تین اسلامی ثقافتوں کا شاہکار مقبرہ حضرت شاہ رکن عالم ؒ

تین اسلامی ثقافتوں عربی، ایرانی اور ملتانی طرز تعمیر کا شاہکار مقبرہ حضرت شاہ رکن عالمؒ ملتان کے مستریوں کی مہارت کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ اس کی چار دیواری 1081 فٹ طویل ہے۔ برصغیر کے عظیم روحانی پیشوا شیخ الاسلام حضرت بہاء الدین زکریا ملتانی ؒکے پوتے، حضرت صدرالدین عارف باللہ اور فرغانہ کی شہزادی حضرت بی بی راستی کے فرزند حضرت شاہ رکن الدین عالم کا 7 صدیوں پرانا مقبرہ اپنے دیدہ زیب طرز تعمیر کی وجہ سے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کی تاریخی ورثہ کی لسٹ میں شامل ہے۔ مقبرے کے طرز تعمیر کی وجہ سے ملتان پوری دنیا میں نمایاں ہے۔

یہ مقبرہ برصغیر کے اونچے ترین مقبروں میں شامل ہے، تین تہوں پر مشتمل مقبرے کا گنبد 170 فٹ بلند ہے جبکہ گنبد میں قیمتی لکڑی کا استعمال کیا گیا ہے جو دیمک سے مکمل طور پر محفوظ ہے۔ مقبرہ کی اونچائی 110 فٹ اور اندرونی جانب سے 48 فٹ کھلا جبکہ بیرونی جانب سے لمبائی چوڑائی 78 فٹ بنتی ہے۔ تاریخی حوالوں کے مطابق اس پرکشش مزار کو سلطان غیاث الدین تغلق نے دیپال پور کی گورنری کے دوران 1320ء سے 1324ء کے درمیان تعمیر کرایا۔ تعمیر کے کچھ عرصے بعد ہی حضرت شاہ رکن عالم ؒکی اس مقبرے میں تدفین کی گئی۔

مستطیل رقبہ زمین پر تعمیر یہ ہشت پہلو مقبرہ روغنی ٹائلوں سے مزین ہے، مقبرہ پر نقش و نگار، کاشی کاری اور گلکاری نمایاں ہے۔ محکمہ اوقاف کی جانب سے 10 اکتوبر 1971ء کو ایک وسیع منصوبہ بندی کے تحت مقبرے کی مرمت کرائی گئی تھی مگر اس کے بعد کبھی صحیح معنوں میں مرمت نہیں کی گئی،محکمہ اوقاف کی اس نااہلی کے باعث یہ تاریخی مقرہ اپنا حسن کھو رہا ہے۔

اشفاق احمد

Advertisements

Preliminary report blames Awam Express driver for Multan train accident

Rescue workers pass a stretcher with an injured passenger out of the wreckage after two trains collided near Multan, Pakistan.