کیا ہم خود کو زیادہ خوش رکھ سکتے ہیں؟

خوش رہنے کی دعا عام طور پر دی جاتی ہے جس سے اس انمول شے کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ تاہم خوشی ہر ایک کا نصیب نہیں ہوتی۔ زندگی میں غم اور دکھ ہمارا پیچھا کرتے رہتے ہیں لہٰذا ضروری ہے کہ ان سے چھٹکارہ پانے اور خوشی حاصل کرنے کے طریقوں کا پتا چلایا جائے۔ بعض اوقات انسان خوشی پانے کے ہنر سے آگاہ نہ ہونے پر بھی زندگی کا لطف نہیں اٹھا پاتا۔ ان لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا شروع کریں جن سے آپ کو مسرت اور دلی سکون ملتا ہے۔ عام طور پر ہمارا دن تین حصوں میں تقسیم ہوتا ہے۔ گھر، دفتر اور دوست۔ تینوں میں خوشی کی تلاش اور پریشانیوں سے نجات کے لیے قدرے مختلف حکمت عملی ضرورت ہوتی ہے۔

گھر میں شریک حیات کے ساتھ بہتر اور خوش گوار تعلقات کا ہونا ضروری ہے۔ دفتر میں اپنے ہنر کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ کام کرنے والوں سے اچھا تعلق ہونا چاہیے۔ ایسی جگہ کام کرنے کو ترجیح دینی چاہیے جہاں کا ماحول آپ کو پریشان نہ کرے۔ منفی خیالات اور جذبات کو اپنے ذہن میں نہ آنے دیں کیونکہ یہ ہماری خوشی کے دشمن بن جاتے ہیں۔ ان اندرونی خیالات کی وجہ سے بیرونی خوشی کا احساس نہیں ہو پاتا۔ آئیے اس بارے میں مزید جانتے ہیں۔ خوشی کاارادہ کریں خوش رہنے کے لیے شعوری فیصلہ کرنا چاہیے ۔

معروف برطانوی فلسفی برٹرینڈ رسل اپنی کتاب کنکوئسٹ آف ہیپینس میں کہتے ہیں کہ خوشی انعام کی صورت میں نہیں ملتی اسے پانا پڑتا ہے۔ اسے پانے کے لیے انسان کو اپنی اندرونی اور بیرونی دنیا کو بدلنے کی کوششیں کرنا ہوتی ہے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق خوش رہنے کے لیے خوش رہنے کا ارادہ کرنا ضروری ہے۔ اپنے آپ سے خوش رہنے اور پریشان نہ ہونے کا عہد کرنا ہوتا ہے۔ خوشی کو اپنی زندگی کے بڑے مقاصد میں سے ایک بنانا پڑتا ہے۔ خوشی کے چھوٹے سے موقع کو بھی اہم جاننا چاہیے۔ دوسروں کی تعریف کریں شاید ہی کوئی فرد اپنی تعریف نہ سننا چاہے لیکن دوسروں کی تعریف کرنے میں کنجوسی پرتی جاتی ہے۔ اگر کسی نے تھوڑا سا بھی اچھا یا نیکی کا کام کیا ہے تو اس کی تعریف ضرور کرنی چاہیے اور شکریہ بھی ادا کرنا چاہیے۔ یہ کھلے دل کی علامت ہے۔ تنگ دل لوگ نہ خود خوش ہو پاتے ہیں اور نہ ہی دوسروں کو خوش دیکھ پاتے ہیں۔ ان میں خود کو شامل مت کیجیے۔ لوگوں کی مناسب انداز میں تعریف کر کے آپ نا صرف ان کے لیے مسرت کا سامان پیدا کریں گے بلکہ وہ آپ کے بارے میں مثبت تاثر قائم ہوتا ہے۔ گھر ہو یا دفتر تعریف کرنے سے لوگوں کے رویے بہتر ہوتے ہیں۔

اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ بے جا تعریف کی جائے۔ معاف کرنا سیکھیں کسی نے آپ کے ساتھ کچھ برا کیا ہو تو دکھ اور تکلیف کا ہونا فطری ہوتا ہے۔ لیکن اگر یہ دل و دماغ پر چھا جائے توانسان ہمہ وقت کوفت میں رہتا ہے جس سے خوشی جاتی رہتی ہے۔ بعض اوقات معاف نہ کرنے کی صورت میں پیدا ہونے والا ذہنی دباؤ ہمیں پریشان کیے رکھتا ہے ۔ یہ تشویش اورمایوسی کو بڑھا کر ہماری خوشی چھین لیتا ہے۔ اس سے چھٹکارہ پانے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ درگزر کو اپنی شخصیت کا حصہ بنالیں۔ معاف کرنا آسان نہیں ہوتا لیکن یہ ناممکن بھی نہیں۔ اگر کسی نے دھوکا دیا ہے تو معاف کرنے کی جانب پہلا قدم یہ ہو گا کہ آپ دھوکا دینے والے کے نکتہ نظر سے حالات کا جائزہ لیں اور یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ اس نے ایسا کیوں کیا ہو گا۔ اس وقت کو یاد کریں جب آپ نے کسی کو معاف کیا تھا۔ اپنے آپ سے کا عہد کریں کہ آپ درگزر سے کام لیں گے اور پھر اس پر قائم رہیں۔ منفی خیالات دور بھگائیں جسمانی صفائی کی طرح ذہنی صفائی بھی لازمی ہے۔

جسم سے میل اور گندگی کو صاف کرنا پڑتا ہے تو ذہن سے منفی خیالات کو۔ان خیالات کی آمد از خود ہوتی ہے تاہم انہیں ذہن سے نکالنے کے لیے شعوری کوشش کرنا پڑتی ہے۔ یہ مختلف طریقوں سے کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے سب سے پہلے اس وقت کویاد کرنا چاہیے جب منفی خیالات وارد نہیں ہوئے تھے۔ اس کے بعد زندگی کے مثبت پہلوؤں کی جانب توجہ مبذول کرنی چاہیے۔ متعدد سرگرمیاں منفی خیالات کو ذہن سے نکالنے میں مدد دیتی ہیں۔ ان میں مراقبہ، سیروسیاحت اور کتب بینی شامل ہیں۔ دولت خوشی نہیں خرید سکتی زندگی کی بنیادی ضروریات کا پورا ہونا ضروری ہے جس کے لیے دولت کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن اگر دولت ہی کو خوشی سمجھ لیا جائے تو خوشی روٹھ جاتی ہے۔

دولت کو سب کچھ سمجھ کر اس کی دوڑ میں بعض لوگ اتنے اندھے ہو جاتے ہیں کہ انہیں اور کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ وہ اپنوں سے دور ہو جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ اپنے لیے بھی وقت نہیں نکال پاتے۔ یقینا دولت چاہیے ہوتی ہے لیکن اسے خوشی کی قیمت پر حاصل نہیں کرنا چاہیے۔ اچھے دوست بنائیں ان افراد سے دوستی کریں جو آپ کا خیال رکھتے ہیں اور جن کے ساتھ وقت بتا کر مسرت کا احساس ہوتا ہے۔ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ زیادہ تعداد میں اچھے دوست رکھنے والے افراد زیادہ خوش و خرم رہتے ہیں۔ پس نئے اور اچھے دوستوں کی تلاش شروع کیجیے۔ مقصد تلاش کریں روزمرہ کی زندگی میں بہت سے کام ہماری ضرورت ہوتے ہیں چاہے ہم انہیں پسند کریں یا نہ کریں۔

مثال کے طور پر ہمیں بعض اوقات اس جگہ بھی ملازمت کرنی پڑتی ہے جہاں ہم کرنا نہیں چاہتے۔ تاہم کچھ فارغ وقت بھی ملتا ہے جسے بہت سے لوگ ٹی وی، فلم یا انٹرنیٹ پر ضائع کر دیتے ہیں۔ اس کی ایک اہم وجہ زندگی میں مقصد نہ ہونا ہے۔ زندگی کا بامعنی اور بامقصد ہونا ضروری ہے ۔ جتنا وقت ملے اپنے مقصد کے حصول کی کوشش کرنی چاہیے۔ چاہے چھوٹا ہو یا بڑا اپنی زندگی کا کوئی مثبت مقصد بنائیں اور اسے پانے کے جتن کریں۔ اس سے خوشی اور روحانی سکون بھی ملے گا اور دوسروں کا بھلا بھی ہو گا۔

محمد اقبال

Advertisements

مشکل حالات سے کیسے نمٹیں؟

مثبت رویہ کامیاب زندگی کی کلید ہے۔ اچھے حالات میں تو مثبت رویہ رکھنا اتنا مشکل نہیں لیکن وقت پلٹا کھا جائے تو ہم اس سے دامن چھڑا لیتے ہیں۔ جان رکھیں کہ ناکامیاں، مشکلات اور پریشانیاں بھی زندگی کا ہی حصہ ہیں، چاہے وہ چھوٹی ہوں یا بڑی، اس لیے اگر آپ واقعی ایک کامیاب شخصیت بننا چاہتے ہیں تو ہر طرح کے حالات میں اپنا رویہ اور سوچنے کا انداز برقرار رکھنا پڑے گا۔ خراب حالات کے باوجود اپنی سوچ کو ہمیشہ بہتر رکھنے کے لیے کچھ آزمودہ طریقے ہیں، جیسا کہ

وقفہ لیں آپ کی زندگی معمول کے مطابق گزر رہی ہو تو ایسا لگتا ہے کہ یہ ہمیشہ ہی ایسی رہے گی، پھر اچانک کچھ ہو جاتا ہے۔ آپ کے تمام منصوبے درہم برہم ہو جاتے ہیں، ہم حیران رہ جاتے ہیں اور پھر ردِ عمل دکھاتے ہیں۔ بد قسمتی سے یہی ردِ عمل بسا اوقات مسئلے کو خطرناک بنا دیتا ہے۔ ہم ایسے فیصلے کرتے ہیں جو اچھی طرح سوچ بچار کے بعد نہیں کیے جاتے۔ اس لیے جب بھی ایسے حالات کا سامنا ہو، کچھ قدم پیچھے ہٹیں اور مسئلے کے بارے میں سوچیں۔ یہ قدم آپ کو اس کا معقول حل سوچنے کا موقع دے گا۔

منزل پر نظر ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ ایسے حالات میں توجہ ان چیزوں پر چلی جاتی ہے جن پر نظر ڈالنے کی چنداں ضرورت نہیں ہوتی۔ گاڑیوں کی ریس میں جب ڈرائیور کو مشکل صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ اپنی نظر آگے کی طرف رکھتے ہیں، ورنہ ان کی گاڑی تباہ ہونے کا خطرہ زیادہ ہو جاتا ہے۔ یعنی ان کی نظر ہدف پر رہتی ہے اور یہی رویہ انہیں مسئلے سے باہر نکالتا ہے۔ توجہ حل پر، مسائل پر نہیں خراب حالات خاموش نہیں رہتے، وہ چیخ چیخ کر آپ کی توجہ اپنی جانب مبذول کرواتے ہیں اور آپ اس پر بھرپور ردِ عمل دکھاتے ہیں۔

اتنا کہ اُٹھتے بیٹھتے بات بھی انہی مسائل کے بارے میں کرتے ہیں یعنی انہیں ضرورت سے زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ مسئلے کے بجائے اگر آپ اس کے حل پر بات کریں تو یہ حالات آپ کو بہت کچھ سکھا سکتے ہیں۔ اس لیے شکوہ شکایت کے بجائے مسئلے کے حل کی حوصلہ افزائی کریں اور مثبت نتائج پر زور دیں۔ مثبت طاقت حاصل کریں ذہن کی ساخت کچھ ایسی ہے کہ اسے کسی سمت میں بس دھکا دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ پھر یہ پہاڑی سے لڑھکتے پتھر کی طرح ہو جاتا ہے اور اس سمت میں چلتا چلا جاتا ہے۔

اس لیے آپ کو اپنی سوچ کو مستحکم کرنے کے لیے کچھ کام کرنا ہو گا۔ جب خراب حالات آپ کے جذبات کو چھیڑیں تو کسی ایسے دوست سے ملاقات کریں جو آپ کے حوصلے بلند کرے۔ خود کلامی انسان کی سب سے بڑی طاقتوں میں سے ایک اپنی سوچ پر گرفت پانے کی قوت ہے۔ مسائل کے بجائے اپنی زندگی کی اچھی چیزوں پر سوچیں۔ خود سے بات کر کے زندگی کے مثبت پہلوؤں پر دھیان دیں، ان کا لطف اُٹھائیں اور خوشی اور سکون کو محسوس کریں۔ یہ وقت بھی گزر جائے گا اس جملے کو ہمیشہ اپنے ذہن میں تازہ رکھیں۔ کتنے بھی بُرے حالات ہوں، لیکن یہ وقت بھی گزر جائے گا۔ یوں آپ بدترین صورت حال میں بھی امید سے جڑے رہیں گے۔ اس سے آپ کا رویہ بھی بدلے گا، بہتر احساس بھی جنم لے گا اور آپ کو دوبارہ آگے بڑھنے کے لیے راستہ بھی ملے گا۔

زرتاشیہ میر

کامیاب افراد صبح 4 بجے کیوں اٹھتے ہیں؟

صبح سورج طلوع ہونے سے پہلے اٹھنا ہوسکتا ہے بیشتر افراد کو ناممکن کام لگتا ہو مگر بڑی تعداد میں کامیاب کاروباری افراد اور لیڈروں کا ماننا ہے کہ علی الصبح 4 بجے بستر سے نکل آنا ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ یہ بات ایک نئی رپورٹ میں سامنے آئی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق صبح بہت جلد اٹھنا کسی فرد کی ذہنی وہ جسمانی کارکردگی میں اضافے کا باعث بنتا ہے کیونکہ اس وقت مداخلت کا امکان نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ یعنی اس وقت لوگ سوشل میڈیا کو نہیں دیکھتے جبکہ اتنی صبح ایس ایم ایس یا میسجنگ وغیرہ کے لیے بھی کوئی فرد دستیاب نہیں ہوتا۔

رپورٹ کے مطابق اس وقت کو کام سے ہٹ کر سرگرمیوں جیسے ورزش، ذاتی نگہداشت، ذاتی نشوونما، روحانی نشوونما اور خاندان کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ہمارا جسم دن کے آغاز میں زیادہ متحرک ہوتا ہے، جبکہ ذہن بھی علی الصبھ زیادہ الرٹ ہوتا ہے جس کے باعث ذہنی و جسمانی کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ ایپل کے سی ای او او ٹم کک سمیت اس وقت متعدد کامیاب ترین افراد صبح چار بجے اٹھنے کو اپنی کامیابی کی ایک وجہ قرار دیتے ہیں۔

خیال رہے کہ 1400 سال قبل اسلامی تعلیمات میں بھی صبح جلد اٹھنے کی تاکید کی گئی تھی۔ اب سائنس نے بھی اس کی تصدیق کی ہے تاہم صبح جلد اٹھنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو رات کو جلد سونا ہے۔ اس لیے رات کو دوستوں سے ملنے یا دیگر مشاغل کا وقت کم ہوتا ہے تاہم زندگی میں کامیابی کے لیے اتنی قربانی تو دینی پڑتی ہے۔

حقیقی خوشی دولت سے نہیں ملتی : نئی تحقیق

ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ آمدن دگنی ہونے کی نسبت اچھی صحت اور اچھا شریکِ زندگی لوگوں کی زندگیوں کو زیادہ خوش و خرم بناتا ہے۔ لندن سکول آف اکنامکس کی اس تحقیق میں دو لاکھ لوگوں کی زندگیوں پر مرتب ہونے والے مختلف حالات کا جائزہ لیا گیا۔ اس سے پتہ چلا کہ ڈپریشن یا بےچینی کی بیماری لوگوں کی خوشی پر سب سے زیادہ اثرانداز ہوتی ہے، جب اچھے شریکِ حیات کی وجہ سے سب سے زیادہ خوشی نصیب ہوتی ہے۔ تحقیق کے شریک منصف کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے ‘ریاست کا نیا کردار سامنے آتا ہے۔’ یہ تحقیق دنیا بھر میں کیے جانے والے رائے عامہ کے متعدد بین الاقوامی جائزوں پر مشتمل ہے۔

سائنس دانوں نے معلوم کیا کہ آمدن دگنی ہو جانے سے ایک سے لے کر دس تک کے پیمانے میں خوشی صرف 0.2 درجے کے قریب بلند ہوئی۔ تحقیق کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ اپنی آمدن کے خود پر پڑنے والے اثر کی بجائے دوسروں سے اپنی آمدن کے تقابل کا زیادہ احساس کرتے ہیں۔ تاہم اچھا شریکِ حیات مل جانے سے خوشی میں 0.6 درجے اضافہ ہو جاتا ہے، جب کہ شریکِ حیات کی موت یا علیحدگی سے اسی قدر کمی واقع ہوتی ہے۔ تاہم اس پیمانے پر سب سے زیادہ منفی اثر ڈپریشن اور بےچینی کی بیماری سے پڑتا ہے، جس سے خوشی 0.7 درجے گر جاتی ہے۔ اسی طرح بےروزگاری سے بھی اسی قدر کمی واقع ہوتی ہے۔

تحقیق کے شریک مصنف پروفیسر رچرڈ لیئرڈ نے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاست کو اپنے شہریوں کی خوشی میں نیا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے، اور وہ دولت پیدا کرنے سے زیادہ خوشی پیدا کرنے پر زور دے۔ انھوں نے کہا: ‘شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ جو چیزیں ہماری خوشی اور دکھ میں سب سے زیادہ کردار ادا کرتی ہیں وہ ہمارے سماجی تعلقات اور ہماری ذہنی اور جسمانی صحت ہیں۔

‘ماضی میں ریاست غربت، بےروزگاری، تعلیم اور جسمانی صحت جیسے مسائل کے خلاف جنگ لڑتی رہی ہے۔ لیکن گھریلو تشدد، کثرتِ شراب نوشی، ڈپریشن اور بےچینی، امتحانوں کا دباؤ، وغیرہ بھی اتنے ہی اہم ہیں۔ انھیں مرکزی اہمیت دینے کی ضرورت ہے۔’

زندگی میں سب سے زیادہ پچھتاوا کس چیز کا ہے؟

زندگی میں پچھتاوا کس شخص کو محسوس نہیں ہوتا مگر وہ کون سے فیصلے ہوتے ہیں جو لوگوں کو سب سے زیادہ پچھتانے پر مجبور کردیتے ہیں؟ درحقیقت زندگی میں مواقعوں کو چھوڑ دینے کا پچھتاوا ایسا ہوتا ہے جو زندگی بھر پیچھا نہیں چھوڑتا۔ یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔ کارنیل یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے دوران عمر کی 7 ویں دہائی گزارنے والے افراد سے پوچھا گیا کہ اگر انہیں ماضی میں کچھ کرنے کا موقع دیا جائے تو وہ کیا چیز دوبارہ کرنا پسند کریں گے؟

تو جواب میں سامنے آیا کہ ایسی چیزیں جو نوجوانی میں نہیں کرسکیں وہ اس کی تلافی کرنا پسند کریں گے۔ جیسے تعلیم مکمل کرنا، کیرئیر میں ترقی کا عزم، اپنی شخصیت کا خیال رکھنا وغیرہ۔ تحقیق کے مطابق جب ہم پچھتاوے کے بارے میں سوچتے تو ہم میں سے بیشتر کے لیے سب سے بڑا پچھتاوا وہ چیزیں ہوتی ہیں جو ہم کسی نہ کسی وجہ سے کر نہیں پاتے، حالانکہ ہمارے پاس وقت، پیسے یا توانائی بھی ہوتی ہے۔ محققین کا کہنا تھا کہ لوگوں کو سب سے زیادہ پچھتاوا اس بات کا ہوتا ہے کہ ہمارے پاس موقع تھا مگر ہم نے کچھ کیا نہیں، یا ہم نے بہت زیادہ انتظار کیا۔

ذہنی صحت پر بھی دھیان دیں

دن بھر میں آٹھ گھنٹے کی نیند لازمی لیں تاکہ دن بھر کی تھکاوٹ دور ہو سکے اور جسم و دماغ کھوئی ہوئی توانائی بحال کر لیں،کھانا آرام و سکون سے کھائیں، غصہ، حسد اور کینہ جیسی منفی عادات سے احتراز برتیں، غصے کے دوران ہمیشہ ضبط سے کام لیں، لوگوں سے ہمیشہ خوش اسلوبی سے ملیں اور چھوٹی موٹی باتوں کو درگزر کریں۔ہر بات کو اپنے ذہن پر سوار مت کریں، اگر کوئی ناموافق بات سنیں یا نظر آئے تو اسے بھلانے کی کوشش کریں، چھوٹوں سے پیار و محبت اور بڑوں کا ادب کریں۔ 

لالچ ، حرص و ہوس سے گریز کریں، ہر قسم کے نشہ سے دور رہیں ،احساسِ کمتری کو کبھی اپنے اوپر غالب نہ آنے دیں اور مراقبہ یعنی خاموشی و یکسوئی سے ارتکاز اور ورزش کی عادت ڈالیں جو ذہنی و جسمانی صحت کیلئے اکسیر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پاکستان میں ذہنی امراض کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان میں ذہنی صحت کے حوالے سے شہریوں کی صورتحال اچھی نہیں ہے اور ملک میں ڈپریشن کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ 

اسی وجہ سے ملک میں خود کشیوں کی شرح بھی بڑھ رہی ہے۔ ملک میں جاری دہشت گردی، بد امنی، خودکش بم دھماکے، غربت، بے روزگاری، لوڈ شیڈنگ اورخاندانی نظام کی ٹوٹ پھوٹ کے علاوہ بے یقینی اور عدم تحفط کا بڑھتا ہوا احساس لوگوں میں اضطراب، بے چینی، چڑچڑاپن، غصہ اور ذہنی دباؤ پیدا کرنے کا باعث بنتا جا رہا ہے جو کہ ان کی جسمانی ، ذہنی و نفسیاتی صحت کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ یاد رکھیں کہ زندگی گزارنے کے لیے ہمیشہ پر امید اور مثبت انداز اختیار کریں۔ واہمے اور ناامیدی انسان کو کمزور کر دیتی ہے اور کمزور انسان بیماریوں

کا گڑھ بن جاتا ہے۔

 یہ حالت مسلسل رہے تو آخر کار انسان ذہنی، جسمانی اور نفسیاتی امراض میں مبتلا ہو کر نہ صرف اپنی بلکہ اپنے پیاروں کی زندگی کیلئے بھی روگ بن جاتا ہے۔ ایک صحت مند جسم کے لیے صحت مند ذہن کا ہونا ضروری ہے۔ ایسی بے شمار بیماریاں جیسے سردرد‘ حافظے کی کمزوری‘ ذہنی تھکن‘ بصارت کی کمزوری‘ ہکلانے کی عادت‘ ذہنی تناؤ و دباؤ‘ احساسِ کمتری یا اس طرح کی دیگر بیماریاں جو کہ ذہنی و نفسیاتی ہوتی ہیں لیکن ان کی طرف سے لاپرواہی برتی جاتی ہے جو کہ بعدازاں جسمانی عوارض کا باعث بن کر کئی پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہیں۔

 اس لیے اگر ایسے امراض کا علاج کرنے کے لیے منفی نفسیاتی عناصر کا تدارک کیا جائے تو جسمانی بیماریاں خود بخود ور ہونے لگتی ہیں۔ پاکستان میں عمومی طور پر لاحق ہونے والے ذہنی و نفسیاتی امراض میںانزائیٹی ،فکر، تشویش‘ اعصابی دباؤ‘ احساسِ کمتری‘ اعصاب زدگی‘ الزائیمر‘ تنہائی پسندی‘بے خوابی وکم خوابی‘ بسیار خوابی و خراٹے لینا‘ نیند کے دوران سانس کا رکنا‘ پاگل پن‘ پارکنسن ڈیزیز‘رعشہ‘ حسد‘ حافظہ کی کمزوری‘ خوف کا فوبیا‘ خود اعتمادی کا فقدان‘ خیالات کا تسلط اور تکرارِ عمل ‘ ڈپریشن ،افسردگی ‘ ذہنی اضمحلال‘بائی پولر ڈس آرڈر‘ ذہنی تناؤ اور دباؤ‘ سردرد اور دردِ شقیقہ‘ شیزوفرینیا‘ فرسٹریشن ‘ احساسِ محرومی‘ فالج و لقوہ‘ مرگی‘ وہم اور ہسٹیریا وغیرہ شامل ہیں۔

 یہ چند ایک بیماریاں ہیں جن کے متعلق عموماً معاشرے میں جنوں کے سایے کی باتیں کی جاتی ہیں حالانکہ یہ مکمل طور پر ذہنی و نفسیاتی عوارض ہیں۔ بس شرط یہ ہے کہ ان کی طرف دھیان دیا جائے اور ان کا مکمل علاج معالجہ کرایا جائے تو یہ افراد بھی معاشرے کے دیگر صحتمند افراد کی طرح بہتر ،خوشحال، قابلِ تکریم اور پْروقار زندگی بسر کر سکتے ہیں۔ –  

کیا آپ کامیاب ہونا چاہتے ہیں ؟

کیا آپ کامیاب ہونا چاہتے ہیں ؟ اگر آپ کا جواب ہاں ہے تو پھر آپ کو ’’ خوشی اور ‘‘ کامیابی ‘‘ کی وہ تعریف بیا ن کرنا ہوگی جو آپ کے خیال میں درست ہو ۔ ایک رائے کے مطابق خود اعتمادی سے کامیابی اور کامرانی حاصل کی جا سکتی ہے اور خوشی کیلئے آپ کو پر اعتماد ہونا ہوگا۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ایک چیز کسی کی خوشی کا سبب ہوتی ہے تو کسی کیلئے نہیں ہوتی لیکن یہ آپ کا اعتماد ہے جو آپ کو خوش کر سکتا ہے۔ 
پُر اعتماد لوگ ہی کامیاب ہوتے ہیںاور خوش بھی ۔ وہ اپنے آپ پر بھروسہ رکھتے ہیں اور وہ کسی ایسی سرگرمی میں ملوث نہیں ہوتے جو ان کی روح کو مجروح کرے۔ آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ پُر اعتماد لوگ کیا نہیں کر تے یعنی ان کی عادات میں کونسی چیزیں شامل نہیں ہوتیں اور وہ انہی کی بنا پر خوش رہتے ہیں ۔ 1۔کسی کا امتحان نہیں لیتے :۔پُر اعتماد لوگ جیو اور جینے دو کی پالیسی پر کار بند ہوتے ہیں ۔ وہ نہ کسی کا امتحان لیتے ہیں اورنہ ہی کسی کے بارے میں منفی رائے دیتے ہیں یا کسی کی رائے پر تبصرہ کرتے ہیں ۔
 وہ کسی غیر ضروری ڈرامے کا حصہ نہیں بنتے اور نہ ہی اپنے دوستوں کی بد خوہیاں کرتے ہیں ۔ پیٹھ پیچھے برائی کرنے کا تصور ان کے ہاں نہیں ہوتا۔ پُر اعتماد لوگوں کا ہی کہنا ہوتا ہے کہ سب کو پُر اعتماد ہونا چاہیے بلکہ وہ اعتماد سازی میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتے ہیں ۔ 2۔خود نمائی سے اجتناب :۔ خود نمائی اور دکھاوا ہمارے معاشرے کی وہ بیماریاں ہیں جو اندر ہی اندر دیمک کی طرح خاندان کو کھا جاتی ہیں ۔ اس دکھاوے میں اخراجات کرنے کے بعد بھی لوگ دھوکے میں ہی رہتے ہیں اور اپنے آپ کو دھوکہ دیتے ہیں لیکن افسوس کہ حقیقی خوشی سے دور رہتے ہیں ۔
 پُر اعتماد لوگوں کی ایک بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ اس دکھاوے سے دور رہتے ہیں اور حقیقت کے آئینے سے ہی سب کو دیکھتے ہیں ۔ یہ حقائق انہیں حقیقی خوشی دیتے ہیں ۔ 3۔آسیب اورتوہمات سے دور:۔پُر اعتماد لوگ اپنے اوپر کسی وہم و خیال کو مسلط نہیں کرتے اور نہ ہی کسی ایسی رائے پر بے قرار ہوتے ہیں جو لوگوں نے ان کے بارے میں قائم کی ہوئی ہوتی ہے ۔ ایسے لوگ اپنا احتساب خود کرتے ہیں اور اس کے کڑے امتحان سے گزرتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں اصل شکل کی آگاہی حاصل ہوتی ہے ۔ 
ان کے مقابلے میں اعتماد سے عاری لوگ دوسروں کے منہ کی طرف دیکھتے ہیں کہ کوئی ان کی تعریف کرے اور وہ آگے بڑھیں گویا بے اعتماد لوگوں کو آگے بڑھنے کے لیے سہارا درکار ہوتا ہے جبکہ پُر اعتماد لوگ کسی کے سہاروں کی بجائے اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ رکھتے ہیں ۔ 4۔اقدار کے موازنے سے اجتناب :۔ اگر آپ پُر اعتماد ہیں تو پھرآپ کے عقائد بھی مضبوط ہوں گے ۔ ایسے لوگ اپنے راستوں کا خود تعین کرتے ہیں اور کچھ سنہری اصولوں کو اپنی اقدار کا حصہ بنا لیتے ہیں اور پھر ساری زندگی ان اقدار کی حفاظت میں جتے رہتے ہیں ۔
 یہ بہت ہی دلچسپ امر ہے کہ اعتماد کی دولت سے مالا مال ایسے لوگ اپنی ان اقدار کاموازنہ کسی دوسرے سے نہیں کرتے، نہ وہ اپنی اقدار کو سر عام کرتے ہیںاور نہ ہی کسی کو کرنے دیتے ہیں، ان کی اس خوبی کی وجہ سے انہیں فطری خوشیوں کا ادراک رہتاہے ۔ 5۔منفی رویوں سے اجتناب :۔ اوپرے ونفرے کہتی ہیں ’’ اگر آپ اپنی زندگی میں جو کچھ موجود ہے ،کو دیکھتے ہیں تو آپ کو مزید بھی ملے گا لیکن اگر آپ کی نظر ایسی چیزوں پر ٹکتی ہے جو آپ کی زندگی کا حصہ نہیں تو سمجھ لیں آپ خالی ہاتھ ہیں اور رہیں گے ۔ ‘‘اس خوبصورت قول کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ پُر اعتماد لوگوں کے لیے ہے جو ہر طرح کے منفی رویوں سے دور رہتے ہیں، ہمیشہ روشن خیال رہتے ہیں،جس کی وجہ سے وہ اپنی اور لوگوں کی سچی خوشیوں سے محظوظ رہتے ہیں ۔ 6۔خود کو ہمہ وقت درست خیال نہیں کرتے :۔ پُر اعتماد لوگوں کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ ہمہ وقت خود کو بھی صحیح اور درست خیال نہیں کرتے ۔
 ان کے خیال میں ان کی اپنی رائے غلط رہنے کا امکان رہتا ہے اور جہاںمحسوس ہوتا ہے کہ وہ غلط ہیں وہ فوراََ ہی اس غلطی کو تسلیم کرتے ہیں اور اس ساری صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں کہ یہ غلطی کیوں کر ہوئی ہے ۔ جب کوئی اس طرح کی سائنسی طرز زندگی کو اپناتے ہیں تو پھر اس صورت میں ان کے دکھی ہونے کے چانسز سکڑ جاتے ہیں ۔ 7۔صورتحال کو پیچیدہ نہیں کرتے :۔ لوگ عام سی صورتحال کوگمبھیربنانے کی عادت میں مبتلا ہوتے ہیں ۔ 
معمولی سی بات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے اور ایسا تجسس برپا کر دیتے ہیں کہ ہر کوئی اس کی لپیٹ میں آ کر خوفزدہ ہو جاتا ہے ۔پُر اعتماد لوگ ہربُری صورتحال کا سامنا ’’ کچھ نہیں ہوتا ‘‘ سب ٹھیک ہو جائیگا ‘‘ جیسے جملوں سے کرتے ہیں ۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آدمی کی ٹینشن ختم ہو جاتی ہے ۔ گویا صورتحال کو پیچیدہ بنانے سے اجتناب برتا جائے تو کامیابی اور دکھ کی جگہ سکھ مل سکتا ہے یہی فلاسفی پُر اعتماد لوگوں کی ہے ۔ 8۔اول فول نہیں بکتے :۔ اخلاقیات کا شاندار اور مطمئن زندگی سے چولی دامن کا ساتھ ہے ۔
ایک مہذب آدمی اپنے اخلاقی رویوں سے انتہائی نفیس زندگی بسر کر رہا ہوتا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں اعتماد سے عار ی لوگ ہر طرح کی اخلاقیات سے دور ہو تے ہیں ۔سرِراہ آپ کوکئی ایسے کردار ملیں گے جو بات بات پر سیخ پا ہوجاتے ہیں اور گالیاں بکنا شروع کر دیتے ہیں ۔ ان کے منہ سے الفاظ نہیں بلکہ آگ کے شعلے نکلتے رہتے ہیں جس سے ایسی آگ بھڑک اُٹھتی ہے کہ کبھی کبھی تو جان کے لالے بھی پڑ جاتے ہیں ۔ ان کے مقابلے میں پُر اعتماد لوگ ہمیشہ دھیمے لہجے میں رہتے ہیں اور اول فول بکنے سے اجتناب برتتے ہیں ۔ 9۔اندھا اعتماد نہیں کرتے :۔ اندھا اعتماد سے مراد ایسی صورتحال ہے جس میں کوئی بھی آنکھوں پر پٹی باندھ کر سڑک کراس کرے ۔
 ایسی تصویر میں سو فیصد حادثے کا خدشہ ہوتا ہے اور حادثے ہمیشہ نقصانات کا سبب بنتے ہیں ۔ یہ اصول پُر اعتماد لوگوں کی زندگی کا خاصا ہوتا ہے ۔ وہ کسی کی نصیحت کو بلا چو ں چراں نہیں قبولتے بلکہ ہر بات کو سائنسی اپروچ سے پرکھتے ہیں ۔ 10۔خوفزدہ نہیں ہوتے :۔ اندیشے اور ان دیکھے واقعات خوف کی کیفیت پیدا کرتے ہیں ۔ عام لوگ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے ڈر جاتے ہیں ۔ ہارجانے کا احساس ایسے لوگوں کو آگے بڑھنے ہی نہیں دیتا جبکہ پرُ اعتماد لوگوں کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا ۔
 یہاں مثال پولیس اور فوج کے محکموں کی دی جاتی ہے ۔ عمومی رائے ہے کہ فوج کے اہلکار پُر اعتماد ہوتے ہیں اور ان کی فیصلہ سازی کی قوت زیادہ مضبوط ہوتی ہے اس لیے کہ یہ ادارہ اپنے لوگوں کو اعتماد کی دولت سے مالا کرتا ہے اس کے مقابلے میں پولیس والوں کا یہ رویہ نہیں ہے ۔ یہاں کسی محکمہ کی تضحیک کرنا مطلوب نہیں بلکہ حقیقت بیان کرناہے کہ دونوں اداروں میں اعتماد سازی میں فرق ہے ۔ یہی فرق پُر اعتمامد لوگوں کو ممتاز کرتا کرتاہے۔
عبدالستار ہاشمی
 

دنیا کے کامیاب ترین افراد کن مضامین کا مطالعہ کرتے ہیں؟

کیا آپ جانتے ہیں کہ اگر آپ ملک کا رہنما بننا چاہتے ہیں تو آپ کو کس قسم کی ڈگری کی ضرورت ہو گی، یا کیا آپ جانتے ہیں کہ یونیورسٹی کا تجربہ گریجویشن کے بعد آپ کی کامیابی پر اثر انداز ہو سکے گا۔ایسے بہت سے سوالات کے جوابات برٹش کونسل کی حالیہ تحقیق نے دئیے ہیں، جس میں ماہرین نے تجویز کیا ہے کہ اعلیٰ تعلیم کا تجربہ کسی بھی رہنما کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ 
برٹش کونسل کے نتائج 30 ممالک کے تعلیمی پس منظر کے حامل 1,700 افراد پر مبنی ہے جن کا تعلق کارپوریٹ، غیر منافع بخش اداروں اور حکومتی پس منظر سے تھا۔مطالعہ میں10پیشہ وارانہ ’لیڈرز‘ یا قائدین کے انٹرویوز بھی شامل تھے، جن سے پوچھا گیا تھا کہ کیا ان کی اعلیٰ تعلیم نے انھیں متعلقہ شعبے میں ترقی کی منزل تک پہنچانے میں کوئی کردار ادا کیا ہے۔ ماہرین نے کہا کہ نتائج کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صرف تعلیم ہی کامیابی کا واحد راستہ ہے، جیسا کہ دنیا کے بہت سے کامیاب ترین لوگوں کے پاس یونیورسٹی کی ڈگری نہیں ہے ان میں مشہور کاروباری شخصیات فیس بک کے شریک بانی مارک زکربرگ اور رچرڈ برینسن کا نام شامل ہے،تاہم ہمارا مطالعہ ان رہنماؤں اور کامیاب افراد پر ہے جنھوں نے اپنی ڈ گریاں مکمل کی ہیں اور ان کی اعلیٰ تعلیم نے انھیں کامیاب بنانے میں مدد کی ہے۔ 
نصف رہنماؤں سے زائدنے سوشل سائنس اور ہیومینیٹیز کا مطالعہ کیا:تحقیق سے پتا چلا کہ نصف سے زائد 55 فیصد رہنماؤں نے سوشل سائنس (سماجی سائنس) اور ہیو مینیٹیز (غیر سائنسی علوم ) کا مطالعہ کیا تھا۔ ان میں سے 44 فیصد نے سوشل سائنس اور 11 فیصد نے ہیو مینیٹیز میں ڈگری حاصل کی تھی جبکہ جو لوگ سرکاری ملازمتوں پر فائز تھے، ان میں سوشل سائنس کے مطالعے کے امکانات زیادہ تھے، اسی طرح غیر منافع بخش تنظیموں سے وابستہ افراد ہیومینیٹیز کا پس منظر رکھتے تھے۔
 نوجوان رہنما جن کی عمریں 45 برس سے کم تھیں، ان کا پس منظر سماجی سائنس اور ہیومینیٹیز سے تھا، لیکن اس کے برعکس بڑی عمر کے رہنماؤں نے سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کا مطالعہ کیا تھا۔ کامیاب کیرئیر کے لیے کوئی ایک مضمون ذمہ دار نہیں تھا:ماہرین نے کہا کہ ہمارے نتائج یہ تجویز نہیں کرتے ہیں کہ خاص تعلیمی نظم و ضبط کیرئیر کی کامیابی کی طرف قیادت کرتا ہے۔جو لوگ حکومت میں تھے ان میں سوشل سائنس پڑھنے کا امکان تھا اور جو غیر منافع بخش اداروں کے لیے کام کرتے تھے ان کے پاس ہیومینیٹیز کی ڈگری تھی۔
 کیرئیر کی کامیابی میں غیرنصابی سرگرمیوں کا کردار
ماہرین نے کہا اعلیٰ تعلیم براہ راست سیکھنے کے مقابلے میں زیادہ تجربہ فراہم کرتی ہے، جیسا کہ طالب علم جانتے ہیں کہ وہ اپنے تعلیمی مطالعے سے باہر کی سرگرمیوں اور تجربات سے نئی مہارتیں سیکھتے ہیں اسی حوالے سے ان دس رہنماؤں سے پوچھا گیا تھا کہ کیا ان کی غیر نصابی سرگرمیوں کا ان کی کامیابی میں حصہ ہے اس سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ کھیلوں کے ذریعے انھوں نے نظم و ضبط اور مسابقتی دوڑ کو سیکھا ہے، جبکہ یونیورسٹی میں مختلف ثقافتوں کے ساتھ مطالعہ کا تجربہ اور یونیورسٹی کے ماحول نے انھیں کاروباری یا تخلیقی بنانے کے لیے حوصلہ افزائی کی ہے۔ 
بین الاقوامی تجربہ ضروری ہے
نتائج سے ظاہر ہوا کہ تقریباً نصف 46 فیصد رہنماؤں نے بین الاقوامی تعلیم یا ملازمت کا تجربہ حاصل کیا تھا۔ جتنی اعلیٰ سطح کی ان کی ڈگری تھی اتنا ہی ان میں بیرون ملک تعلیم کا امکان زیادہ تھا۔ ان کامیاب افراد نے زیادہ تر بیرون ملک سے ماسٹرز کی ڈگری یا پیشہ ورانہ پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی تھی جبکہ سب سے مقبول مطالعہ کی منزل امریکہ اور برطانیہ ہیں۔کینیڈا، برطانیہ اور امریکہ میں ہیومینیٹیز گریجویٹس کا تناسب سب سے زیادہ ہے۔رہنماؤں میں ہیومینیٹیز میں گریجویٹس کی سب سے بڑی تعداد کینیڈا سے آئی تھی، اس کے بعد برطانیہ اور امریکہ سے 19 فیصد، پولینڈ، روس اور یوکرین سے 18 فیصد اور چین، جاپان اور جنوبی کوریا سے 16 فیصد رہنماؤں نے غیر سائنسی علوم میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کی تھی۔
 مصر، سعودی عرب اور ترکی کے رہنماؤں میں بیرون ملک تعلیم کا امکان ز یادہ تھا: نتائج سے انکشاف ہوا کہ مصر، سعودی عرب اور ترکی سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں میں 71 فیصد بین الاقوامی تعلیمی تجربے کا امکان تھا، جبکہ ان کے مقابلے میں کینیڈین، برطانوی اور امریکی رہنماؤں کی ایک چوتھائی تعداد بیرون ملک سے تعلیم یافتہ تھی۔ آسٹریا، جرمنی، نیدرلینڈ میں 96 فیصد اور ارجنٹینا، برازیل اور میکسیکو کے رہنماؤں میں اپنے ملک میں تعلیم حاصل کرنے کے امکانات 91 فیصد پائے گئے۔
 
نصرت شبنم

مفید ترین شخصیت کیسے بنا جا سکتا ہے؟….

جس کمپنی یا ادارے میں آپ کام کر رہے ہیں، اس میں ترقی کی طرف بڑھنا آپ کا حق ہے۔ لیکن ترقی حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہ بیٹھے رہیں۔ بلند سے بلند تر مقام حاصل کرنے کے لیے بنیادی شرط ’’مسلسل جدوجہد‘‘ ہے۔ یہ جدوجہد ایسی ہونی چاہیے کہ جس سے یہ ظاہر ہو کہ آپ متعلقہ ادارے کے خیرخواہ ہیں۔ اس کی ترقی کے لیے کوشاں ہیں۔ اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو ادارے میں آپ کی حیثیت پہیے کے دندانوں جیسی رہے گی۔اگر آپ ترقی کے خواہش مند ہیں تو اس کے لیے سب سے مفید اور بنیادی کلیہ یہ ہے۔

-1پہلے سوچییے! -2پھر اسے لکھ لیجیے! -3 اور پھر اس پر عمل کیجیے! عمل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ اس مفید آئیڈیے کو مفید سمجھتے ہیں تو اس کا اظہار اپنے مالک سے کر دیجیے۔ ڈاکٹر ولیم۔ ایم۔ سکال نے کہا تھا:’’اگر آپ کو کوئی مفید خیال سوجھتا ہے تو اس پر فوراً عمل کیجیے یا اپنے مالک کو بتا دیجیے۔ اگر آپ مناسب موقعے یا وقت کا انتظار کرتے رہیں گے تو یہ مناسب وقت کبھی نہیں آنے والا۔ پھر پچھتانا احمقانہ بات ہو گی۔‘‘ اپنے خیال کو کسی دوسرے وقت پر نہ ٹالیے۔

ایسا کرکے آپ سنہرے موقعے کو ضائع کرتے ہیں۔ جو لمحہ آپ کے ہاتھ میں ہے اس سے فائدہ اٹھایئے۔ اپنے خیال یا تجویز یا مشورے کو مت چھپایئے۔ آپ کا یہ رویہ آپ کو بہت نقصان پہنچا سکتا ہے۔اس خوف کو دل سے نکال دیجیے کہ آپ کی تجویز یا مشورہ آپ کو ندامت سے دوچار کر سکتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ سننے والا اسے ناقابل عمل کہہ دے۔ اس سے دل برداشتہ ہو جانا اپنے آپ کو ’’شکست خوردہ‘‘ ثابت کرنا ہے۔ ہمت نہ ہاریئے اور اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہیے۔ کوشش کریں کہ آپ کے پاس زیادہ سے زیادہ مفید تجاویز ہوں۔ اپنے آپ کو ’’مفید ترین شخصیت‘‘ بنائیے۔ اس میں آپ کی جیت ہے۔ صرف اسی طریقے سے آپ جلد از جلد امیر ترین بن سکتے ہیں۔

 (ایم- آر- کوپ میئر کی تصنیف سے مقتبس)

جیسے خیالات ویسی زندگی….

ایک وقت میں آپ کے ذہن میں صرف ایک ہی خیال ہوتا ہے، اگر آپ کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہو تو آپ غصے میں جلنے کی بجائے فوراً معذرت کریں۔ اپنے ذہن کو قابو میں رکھیں۔ اپنے آپ کو پرسکون اور مثبت رکھیں۔ آپ کے ذہن میں اگر کوئی منفی خیال آنے لگے تو فوراً اس سے چھٹکارا حاصل کریں۔ تکلیف دہ صورتحال کو بھول جائیں۔ منفی خیال کومثبت خیال سے تبدیل کریں۔

اگر آپ کوکوئی بڑا مسئلہ درپیش ہو، جیسا کہ طلاق کی نوبت آ جانا یا نوکری وغیرہ کا چھوٹ جانا۔ ایسے حالات میں بار بار اپنے آپ کو یاد نہ کرائیں اور نہ ہی دوسروں کو اس کے متعلق بتائیں کہ آپ پریشان کیوں ہیں۔ ا س کی بجائے آپ منفی جذبات کو اپنے سے دورکرنے کی کوشش کریں جب منفی جذبات ختم ہو جائیں تو اپنی توجہ مثبت خیالات کی جانب مبذول کریں۔ 

کامیابی اور خوشگوا رزندگی کا اہم ترین اصول یہ ہے کہ اس بارے میں بالکل پریشان نہ ہوں جو کہ آپ کر ہی نہیں سکتے۔ جو کہ آپ بدل نہیں سکتے اس پر تنقید مت کریں۔ ایک معروف قانون ہے کہ اگر کوئی حالت موجود ہی نہیں ہے تو اس کے بارے میں کوئی مسئلہ بھی نہیں۔ 

(برائن ٹریسی کی کتاب ’’جیسے خیالات ویسی زندگی‘‘ سے ماخوذ)