پی ٹی وی کا عروج و زوال

کچھ عرصہ پہلے ایک چینل کے اینکر نے ایک کالم میں سابق وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید سے ایک ملاقات کا ذکر کیا، جس میں ان کے بقول اُنہیں پی ٹی وی میں ڈائریکٹر نیوز کی پوسٹ کی پیشکش کی گئی تھی، جو انہوں نے ٹھکرا دی، لیکن اس کے ساتھ انہوں نے ایک معنی خیز تبصرہ کیا کہ اگر وہ یہ پیشکش قبول کر لیتے تو آج پرائیویٹ سیکٹر میں صحافت کی دُنیا میں وہ مقام حاصل نہ کر پاتے جو اُنہیں اِس وقت حاصل ہے۔ ان کی یہ بات غور طلب ہے کہ کیا واقعی پی ٹی وی نیوز میں ٹیلنٹ کی کوئی گنجائش نہیں یا وہاں ایسی فضا قائم ہے جو ٹیلنٹ کی قاتل ہے پرائیویٹ چینلوں میں اس وقت اوروں کے علاوہ طلعت حسین، کاشف عباسی، قطرینہ حسین،عاصمہ شیرازی وغیرہ بڑے کامیاب اینکر سمجھے جا رہے ہیں۔ انہوں نے پی ٹی وی سے اڑان بھری ہے اور ان بلندیوں پر پرواز کر رہے ہیں۔ ثابت ہو گیا کہ پی ٹی وی میں ان کا قیام ان کی پرواز میں کوتاہی کا باعث نہیں بنا۔ تاہم یہ سب لوگ پی ٹی وی میں وزیٹر تھے۔ مستقل ملازمین کے کردار کا جائزہ لیں تو اوپر ذکر کئے گئے اینکر کی بات میں کچھ صداقت نظر آتی ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ پی ٹی وی کے بڑے کامیاب لوگ بھی ریٹائرمنٹ کے بعد نجی شعبے میں کہیں نظر نہیں آئے۔ اس میں شاید نجی چینلوں میں اچھی پوزیشن پر موجود ان لوگوں کا تعصب بھی کام کر رہا ہو جو پی ٹی وی سے ہو کر گئے تھے تاہم یہ بھی صحیح ہے کہ پی ٹی وی میں سرکاری پالیسیوں کی گھٹن اور لیڈر شپ کی طرف سے جدت اور Initiative کی حوصلہ شکنی نے ورکرز کے ٹیلنٹ کو ناکامی سے دوچار کیا۔ پالیسی کی حد تک سیاسی اور فوجی حکومتوں کا اتفاق رائے رہا ہے،52 سال کی پی ٹی وی کی تاریخ میں بہت مختصر چند وقفے آئے جب پی ٹی وی کو ایڈیٹوریل آزادی ملی۔ ایک دفعہ تو وزیر اطلاعات جاوید جبار کو اسی شوق میں وزارت بھی قربان کرنا پڑی۔ یہ جنرل (ر) پرویز مشرف کا ابتدائی دور تھا۔ اب نجی چینلوں کی بھرمار سے پیدا ہونے والی صورتِ حال کے پیشِ نظر پی ٹی وی کو لبر الائز کرنے کی ضرورت اور موقع تھا، لیکن ایسا نہیں ہو سکا اور عجب ستم ظریفی ہے کہ اس کی ایک بڑی وجہ یہی نجی چینل بنے ہیں۔ ہوا یہ ہے کہ نجی چینلوں کی اکثریت نے شعوری یا غیر شعوری طور پر منفی ایجنڈے کو آگے بڑھایا ہے یہ حکومت کے لئے بھی منفی ہے اور وسیع تناظر میں معاشرے کے لئے بھی، ان چینلوں نے حکومت کا تقریباً بائیکاٹ کر رکھا ہے اور صرف منفی خبریں دی جاتی ہیں۔

ایک صحافی کی حیثیت سے مَیں بعض دفعہ یہ دیکھ کر حیران ہوتا ہوں کہ کوئی غیر ملکی وزیر خارجہ یا کوئی اور اہم آدمی پاکستان کے دورے پر آیا ہے تو نجی چینل اس کا تقریباً بائیکاٹ کر رہے ہوتے ہیں۔ وزیراعظم کسی ترقیاتی منصوبے کا افتتاح کر رہے ہیں تو اس کا بھی بائیکاٹ مثلاً حال ہی میں اسلام آباد میں اہلِ قلم کانفرنس ہوئی، جس میں مُلک بھر سے چار پانچ سو اہلِ قلم کے علاوہ کچھ غیر ملکی مہمانوں نے بھی شرکت کی۔ وزیراعظم نے افتتاح اور صدر نے افتتاحی تقریب سے خطاب کیا ،لیکن کسی چینل نے لائیو نہیں دکھایا اور نہ ہی شاید کسی نے کوئی پروگرام کیا۔ اس قسم کی بے شمار مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ اس صورتِ حال میں حکومت کا پی ٹی وی پر انحصار بڑھ گیا ہے۔

پی ٹی وی ہی ایک چینل ہے، جس کے ذریعے حکومت اپنا نقطہ نظر لوگوں تک پہنچا سکتی ہے۔ پی ٹی وی اور وزارتِ اطلاعات کے ارباب اختیار کو سوچنا چاہئے کہ اِن حالات میں پی ٹی وی کو مضبوط کرنے کی بڑی ضرورت ہے، لیکن نظر ایسا آتا ہے کہ انہوں نے پی ٹی وی سے سرے سے توجہ ہٹا لی ہے اور اس قومی ادارے کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ اس وقت پی ٹی وی میں قیادت کا شدید بحران ہے، ایم ڈی اور ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر کی پوسٹ خالی ہے۔ ایم ڈی کی پوسٹ ایک سال سے خالی ہے اور ابھی تک بھرتی کے لئے اشتہارہی نہیں دیا گیا۔ ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن کی پوسٹ پر ہفتوں اور مہینوں میں تبدیلی ہو رہی ہے۔ انگریزی چینل پی ٹی ورلڈ بھی ایک کنٹرولر کے حوالے ہے، نہ اس کا کوئی ڈائریکٹر ہے اور نہ چینل ہیڈ۔ ڈائریکٹر نیوز حال ہی میں مقرر کیا گیا ہے۔

اس سے پہلے ایک کنٹرولر کے پاس بڑی دیر چارج رہا، اس شخص کی کنٹرولر کی پوسٹ پر ترقی بھی مشکوک طریقے سے کی گئی تھی۔ نتیجہ حسبِ توقع بہت خراب نکلا اور پی ٹی وی کی تاریخ میں ایک ناخوشگوار باب کا اضافہ ہو گیا اور اس شخص کو ملازمت سے ڈسمس کر دیا گیا، لیکن بعد از خرابی بسیار۔ یہ ساری صورتِ حال پی ٹی وی میں قیادت کے خلاسے پیدا ہوئی ہے، اب بھی وقت ہے کہ ادارے کی تنظیم نوکی جائے اور ایک فل ٹائم ایم ڈی مقرر کیا جائے۔ ایک تجربہ کار شخص کو پی ٹی وی نیوز کا چینل ہیڈ مقرر کیا جائے، جو صورتِ حال کو سنبھال سکے۔ انگریزی چینل کے لئے بھی ایک سینئر آدمی کی ضرورت ہے۔

پی ٹی وی کے زوال کی کہانی کئی عشروں پر محیط ہے ہر حکومت اور شاید ہر ایم ڈی نے اس میں کچھ نہ کچھ حصہ ڈالا ہے۔ پیپلزپارٹی نے بے شمار لوگوں کو صرف سیاسی بنیادوں پر ملازم رکھا، جن کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ ایک اندازے کے مطابق 2009ء میں پی ٹی وی اور وزارت اطلاعات میں ایسے پارٹی وفا داروں کی تنخواہوں پر کروڑوں روپے سالانہ خرچ ہوتے تھے۔ میرٹ کی پامالی اور اقربا پروری بہت برسوں سے عروج پر ہے۔ باہر سے آنے والے منیجنگ ڈائریکٹروں نے بھی ایک آدھ کے سوا ادارے کے وسائل کا اپنے فائدے کے لئے بھرپور استعمال کیا۔ انہوں نے اندر کام کرنے والوں کی نسبت دس گنا تنخواہوں پر اپنے دوستوں کو نوازا اور پی ٹی وی کے مستقل ملازمین میں میرٹ کو نظر انداز کر کے ایسے فیصلے کئے، جن کے دور رس منفی اثرات نکلے۔ پھر نجی شعبے میں میڈیا کا دور شروع ہوا تو ہماری انتظامیہ نے اس چیلنج کے لئے تیاری نہیں کی، نتیجہ ظاہر ہے کہ پی ٹی وی کا گراف بہت نیچے چلا گیا۔ بات یہاں ختم نہیں ہوتی، بلکہ اگر اب بھی صورت حال کو نہ سنبھالا گیا تو ادارے کی اندرونی صورتِ حال بد سے بد ترین ہو جائے گی اور یہ ایک مجرمانہ غفلت ہو گی۔ کیا پی ٹی وی کا انجام بھی سٹیل مل، پی آئی اے اور ریلوے جیسا ہو گا؟

اے خالق سرگانہ

قومی فضائی کمپنی پی آئی اے کے بڑے مسائل

پاکستان کی قومی فضائی کمپنی پی آئی اے کارپوریشن لیمیٹڈ کے معاملات ان دنوں بہت سارے فورمز پر موضوعِ بحث ہیں مگر گذشتہ دنوں سینیٹ کی پی آئی اے پر قائم کی گئی خصوصی ذیلی کمیٹی نے اپنی رپورٹ پیش کی۔ اس رپورٹ میں کیمیٹی کے اراکین نے پی آئی اے مسائل کا ایک جائزہ پیش کیا اور اس کے حل کے لیے اقدامات بھی تجویز کیے۔ سینیٹ کی اس خصوصی ذیلی کمیٹی کے کنوینر سینیٹر سید مظفر حسین شاہ تھے جبکہ اس کے اراکین میں پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر، مسلم لیگ نواز کے سینیٹر ریٹائرڈ جنرل عبدالقیوم شامل تھے۔

اس ذیلی کمیٹی نے پی آئی اے کی انتظامیہ سے دو دن تک معاملات پر بریفنگ لی، پی آئی اے کے مختلف شعبوں کا دورہ کیا، اور کمپنی کے سابق مینیجنگ ڈائریکٹرز اور چیئرمین سے بھی بات کی۔ اس کے علاوہ کمیٹی نے سول ایوی ایشن کے سابق ڈائریکٹرز اور سیکرٹری ایوی ایشن سے بھی بات کی۔ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں پی آئی اے میں اس وقت پائی جانے والی بڑی خرابیوں کا ذکر کیا جن میں سے پانچ نمایاں خرابیاں درج ذیل ہیں۔

1: سیاسی مداخلت اور سیاست دانوں کی ناکامی

ماضی کی حکومتوں نے اس کمپنی پر درکار توجہ نہیں دی اور اس کی انتظامیہ میں سیاسی بنیادوں پر تیزی سے تبدیلیاں کی گئیں۔ من پسند افراد کو بھرتی کیا گیا جن میں نہ تو کوئی سٹریٹیجک سوچ تھی اور نہ ہی ایسی صلاحیت کہ وہ منافع بخش منصوبہ بنا سکیں۔ تباہی کی ایک اہم وجہ ادارے کو سیاست کی نذر کرنا ہے اور ہزاروں کی تعداد میں غیر مناسب افراد کو سیاسی بنیادوں پر بھرتی کیا گیا۔ یہ سب اب تک پی آئی اے پر ایک بہت بڑا بوجھ بن چکے ہیں۔

2: اعتماد اور لیڈرشپ کا بحران

پی آئی اے قیادت اور اعتماد کے بحران سے دوچار ہے۔ آج بھی پی آئی اے کا مستقل سی ای او یا سربراہ نہیں ہے اور قائم مقام سی ای او دراصل چیف آپریٹنگ آفسر ہیں۔ موجودہ قائم مقام سی ای او نے نے حکومت اور بورڈ کی جانب سے انتظامی اور آپریشنل معاملات میں ناجائز مداخلت کا شکوہ کیا جو کام صرف سی ای او اور مینیجنگ ڈائریکٹر کا ہونا چاہیے۔

3: عہدوں کے لیے غیر موزوں ڈائریکٹرز

کمیٹی کا کہنا ہے کہ عہدوں پر فائض کچھ ڈائریکٹر ان عہدوں کے لیے غیر موزوں ہیں۔ کمیٹی نے یہ بات لکھی ہے کہ تین ایسے ڈائریکٹرز ہیں جو تین لاکھ سے زیادہ ماہانہ تنخواہ وصول کر رہے ہیں اور اب تک انہیں کوئی کام نہیں سونپا گیا اور وہ بغیر کام کیے ایک سال سے تنخواہ لے رہے ہیں۔

4: یونینز اور ایسوسی ایشنز کی سیاسی پشت پناہی

کمیٹی نے لکھا ہے کہ بدقسمتی سے یہ بات حقیقت ہے کہ پاکستان کی تمام سٹیٹ اونڈ ایٹرپرائزز میں ہر یونین کے پیچھے کوئی نہ کوئی سیاسی جماعت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ یونینز اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے بجائے اپنے استعداد کا غلط استمعال کرتی ہیں اور انتظامیہ کو بلیک میل کرتی ہیں اور تبادلوں اور تقرریوں میں اپنی من مرضی ٹھونستی ہیں۔ حتیٰ کہ آپریشنل تعیناتیوں میں بھی انتظامیہ پر دباؤ ڈالتی ہیں۔ کمیٹی کو پتا چلا کہ سی بی اے کے علاوہ سات دوسری ایسوسی ایشنز ہیں جو پی آئی اے کے آپریشنز کو غیر قانونی طور پر مفلوج کرنے میں ماضی میں بھی ملوث رہی ہیں اور اب بھی ہیں۔ یہاں تک کے وہ اس بات کا فیصلہ کرتے ہیں کہ کس روٹ پر کون سا عملہ جائے گا جو کہ ایک انتظامی معاملہ ہے۔

5: کرپشن

طیاروں کے فاضل پرزوں کی خریداری سے لے کر فریٹ یعنی سامان لے جانے کے لیے جگہ کی الاٹمنٹ، بھرتیوں اور تبادلوں اور انجنیئرنگ اور کیٹرنگ شعبوں میں کرپشن بھرپور ہے۔ عہدوں کی تنخواہ ان کے کام کے مقابلے میں بعض جگہوں پر غیر متوازن ہے۔ آج بھی پی آئی اے کا مستقل سی ای او یا سربراہ نہیں ہے اور قائم مقام سی ای او دراصل چیف آپریٹنگ آفسر ہیں۔

کمیٹی کی سفارشات

پی آئی اے کے بورڈ کو فی الفور تحلیل کر دیا جائے اور نئے بورڈ میں ہوابازی اور متعلقہ شعبوں کے ماہرین کو تعینات کیا جائے۔ بورڈ اپنا چیئرمین خود منتخب کرے۔ بورڈ صرف وسیع پالیسی معاملات، نئے منصوبوں پر غور کرے اور تمام انتظامی اور آپریشنل معاملات کو انتظامیہ کے سپرد کر دے۔ سی ای او کو اپنی ماہرین کی ٹیم تعینات کرنے کا پورا اختیار دیا جائے۔ تنخواہوں اور مراعات کو معقول بنایا جائے اورحکومت فوری طور پر چیف آپریٹنگ آفیسر تعینات کرے۔ بورڈ اور سی ای او سیاسی مداخلت کو کبھی خاطر میں نہ لائیں اور بھرتی اور برخاست کرنے کا اختیار سی ای او کو دیا جائے جو وہ میرٹ اور کارکردگی کی بنیاد پر کرے۔

سی بی اے اپنی سرگرمیوں کو گریڈ ایک سے چار کے عملے کی فلاح و بہبود تک محدود رکھے اور ایسی ایسوسی ایشنز جنھوں نے غیر قانونی طور پر سی بی اے کا کردار اپنا لیا ہے کو ان کے مقام پر رکھا جائے اور انتظامیہ کو بلیک میل کرنے کی بالکل اجازت نہ دی جائے۔

طاہر عمران

بی بی سی اردو ڈاٹ کام

حسین حقانی کی کہانی

350873_72915821

یا اللہ پاکستان کی خیر کی خیر ہو، حسین حقانی کا وار بڑا کاری ہے اس کا ہدف جناب زرداری یا ملتان والے یوسف رضا گیلانی نہیں ! جناب والا پاکستان ہے۔ حسین حقانی امریکی حکام کی روسی سفیر سے تعلقات پر واشنگٹن میں ہونے والی لے دے اور اکھاڑ پچھاڑ پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں، سفارتکاروں کا بنیادی کام ہی مہمان ملک کے حکام سے تعلقات استوار اور میل ملاقات ہوتا ہے جس کے ذریعے وہ اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔ ان ملاقاتوں کی وجہ سے صدر ٹرمپ کے قومی سلامتی کے مشیر مائیکل فلن کو مستعفی ہونا پڑا ۔ غیرملکی سفیروں سے اعلیٰ حکام کے روابط اور میل ملاقات میں کوئی ہرج نہیں ہوتا۔ یہاں تک کہ دشمن اور متحارب ممالک کے سفارتی عملے سے ملاقاتیں بھی معمول کا عمل ہوتی ہیں۔ متحارب سپر پاور روس جس پر امریکہ نے مختلف النوع پابندیاں عائد کر رکھی ہیں کے سفارت کاروں سے اس قسم کی ملاقاتوں میں کوئی مضائقہ نہیں ہونا چاہیے۔

حسین حقانی بلاشبہ شاہکار نثرنگار ہیں، بڑے دھیمے سروں میں لے اٹھاتے ہیں اور آہستہ آہستہ دلائل کی دیوار کھڑی کرتے ہوئے فرماتے ہیں، امریکی رائے عامہ کا مسئلہ یہ نہیں کہ روسی سفارتکار سے امریکی حکام نے کیا تبادلہ خیال کیا۔ ان کو صرف اس بات سے غرض ہے کہ کیا ان کی ملاقاتیں قانونی تھیں اور ان کا طرزعمل باوقار تھا یا نہیں؟ کیونکہ سفارتکاری کے ذریعے ہی متحارب دشمنوں کو دوست و ہمنوا بنا کر اتحادی بنایا جاتا ہے۔ روس کی موجودہ خارجہ حکمت عملی سے قطع نظر غیرملکی سفارتکاروں سے آزادانہ میل ملاپ نے ہمیشہ امریکی مفادات کو آگے بڑھایا ہے۔ حسین حقانی کی تمہید واقعی نثری حسن کا شاہکار ہے جس کے بعد اصل معاملے کی طرف رْخ کرتے ہوئے انکشاف فرماتے ہیں، میرے دور سفارت میں گرم جوش تعلقات کی وجہ سے پاک فوج اور اس کے خفیہ اداروں کی مدد کے بغیر امریکی اسامہ بن لادن کو ڈھونڈنے اور اس کا صفایا کرنے میں کامیاب ہوئے۔

اس کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے حسین حقانی لکھتے ہیں کہ امریکی حکام نے اپنے جاسوسوں کے خصوصی دستے پاکستان میں تعینات کرنے کے لئے مدد و تعاون کی درخواست کی جس سے صدر آصف زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو مطلع کر دیا۔ اثبات پر جواب ملنے کے بعد ان جاسوسوں کو ویزے جاری کر دیئے گئے۔ ان امریکی جاسوسوں کی کارروائیوں کے بارے میں ہمیں کچھ علم نہیں تھا لیکن انہیں جاسوسوں کی معلومات پر اوباما نے امریکی بحریہ کے خصوصی کمانڈو دستہ بھیج کر ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کو قتل کروایا۔ اس آپریشن سے پاکستان کو بالکل لاعلم رکھا گیا تھا۔ بدقسمتی سے امریکہ افغانستان میں فتح حاصل نہ کر سکا اسی طرح پاکستان کا اسلامی انتہاپسندوں کے حوالے سے رویہ مستقل تبدیل نہ ہو سکا لیکن میرے دور سفارت میں امریکہ اور پاکستان نے مشترکہ اہداف کے حصول کیلئے ہم آہنگ ہو کر کام کیا اور یہی سفارتکاری کی روح ہوتی ہے۔

حسین حقانی میموگیٹ اور اپنے’’کرشمات ‘‘کا تذکرہ کئے بغیر اپنی مظلومیت کا رونا شروع کرتے ہوئے لکھتے ہیں، جب اقتدار کی ادارہ جاتی لڑائی میں فوج اور اس کے خفیہ اداروں نے سیاسی حکمرانوں پر برتری حاصل کر لی تو مجھے مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا گیا۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک ڈرائونا کردار، اعلیٰ فوجی افسر جو اس کالم نگار کے ساتھ شریک ملزم رہے ہیں، وہ بتایا کرتے تھے کہ اقتدار کی سیڑھیاں تیزی سے طے کرنے کے لئے حقانی ہر غیرملکی دورے سے واپسی پر ان کے لئے پیش قیمت جوتوں کے تحائف لایا کرتے تھے اور بڑے چاؤ اور لاڈ پیار سے اپنے ہاتھوں سے پہنایا کرتے تھے کہ وہ افسر اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب میاں نواز شریف کے اتالیق ہوتے تھے۔

حقانی دعویٰ کرتے ہیں کہ سفارتکاری سے ہٹانے کے لئے جو الزامات فوجی خفیہ اداروں نے لگائے ان میں سب سے اہم الزام یہ تھا کہ میں نے پاک فوج کے علم میں لائے بغیر امریکی جاسوسوں کی بہت بڑی تعداد کو ویزے جاری کئے۔ جن امریکی جاسوسوں نے کامیابی سے اسامہ بن لادن کا سراغ لگانے میں کامیابی حاصل کر لی ’’میں نے یہ سب کچھ منتخب عوامی نمائندوں اور جمہوری حکمرانوں کی اجازت سے قانون کے مطابق کیا تھا‘‘۔ حسین حقانی نے اس مرحلے پر یہ انکشافات بلاوجہ نہیں کئے ہیں وہ آصف زرداری اور پیپلزپارٹی کے سیاسی مستقبل سے مایوس ہو چکے ہیں اس لئے موقع کی مناسبت سے حسین حقانی نے اپنے گناہوں کا سارا ملبہ آصف زرداری اور یوسف رضا گیلانی پر ڈال کر دوبارہ اہمیت حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔

سپریم کورٹ کو مطلوب مفرور ملزم حسین حقانی پاکستان کو تباہ و برباد کرنے کے لئے جاری اس کھیل کا اہم کردار ہے جو نفسیاتی جنگ میں پیپلزپارٹی کی قیادت پر کاری وار کر گیا ہے۔ امریکہ کا ذکر کرتے ہوئے حسین حقانی بڑے دھڑلے سے ’’ہم‘‘ کا صیغہ استعمال کرتے ہیں جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ موصوف امریکی شہریت اختیار کر چکے ہیں جو کوئی بری چیز نہیں، بری بات نہیں لیکن ادنیٰ دنیاوی مفادات کے لئے ماں مٹی کو بیچ دینا اور اس پر علم الکلام کا مظاہرہ کرتے ہوئے دلیلیں تراشنا اور جمہوریت کے سبق پڑھانا کوئی تر دماغ حسین سے سیکھے، نہیں جناب حسین حقانی کی شاگردی اختیار کرے۔

جناب حسین حقانی دور نوجوانی میں سابق امیر جماعت اسلامی اور شاندار مقرر سید منور حسن کے بستہ بردار ہوتے تھے۔ ان کے جلسوں کو گرمایا کرتے تھے اور صبح منور شام منور۔ روشن تیرا نام منور کے نعرے لگایا کرتے تھے پھر یہ پیپلزپارٹی کا راستہ روکنے کے لئے تخلیق دیئے جانے والے اسلامی جمہوری اتحاد (IJI) میں جماعت اسلامی کی سیڑھی لگا کر گھسے اور پنجاب کے ابھرتے ہوئے رہنما میاں نواز شریف کے مقرب بن گئے۔ اس کارخانے کو چلانے والے جرنیلوں کے یہ کفش بردار تھے، کون ان کی راہ روک سکتا تھا۔ انگریزی پر دسترس ان کا ہتھیار تھی۔ قبل ازیں جنرل ضیا کے جنازے پر شدت غم سے بے طرح روتے پائے گئے۔ غلام اسحاق خان نواز شریف کشیدگی کے مرحلے پر یہ اندازے کی غلطی کھا گئے اور کولمبو سے سفارتکاری چھوڑ کر مرحوم غلام اسحق خان کے کیمپ میں آن شامل ہوئے، ان کی روانگی کے بعد آصف زرداری کے چرنوں میں جا بیٹھے۔ ذرا نہیں گھبرائے ذرا نہیں شرمائے کہ بی بی بے نظیر اور نصرت بھٹو کی نیم عریاں جعلی تصاویر ہیلی کاپٹر سے لاہور پر گرانے کا مبینہ منصوبہ انہیں کے دماغ کا شاہکار تھا۔

حسین حقانی اپنی واردات ڈال کر غائب ہو چکے ہیں اور شیری رحمان اب لکیر پیٹ رہی ہیں۔ حسین حقانی کو شاطر قرار دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ وہ تو اب وہیں کے ہو کر رہ گئے ہیں۔ وہ بہت دبائو میں ہیں لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا تھا۔ ان کے تمام دعوے اور انکشافات بے بنیاد اور جھوٹے ہیں۔ حسین حقانی کے جبری استعفیٰ کے بعد شیری رحمان کو امریکہ میں سفیر بنایا گیا وہ بتا رہی تھیں کہ امریکی جاسوسوں کے سینکڑوں ویزے ہم نے روکے تھے کہ میں نے 7,7 فٹ تڑنگے دیوقامت کمانڈوز کو معصوم انجینئر تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا اور یہ بھی بتایا کہ اسامہ بن لادن کے واقعے کے بعد پارلیمان کا اِن کیمرہ 11 گھنٹے طویل اجلاس ہوا تھا، صدر زرداری نے انہیں امریکی ویزوں کے حوالے سے مکمل اختیارات دیئے تھے ۔

امریکی حکام لاتعداد درخواستیں کرتے رہتے تھے لیکن ہم قومی مفاد میں فیصلے کرتے تھے، کسی کی ایک نہیں سنتے تھے۔ حرفِْ آخر یہ کہ کیا اچھا ہوتا ہے کہ حقانی کے الزامات کا جواب آصف زرداری یا یوسف رضا گیلانی خود دیتے ویسے تو سانپ نکل گیا اور ہم لکیر  پیٹے جارہے ہیں اور اس کام میں ہم بڑی مہارت رکھتے ہیں۔ ڈان لیکس، ایبٹ آباد کمشن رپورٹ سب کھوہ کھاتے میں جا چکیں اور پاناما لیکس سپریم کورٹ کی تجوریاں میں بند پڑی ہے یہ سب قومی مفاد کے تحفظ کے نام پر ہوتا رہا ہے اور جب تک یہ ہوتا رہے گا کچھ نہیں بدلے گا۔ پاکستان کے دشمن کھل کھیلتے رہیں گے.

محمد اسلم خان

مقدمہ جماعت اسلامی کا

جماعت اسلامی کے پی کے میں تحریک انصاف کی حکومت کی حلیف ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ جماعت اسلامی کی وجہ سے ہی کے پی کے میں تحریک انصاف کی حکومت مستحکم ہے ورنہ جماعت اسلامی ہمیشہ ہی اس پوزیشن میں رہی ہے کہ اس حکومت کو ختم کر سکتی تا ہم اتنی اہم سیاسی پوزیشن کی وجہ سے بھی اس نے کبھی عمران خان کو سیاسی طور پر بلیک میل نہیں کیا۔ اس کو امیرجماعت  سراج الحق کی نرم مزاجی بھی کہا جا سکتا ہے اور شرافت بھی۔ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے درمیان بیک وقت ایک نفرت اور محبت کا رشتہ ہے۔ محبت اس لیے کہ کے پی کے کی حکومت قائم رہے اور نفرت اس لیے کہ جماعت اسلامی تحریک انصاف کی بی ٹیم بننے کے لیے تیار نہیں۔ اس نے دھرنے میں شریک ہونے سے انکار کر دیا اور وہ عمران خان کے ہر قدم کی تائید نہیں کر تی۔

اسی طرح جماعت اسلامی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان گزشتہ تین دہائیوں سے بیک وقت محبت اور نفرت کا رشتہ ہے۔ دونوں اتحادی بھی بن جاتے ہیں اور حریف بھی۔ لیکن دونوں ایک دوسرے پر اپنا حق سمجھتے ہیں اور یہ حق نہ ملنے پر ایک دوسرے کی مخالفت بھی کرتے ہیں۔ آجکل بھی یہی صورتحال ہے ۔ جماعت اسلامی پانامہ میں فریق بن چکی ہے اور مسلم لیگ (ن) اس پر ناراض ہے‘  اسی ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں سراج الحق پرسیاسی طعنوں کے تیر چلا ئے۔ خواجہ آصف کا موقف ہے کہ جماعت اسلامی ہمیشہ تاریخ کے غلط طرف کھڑی ہوتی ہے۔ خواجہ آصف کا موقف ہے کہ جب جماعت ا سلامی ہمارے ساتھ مل کر انتخاب لڑتی ہے تو پھر پانامہ کا کیس کیوں لڑ رہی ہے۔

جماعت اسلامی کے ترجمان امیر العظیم سے میں نے پوچھا کہ آپ کیوں تاریخ کی غلط سمت کھڑے ہو جاتے ہیں۔ وہ مسکرائے اور کہنے لگے کہ بس عمران خان کے شدید دباؤ کے باوجود دھرنے میں شریک نہ ہوئے اور تاریخ کی غلط طرف کھڑے ہو گئے۔ پرویز مشرف کے مارشل لا میں جب ن لیگ اکیلے الیکشن لڑنے سے ڈرتی تھی اور منصورہ کے طواف کرتی تھی تو ہم ان کے ساتھ کھڑے تھے اور تاریخ کی غلط طرف کھڑے تھے۔ جب مشرف کے مارشل لا کے بعد مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے ہم سے اپنی غلطیوں کی معافی مانگی اور ہم نے معاف کر دیا اور ان کا ساتھ دیا ہم تاریخ کی غلط طرف ہی کھڑے تھے۔

جب پہلی دفعہ آئی جے آئی میں میاں نواز شریف کو وزیر اعظم بنانے کی مخالفت کی جا رہی تھی تو جماعت اسلامی نے ان کو وزیر اعظم بنانے کی حمایت کی تب بھی جماعت تاریخ کی غلط طرف ہی کھڑی تھی۔ جب مشرف دور میں ہم ن لیگ کے اتحادی بن گئے تھے تب بھی تو ہم تاریخ کی غلط طرف ہی کھڑے تھے۔ جب میاں نوازشریف میاں اظہر کا انتخاب ہرانے کے لیے جماعت اسلامی کے حافظ سلمان بٹ کو کھڑ اکرنے کی خواہش کرتے تھے ۔ تب بھی تو ہم تاریخ کی غلط طرف ہی کھڑے تھے۔

امیر العظیم کا موقف ہے کہ مشرف کی صدارت کے انتخاب کے موقع پر جب مولانا فضل الرحمٰن مشرف کو صدر بننے دینا چاہتے تھے اور جماعت اسمبلی نے اسمبلیوں سے استعفیٰ دینے کے لیے متحدہ مجلس عمل ہی توڑ دی تب ن لیگ ہمارے صدقے واری جا رہی تھی لیکن شاید تب بھی ہم تاریخ کی غلط طرف ہی کھڑے تھے۔ جماعت اسلامی کو بھی ن لیگ سے کافی گلے شکوے ہیں۔ اور ن لیگ کو بھی جماعت اسلامی سے کافی گلے شکوے ہیں۔ ن لیگ کی خواہش ہے کہ جب بھی اس کو ضروت ہو جماعت اس کے ساتھ کھڑی ہو جائے۔ لیکن جواب میں جماعت اسلا می کوکچھ دینا نہ پڑے۔

دھرنے کے دنوں میں سراج الحق اور ن لیگ کے درمیان ایک بہترین انڈر اسٹینڈنگ قائم ہو گئی تھی۔ سراج الحق کے مصالحتی کردار کا ن لیگ کو فائدہ تھا۔ پانامہ کے شروع ہونے پر بھی خواجہ سعد رفیق منصورہ پہنچ گئے تھے۔ لیکن اس بار پانامہ میں سراج الحق نے مصا لحتی کردار کے بجائے فریق بننے کا فیصلہ کیا۔ جو ن لیگ کو پسند نہیں آ رہا۔ خواجہ آصف نے یہ انکشاف کیا ہے کہ دھرنے کے دنوں میں سراج الحق ان سے پوچھتے تھے کہ اسٹیبلشمنٹ ان کے ساتھ ہے کہ نہیں۔ میں سمجھتا ہوں وہ ٹھیک ہی پوچھتے تھے کیونکہ دوسری طرف تحریک انصاف جو بار بار ان سے کہہ رہی تھی کہ  اسٹیبلشمنٹ  اس کے ساتھ ہے ۔ بس جماعت اسلامی دھرنے میں ساتھ شامل ہو جائے۔

اسلام آباد کے خیبر ہاؤس میں ہونے والی ایک میٹنگ میں عمران خان کئی گھنٹے سراج الحق کو یہ یقین دلاتے رہے کہ جماعت اسلامی اس دھرنے میں شریک ہو جائے جواب میں جماعت اسلامی کو جو چاہیے مل جائے گا۔ عمران خان ایک سیاسی بلینک چیک سراج الحق کو دے رہے تھے۔ لیکن سراج الحق نہ مانے۔ جس کے بعد ایک لمبے عرصہ تک سراج الحق اور عمران خان کے درمیان تعلقات میں سر د مہری رہی۔ جو شاید کہیں نہ کہیں آج بھی قائم ہے ۔ ابھی حال ہی میں جب عمران خان نے اسلام آباد کے لاک ڈاؤن کی کال دی تھی تب بھی  جماعت اسلامی نے اس لاک ڈاؤن میں شرکت سے انکار کر دیا تھا۔

میں نے جماعت اسلامی کے رہنماؤں سے کئی بار پوچھا ہے کہ آپ کیا کرتے ہیں۔ پانامہ میں فریق بن جاتے ہیں۔ لیکن اسلام آباد لاک ڈاؤن میں شریک نہیں ہو تے۔ دھرنے کی مخالفت کرتے ہیں لیکن ن لیگ کے ساتھ اتحاد نہیں بناتے۔ حکومت کو گرانے کی ہر تحریک کی مخالفت کرتے ہیں لیکن نواز شریف کو ناہل قرار دلوانے کے درپے ہیں۔ جماعت اسلامی کہتی ہے کہ اس نے جمہوریت کے خلاف سازشوں کو نا کام کیا ہے لیکن حکمرانوں کے تحفظ کا ٹھیکہ نہیں لیا ہوا۔ لیکن اپنی اس پالیسی سے جماعت اسلامی نے دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کو ناراض کر لیا ہے۔ اسی لیے جماعت اسلامی سیاسی تنہائی کا شکار ہے۔ یہ تنہائی اگلے انتخابات میں خطرناک بھی ہو سکتی ہے۔ تا ہم جماعت اسلامی کا موقف ہے کہ ا ن دو نوں بڑی سیاسی جماعتوں نے گزشتہ انتخاب میں بھی جماعت اسلامی کو سیاسی طور پر تنہا چھوڑ دیا تھا۔ اس لیے اب جماعت اسلامی اس کی عادی ہو گئی ہے۔ اب ہمیں سیاسی تنہائی سے کوئی نہیں ڈرا سکتا۔ ہم اس کے عادی ہو گئے ہیں۔

مزمل سہروردی

گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی : ڈاکٹر صفدر محمود

Read dr-safdar-mehmood Column gunwadi-ham-ne-jo-aslaaf-se-meraas-paee-thi published on 2017-01-29 in Daily JangAkhbar

 

 

ڈاکٹر صفدر محمود

 

پاکستان میں مردم شماری کیوں ضروری ہے؟

کسی بھی ملک کی ترقی اور فلاح و بہبود کے لیے ضروری ہے کہ پالیسی ساز اداروں کو اس ملک کی صحیح آبادی کا علم ہو۔ پاکستان کے آئین کے مطابق ریاست کے متعلقہ ادارے اس بات کے آئینی طور پر پابند ہیں کہ ہر دس سال میں ایک بارملک بھر میں مردم شماری کرائیں۔ ملک میں شرح تعلیم ، بیروزگاری کی شرح، مردوں، خواتین اور بچوں کی تعداد کتنی ہے، یہ سب مردم شماری سے ہی معلوم ہوتا ہے۔ آبادی کی بنیاد پر ہی ملک کے اندر صوبوں اور وفاق کا بجٹ تیار کیا جاتا ہے۔ صحیح معنوں میں آبادی معلوم ہونے کے بعد اداروں کی تشکیل اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جاتے ہیں۔ بدقسمتی سے وطنِ عزیز میں ہر اس عمل کے خلاف سیاسی جماعتیں صف آرا ہوتی ہیں جس سے ملک کو فائدہ پہنچتا ہو۔ اپنے چھوٹے چھوٹے گروہی، سیاسی اور ذاتی مفاد کی خاطر یہ سیاسی جماعتیں ہمیشہ احتجاج اور بائیکاٹ کرنے سے بھی نہیں ہچکچاتیں۔

دوسری جانب یہی جماعتیں اس بات پراحتجاج نہیں کرتیں کہ گزشتہ 19 سال سے ملک میں مردم شماری نہیں ہوئی ہے۔ کیوں کہ ان سیاسی شعبدہ بازوں کو معلوم ہوتا ہے کہ ملک میں صحیح مردم شماری سے ان حلقوں میں تبدیلی ممکن ہے اور ان کا سیاسی نقصان ہونے کا اندیشہ ہے۔ الیکشن ہوں یا مردم شماری ہر اس عمل کے خلاف ان سیاست دانوں نے ہمیشہ تنازع ضرور کھڑا کیا۔ وطنِ عزیز کو ستر سال ہوئے مگراب تک صرف پانچ بار مردم شماری ہوئی ہے۔ وہ بھی بروقت نہیں۔ ملک میں پہلی بار مردم شماری 1951، دوسری دس سال بعد یعنی 1961 جب کہ 1971 میں ملک میں ایک جنگ دشمن کے خلاف لڑی جا رہی تھی، جس کے باعث مردم شماری 1972 میں ممکن ہو ئی۔ چوتھی مردم شماری سنہ 1991 اور آخری بار ملک میں مردم شماری 1998 میں کرائی گئی۔

غلام یاسین بزنجو