسکراتے ہوئے دیکھ رہی ہے اسے شک ہوا کہ جہانگیر کے ساتھ سازباز میں انارکلی شریک ہے لہٰذا اس نے سزا کے طور پر اسے زندہ دیوار میں چنوانے کا حکم دیا۔ سلیم کو اس کی موت کا افسوس ہوا تو اس نے اس جگہ ایک عالیشان مقبرہ تعمیر کرایا۔

سید لطیف لکھتا ہے! یہاں عظیم الیشان سفید مثمن ہشت پہلو مقبرہ تعمیر کرایا گیا. جو آج بھی اپنے برجوں کے ساتھ آج بھی پنجاب کے سول سیکرٹریٹ میں موجود ہے۔ آج مقبرہ کے وسط کی بجائے یہ قبر کا تعویذ ایک سمت پڑا ہے جس پر دو تاریخیں ابھرواں انداز میں یوں درج ہیں۔ 1599ء اور 1615ء اغلباً انارکلی کے مرنے کی تاریخ 1599ء جبکہ 1615ء مقبرہ کی تعمیر کی تاریخ ہو سکتی ہے جہانگیر نے بادشاہ بننے کے دس سال بعد یعنی 1615ء میں اس کی تعمیر کرائی ہو گی۔ سکھوں نے اپنے عہد میں اس مقبرے کو خاصا نقصان پہنچایا۔ مقبرے کی بنیادیں خشتی اور چبوترہ سنگ مرمر کا تھا جو راجہ رنجیت سنگھ نے اکھاڑ دیا۔ قبر کے تعویذ پر 99 اسماء الٰہی اور اشعار درج ہیں۔ انگریزی دور میں اس عمارت کو گرجا میں تبدیل کر دیا گیا اور اس کا نام سینٹ جین چرچ رکھ دیا گیا۔ اب اس عمارت کو ریکارڈ آفس کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر عبداللہ چغتائی کے مطابق یہ مقبرہ جہانگیر کی بیوی صاحب جمال کا ہے۔

قبر کے تعویذ پر مندرجہ ذیل عبارت درج ہے: آہ گرھن بازینم روی یار خویش را تاقیامت شکر گویم کردگار خویش را مجنوں سلیم اکبر 1008ء ہزار دہشت کتبات قبور کے لحاظ سے لاہور میں یہ خوبصورت نستعلیق کی ابھروں انداز میں بہترین مثال ہے اس میں الفاظ سنگ مرمر کے ایک ہی ٹکڑے پر انتہائی چابکدستی میں کتابت کئے گئے ہیں اور اللہ اکبر لکھا گیا ہے۔ 1642ء میں داراشکوہ نے سفتیہ الاولیاء اولین تصنیف کی جس میں انارکلی کے مقبرہ اور باغ کے بارے میں لکھا مگر اس نے یہ نہیں بتایا کہ اس مقبرے میں کون دفن ہے۔ ڈاکٹر عبداللہ چغتائی کا بیان اس ضمن میں درست لگتا ہے کہ یہ مقبرہ جہانگیر کی چوتھی بیوی صاحب جمال کا ہے جو1599ء میں لاہور میں فوت ہوئی جو مزار پر کندہ ہے مگر جہانگیر نے اس مقبرے کے بارے میں کوئی بھنک نہیں ڈالی۔

شیخ نوید اسلم

 (پاکستان کے آثارِ قدیمہ)

سچے عاشقِ رسول ؐ مولانا عبد الرحمن اشرفیؒ

23wain-milad-07conf_09ملک کے معروف دینی ادارے جامعہ اشرفیہ ( لاہور) کے شیخ الحدیث اور عالم اسلام کی عظیم علمی و اصلاحی شخصیت حضرت مولانا عبد الرحمن اشرفیؒ کا تعلق ان علمائے حق سے ہے، جو کہ تمام زندگی قال اللہ و قال الرسولؐ کی صدا بلند کرتے اور لاکھوں لوگوں کو شرک و بدعت اورگمراہی کے گڑھوں سے نکال کر ان کے دلوں میں توحید الہٰی اور عشق نبی ؐکی شمعیں روشن کر کے ان کے ایمان کی حفاظت اور جنت کی طرف راہنمائی کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ آپ کی خوبصورت ، باوقار اور ایمان پرور شخصیت کو اللہ تعالیٰ نے بے شمار خوبیوں سے نوازا تھا۔ آپ ایک کامیاب مدرس، زبردست خطیب و ذہانت و ظرافت ، حاضر جوابی اور نفاست طبع کے حسین مرقع اور پوری دنیا میں جامعہ اشرفیہ کی پہچان ، تعارف اور ’ٹائٹل‘ تھے۔  hqdefaultآپ نے کم و بیش پچاس سال تک جامعہ اشرفیہ میں درس و تدریس اور خطابت کے فرائض انجام دیئے۔ آپ تمام مسالک کے ہاں انتہائی قابل احترام تھے، جس کی وجہ سے دیگر مسالک کے لوگ بھی محبت و عقیدت کے ساتھ آپ کے جمعۃ المبارک کے اجتماعات میں آتے۔ آپ کے والد حضرت مولانا مفتی محمد حسن، جامعہ اشرفیہ کے بانی اور حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی کے خلفہ مجاز تھے اور انہی کے نام کی نسبت سے لاہور میں جامعہ اشرفیہ کے نام سے معروف دینی ادارہ قائم کیا۔ مولانا اشرف علی تھانوی کے حکم پر آپ کے والد حضرت مولانا مفتی محمد حسن نے علامہ شبیر احمد عثمانی، مولانا ظفر احمد عثمانی، مفتی حضرت مولانا محمد شفیع اور دیگر علماء دیوبند کے ہمراہ مسلم لیگ کا ساتھ دیتے ہوئے تحریک پاکستان میں بھر پور حصہ لیا، جس کے نتیجہ میں پاکستان بننے کے بعد مشرقی و مغربی پاکستان پر آزادی کا پرچم لہرانے کی سعادت ’’بزم اشرف‘‘ کے روشن چراغ اور دار العلوم دیوبند کے قابل فخر سپوت علامہ شبیر احمد عثمانی اور مولانا ظفر احمد عثمانی کو حاصل ہوئی۔

مولانا عبدالرحمن اشرفی بھی حضرت مولانا اشرف علی تھانوی کی شخصیت اور تصنیفات سے بڑے متاثر تھے ۔ فرقہ واریت کے خاتمہ اور اتحاد بین المسلمین کے فروغ کیلئے مولانا اشرف علی تھانوی کے اس زریں اصول کہ اپنے مسلک کو چھوڑو نہیں اور کسی کے مسلک کو چھیڑو نہیں کو متعارف کرانے میں بنیادی کردار ادا کیا اور یہ اصول آج پاکستان کی قومی و صوبائی اور دیگر امن کمیٹیوں کا ضابطہ اخلاق بن چکا۔ اللہ تعالیٰ نے مولانا عبد الرحمن اشرفی کو بے پناہ محبوبیت و مقبولیت سے نواز ا، جس مجلس میں ہوتے میر محفل اور مرکز نگاہ بن جاتے جوبھی آپ سے ملتا، آپ کے اعلیٰ اخلاق اور بلند کردار سے متأثر ہو کر آپ ہی کا ہو کر رہ جاتا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو قوت استدلال ، الفاظ پر گرفت، غضب کا حافظہ اور ذہانت کی دولت سے نوازا تھا.

مشکل سے مشکل الفاظ بھی بڑی خوبصورتی اور تسلسل روانی کے ساتھ ’تسبیح‘ کے دانوں کی طرح ایک خاص تربیت اور انداز کے ساتھ آپ کے منہ سے ادا ہوتے چلے جاتے، کسی بھی مسئلہ کو سمجھانے کیلئے قرآن و حدیث سے دلائل و براہین کے انبار لگا کر دیکھنے اور سننے والے کو حیران کر دیتے ۔ آپ کا دماغ معلومات کا خزانہ اور کمپیوٹر محسوس ہوتا، دوران تقریر حضور اکرمؐ ، صحابہ کرامؓ و اہل بیت عظامؓ، اولیاء کرامؒ اور اکابرین و اسلام کے حالات و واقعات کو انتہائی تسلسل اور پر اثر انداز میں بیان کرتے کہ سننے والا متاثر ہوئے بغیر نہ رہتا۔ آپ کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ آپ ہر کام میں سے اسلام اور مسلک کی خدمت کا کوئی نہ کوئی پہلو ضرور نکال لیتے ، مشکل اور پیچیدہ مسائل کو منٹوں میں حل کر لیتے، آپ اتحاد امت کے بہت بڑے داعی تھے۔ مولانا عبد الرحمن اشرفی ایک سچّے عاشق رسولؐ تھے۔ حضور اکرم ؐکا نام مبارک لیتے ہوئے عقیدت و محبت سے آبدیدہ ہو جاتے ۔ جمعۃ المبارک کو بعد ا ز نماز عصر جامع مسجد حسن میں بڑی باقاعدگی کے ساتھ درود شریف کی محفل ہوتی، ہر سال 12 ربیع الاول کو حضور اکرم ؐ کے موئے مبارک کی زیارت اپنی نگرانی میں کراتے ، ختم بخاری شریف اور رمضان المبارک کی ستائیسویں شب کو تقریر اور پھر بڑے ہی رقت آمیز انداز میں دعاء کراتے جس میں علماء و طلباء سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ ہزاروں افراد شرکت کرتے۔ آپ نے ہمیشہ شہرت اور سرکاری منصب سے راہِ فرار اختیار کرتے سرکاری منصب و ممبری پر مسجد و مدرسہ اورممبر و محراب کو ترجیح دیا، لیکن اس کے باوجود لاکھوں لوگ آپ سے عقیدت و محبت رکھتے تھے۔

خدمت خلق کا جذبہ بھی آپ کے اندر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا، غریب و مستحق افراد اور طلباء کی ہر ممکن مدد کرتے مخلوقِ خدا کی تکلیف پر تڑپ اٹھتے اور ان کیلئے رو رو کر دعائیں کرتے معاشی تنگی اور قرض کے بوجھ سے تنگ افراد کی طرف سے خودکشی کے جواز کا فتویٰ پوچھنے، زلزلہ زدگان اور سیلاب متأثرین کے جانی و مالی نقصان پر انتہائی پریشان و مضطرب ہو کر خطبات جمعۃ المبارک  ذرائع ابلاغ اور میڈیا کے ذریعہ آپ نے پاکستان سمیت پوری دنیا میں اعلان کر دیا کہ ان حالات میں مسلمان نفلی حج و عمرہ میں اربوں روپے خرچ کرنے کی بجائے انسانیت کی خدمت، سیلاب متأثرین اور خود کشیوں پر مجبور لوگوں کی مالی مدد کریں اس سے کئی حج و عمرہ کا ثواب ملے گا۔ آپ فرماتے تھے کہ معاشرہ میں غربت و سفید پوشی کی وجہ سے ماں باپ اپنی بچیوں کی شادی کے اخراجات نہ ہونے کی وجہ سے شدید پریشان ہیں، جوان بچیاں بڑھاپے کی جانب بڑھ رہی ہیں شادی کیلئے ان کی مالی مدد کرنا خدا کو راضی کرنے اور جنت کے حصول کا آسان ذریعہ ہے۔ آپ کی علمی و روحانی مقام کی پوری دنیا معترف ہے۔

آپ کی تفسیر ’’ نکات القرآن‘‘ سمیت دیگر تصانیف علمی حلقوں میں انتہائی مقبول ہیں ۔ سیرت النبی ؐکے موضوع پر کئی کئی گھنٹے اپنے مخصوص انداز اور عشق نبویؐ میں ڈوب کر بیان کرتے، تو عقیدت و محبت میں خود بھی روتے اور سامعین کو بھی رلاتے ۔ آپ کی روشن زندگی جہد مسلسل سے عبارت تھی۔ تمام زندگی دعوت و تبلیغ، درس وتدریس ، تحریر و تصنیف ، قیام امن اتحاد بین المسلمین کے فروغ ، اسلام اور وطن عزیز کی سالمیت اور مختلف باطل فتنوں کے علمی تعاقب میں گزری ۔ آخر کار 22جنوری 2011ء کو علم کا یہ آفتاب و ماہتاب اپنے بیٹوں صاحبزادہ احمد حسن اشرفی، حماد حسن اشرفی اور صاحبزادہ محمد حسن اشرفی سمیت ہزاروں شاگردوں اور لاکھوں عقیدت مندوں کو روتا اور تڑپتا چھوڑ کر غروب ہوگیا۔ آپ کے وفات کی خبر جنگل کی آگ کی طرح ہر طرف پھیل گئی، پوری دنیا سے لوگ ٹیلیفونوں کے ذریعہ تصدیق کر رہے تھے۔

 مولانا مجیب الرحمن انقلابی

کاہنہ – ضلع لاہور

یہ دو آبادیوں پر مشتمل ایک قصبہ ہے ،جو ضلع لاہور میں شامل ہے۔ یہ قصبہ لاہور- قصور روڈ پر لاہور سے ۱۵ میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ سکھ مت کے بانی گورونانک کی والدہ کا تعلق اسی قصبے سے تھا۔ اس کو سندھو جاٹ قوم کے کاہنہ نامی زمیندار نے آباد کیا تھا۔ دوسری آبادی بھی ایک زمیندار کاچھہ کے نام سے تھی۔ مغلوں کے زوال کے زمانے میں جب جے سنگھ اور سوبھا سنگھ کنہیا مثل کے سردار بنے اور انہو ں نے پنجاب کو خوب لُوٹا۔ وہ یہیں کے رہنے والے تھے اور اس وجہ سے اس قصبے کی آبادی اور رونق میں اضافہ ہو گیا. کیونکہ دیگر علاقوں کے لوگ یہاں آکر اس وجہ سے پنا ہ لیتے کہ اسے دیگر لوگ لُوٹنے سے گریز کرتے۔

اس کی آبادی اتنی بڑھی کہ ایک نئی آبادی اور بن گئی ،جو نیا کاہنہ کے نام سے مشہور ہوئی۔ اس کی غلہ منڈی نواحی دیہات کے لیے مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ طلبا او رطالبات کے لیے علیحدہ علیحدہ ہائی، مڈل اور پرائمری سکول ہیں۔ مربوط دیہی ترقیاتی مرکز، تھانہ، ڈاکخانہ اورہسپتال بھی ہیں۔ اس کی آبادی ۱۹۸۱ء میں ۱۹۱۶۹ اور ۱۹۹۸ء کی مردم شمار ی کے مطابق ۳۸۲۷۹ نفوس پر مشتمل تھی.

(کتاب ’’نگر نگر پنجاب:شہروں اور قصبات کا جغرافیائی، تاریخی، ثقافتی اور ادبی انسائیکلوپیڈیا‘‘ سے مقتبس)

 

واہگہ بارڈر پر پرچم اتارنے کی تقریب, فضا اللہ اکبر اور پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونجتی رہی

.لاہور : واہگہ بارڈر پر سبز ہلالی پرچم اتارنے کی تقریب