پاکستان میں چینی زبان سکھانے کے اداروں میں اضافہ

گزشتہ روز چیئرمین سینیٹ نے بیان دیا تھا کہ چینی زبان کو قومی زبان کا درجہ نہیں دیا جا رہا مگر سی پیک اور تجارتی سرگرمیاں بڑھنے کے تناظر میں کراچی سمیت ملک کے کئی بڑے شہروں میں چینی زبان سکھانے کے اداروں کا قیام بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ سن 2017ء کے اوائل میں کراچی شہر میں ایسے اداروں کی تعداد 4 تھی جو رواں برس بڑھ کر 18 ہو گئی ہے۔ یہ ادارے زیادہ تر ایک ایک ماہ کے دو سیشن کر رہے ہیں جو ہفتے میں دو دن دو گھنٹے کی کلاسوں پر محیط ہوتے ہیں۔ فی سیشن 30 ہزار سے 50 ہزار فیس وصول کر رہے ہیں۔ ایک ادارہ چار ماہ سے 16 ماہ کا تفصیلی کورس بھی پیش کر رہا ہے۔ ایک اور ادارہ 6 لیول پر مشتمل کورس کروا رہا ہے اور فی کورس فیس 30 ہزار روپے ہے۔ یہ ادارے انٹرپریٹر اور ٹلانسلیٹر کی خدمات بھی پیش کر رہا ہے۔

کچھ اداروں نے لیڈی ٹیچر کی خدمات بھی لے رکھی ہیں۔ ایک ادارے نے ہنگامی ایگزیکٹو کلاسوں کا انعقاد بھی کر رکھا ہے۔ کراچی میں اس وقت گلشن اقبال میں این ای ڈی یونیورسٹی کے مقابل، ایک بیت المکرم مسجد کے نزدیک اور ایک ڈسکو بیکری کے قریب، ماڈل کالونی میں ایک، کلفٹن میں دو، ایک ڈی ایچ اے سینٹرل لائبریری میں۔ مذکورہ زبان سکھائی جا رہی ہے۔ ملک کے دوسرے شہروں میں جہاں یہ کورس کروائے جا رہے ہیں، ان میں ڈسکہ، اوکاڑہ کینٹ، قلات، مانسہرہ، نارووال، سیالکوٹ، کوٹ سلطان، ٹوبہ ٹیک سنگھ، گوادر، مریدکے، راولپنڈی، سکھر، لکی مروت، پشاور، ٹیکسلا، مردان اور بہاولپور شامل ہیں۔

اسد ابن حسن

Advertisements

وزارتِ عظمیٰ کے بعد نواز شریف پارٹی صدرات کے لیے بھی نااہل

عدالت ِعظمیٰ نے معزول وزیراعظم میاں نواز شریف کو ایک مرتبہ پھر ’’نکال‘‘ دیا ہے لیکن اس مرتبہ انھیں حکمراں جماعت کی صدارت کے عہدے سے نکالا ہے اور چیف جسٹس، جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے قرار دیا ہے کہ آئین کی دفعہ 62 اور 63 کے تحت نااہل قرار دیا گیا شخص کسی جماعت کا سربراہ نہیں بن سکتا ۔ عدالت عظمیٰ میں گذشتہ سال پارلیمان میں منظور کردہ متنازع الیکشن ایکٹ 2017ء کو چیلنج کیا گیا تھا۔ اس ایکٹ کے تحت میاں نوازشریف کی قومی اسمبلی کی رکنیت سے نااہلی کے بعد پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ کے عہدے پر برقرار رہنے کی راہ ہموار کی گئی تھی۔

حزب اختلاف کی جماعتوں پاکستان تحریکِ انصاف،عوامی مسلم لیگ، پیپلز پارٹی اور دوسرے درخواست گزاروں نے عدالتِ عظمیٰ میں الیکشن ایکٹ 2017ء کے خلاف ایک جیسی درخواست دائر کی تھیں۔ اس مقدمے کی سماعت کے بعد عدالت ِعظمیٰ کے چیف جسٹس ، جسٹس میاں ثاقب نثار نے فیصلہ پڑھ کر سنایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’ جس شخص کو آئین کی دفعہ 62 اور 63 کے تحت نااہل قرار دیا گیا ہو، وہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے کسی امیدوار کی نامزدگی کے کاغذات پر بھی دستخط نہیں کر سکتا‘‘۔ انھوں نے قرار دیا ہے کہ اس فیصلے کا اطلاق نواز شریف کی نااہلی کی مدت سے ہو گا۔

اس سے قبل عدالت عظمیٰ کی تین رکنی بنچ کے روبرو ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آئین کی دفعہ 17 ہر شہری کو سیاسی جماعت بنانے کا حق فراہم کرتی ہے اور آئین کی کسی دوسری دفعہ کے تحت اس بنیادی حق کو ختم نہیں کیا جا سکتا جبکہ قومی اسمبلی کی انتخابی اصلاحات کمیٹی میں تمام سیاسی جماعتیں متفق تھیں۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیا آپ کا یہ مطلب ہے کہ عدالت صرف آرٹیکل 17 کو مدنظر رکھے۔ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کے وکیل فروغ نسیم نے جواب الجواب دلائل شروع کیے تو چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پارٹی سربراہ ربڑ اسٹمپ نہیں ہو سکتا کیونکہ پارٹی سربراہ کاعہدہ بہت اہم ہوتا ہے تمام چیزیں پارٹی سربراہ کے گرد گھومتی ہیں۔ لوگ اپنے لیڈر کے لیے جان قربان کرنے کے لیے بھی تیار ہوتے ہیں۔ ہمارے کلچرمیں سیاسی جماعت کے سربراہ کی بہت اہمیت ہے۔ یاد رہے کہ عدالتِ عظمیٰ نے 28 جولائی 2017ء کو پاناما پیپرز کیس میں میاں نواز شریف کو آئین کی دفعہ 62 اور 63 کے تحت قومی اسمبلی کی رکنیت کا نااہل قرار دے دیا تھا اور انھیں اس فیصلے کے تحت وزارت ِعظمیٰ کے عہدے سے معزول ہونا پڑا تھا۔

پیرس میں امریکی کوششوں کی ناکامی پاکستان کیلئے خوشخبری ہے، تجزیہ کار

پیرس میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس میں پاکستان پر دہشت گردی کا لیبل لگانے کا معاملہ تین ماہ کیلئے موخر ہونے کو ماہرین نے خوشخبری قرار دے دیا۔ پیرس میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاس میں پاکستان پر دہشت گردی کا لیبل لگانے کی امریکی کوششیں ناکام ہونے پرماہرین نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔ ماہر مالیاتی امور اسد رضوی کہتے ہیں کہ تین ماہ مختصر عرصہ ہے جس میں پاکستان کو بہت کچھ کرنا ہو گا۔ معاشی تجزیہ کار شبر زیدی کہتے ہیں ڈیڑھ ماہ کے دوران قوانین میں موجود خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ سابق سفارتکار نجم الدین شیخ نے کہا کہ اس معاملے پر فوری قانون سازی کی ضرورت ہے کیوں کہ تین ماہ کے وقفے کے دوران الیکشن قریب آ جائیں گے ۔

ٹیکسٹائل کے شعبے کی بحالی فوری توجہ کی طالب

ٹیکسٹائل کا شعبہ جسے ہماری قومی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل رہی ہے ، گزشتہ دس بارہ سال سے ملک میں بجلی اور گیس کے بحران کے سبب شدید مشکلات کا شکار چلا آرہا ہے ۔ اس کے نتیجے میں پاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات عالمی منڈی میں مسابقت کے قابل نہیں رہیں اور پاکستانی کپڑے کے بڑے بڑے خریدار دوسرے ملکوں کو منتقل ہو گئے۔ تاہم بجلی اور گیس کی پیداوار کی فراہمی میں نمایاں بہتری کے بعد ٹیکسٹائل کے شعبے کی بحالی کے لیے تمام ضروری اقدامات کا عمل میں لایا جانا ضروری ہے۔ آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل نے گزشتہ روز جنگ سے بات چیت میں اسی ضرورت کی طرف توجہ دلائی ہے۔ ان کے بقول سو سے زائد بند ٹیکسٹائل ملوں کی بحالی ملکی برآمدات میں سالانہ پانچ ارب ڈالر مالیت کے اضافے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

اس کے لئے انہوں نے ٹیکسٹائل کی صنعت کے لیے ملک بھر میں گیس کے یکساں نرخ مقرر کرنے، بجلی اور خام مال کی قیمتیں اور ٹیکس نیٹ میں توسیع کر کے ٹیکس کی شرح کم کرنے نیز ڈیوٹی ڈرا بیک کی فوری ادائیگی کی ضرورت کا اظہار کیا ہے۔ اپٹما کے سیکریٹری جنرل کا کہنا تھا کہ پاکستان کی مجموعی برآمدات میں ٹیکسٹائل کا حصہ 65 سے 70 فی صد تک رہا ہے لیکن خطے کے دوسرے ملکوں میں ٹیکسٹائل کی صنعت کو حاصل مراعات اور بجلی و گیس کی ارزاں نرخوں کے سبب پاکستان کو اس شعبے میں شدید مسابقت کا سامنا ہے جس کے باعث قومی معیشت کی ترقی میں ٹیکسٹائل کی صنعت اپنا بھرپور کردار ادا کرنے سے قاصر ہے۔

پنجاب میں ٹیکسٹائل ملوں کے لیے گیس کے نرخوں کا دوسرے صوبوں کے مقابلے میں دوگنا سے بھی زیادہ ہونا ، جس کی جانب اپٹما کے عہدیدارنے خاص طور پر توجہ دلائی، یقیناً ایک فوری حل طلب معاملہ ہے۔ ان کا یہ شکوہ کہ 180 ارب کے برآمدی پیکیج میں سے صرف دس فی صد پر عمل ہوا ہے، حکومت کی جانب سے وضاحت کا متقاضی ہے ، اور اگر ایسا ہے تواس کے ازالے کے لیے مالی سال کی بقیہ مدت میں جو کچھ کیا جا سکتا ہے، اس میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جانی چاہیے۔

اداریہ روزنامہ جنگ

نومولود بچوں کی شرح اموات میں پاکستان سرفہرست

پاکستان دنیا کے ان ملکوں کی فہرست میں پہلے نمبر پر ہے جہاں پیدائش کے بعد ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں انتقال کر جانے والے بچوں کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ یہ بات اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) نے اپنی رپورٹ میں کہی ہے۔ عالمی ادارے نے رپورٹ میں اس تشویش کا اظہار کیا ہے کہ دنیا کے غریب ترین ممالک میں نوزائیدہ بچوں کی شرحِ اموات کم کرنے کے لیے قابلِ ذکر پیش رفت دیکھنے میں نہیں آرہی۔ رپورٹ کے مطابق دنیا کے جن 10 ممالک میں نوزائیدہ بچوں کا ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں انتقال کا خطرہ سب سے زیادہ ہے ان میں اکثریت افریقہ کے صحارا خطے اور جنوبی ایشیا کے ممالک کی ہے۔

پاکستان میں یہ شرح ایک ہزار میں سے تقریباً 46 ہے جب کہ ہر 22 بچوں میں سے ایک نوزائیدہ بچے کو موت کا خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں رپورٹ میں ترقی یافتہ ملکوں میں جہاں نوزائیدہ بچوں کی شرحِ اموات خاصی کم ہے، جاپان کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ وہاں 1111 نوزائیدہ بچوں میں سے ایک کے انتقال کر جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔ یونیسف کے مطابق افریقی ممالک میں غربت کی وجہ سے حاملہ خواتین کو مناسب طبی امداد میسر نہیں ہوتی اور بعض ممالک میں جاری تنازعات کے باعث وہاں کمزور انتظامی ڈھانچے کی وجہ سے بھی اس جانب کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔

پاکستان جہاں ماضی کی نسبت زچہ و بچہ کے لیے طبی سہولتوں میں بہتری آئی ہے اور زچگی کے لیے قدرے بہتر ماحول اور تربیت یافتہ طبی عملہ بھی موجود ہے، لیکن اس کے باوجود یہاں نوزائیدہ بچوں کی شرحِ اموات کم نہیں ہو سکی ہے۔ ماہرین اس کی عمومی وجہ حاملہ خاتون کی صحت کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے، غذائیت کی کمی اور زچگی کے بعد نوزائیدہ بچے کے لیے ضروری طبی نگہداشت کے مناسب انتظامات کا نہ ہونے بتاتے ہیں۔ یونیسف کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں ہر سال تقریباً 26 لاکھ بچے اپنی پیدائش کے ایک ماہ کے اندر ہی انتقال کر جاتے ہیں۔

بلوچستان میں 37 فیصد افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور

معاشرے کی درست تشکیل و تعمیر کے لیے سماجی انصاف بنیادی حیثیت رکھتا ہے، تاہم بلوچستان میں سماجی انصاف کی حالت کچھ زیادہ بہترنہیں ہے۔ بلوچستان میں تعلیم ، صحت، پینے کے صاف پانی کی مناسب سہولتیں اور روزگار کا نہ ہونا سماجی انصاف کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ۔ یو این ڈی پی کی رپورٹ کے مطابق صوبے میں 37 فیصد افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، عوام اس صورتحال پرنالاں ہیں۔ ہمارے ہاں ایسے بنیادی نوعیت کے مسائل ہیں جن کا حل ہونا ناگزیر ہے اس طور سماجی انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوتے۔ بلوچستان میں 12 لاکھ سے زائد بچے ایسے ہیں جنہوں نے اسکول کی شکل تک نہیں دیکھی، صحت کے شعبے کا حال یہ ہے کہ زچگی کے دوران ماؤں اور بچوں کی شرح اموات پورے ملک سے زیادہ ہے.

رہی بات پینے کے صاف پانی اور روزگارکی فراہمی کی تو شہریوں کا کوئی پُرسان حال نہیں۔ کوئٹہ میں زیر زمین پانی کی سطح روز بروز گرتی جا رہی ہے لیکن شاید ارباب اختیار کو اس کا احساس تک نہیں۔ یہاں درحقیقت حکمرانوں کو احساس نہیں ہے وہ کس قسم کے مسائل سے کیسے نمٹ سکیں تعلیم، صحت، امن و امان کے حوالے سے کافی کام کرنا پڑے گا جب تک عوام کو بنیادی سہولیات نہیں ملیں گی یہ بات پوری نہیں ہو سکے گی۔ سماجی انصاف کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں کیونکہ تمام لوگوں کویکساں بنیادی سہولتیں نہ ملنے سے سنگین معاشرتی مسائل اور المیے جنم لیتے ہیں۔ شہریوں کو مساوی سہولتوں کی فراہمی حکومت کی پہلی ترجیح ہونا چاہیے۔

پاکستان میں ہر تیسرا فرد پژمردگی، ذہنی دباؤ, ڈپریشن کا شکار

پاکستان میں ہر تیسرا فرد پژمردگی، ذہنی دباؤ (ڈپریشن) کا شکار ہے جب کہ نوجوانوں میں خودکشی کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ ایک سروے رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ڈپریشن کا تناسب 34 فی صد تک بتایا جاتا ہے یعنی ہر تیسرا فرد ڈپریشن کا شکار ہے معاشرتی ناہمواری، غربت، بیروزگاری سمیت دیگر عوامل نے پاکستان کی 34 فیصد آبادی کو ڈپریشن کا شکار کر دیا ہے مگر ایک اور رپورٹ میں یہ تناسب 44 فیصد تک ہے اور اس رپورٹ میں پاکستانی مردوں سے زیادہ خواتین کو ڈپریشن کا شکار بتایا گیا ہے، رپورٹ کے مطابق 5 کروڑ پاکستانی عمومی ذہنی امراض کا شکار ہیں اور ان میں 57.5 خواتین اور 25 فی صد مرد شامل ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق ایک تہائی اور دوسری رپورٹ کے مطابق 44 فیصد آبادی ڈپریشن کا شکار ہے وہیں ماہر امراض دماغ (سائیکاٹریسٹس) کی تعداد محض 800 سو ہے جہاں تک بچوں کی نفسیات کا تعلق ہے تو 40 لاکھ بچوں کے علاج کے لیے ایک سائیکاٹریسٹ موجود ہے اور پاکستان میں پوری آبادی کے لیے 4 اسپتال نفسیات کے علاج کی سہولت مہیا کر رہے ہیں۔ 2015 اور 2016 میں 35 شہروں میں خود کشی کے واقعات کا ایک جائزہ لیا گیا تب 1473 کیسز میں سے 673 کیس سندھ میں، 645 پنجاب میں،121 خیبر پختونخوا میں اور 24 کیس بلوچستان میں رپورٹ ہوئے ان کی بڑی وجوہ میں بے روزگاری، بیماری، غربت، بے گھر ہونا اور خاندانی تنازعات تھے۔

طبی ماہرین کے مطابق بچوں میں خود کشی کے رجحانات کا ایک انتہائی سبب دوران پیدائش بچے کے ماں باپ کے آپس کے جھگڑے ہیں، ماں باپ لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں اور یہ محسوس ہی نہیں کرتے کہ دوران حمل بچہ سب کچھ محسوس کر رہا ہے اس لڑائی جھگڑے کے اثرات ان کے ناپختہ ذہنوں پر منفی اثر ڈالتے ہیں ایسے بچے جرائم کی دلدل میں بھی پھنس سکتے ہیں، یہ اپنا انتقام دوسروں سے لیتے ہیں اور خود بھی خود کشی کر سکتے ہیں۔ یہ رجحانات ایسے بچوں میں پائے جاتے ہیں سروے میں افسوس ناک نتائج سامنے آئے جب پتہ چلا کہ مردوں اور عورتوں میں خود کشی کا تناسب 2-1 کا ہے یعنی 66 فیصد مرد اور 33 فیصد خواتین ہیں سال بھر میں پاکستان کے 35 شہروں میں 300 افراد کی خودکشی کا جائزہ لیا گیا تو پتہ چلا کہ اکثریت کی عمریں 30 سال سے کم تھیں جب کہ مرنے والوں میں غیر شادی شدہ مرد اور شادی شدہ عورتوں کی تعداد زیادہ تھی۔

Turkish NGOs provide Pakistani children with school supplies

Turkish NGOs provided 225 children in Pakistan with education aid, supplying them with stationary and school bags.

 

 

 

 

 

 

 

نقیب اللہ محسود کا ماں کے نام خط

ٹولو خلکو تہ سلام (آپ سب کو میرا سلام )

آپ سب کو معلوم ہے کہ ہم پشتونوں کی اردو اتنی اچھی نہیں ہوتی اس لئے میں نے سوچا تھا کہ پشتو میں ہی خط لکھوں گا تاکہ میرے جذبات و احساسات کی صحیح ترجمانی ہو سکے لیکن یہاں کراچی کے ایک ایسے اردو اسپیکنگ دوست مل گئے جنہیں زبان و بیان پر عبور حاصل ہے۔ چونکہ یہ خود بھی رائو انوار کی بدولت یہاں پہنچے ہیں اس لئے جب میں نے چٹھی لکھنے کی خواہش ظاہر کی تو وہ فوراً میرے خیالات کو صفحہ قرطاس پر منتقل کرنے کو تیار ہو گئے۔ آج پاکستان سے دو خبریں یہاں پہنچیں، ایک خبر سن کر عالم برزخ کے سب مکینوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی کہ ہماری ننھی پری زینب کے درندہ صفت قاتل کو سزائے موت سنا دی گئی ہے اور بہت جلد یہ سفاک مجرم اپنے انجام کو پہنچ جائے گا مگر دوسری خبر جس نے مجھ سمیت یہاں موجود بیشمار لوگوں کو مشتعل کر دیا وہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کے رائو انوار سے متعلق تعریفی و توصیفی کلمات ہیں۔

آصف زرداری کا کردار تو پہلے بھی مشکوک تھا اور بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ رائو انوار کے رسہ گیر دراصل آصف زرداری ہیں لیکن میری رائے یہ تھی کہ ایسے کرائے کے قاتل سب کو دستیاب ہوتے ہیں اور عین ممکن ہے اس نے آصف زرداری کے کہنے پر بھی ماورائے عدالت قتل کئے ہوں مگر رائو انوار کو دیگر طبقات کی پشت پناہی بھی حاصل ہے۔ یہ ان کا لے پالک اور منہ بولا بیٹا ہے جو سابق ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کا ٹرائل نہیں ہونے دیتے۔ لیکن آصف زرداری نے اس بزدل ترین شخص کو ’’بہادر بچہ ‘‘ کہہ کر یہ راز کھول دیا ہے کہ قانون کی وردی میں قانون کی دھجیاں اڑانے والا یہ جلاد صفت شخص ان کا بغل بچہ ہے۔

 میں تو آصف زرداری صاحب سے بس اتنا کچھ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ اپنے بیان پر جتنا مرضی افسوس کا اظہار کر لیں لیکن سچ وہی ہے جو آپ کے منہ سے نکل گیا بس اتنا جان لیں کہ یہ ’’بہادربچے ‘‘ من کے سچے نہیں کھوٹے ہوتے ہیں. اور کسی سے وفا نہیں کرتے۔ یہ پیشہ ور قاتل کسی کو معاف نہیں کرتے۔ شاید آپ کو یاد نہیں کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) نصیر اللہ بابر نے بھی طالبان کو اپنے بچے کہا تھا اور انہی طالبان نے بینظیر کو مار ڈالا۔ ویسے برا نہ مانیں تو یہ بتا دیں رائو انوار ہو یا پھر پرویز مشرف، یہ سب ’’بہادر بچے ‘‘ قانون کا سامنا کرنے سے کیوں ڈرتے ہیں ؟

مجھے معلوم ہے کہ آپ سب میری داستان حسرت سننا چاہتے ہیں، میں بھی آج اپنا دل چیر کر آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ اتنا تو آپ سب جانتے ہیں کہ مجھے ماڈلنگ کا شوق تھا اور یہی شوق مجھے کراچی لے آیا ۔ ہمارے علاقے کو قبائلی علاقہ کہا جاتا ہے جسے آپ لوگ علاقہ غیر بھی کہتے ہیں کیونکہ یہاں پاکستان کے قانون کا اطلاق نہیں ہوتا ۔ میرا بھی یہی خیال تھا کہ اب میں ایک ایسے شہر میں ہوں جہاں قانون کی حکمرانی ہے۔ لیکن اب بعد از مرگ سوچتا ہوں کہ اصل علاقہ غیر تو آپ لوگوں کے یہ شہر ہیں جہاں وردی والے جب جسے چاہیں دہشتگرد قرار دیکر مار ڈالیں تو نہ صرف یہ کہ ان سے کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوتی بلکہ جمہوریت کے علمبردار انہیں ’’بہادر بچے ‘‘ کا خطاب بھی دیتے ہیں۔ چونکہ میرے خیالات منتشر ہیں اس لئے بار بار موضوع سے بھٹک جاتا ہوں ۔

میں ماڈل بننا چاہتا تھا تاکہ شہرت حاصل کرنے کے بعد پشتونوں کی ترجمانی کرتے ہوئے کہہ سکوں کہ ’’مائی نیم اِز خان اینڈ آئی ایم ناٹ ٹیررسٹ ‘‘۔ جب ماڈلنگ کا موقع نہ ملا تو میں نے سوچا فی الحال حصول رزق کے لئے کپڑے کی دکان بنا لیتا ہوں۔ کراچی کے باقی علاقے تو ہم پشتونوں کے لئے ویسے ہی علاقہ غیر ہیں تو سہراب گوٹھ میں دکان خریدنے کا فیصلہ کیا ۔ اسی اثنا میں 3 جنوری کا دن آگیا جب کالی وردی والے اغوا کارمجھے کوئی وجہ بتائے بغیر اٹھا کر لے گئے پورے پاکستان میں شاید کہیں بھی کسی پشتون کو گرفتار کرنے کے لئے کوئی وجہ درکار نہیں ہوتی بس پشتون ہونا ہی شک کے دائرے میں کھڑا کرنے کے لئے کافی ہے۔ اس کے بعد جو ہوا، وہ شاید آپ تو جی کڑا کر کے سن لیں مگر میں یہ دردناک داستان سناتے ہوئے ایک بار پھر مر جائوں گا ۔

آج میں اپنی ماں سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ جس ماں نے مجھے پیدا کیا ، اس کی گود میں سر رکھ کر تو میں نے کئی بار باتیں کیں مگر آج میں اپنی دھرتی ماں سے مخاطب ہوں۔ بچپن سے ہی ہمیں یہ بتایا جاتا ہے کہ ماں صرف جنم دینے والی نہیں ہوتی بلکہ مادرِ وطن بھی ماں ہوتی ہے جو اپنے شہریوں کو آغوش میں لئے رکھتی ہے اور ان پر آنچ نہیں آنے دیتی۔ لیکن تکلف برطرف، ہمیں تو اس ماں نے آج تک کبھی سینے سے نہیں لگایا ۔ اگر یہ ریاست ہم سب کی حقیقی ماں ہوتی تو اس کے پیار میں کوئی تفاوت یا تفریق نہ ہوتی ۔ لیکن یوں لگتا ہے جیسے کچھ بچے اس ماں کو محبوب و مرغوب ہیں تو بعض بچے معتوب و مصلوب بلکہ نامطلوب ہیں۔

پشتونوں کا شمار بھی اس ماں نے ہمیشہ ان چاہے اور بن مانگے بچوں میں کیا یا کم از کم ان سے روا رکھے گئے سلوک سے یوں لگا جیسے یہ سوتیلے بچے ہیں۔ میرے اردو اسپیکنگ دوست جو یہ خط لکھ رہے ہیں ان کا بھی یہی شکوہ ہے کہ ریاست بچوں کو امتیازی سلوک کے نتیجے میں ناخلف اور گستاخ بناتی ہے اور پھر ڈائن کی طرح کھا جاتی ہے تو اسے پیار کرنے والی ماں کا رتبہ کیسے دیا جائے ؟ بلوچ بھی اپنی دھرتی ماں سے یہی گلہ کرتے ہیں کہ انہیں اپنے حصے کا پیار نہیں ملا۔ یہی رائو انوار جسے آصف زرداری بہادر بچہ قرار دے رہے ہیں اس نے سینکڑوں مہاجر اور پشتون نوجوانوں کا جعلی پولیس مقابلوں میں قتل کیا ہے کیا وہ کرائے کا قاتل بہادر ہوتا ہے جو بے گناہ لوگوں کے ہاتھ اور پائوں باندھ کر گولیاں مارے؟

عین ممکن ہے جن لوگوں کو پولیس مقابلوں میں مارا جاتا ہے ان میں سے بعض واقعی جرائم پیشہ ہوں لیکن کسی پر مقدمہ چلائے بغیر اسے قتل کرنے کی اجازت کیسے دی جا سکتی ہے؟ میں آج کسی شخص یا ادارے سے مخاطب نہیں بلکہ اپنی ماں سے بات کرنا چاہتا ہوں۔ یہ کیسا مذاق ہے کہ بھوسے کے ڈھیر سے سوئی ڈھونڈ نکالنے کی شہرت رکھنے والے ایک مفرور کا سراغ لگانے سے قاصر ہیں یہ کیسا انصاف ہے کہ انوکھے لاڈلے کو محض ایک گمنام خط پر حفاظتی ضمانت دیدی جاتی ہے اور وہ پھر بھی سپریم کورٹ میں پیش نہیں ہوتا ؟ کیا ریاست اپنے طرز عمل سے یہ ظاہر کرنا چاہتی ہے کہ اس کے لاڈلے بچے جو چاہیں کرتے پھریں ،کوئی قانون ان کا بال بیکا نہیں کر سکتا ؟ کیا یہ بتانا مقصود ہے کہ قانون مکڑی کا وہ جالا ہے جو محض سوتیلے بچوں کو پھانسنے کے لئے بُنا جاتا ہے؟ بچوں کو احساس محرومی کے تیزاب اور سوتیلے پن کے عذاب سے بچانا ہے تو پھر ریاست کو عملاً یہ ثابت کرنا ہو گا کہ یہ رائو انوار جیسے ظالموں کی ماں ہے یا پھر نقیب اللہ جیسے مظلوموں کی ماں ہے ؟ پشتونوں سمیت تمام مجبور و مقہور بچوں کو یہ بتانا ہو گا کہ یہ ریاست مادرِ علاتی (سوتیلی ماں ) ہے یا پھر مادرِ گیتی (دھرتی ماں )؟

انہی الفاظ کے ساتھ اجازت چاہتا ہوں ۔

آپ کا اپنا ویر(پنجابی میں آپ لوگ بھائی کو ویر کہتے ہیں اور مجھے بھی میرے دوست ویر کے نام سے جانتے ہیں )

نسیم اللہ محسود المعروف نقیب اللہ محسود

بلال غوری

زینب قتل کیس کا فیصلہ

پنجاب کے شہر قصور کی آٹھ سالہ معصوم بچی زینب کے اغواء، اور سفاکانہ قتل کے درندہ صفت مجرم عمران علی کو گزشتہ روز لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے چار مرتبہ سزائے موت، اکتالیس لاکھ روپے جرمانے اور عمر قید سمیت سخت سزاؤں کا حکم سنا دیا ہے جس پر ملک بھر میں بجا طور پر اظہار اطمینان کیا جا رہا ہے کیونکہ اس نوعیت کے سنگدلانہ جرائم کی روک تھام کیلئے دیگر اقدامات کیساتھ ساتھ عبرت انگیز سزائیں بھی قطعی ناگزیر ہیں۔ تاہم یہ امر بھی نہ صرف حکومتوں بلکہ پوری قوم خصوصاً اہل فکر و دانش کی فوری توجہ کا طالب ہے کہ معاشرے میں جنس زدگی اور اخلاق باختگی کے فروغ کے اسباب کیا ہیں اور ان پر قابو پانے کیلئے کن اقدامات اور تدابیر کے اختیار کیے جانے کی ضرورت ہے.

کیونکہ قصور کی یہ واردات کوئی منفرد واقعہ نہیں بلکہ جنسی جرائم، جن میں بچوں کیساتھ زیادتی کے واقعات خاص طور پر نمایاں ہیں، ملک بھر میں تیزی سے بڑھ رہے ہیں لیکن ان کی روک تھام کیلئے کسی بھی سطح پر کوئی فکرمندی نظر نہیں آتی۔ یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ زینب کا واقعہ بھی قصور ہی میں اسی سفاک مجرم کا شکار ہونے والی دوسری کم و بیش درجن بھر بچیوں کے مظلومانہ قتل کی طرح پولیس اور انتظامیہ کی لیت و لعل کی نذر ہو جاتا اگر علاقے کے لوگ اس پر غیر معمولی احتجاج نہ کرتے جس میں بتدریج پورا شہر اور پھر پورا ملک شامل ہو گیا۔ گزشتہ ماہ کے اوائل میں پیش آنے والی اس ہولناک اور الم انگیز واردات نے بلاشبہ پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ۔

قصور سے شروع ہونے والی احتجاج کی لہر ملک کے طول و عرض میں پھیل گئی جس کے نتیجے میں متعلقہ حکام اور اداروں کو بھی مجرم کا سراغ لگانے کیلئے بالآخر اپنی تمام صلاحیتوں اور توانائیوں کو حرکت میں لانا پڑا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے تحقیقات کی براہ راست نگرانی کی اور یوں مجرم کو قانون کی گرفت میں لانے اور کیفر کردار تک پہنچانے کی راہ ہموار ہو گئی، پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سائنٹفک بنیادوں پر شواہد کو شامل تفتیش کرتے ہوئے جرم کا تعین کیا گیا اور مجرم کو سزا سنائی گئی۔ لیکن یہ سب اس لیے ہوا کیونکہ زینب کے قتل کا واقعہ معصوم بچیوں کیساتھ اس نوعیت کی پے در پے وارداتوں کے بعد قصور کے لوگوں کے صبر کے پیمانے کو لبریز کرنے کا سبب بن گیا اورشہر میں پرتشدد مظاہرے شروع ہو گئے۔

کچرے کے ڈھیر سے گمشدہ زینب کی لاش ملنے کے بعد اہل علاقہ نے مشتعل ہو کر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کے دفتر پر دھاوا بول دیا، پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئیں اور پولیس کی فائرنگ سے دو افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔ چیف جسٹس نے زینب قتل کیس کا ازخود نوٹس لیا اور جے آئی ٹی تشکیل دی۔ جس کے بعد تفتیش کا سلسلہ تیزی سے آگے بڑھا، انسداد دہشت گردی عدالت نے ماہ رواں کی پندرہ تاریخ کو کیس کی سماعت مکمل کر کے فیصلہ محفوظ کر لیا جسے گزشتہ روز سنایا گیا۔ اس تفصیل سے واضح ہے کہ زینب کیس غیرمعمولی اہمیت اختیار کر جانے کی وجہ سے پایہ تکمیل تک پہنچا.

اگر اس کے پیچھے عوام کا یہ احتجاج اور چیف جسٹس کا سوموٹو نہ ہوتا تو غالب امکان اسی بات کا تھا کہ ان گنت معاملات کی طرح یہ کیس بھی سرد خانے کی نذر ہو جاتا یا تفتیش میں ناکامی کے عذر لنگ کیساتھ داخل دفتر کر دیا جاتا جبکہ جن معاشروں میں فی الواقع قانون کی بالادستی ہوتی ہے ان میں کسی بھی جرم کے سامنے آنے پر یکساں سرگرمی سے مجرم کو قانون کی گرفت میں لانے کیلئے پورا نظام متحرک ہو جاتا ہے۔ لہٰذا سانحہ قصور جیسے ہولناک واقعات کے مستقل سدباب کیلئے ضروری ہے کہ نفاذ قانون کے ذمہ دار اداروں کی اہلیت و استعداد میں قرار واقعی اضافہ کیا جائے اور انہیں کام چوری، رشوت خوری، اقربا پروری اور بددیانتی جیسی لعنتوں سے پاک کیا جائے پھر اس کیساتھ ساتھ ذرائع ابلاغ کے درست کردار اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کے ذریعے اخلاق باختگی ، جنس زدگی اور بے راہ روی کو بڑھانے والے اسباب کی روک تھام اور اسلامی تعلیمات کے مطابق پاکیزہ اور تعمیری فکر کے فروغ کیلئے مؤثر اقدامات عمل میں لائے جائیں۔

اداریہ روزنامہ جنگ