مردان واقعہ اور ریاست کی ذمہ داری

 مردان یونیورسٹی میں ایک طالب علم کو توہین مذہب کے الزام پر یونیورسٹی کے  ہی طلبہ نے بے دردی سے قتل کر دیا۔ نہ ان سنگین الزامات کی تحقیقات کی گئیں، نہ ہی معاملہ پولیس اور عدالت کے پاس گیا بلکہ ہجوم نے خود ہی الزام لگایا، اپنی عدالت لگائی اور سزا بھی دے دی۔ اس واقعہ کی وزیر اعظم نواز شریف، عمران خان، آصف علی زرداری، مولانا سمیع الحق، مفتی محمد نعیم اور دوسرے کئی سیاسی و مذہبی رہنمائوں نے مذمت کی جبکہ وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا اور متعلقہ پولیس ڈی آئی جی کے مطابق ابھی تک کی تحقیقات میں توہین مذہب کے کوئی ثبوت نہیں ملے۔ خیبر پختون خوا حکومت نے معاملہ کی جوڈیشل انکوائری کا حکم دے دیا ہے جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان نے بھی اس معاملہ کا سو موٹو نوٹس بھی لے لیا ہے۔

امید ہے آئندہ چند ہفتوں میں کیس کے تمام حقائق سامنے آ جائیں گے اور یہ کہ مشال خان پر لگائے گئے الزامات کی نوعیت درست تھی یا غلط یا کہ اُسے کسی سازش کا نشانہ بنا کر اس طرح قتل کروایا گیا۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ ریاست کے ہوتے ہوئے کسی بھی گروہ یا افراد کے مجمع کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ الزام کے بنیاد پر قانون ہاتھ میں لے کر کسی کی جان لے لیں۔ الزام کیسا بھی ہو اس کے لیے معاملہ پولیس، عدالت اور ریاست کے حوالے کیا جائے۔ اگر ہجوم اور گروہوں کو الزام لگا کر لوگوں کو مارنے کی اجازت دے دی جائے تو پھر تو یہاں کوئی بھی نہیں بچے گا اور خصوصاً ایک ایسے معاشرے میں جہاں سنگین سے سنگین الزامات لگانے کا رواج عام ہو اور اس کام کے لیے میڈیا اور سوشل میڈیا کو خوب استعمال کیا جاتا ہو۔

یہاں ریاست اور ریاست کے ذمہ داروں کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے اور اس سوال پر غور کرنا چاہیے کہ آخر ہماری ریاست گستاخی کے الزام میں سزا پانے والوں میں سے کسی ایک کی سزا پر بھی عمل درآمد میں کیوں ناکام رہی۔ ریاست کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ شہریوں کو قانون کی عمل داری نظر آئے تا کہ ہر کسی کو یقین ہو کہ کسی بھی قسم کا جرم کرنے والا سزا سے نہیں بچ سکتا۔ مردان واقعہ کا ایک ا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ مشال خان کے قتل کا حوالہ دے کر ایک طبقہ نے اسلام، blasphemy law اور ماضی قریب میں عدالت، حکومت اور پارلیمنٹ کی طرف سے سوشل میڈیا پر سے گستاخانہ مواد کو بلاک کرنے اور گستاخی کے مرتکب افراد کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات پر سوال اٹھانے شروع کر دیئے۔ کچھ نے کہا کہ مردان یونیورسٹی کا واقعہ blasphemy law کا غلط استعمال ہے۔

کوئی ان سے پوچھے یہ قانون کہاں کسی مجمع یا گروہ کو الزام کی بنیاد پر کسی بھی فرد کو مارنے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ قانون تو ریاست کو گستاخی کے الزام پر کارروائی کی ہدایت دیتا ہے۔ جو کچھ حال ہی میں عدلیہ، پارلیمنٹ اور حکومت نے سوشل میڈیا پر سے گستاخانہ مواد کو ہٹانے کے لیے کیا وہ انتہائی قابل تعریف اقدام ہے اور اس کا مقصد ایک ایسے فتنہ پر قابو پانا ہے جو کسی بھی اسلامی معاشرے میں اشتعال انگیزی، نفرت اور غم و غصہ کا باعث بنتا ہے۔ کسی ایک واقعہ کا بہانہ بنا کر کوئی اگر یہ چاہے کہ blasphemy law کو ہی ختم کر دیا جائے یا کوئی آزادی ٔرائے کے مغربی standards کو یہاں لاگو کیا جائے تو ایسا ممکن نہیں ہو سکتا کیوں کہ اس سے فتنہ بڑھے گا۔ مردان کا واقعہ کسی مدرسہ میں نہیں بلکہ عبدالولی خان یونیورسٹی میں ہوا جس میں ملوث طلبہ کی اکثریت کا مبینہ طور پر ایسی سیاسی جماعتوں کی طلبہ تنظیموں سے تعلق ہے جو اپنے آپ کو سیکولر اور لبرل کہتی ہیں لیکن افسوس کہ بحث ساری اسلام کے متعلق کی جا رہی ہے۔

ایسے موقعوں پر ہی ٹی وی چینلز کو علماء کرام کو بلا کر یہ پوچھنے کا موقع ملتا ہے کہ اسلام اس بارے میں کیا کہتا ہے۔ مردان واقعہ پر عدلیہ اور حکومت دونوں نے نوٹس لے لیا اور امید کی جا سکتی ہے کہ اس معاملہ میں پورا پورا انصاف ہو گا لیکن کیا چیف جسٹس آف پاکستان، وزیر اعظم نواز شریف، عمران خان، دوسرے رہنما اور ہمارا میڈیا زرا اس بات پر غور کرے گا کہ ہر ایسے موقع پر ہم اسلام کو لا کر کٹہرے میں تو کھڑا کر دیتے ہیں لیکن اسلام کی تعلیمات کو فروغ دینے کے لیے ہم کیا کر رہے ہیں۔ جب ہم اسکولوں میں، اپنے گھروں میں، میڈیا کے ذریعے اور حکومتی سطح پر معاشرے کو اسلامی تعلیمات سے آگاہ نہیں کریں گے اور اس ضد پر قائم رہیں گے کہ ریاست کا مذہب کے معاملات میں کوئی کردار نہیں تو پھر اسلام سے شکایت کیسی۔

میں چوہدری نثار علی خان سے متفق ہوں کہ مشال خان کے وحشیانہ قتل کو مذہب کے ساتھ جوڑنا قابل افسوس ہے۔ میری حکومت، پارلیمنٹ ، عدلیہ، سیاسی جماعتوں اور میڈیا سے گزارش ہے کہ لوگوں کو اسلام پڑھانے اور معاشرہ کو قرآن و سنت کے مطابق ماحول فراہم کرنے میں اپنا اپنا کردار ادا کریں جیسا کہ آئین پاکستان کی منشاء ہے۔ جہاں تک توہین مذہب اور گستاخی کے جرم کا تعلق ہے تو اس بارے میں ایک اصول پر ہم سب کو کاربند رہنا چاہیے اور وہ یہ کہ جس پر یہ جرم ثابت ہو گیا اُسے نشان عبرت بنائیں جس نے کسی پر جھوٹا الزام لگایا اُس پر قذف لگائیں۔ اسی طرح سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر کو روکا جائے اور ایسا کرنے والوں کو سزائیں دی جائیں۔

اس کے ساتھ ساتھ میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے دوسروں پر توہین مذہب کے جھوٹے الزامات لگانے والوں سے بھی سختی سے نپٹا جائے، انہیں سزائیں دی جائیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسے مواد (جھوٹے الزامات) کو بھی سوشل میڈیا پر بلاک کیا جائے اور میڈیا پر ان کی تشہیر کو سختی سے روکا جائے۔ ہمیں نوجوانوں اور بچوں کو یہ تعلیم بھی دینی چاہیے کہ وہ نہ صرف ہر صورت میں اپنے دین اور مقدس ہستیوں کا احترام کریں بلکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق دوسروں کے مذاہب کو بھی بُرا مت کہیں۔

انصار عباسی

Advertisements

راولپنڈی کی تاریخی جامع مسجد

اسلامی و مغلیہ طرز تعمیر کا عظیم شاہکار 121 سالہ پرانی مرکزی جامع مسجد راولپنڈی کا شمار پوٹھوہار ریجن کی چند تاریخی مساجد میں ہوتا ہے ، تاریخی مسجد کا سنگ بنیاد پیرمہرعلی شاہ گولڑہ شریف اور پیر آف میرا شریف پیر اللہ بخش نے 1896ء میں رکھا اور 1902ء میں تعمیر مکمل ہوئی۔ شہر کی جس مصروف شاہراہ پر یہ تاریخی مسجد واقع ہے اس سڑک کا نام بھی جامع مسجد روڈ رکھ دیا گیا۔ 18 کنال رقبے پرمحیط مسجد اسلامی آرٹ کا شاہکار ہے، مسجد کے 3 گنبد اور کئی چھوٹے چھوٹے مینار ہیں ۔ مسجد کی تعمیراور تزئین وآرائش میں جو غیرروایتی رنگ، میٹریل اور طرز تعمیر مقامی تاریخ کی ترقی وعروج کی ایک مثال ہے۔ مرکزی جامع مسجد کا انتظام محکمہ اوقاف کے پاس ہے۔

مسجد کے خطیب حافظ محمداقبال رضوی کے مطابق جب 1896ء میں مسجد کا سنگ بنیاد رکھا گیا تو مقامی سکھ آبادی نے روکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی ، جس پرمقامی مسلمان آبادی نے گولڑہ شریف اورمیرا شریف کے پیر صاحب سے رابطہ کیا اورپھر پیرمہرعلی شاہ اور پیر اللہ بخش نے سنگ بنیاد رکھا اور اختلاف ختم کرایا۔ یہ تاریخی مسجد آج بھی راولپنڈی شہرکی سب سے بڑی مسجد ہے جہاں ہزاروں افراد نماز جمعہ کیلئے خصوصی طور پرجمع ہوتے ہیں ۔ معروف شاعروادیب عطاالحق قاسمی کے والد مولانا بہائوالحق قاسمی جامع مسجد کے پہلے خطیب تھے اور اس وقت مسجد میں ایک ڈویژنل خطیب، ایک خطیب، ایک نائب خطیب، ایک موزن، ایک مدرس، دو خادم اور ایک خاکروب کام کر رہے ہیں جن کی تنخواہ اوقاف پلازا کی آمدنی میں سے محکمہ اوقاف ادا کرتا ہے۔

ڈاکٹرزاہداعوان

آپ کس خوشی میں ویلنٹائن ڈے مناتے ہیں؟

novalentines_kpp

بڑی عجیب بات ہے لوگوں کو عشق ہو جاتا ہے اوریہ عشق ہمیشہ جنس مخالف سے ہی ہوتا ہے۔ ہم ضرورتوں کو محبت کا نام دے دیتے ہیں عشق کا نام دے دیتے ہیں ۔ یہ ہماری ضرورت ہے اور بعض اوقات یہ ہوتا ہے کہ شادی سے پہلے تو بڑا عشق ہوتا ہے اور چند ہفتے گزرتے ہیں تو نوبت طلاق تک پہنچ جاتی ہے یعنی ایک دوسرے کو صحیح جانتے نہیں ہوتے۔ جب ایک دوسرے پر کھلتے ہیں توکہتے ہیں کہ ہمارا تو گزارا نہیں ہو سکتا یہ کہاں کا عشق ؟ عشق ایک کیفیت کا نام ہے کہ جب آپ کو احساس ہو کہ کوئی میرا بہت ہی خیال رکھنے والا ہے مجھے خود اپنا اتنا خیال نہیں جتنا میری بہتری چاہنے والا میرا خیال رکھتا ہے۔

اس کے جواب میں جو آپ کو اس ہستی سے محبت ہو گی ایک کیفیت آپ کے دل پر آئے گی آپ اس سے پیار کریں گے اسے اچھا جانیں گے اس کا احترام کریں گے اسی کا نام عشق ہے۔ اور سوائے اﷲ کے کوئی دوسرااس کا مستحق ہی نہیں کہ سب سے زیادہ ہماراخیال وہی رکھتا ہے جو آنکھ کے ایک ایک ذرے، باڈی کے ایک ایک سیل کی نشو ونما کررہا ہے ۔ ہم اسے مانیں یا نہ مانیں، ہم جانیں یا نہ جانیں وہ چلا رہا ہے ۔ پھر عشق ہے اس ذات کے ساتھ جس نے ہمیں اﷲ سے آشنا کردیا اگر درمیان میں وہ ذات نہ ہو تو ہم اپنی سوچ ، اپنی فکر سے ﷲ تک نہیں پہنچ سکتے ، تو عشق وہ ہے جو آپ کو اپنے نبی ؐسے ہو گا جس نے آپ کی ہرضرورت کی خوبصورت راہ متعین کر دی۔ اگر آپ ان راہوں پرچلیں تو اس دنیا میں بھی آپ معزز و معتبراور آخرت میں بھی آپ معزز اور معتبر اور اﷲ کی بارگاہ میں سرخرو انسانوں کا اتنا زیادہ بھلا چاہنے والا کون ہے ؟۔   say-no-valentine-day-islam-facebookاگر یہ نسبتیں پیدا ہو جائیں تو یہ عشق ہے ۔ جنس مخالف سے محبت نہیں ہے ہماری ضرورت ہے ہاں کسی میں انسانیت ہو تو وہ محض اسے ضرورت نہیں سمجھتا پھر وہ اس کا احترام بھی کرتا ہے۔ کوئی بھی ملک کسی دوسرے ملک کے آئین کو تسلیم ہی نہیں کرتا، انہیں وہ فٹ بھی نہیں بیٹھتا اور اس پروہ عمل کر بھی نہیں سکتے ۔ان کے موسم الگ ہوتے ہیں لباس، رہائش و بودو باش الگ ہوتی ہے، طریقے الگ ہوتے ہیں ۔ آپ نے دیکھا کسی انگریز نے کھسہ پہنا ہوا ہو؟ کبھی دیکھا کسی انگریز نے شلوار قمیض پہنی ہو؟ کسی انگریز کو دیکھا اس نے شیروانی پہنی ہو؟ تو پھرآپ کس خوشی میں ٹائی تک درست کر رہے ہوتے ہیں؟

آپ پتلون کوٹ اور ٹائی لگا کر مونچھ داڑی صاف کر کے اور ٹیڑھے بال کر کے انگریز بننے کی کس خوشی میں کوشش کر رہے ہیں ؟ کسی امریکن، کسی یورپین کسی خاتون کو دیکھا اس نے برقعہ پہنا ہو، پردہ کیا ہو؟ کوئی اسلامی رسم جس کی وہ تعریف بھی کرتے ہیں ، پسند بھی کرتے ہیں، کسی نے اپنائی؟ آپ کس خوشی میں ویلنٹائن ڈے مناتے ہیں؟ آپ کسی خوشی میں اپریل فول مناتے ہیں؟ آپ کسی خوشی میں بلیک فرائی ڈے مناتے ہیں؟ اﷲ پاک شعور دے اور احساس دے، ہماری بدنصیبی یہ ہے کہ ہمارا تو احساس ضیاع بھی رخصت ہو چکا ہے۔

محمد اکرم اعوان

روہنگیا مسلمانوں پر ظلم کا نیا دور

دیکھا جائے تو دنیا کے کئی ممالک میں کوئی نہ کوئی بحران یا مسئلہ موجود ہے جس کی وجہ سے وہ ملک عالی سطح پر توجہ کر مرکز رہتا ہے۔ کہیں اندرونی اختلافات ہیں تو کہیں سیاسی محاذ آرائیاں، کہیں جنگ کا میدان گرم ہے تو کسی خطے میں قدرتی آفات سے ہونے والی تباہی نے اسے دنیا کی توجہ کا مرکز بنا دیا۔ کسی علاقے میں معاشی بحران ہے تو کچھ علاقے مظلوموں پر ظلم و ستم، انسانیت سوز سلوک اور صاحبان اقتدار کی شے پر ہونے والی غنڈا گردی کی تصویر پیش کررہے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر، مقبوضہ فلسطین تو دنیا بھر میں انتہائی حساس موضوع بنے ہوئے ہیں اور ان پر ہر بڑے عالمی پلیٹ فارم پر بات بھی ہوتی ہے لیکن میانمار (سابق برما) کے روہنگیا مسلمانوں کی مظلومیت کا عالم یہ ہے کہ ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں لیکن ان کے لیے آواز عالمی سطح پر اس طرح نہیں اٹھائی جا رہی جس طرح اٹھائی جانی چاہیے۔ روہنگیا مسلمانوں کا سرکاری طور پر قتل عام کیا جا رہا ہے لیکن عالمی برادری کو تو چھوڑیں مسلم امہ بھی پنے اپنے مسائل میں اتنی پھنسی ہوئی ہے کہ وہ ان مظلوموں کے لیے صحیح طرح صدائے احتجاج بھی بلند نہیں کرپارہی۔

میانمار میں حالیہ دنوں میں سرکاری فوج نے ظلم و بربریت کی انتہا کردی ہے۔ اب تک موصولہ میڈیا رپورٹس کے مطابق روہنگیا مسلمانوں کے اکثریتی علاقے اراکان میں 150 سے زائد مسلمان قتل کیے جا چکے ہیں، جب کہ درجنوں زخمی کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ظلم و زیادتی کی نئی مثال قائم کرتے ہوئے روہنگیا مسلمانوں کے درجنوں مکانات اور دیگر املاک کو بھی نذر آتش کردیا گیا۔ انسانی حقوق کے کارکنوں نے بھی اراکان کی صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، انھوں نے بتایا ہے کہ علاقے میں صورت حال انسانی حقوق کے لحاظ سے بدترین ہے۔ میانمار کی فوج قتل و غارت تو کرہی رہی ہے اس کے ساتھ اس نے میڈیا کو بھی صورت حال کی حقیقی کوریج سے روک دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کی جو تصاویر اور وڈیو دکھائی جا رہی ہیں ان کو دیکھ کر ہر دردمند انسان کی روح کانپ اٹھی ہے۔

میانمار کی فوج کے مظالم سے بچنے کے لیے بہت سے لوگ میانمار اور بنگلادیش کے درمیان موجود دریا کے کناروں تک پہنچ کر کسی محفوظ مقام کی تلاش میں ہیں، لیکن سرحدی محافظ ان کے آگے رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ آئیے یہ بھی دیکھیں کہ یہ روہنگیا مسلمان ہیں کون؟ روہنگیا مسلمان میانمار کی مغربی ریاست اراکانا یا راکھین (Rakhine) میں رہنے والے مسلمانوں کو کہتے ہیں، جو میانمار میں اقلیت کی حیثیت سے زندگی گزار رہے ہیں جنھیں کبھی بدھوں کے مظالم سہنے پڑتے ہیں تو کبھی سرکاری فوج کی لشکرکشی کے باعث انھیں مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ میانمار کے علاوہ روہنگیا مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد سعودی عرب، پاکستان، بنگلادیش، تھائی لینڈ، ملائیشیا اور دیگر ملکوں میں قیام پذیر ہے۔ میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کی تعداد لگ بھگ 10 لاکھ کے قریب ہے۔ ان کی زبان ’’روہنگیا‘‘ ہے جو بنگالی سے ملتی جلتی ہے، اسی وجہ سے انھیں روہنگیا مسلم کہا جاتا ہے۔ مختلف مورخین اور خود روہنگیا مسلمانوں کا کہنا ہے کہ ان کے آباؤاجداد کا تعلق راکھین اسٹیٹ سے ہی ہے، لیکن میانمار کے مورخین کہتے ہیں کہ روہنگیا مسلمان کسی اور جگہ سے ہجرت کرکے یہاں آئے۔

روہنگیا مسلمانوں پر ظلم و ستم کوئی نئی بات نہیں۔ یہ مسئلہ کئی دہائیوں سے چلا آ رہا ہے، جس کی اصل وجہ یہ ہے کہ میانمار کے حکمرانوں اور وہاں رہنے والی دیگر قومیتوں نے روہنگیا مسلمانوں کو کبھی دل سے تسلیم ہی نہیں کیا۔ روہنگیا مسلمانوں کو میانمار پر ایک بوجھ سمجھا جاتا ہے اور ان سے نفرت کا اظہار مختلف مواقع پر روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کرکے کیا جاتا ہے۔ تاریخی طور پر دیکھا جائے تو روہنگیا مسلمان اراکان میں 16 ویں صدی سے آباد ہیں۔ ان کی کئی نسلیں یہاں پلی بڑھی ہیں لیکن تاحال ان کو حقوق ملے نہ شناخت دی گئی اور نہ ہی انھیں اپنایا گیا۔ ان ہی اسی ظالمانہ رویوں کا نتیجہ ہے کہ آج روہنگیا مسلمانوں کا لہو بہہ رہا ہے اور پورا میانمار اس طرح چپ ہے جیسے کہ کچھ ہوا ہی نہیں۔

اس ساری صورت حال میں سب سے قابل مذمت کردار ژنگ سان سوچی کا رہا ہے۔ جب وہ خود قید و بند کی صعوبتیں برداشت کررہی تھیں تو ہر انٹرویو میں اور اپنے ہر خطاب میں وہ انسانی حقوق کی پاس داری، ظلم و ستم کے خاتمے، مظلوموں کو ان کے حقوق دلانے کی بڑی بڑی باتیں کرتی تھیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے بہیمانہ ظلم و ستم پر ژنگ سان سوچی نے بھی چپ سادھ رکھی ہے۔ اب لگتا ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں پہنچ کر وہ انسانی حقوق کی پاس داری اور مظلوموں سے انصاف کا سبق بھول گئی ہیں یا دہرانا نہیں چاہتیں۔

1946 میں اراکان کے مسلم رہنماؤں نے قائد اعظم محمد علی جناحؒ سے ملاقات کر کے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ ان کے کچھ علاقوں کو ملا کر الگ ریاست بنائی جائے، تاہم وہاں کے حکمرانوں نے روہنگیا مسلمانوں کے اس مطالبے کو ماننے سے انکار کر دیا تھا، جس کے بعد روہنگیا مسلمانوں نے حکمرانوں کے خلاف تحریک کا آغاز کیا اور مختلف مواقع پر اپنی الگ ریاست کا مطالبہ دہرایا، لیکن اس کے جواب میں میانمار کی حکومتوں نے جبرو تشدد کے ذریعے ان کی آواز کو دبانے کی کوشش کی اور سیکڑوں روہنگیا مسلمان مختلف اوقات میں ہلاک کردیے گئے، سیکڑوں زخمی کیے گئے اور یہ سلسلہ ابھی جاری ہے کیوںکہ عالمی برادری خاص طور پر اسلامی ملکوں کو شاید روہنگیا مسلمانوں کی چیخیں سنائی نہیں دے رہیں۔

روہنگیا مسلمانوں کی مشکلات میں اضافہ اس سال اس وقت ہوا جب 9 اکتوبر 2016 کو 300 کے قریب مسلح حملہ آوروں نے میانمار کے سرحدی محافظوں پر حملہ کرکے 9 فوجیوں کو ہلاک کر دیا۔ سیکیوریٹی حکام کے مطابق حملہ آوروں نے بنگلادیش سے ملحق سرحدی علاقے میں کارروائی کی، فوجیوں کے خلاف بارودی مواد کے علاوہ چاقو، چھریوں اور دیسی ساختہ بموں کا استعمال کیا گیا۔ 2 دن بعد 11 اکتوبر کو ایسی ہی ایک کارروائی میں 4 فوجی نشانہ بنے۔ اراکان ریاست کے حکم رانوں نے فوجیوں پر حملوں کا الزام روہنگیا مسلمانوں پر عائد کردیا، جس کے بعد روہنگیا مسلمانوں پر جاری مظالم اور زیادتیوں کے سلسلے کو مزید وسیع کردیا گیا ہے۔

میانمار کی حکومت نے روہنگیا سالیڈیرٹی آرگنائزیشن (Rohingya Solidarity Organization) کو فوجیوں کی ہلاکت کا ذمے دار ٹھہرایا لیکن بربریت کا نشانہ تمام روہنگیا مسلمانوں کو بنایا۔ 17 اکتوبر کو فیتھ موومنٹ آف اراکان (Faith Movement Arakan) نے مختلف سوشل میڈیا سائٹس پر میانمار کی فوج پر حملوں کی کچھ ویڈیوز اور تصاویر اپ لوڈ کر کے ان کارروائیوں کی ذمے داری قبول کی۔ نومبر میں میانمار کی فورسز نے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف کارروائیاں شروع کیں جن میں درجنوں افراد ہلاک و زخمی ہوچکے ہیں۔ سیکیوریٹی حکام کا کہنا ہے کہ مارے جانے والے افراد فورسز پر حملوں میں ملوث تھے۔ تاہم یہ دعویٰ اس لیے بے بنیاد نظر آتا ہے کیوںکہ مارے جانے والوں میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 250 سے زائد افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے جن پر فورسز پر حملوں میں ملوث ہونے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔

اراکان میں فوج کے تشدد اور روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام پر بالآخر امریکا اور اقوام متحدہ کو ہوش آ ہی گیا اور چند دن قبل امریکی محکمۂ خارجہ نے صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم اصل حقائق کو جاننے کی کوشش کررہے ہیں جو اطلاعات آرہی ہیں وہ اچھی نہیں حالات کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے میانمار میں امریکی سفیر نے حکومتی اہل کاروں سے ملاقات کی اور صورت حال کو بہتر کرنے کے حوالے سے تبادلۂ خیال کیا۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے بھی روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے علاقے میں حکومتی اقدامات کے نتیجے میں ہونے والی خوںریزی کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ کوفی عنان کا کہنا ہے کہ حالات تشویش ناک ہیں اور اس سے میانمار کمزور ہورہا ہے جب کہ لوگوں کی بڑی تعداد نقل مکانی پر مجبور ہے۔

اسلامی ملکوں کو بھی روہنگیا کے مسلمانوں کی حالت زار کا بھرپور اور فوری نوٹس لینا چاہیے، گو کہ تمام اسلامی ملک اپنے اپنے مسائل اور بحرانوں سے نکلنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ اس خطے کی بات ضرور کریں اور اس کے لیے آواز لازمی اٹھائیں جس کے باسی صرف مسلمان ہونے کے ’’جرم‘‘ میں حکومتی مظالم کا شکار ہیں۔ اگر تمام اسلامی ممالک متحد ہوکر اقدامات کریں تو میانمار کی حکومت روہنگیا مسلمانوں پر توڑے جانے والے مظالم اور زیادتیوں کا سلسلہ روک سکتی ہے ورنہ روہنگیا مسلمانوں کا ارزاں خون بہتا ہی رہے گا۔

آصف زیدی

مسلمان دہشت گرد نہيں؟

”سارے مسلمان تو دہشت گرد نہیں لیکن سارے دہشت گرد مسلمان ضرور ہیں“ یہ بات بالکل درست نہیں چونکہ دہشت گردی مسلمانوں کا خاصہ بالکل نہیں پچھلے 250 سالوں میں بے گناہ انسانوں کا قتل جو عیسائیوں کے ہاتھوں سے ہوا ہے پوری انسانی تاریخ میں کسی دوسرے مذہب کے لوگوں کے ہاتھوں سے ایسا ظلم نہیں ہوا؟ دوسری جنگ عظیم میں ساٹھ لاکھ یہودی گیس چیمبرز میں ڈال کر جلا دئیے گئے؟ بش اور بلیر کے مظالم آپ کے سامنے ہیں جرمن نازیوں کے علاوہ کسی پر بھی جنگی جرائم کی وجہ سے بین الاقوامی عدالتوں میں مقدمات نہیں چلائے گئے؟ آج بھی امریکی قیادت اور ان کے سپاہیوں کی سفاکانہ کارروائیوں کی طرف انگلی اٹھانے والا کوئی نہیں؟ جاپان کے شہروں ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرا کر معصوم بچوں‘ عورتوں‘ بوڑھوں اور بے گناہ لوگوں کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کرنا اگر دہشت گردی نہیں تو اور کیا تھا اور کیا اس ساری دہشت گردی کے پیچھے کوئی ایک بھی مسلمان تھا؟

قارئین ان خیالات کا اظہار ہندوستان کے ایک 70 سالہ نہایت تجربہ کار کالم نگار اور بین الاقوامی سطح کے صحافی سوامی ناتھن ایار (Swaminathan Aiyar) نے اپنے ایک حالیہ مضمون میں کیا؟ ایار ایک معروف ہندو قلم کار ہیں جو اکنامک ٹائم کے ایڈیٹر ہی نہیں بلکہ ٹائمز آف انڈیا میں باقاعدہ کالم لکھتے ہیں؟ یہ دو کتابوں Towards Globalisation اور Swaminomics کے مصنف بھی ہیں؟ قلم کار کے مطابق جب آپ سیاسی مفادات کی خاطر سویلین کو قتل کرتے ہیں تو اس کو دہشت گردی کہا جاتا ہے؟ 1881ء میں روس کے حاکم الیگزینڈر دوئم کو اکیس ساتھ کھڑے لوگوں سمیت ہلاک کر دیا گیا؟ 1901ءامریکی صدر Mckinley اور اٹلی کے بادشاہ Humbert کو قتل کیا گیا 1914ءمیں آسٹریا کے آرکڈیوک فرڈینیڈ کی جان لے لی گئی جس سے پہلی جنگ عظیم شروع ہو گئی؟ ان میں سے کوئی دہشت گرد بھی مسلمان نہ تھا؟ ہندو قلم کار کے مطابق انگریز راج میں آزادی کی جنگ لڑنے والے چندرا سیکر اور بھگت سنگھ کو انگریزوں نے دہشت گرد کہا یہ بھی مسلمان نہیں تھے؟

 

دوسری جنگ عظیم کے فوراً بعد فلسطین پر انگریزوں کا قبضہ تھا؟ یہودی انتہا پسند اپنی آزاد بستی بنانے کیلئے انگریزوں پر بموں سے حملے کرتے؟ ہوٹل تباہ کرتے اور لوگوں کو قتل کرتے تھے؟ انگریز ان کو دہشت گرد کہتے تھے؟ اس وقت کے مشہور یہودی دہشت گردوں میں موشے دایان‘ رابن‘ بیگن اور شیرون جیسے لوگ شامل تھے جو بعد میں اسرائیل کے وزیر دفاع وزیراعظم اور صدر بنے؟ حکومت میں آنے کے بعد انہوں نے اپنی آزادی کی جنگ لڑنے والے فلسطینیوں کو دہشت گرد کہہ کر چن چن کر مارنا شروع کر دیا؟ اب اسرائیل یہ سننے کو تیار نہیں کہ جو کچھ وہ کر رہے ہیں یہ ریاستی دہشت گردی ہے؟

جرمنی میں 1968ءسے لیکر 1992ءتک Meinhoffgang نے بہت لوگ قتل کئے؟ اٹلی کے ریڈ برگیڈ نے وزیراعظم Ardo Moro کو ہلاک کیا؟ جاپان میں ریڈ آرمی نے قتل و غارت کی اسی طرح ایک اور گروپ نے 1995ء میں ٹوکیو میٹرو کے اندر زہریلی گیس چھوڑ کر لوگوں کو ہلاک کیا؟ یورپ میں آئرلینڈ کے کیتھولک عیسائی دہشت گردوں نے تباہی مچائی اور انگلینڈ میں سینکڑوں لوگ ہلاک کئے؟ افریقہ کے اندر دہشت گردی روز کا معمول ہے؟ سپین اور فرانس میں ETA اور Basgne دہشت گردوں کا راج ہے؟ یوگنڈہ کی سالویشن آرمی بچوں کو دہشت گردی کیلئے تربیت دیتی ہے؟

خودکش حملوں کا رواج سری لنکا کے ہندو تامل ٹائیگرز نے ڈالا اور انہوں نے 2003ءسے 2007ءتک 400 خودکش حملے کر کے افغانستان اور عراق کو بھی مات کر دیا پنجاب کا جرنیل سنگ بھنڈرانوالہ اور آسام کے یونائیڈ لبریشن فرنٹ اور ناگاز کے علاوہ جن Maoist دہشت گردوں کا ہندوستان کے 600 اضلاع میں سے 150 اضلاع پر کنٹرول ہے؟ سب غیر مسلم لوگ ہیں ہندو قلم کار نے لکھا؟

” These are secular terrorists and are far ahead of Muslim terrorists ۔”

یعنی یہ سب سیکولر دہشت گرد ہیں اور یہ مسلمان دہشت گردوں سے بہت آگے ہیں؟ ہندو صحافی کے خیال میں مذکورہ بالا حقائق کے باوجود ہم صرف مسلمانوں کو دہشت گرد دو وجوہات کی بنا پر کہتے ہیں ایک تو یہ ہے کہ ہندوستان میں برگر اور روسٹڈ گوشت کھانے والے کالے انگریز مسلمانوں کے خلاف مغربی پراپیگنڈے کو آنکھیں بند کرکے قبول کر لیتے ہیں؟ ہندوستان کی سلامتی کو سب سے بڑا خطرہ Maoists کی طرف سے ہے جو ہندوستان کے تیسرے حصے پر اپنا اثرورسوخ رکھتے ہیں؟ لیکن ہندوستان کے لوگ صرف مسلمانوں پر دہشت گردی کا الزام لگاتے ہیں؟ ہندو صحافی نے لکھا؟

“The root of the post war resurgence in terrorism whether one likes it or not started and happens to be the plight of the six million Palestinians who have been made homeless and humiliated for the last six decades۔”

یعنی آپ پسند کریں یا نہ کریں دہشت گردی کی جڑیں دراصل ساٹھ لاکھ فلسطینیوں کی حالت زار میں ہیں جن کو بے گھر کرکے بے عزت کیا گیا؟ قارئین مغربی بے رحم سماج جو مرضی ہے کہہ لے فلسطین کی سرزمین کی خون سے آبیاری کرنے والے مسلمان دہشت گرد نہیں؟ نہ ہی مقبوضہ کشمیر میں اپنی ماں، بہنوں اور بیٹیوں کی عزت کی حفاظت کی خاطر جان کی بازی لگانے والے ٹیررسٹ ہیں؟ اسی طرح اپنی سرزمین سے حملہ آوروں کو باہر دھکیلنے کیلئے مزاحمت کرنے والے افغانیوں کو Militant کہنا بھی حقائق سے روگردانی کے مترادف ہو گا؟ اس وقت دنیا میں قبائلیوں پر ڈرون حملے کرنے والے فلسطینیوں پر ہوائی حملوں کے مجرم اور پاکستان کے اندر معصوم شہریوں کی جان لینے والے دہشت گرد ہیں؟ مسلم امہ اور خصوصاً پاکستانی قوم کو نہایت صبر اور حوصلے سے اس بربریت کا مقابلہ کرنا چاہئے؟ مستقل مزاجی سے یکجا کھڑے ہو کر ہم بیرونی اور اندرونی خطرات کا مقابلہ کر سکتے ہیں خوف خدا ملک سے محبت‘ دیانتداری‘ ثابت قدمی اور حق کو حق اور باطل کو باطل کہنے کا حوصلہ رکھ کر ہم پاکستان کی فلاح کا راستہ نکال سکتے ہیں جس سے امن اور خوشحالی کے چشمے پھوٹ سکتے ہیں؟ کالم کا اختتام ان چند اشعار:

اپنا قافلہ اسی عزم و یقین سے نکلے گا

جہاں سے چاہیں گے راستہ وہیں سے نکلے گا

وطن کی مٹی مجھے ایڑیاں رگڑنے دے

مجھے یقین ہے چشمہ یہیں سے نکلے گا۔

لیفٹینٹ جنرل (ر) عبدالقیوم

بہ شکریہ روزنامہ نوائے وقت

کشمیر: ’معصوموں کا قتل کب تک جائز رہے گا؟‘

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں فوج کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے دو طالب 

علموں کی پہلی برسی پر متاثرین احتجاج کر رہے ہیں۔
بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں گذشتہ برس تین نومبر کو فوج نے ایک چوکی کے قریب کار پر فائرنگ کی جس میں دو نوجوان برہان اور معراج ہلاک ہو گئے۔
مظاہروں کا دائرہ پھیلنے لگا تو فوج نے دعویٰ کیا کہ اس واقعے کی تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں اور ایک افسر سمیت نو فوجی اہلکاروں کو قصور وار ٹھہراتے ہوئے ان کے خلاف کورٹ مارشل کی سفارش کی گئی ہے۔ جموں میں تعینات فوج کی شمالی کمان کا کہنا ہے کہ ’اس سفارش پر مشاورت ہو رہی ہے۔‘
  
ایک سال گزرنے کے بعد اس واقعے کے متاثرین کہتے ہیں کہ پولیس، فوج، ریاستی حکومت یا دہلی میں نریندر مودی کی حکومت پر سے ان کا اعتماد اُٹھ چکا ہے۔
15 سالہ برہان کے والد محمد یوسف ڈار کہتے ہیں: ’صرف بولتے ہیں کورٹ مارشل کیا۔ کہاں ہے کورٹ مارشل، کس کا کورٹ مارشل کیا۔ ارے صاحب وہ فوجی تو کسی کیمپ میں ہوگا، یا گھر میں آرام کر رہا ہو گا۔ میں پوچھتا ہوں یہاں معصوم کا قتل کب تک جائز رہے گا؟‘
اس واقعے میں مارے جانے والے ایک اور نوجوان معراج الدین کی بہن کہتی ہیں: ’ہم کو دس لاکھ روپے کی پیشکش کی گئی۔ بولا سرکاری نوکری دیں گے۔ ہمیں نوکری یا پیسہ نہیں انصاف چاہیے۔ میرا بھائی بندوق لے کر نہیں کتابیں لے کر جا رہا تھا۔ ایک سال ہو گیا، کسی نے پوچھا ہمیں؟ ہم انصاف کے لیے لڑتے رہیں گے۔ 

محمد یوسف ڈار کا کہنا ہے کہ جب حکومت نے ریاستی سرکار کی طرف سرکاری معاوضے کا اعلان کیا تو کیس کی نوعیت جاننے کے لیے تحصیل دار کے پاس گئے لیکن وہاں ان سے رشوت طلب کی گئی۔

  پولیس، فوج، ریاستی حکومت یا دہلی میں نریندر مودی کی حکومت پر سے ان کا اعتماد اُٹھ چکا ہے ان کا کہنا ہے کہ فوج سے کورٹ مارشل کے بارے معلومات لینے جب وہ فوجی ہیڈکوارٹر پر پہنچے تو انھیں اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

گذشتہ 25 سال میں یہ پہلاموقعہ ہے کہ فوج نے ایسی کسی واردات میں تین ہفتوں 
کے اندر اندر تحقیقات مکمل کی ہوں اور غلطی کا اعتراف کیا ہو۔
لیکن متاثرین کہتے ہیں کہ قصوروار فوجیوں کو عوام کے سامنے لایا جائے اور سول کورٹ میں ان پر مقدمہ چلایا جائے۔ لیکن یہاں پر نافذ آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ جیسے سخت فوجی قانون کی رُو سے قصوروار فوجیوں کا قانونی مواخذہ ممکن نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نوگام کے مقتول نوجوانوں کے اہل خانہ کو مکمل انصاف کی امید نہیں ہے۔
متاثرہ خاندانوں کے کئی افراد کہتے ہیں: ’اگر یہ لوگ خود مانتے ہیں کہ ہمارے نہتے بچوں پر نو فوجیوں نے فائرنگ کی، تو ان قصورواروں کو میڈیا کے ذریعے عوام کے سامنے لایا جائے اور پھر ان کے خلاف یہاں کی عوامی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے۔ ہم کو نقد معاوضہ یا ہمدردی کے بیانات نہیں مکمل انصاف چاہیے۔ 
واضح رہے کہ 2010 میں ایک فرضی تصادم میں فوج نے تین نوجوانوں کا قتل کیا تھا۔ اس سلسلے میں حالیہ دنوں فوج کی ایک عدالت نے پانچ اہلکاروں کو عمر قید کی سزا سنائی۔
   ایک فرضی تصادم میں فوج نے تین نوجوانوں کا قتل کیا تھا
تین نومبر کی شب سری نگر کے نواحی علاقہ نوگام کے رہنے والے پانچ دوست ایک کار میں عاشورہ کی تقریب میں شرکت کے لیے گئے تھے۔
ضلع بڈگام کے چھیترگام میں ہونے والی اس تقریب سے واپسی کے دوران ایک فوجی چیک پوائنٹ پر فوجی اہلکاروں نے کار پر فائرنگ کی جس میں 15 سالہ برہان اور 17 سالہ معراج مارے گئے۔ اس واقعے کے خلاف چار روز تک احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا۔
قابل ذکر ہے اس سال جولائی میں حقوق انسانی کی بین الاقوامی تنظیم ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے جو رپورٹ جاری کی ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ ایسے واقعات میں انصاف ناممکن ہے کیونکہ 25 سال سے کشمیر میں آرمڈفورسز سپیشل پاورز ایکٹ نام کا فوجی قانون نافذ ہے۔
اس قانون کی رُو سے کسی بھی قصوروار فوجی یا نیم فوجی کا عدالتی مواخذہ ممکن نہیں ہے۔ رپورٹ کے مطابق فوج نے اعتراف کیا ہے کہ اسے زیادتیوں کی ڈیڑھ ہزار سے زائد شکایات موصول ہوئی ہیں، لیکن اس میں سے صرف 54 کو درست مان کر 129 فوجیوں کا کورٹ مارشل کیا گیا۔ لیکن سزایافتہ فوجیوں کے نام کبھی مشتہر نہیں کیے گئے۔
ریاض مسرور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام