پاکستانی روپے کی قدر میں کمی : کس کو فائدہ ہے اور کسے نقصان ؟

ڈالرکے مقابلے میں پاکستانی روپے کی گرتی ہوئی قدر سے پاکستان کی ٹیکسٹائل اور دیگر برآمدی صنعت سے وابستہ افراد میں خوشی کی لہردوڑ گئی ہے البتہ درآمد کنندگان میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کا براہِ راست اثر ان اشیاء کی قیمتوں پر ہوتا ہے جو بیرونِ ملک سے درآمد کی جاتی ہیں جیسے کہ کمپیوٹرز، گاڑیاں اور موبائل فونز وغیرہ اور ان تمام اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان پر بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف اور عالمی بنک کے قرضوں کا حجم بھی بڑھ جاتا ہے۔ مثلا اگر ایک ڈالر 100 روپے کے برابر ہو اور ایک ارب ڈالر کا قرضہ ہو تو اس حساب سے 100 ارب روپے کا قرضہ ہو گا لیکن اگر ڈالر 110 کا ہو جائے تو قرضہ بھی اسی حساب سے بڑھ جائے گا۔

دوسری جانب روپے کی قدر میں کمی سے ملکی برآمدات کرنے والوں کو بظاہر فائدہ ہوتا ہے۔ چونکہ برآمد کرنے والے کو اپنی چیز کی زیادہ قیمت مل رہی ہوتی ہے اس لیے وہ اپنی پیداواری لاگت میں رہتے ہوئے اشیاء کی قیمت میں کمی کر سکتا ہے۔ اس طرح عالمی منڈی میں برآمدات بڑھ جاتی ہیں اوراس سے جاری کھاتے یا کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ بھی کم ہو جاتا ہے۔ ماہرِ معاشیات پروفیسرشاہد حسن صدیقی کہتے ہیں کہ ’جب سے موجودہ حکومت آئی ہے پاکستان کی برآمدات مستقل گر رہی ہیں اور درآمدات تیزی سے بڑھ رہی ہیں جس کی وجہ سے گزشتہ چار سال چار ماہ میں 107 ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ ہوا ہے۔ ایسے میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی گئی رقوم کے ذریعے اسے کم کرنے کی کوشش کی گئی تاہم پھر بھی جاری کھاتے کاخسارہ تقریبا 22 ارب ڈالر ہو گیا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں گزشتہ ایک سال سے جاری سیاسی افراتفری اورعدالتی کارروائی کی وجہ سے اب تک بیرونی سرمایہ کاری میں کمی آئی ہے جس سے پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر میں پانچ ارب ڈالرسے زیادہ کی کمی واقع ہوئی ہے۔ پروفیسرشاہد حسن صدیقی کے بقول ’روپے کی قدر مزید کم ہونے کی گنجائش ہے تاہم اس عمل سے کرنٹ اکاؤنٹ کے خسارے میں کوئی خاطر خواہ فرق نہیں پڑے گا کیونکہ اس کے ساتھ جو دوسرے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے اس کے لیے مرکزی بینک اور حکومت دونوں تیار نہیں ہیں لہذا اس عمل سے مہنگائی میں اضافہ ہو گا اور بجٹ کا خسارہ بھی بڑھ جائے گا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ’روپے کی قدرمیں کمی بظاہر غیر مقبول فیصلہ ہے تاہم پاکستان کا بااثر طبقہ یعنی برآمد کنندگان اور ٹیکسٹائل لابی اس سے بہت خوش ہوں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ’حکومت نے پانچ سے دس فیصد کی ایڈجسٹمنٹ کےلیے آئی ایم ایف سے ملاقات کرنے کا عندیہ دیا ہے تاہم اگر ڈالر 111 روپے سے اوپر گیا تو حالات خراب ہو سکتے ہیں۔‘ ظفر پراچہ نے بتایا کہ کرنسی ڈیلرز کو روپے کی قدر میں کمی سے نقصان ہی ہوتا ہے کیونکہ اگر انھوں نے ڈالر بیچنا بند کیا تو افراتفری مچ سکتی ہے اور کبھی بھی اس کا فائدہ نہیں ہوتا کیونکہ بیچنے والا بیچنا بند کر دیتا ہے اور خریدنے والا بھاگ بھاگ کر خریدتا ہے۔

بشکریہ بی بی سی اردو

Advertisements

بہن کے ہاتھوں بہن کے قتل میں اہم کردار اسمارٹ فون کا نکلا

ملیر سعود آباد میں بہن کے ہاتھوں بہن کے قتل میں اہم کردار اسمارٹ فون کا نکلا جس نے معاشرے میں کئی سوالات پیدا کر دیئے، والدین کی جانب سے اولاد کیلئے وقت نہ ہونا المیہ ہے ۔ ایس ایس پی کورنگی نعمان صدیقی نے اپنی پریس کانفرنس میں کئی سوال اُٹھا دیئے۔ نعمان صدیقی نے کہا کہ جب بچوں کو اسمارٹ فون کی ضرورت نہیں تو ان کے ہاتھوں میں یہ کیوں ہیں، اسمارٹ فون ہی اس بلیک میلنگ اور قتل کا سبب بنے، علینہ کے قتل میں والدین کی بیٹیوں سے بے خبری اور اسمارٹ فون کا اہم کردار نکلا، والدین کے پاس بچوں کیلئے وقت نہ ہونا المیہ ہے۔

ہمدرد نونہال کے مدیر مسعود برکاتی انتقال کر گئے

پاکستان کے نامور ادیب اور مشہور میگزین ہمدرد نونہال کے مدیر مسعود احمد برکاتی طویل عرصے کی علالت کے بعد 87 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔
مسعود احمد برکاتی کے رشتہ داروں اور دوستوں نے بتایا کے وہ کافی عرصے سے علیل تھے اور ان کا انتقال گزشتہ روز اتوار کو ہوا۔ وہ گزشتہ 65 سال سے ہمدرد نونہال میگزین کی ادارت کے فرائض انجام دے رہے تھے جبکہ انہوں نے بچوں کے ادب کے حوالے سے 20 کتابیں بھی تحریر کیں۔

بہت سے تجزیہ کاروں نے ایسا بھی لکھا کہ مسعود احمد برکاتی کا اس میگزین کی ادارت کا یہ عرصہ ایک ورلڈ ریکارڈ بھی ہے۔ مسعود برکاتی اس میگزین کے مالک حکیم محمد سعید کے ساتھی بھی تھے، مسعود برکاتی کا تعلق ہندوستانی ریاست ٹونک سے تھا۔ ان کے بڑے بھائی حاکم محمود احمد برکاتی ایک محقق اور اسکالر تھے۔ انہوں نے سوگوران میں تین بیٹیوں اور ایک بیٹے کو چھوڑا۔

جنید جمشید کی زندگی پر اک نظر

3 ستمبر، 1964ء کو پیدا ہونے والے جنید جمشید 7 دسمبر، 2016ء کو یہ جہان چھوڑ کر چلے گئے۔ پورا ملک ان کے نام سے واقف ہے۔ 1980ء اور 90ء کی دہائی میں جوان ہونے والی نسل جانتی ہے کہ بطور پاپ گلوکار انہیں کتنی شہرت حاصل ہوئی۔ بعد ازاں انہوں نے نعت خوانی میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ آپ کراچی میں پاکستان ائیرفورس کے گروپ کیپٹن جمشید اکبر کے ہاں پیدا ہوئے۔ آپ کو پاک فضائیہ میں بطور فائٹر پائلٹ شامل ہونے کا بہت شوق تھا۔ لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ پھر انہوں نے یونیورسٹی آف انجینئرنگ لاہور میں داخلہ لیا اور انجینئرنگ کی سند حاصل کی۔

ان کے موسیقی کے گروپ وائٹل سائنز کا آغاز 1980ء کی دہائی میں ہوا۔ یہ گروپ مختلف مقامات اور تقریبات میں گانا گانے لگا۔ اسی دوران سرکاری ٹی وی اور پھر معروف فنی شخصیت شعیب منصور کی توجہ اس گروپ نے حاصل کی۔ شعیب منصورنے اس گروپ کے پہلے البم کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا جو بہت مقبول ہوا۔ 1987ء میں پہلے البم دل دل پاکستان کی ریلز کے ساتھ ہی جنید جمشید شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئے۔ وہ پاپ موسیقی گروپ وائٹل سائنز کے نمائندہ گلوکار تھے۔ ان کے گائے ہوئے بہت سے گانے مقبول ہوئے۔ وائٹل سائنزکے پہلے البم کی ریلیز کے ساتھ ہی پورے ملک میں اس گروپ اور جنید جمشید کی آواز کو پہچانا جانے لگا ۔ اسی البم میں ’’دل دل پاکستان‘‘ شامل تھا۔

موسیقی کے اس گروپ کی مقبولیت اور مالی کامیابی کے سبب پاکستان میں راک موسیقی پروان چڑھنے لگی۔ اس کے بعد جنید جمشید کی آواز کا جادو 1994ء ، 1999ء اور 2002ء میں ریلیز ہونے والے البمز میں جگا۔ یہ سب کامیاب ہوئے۔ اس دوران وائٹل سائنز ٹوٹ پھوٹ کا شکار بھی ہوا لیکن جنید کی مقبولیت کا ستارہ جگمگاتا رہا۔ ان کے گانے سرکاری ٹی وی پر عموماً نشر ہوتے رہتے تھے اور ان کے گانوں کی کیسٹس بھی خوب فروخت ہوا کرتی تھیں۔ 1994ء میں ریلیز ہونے والا البم ’’جنید آف وائٹل سائن ‘‘ ان کا ’’سولو‘‘ البم تھا۔ جبکہ 1999ء میں ریلیز ہونے والا البم ’’ان راہ پر‘‘ دوسرا ’’سولو‘‘ البم تھا۔ جنید جمشید اپنے البم کے گانوں کو خود بھی لکھا کرتے تھے۔

تاہم بعد ازاں ان میں اسلامی تعلیمات کی طرف رجحان بڑھ گیا۔ اس کے نتیجے میں انہوں نے موسیقی کی صنعت کو خیر آباد کہہ دیا۔ پھر وہ نعت خوان اور تاجر کے طور پر جانے جاتے رہے۔ 2004ء میں جنید جمشید نے موسیقی چھوڑنے کا باقاعدہ اعلان کیا اور بتایا کہ وہ اپنی زندگی اسلام کے لیے وقف کر رہے ہیں۔ بعدازاں انہوں نے دینی علم کے حصول اور تبلیغ کی جانب خاصی توجہ دی۔ 7 دسمبر 2016ء کو پی آئی اے کی ایک فلائٹ حادثے کا شکار ہوئی جس میں جنید جمشید بھی شامل تھے۔ بعد ازاں ان کی موت کی تصدیق کر دی گئی۔ وہ اپنی دوسرے شریک حیات کے ساتھ چترال گئے ہوئے تھے۔ وہ اسلام آباد واپس آ رہے تھے کہ فلائٹ خیبر پختون خواہ کے مقام حویلیاں میں حادثے کا شکار ہو گئی۔

رضوان عطا

کھیر تھر پارک : وادی کوہ تراش

کھیر تھر پارک میں کرچات سینٹر سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع کوہ تراش کی وادی آج بھی انسانی تہذیب کو اپنے دامن میں لپیٹے ہوئے ہے کوہ تراش فارسی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں تراشنے والوں کا پہاڑ۔ پہاڑ اور اس کے نواح میں 3500 قبل از مسیح کے انسانی تہذیب کے آثار ملے ہیں یہ آثار ایک مکمل آبادی اور تہذیب کے بھر پور شواہدات فراہم کرتے ہیں۔ کھیر تھر پارک کا علاقہ جغرافیائی لحاظ سے خشک خطوں میں شمار کیا جاتا ہے اور بنیادی طور پر یہ علاقہ بارانی رہا ہے تاہم یہاں پر سالانہ بارش کا اوسط 6 سے 8 انچ رہا ہے۔ 1994ء سے یہ علاقہ مکمل طور پر خشک سالی کا شکار ہے۔ پہاڑوں پر سے گھاس پھونس، ترائی میں درختوں سے سبزہ اور موسمی ندی نالوں میں پانی خشک ہو گیا ہے اور صورتحال بدتر ہو چلی ہے۔

کھیر تھر نیشنل پارک کو عالمی حیثیت کے حامل ہونے کے علاوہ ملکی قوانین کے تحت بھی تحفظ حاصل ہے سندھ وائلڈ لائف آرڈیننس کے تحت کھیر تھر نیشنل پارک کی حدود میں کسی بھی قسم کی کھدائی، کان کنی یا کسی بھی مقاصد کے استعمال کے لیے زمین کی صفائی یا ہمواری جیسے اقدامات پر پابندی عائد ہے صوبائی حکومت کے ایک اور حکم مجریہ 1970ء کے مطابق پارک میں تیل و گیس کے لیے کان کنی خصوصی طور پر ممنوع ہے۔ مظاہر فطرت کے تحفظ کے لیے قائم نیشنل پارک لوگوں کی معلوماتی تفریح کا اہم ذریعہ ہوتے ہیں لیکن کھیر تھر نیشنل پارک فروغ سیاحت کے ذمے دار اداروں کی فہرست میں شامل ہونے کے باوجود ماحولیاتی سیاحت سے دلچسپی رکھنے والوں کی نظروں سے اوجھل ہے اس کی بنیادی وجوہات مناسب قیام و طعام کی سہولتوں کا فقدان اور کچے راستوں پر سفر کے لیے مناسب نشانوں کی عدم موجودگی بھی شامل ہیں۔

اگر سندھ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ اور حکومت سندھ فروغ سیاحت سے متعلق اداروں کے تعاون سے کرچات تک پہنچنے کے لیے پختہ سڑک، سیاحوں کے لیے مناسب کرائے پر قیام و طعام اور گارڈن کی فراہمی اور بجلی کے لیے شمسی توانائی کا پلانٹ استعمال کرے اور فروغ سیاحت کے لیے ذرائع ابلاغ کی مدد سے مہم چلائیں تو کھیر تھر نیشنل پارک سیاحت کے فروغ کی بہترین مثال بن سکتا ہے۔ پہاڑی سلسلوں سے بھرے ہوئے اس نیشنل پارک میں میدانی علاقے بھی ہیں اور بنجر علاقے بھی ہیں تاہم گھنے جنگلات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

جاوید ہاشمی نے نہیں پوچھا کہ ’مجھے کیوں بلایا؟

مخدوم جاوید ہاشمی قومی سیاست کے ایک باعزت مِس فٹ بزرگ ہیں۔ ایسے بزرگ جن کے سبق آموز جرات مندانہ تجربات کی دھاک محلے میں ہر کسی پر ہوتی ہے۔ ان کی بات کو کوئی نہ نہیں کرتا اور دل ہی دل میں ہاں بھی نہیں کہتا۔ بابا جی کی نصیحت محلے کے بڑے چھوٹے سر جھکا کے کھڑے کھڑے سنتے ہیں اور پھر پیڈل مارتے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ مخدوم صاحب میں 66 برس کی عمر میں بھی اتنی ہی توانائی ہے جتنی 45 برس پہلے کی پنجاب یونیورسٹی کے 21 سالہ طلبا یونین کے صدر میں تھی۔ سدابہار توانائی نے اگر کہیں ڈیرہ ڈالا ہے تو وہ جاوید ہاشمی کا ڈیرہ ہے۔ برین ہیمبرج کا حملہ بھی ان کی شعلہ صفتی نہ بجھا سکا۔

سنہ 1972 میں گورنر پنجاب مصطفیٰ کھر کو دو لڑکیوں کے اغوا کے شبہے میں رگیدنے سے لے کر اسلامی سربراہ کانفرنس کے موقعے پر بنگلہ دیش نامنظور چیختے ہوئے لاہور میں شاہ فیصل کے قافلے کے سامنے سڑک پر آجانے تک، بھٹو دشمنی کے جوش میں ضیا الحق کی پہلی کابینہ میں چند ماہ کے لیے یوتھ منسٹر ہونے اور پھر سنہ 1985 کے غیر جماعتی انتخابات میں پہلی بار ایم این اے بننے اور پھر سنہ 1988 میں مسلم لیگ ن میں شمولیت اور پھر 23 برس بعد پاکستان تحریکِ انصاف میں ڈھائی برس گزار کے دوبارہ مسلم لیگ ن میں واپسی پر اصولی رضامندی تک۔۔۔

اک طرفہ تماشا ہے حسرت کی طبیعت بھی
ہے مشقِ سخن جاری چکی کی مشقت بھی

عام طور سے اگر کوئی بندہ اسلامی جمیعتِ طلبا سے چھلانگ مار کے تحریکِ استقلال اور پھر وہاں سے ضیا کے غیر جماعتی نظام اور پھر مسلم لیگ ن اور پھر تحریکِ انصاف اور پھر واپس نون لیگ کی طرف آجائے تو ایسے شخص کو پاکستانی سیاست میں ’لوٹا‘ کہا جاتا ہے۔ مگر جاوید ہاشمی شاید واحد سیاستدان ہیں جنھیں دیکھ کر جہاندیدہ لوٹے بھی اپنا لوٹا پھینک کے نکل لیتے ہیں۔ اتنے راستے بدلنے کے باوجود بھی جاوید ہاشمی شاید اس لیے لوٹے کا خطاب نہ پا سکے کیونکہ انھوں نے اب تک جو بھی کامیاب یا ناکام سیاسی ہجرتیں یا فیصلے کیے وہ کسی ترغیب یا لالچ میں آ کر نہیں بلکہ طبیعت کے ہاتھوں کیے۔ لہذا انھیں لوٹا کہنا کسی کو شوبھا نہیں دے سکتا۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ

وہ کہیں بھی گیا لوٹا تو میرے پاس آیا
بس یہی بات ہے اچھی میرے ہرجائی کی

نواز شریف کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ مصیبت کے وقت وہ اور لوگوں پر تکیہ کرتے ہیں اور راحت ملتی ہے تو تکیے بھی بدل جاتے ہیں۔ جیسے دورِ جلاوطنی میں انھیں جاوید ہاشمی پارٹی صدارت کے لیے موزوں دکھائی دیے اور پرویز مشرف نے فوج کو بغاوت پر اکسانے کے الزام میں جاوید ہاشمی کو ساڑھے تین برس کے لیے جیل میں ڈال دیا۔ لیکن جب شریفوں کے اچھے دن آئے تو اینٹی اسٹیبلشمنٹ جاوید ہاشمی کی جگہ اسٹیبشلمنٹ نواز چوہدری نثار علی خان کو قائدِ حزبِ اختلاف چن لیا گیا۔ زرداری کے مقابلے میں صدارتی امیدوار جاوید ہاشمی کو بنانے کے بجائے جسٹس ریٹائرڈ سعید الزماں صدیقی کو بنا دیا گیا۔

اب نواز شریف ایک بار پھر مصیبت میں ہیں اور جاوید ہاشمی کی کمزوری ہے کہ کسی گاؤں کی دور دراز دخانی چکی سے آتی کوک کوک کوک کی آواز بھی اگر انھیں اینٹی اسٹیبلشمنٹ محسوس ہو تو دوڑے چلے جاتے ہیں۔ یہ جاوید ہاشمی کی بڑائی ہے کہ مجھے کیوں نکالا فیم نواز شریف سے سات برس بعد ہونے والی ملاقات میں انھوں نے نہیں پوچھا ’مجھے کیوں بلایا؟‘ مجھے انتظار ہے اس وقت کا جب نواز شریف کے برے دن ختم ہوں اور کوئی چوہدری نثار علی پھر معاملات خوش اسلوبی سے سنبھال لے اور جاوید ہاشمی ایک بار پھر ’ہاں میں باغی ہوں‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے سوٹا گھماتے ہوئے کسی پگڈنڈی پر چلتا جا رہا ہو۔

یہاں کون ہے تیرا مسافر جائے گا کہاں
دم لے لے گھڑی بھر یہ چھئیاں پائے گا کہاں

وسعت اللہ خان
تجزیہ کار