دربار محل

Gulzar-Mahal-Bahawalpur-Photos-of-Bahawalpur

نواب صادق محمد خان رابع نے دو لاکھ روپے کی لاگت سے بہاولپور میں ایک محل تعمیر کروایا جو پہلے دولت خانہ اور پھر دربار کے نام سے مشہور ہوا۔ محل میں نواب کی بیگمات کے لئے کئی چھوٹے چھوٹے محل بھی قائم تھے ۔ ایک وسیع و عریض ہال میں نواب آف بہاولپور دربار لگاتے تھے جو’’دربار محل‘‘ کے نام سے مشہورہے۔

ریاست کے پاکستان میں ضم ہونے کے بعد وہاں ڈویثرنل کمشنر اور مقامی افسران کے دفاتر قائم ہوئے جبکہ عوامی دور میں اس کے ہال میں اسمبلی کے اجلاس منعقد ہوتے تھے اور آجکل یہاں عارضی طور پر بہاولپور پریس کلب قائم ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اے پی این ایس کا پہلا اجلاس بھی اسی محل کے ہال میں ہوا تھا۔ جس میں ملک بھر سے صف اول کے صحافی شریک ہوئے تھے۔

سیت پور

تحصیل علی پور کا تاریخی قصبہ سیت پور کا شمار قدیم ترین شہروں میں ہوتا ہے اس کا ذکر ہندوئوں کی مذہبی کتاب ’’رگ وید‘‘ میں ملتا ہے جس کے مطابق آریائی قوم جن دیوتائوں کو پوجتے تھے انہی کے ناموں سے شہروں کو منسوب کر دیا جاتا تھا۔ تین سو قبل مسیح راجہ سنگھ کے نام سے دیو گڑھ اور اس کی دو بہنوں سیتارانی کے نام سے سیت پور اور اوچارانی کے نام سے اُچ شریف جیسے شہر آباد کئے گئے۔ سیت پور‘ علی پور سے 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے تاریخی قصبہ سیت پور زرخیزی کے حوالے سے بڑی اہمیت رکھتا ہے سکندر اعظم جب ایران کے آخری کیان بادشاہ داراسوم کو شکست دے کر پنجاب میں راجہ پورس کو شکست دیتے ہوئے ملتان پہنچا تو ملتان میں ملہی قوم کے ہاتھوں زخمی ہوا اور پھر سیت پور سے ہوتا ہوا بلوچستان کے راستے اپنے وطن لوٹ گیا۔

مرقع ڈیرہ غازی خان اور بندوبست 1872ء محکمہ مال کے ریکارڈ کے مطابق اسلام خان نے دریائے سندھ کے دائیں کنارے لودھی حکومت کی داغ بیل ڈالی۔ ڈسٹرکٹ گزٹیئر مظفر گڑھ کی روشنی میں لودھی حکومت کا صدر مقام سیت پور تھا یہ حکومت راجن پور‘ شکار پور‘ علی پور اور کوہ سلیمان کے علاقوں تک پھیلی ہوئی تھی روایت ہے کہ یہاں کا ایک حکمران بہت ظلم کرتا تھا۔ متاثرہ عوام نے انہیں ’’تابڑ‘‘ کا نام دیا جس کی وجہ سے حکمران ’’تابڑ خاندان‘‘ کے نام سے مشہور ہو گئے۔ ڈسٹرکٹ گزٹیئر بہاولپور میں لکھا ہے کہ بہلول لودھی کے چچا اسلام خان لودھی نے جب ریاست کی بنیاد ڈالی تو اس کا صدر مقام سیت پور کو بنایا گیا اس بات کی تصدیق تذکرہ روسائے پنجاب سے بھی ہوتی ہے کہ ملتان کے گورنر بہلول لودھی نے اپنے دور میں اپنے چچا اسلام خان کو مظفر گڑھ اور ڈیرہ غازی خان کے جنوبی اور سندھ کے شمالی حصے کا ناظم مقرر کیا۔

اسلام خان ثانی اور جلال خان اسلام خان کے دو بیٹے تھے۔ اسلام خان ثانی سیت پور کی سلطنت کا اور جلال خان نے دکن میں حکمرانی کے مزے لوٹے یوں یہ سلسلہ اسلام خان دوم اکرام خان اور اس کے دو بیٹوں سلطان محمد خان اور شاہ عالم خاں کا چلتا رہا۔ سلطان محمد خان کی حکمرانی اور اصولوں کے ڈنکے طول و عرض میں بجتے تھے پھر اس کے بیٹے طاہر محمد خان نے حکمرانی سنبھالی۔ روایت ہے کہ سخی حکمران ہونے کی وجہ سے یہ ظاہر محمد خان سخی کہلانے لگا۔ اس نے کثیر سرمائے سے اپنے باپ کا مقبرہ اور شاہی مسجد بھی تعمیر کرائی جو اب تک قائم ہے۔ مقبرہ میں طاہر خان سخی اپنے والد سلطان محمد خان کے پہلو میں ابدی نیند سو رہا ہے لیکن اس کے تعمیر کردہ مزار نے اسے اب تک زندہ رکھا ہوا ہے ہشت پہلو مقبرہ اسلامی طرز تعمیر کا خوبصورت شاہکار اس پر ملتانی ٹائل اور نقاشی کا عمدہ کام کیا گیا ہے۔

کھجور کی لکڑی کا مرکزی دروازہ مضبوطی میں اپنی مثال آپ ہے۔ آپ محرابوں کے راستوں نے اسے ہوادار اور روشن بنا رکھا ہے۔ اس سے ملحقہ سیت پور کی سب سے بڑی جامع مسجد ہے۔ یہاں بھی ملتانی نقاشی کے عمدہ نمونے دیکھنے کو ملتے ہیں جب طاہر خان ثانی کا دور حکومت شروع ہوا تو یہاں کثیر تعداد میں مخادیم آباد تھے جوتاہڑ حکومت کی طرف سے مختلف علاقوں میں ناظم مقرر تھے۔ لالہ ہنورام کی کتاب ’’گل بہار‘‘ کے مطابق تاہڑ خاندان کی حکومت اس وقت کمزور ہو گئی جب نادہ شاہ کے دور میں شیخ محمد راجو اول نے اپنی سلطنت کا اعلان کر دیا۔ بہاولپور گزٹیر میں لکھا ہے کہ شیخ محمد راجو نے نادر شاہ سے سیت پور سلطنت کا پروانہ اپنے نام لکھوا لیا اور یوں تاہڑ خاندان کی حکومت ختم ہو کر رہ گئی۔

1781ء میں تاریخ نے اپنے آپ کو دہرایا اور نواب بہاول خان ثانی نے شیخ راجو ثانی کے دور میں جتوئی پر قبضہ کر لیا 1790ء میں جب دریائے سندھ کا رخ سیت پور کے مغرب میں ہوا تو نواب آف بہاولپور کے لیے مزید آسانیاں پیدا ہو گئیں۔ یوں نواب آف بہاولپور نے علی پور شہر سلطان خیرپور سادات کے علاقے سیت پور سے ریاست بہاولپور میں شامل کر دیئے۔ 1816ء میں رنجیت سنگھ نے اس علاقے کی بچی کھچی ریاست کو اپنے قبضے میں لیا یوں مخادیم کی حکمرانی بھی ختم ہو گئی اور سیت پور ایک معمولی علاقے تک محدود ہو کر رہ گیا۔

شیخ نوید اسلم

(پاکستان کے آثار قدیمہ سے انتخاب)

پنجاب رینجرز ہیلپ لائن

rangers پاک فوج نے آپریشن ”رد الفساد“ میں پنجاب رینجرز کی معاونت اور کسی بھی مشکوک شخص اور سرگرمی کی اطلاع دینے کیلئے فون نمبرز جاری کر دئیے ہیں۔ پاک فوج کے تعلقات عامہ کے ادارے (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ عوام کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع دینے کیلئے 042-99220030 یا 042-99221230 پر رابطہ کر سکتے ہیں.

2_93641جبکہ واٹس ایپ پر اطلاع دینے کیلئے 0340-8880100 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق عوام اگر کسی مشکوک شخص یا سرگرمی سے متعلق ایس ایم ایس کے ذریعے اطلاع دینا چاہتے ہیں تو اس مقصد کیلئے 0340-8880047 نمبر استعمال کیا جا سکتا ہے جبکہ ای میل ایڈریس help@pakistanrangerspunjab.com  پر بھی اطلاع دی جا سکتی ہے۔

راولپنڈی کی تاریخی جامع مسجد

اسلامی و مغلیہ طرز تعمیر کا عظیم شاہکار 121 سالہ پرانی مرکزی جامع مسجد راولپنڈی کا شمار پوٹھوہار ریجن کی چند تاریخی مساجد میں ہوتا ہے ، تاریخی مسجد کا سنگ بنیاد پیرمہرعلی شاہ گولڑہ شریف اور پیر آف میرا شریف پیر اللہ بخش نے 1896ء میں رکھا اور 1902ء میں تعمیر مکمل ہوئی۔ شہر کی جس مصروف شاہراہ پر یہ تاریخی مسجد واقع ہے اس سڑک کا نام بھی جامع مسجد روڈ رکھ دیا گیا۔ 18 کنال رقبے پرمحیط مسجد اسلامی آرٹ کا شاہکار ہے، مسجد کے 3 گنبد اور کئی چھوٹے چھوٹے مینار ہیں ۔ مسجد کی تعمیراور تزئین وآرائش میں جو غیرروایتی رنگ، میٹریل اور طرز تعمیر مقامی تاریخ کی ترقی وعروج کی ایک مثال ہے۔ مرکزی جامع مسجد کا انتظام محکمہ اوقاف کے پاس ہے۔

مسجد کے خطیب حافظ محمداقبال رضوی کے مطابق جب 1896ء میں مسجد کا سنگ بنیاد رکھا گیا تو مقامی سکھ آبادی نے روکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی ، جس پرمقامی مسلمان آبادی نے گولڑہ شریف اورمیرا شریف کے پیر صاحب سے رابطہ کیا اورپھر پیرمہرعلی شاہ اور پیر اللہ بخش نے سنگ بنیاد رکھا اور اختلاف ختم کرایا۔ یہ تاریخی مسجد آج بھی راولپنڈی شہرکی سب سے بڑی مسجد ہے جہاں ہزاروں افراد نماز جمعہ کیلئے خصوصی طور پرجمع ہوتے ہیں ۔ معروف شاعروادیب عطاالحق قاسمی کے والد مولانا بہائوالحق قاسمی جامع مسجد کے پہلے خطیب تھے اور اس وقت مسجد میں ایک ڈویژنل خطیب، ایک خطیب، ایک نائب خطیب، ایک موزن، ایک مدرس، دو خادم اور ایک خاکروب کام کر رہے ہیں جن کی تنخواہ اوقاف پلازا کی آمدنی میں سے محکمہ اوقاف ادا کرتا ہے۔

ڈاکٹرزاہداعوان

پنجاب کے بھولے بسرے پکوان

پنجاب کے روایتی پکوان سادہ مگر ذائقے سے بھرپور رہے ہیں۔ چونکہ دیہاتی ماحول میں گائے بھینسوں کا دودھ اور اس کی ذیلی پیداوار گھی اور مکھن کی صورت میں عام تھی اس لئے گھروں میں سالن پکانے کے لیے دیسی گھی استعمال ہوتا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آبادی میں بے پناہ اضافہ ہوا اور دیہاتوں نے شہروں کا روپ دھارنا شروع کیا تو تن آسانی اور پیداواری قلت کی وجہ سے دیسی گھی کی جگہ بناسپتی گھی نے لے لی اور مزید وقت گزرنے کے ساتھ اور صحت کے مسائل سے آگہی اور تعلیم کے نسبتاً عام ہونے کے ساتھ خوردنی تیل کا استعمال بھی شروع ہو گیا۔ آج بھی پکانے کے لیے دیسی گھی کی شدید قلت اور دیہاتی زندگی میں حکمرانوں کی عدم دلچسپی، مویشی پالنے کے جدید طریقوں سے لاعلمی اور زراعت کو ترجیح نہ دینے کی پالیسی کی وجہ سے اس قلت میں اور اضافہ ہوا۔

اس لیے آج کل پنجاب کے دیہات میں بناسپتی گھی زیادہ اورخوردنی تیل بہت کم استعمال ہو رہا ہے۔ روایتی مزیدار پکوان آج کل کھانے کو تو کم کم ملتے ہیں، تاہم یہاں ان کے ذکر سے ضرور لطف اندوز ہوا جا سکتا ہے۔ سرسوں کا ساگ، مکئی کی روٹی پنجاب کا پرلطف اور سادہ ترین کھانا سرسوں کی نرم و گداز گندلوں سے تیار کیا ہوا سالن… جس میں مکھن کی بہتات ہوتی ہے، مکئی کے آٹے سے بنی روٹی کے ساتھ کھانا پنجاب کی پہچان تھا۔ آج شہروں میں تو کیا دیہاتوں میں بھی یہ کھانا معدوم ہوتا جا رہا ہے۔ اس کی وجوہ بھی سہل انگاری اور تن آسانی ہی کہی جا سکتی ہے۔ سرسوں کا ساگ پکانے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے اور پکانے میں توجہ اور محبت درکار ہوتی ہے،جو شاید کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس طرح یہ روایتی ذائقہ اب عام نہیں رہا، تاہم ابھی بالکل ختم نہیں ہوا۔ بینگن کا بھرتا تنور ہماری پنجابی تہذیبی روایت کا جزو لازم رہا ہے۔ گھروں میں تنوریاں موجود تھیں جہاں خواتین خود روٹیاں پکاتی تھیں۔

ان کے علاوہ دیہاتوں میں تنور پیشہ کے طورپر بھی موجود تھے۔ جہاں اجرت کے طورپر گندھا ہوا آٹا لے کر روٹیاں لگائی جاتیں، پھر وقت گزرنے کے ساتھ معاشی حالات میں بہتری کی وجہ سے پیسے دے کر تنور سے روٹیاں لگوائی جاتیں۔ انہی تنوروں میں بینگن کا بھرتا (آگ پر پکانا) تیار کیا جاتا ہے۔ بینگن کا پکا ہوا گودا نکال کر دہی میں ملایا جاتا ہے۔ ہری مرچیں اور پیاز ملا کر تنور کی روٹی سے کھایا جانا والا بھرتا مزہ ہی مزہ دیتا تھا۔ یہ ڈش بہت جلد تیار ہو جاتی ہے اس لیے گرمیوں میں بطور خاص پسند کی جاتی ہے۔ کڑھی پکوڑا، کڑھی پکوڑا بھی پنجاب کا مصالحے دار اور مزے دار پکوان رہا مگر آج کل سوغات بن چکا ہے۔ بیسن کے پکوڑے تلے جاتے جو خوب چٹ پٹے اورمصالحے دار ہوتے۔ چاٹی کی لسی میں بیسن کو پکال کر سالن تیار کیا جاتا۔ اس میں پکوڑے ڈالے جاتے اور تنوری روٹی سے کھانے کا لطف اٹھایا جاتا۔ کڑھی پکوڑا آج شہروں میں ہوٹلوں میں عام ملتا ہے مگر یہ روایتی دیہاتی کڑھی پکوڑے کے ذائقے کو چھو بھی نہیں سکتا۔ پنجیری مٹھائی پنجابی ثقافت کا اہم حصہ ہے۔

گنے کے استعمال سے لیکر گڑ، شکر اور چینی کا استعمال پنجاب کی روایت ہے۔ کوئی تقریب مٹھائی کے بغیر نامکمل سمجھی جاتی ہے۔ مٹھائیاں گھروں میں بھی تیار کی جاتی ہیں اور دکانوں میں بھی۔ پنجیری کا بطور خاص تذکرہ اس لیے ضروری ہے کہ یہ گھریلو مٹھائی ہے اور ہر گھرمیں اپنی معاشی طاقت کے مطابق اپنے طریقے سے تیار کی جاتی ہے۔ اس کے اجزائے ترکیبی میں گندم کا ان چھنا آٹا (whole wheat) بنیادی جزو ہے اس آٹے کو دیسی گھی میں خوب بھونا جاتا ہے۔ اس بھنے ہوئے آمیزے میں چینی یا شکر ملا دی جاتی ہے۔ اس کے بعد بادام، مغزیات، کھوپرا، گوند کتیرا، سونف، کمرکس، اجوائن، سونٹھ، الائچی اور اخروٹ کی گریاں ملائی جاتی ہیں۔

تاہم دیگر اہل خانہ بھی شوق سے یہ پنجیری کھاتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ مزیدار ڈش بھی غائب ہو رہی ہے۔ شاید ڈرائی فروٹ کی آسمان کو چھوتی قیمتیں اس مزیدار مٹھائی کو پنجاب کے منظر نامے سے غائب کر کے چھوڑیں گی۔ پوٹوں (پوروں ) کی سویاں پنجاب کی نفاست (Delicacy) ہاتھ کی پوروں کی مدد سے بنی سویاں ایک مزیدار شیرینی (Desert) جو آج تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ راقم کے بچپن کی ایک خوبصورت یاد، خواتین اکٹھی ہو کر گرمیوں کی دوپہروں میں خوش گپیوں کے ساتھ ساتھ سوجی کے گندھے ہوئے آٹے کو انگلیوں کی پوروں کی مدد سے باریک چاول نما بل دار سویاں تیار کرتیں۔ گندم کی بالیوں سے بنی خوبصورت چنگیروں میں سویاں کسی مشین کی سی تیزی سے گرتیں اور چنگیر سویوں سے بھر جاتی۔

ان کو خشک کیا جاتا اور پھرناشتے میں ان سویوں کو روایتی طریقے سے چینی کے شیرے میں پکایا جاتا۔ آج یہ ڈش تقریباً ناپید ہے۔ چڑوے پنجاب کی دوسری اہم فصل چاول، مونجی کے کاشت والے علاقوں میں فصل اٹھانے کے بعد چڑوے بنائے جاتے۔ ایک خاص طریقے سے مونجی بھگو کر بڑے بڑے چٹوئوں میں بھاری بھر کم ڈنڈوں سے خواتین یہ چڑوے بناتیں چھلکے الگ کئے جاتے اور چپٹے چڑوے تیار ہو جاتے۔ یہ میٹھا ملا کر بھی کھائے جاتے اور اس کی نمکو بھی بنتی، کمرشل بنیادوں پر شایدچڑوے آج بھی ملتے ہیں مگر گھر پر تیار کرنے کا عمل ختم ہو چکا ہے۔

غلام نبی شاکر

(’’میرا گمشدہ پنجاب ‘‘ سے اقتباس )

Bullock Cart Racing in Punjab, Pakistan

6367428869_f675411dc3

A bullock cart or ox cart is a two-wheeled or four-wheeled vehicle pulled by oxen (draught cattle). It is a means of transportation used since ancient times in many parts of the world. They are still used today where modern vehicles are too expensive or the infrastructure does not favor them. Used especially for carrying goods, the bullock cart is pulled by one or several oxen (bullocks). The cart (also known as a jinker) is attached to a bullock team by a special chain attached to yokes, but a rope may also be used for one or two animals. The driver and any other passengers sit on the front of the cart, while load is placed in the back. Traditionally the cargo was usually agrarian goods and lumber.

گڑھ مہاراجہ

70335628ضلع جھنگ، تحصیل احمد پور سیال کا ایک قصبہ، یہ دریائے چناب کے مغربی کنارے پر جھنگ سے ۹۰ کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ احمد پور سیال سے اس کا فاصلہ ۲۰ کلو میٹر ہے۔ لیہّ، ملتان اور مظفر گڑھ کو یہیں سے سڑکیں جاتی ہیں۔ یہ تاریخی حیثیت کا حامل قصبہ ہے۔ جب شہاب الدین غوری نے ملتان پر حملہ کیا اور اس غرض کے لیے وہ شور کوٹ پہنچا تو اس نے پہلی فوجی چھاؤنی گڑھ مہاراجہ کے میدان میں ڈالی تھی۔ ملتان کی فتح کے بعد اپنی اس فوجی چھاؤنی کو باقاعدہ شہر میں بدلا اور اس کا نام شاہ نگر رکھا۔ بعد میں یہ شہر مختلف جنگوں کی زد میں آ کر تباہ و برباد ہو گیا۔ یہاں سے تین کلو میٹر کے فاصلے پر حضرت سلطان باہوؒ کا مزار ہے۔ مغلوں کے عہد میں یہ قلعہ قہر گان کا علاقہ کہلاتا تھا۔22841513131_9b6aa9a545_b.jpg

مغل بادشاہ شاہجہان نے حضرت سلطان باہو ؒ کے والد محترم سلطان بازید کو ان کی فوجی اور تبلیغی خدمات کے صلہ میں قلعہ قہرگان کے قریب دریائے چناب کے کنارے جاگیر عطا کی تھی۔ یہ علاقہ اس وقت ملتان صوبے کے ماتحت اور اورنگ زیب کی جاگیر میں تھا۔ ۱۶۴۸ء میں اورنگ زیب نے قہرگان (گڑھ مہاراجہ) میں دریائے چناب کے کنارے مضبوط قلعہ تعمیر کروایا کیونکہ اس زمانے میں بلوچوں نے ہلچل اور شورش پیدا کر رکھی تھی۔ وہ خود بھی دو مرتبہ یہاں قیام پذیر ہوا اور حضرت سلطان باہوؒ کی مجلس عرفان سے فیض یاب ہوا۔ بعد میں یہ قلعہ شکستہ ہو گیا تو نواب ولی داد خان کے عہد میں کوڑا رام نے اس کی دوبارہ مرمت کرائی اور شہر بسایا اور اس کا نام راج گڑھ رکھا۔

بعد ازاں یہ علاقہ رجب سیال کی جاگیر میں مل گیا اوریہ علاقہ گڑھ مہر رجب کے نام سے مشہور ہو گیا۔ سکھوں کے عہد میں یہاں شدید سیلاب آیا جس سے عمارتیں منہدم ہو گئیں چنانچہ دیوان مولراج کے عہد نظام میں نوازش علی خان کے دادا نے ۱۸۴۳ء میں موجودہ قصبہ کی بنیاد ڈالی اور یہ علاقہ پھر آباد ہوتا چلا گیا۔ سکھوں کے بعد انگریزی دَورمیں بھی قصبہ آبادی کے لحاظ سے ترقی کرتا رہا۔ ۱۸۴۸ء میں پنجاب پر انگریزوں کے قبضے کے بعد گڑھ مہاراجہ کا علاقہ ضلع مظفرگڑھ میں شامل کیا گیا۔ ۱۸۶۱ء میں نئے بندوبست کے تحت اسے ضلع جھنگ کی تحصیل شور کوٹ میں شامل کر دیا گیا۔ ۱۹۱۹ء کی ایک سرکاری دستاویز کے مطابق اس وقت یہاں تھانہ اور ڈاکخانہ موجود تھے۔

کپاس اور گندم علاقے کی اہم زرعی پیداوار ہیں۔ واجد علی واجد یہاں کے معروف شاعر ہیں۔ ان کا مجموعہ ساغر شائع ہوا۔ معروف پنجابی گلوکار منصور ملنگی کا تعلق بھی اسی قصبے سے ہے۔ گڑھ مہاراجہ کی آبادی ۱۹۸۱ء میں ۱۶۲۳۳ اور ۱۹۹۸ء میں ۲۵۰۹۴ نفوس پر مشتمل تھی۔ اب اس کی آبادی ۳۴ ہزار کے لگ بھگ ہے۔

( اسد سلیم شیخ کی کتاب ’’نگر نگر پنجاب: شہروں اور قصبات کا جغرافیائی، تاریخی، ثقافتی اور ادبی انسائیکلوپیڈیا‘‘ سے مقتبس –

حویلی بہادر شاہ

ضلع جھنگ کا قصبہ، جھنگ صدر سے شور کوٹ روڈ پر ۲۶ کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس کی بنیاد ۱۷۷۰ء میں قریشی خاندان کے بزرگ بہادر شاہ نے رکھی اور سیال حکمران عنایت اللہ خان کے عہد میں اسے جنگی نوعیت کی اہم چوکی کا درجہ حاصل تھا۔ یہیں پر ڈیرہ غازی خان کی سمت جانے والی افواج تیار کی جاتی تھیں۔ بہادر خان قریشی سیال حکمران کا قابلِ اعتماد مشیر اور وزیر تھا۔ بعد میں یہ علاقہ بطور جاگیر اس کی اولاد کو عطا ہوا۔ اس قصبہ سے نامور لوگ پیدا ہوئے ،جن میں مخدوم کبیر، شیخ یوسف شاہ (مرحوم)، اختر علی قریشی، انور شاہ قریشی شامل ہیں۔

سیّد مظفر علی ظفر اور غلام یٰسین حیرت کے نام شعری اور ادبی حوالے سے قابلِ ذکر ہیں۔ سیّد مظفر علی ظفر کو غزل اور نظم دونوں پر عبور حاصل تھا۔ ہندی میں گیت بھی لکھے اور تُلسی داس کے نام سے ان کا مجموعہ کلام ’’ظفر موج‘‘ کے عنوان سے مرتب ہوا۔ ان کی ایک کتاب ’’جدید سیاسی جغرافیہ ضلع جھنگ‘‘ (طنز و مزاح) ۱۹۶۶ء میں شائع ہوئی۔ غلام یٰسین حیرت کا تعلق یہاں کے قریشی خاندان سے تھا۔ قومی نظموں اور نعتیہ شاعری میں ان کی شہرت تھی۔ یہاں صحت و تعلیم کی سہولتیں دستیاب ہیں۔

(کتاب ’’نگر نگر پنجاب:شہروں اور قصبات کا جغرافیائی، تاریخی، ثقافتی اور ادبی انسائیکلوپیڈیا‘‘ سے مقتبس) –

اٹھارہ ہزاری

اٹھارہ ہزاری ضلع جھنگ کا ایک مشہور قصبہ ہے، جو براستہ تریموں ہیڈورکس جھنگ سے قریباً چوبیس کلومیٹر دُور ہے۔ مخدوم تاج الدین اٹھارہ ہزاری کی نسبت سے اس قصبے کا نام پڑا۔ یہ بزرگ یہیں دفن ہیں اور ان کا مزار اس علاقے کی شہرت کا سبب ہے۔ حضرت مخدوم تاج الدین المعروف اٹھارہ ہزاری دراصل غزنی کے رہنے و الے تھے۔ سلطان محمود غزنوی کی فوج میں اعلیٰ عہدیدار تھے۔ جب آپ تریموں پہنچے، تو اس جگہ قدرتی حُسن سے متاثر ہو کر دریائے جہلم کے کنارے کیمپ لگا لیا۔ یہیں آپ کا انتقال ہو گیا، جس کے بعد آپ کو آپ کی وصیت کے مطابق اسی جگہ دفن کر دیا گیا۔ جب سلطان محمود کو آپ کی وفات کی خبر ملی، تو وہ سخت رنجیدہ ہوا اور آپ کی قبر پر پختہ مزار تعمیر کرنے کا حکم دیا۔

بعض روایات کے مطابق سلطان محمود غزنوی کے بیٹے مسعود نے ہندستان میں سب سے پہلے جو عمارت تعمیر کروائی، وہ یہی مزار تھا۔ سیلاب کے باعث یہ قدیم مزار گر گیا، تو حضرت اٹھارہ ہزاری کے جسد خاکی کو موجودہ جگہ لا کر دفن کیا گیا۔ یہاں ہر سال ان کا عرس میلہ لگتا ہے، جس میں ہزاروں عقیدت مند شرکت کرتے ہیں۔  آپ سلطان محمود غزنوی کی فوج میں اٹھارہ ہزاری کے منصب پر فائز تھے اور جب آپ اس علاقے میں وارد ہوئے تو اٹھارہ ہزار فوجی آپ کی کمان میں تھے۔ یہ روایت زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔ انگریزی عہد میں یہاں تھانہ اور ڈسپنسری قائم ہوئے۔

اب یہاں طلبا و طالبات کے سکول ، ہسپتال، شفا خانہ حیوانات، بینکوں کی شاخیں بھی موجود ہیں۔ اٹھارہ ہزاری کے طلبا و طالبات کے ہائی سکول قریبی قصبہ واصُو میں موجود ہیں، یہاں ایک مین بازار سبزی منڈی اور قریب ہی حق باہو شوگر مل اور شکر گنج شوگر مل کے صنعتی یونٹس بھی ہیں۔ پانچ مرلہ سکیم، آبادی اٹھارہ ہزاری اور رتیڑی محلہ یہاں کی رہائشی آبادیاں ہیں۔ معروف لوک گلوکار منصور ملنگی کا تعلق اسی قصبے سے تھا۔

(کتاب ’’نگر نگر پنجاب:شہروں اور قصبات کا جغرافیائی، تاریخی، ثقافتی اور ادبی انسائیکلوپیڈیا‘‘ سے مقتبس) –

کنگن پور

ضلع قصور، تحصیل چونیاں کا ایک قصبہ۔ یہ نہر دیپالپور کے کنارے چونیاں سے جانب مغرب بیس میل اور قصور ریلوے جنکشن سے ۸۳ میل کے فاصلے پر ہے۔ دفاعی اعتبار سے اس کو بڑی اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہ ضلع قصور کا پاک بھارت سرحد کے قریب آخری قصبہ ہے۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ابتداً اسے ایک عورت کنگنا رائے نے تیرہ سو برس پہلے آباد کیا تھا اور اس کا نام کنگن پور مشہور ہوا۔ محمد بن قاسم کے ہندوستان پر حملہ کے زمانے میں یہ بستی اُجڑ گئی اور پھر کئی سو برس تک ویران رہی۔ تقریباً تین سو سال قبل علی اکبر مغل نے قصبہ پٹی سے آکر اس پرانے ٹیلے کے اوپر اس کی دوبارہ آبادکاری کی اور اسے پُرانے نام سے موسوم رکھا۔ اس روز سے مغل قوم یہاں کی مالک بنی۔ پھر کھتری، اروڑے اور راجپوت وقتاً فوقتاً آتے گئے اور بستے گئے۔

قصوری پٹھانوں کی اس علاقے میں عملداری ہوئی تو انہوں نے یہاں ایک قلعہ بنایا جس میں انگریزی دور میں پولیس کی چوکی قائم ہوئی۔ سکھوں کے عہد میں جوند سنگھ موکل یہاں کا جاگیردار تھا جس نے بھی یہاں ایک قلعہ بنوایا تھا۔ انگریزوں کے پنجاب پر قبضے کے بعد یہ قلعہ مسمار کر دیا گیا۔ ۰۷۸۱ء میں اس کی آبادی ۰۹۳۱ تھی جبکہ ۴۳۳ گھر یہاں موجود تھے۔ ۹۱۹۱ء کی سرکاری رپورٹ کے مطابق یہاں تھانہ اور ڈاکخانہ موجود تھے۔ یہاں سکھوں کا ایک تاریخی گوردوارہ موجود ہے۔ جو باباگورونانک کی زندگی کے ایک واقعہ کی یاد میں تعمیر کیا گیا۔

کنگن پور کا گوردوارہ ۹۳۹۱ء میں تعمیرہوا تھا۔ جو اب خستگی کی حالت میں ہے۔ سکھوں کے مذہبی مقامات کے مُصنف اقبال قیصر کے مطابق کنگن پنجاب کا واحد علاقہ ہے جہاں گلہڑ کی بیماری بکثرت پائی جاتی ہے. کنگن پور میں ستلج رینجرز کا وِنگ ہیڈکوارٹر قائم ہے۔ کنگن پور کی علمی و ادبی شخصیات میں عباد نبیل شاد، اسلم شاہد، اسلم عابد، اسلم شیراز، باقر رضا اور نذیر احمد زاہد کے نام نمایاں ہیں۔ کنگن پور کی آبادی ۱۸۹۱ء میں ۹۰۰۲۱ اور ۸۹۹۱ء کی مردم شماری کے مطابق ۳۴۶۸۱ نفوس پر مشتمل تھی ۔ اب اس کی آبادی ۵۲ ہزار کے لگ بھگ ہے۔

(کتاب ’’نگر نگر پنجاب:شہروں اور قصبات کا جغرافیائی، تاریخی، ثقافتی اور ادبی انسائیکلوپیڈیا‘‘ سے مقتبس)