زینب قتل کیس کا فیصلہ

پنجاب کے شہر قصور کی آٹھ سالہ معصوم بچی زینب کے اغواء، اور سفاکانہ قتل کے درندہ صفت مجرم عمران علی کو گزشتہ روز لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے چار مرتبہ سزائے موت، اکتالیس لاکھ روپے جرمانے اور عمر قید سمیت سخت سزاؤں کا حکم سنا دیا ہے جس پر ملک بھر میں بجا طور پر اظہار اطمینان کیا جا رہا ہے کیونکہ اس نوعیت کے سنگدلانہ جرائم کی روک تھام کیلئے دیگر اقدامات کیساتھ ساتھ عبرت انگیز سزائیں بھی قطعی ناگزیر ہیں۔ تاہم یہ امر بھی نہ صرف حکومتوں بلکہ پوری قوم خصوصاً اہل فکر و دانش کی فوری توجہ کا طالب ہے کہ معاشرے میں جنس زدگی اور اخلاق باختگی کے فروغ کے اسباب کیا ہیں اور ان پر قابو پانے کیلئے کن اقدامات اور تدابیر کے اختیار کیے جانے کی ضرورت ہے.

کیونکہ قصور کی یہ واردات کوئی منفرد واقعہ نہیں بلکہ جنسی جرائم، جن میں بچوں کیساتھ زیادتی کے واقعات خاص طور پر نمایاں ہیں، ملک بھر میں تیزی سے بڑھ رہے ہیں لیکن ان کی روک تھام کیلئے کسی بھی سطح پر کوئی فکرمندی نظر نہیں آتی۔ یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ زینب کا واقعہ بھی قصور ہی میں اسی سفاک مجرم کا شکار ہونے والی دوسری کم و بیش درجن بھر بچیوں کے مظلومانہ قتل کی طرح پولیس اور انتظامیہ کی لیت و لعل کی نذر ہو جاتا اگر علاقے کے لوگ اس پر غیر معمولی احتجاج نہ کرتے جس میں بتدریج پورا شہر اور پھر پورا ملک شامل ہو گیا۔ گزشتہ ماہ کے اوائل میں پیش آنے والی اس ہولناک اور الم انگیز واردات نے بلاشبہ پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ۔

قصور سے شروع ہونے والی احتجاج کی لہر ملک کے طول و عرض میں پھیل گئی جس کے نتیجے میں متعلقہ حکام اور اداروں کو بھی مجرم کا سراغ لگانے کیلئے بالآخر اپنی تمام صلاحیتوں اور توانائیوں کو حرکت میں لانا پڑا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے تحقیقات کی براہ راست نگرانی کی اور یوں مجرم کو قانون کی گرفت میں لانے اور کیفر کردار تک پہنچانے کی راہ ہموار ہو گئی، پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سائنٹفک بنیادوں پر شواہد کو شامل تفتیش کرتے ہوئے جرم کا تعین کیا گیا اور مجرم کو سزا سنائی گئی۔ لیکن یہ سب اس لیے ہوا کیونکہ زینب کے قتل کا واقعہ معصوم بچیوں کیساتھ اس نوعیت کی پے در پے وارداتوں کے بعد قصور کے لوگوں کے صبر کے پیمانے کو لبریز کرنے کا سبب بن گیا اورشہر میں پرتشدد مظاہرے شروع ہو گئے۔

کچرے کے ڈھیر سے گمشدہ زینب کی لاش ملنے کے بعد اہل علاقہ نے مشتعل ہو کر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کے دفتر پر دھاوا بول دیا، پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئیں اور پولیس کی فائرنگ سے دو افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔ چیف جسٹس نے زینب قتل کیس کا ازخود نوٹس لیا اور جے آئی ٹی تشکیل دی۔ جس کے بعد تفتیش کا سلسلہ تیزی سے آگے بڑھا، انسداد دہشت گردی عدالت نے ماہ رواں کی پندرہ تاریخ کو کیس کی سماعت مکمل کر کے فیصلہ محفوظ کر لیا جسے گزشتہ روز سنایا گیا۔ اس تفصیل سے واضح ہے کہ زینب کیس غیرمعمولی اہمیت اختیار کر جانے کی وجہ سے پایہ تکمیل تک پہنچا.

اگر اس کے پیچھے عوام کا یہ احتجاج اور چیف جسٹس کا سوموٹو نہ ہوتا تو غالب امکان اسی بات کا تھا کہ ان گنت معاملات کی طرح یہ کیس بھی سرد خانے کی نذر ہو جاتا یا تفتیش میں ناکامی کے عذر لنگ کیساتھ داخل دفتر کر دیا جاتا جبکہ جن معاشروں میں فی الواقع قانون کی بالادستی ہوتی ہے ان میں کسی بھی جرم کے سامنے آنے پر یکساں سرگرمی سے مجرم کو قانون کی گرفت میں لانے کیلئے پورا نظام متحرک ہو جاتا ہے۔ لہٰذا سانحہ قصور جیسے ہولناک واقعات کے مستقل سدباب کیلئے ضروری ہے کہ نفاذ قانون کے ذمہ دار اداروں کی اہلیت و استعداد میں قرار واقعی اضافہ کیا جائے اور انہیں کام چوری، رشوت خوری، اقربا پروری اور بددیانتی جیسی لعنتوں سے پاک کیا جائے پھر اس کیساتھ ساتھ ذرائع ابلاغ کے درست کردار اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کے ذریعے اخلاق باختگی ، جنس زدگی اور بے راہ روی کو بڑھانے والے اسباب کی روک تھام اور اسلامی تعلیمات کے مطابق پاکیزہ اور تعمیری فکر کے فروغ کیلئے مؤثر اقدامات عمل میں لائے جائیں۔

اداریہ روزنامہ جنگ

Advertisements