پاکستان میں چائلڈ لیبر کی سب سے بڑی وجہ غربت ہے

پاکستان میں اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے محنت (آئی ایل او) کے نمائندے ظہیر عارف کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بچوں سے محنت و مشقت سے متعلق 21 سال پرانے اعدادوشمار دستیاب ہیں جن میں گھروں میں کام کرنے والے بچوں سمیت بدترین اقسام کی چائلڈ لیبر شامل نہیں ہیں۔ غیر رسمی شعبوں میں بچوں سے کروائی جانے والی محنت مشقت پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئےانھوں نے بتایا کہ ‘ہم سب جانتے ہیں کہ گھروں میں بچوں کی ایک بڑی تعداد ڈومیسٹک ورکرز کے طور پر کام کرتی ہے، اس کے علاوہ چوڑیاں بنانے کے کام سے لے کر سرجیکل آلات، کھیلوں کے سامان اور گہرے پانیوں میں ماہی گیری جیسے خطرناک پیشوں کی ایک پوری فہرست ہے جو ‘ورسٹ فارم آف چائلڈ لیبر’ یا بچوں سے مزدوری کی بدترین اقسام میں آتے ہیں لیکن اس کے بارے میں کوئی اعدادوشمار نہیں ہیں۔’

واضح رہے کہ پاکستان کے ادارہ برائے شماریات نے بچوں سے محنت مشقت کےاعدادوشمار آخری بار ایک سروے کے ذریعے سنہ 1996 میں جمع کیے تھے جس کے مطابق ملک میں 33 لاکھ بچہ مزدور تھے۔ آئی ایل او کے کنونشن فار ورسٹ فارم آف چائلڈ لیبر پر پاکستان نے سنہ 2001 میں دستخط کیے تاہم اب تک اس بارے میں کوئی اعداد وشمار اکھٹے نہیں کیے جا سکے ہیں۔ انھوں نے کہا: ‘تعلیم و آگہی نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو اندازہ نہیں ہوتا ہے کہ بچے کے ساتھ کیا کیا ہو سکتا ہے۔ وہ ٹریفکنگ میں آ سکتا ہے، دہشت گرد کاروائیوں میں استعمال ہو سکتا ہے۔ خطرناک پیشوں میں کام کرنے کی وجہ سےاس کی جان جا سکتی ہے۔’

ظہیر عارف نے تشویش ظاہر کی کہ اعدادوشمار اکھٹے نہ کرنے کی جانب حکومتوں کی عدم توجہی کی وجہ سے اس بنیادی مسئلے کو جڑ سے ختم کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ‘شاید یہ حکومت کی ترحیجات میں شامل نہیں ہے۔ کسی مسئلےسے نمٹے کے لیے پہلے تو ہمیں یہ پتا ہو کہ ہمارے ہاں کس حد تک چائلڈ لیبر ہے۔’ آئین میں 18 ویں ترمیم کے بعد صوبوں نے چائلڈ لیبر سے متعلق قانون سازی تو کی ہے لیکن اس پر سختی سے عمل درآمد کرانے کے ایک مربوط میکینزم بنانے کی ضرورت ہے۔ صوبوں کےمحکمہ لیبر کی استعداد بڑھانے پر زور دیتے ہوئے ظہیرعارف نےکہا کہ ‘محکمہ لیبر کے پاس انسپکٹرز موجود ہیں لیکن انھیں اتنی آگہی نہیں ہے جتنی کہ ضرورت ہے۔ (آئی ایل او) اس سلسلے میں ان کی تربیت کرتا ہے۔’

بچہ مزدوری کی وجوہات پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستان سمیت تمام ترقی پذیر ممالک میں یہ بات قابل قبول ہے کہ بچوں سے کام کرایا جائِے۔ ‘سب سے بڑی وجہ غربت ہے۔ یہ ایک شیطانی چکر ہوتا ہے جس سے نکلنا بہت مشکل ہے۔ بچوں کو کام پر اس لیے رکھا جاتا ہے کہ ایک بالغ آدمی کو انھیں پوری مزدوری دینا پڑے گی جبکہ بچہ سستے میں یا مفت میں کام کر دے گا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ بچہ ایک نوجوان کی نسبت زیادہ دیر تک اور زیادہ انرجی کے ساتھ کام کرتا ہے جس سے زیادہ سے زیادہ کام لیا جا سکتا ہے۔’

بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں آئی ایل او کا کیا لائحہ عمل ہوتا ہے؟ اس پران کا مؤقف تھا کہ’عام طور پر حکومتیں جن کنونشنز پر دستخط کرتی ہیں ان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ ان پر پوری طرح سےعمل کریں۔ خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ حکومت کو مطلع کیا جاتا ہے اور ادارہ میکینزم بنانے میں ان کی مدد کرتا ہے۔’ انھوں نے سیالکوٹ میں سرجیکل آلات کی صنعت میں کسی حد تک بچہ مزدوری کنٹرول کرنے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ’ ہم نےسیالکوٹ چیمبرآف کامرس، ایمپلائیز ایسوسی ایشنز، ٹریڈ یونینزاور ورکرز فیڈریشن کےساتھ مل کرکام کیا تا کہ آجر اور مزدور دونوں کی یونین کے نمائندگان کو آگاہی دی جا سکے۔’

شمائلہ خان

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

Advertisements

پاکستان میں کم سِن گھریلوں ملازمین تشدد کا شکار کیوں بنتے ہیں؟

ماں باپ کا سہارا بننے کے لیے گھر سے نکلنے والی رضیہ تین مہینے بعد گھر لوٹی تو لہولہان تھی۔ فیصل آباد میں گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی رضیہ کا ایک ہی قصور تھا: روٹی جلنا۔ رضیہ ان ہزاروں پاکستانی بچوں میں شامل ہے جو غربت کے باعث لوگوں کے گھروں میں کام کرنے پر مجبور ہیں، کبھی قرضہ اتارنے کے لیے تو کبھی گھر کے معاشی حالات سدھارنے کے لیے۔ رضیہ کا تعلق فیصل آباد کے گاؤں بچیانہ سے ہے اور وہ فیصل آباد کے ایک متمول گھرانے میں ملازم تھیں۔ رضیہ نے خود پر ہونے والے تشدد کے بارے میں بتایا۔

‘میں روٹی بنانے گئی تو روٹی جل گئی۔ مالکن نے بہت مارا۔ میں ڈر کر چھت پر چھپنے کے لیے بھاگی۔ لیکن وہ مجھے چھت سے کھینچتے ہوئے نیچے لے آئی۔ پھر شیشے کی بوتل میرے سر پر دے ماری۔ دوسری بار مارنے لگی تو میں نے ہاتھ آگے کر دیا۔ میرے ہاتھ پر لگی اور میں بری طرح زخمی ہو گئی۔ لیکن وہ نہیں رکی، اس کے بعد اس نے مجھے چھری ماری۔’ پاکستان میں نابالغ بچوں کو گھروں میں ملازم رکھنا عام ہے۔ مگر ان کم عمر بچوں کے بنیادی حقوق اور تحفظ کے لیے کوئی قانون موجود ہی نہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں گھریلو ملازمین بالخصوص بچوں پر تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

گذشتہ برس پاکستان 167 ممالک کے گلوبل سلیوری انڈیکس یعنی غلامی کے عالمی اشاریے میں چھٹے سے تیسرے نمبر پر آ گیا تھا۔ ڈومیسٹک ورکرز یونین کے سیکریٹری مختار اعوان نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معاشرتی بے حسی اور معاشی مجبوری کے باعث پاکستان میں کم عمر بچوں سے مشقت کروانا ایک ایسا جرم ہے میں خود والدین اعانت جرم کے مرتکب ہیں۔

‘یہ لوگ دیہی علاقوں سے آتے ہیں اور انتہائی غریب لوگ ہوتے ہیں۔ کچھ پیسوں کے عوض اپنے بچوں کو دوسروں کے گھروں میں کام کرنے کے لیے چھوڑ آتے ہیں۔ گھریلو ملازمین میں زیادہ ترچھوٹی عمر کی بچیاں رکھی جاتی ہیں کیونکہ نہ اس نے بولنا ہے اور نہ ہی کسی چیز سے انکار کرنا ہے۔ گھریلو ملازمین پر تشدد کے تقریباً 80 سے 90 فیصد کیس رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔’

مبینہ تشدد کے بعد رضیہ کے گھر والوں نے اس کے خلاف آواز بلند کرنے کی بہت کوششیں کیں۔ رضیہ کے والد نے تھانے کے متعدد چکر لگائے لیکن ایف آئی آر تک نہ کٹی۔ محمد اسلم کا کہنا تھا کہ انصاف صرف امیروں کو ہی ملتا ہے۔ ‘غریب ہیں، جس تھانے میں بھی جاتے ہیں وہ آگے کہیں اور بھیج دیتے ہیں۔ وہ امیر لوگ ہیں انہوں نے پیسے دیے ہوئے ہیں، ہمارے پاس کوئی پیسہ نہیں، اسی لیے ہماری نہیں سنی گئی۔’ گلوبل سلیوری انڈیکس ترتیب دینے والے ادارے واک فری فاؤنڈیشن کے مطابق اس وقت پاکستان میں اکیس لاکھ سے زیادہ بچے جبری مشقت پر مجبور ہیں۔

اس کی بنیادی وجہ متعلقہ قانون کی عدم موجودگی ہے۔ اسی لیےاگر رضیہ جیسے متاثرین تھانے تک پہنچ بھی جائیں تو معاملہ لمبی کاغذی کارروائی کی نظر ہو جاتا ہے۔ رضیہ کا کیس فیصل آباد کے تھانے مدینہ ٹاون میں زیر تفتیش رہا۔ تاہم کئی ہفتے گزرنے کے بعد بھی ایف آئی آر تک درج نہ ہوئی۔ جب بی بی سی نے مدینہ ٹاون تھانے کے انویسٹی گیشن انچارج محمد اشرف سے اس بارے میں پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ کیس کی تحقیقات زخمیوں کی نوعیت کا تعین نہ ہونے کی وجہ سے رکی ہوئی ہے۔ جس کے لیے میڈیکل رپورٹ ڈیکلیئر ہونا ضروری ہے۔

رضیہ کے والدین کا کہنا ہے کہ وہ شہر سے دور رہتے ہیں مگر کرایہ نہ ہونے کے باوجود وہ تھانے کے کئی چکر لگا چکے ہیں۔ تاہم کیس میں خاطرخواہ پیش رفت نہیں ہوئی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ طویل قانونی چارہ جوئی سے بچنے کے لیے عام طور پر اس طرح کے معاملات میں کچھ رقم لے دے کر معاملہ رفع دفع کر دیا جاتا ہے۔ مختار اعوان کا کہنا ہے اس کیس میں بھی رضیہ کے والدین کو بالآخر صلح کرنی پڑی۔

حنا سعید

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہو

پاکستان میں ہر سال 240 ارب روپے کی خیرات

73442e475a770997322d9389106f121e

پاکستان میں ہر سال انفرادی سطح پر دی جانے والی خیرات کی سالانہ رپورٹ کے مطابق ملک کے 98 فیصد گھرانے جو رقم خیرات، صدقات اور عطیات کی صورت میں دیتے ہیں اس کی کل مالیت 240 ارب روپے بنتی ہے۔ نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) میں منگل کو ایک تقریب میں پیش کی جانے والی اس رپورٹ کے مطابق پاکستانی شہری ہر سال مختلف معاشرتی اور مذہبی وجوہات کی بنا پر دل کھول کر خیرات کرتے ہیں۔ یہ رپورٹ انٹرنیٹ پر بھی دستیاب ہے اور اس کے خاص نکات میں بتایا گیا ہے کہ سنہ 1998 سے لے کر سنہ 2014 تک سالانہ دی جانے والی خیرات کی رقم میں تین گنا اضافہ ہوا ہے اور یہ 70 ارب سے بڑھ کر 240 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔

رپورٹ سے اخذ کیے گئے نتائج میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ انفرادی سطح پر دی جانے والی خیرات کا 68 فیصد حصہ براہ راست ضرورت مند رشتہ داروں، معذور افراد اور بھکاریوں کو دیا جاتا ہے۔ مدرسوں اور مساجد کو ملنے والی خیرات کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ خیراتی اداروں کی طرف سے صرف تین فیصد حصہ مساجد اور مدرسوں کو ملتا ہے جبکہ رپورٹ کے مطابق نجی طور پر دی جانے والی خیرات کا تقریباً 30 فیصد مساجد اور مدرسوں کے حصے میں آتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے زیادہ تر لوگ مذہبی بنیادوں پر خیرات کرتے ہیں جب کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کی جانے والی خیرات اس کے بعد آتی ہے۔people-jostle-to-get-free-food-distributed-at-a-camp-for-flood-survivors-in-risalpur-pakistan-35515307اس رپورٹ میں ملک کے مختلف صوبوں سے دی جانے والی خیرات کے اعداد و شمار دیے گئے ہیں اور آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں ہر سال 113 ارب کی خیرات دی جاتی ہے جبکہ سندھ میں 78 ارب روپے، خیبر پختونخوا سے 38 ارب روپے اور بلوچستان سے 10 ارب روپے کی خیرات دی جاتی ہے۔ رپورٹ میں زکوٰۃ اور زکوٰۃ کے علاوہ دی جانے والی خیرات کے اعداد و شمار بھی ہیں جن کے مطابق زکوٰۃ کی مدد میں 25 ارب روپے جبکہ زکوٰۃ کے علاوہ تقریباً 71 ارب روپے دیے جاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کھالوں کی صورت میں جو خیرات ہوتی ہے اس کی مالیت پانچ ارب روپے بنتی ہے جبکہ ملک کے مختلف حصوں میں قائم مزاروں اور درباروں کو ساڑھے چھ ارب روپے خیرات اور صدقات کی صورت میں ملتے ہیں۔

فراز ہاشمی

بی بی سی اردو ڈاٹ کام

پاکستان : 33 لاکھ بچے جبری مشقت کرتے ہیں

وفاقی وزیر محنت و افرادی قوت  نے وقفہ سوالات کے دوران قومی اسمبلی کو بتایا کہ ملک میں تینتیس لاکھ بچے جبری مشقت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جبری مشقت کرنے والے بچوں میں سے ستر فیصد صرف تین شعبوں زراعت، ماہی گیری اور جنگلات کے شعبوں میں کام کرتے ہیں۔ جبکہ ان کے مطابق انیس فیصد صنعتی شعبہ اور گیارہ فیصد سیلز کے شعبے میں جبری مشقت کرتے ہیں۔

آمنہ بھٹی گذشتہ پچاس برس سے گیلی مٹی کو اینٹوں میں تبدیل کر رہی ہیں۔ ان کے بقول ان کے والدین نے اینٹوں کے بھٹے کے مالک سے کچھ رقم ادھار لی تھی اور وہی بوجھ اتارتے اتارتے انہیں نصف صدی گزر چکی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وہ صرف دس برس کی تھیں جب انہیں جبری مشقت کی اس بھٹی میں جھونک دیا گیا تھا۔ ان پر ڈھائی لاکھ روپے کا قرضہ تھا اور ابھی تک وہ صرف ایک لاکھ روپے واپس کر پائی ہیں۔ بارہ برس قبل ان کے شوہر بھی ان کا ساتھ چھوڑ گئے۔ شوہر کے انتقال کے بعد انہوں نے اپنے آجر سے مزید رقم ادھار لے لی۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ آمنہ بھٹی شاید زندگی بھر قرضے کے اس بوجھ سے نجات حاصل نہیں کر پائیں گی۔

آمنہ بھٹی نے بتایا کہ ہم بہت غریب لوگ ہیں اور ہم زندگی بھر غریب ہی رہیں گے۔ جب انسان اس راستے پر چل نکلے، تو مرنے کے بعد ہی اسے اس سے چھٹکارا نصیب ہوتا ہے۔ پاکستان میں صرف اینٹوں کے بھٹوں پرکام کرنے والے افراد کا ہی یہ حال نہیں بلکہ زرعی زمینوں پر اور اسی طرح کے دیگر کام کرنے والے کارکن بھی اپنے آجروں سے لیے جانے والے ادھار کو اتارتے اتارتے زندگی ہی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ پاکستان میں اکثر ایسے واقعات منظر عام پر آتے رہے ہیں، جن میں والدین اپنا قرضہ اپنی اولاد کے سپرد کر دیتے ہیں اور بعض اوقات تو جبری مشقت کا یہ سلسلہ نسل در نسل جاری رہتا ہے، لیکن ادھار ہمیشہ اپنی جگہ واجب الادا رہتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق بھٹہ مزدوروں کو ایک دن میں ساڑھے تین سو روپے تک ادا کیے جاتے ہیں۔

ان مزدوروں کو اکثر انتہائی مشکل حالات میں زندگی گزارنا پڑتی ہے اور انہیں زندہ رہنے کے لیے بنیادی سہولیات بھی دستیاب نہیں ہوتیں۔پاکستان میں جبری مشقت کے شکار افراد کی اصل تعداد کے حوالے سے سرکاری سطح پر کوئی اعداد و شمار موجود نہیں ، تاہم مزدوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں میں کھیتی باڑی، قالین بافی، اینٹوں کے بھٹوں اور اسی طرح کے دیگر شعبوں میں کام کرنے والے ایسے مزدوروں کی تعداد لاکھوں میں ہے، جو اپنے آجرین سے رقم ادھار لینے کے بعد غلامی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ ایسے پاکستانی شہریوں کی زندگی میں استحصال کے تسلسل کی کوئی کمی نہیں ہوتی اور قرض لی گئی، رقوم کی مکمل ادائیگی کا عملاًکوئی امکان نہیں ہوتا ہے۔

عدنان اسحاق

ذہنی مریضوں کی آخری اُمید ؟

صفیہ بی بی اپنے اکلوتے بیٹے کے لیے دوا نہیں خرید سکتیں اور دعا ہی ان کی آخری اُمید ہے۔ اُن کا 20 سالہ بیٹا سہمی سہمی آنکھوں سے کبھی انھیں اور کبھی اپنے ٹخنے پر بندھی زنجیر کو دیکھ رہا ہے۔ وہ ادھار مانگ کر بیٹے کو گوجرانوالہ سے بورے والا تک لائی ہیں اور تمام رقم سفر میں خرچ ہو چکی ہے۔ تپتی دھوپ میں پسینے کے ساتھ ساتھ صفیہ بی بی کے آنسو بھی بہہ رہے ہیں۔

’دو سال ہو گئے مجھے اس کے پیچھے پھرتے ہوئے، میرے پیروں کے تلوے تک پھٹ گئے ہیں۔ گلیوں میں پھرتا تھا اور بچے پتھر مارتے تھے میرے بچے کو، ہم سے برداشت نہیں ہوتا تھا۔ ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں کہ اس کا علاج کروا سکیں۔‘ پنجاب میں بورے والا کے قریب صوفی بزرگ بابا حاجی شیر کے مزار پر ملک بھر سے لائے گئے ذہنی مریض اپنی زندگی کے کئی موسم زنجیروں میں درختوں سے بندھے بسر کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بیشترً افراد قابل تشخیص اور قابل علاج ذہنی امراض کا شکار ہیں لیکن یہاں پر زیادہ تر دیہی علاقوں سے آنے والے لوگوں کا ماننا ہے کہ یہاں آ کر ان کے پیارے ایک دن صحت یاب ہو سکتے ہیں۔  مزار کے قریب ہی ایک ہسپتال بھی تعمیر ہے لیکن مزار پر سینکڑوں لوگوں کی موجودگی پاکستان میں ابھرتی جدید سائیکایٹری اور مذہبی نظریات کے درمیان تنازعے کی عکاسی کر رہی ہے۔

ایک بزرگ زنجیروں سے خود کو آزاد کرنے کی کوشش کرتے دکھائی دیے اور اس دوران مسلسل وہ کچھ بڑبڑا رہے تھے۔ ان کے پاس ہی بیٹھی ان کی اہلیہ نے بتایا کہ ’یہ پاگل نہیں ہے ، جادو ٹونہ کرتا تھا اور اس پر جن کا سایہ ہے۔‘ تپتی دھوپ میں یہ افراد درختوں کے ساتھ جکڑے رہتے ہیں اور ان کے خاندانوں کو کسی معجزے کی امید نے جکڑ رکھا ہے۔ مزار پر دو دہائیوں سے کام کرنے والے نگران عطا محمد نے بتایا کہ گذشتہ چند سالوں سے یہاں آنے والے ’پاگلوں‘ میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ’ان کو ہم لنگر دیتے ہیں، جگہ دیتے ہیں اور کیا سہولیات دیں، یہ تو پاگل ہیں۔ انھیں اسی طرح زمین پر بیٹھنا ہے اور جب ٹھیک ہو جائیں گے تو زنجیریں اپنے آپ کھل جائیں گی۔ یہ بابا جی کی دعا ہے۔‘ پاکستان میں ذہنی صحت کے بڑھتے ہوئے مسائل کا اندازہ عالمی ادارہ صحت کے ان اعداد و شمار سے لگایا جا سکتا ہے جس کے مطابق ملک میں ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ افراد ذہنی امراض کا شکار ہیں۔

 ماہرین نفسیات کے مطابق ملک میں بگڑتے ہوئے ماحول جیسے سکیورٹی، غربت اور بے روزگاری جیسے سماجی عناصر کی وجہ سے آبادی کی بڑی تعداد کسی نہ کسی ذہنی مرض یا دباؤ کا شکار ہے۔ حکومتی ترجیحات کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ 18 کروڑ سے زیادہ آبادی کے لیے صرف پانچ ایسے سرکاری ہسپتال ہیں جہاں نفسیاتی امراض کا علاج ہوتا ہے۔ ماہرینِ نفسیات کی تعداد 300 کے قریب ہے اور ایسے میں مجبور افراد اکثر پیری فقیری کو اپنی آخری امید مانتے ہیں۔ گو کہ بڑے شہروں میں نجی سطح پر نفسیاتی علاج کی سہولیات موجود ہیں لیکن عوام کی اکثریت یہ مہنگا علاج نہیں کروا سکتی۔

ماہرین کے مطابق پاکستان میں ذہنی صحت کا مسئلہ جتنا بڑا ہے، اس سے نمٹنے کے ادارے اور وسائل اتنے ہی محدود ہیں اور سہولیات کے ساتھ ساتھ شعور کی واضح کمی ہے۔

لاہور میں نفسیاتی اُمراض کے علاج کے لیے فلاحی ادارے فاؤنٹین ہاؤس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عثمان رشید نے بتایا ’ہمارا معاشرہ ذہنی مرض میں مبتلا شخص کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ تو پاگل ہو گیا ہے، مینٹل کیس ہے وغیرہ وغیرہ اور گو کہ اکنامک فیکٹر بھی ایک رکاوٹ ہے لیکن سب سے پہلے آگاہی کے ذریعے اس سوچ کو بدلنا بہت اہم ہے۔‘ پنجاب کہ اس مزار پر بندھے ہوئے لوگ شاید پاکستان میں کروڑوں ذہنی مریضوں کی کیفیت کی عکاسی کرتے ہیں کہ جو اپنی دماغی اضطراب کی زنجیروں سے تب تک آزاد نہیں ہو پائیں گے جب تک معاشرتی اور ریاستی سطح پر ان کو قبولیت نہیں ملے گی۔ مزار پر لائے جانے والوں کے ساتھ اکثر ان کے لواحقین بھی پناہ گزینوں کی طرح وہیں بسیرا کر لیتے ہیں لیکن کئی مریض مزار کے ہی ہو کر رہ جاتے ہیں۔ امید شاید ان کے گھر والوں کا ساتھ چھوڑ جاتی ہے اور گھر والے ان کا۔ ایسا ہی ایک نوجوان مزار پر ہونے والی قوالی کی گونج میں دھمال ڈال رہا تھا۔ گلے میں لٹکتی زنجیروں کی آواز کے ساتھ اس کے پیر چل رہے تھے اور آنکھیں بند کیے وہ جھومے جا رہا تھا۔ ایک نگراں نے بتایا ’پتہ نہیں کب سے اسے یہاں چھوڑ گئے ہیں ، کس کا بیٹا ہے، اب یہ بس مزار کا ملنگ ہے۔

صبا اعتزاز

بی بی سی اردو ڈاٹ کام

بورے والا، پنجاب

بڑھتی ہوئی غربت اورترقی کے دعوے

کستان کی وزارت منصوبہ بندی، ترقی اصلاحات نے پہلی با ضابطہ ایم پی آئی سروے رپورٹ جاری کی ہے،جس کے مطابق پاکستان کی 38.8 فیصد آبادی غربت کا شکار ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آٹھ کروڑ افراد خط افلاس سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ وہ دن بھر میں اتنا بھی نہیں کما پاتے کہ زندگی کی بنیادی ضروریات پوری کر سکیں یا اپنے اور خاندان کے لئے متوازن خوراک کا ہی بندوبست کرسکیں۔
اس سروے میں مختلف معاملات کو بنیاد بنا کر غربت کی شرح کا پتہ چلایا جاتا ہے۔ غربت کی یہ شرح حکومت کی تسلیم کردہ ہے کل آبادی کا 38.8 فیصد غریب ہونا معمولی شرح نہیں ہے۔ یہ ایک غیر معمولی صورت حال ہے۔ آزادی کے دن سے لے کر اب تک اس مملکت خدا داد میں برسراقتدار آنے والی تمام حکومتوں نے غربت کے خاتمہ کے لئے اقدامات کرنے کے دعوے تو بہت کئے، لیکن اس سلسلے میں عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر تھے۔ دوسری جانب غربت میں اضافے کا باعث بننے والے عوامل اپنی جگہ قائم رہے، جس کی وجہ سے غربت کی شرح کم ہونے کی بجائے مسلسل بڑھتی رہی اور صورت حال یہ ہے کہ جس قوم کی ایک تہائی سے زیادہ آبادی خط افلاس سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہو، اس کی ترقی کرنے کی رفتار کیا ہوسکتی ہے۔
کئی عوامل غربت بڑھانے کا باعث بنتے ہیں، جیسے دولت اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، وسائل میں کمی، بے روزگاری اور بڑھتی ہوئی آبادی۔ پاکستان میں بھی یہ سبھی عوامل غربت بڑھانے میں کار فرما نظر آتے ہیں، لیکن سب سے زیادہ اثرات دولت اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے مرتب ہو رہے ہیں۔ جن کے پاس پہلے سے دولت موجود ہے، وہ اس کے بل پر مزید دولت مند بنتے جارہے ہیں اور جن کے پاس پہلے سے وسائل کی کمی ہے وہ ان سے مزید تہی داماں ہوتے جارہے ہیں اور حکومت اس فرق کو کم کرنے یا مٹانے کی بجائے اس میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔ انداز اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ حکومت نوکری پیشہ افراد اور عام آدمی سے کئی ٹیکس وصول کرتی ہے، لیکن دولت مند مختلف ہتھکنڈے اختیار کرکے ٹیکس نیٹ میں آنے سے بچ جاتے ہیں۔ اس طرح محدود آمدنی والے تو ٹیکس دیتے رہتے ہیں، لیکن متمول طبقہ اپنے منافع اور آمدن کے مطابق حکومت کو ٹیکس نہیں دیتا۔ دولت کی غیر منصفانہ تقسیم ہی وسائل میں کمی اور بے روزگاری میں اضافے کا باعث ہے جبکہ بے روزگا ری غربت بڑھاتی ہے۔
حکومت اگر واقعی غربت کی شرح میں کمی لانا چاہتی ہے تو اسے چاہیے کہ دولت مندوں کو ٹیکس نیٹ میں لائے، سبسڈیز صرف غریب طبقے تک محدود کرے، جو لوگ مہنگی اشیا خرید سکتے ہیں، ان کے لئے سبسڈی والی اشیا کیوں؟ علاوہ ازیں ملک بھر میں روزگار کے مواقع بڑھانے والے منصوبے شروع کرنے چاہئیں تاکہ لوگوں کو روزگار ملے اور ان کے لئے اپنی غربت کم کرنے میں آسانی پیدا ہو۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ مہنگائی بڑھانے والے عوامل کو حکومتی سطح پر کنڑول کیا جانا چاہیے اور اس کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ کچھ رمضان بازار لگادیئے اور اگر رمضان نہ ہوتو اتوار بازاروں سے لوگوں کو دلاسادینے کی کوشش کی جائے بلکہ حکومت کو اپنی رٹ بروئے کار لاتے ہوئے ان عوامل کو کنٹرول کرنا چاہیے، جن کی وجہ سے مہنگائی بڑھتی ہے۔ گزشتہ ایک ڈیڑھ سال میں عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اچھی خاصی کمی واقعی ہوئی، یہ بہترین موقع تھا کہ حکومت مہنگائی کا گراف نیچے لانے کے لئے اقدامات کرتی، لیکن افسوس کہ اس موقع کو ضائع کیا جارہا ہے۔ حرف آخر یہ کہ جب تک حکومت کی جانب سے غربت بڑھانے کے عوامل پر قابو پانے کے لئے ٹھوس اقدامات نہیں کئے جاتے، غربت میں کمی لانا ناممکن رہے گا۔
محمد معاذ قریشی

ملک کی 39 فیصد آبادی تاحال غربت کی زندگی گزارنے پر مجبور

ملک کے طول و عرض میں آج بھی آبادی کا 39 فیصد حصہ غربت کی زندگی
گزارنے پر مجبور ہے، جس میں سب سے زیادہ شرح فاٹا اور بلوچستان کی ہے۔

لیکن 2004 میں ملک میں غربت کی شرح 55 فیصد تھی، جو اب کم ہو کر 39 فیصد پر آچکی ہے۔ پاکستان کی تاریخ کی پہلی کثیر الجہتی غربت انڈیکس (ایم پی آئی) رپورٹ کے مطابق، ملک کے مختلف خطوں میں غربت کے حوالے سے پیشرفت ناہموار ہے اور شہری علاقوں میں 9 اعشاریہ 3 فیصد شرح غربت کے مقابلے میں دیہی علاقوں میں غربت کی شرح 54 اعشاریہ 6 فیصد ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے غربت کے حوالے سے مختلف صوبوں میں بھی عدم مساوات پائی جاتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق فاٹا کے 73 فیصد اور بلوچستان کے 71 فیصد عوام غربت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ خیبر پختونخوا میں شرح غربت 49 فیصد ہے، جبکہ سندھ اور گلگت بلتستان میں 43، 43 فیصد، پنجاب میں 31 فیصد اور آزاد جموں و کشمیر میں 25 فیصد ہے۔ انڈیکس مرتب کرنے میں تعلیمی میدان میں محرومی نے سب سے زیادہ 43 فیصد کردار ادا کیا، جس کے بعد معیار زندگی کا تقریباً 32 اور صحت کا 26 فیصد کردار رہا۔ ان نتائج سے اس بات کی مزید تصدیق ہوجاتی ہے کہ پاکستان میں اقتصادی اشاریے تو مثبت اور مضبوط نظر آتے ہیں، لیکن اس کے مقابلے میں سماجی اشاریے بہت کمزور ہیں۔


امین احمد
یہ خبر 21 جون 2016 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔

جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی

پارلیمانی نظام میں منتخب ایوان ہی سب سے بڑا جمہوری اور آئینی ادارہ ہے جہاں
حکومتی معاملات اور امور سلطنت خوش اسلوبی سے ادا کرنے کے لیے قانون سازی کی جاتی ہے اور عوام کے مسائل و مصائب کے تدارک کے لیے اقدامات ہی نہیں پالیسی بھی مرتب کرنا اس ایوان کے فرائض میں شامل ہے۔ کئی بڑے جمہوری ممالک میں تو پارلیمانی روایات یہ ہیں کہ مرکزی اسمبلی کا اجلاس سال بھر جاری رہتا ہے اور کسی بھی قانون سازی یا حکومتی اقدام کے لیے صدارتی آرڈیننس کا سہارا نہیں لینا پڑتا۔ پاکستان میں پارلیمانی سال کی مدت 96 دن ہے کہ اس طرح قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس 96 دن ہونے ضروری ہیں اور تمام وزراء اور ارکان پر لازم ہے کہ اجلاس میں نہ صرف شریک ہوں بلکہ اپنے محکموں کی کارکردگی کے حوالے سے بھی ایوان کو اعتماد میں لیں اور ان سے رہنمائی حاصل کریں لیکن پاکستان کی پارلیمانی روایات کچھ اچھی نہیں رہی ہیں۔

گزشتہ پارلیمانی سال کے حوالے سے جو اطلاعات ملیں انھیں کسی صورت بہتر قرار نہیں دیا جا سکتا جو ایک جمہوری ملک کے لیے درست نہیں ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وزیر اعظم جو قائد ایوان ہوتا ہے اس نے پارلیمانی سال میں صرف 9 بار ایوان میں شرکت کی۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی حاضری سب سے کم رہی وہ صرف 5 دن ایوان میں آئے، سابق اسپیکر فہمیدہ مرزا صرف 2 دن ایوان میں آئیں، چوہدری نثار علی خان 63 دن غیر حاضر رہے، حمزہ شہباز نے صرف 3 دن اسمبلی میں جانے کی زحمت گوارا کی، اسد عمر 11 دن غیر حاضر رہے حالانکہ وہ اس اسلام آباد کی نمایندگی کر رہے ہیں جس میں پارلیمنٹ کی عمارت بھی واقع ہے، اس حاضری کو پارلیمانی آئینہ ضرور قرار دیا جا سکتا ہے اور اسے اگر دیکھ بھی لیا جائے  تو اس قومی اسمبلی کے اراکین کی تنخواہوں اور مراعات میں سو فیصد سے زیادہ اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔

ارکان پارلیمنٹ نے اپنی تنخواہوں میں 200 فیصد اور الاؤنسز و مراعات میں کئی گنا اضافے کے علاوہ کئی مزید سہولتیں لینے کے لیے جو کامیاب پیشقدمی کی ہے اس پر یقینا ان کی تحسین کی جانی چاہیے کہ اس طرح انھوں نے بالواسطہ طور پر ہی سہی کم از کم یہ اعتراف ضرور کر لیا ہے کہ اگر 70 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ کے علاوہ ڈیلی الاؤنس، سفر الاؤنس، آفس مینٹی نینس، یوٹیلیٹی الاؤنس، ٹرانسپورٹ الاؤنس ایسی متعدد مراعات لینے کے باوجود ان کا گزارا نہیں ہوتا تو سرکاری اور نجی شعبے کے وہ ملازمین جن کی تنخواہوں اور مراعات کی ارکان پارلیمنٹ کے مشاہروں سے کوئی نسبت ہی نہیں اپنی گزر اوقات کس طرح کرتے ہوں گے۔

اس صورتحال میں عوام کے ذہنوں میں یہ سوال بھی ضرور اٹھتا ہو گا کہ اگر بڑے بڑے جاگیرداروں، صنعت کاروں اور کارخانہ داروں کی اکثریت پر مشتمل ارکان اسمبلی نے یہ تسلیم کر لیا ہے کہ نچوڑ کر رکھ دینے والی موجودہ مہنگائی کے دور میں کئی کئی لاکھ روپے کی تنخواہیں، الاؤنسز اور مراعات لے کر بھی ان کے لیے زندگی گزارنا مشکل ہے تو کیا وہ اس امر پر بھی آمادہ ہوں گے کہ وہ ان لاکھوں ملازمین کے تلخی حالات کو کم کرنے کی طرف بھی توجہ کریں جن کی تنخواہیں چند ہزار ماہانہ سے زیادہ نہیں اور جب ان میں اضافے کا مرحلہ آتا ہے تو ان میں 5 سے 10 فیصد اضافہ کرنا بھی بجٹ پر بار بن جاتا ہے اور بجٹ میں جو اضافہ بادل نخواستہ کیا جاتا ہے اس میں بھی کسی نہ کسی بہانے کوئی نہ کوئی کٹوتی کر لی جاتی ہے۔
یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ پاکستان میں ارکان پارلیمنٹ کے مشاہرے بہت کم ہیں کیونکہ انھیں نہ صرف غیر معمولی تنخواہیں اور مراعات دی جاتی ہیں بلکہ مختلف شعبوں کے بارے میں اپ ٹو ڈیٹ اطلاعات و معلومات حاصل کرنے کے لیے تحقیقی سپورٹنگ اسٹاف بھی دیا جاتا ہے جو اراکین پارلیمنٹ کو تمام تر زیر بحث مسائل کے حوالے سے پوری طرح باخبر رکھتا ہے اور وہ ہر قومی معاملے میں حکومت کی درست سمت میں رہنمائی کے لیے ہر طرح سے تیار ہوتے ہیں۔
مغربی ممالک کے ارکان پارلیمنٹ کو اتنی تنخواہیں، مراعات اور سہولتیں اس لیے دی جاتی ہیں کہ وہ ریاست کی طرف سے عائد ذمے داریوں کو محنت اور دیانتداری کے ساتھ ادا کر سکیں انھیں اپنے اس منصب پر فائز رہنے کے دوران کوئی دوسرا کاروبار کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ اس لیے انھیں اپنے روز مرہ معاملات کی انجام دہی کے لیے مالی اعتبار سے ہر فکر سے آزاد رکھنے کی سعی کی جاتی ہے، لیکن پاکستان میں عمومی طور پر اراکین اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کو پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھا جاتا جس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اراکین اسمبلی کی عمومی کارکردگی بہت ناقص ہے۔
اکثروبیشتر وہ اسمبلی  کے اجلاس  سے غیر حاضر رہتے ہیں کئی ایک تو مہینوں تک ایوان میں نظر نہیں آتے اور اگر آ بھی جائیں تو کسی بھی قومی مسئلے پر ان کی تیاری نہیں ہوتی اور اسی وجہ سے وہ کسی بھی اہم سوال کا اطمینان بخش جواب دینے سے قاصر ہوتے ہیں، کئی اراکین اسمبلی اور وزرائے اعلیٰ کو اجلاس کے دوران اونگھتے ہوئے بھی پایا گیا ہے، امور مملکت کی انجام دہی میں ان کی اس عدم دلچسپی اور ناقص کارکردگی کے باعث عوام ان کے اعزازیوں، تنخواہوں اور مراعات میں اضافے پر معترض ہوتے ہیں اگر وہ اپنی کارکردگی کو بہتر بنائیں۔ سنگل سورس آف انکم پر اکتفا کرتے ہوئے اپنے آپ کو ہر قسم کے نجی کاروبار سے علیحدہ ہو کر اپنی توانائیوں کو وسیع تر قومی و ملکی مفاد میں استعمال کریں تو عوام ان کے اعزازیے اور تنخواہوں میں اضافے کو کبھی ناپسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھیں گے۔
یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ہم عرصہ دراز سے حکمت عملی کے نام پر حقائق کی لاش پر مصلحت کا کفن ڈالتے چلے آ رہے ہیں اور تاریخ دم سادھے دیکھ رہی ہے کہ برسہا برس کئی مفلوج اذہان کی آماجگاہ بنے رہنے والے اس کم نصیب ملک سے کوئی آفتاب تازہ طلوع ہوتا ہے یا نامرادی اور بے یقینی کی رات لمبی ہوتی چلی جائے گی۔ پانی، بجلی، گیس، صحت، تعلیم اور غربت و افلاس کے ہوش ربا مسائل سے برسر پیکار ہمارے عوام جس طرح کی زندگی گزار رہے ہیں وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے ان کے مسائل اور مصائب کا تذکرہ ملکی ایوانوں میں دیکھنے اور سننے کو نہیں ملتا، کسی منسٹر،  چیف منسٹر یا پھر گورنر کو عوام کے دکھ درد کا پرچار کرتے اور اسے ختم کرنے کا کوئی ہنر کسی اہل وطن نے کبھی نہیں دیکھا، ایسے میں ان کی تنخواہوں میں اضافہ کس کارکردگی کی وجہ سے؟
کون نہیں جانتا اس وقت پاکستان میں دو کروڑ سے زائد ایسے افراد ہیں جن کی روزانہ آمدنی 75 یا 80 روپے سے زیادہ نہیں اور ایک عام آدمی (مڈل کلاس) کی روزانہ آمدنی ایک سے ڈیڑھ سو روپے یومیہ ہے پاکستان کے 7 کروڑ 70 لاکھ لوگ خوراک کی شدید کمی کا شکار ہیں اور اب ان کی تعداد میں اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو تین وقت کا کھانا بھی نصیب نہیں ہوتا۔ یہ ایک چشم کشا حقیقت ہے کہ پاکستان کے ایک سے ڈیڑھ کروڑ گھروں میں صرف ایک بار چولہا جلتا ہے اور ’’آلو سالن‘‘ بنانے والے گھرانے بھی لاکھوں میں شمار ہوتے ہیں۔
پاکستان کا شمار دنیا کے ان 35 ممالک میں ہوتا ہے جو خوراک کے شدید بحران کا شکار ہیں۔ اور ہمارے حکمرانوں اور وزیروں اور افسر شاہی سے وابستہ لوگوں کی عیش و عشرت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے بات وہی آ جاتی ہے کہ اپنے گندے کپڑے دوسروں کے سامنے دھونے سے اپنی ہی سبکی ہوتی ہے۔ تاہم ہماری قوم صبر کرنے کی عادی ہے  لیکن اسلام میں ظلم کے خلاف صبر کی تلقین نہیں کی گئی ورنہ حضرت امام حسینؓ کربلا میں نہ جاتے۔
شاہد سردار