خان صاحب سے یہ امید نہ تھی

542494-ImranKhanAFP-1367304756-882-640x480

انصار عباسی

Advertisements

لاہور دھماکے سے کئی گھر اُجڑ گئے

 dd76c75ae1a4411283660002826b18e1_18

لاہور کی پنجاب اسمبلی کے سامنے ہونے والے خودکش دھماکے سے پورے ملک کی فضا سوگوار ہے۔ خودکش دھماکے کے نتیجے میں ٹریفک سیکشن کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) کیپٹن (ر) احمد مبین اور سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) آپریشنز زاہد گوندل سمیت 13 افراد اپنی جان کی بازی ہار گئے تھے جبکہ 85 زخمی بھی ہوئے۔

انارکلی کا مقبرہ

مغلوں نے 1526ء سے 1700ء تک ہندوستان میں حکومت قائم رکھی۔ جب برطانیہ نے یہاں قبضہ جمایا تو مغلوں کے بارے بہت سے واقعات رپورٹ کیے گئے۔ جن میں سے بیشتر حالات مغل بادشاوں نے اپنے قلم سے نوشتہ ہیں۔ مغلوں نے اپنے راج میں آئے دن تہذیب و ثقافت، فن تعمیر ادب و موسیقی کی صورت میں اپنے انمٹ نقوش چھوڑے ان میں بدقسمت محبت کا افسانہ انارکلی بھی منسوب ہے جس نے آج بھی لوگوں کے دل و دماغ کو گرفتہ کر رکھا ہے۔ بعض مورخین تو واشگاف الفاظ میں انارکلی کے وجود کو ہی تسلیم نہیں کرتے اور جو کرتے ہیں وہ بھی انار کلی کی موت کے بارے میں خاموش ہیں۔ سلیم جو بعد میں جہانگیر کے نام سے حکمران بنا انار کلی کی محبت میں گرفتار ہو گیا۔ اکبر نے شیشے میں دیکھا کہ انارکلی شہزادہ سلیم کو مسکراتے ہوئے دیکھ رہی ہے اسے شک ہوا کہ جہانگیر کے ساتھ سازباز میں انارکلی شریک ہے لہٰذا اس نے سزا کے طور پر اسے زندہ دیوار میں چنوانے کا حکم دیا۔ سلیم کو اس کی موت کا افسوس ہوا تو اس نے اس جگہ ایک عالیشان مقبرہ تعمیر کرایا۔

سید لطیف لکھتا ہے! یہاں عظیم الیشان سفید مثمن ہشت پہلو مقبرہ تعمیر کرایا گیا. جو آج بھی اپنے برجوں کے ساتھ آج بھی پنجاب کے سول سیکرٹریٹ میں موجود ہے۔ آج مقبرہ کے وسط کی بجائے یہ قبر کا تعویذ ایک سمت پڑا ہے جس پر دو تاریخیں ابھرواں انداز میں یوں درج ہیں۔ 1599ء اور 1615ء اغلباً انارکلی کے مرنے کی تاریخ 1599ء جبکہ 1615ء مقبرہ کی تعمیر کی تاریخ ہو سکتی ہے جہانگیر نے بادشاہ بننے کے دس سال بعد یعنی 1615ء میں اس کی تعمیر کرائی ہو گی۔ سکھوں نے اپنے عہد میں اس مقبرے کو خاصا نقصان پہنچایا۔ مقبرے کی بنیادیں خشتی اور چبوترہ سنگ مرمر کا تھا جو راجہ رنجیت سنگھ نے اکھاڑ دیا۔ قبر کے تعویذ پر 99 اسماء الٰہی اور اشعار درج ہیں۔ انگریزی دور میں اس عمارت کو گرجا میں تبدیل کر دیا گیا اور اس کا نام سینٹ جین چرچ رکھ دیا گیا۔ اب اس عمارت کو ریکارڈ آفس کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر عبداللہ چغتائی کے مطابق یہ مقبرہ جہانگیر کی بیوی صاحب جمال کا ہے۔

قبر کے تعویذ پر مندرجہ ذیل عبارت درج ہے: آہ گرھن بازینم روی یار خویش را تاقیامت شکر گویم کردگار خویش را مجنوں سلیم اکبر 1008ء ہزار دہشت کتبات قبور کے لحاظ سے لاہور میں یہ خوبصورت نستعلیق کی ابھروں انداز میں بہترین مثال ہے اس میں الفاظ سنگ مرمر کے ایک ہی ٹکڑے پر انتہائی چابکدستی میں کتابت کئے گئے ہیں اور اللہ اکبر لکھا گیا ہے۔ 1642ء میں داراشکوہ نے سفتیہ الاولیاء اولین تصنیف کی جس میں انارکلی کے مقبرہ اور باغ کے بارے میں لکھا مگر اس نے یہ نہیں بتایا کہ اس مقبرے میں کون دفن ہے۔ ڈاکٹر عبداللہ چغتائی کا بیان اس ضمن میں درست لگتا ہے کہ یہ مقبرہ جہانگیر کی چوتھی بیوی صاحب جمال کا ہے جو1599ء میں لاہور میں فوت ہوئی جو مزار پر کندہ ہے مگر جہانگیر نے اس مقبرے کے بارے میں کوئی بھنک نہیں ڈالی۔

شیخ نوید اسلم

 (پاکستان کے آثارِ قدیمہ)

سچے عاشقِ رسول ؐ مولانا عبد الرحمن اشرفیؒ

23wain-milad-07conf_09ملک کے معروف دینی ادارے جامعہ اشرفیہ ( لاہور) کے شیخ الحدیث اور عالم اسلام کی عظیم علمی و اصلاحی شخصیت حضرت مولانا عبد الرحمن اشرفیؒ کا تعلق ان علمائے حق سے ہے، جو کہ تمام زندگی قال اللہ و قال الرسولؐ کی صدا بلند کرتے اور لاکھوں لوگوں کو شرک و بدعت اورگمراہی کے گڑھوں سے نکال کر ان کے دلوں میں توحید الہٰی اور عشق نبی ؐکی شمعیں روشن کر کے ان کے ایمان کی حفاظت اور جنت کی طرف راہنمائی کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ آپ کی خوبصورت ، باوقار اور ایمان پرور شخصیت کو اللہ تعالیٰ نے بے شمار خوبیوں سے نوازا تھا۔ آپ ایک کامیاب مدرس، زبردست خطیب و ذہانت و ظرافت ، حاضر جوابی اور نفاست طبع کے حسین مرقع اور پوری دنیا میں جامعہ اشرفیہ کی پہچان ، تعارف اور ’ٹائٹل‘ تھے۔  hqdefaultآپ نے کم و بیش پچاس سال تک جامعہ اشرفیہ میں درس و تدریس اور خطابت کے فرائض انجام دیئے۔ آپ تمام مسالک کے ہاں انتہائی قابل احترام تھے، جس کی وجہ سے دیگر مسالک کے لوگ بھی محبت و عقیدت کے ساتھ آپ کے جمعۃ المبارک کے اجتماعات میں آتے۔ آپ کے والد حضرت مولانا مفتی محمد حسن، جامعہ اشرفیہ کے بانی اور حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی کے خلفہ مجاز تھے اور انہی کے نام کی نسبت سے لاہور میں جامعہ اشرفیہ کے نام سے معروف دینی ادارہ قائم کیا۔ مولانا اشرف علی تھانوی کے حکم پر آپ کے والد حضرت مولانا مفتی محمد حسن نے علامہ شبیر احمد عثمانی، مولانا ظفر احمد عثمانی، مفتی حضرت مولانا محمد شفیع اور دیگر علماء دیوبند کے ہمراہ مسلم لیگ کا ساتھ دیتے ہوئے تحریک پاکستان میں بھر پور حصہ لیا، جس کے نتیجہ میں پاکستان بننے کے بعد مشرقی و مغربی پاکستان پر آزادی کا پرچم لہرانے کی سعادت ’’بزم اشرف‘‘ کے روشن چراغ اور دار العلوم دیوبند کے قابل فخر سپوت علامہ شبیر احمد عثمانی اور مولانا ظفر احمد عثمانی کو حاصل ہوئی۔

مولانا عبدالرحمن اشرفی بھی حضرت مولانا اشرف علی تھانوی کی شخصیت اور تصنیفات سے بڑے متاثر تھے ۔ فرقہ واریت کے خاتمہ اور اتحاد بین المسلمین کے فروغ کیلئے مولانا اشرف علی تھانوی کے اس زریں اصول کہ اپنے مسلک کو چھوڑو نہیں اور کسی کے مسلک کو چھیڑو نہیں کو متعارف کرانے میں بنیادی کردار ادا کیا اور یہ اصول آج پاکستان کی قومی و صوبائی اور دیگر امن کمیٹیوں کا ضابطہ اخلاق بن چکا۔ اللہ تعالیٰ نے مولانا عبد الرحمن اشرفی کو بے پناہ محبوبیت و مقبولیت سے نواز ا، جس مجلس میں ہوتے میر محفل اور مرکز نگاہ بن جاتے جوبھی آپ سے ملتا، آپ کے اعلیٰ اخلاق اور بلند کردار سے متأثر ہو کر آپ ہی کا ہو کر رہ جاتا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو قوت استدلال ، الفاظ پر گرفت، غضب کا حافظہ اور ذہانت کی دولت سے نوازا تھا.

مشکل سے مشکل الفاظ بھی بڑی خوبصورتی اور تسلسل روانی کے ساتھ ’تسبیح‘ کے دانوں کی طرح ایک خاص تربیت اور انداز کے ساتھ آپ کے منہ سے ادا ہوتے چلے جاتے، کسی بھی مسئلہ کو سمجھانے کیلئے قرآن و حدیث سے دلائل و براہین کے انبار لگا کر دیکھنے اور سننے والے کو حیران کر دیتے ۔ آپ کا دماغ معلومات کا خزانہ اور کمپیوٹر محسوس ہوتا، دوران تقریر حضور اکرمؐ ، صحابہ کرامؓ و اہل بیت عظامؓ، اولیاء کرامؒ اور اکابرین و اسلام کے حالات و واقعات کو انتہائی تسلسل اور پر اثر انداز میں بیان کرتے کہ سننے والا متاثر ہوئے بغیر نہ رہتا۔ آپ کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ آپ ہر کام میں سے اسلام اور مسلک کی خدمت کا کوئی نہ کوئی پہلو ضرور نکال لیتے ، مشکل اور پیچیدہ مسائل کو منٹوں میں حل کر لیتے، آپ اتحاد امت کے بہت بڑے داعی تھے۔ مولانا عبد الرحمن اشرفی ایک سچّے عاشق رسولؐ تھے۔ حضور اکرم ؐکا نام مبارک لیتے ہوئے عقیدت و محبت سے آبدیدہ ہو جاتے ۔ جمعۃ المبارک کو بعد ا ز نماز عصر جامع مسجد حسن میں بڑی باقاعدگی کے ساتھ درود شریف کی محفل ہوتی، ہر سال 12 ربیع الاول کو حضور اکرم ؐ کے موئے مبارک کی زیارت اپنی نگرانی میں کراتے ، ختم بخاری شریف اور رمضان المبارک کی ستائیسویں شب کو تقریر اور پھر بڑے ہی رقت آمیز انداز میں دعاء کراتے جس میں علماء و طلباء سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ ہزاروں افراد شرکت کرتے۔ آپ نے ہمیشہ شہرت اور سرکاری منصب سے راہِ فرار اختیار کرتے سرکاری منصب و ممبری پر مسجد و مدرسہ اورممبر و محراب کو ترجیح دیا، لیکن اس کے باوجود لاکھوں لوگ آپ سے عقیدت و محبت رکھتے تھے۔

خدمت خلق کا جذبہ بھی آپ کے اندر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا، غریب و مستحق افراد اور طلباء کی ہر ممکن مدد کرتے مخلوقِ خدا کی تکلیف پر تڑپ اٹھتے اور ان کیلئے رو رو کر دعائیں کرتے معاشی تنگی اور قرض کے بوجھ سے تنگ افراد کی طرف سے خودکشی کے جواز کا فتویٰ پوچھنے، زلزلہ زدگان اور سیلاب متأثرین کے جانی و مالی نقصان پر انتہائی پریشان و مضطرب ہو کر خطبات جمعۃ المبارک  ذرائع ابلاغ اور میڈیا کے ذریعہ آپ نے پاکستان سمیت پوری دنیا میں اعلان کر دیا کہ ان حالات میں مسلمان نفلی حج و عمرہ میں اربوں روپے خرچ کرنے کی بجائے انسانیت کی خدمت، سیلاب متأثرین اور خود کشیوں پر مجبور لوگوں کی مالی مدد کریں اس سے کئی حج و عمرہ کا ثواب ملے گا۔ آپ فرماتے تھے کہ معاشرہ میں غربت و سفید پوشی کی وجہ سے ماں باپ اپنی بچیوں کی شادی کے اخراجات نہ ہونے کی وجہ سے شدید پریشان ہیں، جوان بچیاں بڑھاپے کی جانب بڑھ رہی ہیں شادی کیلئے ان کی مالی مدد کرنا خدا کو راضی کرنے اور جنت کے حصول کا آسان ذریعہ ہے۔ آپ کی علمی و روحانی مقام کی پوری دنیا معترف ہے۔

آپ کی تفسیر ’’ نکات القرآن‘‘ سمیت دیگر تصانیف علمی حلقوں میں انتہائی مقبول ہیں ۔ سیرت النبی ؐکے موضوع پر کئی کئی گھنٹے اپنے مخصوص انداز اور عشق نبویؐ میں ڈوب کر بیان کرتے، تو عقیدت و محبت میں خود بھی روتے اور سامعین کو بھی رلاتے ۔ آپ کی روشن زندگی جہد مسلسل سے عبارت تھی۔ تمام زندگی دعوت و تبلیغ، درس وتدریس ، تحریر و تصنیف ، قیام امن اتحاد بین المسلمین کے فروغ ، اسلام اور وطن عزیز کی سالمیت اور مختلف باطل فتنوں کے علمی تعاقب میں گزری ۔ آخر کار 22جنوری 2011ء کو علم کا یہ آفتاب و ماہتاب اپنے بیٹوں صاحبزادہ احمد حسن اشرفی، حماد حسن اشرفی اور صاحبزادہ محمد حسن اشرفی سمیت ہزاروں شاگردوں اور لاکھوں عقیدت مندوں کو روتا اور تڑپتا چھوڑ کر غروب ہوگیا۔ آپ کے وفات کی خبر جنگل کی آگ کی طرح ہر طرف پھیل گئی، پوری دنیا سے لوگ ٹیلیفونوں کے ذریعہ تصدیق کر رہے تھے۔

 مولانا مجیب الرحمن انقلابی

کاہنہ – ضلع لاہور

یہ دو آبادیوں پر مشتمل ایک قصبہ ہے ،جو ضلع لاہور میں شامل ہے۔ یہ قصبہ لاہور- قصور روڈ پر لاہور سے ۱۵ میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ سکھ مت کے بانی گورونانک کی والدہ کا تعلق اسی قصبے سے تھا۔ اس کو سندھو جاٹ قوم کے کاہنہ نامی زمیندار نے آباد کیا تھا۔ دوسری آبادی بھی ایک زمیندار کاچھہ کے نام سے تھی۔ مغلوں کے زوال کے زمانے میں جب جے سنگھ اور سوبھا سنگھ کنہیا مثل کے سردار بنے اور انہو ں نے پنجاب کو خوب لُوٹا۔ وہ یہیں کے رہنے والے تھے اور اس وجہ سے اس قصبے کی آبادی اور رونق میں اضافہ ہو گیا. کیونکہ دیگر علاقوں کے لوگ یہاں آکر اس وجہ سے پنا ہ لیتے کہ اسے دیگر لوگ لُوٹنے سے گریز کرتے۔

اس کی آبادی اتنی بڑھی کہ ایک نئی آبادی اور بن گئی ،جو نیا کاہنہ کے نام سے مشہور ہوئی۔ اس کی غلہ منڈی نواحی دیہات کے لیے مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ طلبا او رطالبات کے لیے علیحدہ علیحدہ ہائی، مڈل اور پرائمری سکول ہیں۔ مربوط دیہی ترقیاتی مرکز، تھانہ، ڈاکخانہ اورہسپتال بھی ہیں۔ اس کی آبادی ۱۹۸۱ء میں ۱۹۱۶۹ اور ۱۹۹۸ء کی مردم شمار ی کے مطابق ۳۸۲۷۹ نفوس پر مشتمل تھی.

(کتاب ’’نگر نگر پنجاب:شہروں اور قصبات کا جغرافیائی، تاریخی، ثقافتی اور ادبی انسائیکلوپیڈیا‘‘ سے مقتبس)

 

واہگہ بارڈر پر پرچم اتارنے کی تقریب, فضا اللہ اکبر اور پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونجتی رہی

.لاہور : واہگہ بارڈر پر سبز ہلالی پرچم اتارنے کی تقریب

 

 

 

 

مینار پاکستان : پاکستان کے شاندار ماضی اور تابناک مستقبل کی علامت

مینارِ قار داد پاکستان کی مجلسِ تعمیر کی نشست تھی، میز کے اردگرد تمام اراکین جمع تھے، میں آج ان میں پہلی بار شامل ہوا تھا۔ کاروائی کی پہلی شقِ غور کے لیے پیش ہوئی، میرا ذہن اس وقت برنارڈ شا کے اس مقولے پر غور کرنے میں مصروف تھا کہ وہ مقام جہاں خواہشِ قلبی اور فرضِ منصبی کی حدیں مل جائیں اسے خوش بختی کہتے ہیں۔ میں بلحاظ عہدہ اس مجلس کی صدارت کر رہا ہوں مگر عہدے کو ایک عہدِ وفا کا لحاظ بھی تو لازم ہے۔ میرے عہدے کا تعلق تعمیر سے ہے، میرے عہد کا تعلق تحریک سے تھا۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے اسے سنگ و خشت کے بجائے جہانِ نو کی تعمیر اور افکارِ نو کی تعبیر سمجھا۔ میں نے اس مینار کو با الفاظِ اقبال جلوہ گہِ جبرئیل جانا اورسوچا۔ باکہ گویم سرایں معنی کہ نورِ روئے دوست بادماغِ من گل و باچشمِ موسیٰ آتشست عرفی مینار کی تعمیر کے ابتدائی دنوں میں جب میرا اس کی تعمیر سے کوئی سرکاری تعلق نہ تھا میں محض تعلق خاطر کے واسطہ سے وہاں جا پہنچا۔

بنیادیں بھری جا چکی تھیں، باغ میں ہر طرف ملبہ پھیلا ہوا تھا، مینار بلندی کی طرف مائل تھا، روکاربا نسوں کی باڑ میں یوں چھپی ہوئی تھی کہ عمارت تو نظر نہ آئی مگر اردو شاعری میں چلمن کا مقام مجھ پر واضح ہو گیا۔ نزدیک جانا چاہا تو چوکیدار نے سختی سے روک دیا۔ یہ تو اس چوکیدار کا ہمسر نکلا جسے مولوی عبدالحق نے وائسرائے کو ٹوک دینے پر آثار قدیمہ سے نکال کر چند ہم عصروںمیں شامل کر لیا تھا۔ اب کہاں روز روز عبدالحق پیدا ہوں گے اور کسے فرصت ہو گی کہ عصرِ نو کے ملبے میں عزتِ نفس کی تلاش کرے اور ایسے چھوٹے چھوٹے واقعات پر مضمون لکھا کرے۔ میں نے چوکیدار سے پوچھا یہ کیا بن رہا ہے؟ کہنے لگا یادگار بن رہی ہے۔ آج جب کاروائی کے لئے پہلا مسئلہ پیش ہوا تو میں نے کہا اسے ملتوی کیجیے تا کہ ایک اور ضروری بات پر بحث ہو سکے۔ میز پر لغات کا ڈھیر لگ گیا۔ سب متفق ہوئے کہ یادگار وہ نشانِ خیر ہے جو مرنے کے بعد باقی رہے۔ جب یادگار کا عام تصور موت اور فنا کے تصور سے جُدا نہ پایا تو منصوبے سے یادگار کا لفظ خارج کر دیا۔ میز صاف کی گئی، لغات کی جگہ مینارِ قرار دادِ پاکستان کے نقشے پھیلائے گئے۔ جو تھوڑی بہت جگہ بچ گئی اس میں چائے کی پیالیاں سجائی گئیں۔ چائے شروع ہوئی تو بات بہت دُور جا نکلی۔

کہتے ہیں جب اہرامِ مصر کا معمار موقع پر پہنچا تو اس نے صحرا کی وسعت دیکھ کر فیصلہ کیا کہ عمارت بلند ہونی چاہیئے۔ پھر اس نے بھر بھری اور نرم ریت کو محسوس کیا اور سوچا کہ اس عمارت کو سنگلاخ بھی ہونا چاہیئے۔ جب دھوپ میں ریت کے ذرے چمکنے لگے تو اسے خیال آیا کہ اس کی عمارت شعاعوں کو منعکس کرنے کے بجائے اگر جذب کر لے تو کیا اچھا تقابل ہو گا۔ ہوا چلی تو اسے ٹیلوں کے نصف دائرے بنتے بگڑتے نظر آئے اور اس نے اپنی عمارت کو نوک اور زاویے عطا کر دئیے۔ اتنے فیصلے کرنے کے بعد بھی اسے طمانیت حاصل نہ ہوئی تو اس نے طے کیا کہ زندگی تو ایک قلیل اور مختصر وقفہ ہے وہ کیوں نہ موت کو ایک جلیل اور پائیدار مکان بنا دے۔ اب جو یہ مکان بنا تو لوگوں نے دیکھا کہ عجائبِ عالم کی فہرست میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اہرام کے معمار کو اگر اقبال پارک میں لاکھڑا کرتے تو اسے نہ جانے کیا کچھ نظر آتا اور وہ اس عمارت کو نہ معلوم کیا شکل دیتا۔ اس کی غیر حاضری میں ہمیں یہ طے کرنے میں بڑی مشکل پیش آئی کہ قرار دادِ پاکستان کو علامت اور عمارت کے طور پر کیا صورت دی جائے۔

باغ، جھیل، فوارے، مسجد، کتب خانہ، عجائب گھر، ہال ہسپتال دروازہ، درس گا یا مینار۔ فہرست کچھ اسی قسم کی بنی تھی اور بحث وتمحیص کے بعد کامیابی کا سہرہ سرِ مینار سجایا گیا۔ موقع و محل کی نسبت ہو یا صورت و ساخت کی نسبت ماہرین کا متفق ہونا ممکن نہیں۔ اقبال پارک کے مشرق اور شمال میں وسعت اور ہریالی،مغرب میں ایک محلہ، کچھ جھگیاں اور گندہ نالہ، جنوب میں قلعہ، گوردوارہ اور مسجد عالمگیری واقع ہے۔ سطحِ زمین سے دیکھا جائے تو تین سفید بیضوی نوک دار گنبد اور چار بلند سُرخ پہلو دار مینار اس قطعے پر حاوی ہیں۔ ذرا بلندی سے دیکھیں تو اندرونِ شہر، دریائے راوی اور جہانگیر کے مقبرے کے چار مینار بھی اس منظر کا حصہ بن جاتے ہیں۔ آٹھ میناروں کے ہوتے ہوئے نویں مینار کا اضافہ کسی نے حسن جانا اور کسی نے بد ذوقی۔ اس بات کو البتہ سبھی تسلیم کرتے ہیں کہ عمارت اپنی نسبت کی حیثیت سے منفرد ہے۔

دنیا میں کہیں کسی قرار داد کو منظور کرنے کی یاد اس طرح نہیں منائی گئی کہ جلسہ گاہ میں ایک مینار تعمیر کر دیا جائے۔ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ مینار کی ابتدائی صورت دفاعی ضرورت کے تحت وجود میں آئی، پھر اس کی علامتی حیثیت قائم ہوئی، اس کے بعد یہ دین کا ستون بنا اور آخرکار نشانِ خیر کے طور پر بنایا جانے لگا۔ مینارِ قرار داد ان ساری حیثیتوں پر محیط ہے۔ یہ نظریاتی دفاع کی ضرورت، تحریکِ آزادی کی علامت، دین کی سرفرازی کا گواہ اور ہماری تاریخ کا ایک نشانِ خیر ہے۔ دفاعی میناریوں تو میسو پوٹیمیا کی اختراع بتائے جاتے ہیں۔ مگر ان کو سب سے زیادہ استعمال کرنے والے اہلِ روم اور بازنطینی تھے۔ ان کے یہاں شہر کی فصیل سے لے کر ہر بڑی حویلی میں جا بجا مینار بنے ہوئے تھے۔

ان دنوں دنیا کی آبادی مختصر اور جغرافیے کا علم کم تر تھا، فنِ حرب کا درجہ بھی پست تھا، حملہ آور گنے چُنے اور ان کے ہتھیار دیکھے بھالے تھے لہٰذا دفاع کے لئے یہ کوتاہ قامت مینار ہی بہت کافی تھے۔ علم اور آبادی دونوں میں اضافہ ہوتا گیا۔ فنِ حرب کا درجہ بھی بلند ہوتا چلا گیا، جنگوں کی تعداد اور شدت میں بھی اضافہ ہو گیا۔ جگہ جگہ مضبوط سے مضبوط اور بلند سے بلند تر مینار بننے لگے۔ آبنائے باسفورس، جنوبی فرانس اور وسط چین کی مشہور فصیلیں اور مینار اسی دور کی یادگار ہیں۔ دیوارِ چین میں جو اب ہاتھی کے دانت کی طرح صرف دکھانے کے کام آتی ہے جابجا دفاعی مینار اور بُرج بنے ہوئے ہیں۔ چین گئے تو دیوار دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ دیوار بھی دیکھی اور اہلِ دیوار بھی۔ معلوم ہوا کہ جو کام پہلے دیواروں سے لیا جاتا تھا وہ اب دیوانوں سے لیتے ہیں۔ جہاں لوگ شانہ بشانہ صف بصف ایک دوسرے سے پیوست ہو جائیں تو وہی سدِ سکندری ہے اور وہی سدِ یاجوج۔ ایک دن ہم دیوار کی طرف روانہ ہوئے، سڑک میدان سے گزر کر پہاڑی سلسلے میں داخل ہو چکی تھی۔ دور سے ایسا معلوم ہوا کہ جہاں پہاڑ اور افق ملتے ہیں وہاں کسی نے سیاہ پنسل سے ایک مدھم سی کلیر لگا دی ہے۔

کچھ اور آگے گئے تو دور تک سلسلہ کوہ سنجافی نظر آیا۔ نزدیک پہنچے تو یہ مدھم سی لکیر حیرت کدۂ ہنر بن گئی اور جسے ہم نے سنجاف سمجھا تھا وہ ایک سنگلاخ حقیقت نکلی۔ دیوار عمودوار ایک پہاڑ پر چڑھتی تھی اور چوٹی پر ایک دفاعی مینار بنا ہوا تھا۔ میں نے جیب سے پچاس یوآن کا نوٹ نکالا اور ساتھیوں سے کہا کہ یہ انعام مینار پر سب سے پہلے پہنچنے والے کو ملے گا۔ سبھی بھاگ پڑے اور میں نے جانا کہ یہ نوجوان بھی پسماندہ ملکوں کی طرح زرِ مبادلہ کی دوڑ میں شریک ہو گئے ہیں۔ ذرا سی دیر میں بھاگنے والوں کا دم پھول گیا اور وہ ایک ایک کر کے فرش پر بیٹھ گئے۔ مینار اب بھی اتنا ہی دور نظر آتا تھا اور اگر اس میں یہ خوبی نہ ہوتی تو اب تک دیوارِ چین میں کئی بار نقب لگ چکی ہوتی۔ یہ کام جو بڑے بڑے ملک نہ کر سکے اُردو شاعری نے کر دکھایا شعر ہے۔ میرے شیون سے فقط قصر فریدوں نہ گرِا سدِا سکندرِ اورنگ نشین بیٹھ گئی اب صرف حضرتِ ناظم کو جن کا یہ شعر ہے کیوں قصور وار ٹھہرائیے، قصور ہے تو خود ہمارے مزاج کا۔

دیوار چین تو نہیں البتہ دیوار چمن تو حضرتِ غالب نے بھی ڈھا دی تھی، کہتے ہیں۔ برشگالِ گر یہ عاشق ہی دیکھا چاہیے کھل گئی مانند گل، سوجا سے دیوارِ چمن دفاعی مینار پر چڑھنے کی جو حسرت دل کی دل میں رہ گئی تھی اسے میں نے مغربی پاکستان کے قبائلی علاقے میں جا کر پورا کیا۔ میں نے ایک سردار کے یہاں کھانا کھایا اور مہمان کا حقِ آسائش استعمال کرتے ہوئے مٹی کے اس مینار پر جا چڑھا جو حویلی ک یایک کونے میں بنا ہوا تھا۔ باہر سے تو اس کی لپائی کی ہوئی تھی مگر اندر سے مینار تاریک اور خستہ تھا۔ خاک ریز سے جو روشنی کی کرن اندر آتی تھی وہی ہمارا زینہ تھا۔ مینار کی شہ نشین میں ایک ٹوٹی کرسی اور چند کارتوس پڑے ہوئے تھے۔ پاس ہی ایک ٹرانسسٹر بج رہا تھا۔ میں نے کبھی ٹاٹ میں مخمل کا پیوند تو نہیں دیکھا مگر میسوپوٹیمیا کے دفاعی میناروں کی طرز کے ہزار ہا سال پرانے مٹی کے میناروں میں بیسویں صدی کا گاتا بجاتا پیوند لگا ہوا ضرور دیکھا ہے۔

(آوازِ دوست از مختار مسعود)

میاں طفیل محمدؒ – 1913ء – 2009ء

اس دنیا میں جو آیا ، اسے جانا ہے ۔ خو ش قسمت ہے وہ شخص جو یہاں
مسافروں کی طرح زند گی گزارے اور اپنے اصلی گھر جائے تو وہاں اسے آباد پائے ۔ یہ دنیا ئے فانی ہر مسافر کا دامن کھینچتی ہے، مگر سمجھدار مسافر اسے جھٹک کر اپنا دامن بچالے جاتا ہے۔ ’’ کل من علیھا فان ویبقٰی وجہ ربک ذوالجلال والاکرام‘‘۔۔۔ 25؍جون2009ء کو نماز مغرب سے ذرا قبل اللہ کا ایک ایسا بندہ اللہ کے دربار میں حاضر ہوا ، جس کی پوری زندگی، ظاہر و باطن ، سفر وحضر  خوشی و غمی ، غصہ و رضا ، غرض ہرمعاملے میں یک رنگ تھی ۔ نماز کے دوران دربار خداوندی میں اس کی حاضری کی کیفیت مکمل وارفتگی کا ایمان افروز نمونہ ہوتی تھی۔ اس خوش نصیب انسان کی ہرنماز حدیث پاک کے مطابق یہ تصور اجاگر کرتی تھی کہ گویا وہ بندۂ خدا الوداعی نماز ادا کررہا ہے ۔ اس شخص نے واقعی اپنی پوری زندگی ایک ایسے ذمہ دار مسافر کی حیثیت سے گزاری ، جسے صعوبتوں کے باوجود اپنی منزل کا پورا شعور بھی ہوتا ہے اور اس تک پہنچنے کے لئے ہر لمحے فکر مندی بھی ۔ یہ تھے میاں طفیل محمد ؒ جو زندگی کی 96بہاریں مکمل کرکے 25؍جون2009ء کو شیخ زائد ہسپتال میں دائمی اور میٹھی نیند سوگئے اور اگلے روزمنصورہ میں بعد نماز جمعہ ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں نماز جنازہ کے بعد کریم بلاک، علامہ اقبال ٹاؤن کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوگئے۔۔۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔

میاں طفیل محمد مرحوم جماعت اسلامی کے سابق امیر تھے اور اپنی وفات کے وقت تک ادارہ معارف اسلامی لاہور کے چیئر مین ، رابطہ عالم اسلامی کے رکن اور رابطہ کے تحت قائم عالمی مساجد کونسل کے ممبر تھے۔ میاں طفیل محمد مولانا سید ابولاعلیٰ مودودی ؒ کے معتمد ترین ساتھی تھے اور جماعت کی تنظیم میں طویل عرصے تک ان کے ساتھ قیم کی حیثیت سے فرائض اداکرتے رہے۔ مولانا مودودی ؒ کی جانشینی کا شرف بھی انہیں حاصل ہوا اور نہوں نے مشکل اور پُرآشوب حالات میں جماعت اسلامی کی قیادت کا حق بھی ادا کیا۔ مولاناؒ مودودی اور میاں طفیل محمدکے درمیان مثالی اخوت و محبت کا تعلق قائم تھا۔ دونوں عظیم انسان تھے، خیر کے عَلم بردار ،طاغوت کی حکمرانی کے لئے ننگی تلوار!

میاں طفیل محمد مشرقی پنجاب کی ریاست کپور تھلہ کے ایک گاؤ ں رائے پور آرائیاں میں نومبر 1913ء میں پیدا ہوئے ۔ان کا تعلق متوسط درجے کے ایک کاشت کار گھرانے سے تھا ، جس کے افراد اپنی شرافت و دیانت ، تعاونِ باہمی اور اتفاق و محبت کی وجہ سے پورے علاقے میں معزز و محترم مقام کے حامل تھے۔ ان کے خاندان کے بزرگان گاؤں میں نمبر دار اور ذیلدار تھے۔ میاں طفیل محمدکے تایا چودھری رحمت علی کپور تھلہ اسمبلی کے ممبر بھی چنے گئے تھے۔ میاں طفیل محمداپنی خود نوشت سوانح ’’ مشاہدات ‘‘میں بیان فرماتے ہیں کہ بچپن کے زمانے میں وہ گلی کوچوں میں کھیلنے اور شور و ہنگامہ کرنے والے بچوں سے بہت کم ملا کرتے تھے،اس کے برعکس نصابی سرگرمیوں سے فارغ ہونے کے بعد بیش تر وقت بزرگوں اور بااثر لوگوں کی مجالس میں گزارا کرتے تھے ، جس سے ان کی طبیعت میں سنجیدگی اور تفکر و تدبر پیداہوا۔

میاں طفیل محمد کو اپنے خاندان کے بزرگوں کے علاوہ بچپن اور لڑکپن میں جن لوگوں سے نیاز حاصل رہا ،ان میں امیرِ شریعت حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاری ، مولانا محمد بخش مسلم ، مولانا عبدالحنان ، مولانا محمد جعفر شاہ پھلواروی ،مولانا جلال الدین گورداسپوری اور مولانا پیر فضل محمد خاص طورپر قابل ذکر ہیں۔ آخر الذکر بزرگ مولانا مودودی ؒ کے ابتدائی ساتھی سید عبدالعزیز شرقی مرحوم کے والد گرامی تھے۔ میاں طفیل محمد کی طبیعت میں پیدائشی طور پر سنجیدگی تھی۔ محنت کی عادت کے ساتھ اللہ نے انہیں بے پناہ ذہانت بھی بخشی تھی۔ ہر امتحان میں شان دار کامیابی حاصل کرتے ہوئے گورنمنٹ کالج لاہور میں آئے ۔ گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلے کے وقت امیدوار سے ایک سوال یہ پوچھا جاتا تھا کہ آپ کا کوئی خونی رشتے دار اس کالج میں طالب علم رہ چکا ہے ؟ میاں طفیل محمد نے اس پر برجستہ جواب دیا کہ میں اگر تعلیمی قابلیت کے لحاظ سے معیار پر پورا اُترتا ہوں تو مجھے داخلہ دیا جائے ،قرابت داری (kinship) کامعاملہ بھی آئندہ چل پڑ ے گا،جب ہمارے خاندان کے کسی شخص کو آپ داخلہ ہی نہیں دیں گے تو قرابت داری کا خانہ کیسے پُر ہوسکتا ہے ۔
میاں طفیل محمد سائنس کے طالب علم تھے ۔ کالج سے بی ایس سی کا امتحان اعزاز کے ساتھ پاس کیا۔ میاں طفیل محمدکے اپنے بقول کپور تھلہ میں ہندو اور سکھ معیشت پر قابض تھے، بالخصوص ہندو بنئے نے اپنے سودی کارو بار میں مسلمانوں کو بری طرح جکڑ رکھا تھا۔ اس حوالے سے جب معاملات عدالتوں میں جاتے تو وہاں مجسٹریٹ ، جج اور وکلاسبھی غیر مسلم ہوتے تھے۔ خود میاں طفیل محمد کے خاندان کو بھی سود خوروں کے اس جال سے واسطہ پڑا، چنانچہ خاندان کے لوگوں نے طے کیا کہ ان کا یہ ہونہار سپوت سائنس کے بجائے قانون کی تعلیم حاصل کرے۔ اسی فیصلے کے تحت میاں طفیل محمد نے سائنس کے مضامین پسندیدہ ہونے کے باوجود بادلِ نخواستہ سائنس میں ماسٹر کرنے کے بجائے لاء کالج لاہور سے ایل ایل بی کا امتحان دیا اور اس میں بھی شان دار کامیابی حاصل کی ۔ میاں طفیل محمد کے والدِ گرامی میاں برکت علی سکول ٹیچر تھے اور کمال یہ ہے کہ علی الصبح اپنے بھائیوں کے ساتھ کھیتوں میں ہل چلاتے اور سکول کا وقت شروع ہونے سے قبل تیاری کرکے سکول پہنچ جاتے ۔ میاں طفیل محمد کے والد محترم کو ہم نے بھی دیکھا ۔ وہ بہت نیک اور سادہ طبیعت کے بزرگ تھے ۔ میاں صاحب امیر جماعت ہونے کے زمانے میں بھی اپنے والد کے سامنے یوں مودب کھڑے ہوتے، جیسے کوئی چھوٹا بچہ اپنے بزرگوں کے سامنے کھڑا ہوتا ہے ۔
میاں طفیل محمد کے دو بھائی اور ایک بہن بچپن میں ہی فوت ہوگئے تھے۔اب وہ تین بہنوں کے اکلوتے بھائی تھے ۔ میاں طفیل محمد کے وکیل بن جانے پر پورے خاندان، بلکہ ریاست کپور تھلہ کی ساری مسلم آبادی کو بڑی امیدیں وابستہ تھیں کہ اب یہ ہونہار نوجوان وکالت و عدالت میں نام بھی پیدا کرے گا اور اپنا معیار زندگی بھی بلند کرے گا۔ میاں طفیل محمدنے وکالت شروع کردی ، جس کی کامیابی کے بہت روشن امکانات تھے ۔اسی عرصے میں ان کی شادی بھی ہوئی، اہلیہ محترمہ بھی ایک بہت عظیم خاتون تھیں ۔ ہم نے ان کے حالات اپنی کتاب ’’مسافرانِ راہ وفا ‘‘میں تفصیلاً لکھ دیئے ہیں ۔اسی دور میں ان کے کانوں میں سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ کی دعوتِ حق نے رس گھولا۔ وہ ترجمان القرآن کے مضامین کے ذریعے اقامت دین کی اس دعوت سے روشناس ہوئے اور پھر زندگی کا دھارا بالکل تبدیل ہوگیا ۔ تمنائیں، آرزوئیں، معیارِ زندگی کے خواب اور حسین مستقبل کا تانا بانا سب منہ دیکھتے رہ گئے۔ مسافر اپنا دامن چھڑا کر ایک اور ہی منزل کی تلاش میں نئی راہوں پر چل نکلا ۔ میاں طفیل محمد کو جس مضمون نے زیادہ متاثرکیا، اس کا عنوان تھا:’’ راہ روپشت بہ منزل ‘‘۔۔۔ ( ترجمان القرآن جنوری 1940ء)۔ اس مضمون نے اس راہ رو کو منزل کا پتابتادیا اور وہ واقعی منزل سے ہم کنار بھی ہوا۔
جماعت اسلامی میں شمولیت کیسے اور کیوں کر ہوئی ؟ یہ ساری تفصیلات انہوں نے اپنی کتاب مشاہدات میں بیان کی ہیں اور اس میں ایک اہم بات یہ ہے کہ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ ،جن سے ان کا بچپن سے عقیدت مندی کا تعلق تھا ، انہیں مولانا مودودی ؒ تک پہنچانے کا ایک اہم ذریعہ بن گئے ۔ اس دور میں طفیل محمد بیک وقت عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے پُرجوش خطابات سے بھی متاثر تھے اور مولانا مودودی ؒ کی دل نشین تحریروں کے بھی گرویدہ تھے ۔ اب ان کے ذہن میں سوال پیدا ہوا کہ ان میں سے کس راہ پر چلیں ، اس کے جواب میں امیر شریعت نے یوں نصیحت فرمائی: ’’وکیل صاحب خدا لگتی پوچھتے ہوتو کرنے کا اصل کام وہی ہے جو سیدکا وہ لاہور ی لعل ( مولانا مودودی ؒ ) کہتا ہے ۔ اسی سید کے پاس جاؤ اور اس کے ساتھ مل کر کام کرو‘‘۔۔۔ ( بحوالہ مشاہدات از میاں طفیل محمد مطبوعہ ادار ہ معارف اسلامی ص56)۔۔۔ اسی سے میاں طفیل محمد کو یکسوئی حاصل ہوئی اور وہ جماعت کے تاسیسی اجلاس میں شریک ہوئے۔ تاسیسی اجلاس میں شرکت اور وہاں جماعت کی رکنیت کے لئے اپنے آپ کو پیش کرنے کا واقعہ ان کی کئی تحریروں، بالخصوص مشاہدات میں موجود ہے ۔ وہاں جو سوال جواب ہوئے اور میاں طفیل محمد جس ذہنی و قلبی کیفیت سے گزر ے  اس کی پوری تفصیل بھی ان کی تحریروں میں موجود ہے ۔ اس کے بعد کے مراحل ان کی سوانح اور جماعت کی تاریخ کا اہم ترین باب ہے۔
حافظ محمد ادریس