متحدہ مجلس عمل کی بحالی

اگرچہ چھ جماعتوں پر مشتمل مذہبی اور سیاسی اتحاد ، متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کو بحال کرنے کی کوششیں کافی دیر سے جاری تھیں لیکن اس کی توقعات اُس وقت بڑھ گئیں جب جماعت ِاسلامی کے امیر، سراج الحق نے گزشتہ ماہ اعلان کیا کہ اس ضمن میں اصولی فیصلہ کر لیا گیا ہے، اورسابقہ اسلامی اتحاد کی باضابطہ بحالی کا اعلان دسمبر 2017 ء کے وسط میں کر دیا جائے گا۔ تاہم ان چھ مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے نظریات اور فعالیت سے واقفیت رکھنے والے افراد جانتے ہیں کہ متحدہ مجلس ِعمل کی بحالی کوئی سیدھا سادہ، ہموار معاملہ نہیں ہو گا۔ 2008 ء میں متحدہ مجلس عمل کی تحلیل کے بعد سے یہ جماعتیں مختلف ، بلکہ مخالف اہداف کے حصول کے لئے فعال دکھائی دے رہی ہیں۔ نیز دو سب سے بڑی مذہبی جماعتیں اس وقت مخالف اتحادیوں کا حصہ ہیں۔

جمعیت علمائے اسلام (فضل) پاکستان مسلم لیگ نواز کے ساتھ اتحاد رکھتے ہوئے وفاقی حکومت کا حصہ ہے، جبکہ جماعت اسلامی خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے حکومتی اتحاد میں ذیلی شراکت دار کے طور پر مطمئن ہے۔ چونکہ پاکستان مسلم لیگ نواز اور تحریک انصاف ایک دوسرے کی شدید ترین مخالف ہیں اس لئے بعض اوقات اُن کے حامی بھی ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہو جاتے ہیں۔ کچھ حالیہ فیصلے اور نزاعی مسائل شاید متحدہ مجلس عمل کی بحالی میں آڑے آئیں۔ ان میں سے ایک فیصلہ نومبر کے آغاز میں جمعیت علمائے اسلام سمیع الحق کے قائد، مولانا سمیع الحق اور پاکستان تحریک ِ انصاف کے چیئرمین عمران خان کے درمیان ہونے والا سمجھوتہ تھا۔

اس کا ہدف 2018 ء کے عام انتخابات کے لئے سیاسی اتحاد کا قیام تھا۔ یہ ایک حیران کن پیش رفت تھی۔ اس کا جمعیت علمائے اسلام سمیع الحق کو بہت حد تک فائدہ ہو سکتا ہے کیونکہ وہ ایک چھوٹی جماعت ہے اور اس کی نہ تو ملک کی اسمبلی میں کوئی نمائندگی ہے اور نہ ہی اس کا قابل ِ ذکر ووٹ بنک ہے۔ تحریک ِ انصاف کو اس سے واحد فائد ہ یہ ہو سکتا ہے کہ وہ متحدہ مجلس عمل کی بحالی کے عمل کو روک دے، یا کم از کم جمعیت علمائے اسلام سمیع الحق کو اس سے دور رکھے۔ اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ متحدہ مجلس عمل میں ہمیشہ جماعت ِاسلامی اور جمعیت علمائے اسلام فضل کو بالا دستی حاصل رہی ہے نیزتحریک ِ انصاف دعویٰ کر سکتی ہے کہ اس کی پالیسیاں اور قیادت ایک دینی جماعت کے لئے قابل قبول ہیں۔ اس طرح وہ اپنی حریف جماعت، جمعیت علمائے اسلام فضل کے الزامات کا تدارک کر سکتی ہے ۔ مولانا فضل الرحمان، عمران خان پر غیر اسلامی اقدار کو فروغ دینے اور یہودی لابی کے لئے کام کرنے کا الزام لگاتے رہتے ہیں۔

پاکستان تحریک ِ انصاف کوجمعیت علمائے اسلام سمیع الحق کے ساتھ شراکت داری کے نتیجے میں پہنچنے والا نقصان فائدے کی نسبت کہیں زیادہ ہو گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ماضی میں مولانا سمیع الحق کے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ قریبی روابط رہے ہیں۔ 2014ء میں پاکستان مسلم لیگ نواز کی وفاقی حکومت کے ساتھ ہونے والے پرامن مذاکرات ، جو ناکامی سے دوچار ہوئے، میں مولانا نے تحریک طالبان پاکستان کی نمائندگی کی تھی ۔ مزید برآں، انتخابی اتحاد کے تحت، تحریک ِ انصاف کو خیبر پختونخوا اسمبلی اور سینیٹ میں کچھ نشستیں مولانا سمیع الحق کی جماعت کو دینی پڑ سکتی ہیں، لیکن اس کے عوض اسے دوسری طرف سے کچھ نہیں ملے گا۔ بلکہ اس سمجھوتے کی وجہ سے تحریک انصاف کی صفوں میں کچھ ناراضگی بھی پید ا ہو سکتی ہے۔ جمعیت علمائے اسلام سمیع الحق کو دئیے گئے انتخابی حلقوں سے تحریک انصاف کے ٹکٹ کے خواہشمند بغاوت پر اترتے ہوئے بطور آزاد امیدوار انتخابی معرکے میں شریک ہونے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔

چونکہ پاکستان تحریک ِ انصاف مولانا فضل الرحمان کے مسلسل حملوں کی زد میں ہے ، چنانچہ اس نے بہتر سمجھا ہے کہ مولانا سمیع الحق اُن کے ساتھ کھڑے دکھائی دیں۔ وزیر ِ اعلیٰ پرویز خٹک نے خیبر پختونخوا حکومت کے فنڈز سے تین سو ملین روپے دارالعلوم حقانیہ کو دئیے تھے ۔ نوشہرہ ضلع کے شہر اکوڑہ خٹک میں واقع دارالعلوم حقانیہ ، جسے مولانا سمیع الحق چلاتے ہیں، ملک کے سب سے بڑے دینی مدارس میں سے ایک ہے ۔ پرویز خٹک اور مولانا سمیع الحق، دونوں کا تعلق ضلع نوشہرہ سے ہے۔ پرویز خٹک نے مولانا کے مدرسے کو فنڈز دیتے ہوئے اُنہیں اپنی پارٹی کے قریب لانے اور انتخابی اتحاد قائم کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ تحریک انصاف نے مدرسے کو عطیہ فراہم کرنے کے متنازع فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے اسے مدرسہ اصلاحات لانے اور انہیں مرکزی دھارے میں شامل کرنے کی کوشش کا ایک حصہ قرار دیا ۔

عمران خان نے مولانا سمیع الحق کے ہمراہ پولیو کے قطرے پلانے کی مہم چلانے کے لئے بھی دارالعلوم حقانیہ کا انتخاب کیا تا کہ پولیو کے قطروں کے خلاف کچھ مخصوص علما اور انتہا پسندوں کی تنقید کا توڑ کر سکیں۔ ہو سکتا ہے کہ عمران خان جمعیت علمائے اسلام سمیع الحق کے ساتھ انتخابی اتحاد قائم کرنے کی کچھ اپنی وجوہ رکھتے ہوں لیکن کچھ حلقے اسے کچھ اور معانی دیتے ہیں۔ ایک سینئر سرکاری افسر کو یہ کہتے سنا گیا کہ عمران خان کا مولانا سمیع الحق کے ساتھ اتحاد کرنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ مولانا کے انتہا پسندوں پر اثر و رسوخ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے آنے والے انتخابات کی مہم کے دوران خود کش حملوں سے محفوظ رہ سکیں۔ کہنا پڑے گا کہ موصوف بہت دور کی کوڑی لائے، کیونکہ مولانا سمیع الحق تمام انتہا پسند گروہوں پر اس طرح کا اثر نہیں رکھتے ۔ ایک تو انتہا پسند اب گروہ در گروہ بہت سی شاخوں میں تقسیم ہو چکے ہیں، اور پھر اُن کے پاس حملہ کرنے کا اپنا محرک ہوتا ہے ۔

متحدہ مجلس عمل کے بحال اور فعال ہونے میں کچھ دیگر رکاوٹیں بھی ہو سکتی ہیں۔ ایک وجہ جماعت ِاسلامی اورجمعیت علمائے اسلام فضل کا فاٹا کے مستقبل پر اپنایا گیا مختلف موقف ہے ۔ زیادہ تر دیگر سیاسی جماعتوں ، بشمول جمعیت علمائے اسلام سمیع الحق کی طرح جماعت ِاسلامی بھی فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کی پرزور حامی ہے ۔ دوسری طرف جمعیت علمائے اسلام فضل اس کی ببانگ دہل مخالفت کر رہی ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ ریفرنڈم کے ذریعے قبائلی عوام کو فیصلے کا حق دیا جائے کہ کیا وہ خیبر پختونخوا کے ساتھ ملنا چاہتے ہیں یا اپنا ایک الگ صوبہ چاہتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان اس حد تک چلے گئے ہیں کہ وہ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کو خطے میں امریکی ایجنڈا قرار دیتے ہیں۔ اُن کے موقف کو غلط قرار دیتے ہوئے جماعت اسلامی کے رہنما، سراج الحق کا کہنا ہے کہ یہ انضمام قبائلی عوام کو معاشی ، سیاسی اور قانونی حقوق دینے اور فاٹا کو ترقی کے راستے پر ڈالنے کے لئے ضروری ہے ۔

ایک اور نزاعی مسئلہ حکومت سے نکلنے کا ہے ۔ جمعیت علمائے اسلام فضل پاکستان مسلم لیگ نواز کی وفاقی حکومت میں شامل ہے تو جماعت اسلامی پاکستان تحریک ِ انصاف کی خیبر پختونخوا کی حکومت کا حصہ ہے ۔ وہ حکومتوں کی پانچ سالہ مدت تک اُن کے ساتھ رہنا چاہتی ہیں تاکہ وہ ترقیاتی فنڈز حاصل کر کے منصوبے مکمل کریں اور اگلے انتخابات میں ووٹروں کی حمایت کی امید رکھ سکیں۔ جماعت ِ اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام فضل کے رہنمائوں کا کہنا ہے کہ حکومت سے نکلنے کا اعلان متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے کیا جائے گا لیکن تاحال اس پر کوئی اتفاق ِ رائے نہیں پایا جاتا۔

یہ بات واضح ہے کہ مذہبی شناخت رکھنے والی سیاسی جماعتیں متحدہ مجلس عمل کی بحالی کے لئے بے تاب ہیں تاکہ وہ اپنے ووٹوں کو مستحکم کر سکیں اور عوام کے سامنے ایک اسلامی آپشن رکھ سکیں۔ اُنھوں نے 2002 ء کے عام انتخابات میں بہت اچھی کارکردگی دکھائی تھی جب متحدہ مجلس عمل نے ایک انتخابی اتحاد کے طور پر الیکشن میں حصہ لیا اور خیبر پختونخوا اسمبلی میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرتے ہوئے حکومت بنائی ۔ اس کے علاوہ وہ بلوچستان کی مخلوط حکومت کا بھی حصہ تھی ۔ متحدہ مجلس عمل قومی اسمبلی میں حکمران جماعت، پاکستان مسلم لیگ ق کے سامنے سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی تھی ۔ ق لیگ کو جنرل پرویز مشرف نے اپنے سیاسی ایجنڈے کے حصول کے لئے تشکیل دیا تھا۔ تاہم متحدہ مجلس عمل کی 2002 ء میں انتخابی کامیابی اسلامی ووٹ کے ارتکاز اور امریکہ مخالف لہر کا نتیجہ تھی ۔ نائن الیون کے بعد القاعدہ کو تباہ کرنے اور طالبان کا تختہ الٹنے کے لئے افغانستان پر حملے کی وجہ سے خطہ امریکہ مخالف جذبات سے کھول رہا تھا ۔

رحیم اللہ یوسفزئی

Advertisements

مردان واقعہ اور ریاست کی ذمہ داری

 مردان یونیورسٹی میں ایک طالب علم کو توہین مذہب کے الزام پر یونیورسٹی کے  ہی طلبہ نے بے دردی سے قتل کر دیا۔ نہ ان سنگین الزامات کی تحقیقات کی گئیں، نہ ہی معاملہ پولیس اور عدالت کے پاس گیا بلکہ ہجوم نے خود ہی الزام لگایا، اپنی عدالت لگائی اور سزا بھی دے دی۔ اس واقعہ کی وزیر اعظم نواز شریف، عمران خان، آصف علی زرداری، مولانا سمیع الحق، مفتی محمد نعیم اور دوسرے کئی سیاسی و مذہبی رہنمائوں نے مذمت کی جبکہ وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا اور متعلقہ پولیس ڈی آئی جی کے مطابق ابھی تک کی تحقیقات میں توہین مذہب کے کوئی ثبوت نہیں ملے۔ خیبر پختون خوا حکومت نے معاملہ کی جوڈیشل انکوائری کا حکم دے دیا ہے جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان نے بھی اس معاملہ کا سو موٹو نوٹس بھی لے لیا ہے۔

امید ہے آئندہ چند ہفتوں میں کیس کے تمام حقائق سامنے آ جائیں گے اور یہ کہ مشال خان پر لگائے گئے الزامات کی نوعیت درست تھی یا غلط یا کہ اُسے کسی سازش کا نشانہ بنا کر اس طرح قتل کروایا گیا۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ ریاست کے ہوتے ہوئے کسی بھی گروہ یا افراد کے مجمع کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ الزام کے بنیاد پر قانون ہاتھ میں لے کر کسی کی جان لے لیں۔ الزام کیسا بھی ہو اس کے لیے معاملہ پولیس، عدالت اور ریاست کے حوالے کیا جائے۔ اگر ہجوم اور گروہوں کو الزام لگا کر لوگوں کو مارنے کی اجازت دے دی جائے تو پھر تو یہاں کوئی بھی نہیں بچے گا اور خصوصاً ایک ایسے معاشرے میں جہاں سنگین سے سنگین الزامات لگانے کا رواج عام ہو اور اس کام کے لیے میڈیا اور سوشل میڈیا کو خوب استعمال کیا جاتا ہو۔

یہاں ریاست اور ریاست کے ذمہ داروں کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے اور اس سوال پر غور کرنا چاہیے کہ آخر ہماری ریاست گستاخی کے الزام میں سزا پانے والوں میں سے کسی ایک کی سزا پر بھی عمل درآمد میں کیوں ناکام رہی۔ ریاست کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ شہریوں کو قانون کی عمل داری نظر آئے تا کہ ہر کسی کو یقین ہو کہ کسی بھی قسم کا جرم کرنے والا سزا سے نہیں بچ سکتا۔ مردان واقعہ کا ایک ا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ مشال خان کے قتل کا حوالہ دے کر ایک طبقہ نے اسلام، blasphemy law اور ماضی قریب میں عدالت، حکومت اور پارلیمنٹ کی طرف سے سوشل میڈیا پر سے گستاخانہ مواد کو بلاک کرنے اور گستاخی کے مرتکب افراد کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات پر سوال اٹھانے شروع کر دیئے۔ کچھ نے کہا کہ مردان یونیورسٹی کا واقعہ blasphemy law کا غلط استعمال ہے۔

کوئی ان سے پوچھے یہ قانون کہاں کسی مجمع یا گروہ کو الزام کی بنیاد پر کسی بھی فرد کو مارنے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ قانون تو ریاست کو گستاخی کے الزام پر کارروائی کی ہدایت دیتا ہے۔ جو کچھ حال ہی میں عدلیہ، پارلیمنٹ اور حکومت نے سوشل میڈیا پر سے گستاخانہ مواد کو ہٹانے کے لیے کیا وہ انتہائی قابل تعریف اقدام ہے اور اس کا مقصد ایک ایسے فتنہ پر قابو پانا ہے جو کسی بھی اسلامی معاشرے میں اشتعال انگیزی، نفرت اور غم و غصہ کا باعث بنتا ہے۔ کسی ایک واقعہ کا بہانہ بنا کر کوئی اگر یہ چاہے کہ blasphemy law کو ہی ختم کر دیا جائے یا کوئی آزادی ٔرائے کے مغربی standards کو یہاں لاگو کیا جائے تو ایسا ممکن نہیں ہو سکتا کیوں کہ اس سے فتنہ بڑھے گا۔ مردان کا واقعہ کسی مدرسہ میں نہیں بلکہ عبدالولی خان یونیورسٹی میں ہوا جس میں ملوث طلبہ کی اکثریت کا مبینہ طور پر ایسی سیاسی جماعتوں کی طلبہ تنظیموں سے تعلق ہے جو اپنے آپ کو سیکولر اور لبرل کہتی ہیں لیکن افسوس کہ بحث ساری اسلام کے متعلق کی جا رہی ہے۔

ایسے موقعوں پر ہی ٹی وی چینلز کو علماء کرام کو بلا کر یہ پوچھنے کا موقع ملتا ہے کہ اسلام اس بارے میں کیا کہتا ہے۔ مردان واقعہ پر عدلیہ اور حکومت دونوں نے نوٹس لے لیا اور امید کی جا سکتی ہے کہ اس معاملہ میں پورا پورا انصاف ہو گا لیکن کیا چیف جسٹس آف پاکستان، وزیر اعظم نواز شریف، عمران خان، دوسرے رہنما اور ہمارا میڈیا زرا اس بات پر غور کرے گا کہ ہر ایسے موقع پر ہم اسلام کو لا کر کٹہرے میں تو کھڑا کر دیتے ہیں لیکن اسلام کی تعلیمات کو فروغ دینے کے لیے ہم کیا کر رہے ہیں۔ جب ہم اسکولوں میں، اپنے گھروں میں، میڈیا کے ذریعے اور حکومتی سطح پر معاشرے کو اسلامی تعلیمات سے آگاہ نہیں کریں گے اور اس ضد پر قائم رہیں گے کہ ریاست کا مذہب کے معاملات میں کوئی کردار نہیں تو پھر اسلام سے شکایت کیسی۔

میں چوہدری نثار علی خان سے متفق ہوں کہ مشال خان کے وحشیانہ قتل کو مذہب کے ساتھ جوڑنا قابل افسوس ہے۔ میری حکومت، پارلیمنٹ ، عدلیہ، سیاسی جماعتوں اور میڈیا سے گزارش ہے کہ لوگوں کو اسلام پڑھانے اور معاشرہ کو قرآن و سنت کے مطابق ماحول فراہم کرنے میں اپنا اپنا کردار ادا کریں جیسا کہ آئین پاکستان کی منشاء ہے۔ جہاں تک توہین مذہب اور گستاخی کے جرم کا تعلق ہے تو اس بارے میں ایک اصول پر ہم سب کو کاربند رہنا چاہیے اور وہ یہ کہ جس پر یہ جرم ثابت ہو گیا اُسے نشان عبرت بنائیں جس نے کسی پر جھوٹا الزام لگایا اُس پر قذف لگائیں۔ اسی طرح سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر کو روکا جائے اور ایسا کرنے والوں کو سزائیں دی جائیں۔

اس کے ساتھ ساتھ میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے دوسروں پر توہین مذہب کے جھوٹے الزامات لگانے والوں سے بھی سختی سے نپٹا جائے، انہیں سزائیں دی جائیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسے مواد (جھوٹے الزامات) کو بھی سوشل میڈیا پر بلاک کیا جائے اور میڈیا پر ان کی تشہیر کو سختی سے روکا جائے۔ ہمیں نوجوانوں اور بچوں کو یہ تعلیم بھی دینی چاہیے کہ وہ نہ صرف ہر صورت میں اپنے دین اور مقدس ہستیوں کا احترام کریں بلکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق دوسروں کے مذاہب کو بھی بُرا مت کہیں۔

انصار عباسی

راولپنڈی کی تاریخی جامع مسجد

اسلامی و مغلیہ طرز تعمیر کا عظیم شاہکار 121 سالہ پرانی مرکزی جامع مسجد راولپنڈی کا شمار پوٹھوہار ریجن کی چند تاریخی مساجد میں ہوتا ہے ، تاریخی مسجد کا سنگ بنیاد پیرمہرعلی شاہ گولڑہ شریف اور پیر آف میرا شریف پیر اللہ بخش نے 1896ء میں رکھا اور 1902ء میں تعمیر مکمل ہوئی۔ شہر کی جس مصروف شاہراہ پر یہ تاریخی مسجد واقع ہے اس سڑک کا نام بھی جامع مسجد روڈ رکھ دیا گیا۔ 18 کنال رقبے پرمحیط مسجد اسلامی آرٹ کا شاہکار ہے، مسجد کے 3 گنبد اور کئی چھوٹے چھوٹے مینار ہیں ۔ مسجد کی تعمیراور تزئین وآرائش میں جو غیرروایتی رنگ، میٹریل اور طرز تعمیر مقامی تاریخ کی ترقی وعروج کی ایک مثال ہے۔ مرکزی جامع مسجد کا انتظام محکمہ اوقاف کے پاس ہے۔

مسجد کے خطیب حافظ محمداقبال رضوی کے مطابق جب 1896ء میں مسجد کا سنگ بنیاد رکھا گیا تو مقامی سکھ آبادی نے روکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی ، جس پرمقامی مسلمان آبادی نے گولڑہ شریف اورمیرا شریف کے پیر صاحب سے رابطہ کیا اورپھر پیرمہرعلی شاہ اور پیر اللہ بخش نے سنگ بنیاد رکھا اور اختلاف ختم کرایا۔ یہ تاریخی مسجد آج بھی راولپنڈی شہرکی سب سے بڑی مسجد ہے جہاں ہزاروں افراد نماز جمعہ کیلئے خصوصی طور پرجمع ہوتے ہیں ۔ معروف شاعروادیب عطاالحق قاسمی کے والد مولانا بہائوالحق قاسمی جامع مسجد کے پہلے خطیب تھے اور اس وقت مسجد میں ایک ڈویژنل خطیب، ایک خطیب، ایک نائب خطیب، ایک موزن، ایک مدرس، دو خادم اور ایک خاکروب کام کر رہے ہیں جن کی تنخواہ اوقاف پلازا کی آمدنی میں سے محکمہ اوقاف ادا کرتا ہے۔

ڈاکٹرزاہداعوان

آپ کس خوشی میں ویلنٹائن ڈے مناتے ہیں؟

novalentines_kpp

بڑی عجیب بات ہے لوگوں کو عشق ہو جاتا ہے اوریہ عشق ہمیشہ جنس مخالف سے ہی ہوتا ہے۔ ہم ضرورتوں کو محبت کا نام دے دیتے ہیں عشق کا نام دے دیتے ہیں ۔ یہ ہماری ضرورت ہے اور بعض اوقات یہ ہوتا ہے کہ شادی سے پہلے تو بڑا عشق ہوتا ہے اور چند ہفتے گزرتے ہیں تو نوبت طلاق تک پہنچ جاتی ہے یعنی ایک دوسرے کو صحیح جانتے نہیں ہوتے۔ جب ایک دوسرے پر کھلتے ہیں توکہتے ہیں کہ ہمارا تو گزارا نہیں ہو سکتا یہ کہاں کا عشق ؟ عشق ایک کیفیت کا نام ہے کہ جب آپ کو احساس ہو کہ کوئی میرا بہت ہی خیال رکھنے والا ہے مجھے خود اپنا اتنا خیال نہیں جتنا میری بہتری چاہنے والا میرا خیال رکھتا ہے۔

اس کے جواب میں جو آپ کو اس ہستی سے محبت ہو گی ایک کیفیت آپ کے دل پر آئے گی آپ اس سے پیار کریں گے اسے اچھا جانیں گے اس کا احترام کریں گے اسی کا نام عشق ہے۔ اور سوائے اﷲ کے کوئی دوسرااس کا مستحق ہی نہیں کہ سب سے زیادہ ہماراخیال وہی رکھتا ہے جو آنکھ کے ایک ایک ذرے، باڈی کے ایک ایک سیل کی نشو ونما کررہا ہے ۔ ہم اسے مانیں یا نہ مانیں، ہم جانیں یا نہ جانیں وہ چلا رہا ہے ۔ پھر عشق ہے اس ذات کے ساتھ جس نے ہمیں اﷲ سے آشنا کردیا اگر درمیان میں وہ ذات نہ ہو تو ہم اپنی سوچ ، اپنی فکر سے ﷲ تک نہیں پہنچ سکتے ، تو عشق وہ ہے جو آپ کو اپنے نبی ؐسے ہو گا جس نے آپ کی ہرضرورت کی خوبصورت راہ متعین کر دی۔ اگر آپ ان راہوں پرچلیں تو اس دنیا میں بھی آپ معزز و معتبراور آخرت میں بھی آپ معزز اور معتبر اور اﷲ کی بارگاہ میں سرخرو انسانوں کا اتنا زیادہ بھلا چاہنے والا کون ہے ؟۔   say-no-valentine-day-islam-facebookاگر یہ نسبتیں پیدا ہو جائیں تو یہ عشق ہے ۔ جنس مخالف سے محبت نہیں ہے ہماری ضرورت ہے ہاں کسی میں انسانیت ہو تو وہ محض اسے ضرورت نہیں سمجھتا پھر وہ اس کا احترام بھی کرتا ہے۔ کوئی بھی ملک کسی دوسرے ملک کے آئین کو تسلیم ہی نہیں کرتا، انہیں وہ فٹ بھی نہیں بیٹھتا اور اس پروہ عمل کر بھی نہیں سکتے ۔ان کے موسم الگ ہوتے ہیں لباس، رہائش و بودو باش الگ ہوتی ہے، طریقے الگ ہوتے ہیں ۔ آپ نے دیکھا کسی انگریز نے کھسہ پہنا ہوا ہو؟ کبھی دیکھا کسی انگریز نے شلوار قمیض پہنی ہو؟ کسی انگریز کو دیکھا اس نے شیروانی پہنی ہو؟ تو پھرآپ کس خوشی میں ٹائی تک درست کر رہے ہوتے ہیں؟

آپ پتلون کوٹ اور ٹائی لگا کر مونچھ داڑی صاف کر کے اور ٹیڑھے بال کر کے انگریز بننے کی کس خوشی میں کوشش کر رہے ہیں ؟ کسی امریکن، کسی یورپین کسی خاتون کو دیکھا اس نے برقعہ پہنا ہو، پردہ کیا ہو؟ کوئی اسلامی رسم جس کی وہ تعریف بھی کرتے ہیں ، پسند بھی کرتے ہیں، کسی نے اپنائی؟ آپ کس خوشی میں ویلنٹائن ڈے مناتے ہیں؟ آپ کسی خوشی میں اپریل فول مناتے ہیں؟ آپ کسی خوشی میں بلیک فرائی ڈے مناتے ہیں؟ اﷲ پاک شعور دے اور احساس دے، ہماری بدنصیبی یہ ہے کہ ہمارا تو احساس ضیاع بھی رخصت ہو چکا ہے۔

محمد اکرم اعوان

روہنگیا مسلمانوں پر ظلم کا نیا دور

دیکھا جائے تو دنیا کے کئی ممالک میں کوئی نہ کوئی بحران یا مسئلہ موجود ہے جس کی وجہ سے وہ ملک عالی سطح پر توجہ کر مرکز رہتا ہے۔ کہیں اندرونی اختلافات ہیں تو کہیں سیاسی محاذ آرائیاں، کہیں جنگ کا میدان گرم ہے تو کسی خطے میں قدرتی آفات سے ہونے والی تباہی نے اسے دنیا کی توجہ کا مرکز بنا دیا۔ کسی علاقے میں معاشی بحران ہے تو کچھ علاقے مظلوموں پر ظلم و ستم، انسانیت سوز سلوک اور صاحبان اقتدار کی شے پر ہونے والی غنڈا گردی کی تصویر پیش کررہے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر، مقبوضہ فلسطین تو دنیا بھر میں انتہائی حساس موضوع بنے ہوئے ہیں اور ان پر ہر بڑے عالمی پلیٹ فارم پر بات بھی ہوتی ہے لیکن میانمار (سابق برما) کے روہنگیا مسلمانوں کی مظلومیت کا عالم یہ ہے کہ ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں لیکن ان کے لیے آواز عالمی سطح پر اس طرح نہیں اٹھائی جا رہی جس طرح اٹھائی جانی چاہیے۔ روہنگیا مسلمانوں کا سرکاری طور پر قتل عام کیا جا رہا ہے لیکن عالمی برادری کو تو چھوڑیں مسلم امہ بھی پنے اپنے مسائل میں اتنی پھنسی ہوئی ہے کہ وہ ان مظلوموں کے لیے صحیح طرح صدائے احتجاج بھی بلند نہیں کرپارہی۔

میانمار میں حالیہ دنوں میں سرکاری فوج نے ظلم و بربریت کی انتہا کردی ہے۔ اب تک موصولہ میڈیا رپورٹس کے مطابق روہنگیا مسلمانوں کے اکثریتی علاقے اراکان میں 150 سے زائد مسلمان قتل کیے جا چکے ہیں، جب کہ درجنوں زخمی کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ظلم و زیادتی کی نئی مثال قائم کرتے ہوئے روہنگیا مسلمانوں کے درجنوں مکانات اور دیگر املاک کو بھی نذر آتش کردیا گیا۔ انسانی حقوق کے کارکنوں نے بھی اراکان کی صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، انھوں نے بتایا ہے کہ علاقے میں صورت حال انسانی حقوق کے لحاظ سے بدترین ہے۔ میانمار کی فوج قتل و غارت تو کرہی رہی ہے اس کے ساتھ اس نے میڈیا کو بھی صورت حال کی حقیقی کوریج سے روک دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کی جو تصاویر اور وڈیو دکھائی جا رہی ہیں ان کو دیکھ کر ہر دردمند انسان کی روح کانپ اٹھی ہے۔

میانمار کی فوج کے مظالم سے بچنے کے لیے بہت سے لوگ میانمار اور بنگلادیش کے درمیان موجود دریا کے کناروں تک پہنچ کر کسی محفوظ مقام کی تلاش میں ہیں، لیکن سرحدی محافظ ان کے آگے رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ آئیے یہ بھی دیکھیں کہ یہ روہنگیا مسلمان ہیں کون؟ روہنگیا مسلمان میانمار کی مغربی ریاست اراکانا یا راکھین (Rakhine) میں رہنے والے مسلمانوں کو کہتے ہیں، جو میانمار میں اقلیت کی حیثیت سے زندگی گزار رہے ہیں جنھیں کبھی بدھوں کے مظالم سہنے پڑتے ہیں تو کبھی سرکاری فوج کی لشکرکشی کے باعث انھیں مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ میانمار کے علاوہ روہنگیا مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد سعودی عرب، پاکستان، بنگلادیش، تھائی لینڈ، ملائیشیا اور دیگر ملکوں میں قیام پذیر ہے۔ میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کی تعداد لگ بھگ 10 لاکھ کے قریب ہے۔ ان کی زبان ’’روہنگیا‘‘ ہے جو بنگالی سے ملتی جلتی ہے، اسی وجہ سے انھیں روہنگیا مسلم کہا جاتا ہے۔ مختلف مورخین اور خود روہنگیا مسلمانوں کا کہنا ہے کہ ان کے آباؤاجداد کا تعلق راکھین اسٹیٹ سے ہی ہے، لیکن میانمار کے مورخین کہتے ہیں کہ روہنگیا مسلمان کسی اور جگہ سے ہجرت کرکے یہاں آئے۔

روہنگیا مسلمانوں پر ظلم و ستم کوئی نئی بات نہیں۔ یہ مسئلہ کئی دہائیوں سے چلا آ رہا ہے، جس کی اصل وجہ یہ ہے کہ میانمار کے حکمرانوں اور وہاں رہنے والی دیگر قومیتوں نے روہنگیا مسلمانوں کو کبھی دل سے تسلیم ہی نہیں کیا۔ روہنگیا مسلمانوں کو میانمار پر ایک بوجھ سمجھا جاتا ہے اور ان سے نفرت کا اظہار مختلف مواقع پر روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کرکے کیا جاتا ہے۔ تاریخی طور پر دیکھا جائے تو روہنگیا مسلمان اراکان میں 16 ویں صدی سے آباد ہیں۔ ان کی کئی نسلیں یہاں پلی بڑھی ہیں لیکن تاحال ان کو حقوق ملے نہ شناخت دی گئی اور نہ ہی انھیں اپنایا گیا۔ ان ہی اسی ظالمانہ رویوں کا نتیجہ ہے کہ آج روہنگیا مسلمانوں کا لہو بہہ رہا ہے اور پورا میانمار اس طرح چپ ہے جیسے کہ کچھ ہوا ہی نہیں۔

اس ساری صورت حال میں سب سے قابل مذمت کردار ژنگ سان سوچی کا رہا ہے۔ جب وہ خود قید و بند کی صعوبتیں برداشت کررہی تھیں تو ہر انٹرویو میں اور اپنے ہر خطاب میں وہ انسانی حقوق کی پاس داری، ظلم و ستم کے خاتمے، مظلوموں کو ان کے حقوق دلانے کی بڑی بڑی باتیں کرتی تھیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے بہیمانہ ظلم و ستم پر ژنگ سان سوچی نے بھی چپ سادھ رکھی ہے۔ اب لگتا ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں پہنچ کر وہ انسانی حقوق کی پاس داری اور مظلوموں سے انصاف کا سبق بھول گئی ہیں یا دہرانا نہیں چاہتیں۔

1946 میں اراکان کے مسلم رہنماؤں نے قائد اعظم محمد علی جناحؒ سے ملاقات کر کے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ ان کے کچھ علاقوں کو ملا کر الگ ریاست بنائی جائے، تاہم وہاں کے حکمرانوں نے روہنگیا مسلمانوں کے اس مطالبے کو ماننے سے انکار کر دیا تھا، جس کے بعد روہنگیا مسلمانوں نے حکمرانوں کے خلاف تحریک کا آغاز کیا اور مختلف مواقع پر اپنی الگ ریاست کا مطالبہ دہرایا، لیکن اس کے جواب میں میانمار کی حکومتوں نے جبرو تشدد کے ذریعے ان کی آواز کو دبانے کی کوشش کی اور سیکڑوں روہنگیا مسلمان مختلف اوقات میں ہلاک کردیے گئے، سیکڑوں زخمی کیے گئے اور یہ سلسلہ ابھی جاری ہے کیوںکہ عالمی برادری خاص طور پر اسلامی ملکوں کو شاید روہنگیا مسلمانوں کی چیخیں سنائی نہیں دے رہیں۔

روہنگیا مسلمانوں کی مشکلات میں اضافہ اس سال اس وقت ہوا جب 9 اکتوبر 2016 کو 300 کے قریب مسلح حملہ آوروں نے میانمار کے سرحدی محافظوں پر حملہ کرکے 9 فوجیوں کو ہلاک کر دیا۔ سیکیوریٹی حکام کے مطابق حملہ آوروں نے بنگلادیش سے ملحق سرحدی علاقے میں کارروائی کی، فوجیوں کے خلاف بارودی مواد کے علاوہ چاقو، چھریوں اور دیسی ساختہ بموں کا استعمال کیا گیا۔ 2 دن بعد 11 اکتوبر کو ایسی ہی ایک کارروائی میں 4 فوجی نشانہ بنے۔ اراکان ریاست کے حکم رانوں نے فوجیوں پر حملوں کا الزام روہنگیا مسلمانوں پر عائد کردیا، جس کے بعد روہنگیا مسلمانوں پر جاری مظالم اور زیادتیوں کے سلسلے کو مزید وسیع کردیا گیا ہے۔

میانمار کی حکومت نے روہنگیا سالیڈیرٹی آرگنائزیشن (Rohingya Solidarity Organization) کو فوجیوں کی ہلاکت کا ذمے دار ٹھہرایا لیکن بربریت کا نشانہ تمام روہنگیا مسلمانوں کو بنایا۔ 17 اکتوبر کو فیتھ موومنٹ آف اراکان (Faith Movement Arakan) نے مختلف سوشل میڈیا سائٹس پر میانمار کی فوج پر حملوں کی کچھ ویڈیوز اور تصاویر اپ لوڈ کر کے ان کارروائیوں کی ذمے داری قبول کی۔ نومبر میں میانمار کی فورسز نے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف کارروائیاں شروع کیں جن میں درجنوں افراد ہلاک و زخمی ہوچکے ہیں۔ سیکیوریٹی حکام کا کہنا ہے کہ مارے جانے والے افراد فورسز پر حملوں میں ملوث تھے۔ تاہم یہ دعویٰ اس لیے بے بنیاد نظر آتا ہے کیوںکہ مارے جانے والوں میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 250 سے زائد افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے جن پر فورسز پر حملوں میں ملوث ہونے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔

اراکان میں فوج کے تشدد اور روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام پر بالآخر امریکا اور اقوام متحدہ کو ہوش آ ہی گیا اور چند دن قبل امریکی محکمۂ خارجہ نے صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم اصل حقائق کو جاننے کی کوشش کررہے ہیں جو اطلاعات آرہی ہیں وہ اچھی نہیں حالات کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے میانمار میں امریکی سفیر نے حکومتی اہل کاروں سے ملاقات کی اور صورت حال کو بہتر کرنے کے حوالے سے تبادلۂ خیال کیا۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے بھی روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے علاقے میں حکومتی اقدامات کے نتیجے میں ہونے والی خوںریزی کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ کوفی عنان کا کہنا ہے کہ حالات تشویش ناک ہیں اور اس سے میانمار کمزور ہورہا ہے جب کہ لوگوں کی بڑی تعداد نقل مکانی پر مجبور ہے۔

اسلامی ملکوں کو بھی روہنگیا کے مسلمانوں کی حالت زار کا بھرپور اور فوری نوٹس لینا چاہیے، گو کہ تمام اسلامی ملک اپنے اپنے مسائل اور بحرانوں سے نکلنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ اس خطے کی بات ضرور کریں اور اس کے لیے آواز لازمی اٹھائیں جس کے باسی صرف مسلمان ہونے کے ’’جرم‘‘ میں حکومتی مظالم کا شکار ہیں۔ اگر تمام اسلامی ممالک متحد ہوکر اقدامات کریں تو میانمار کی حکومت روہنگیا مسلمانوں پر توڑے جانے والے مظالم اور زیادتیوں کا سلسلہ روک سکتی ہے ورنہ روہنگیا مسلمانوں کا ارزاں خون بہتا ہی رہے گا۔

آصف زیدی