جاوید ہاشمی نے نہیں پوچھا کہ ’مجھے کیوں بلایا؟

مخدوم جاوید ہاشمی قومی سیاست کے ایک باعزت مِس فٹ بزرگ ہیں۔ ایسے بزرگ جن کے سبق آموز جرات مندانہ تجربات کی دھاک محلے میں ہر کسی پر ہوتی ہے۔ ان کی بات کو کوئی نہ نہیں کرتا اور دل ہی دل میں ہاں بھی نہیں کہتا۔ بابا جی کی نصیحت محلے کے بڑے چھوٹے سر جھکا کے کھڑے کھڑے سنتے ہیں اور پھر پیڈل مارتے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ مخدوم صاحب میں 66 برس کی عمر میں بھی اتنی ہی توانائی ہے جتنی 45 برس پہلے کی پنجاب یونیورسٹی کے 21 سالہ طلبا یونین کے صدر میں تھی۔ سدابہار توانائی نے اگر کہیں ڈیرہ ڈالا ہے تو وہ جاوید ہاشمی کا ڈیرہ ہے۔ برین ہیمبرج کا حملہ بھی ان کی شعلہ صفتی نہ بجھا سکا۔

سنہ 1972 میں گورنر پنجاب مصطفیٰ کھر کو دو لڑکیوں کے اغوا کے شبہے میں رگیدنے سے لے کر اسلامی سربراہ کانفرنس کے موقعے پر بنگلہ دیش نامنظور چیختے ہوئے لاہور میں شاہ فیصل کے قافلے کے سامنے سڑک پر آجانے تک، بھٹو دشمنی کے جوش میں ضیا الحق کی پہلی کابینہ میں چند ماہ کے لیے یوتھ منسٹر ہونے اور پھر سنہ 1985 کے غیر جماعتی انتخابات میں پہلی بار ایم این اے بننے اور پھر سنہ 1988 میں مسلم لیگ ن میں شمولیت اور پھر 23 برس بعد پاکستان تحریکِ انصاف میں ڈھائی برس گزار کے دوبارہ مسلم لیگ ن میں واپسی پر اصولی رضامندی تک۔۔۔

اک طرفہ تماشا ہے حسرت کی طبیعت بھی
ہے مشقِ سخن جاری چکی کی مشقت بھی

عام طور سے اگر کوئی بندہ اسلامی جمیعتِ طلبا سے چھلانگ مار کے تحریکِ استقلال اور پھر وہاں سے ضیا کے غیر جماعتی نظام اور پھر مسلم لیگ ن اور پھر تحریکِ انصاف اور پھر واپس نون لیگ کی طرف آجائے تو ایسے شخص کو پاکستانی سیاست میں ’لوٹا‘ کہا جاتا ہے۔ مگر جاوید ہاشمی شاید واحد سیاستدان ہیں جنھیں دیکھ کر جہاندیدہ لوٹے بھی اپنا لوٹا پھینک کے نکل لیتے ہیں۔ اتنے راستے بدلنے کے باوجود بھی جاوید ہاشمی شاید اس لیے لوٹے کا خطاب نہ پا سکے کیونکہ انھوں نے اب تک جو بھی کامیاب یا ناکام سیاسی ہجرتیں یا فیصلے کیے وہ کسی ترغیب یا لالچ میں آ کر نہیں بلکہ طبیعت کے ہاتھوں کیے۔ لہذا انھیں لوٹا کہنا کسی کو شوبھا نہیں دے سکتا۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ

وہ کہیں بھی گیا لوٹا تو میرے پاس آیا
بس یہی بات ہے اچھی میرے ہرجائی کی

نواز شریف کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ مصیبت کے وقت وہ اور لوگوں پر تکیہ کرتے ہیں اور راحت ملتی ہے تو تکیے بھی بدل جاتے ہیں۔ جیسے دورِ جلاوطنی میں انھیں جاوید ہاشمی پارٹی صدارت کے لیے موزوں دکھائی دیے اور پرویز مشرف نے فوج کو بغاوت پر اکسانے کے الزام میں جاوید ہاشمی کو ساڑھے تین برس کے لیے جیل میں ڈال دیا۔ لیکن جب شریفوں کے اچھے دن آئے تو اینٹی اسٹیبلشمنٹ جاوید ہاشمی کی جگہ اسٹیبشلمنٹ نواز چوہدری نثار علی خان کو قائدِ حزبِ اختلاف چن لیا گیا۔ زرداری کے مقابلے میں صدارتی امیدوار جاوید ہاشمی کو بنانے کے بجائے جسٹس ریٹائرڈ سعید الزماں صدیقی کو بنا دیا گیا۔

اب نواز شریف ایک بار پھر مصیبت میں ہیں اور جاوید ہاشمی کی کمزوری ہے کہ کسی گاؤں کی دور دراز دخانی چکی سے آتی کوک کوک کوک کی آواز بھی اگر انھیں اینٹی اسٹیبلشمنٹ محسوس ہو تو دوڑے چلے جاتے ہیں۔ یہ جاوید ہاشمی کی بڑائی ہے کہ مجھے کیوں نکالا فیم نواز شریف سے سات برس بعد ہونے والی ملاقات میں انھوں نے نہیں پوچھا ’مجھے کیوں بلایا؟‘ مجھے انتظار ہے اس وقت کا جب نواز شریف کے برے دن ختم ہوں اور کوئی چوہدری نثار علی پھر معاملات خوش اسلوبی سے سنبھال لے اور جاوید ہاشمی ایک بار پھر ’ہاں میں باغی ہوں‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے سوٹا گھماتے ہوئے کسی پگڈنڈی پر چلتا جا رہا ہو۔

یہاں کون ہے تیرا مسافر جائے گا کہاں
دم لے لے گھڑی بھر یہ چھئیاں پائے گا کہاں

وسعت اللہ خان
تجزیہ کار

Advertisements

پچاس سالہ پیپلز پارٹی

پیپلز پارٹی دو روز پہلے پچاس کی ہو کر اکیاونویں برس میں داخل ہو گئی۔ لاہور کے جس گھر سے متصل خالی پلاٹ میں اس کا جنم ہوا اس گھر کے مالک ڈاکٹر مبشر حسن ماشااللہ پچانوے برس کی عمر میں بھی ذہنی اعتبار سے ساٹھے پاٹھے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے جنم دن کے موقع پر جو یادگار گروپ فوٹو کھینچا گیا اس میں بابائے سوشلزم شیخ محمد رشید انتالیس سالہ ذوالفقار علی بھٹو کے زانو پر بیٹھے ہیں۔ ویسے دو روزہ کنونشن میں لگ بھگ تین سو مندوب شریک ہوئے تھے۔ مگر یہ تین سو کون تھے کسی کے پاس مکمل ریکارڈ نہیں۔ شائد پیپلز پارٹی کے پاس بھی نہیں۔

ایک تاسیسی رکن عبدالرزاق سومرو کی یادداشت کے مطابق اس کنونشن میں جے اے رحیم ، ملک حامد سرفراز ، حنیف رامے ، معراج خالد ، ڈاکٹر مبشر حسن ، شیخ محمد رشید ، کمال اظفر ، ملک شریف ، حکیم عبداللطیف ، میاں محمد اسلم ، محمد صفدر ، آفتاب ربانی ، عبدالوحید کٹپر ، شوکت علی لودھی ، میر رسول بخش تالپور ، معراج محمد خان ، بیگم عباد احمد ، خورشید حسن میر ، حیات محمد خان شیر پاؤ ، چاکر علی جونیجو ، مصطفی کھر ، حفیظ پیرزادہ ، مجتبی کھر ، احمد رضا قصوری ، حق نواز گنڈاپور ، جہانگیر خان، عماد حسین جمالی ، احمد دہلوی ، سردار پیر بخش بھٹو ، میر حامد حسین ، ملک نوید احمد بھی شریک تھے۔ ہر مندوب نے انٹری کارڈ کی مد میں دس دس روپے بطور کنونشن فیس ادا کیے۔
تیس نومبر اور یکم دسمبر کو دو دن میں چار سیشن ہوئے۔ تین نام تجویز ہوئے۔پیپلز پروگریسو پارٹی ، پیپلز پارٹی، سوشلسٹ پارٹی آف پاکستان۔ اتفاق پاکستان پیپلز پارٹی پر ہوا۔ عام طور پر سیاسی جماعتوں میں بالائی عہدہ صدر کہلاتا تھا۔مگر اتفاق ہوا کہ پیپلز پارٹی کا صدر نہیں چیئرمین ہو گا ( تب شائد چیئرمین ماؤزے تنگ ذہن میں ہوں گے )۔

پیپلز پارٹی میں لوگوں کو نکالنے کا رواج کبھی بھی نہیں رہا۔ جو لوگ تاسیسی کنونشن میں شریک ہوئے ان میں سے متعدد نے بھٹو صاحب کے دورِ اقتدار میں ہی راستے جدا کر لیے۔ کچھ بھٹو کو پسند نہ آئے ، کچھ کو بھٹو کا انداز پسند نہ آیا۔ سب سے پہلا باغی احمد رضا قصوری تھا۔ پھر معراج محمد خان ، پھر پیپلز پارٹی کے بنیادی نظریہ ساز جے اے رحیم ، پھر تہتر کے آئین کے ایک معمار محمود علی قصوری ، پھر غلام مصطفی کھر۔ بھٹو صاحب کی پھانسی کے بعد بھی ٹوٹ پھوٹ کا سلسلہ جاری رہا۔ مگر جس جس نے بھی کسی بھی وجہ سے بھٹو کی زندگی یا بعد میں پیپلز پارٹی چھوڑی وہ پھر سیاست میں بہت دور تک نہ چل پایا۔ احمد رضا قصوری اور محمود علی قصوری مرحوم تحریک ِ استقلال میں چلے گئے۔ معراج محمد خان مرحوم نے قومی محاذ ِ آزادی بنایا اور آخری دور میں اپنی پارٹی تحریکِ انصاف میں ضم کر دی اور پھر نکال لی ، مولانا کوثر نیازی مرحوم کی پروگریسو پیپلز پارٹی جانے کہاں ہے۔ غلام مصطفی کھر کنونشن مسلم لیگ میں گئے اب سنا ہے طاہر القادری کی پاکستان عوامی تحریک کے بعد تحریک ِ انصاف میں علامتی طور پر شامل ہیں۔

حنیف رامے مرحوم نے مساوات پارٹی بنائی اور پھر وہ کہیں کھو گئی۔عبدالحفیظ پیرزادہ مرحوم نے سندھی بلوچ پشتون کنفیڈرل فرنٹ کا مختصر تجربہ کیا اور پھر سیاست ہی چھوڑ دی۔ غلام مصطفی جتوئی مرحوم کی نیشنل پیپلز پارٹی کدھر گئی۔ ٹیلنٹڈ کزن ممتاز بھٹو کا سندھ نیشنل فرنٹ کبھی مسلم لیگ ن میں ضم ہو جاتا ہے تو کبھی تحریک ِ انصاف میں۔ فاروق لغاری مرحوم کی ملت پارٹی مسلم لیگ ق میں ضم ہو گئی۔ آفتاب شیر پاؤ کی قومی وطن پارٹی گھر کی پارٹی ہے۔ فیصل صالح حیات کی پیپلز پارٹی پیٹریاٹ کا کوئی اتا پتا نہیں مگر بھائی فیصل گھوم گھام کے پھر پیپلز پارٹی میں آ گئے۔ بی بی اور مرتضی میں سیاسی طور پر نہ بن پائی لہذا پی پی شہید بھٹو وجود میں آ گئی۔ اب یہ پارٹی ستر کلفٹن اور المرتضی لاڑکانہ کے درمیان پائی جاتی ہے۔ جن کے گھر میں پیپلز پارٹی پیدا ہوئی وہ ڈاکٹر مبشر حسن بھی اب شہید بھٹو پارٹی میں ہیں۔ پیپلز پارٹی کی ایک خوبی اسے محترمہ بے نظیر بھٹو کی حیات تک دیگر جماعتوں سے ممتاز بناتی تھی کہ اس میں ہر طبقے ، رنگ ، نسل و مذہب کی نمائندگی تھی۔ کنگلا پتی بھی تھا اور اس کا جاننے والا کروڑ پتی بھی۔ عین وقت پر گھر میں بیٹھنے والے بھی تھے اور دوڑ کر پھانسی کا پھندہ چومنے والے بھی۔ اب صرف چومنے والے زیادہ ہیں۔

بہت بڑی عاشق مزاج مخلوق ایسی بھی تھی اور اب بھی ہے جس کے لیے پیپلز پارٹی اہم نہیں بلکہ بھٹو اہم تھا۔ مثلاً لیاری کب پیپلز پارٹی کا رہا وہ تو ہمیشہ بھٹو کا رہا۔ لاہور کا محمد صدیق عرف ہرا سائیں جس کا گذشتہ ماہ ہی نوے برس کی عمر میں انتقال ہوا۔ اس کے لیے پیپلز پارٹی کا ہونا نہ ہونا ہارنا جیتنا کوئی معنی نہیں رکھتا تھا۔ اسے کوئی مطلب نہیں تھا کہ بھٹو زندہ تھا تو کیا ہوا اور پھانسی پر جھول گیا تو کیا فرق پڑ گیا۔ اس کی گدھا گاڑی پر تو نصف صدی تک پیپلز پارٹی کا جھنڈا اور بھٹو کی تصویر لگی رہی۔ ضیا الحق آیا اور چلا گیا بابا ہرے کی بلا سے اور اب بابا ہرا بھی بھٹو صاحب کے پاس چلا گیا۔

میں رحیم یار خان کے ہاشمی اخبار فروش کو جانتا ہوں جو ہمیشہ سن ستر کی دہائی میں ہی زندہ رہا۔ میں نے کسی ایک دن بھی نہیں دیکھا کہ اس نے کوئی ایسی قمیض پہنی ہو کہ جس کے کالر پر پیپلز پارٹی کا چھوٹا سا جھنڈا نہ کڑھا ہوا ہو۔ آج جب کہ پیپلز پارٹی پچاس برس کی ہو گئی ہے۔ بھٹو صاحب ہوتے تو نوے برس کے ہوتے۔ شائد وہ پارٹی کے چیئرمین نہ ہوتے مگر ان کی موجودگی کے سبب ہو سکتا ہے پاکستان واقعی ایسا پاکستان ہوتا جیسا کہ کسی نارمل ملک کو ہونے کا حق ہے۔ ان پچاس برسوں میں پارٹی بھی کہاں سے چلی تھی اور کہاں پہنچ گئی۔ بھٹو صاحب کے اردگرد کیسے کیسے لوگ تھے اور آج کیسے کیسے لوگ ہیں۔ بھٹو صاحب کی پراپرٹی کارکن تھے آج بس پراپرٹی ہے۔ کچھ شخصی جزیرے اب بھی بچے ہوئے ہیں ورنہ تو چہار جانب پانی ہی پانی ہے۔ بھٹو نے سیاسی مجاوری توڑ پھوڑ کے رکھ دی تھی۔ آج پارٹی کے پاس بس مجاوری بچی ہے۔ تب سوشلزم ہماری معیشت ہے کا نعرہ تھا۔ آج کرونی ازم ہی ہماری معیشت ہے۔ بھٹو سیاست کو ڈرائنگ روم سے گھسیٹ کر سڑک پر لایا۔ تیسری قیادتی پیڑھی اسے سڑک سے گھیسٹ کر پھر ڈرائنگ روم میں لے گئی۔

میں نے پروفیسر غفور احمد مرحوم سے ایک بار پوچھا بھٹو مالی اعتبار سے کیسا تھا ؟ کہنے لگے کرپٹ ہوتا تو ضیا الحق ضرور اس بارے میں بھی کوئی نہ کوئی وائٹ پیپر لے آتا۔ میں نے چترال کے بھی دور دراز علاقے مستوج کے ایک پہاڑی گھر کے ایک کمرے میں دیکھا ایک اکلوتی بھٹو کی تصویر پر گلاب کی سوکھی مالا لٹک رہی تھی۔ صاحبِ خانہ سے پوچھا کیا آپ پیپلز پارٹی میں ہو ؟ کہنے لگا نہیں تو ، مجھے کبھی سیاست سے دلچسپی نہیں رہی۔ پوچھا بھٹو کی تصویر کیوں لگا رکھی ہے۔ کہنے لگا ایک بار یہاں آیا تھا۔ پھر کوئی نہیں آیا۔

وسعت اللہ خان

علمائے کرام خاموش کیوں ؟

گذشتہ چند ہفتوں کے دوران جو کچھ ہوا اُس معاملہ میں پاکستان کے جید علمائے کرام کو سب کی رہنمائی کرنی چاہیے کیونکہ جو معاملہ انتخابی قوانین میں متنازع تبدیلیوں سے شروع ہوا وہ ایک ایسے مرحلہ میں داخل ہو چکا ہے جہاں حکومت سے تعلق رکھنے والے چند افراد سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ کچھ مخصوص مذہبی شخصیات کے سامنے پیش ہو کر اپنے ایمان کی تجدید کروائیں اور اپنے آپ کو مسلمان ثابت کریں۔ سابق وزیر قانون زاہد حامد نے اپنے آپ کو مسلمان ثابت کرنے کے لیے ویڈیو پیغام دیا، دھرنا دینے والوں کے نمائندوں کے سامنے اپنے ایمان کی قسمیں کھائیں، حج و عمرہ کی تصویریں سوشل میڈیا میں ڈال دیں، ختم نبوت پر اپنے ایمان کا یقین دلایا اور اپنے استعفیٰ میں ایک بار پھر لکھا کہ وہ اور اُن کے آبائو اجداد پکے مسلمان ہیں۔

ابھی تک انتخابی قوانین میں متنازع تبدیلیوں (جن کو درست کیا جا چکا ہے) کے معاملے پرکسی پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوئی اور توقع ہے کہ آئندہ ایک دو ہفتوں کے دوران راجہ ظفر الحق صاحب اپنی حتمی رپورٹ مکمل کر کے اپنے پارٹی رہنما کو دے دیں گے جس سے یہ پتا چلے گا کہ کیا جو ہوا وہ پارلیمنٹ کی مشترکہ غلطی کا نتیجہ تھا یا اس معاملہ میں کسی سازش کا بھی کوئی عمل دخل تھا۔ لیکن یہاں نتیجہ سے پہلے ہی زاہد حامد سے استعفیٰ لے کر اُنہیں نہ صرف ’’مجرم‘‘ بنا دیا گیا بلکہ اُن کے ایمان پر بھی سوال اُٹھا دیئے گئے۔ اب رانا ثنا اللہ کے استعفے کی بات ہو رہی ہے اور اُن سے بھی یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے ایمان کی تجدید کے لیے کسی خاص مذہبی شخصیت کے سامنے پیش ہوں جو وزیر قانون پنجاب کو سن کر فیصلہ کریں گے کہ آیا رانا ثنا اللہ سے استعفیٰ لیا جائے یا اُن کے مسلمان ہونے پر یقین کر لیا جائے۔

راجہ ظفر الحق رپورٹ آنے کے بعد نجانے کتنے اور لوگوں کو اسی طرح اپنے ایمان کی تجدید کے لیے کسی نہ کسی مذہبی شخصیت کے سامنے پیش ہو کر اپنے آپ کو مسلمان ثابت کرنا پڑے گا۔ میڈیا میں ان معاملات پر بہت باتیں ہو رہی ہیں اور سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا یہ سلسلہ اگر چل نکلا تو کہیں رکنے کا نام لے گا۔ عدالت اور میڈیا میں یہ بھی سوال اٹھائے جا رہے ہیں کہ آیا گزشتہ دنوں اسلام کے نام پر جس انداز میں احتجاج کیے گئے، جو زبان استعمال کی گئی، جس طرح قومی و نجی املاک کو نقصان پہنچایا گیا اُس کا کسی بھی طرح اسلام سے کوئی تعلق ہے؟ پاکستان کے جید علمائےکرام سے میری گزارش ہے کہ وہ مل بیٹھ کر ان معاملات پر مسلمانوں کی رہنمائی فرمائیں اور عوام کے ذہنوں میں اٹھنے والے سوالات کا جواب دیں۔

ویسے آج کل عدالتیں، میڈیا، سیاستدان اور حکمران اسلام کی تعلیمات کا کافی حوالہ دے رہے ہیں لیکن کوئی یہ سوال نہیں اٹھا رہا کہ پاکستان کو قائم ہوئے ستر سال ہو چکے، یہ ملک اسلام کے نام پر بنا، ہمارا آئین اس ملک کو اسلامی ریاست بنانے کی ضمانت دیتا ہے لیکن کسی نے پاکستان کو اسلامی ریاست بنانے کے لیے عملی اقدامات کیوں نہ کئے؟ جب ریاست اسلام کے نفاذ سے ہاتھ کھینچ لے گی اور مذہبی معاملات کو دوسروں پر چھوڑ دیا جائے گا تو پھر یہی حال ہو گا جو آج پاکستان کا ہے جہاں مسجدیں فرقوں اور مسلکوں کے لحاظ سے پہچانی جاتی ہیں، فرقے اور مسلک اسلام سے آگے ہو گئے، جس کا دل چاہے جو فرقہ بنا لے کوئی پوچھنے والا نہیں، جو چاہے کسی دوسرے کو کافر کا فتویٰ لگا دے۔

آج ہماری یہ حالت ہے کہ اسلام کے نام پر مسلمان مسلمان کا قتل کر رہا ہے۔ ان حالات کو ٹھیک کرنا ہے تو ریاست کو اپنی ذمہ دار ی پوری کرنی پڑے گی، قرآن و سنت کی تعلیمات عام کرنی ہوں گی، ہر تعلیمی ادارے میں قرآن پاک ترجمہ کے ساتھ اور آپﷺ کا اسوہ حسنہ پڑھانا ہو گا، اپنی نسلوں کی تربیت اسلامی اقدار، روایات اور اصولوں کے مطابق کرنی ہو گی۔ حضرت محمد ﷺ سے کسی مسلمان کی محبت پر کسی دوسرے کو سوال کا کوئی حق حاصل نہیں لیکن سیاستدانوں اور حکمرانوں سے اس بات کی توقع ضرور ہے کہ اس محبت کی خاطر وہ اس ملک میں نظام مصطفیٰ ﷺ کے نفاذ کے لیے اقدامات ضرور اٹھائیں گے۔

جہاں تک میڈیا کا تعلق ہے، اُس کے بارے میں جو سپریم کورٹ کے معزز جج قاضی عیسیٰ نے کہا وہ غور طلب ہے۔ چند دن قبل فیض آباد دھرنے کا سو موٹو کیس سنتے ہوئے انہوں نے سوال اٹھایا کہ میڈیا کیوں فتنہ پھیلا رہا ہے؟ کیا میڈیا کا کام صرف پگڑیاں اچھالنا ہے؟ انہوں نے کہا کہ اس دوران کس چینل نے اسلام کی بات کی؟ قاضی عیسیٰ نے کہا کہ نہ سرکاری ادارے نہ میڈیا اسلام کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام میڈیا چینلز کی انتظامیہ کو قرآن پاک، آئین پاکستان اور پیمرا قوانین کی کاپیاں بھجوائی جائیں۔ انہوں نے اس با ت پر افسوس کا اظہار کیا کہ اس کیس کے گزشتہ سماعت کے دوران عدالت کی طرف سے قرآن و حدیث کے جو حوالے دیے گئے انہیں میڈیا نے اہمیت نہیں دی۔ دوسروں پر انگلی اٹھانے والے میڈیا کو چاہیے کہ اپنی بگڑتی حالت کو دیکھے اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔

انصار عباسی

کیا نواز شریف سیاسی لڑائی جیت رہے ہیں ؟

قومی اسمبلی میں عددوں کا کھیل (نمبرز گیم) تو مسلم لیگ ن جیت گئی لیکن حکمران جماعت کے بعض حلقوں میں آج بھی یہ سوال زیر بحث ہے کہ نواز شریف نے جو بڑی سیاسی لڑائی چھیڑ رکھی ہے اس میں آخری فتح کس کی ہو گی؟ نواز شریف کو پارٹی سربراہی کے لیے نا اہل قرار دینے کا قانونی مسودہ پیپلز پارٹی نے جب قومی اسمبلی میں جمع کروایا تو مسلم لیگ کے بعض مخالفین جن میں عمران خان سمیت بعض سیاسی رہنما اور کچھ سیاسی تجزیہ کار بھی شامل تھے، یہ دعویٰ کرتے دکھائی دیے کہ مسلم لیگ ن کے درجنوں ارکان اسمبلی اجلاس میں آئیں گے ہی نہیں اور آ بھی گئے تو نواز شریف کے حق میں ووٹ نہیں دیں گے۔

لیکن جب قومی اسمبلی کے اہلکاروں نے ارکان کا حاضری لگائی تو پتہ چلا مسلم لیگ ن کے 188 میں سے 165 ارکان اسمبلی ہال میں موجود تھے۔ ان میں سے 159 نے نواز شریف کے حق میں ووٹ بھی دے دیا۔ ان سات میں سے بعض ارکان اور وزرا اجلاس کی طوالت کی وجہ سے اپنی دیگر مصروفیات کی وجہ سے اجلاس سے چلے گئے اور ووٹ میں حصہ نہ لے سکے۔ ن لیگ کی ایک رکن کلثوم نواز نے ابھی رکنیت کا حلف نہیں لیا باقی بچ گئے بائیس۔ ان میں سے بھی مسلم لیگی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بیشتر لوگوں نے اپنی غیر موجودگی کی اطیمنان بخش وضاحت پیش کی جسے قبول کر لیا گیا۔

لیکن مسلم لیگی ذرائع کے مطابق نصف درجن مسلم لیگی ارکان نے یا تو رابطہ نہیں کیا یا عدم حاضری کی “مشکوک” توجیح دی۔ نمبر گیم میں اس کامیابی پر مسلم لیگ ن اور اس کے قائد تو نہال ہوئے جاتے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ نواز شریف کو سیاست سے نکالنے یا “مائنس” کرنے کی سازش ناکام ہو گئیں۔ مریم نواز نے اسے جمہوریت کے لیے بڑا دن قرار دیا کیونکہ ان کے بقول دھمکیوں کے باوجود ان کے ارکان قومی اسمبلی نے اجلاس میں شرکت کی اور نواز شریف کو ووٹ دیا۔ ْ

حزب اختلاف بھی اس معرکے کے بعد کچھ زخم خوردہ ہے۔ شیخ رشید کہتے ہیں حکومت نے تجوریوں کے منہ کھولے اور ارکان اسمبلی اور اربوں کے ترقیاتی فنڈز دے کر ان کی اس اجلاس میں شرکت یقینی بنائی۔ نواز شریف کی وزارت عظمیٰ سے علیحدگی کے بعد ان کی سیاسی اٹھان پر نظر رکھنے والے لوگ اس عددی اکثریت میں بہت سے اور معنی بھی دیکھ رہے ہیں۔ مثلاً پیپلز پارٹی کے رہنما اور زیرک سیاستدان اعتزاز احسن نے کہا کہ نواز شریف کی اس عددی اکثریت نے شکست پیپلز پارٹی کے پیش کردہ کاغذ کو دی لیکن اصل میں بساط شہباز شریف اور چوہدری نثار کی الٹی ہے۔ تفصیل بتاتے اعتزاز احسن کہتے ہیں کہ نواز شریف نے بتا دیا کہ انہوں نے مسلم لیگ ن کے وہ لوگ بھی اپنے ساتھ ملا لیے ہیں جو گزشتہ کئی ماہ سے چوہدری نثار اور شہباز شریف کا دم بھرتے تھے۔

اس عددی کامیابی اور اس کے ممکنہ دور رس اثرات کے باوجود مسلم لیگ ن کے بعض سینئر ارکان آج بھی تشویش کا شکار ہیں۔ نواز شریف کے قریب سمجھے جانے والے ایک مسلم لیگی رہنما کے مطابق نواز شریف نے رابطہ عوام مہم کا جو سلسلہ شروع کیا وہ اسے عام انتخابات تک لیجانا چاہتے ہیں تاکہ اس غصے کو ووٹ میں تبدیل کیا جا سکے۔ لیکن نواز شریف نے ان جلسوں میں ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے فیصلوں کو جس طرح سے تنقید کا نشانہ بنانا شروع کیا ہے اس کے پیش نظر مسلم لیگی رہنما بھی کچھ زیادہ پر یقین نہیں ہیں کہ نواز شریف اس مہم کو زیادہ طول دے پائیں گے۔

سپریم کورٹ کی طرف سے رجسٹرار کی مسترد کردہ درخواست کو سماعت کے لیے مقرر کرنا اس خدشے کے حق میں آنے والی تازہ دلیل ہے۔ یہ درخواست رکن قومی اسمبلی، پاکستان پیپلز پارٹی، شیخ رشید احمد اور جمشید دستی کی طرف سے دائر کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ قومی اسمبلی کی رکنیت کے لیے نا اہل شخص پارٹی سربراہ بھی نہیں ہو سکتا۔ یعنی جو لڑائی نواز شریف قومی اسمبلی کے ایوان میں عددی برتری کی وجہ سے اپنے تیئں جیت چکے ہیں، وہ دراصل ابھی ختم نہیں ہوئی۔ پکچر ابھی باقی ہے میرے دوست!

آصف فاروقی
بی بی سی اردو، ڈاٹ کام، اسلام آباد

کیا نااہل شخص پاکستان کی سیاسی جماعت کا سربراہ بن سکتا ہے ؟

پاکستان کی قومی اسمبلی میں نااہل شخص کو پارٹی سربراہی سے روکنے کے لیے پیش کیا گیا الیکشن ایکٹ ترمیمی بل قومی اسمبلی سے مسترد ہو گیا۔ ترمیم کے حق میں 98 جبکہ مخالفت میں 163 ارکان نے ووٹ دئیے۔ ن لیگ نے ایوان میں بھر پو طاقت کا مظاہرہ کیا تاہم سابق وزیر اعظم ظفر اللہ جمالی نے اپوزیشن کا ساتھ دیا۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے الیکشن ایکٹ 2017 کے آرٹیکل 203 میں ترمیم کا بل پیش کیا جس کے تحت نااہل شخص کسی جماعت کا سربراہ نہیں بن سکتا۔

پیپلزپارٹی نے بل پیش کیا جس میں کہا گیا تھا کہ ایک شخص جب تک پارٹی کا سربراہ نہیں ہو سکتا جب تک وہ خود ممبر اسمبلی بننے کا اہل نہ ہو، نا اہل شخص باہربیٹھ کر سربراہ کے طور پر پالیسی ڈکٹیٹ کرے تو مناسب نہیں۔ اگرچہ حزب اختلاف کی جماعتوں کے ارکان پارلیمان کی تعداد حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ ن اور اس کی اتحادی جماعتوں کے ارکان کی تعداد سے کم تھی تاہم حکمراں جماعت کو اپنے ارکان کی غیر حاضری کا مسئلہ بھی درپیش تھا لیکن آج قرارداد مسترد ہونے کی صورت میں وہ حل ہو گیا۔ حزب اختلاف کی جماعتیں الیکشن ایکٹ 2017 کی شق 203 میں ترمیم چاہتی ہیں جس کا مقصد حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ اور نااہل وزیراعظم نواز شریف کو جماعت کا سربراہ بننے سے روکنا ہے۔

یاد رہے کہ رواں سال پاناما لیکس کیس میں سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا تھا تاہم پاکستان مسلم لیگ ن الیکشن ایکٹ 2017 سینیٹ اور قومی اسمبلی سے منظور کروانے میں کامیاب رہی جس کے بعد وہ سابق وزیراعظم کا اپنی سیاسی جماعت کے سربراہ کا عہدہ برقرار رہا۔ اس سے قبل کوئی بھی نااہل شخص کسی بھی سیاسی جماعت کا سربراہ نہیں بن سکتا تھا۔

فیض آباد پر ناکہ نہیں ہانکہ لگا ہوا ہے : وسعت اللہ خان

تمہارا مسئلہ معلوم ہے کیا ہے؟ یہ کہ تم انتہائی خود غرض ہو صرف مطلب کی بات سمجھتے ہو۔ تمھیں کوئی مطلب نہیں کہ بندہِ خاکی کیا چاہتا ہے۔ قانونی، اخلاقی، انسانی دلائل دینے میں کیوں وقت ضائع کر رہے ہو۔ ڈنڈے کے روبرو دلیل کمزوری کی دلیل ہے۔ کیا چشمے پر کھڑے بھیڑیے اور بھیڑ کے بچے کی پانی گدلا کرنے والی کہانی بھی بچپن میں نہیں سنی؟ یہ تو کوئی نابینا بھی جانتا ہے کہ جس مسئلے پر فیض آباد کا دھرنا جاری ہے وہ مسئلہ تو پارلیمان کب کا سلٹا چکی۔ تب سے سرکارِ عباسیہ تین ہزار قسمیں بھی کھا چکی کہ کوئی بھی پاکستانی حکومت باہوش و حواس احمدیوں کی آئینی حیثیت کے بارے میں کسی بھی قانون میں ترمیم تو کجا اس بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی۔

ختمِ نبوت پر ایمان کی حلفیہ وڈیوز جاری کرنے کا فائدہ؟ دھرنا ختم کرانے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کی کاپی لہرانے سے کیا حاصل؟ تم اتنی سی بات سمجھنے کو کیوں تیار نہیں کہ ہم اب تمہاری شکل نہیں دیکھنا چاہتے۔ بوریا بستر گول کرو۔ یہ فیض آباد پر ناکہ نہیں ہانکہ لگا ہوا ہے۔ ہانکہ سمجھتے ہو؟ کبھی شیر کا شکار کیا ؟ سنا بھی نہیں کہ بادشاہ کیسے شکار کرتا ہے؟ ہانکہ ڈھول ڈھمکے اور نعروں سے مسلح لوگوں کی جانب سے آہستہ آہستہ گھیرا تنگ کر کے شکار کو مطلوبہ مقام تک پہنچانے کو کہتے ہیں۔ جہاں سے ہاتھی یا مچان پر بیٹھا بادشاہ ایک تیر یا گولی سے شکار کا بھیجہ آسانی سے اڑا سکے۔

ہانکہ شکار کو تھکانے اور اوسان خطا کرنے کو کہتے ہیں۔ شکار جتنا سخت جانہانکہ بھی اتنا ہی طویل۔ ہانکے کے ڈھول مسلسل نہیں وقفے وقفے سے بجائے جاتے ہیں تاکہ شکار پہلے بے یقینی اور پھر خوف میں مبتلا ہو۔ یوں اعصاب جواب دیتے چلے جائیں اور پھر شور کا دائرہ سکڑتا سکڑتا سر پر آ جائے اور شکار بے سدھ ہو جائے۔ پھر شکاری کی مرضی زندہ پکڑتا ہے یا مردہ۔ تمہارا کیا خیال ہے فیض آباد کا دھرنا ختم کرنا مشکل ہے؟ بالکل بھی نہیں۔ اگر ایک فون پر نواز شریف اپنا عدلیہ بحالی لانگ مارچ گوجرانوالہ میں روک سکتا ہے، اگر ایک میسج پر طاہر القادری اچانک اسلام آباد کے ڈی چوک سے بوریا بستر لپیٹ کر عمران خان کو ہکا بکا چھوڑ کر نکل سکتا ہے۔ اگر ایک کال پر عمران خان 126 دن سے جاری کامیاب دھرنا ختم کر سکتا ہے تو فیض آباد کا دھرنا کیا بیچتا ہے۔ مگر تم غلط نمبر سے ڈائل کر رہے ہو اور درست نمبر مسلسل انگیج ہے۔

ایک داغدار کرپٹ قیادت والی حکومت کو بہرطور جانا ہی چاہیے۔ اس پر پارلیمانی و غیر پارلیمانی سطح پر اتفاقِ رائے ہے۔ مگر کیسے پتہ چلا کہ مسلم لیگی حکومت داغ دار اور کرپٹ ہے؟ ظاہر ہے پاناما لیکس سے۔ ایک منٹ ! جب لیگی حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے صرف دو ماہ بعد ہی چار حلقوں میں دھاندلی کا پتہ چلانے کے لیے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے مطالبے کے بہانے ہانکے کا پہلا ڈھول بجا اور ایک برس بعد اگست 2014 میں گو نواز گو کا ڈھول مسلسل پیٹنے سے ہانکے کا باضابطہ آغاز ہوا تب تو پاناما کہیں نہیں تھا۔ اے شریفو خدا کے لیے یہ مت کہنا کہ تم ہانکے کا مطلب نہیں سمجھتے۔ پہلا ہانکہ پی این اے سے بھٹو کو گھیرنے کے لیے کروایا گیا تو اس وقت تم اصغر خان کی تحریکِ اسلتقلال میں تھے۔ پھر تم سے آئی جے آئی کے ہانکہ بردار جمع کروائے گئے۔

پھر تم آپ اپنے استاد ہو گئے اور سجاد علی شاہ اور فاروق لغاری کا شکار کرنے کے بعد خود کو جم کاربٹ سمجھنے لگے اور اس دھوکے میں ایک ایسے شکار پر چھلانگ لگا دی جو جھکائی دے کر نکل گیا اور پلٹ کر تمہاری گردن دبوچ لی۔ تب کہیں جا کر تمہیں احساس ہونے لگا کہ ہانکہ کرنا اور اس کا حصہ بننا کتنا خطرناک ہے۔ مگر تب سے ہانکہ برداروں کی ایک نئی کھیپ تیار ہو چکی ہے۔
ویسے بھی ہانکے میں استعمال ہونے والوں کو اکثر کھانا اور شاباش ہی ملتی ہے۔ کبھی کسی نے سنا کہ شکار میں سے بھی حصہ ملا ؟ اب بھی جو شکار ہو گا اس کے بھی شکاری تین برابر کے حصے کرے گا۔ یہ میرا، دوسرا میرے ساتھیوں کا، تیسرا تم سب کا، ہمت ہے تو اٹھا لو۔

وسعت اللہ خان
تجزیہ کار

پی ٹی وی کا عروج و زوال

کچھ عرصہ پہلے ایک چینل کے اینکر نے ایک کالم میں سابق وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید سے ایک ملاقات کا ذکر کیا، جس میں ان کے بقول اُنہیں پی ٹی وی میں ڈائریکٹر نیوز کی پوسٹ کی پیشکش کی گئی تھی، جو انہوں نے ٹھکرا دی، لیکن اس کے ساتھ انہوں نے ایک معنی خیز تبصرہ کیا کہ اگر وہ یہ پیشکش قبول کر لیتے تو آج پرائیویٹ سیکٹر میں صحافت کی دُنیا میں وہ مقام حاصل نہ کر پاتے جو اُنہیں اِس وقت حاصل ہے۔ ان کی یہ بات غور طلب ہے کہ کیا واقعی پی ٹی وی نیوز میں ٹیلنٹ کی کوئی گنجائش نہیں یا وہاں ایسی فضا قائم ہے جو ٹیلنٹ کی قاتل ہے پرائیویٹ چینلوں میں اس وقت اوروں کے علاوہ طلعت حسین، کاشف عباسی، قطرینہ حسین،عاصمہ شیرازی وغیرہ بڑے کامیاب اینکر سمجھے جا رہے ہیں۔ انہوں نے پی ٹی وی سے اڑان بھری ہے اور ان بلندیوں پر پرواز کر رہے ہیں۔ ثابت ہو گیا کہ پی ٹی وی میں ان کا قیام ان کی پرواز میں کوتاہی کا باعث نہیں بنا۔ تاہم یہ سب لوگ پی ٹی وی میں وزیٹر تھے۔ مستقل ملازمین کے کردار کا جائزہ لیں تو اوپر ذکر کئے گئے اینکر کی بات میں کچھ صداقت نظر آتی ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ پی ٹی وی کے بڑے کامیاب لوگ بھی ریٹائرمنٹ کے بعد نجی شعبے میں کہیں نظر نہیں آئے۔ اس میں شاید نجی چینلوں میں اچھی پوزیشن پر موجود ان لوگوں کا تعصب بھی کام کر رہا ہو جو پی ٹی وی سے ہو کر گئے تھے تاہم یہ بھی صحیح ہے کہ پی ٹی وی میں سرکاری پالیسیوں کی گھٹن اور لیڈر شپ کی طرف سے جدت اور Initiative کی حوصلہ شکنی نے ورکرز کے ٹیلنٹ کو ناکامی سے دوچار کیا۔ پالیسی کی حد تک سیاسی اور فوجی حکومتوں کا اتفاق رائے رہا ہے،52 سال کی پی ٹی وی کی تاریخ میں بہت مختصر چند وقفے آئے جب پی ٹی وی کو ایڈیٹوریل آزادی ملی۔ ایک دفعہ تو وزیر اطلاعات جاوید جبار کو اسی شوق میں وزارت بھی قربان کرنا پڑی۔ یہ جنرل (ر) پرویز مشرف کا ابتدائی دور تھا۔ اب نجی چینلوں کی بھرمار سے پیدا ہونے والی صورتِ حال کے پیشِ نظر پی ٹی وی کو لبر الائز کرنے کی ضرورت اور موقع تھا، لیکن ایسا نہیں ہو سکا اور عجب ستم ظریفی ہے کہ اس کی ایک بڑی وجہ یہی نجی چینل بنے ہیں۔ ہوا یہ ہے کہ نجی چینلوں کی اکثریت نے شعوری یا غیر شعوری طور پر منفی ایجنڈے کو آگے بڑھایا ہے یہ حکومت کے لئے بھی منفی ہے اور وسیع تناظر میں معاشرے کے لئے بھی، ان چینلوں نے حکومت کا تقریباً بائیکاٹ کر رکھا ہے اور صرف منفی خبریں دی جاتی ہیں۔

ایک صحافی کی حیثیت سے مَیں بعض دفعہ یہ دیکھ کر حیران ہوتا ہوں کہ کوئی غیر ملکی وزیر خارجہ یا کوئی اور اہم آدمی پاکستان کے دورے پر آیا ہے تو نجی چینل اس کا تقریباً بائیکاٹ کر رہے ہوتے ہیں۔ وزیراعظم کسی ترقیاتی منصوبے کا افتتاح کر رہے ہیں تو اس کا بھی بائیکاٹ مثلاً حال ہی میں اسلام آباد میں اہلِ قلم کانفرنس ہوئی، جس میں مُلک بھر سے چار پانچ سو اہلِ قلم کے علاوہ کچھ غیر ملکی مہمانوں نے بھی شرکت کی۔ وزیراعظم نے افتتاح اور صدر نے افتتاحی تقریب سے خطاب کیا ،لیکن کسی چینل نے لائیو نہیں دکھایا اور نہ ہی شاید کسی نے کوئی پروگرام کیا۔ اس قسم کی بے شمار مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ اس صورتِ حال میں حکومت کا پی ٹی وی پر انحصار بڑھ گیا ہے۔

پی ٹی وی ہی ایک چینل ہے، جس کے ذریعے حکومت اپنا نقطہ نظر لوگوں تک پہنچا سکتی ہے۔ پی ٹی وی اور وزارتِ اطلاعات کے ارباب اختیار کو سوچنا چاہئے کہ اِن حالات میں پی ٹی وی کو مضبوط کرنے کی بڑی ضرورت ہے، لیکن نظر ایسا آتا ہے کہ انہوں نے پی ٹی وی سے سرے سے توجہ ہٹا لی ہے اور اس قومی ادارے کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ اس وقت پی ٹی وی میں قیادت کا شدید بحران ہے، ایم ڈی اور ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر کی پوسٹ خالی ہے۔ ایم ڈی کی پوسٹ ایک سال سے خالی ہے اور ابھی تک بھرتی کے لئے اشتہارہی نہیں دیا گیا۔ ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن کی پوسٹ پر ہفتوں اور مہینوں میں تبدیلی ہو رہی ہے۔ انگریزی چینل پی ٹی ورلڈ بھی ایک کنٹرولر کے حوالے ہے، نہ اس کا کوئی ڈائریکٹر ہے اور نہ چینل ہیڈ۔ ڈائریکٹر نیوز حال ہی میں مقرر کیا گیا ہے۔

اس سے پہلے ایک کنٹرولر کے پاس بڑی دیر چارج رہا، اس شخص کی کنٹرولر کی پوسٹ پر ترقی بھی مشکوک طریقے سے کی گئی تھی۔ نتیجہ حسبِ توقع بہت خراب نکلا اور پی ٹی وی کی تاریخ میں ایک ناخوشگوار باب کا اضافہ ہو گیا اور اس شخص کو ملازمت سے ڈسمس کر دیا گیا، لیکن بعد از خرابی بسیار۔ یہ ساری صورتِ حال پی ٹی وی میں قیادت کے خلاسے پیدا ہوئی ہے، اب بھی وقت ہے کہ ادارے کی تنظیم نوکی جائے اور ایک فل ٹائم ایم ڈی مقرر کیا جائے۔ ایک تجربہ کار شخص کو پی ٹی وی نیوز کا چینل ہیڈ مقرر کیا جائے، جو صورتِ حال کو سنبھال سکے۔ انگریزی چینل کے لئے بھی ایک سینئر آدمی کی ضرورت ہے۔

پی ٹی وی کے زوال کی کہانی کئی عشروں پر محیط ہے ہر حکومت اور شاید ہر ایم ڈی نے اس میں کچھ نہ کچھ حصہ ڈالا ہے۔ پیپلزپارٹی نے بے شمار لوگوں کو صرف سیاسی بنیادوں پر ملازم رکھا، جن کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ ایک اندازے کے مطابق 2009ء میں پی ٹی وی اور وزارت اطلاعات میں ایسے پارٹی وفا داروں کی تنخواہوں پر کروڑوں روپے سالانہ خرچ ہوتے تھے۔ میرٹ کی پامالی اور اقربا پروری بہت برسوں سے عروج پر ہے۔ باہر سے آنے والے منیجنگ ڈائریکٹروں نے بھی ایک آدھ کے سوا ادارے کے وسائل کا اپنے فائدے کے لئے بھرپور استعمال کیا۔ انہوں نے اندر کام کرنے والوں کی نسبت دس گنا تنخواہوں پر اپنے دوستوں کو نوازا اور پی ٹی وی کے مستقل ملازمین میں میرٹ کو نظر انداز کر کے ایسے فیصلے کئے، جن کے دور رس منفی اثرات نکلے۔ پھر نجی شعبے میں میڈیا کا دور شروع ہوا تو ہماری انتظامیہ نے اس چیلنج کے لئے تیاری نہیں کی، نتیجہ ظاہر ہے کہ پی ٹی وی کا گراف بہت نیچے چلا گیا۔ بات یہاں ختم نہیں ہوتی، بلکہ اگر اب بھی صورت حال کو نہ سنبھالا گیا تو ادارے کی اندرونی صورتِ حال بد سے بد ترین ہو جائے گی اور یہ ایک مجرمانہ غفلت ہو گی۔ کیا پی ٹی وی کا انجام بھی سٹیل مل، پی آئی اے اور ریلوے جیسا ہو گا؟

اے خالق سرگانہ