کیا ہم خود کو زیادہ خوش رکھ سکتے ہیں؟

خوش رہنے کی دعا عام طور پر دی جاتی ہے جس سے اس انمول شے کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ تاہم خوشی ہر ایک کا نصیب نہیں ہوتی۔ زندگی میں غم اور دکھ ہمارا پیچھا کرتے رہتے ہیں لہٰذا ضروری ہے کہ ان سے چھٹکارہ پانے اور خوشی حاصل کرنے کے طریقوں کا پتا چلایا جائے۔ بعض اوقات انسان خوشی پانے کے ہنر سے آگاہ نہ ہونے پر بھی زندگی کا لطف نہیں اٹھا پاتا۔ ان لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا شروع کریں جن سے آپ کو مسرت اور دلی سکون ملتا ہے۔ عام طور پر ہمارا دن تین حصوں میں تقسیم ہوتا ہے۔ گھر، دفتر اور دوست۔ تینوں میں خوشی کی تلاش اور پریشانیوں سے نجات کے لیے قدرے مختلف حکمت عملی ضرورت ہوتی ہے۔

گھر میں شریک حیات کے ساتھ بہتر اور خوش گوار تعلقات کا ہونا ضروری ہے۔ دفتر میں اپنے ہنر کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ کام کرنے والوں سے اچھا تعلق ہونا چاہیے۔ ایسی جگہ کام کرنے کو ترجیح دینی چاہیے جہاں کا ماحول آپ کو پریشان نہ کرے۔ منفی خیالات اور جذبات کو اپنے ذہن میں نہ آنے دیں کیونکہ یہ ہماری خوشی کے دشمن بن جاتے ہیں۔ ان اندرونی خیالات کی وجہ سے بیرونی خوشی کا احساس نہیں ہو پاتا۔ آئیے اس بارے میں مزید جانتے ہیں۔ خوشی کاارادہ کریں خوش رہنے کے لیے شعوری فیصلہ کرنا چاہیے ۔

معروف برطانوی فلسفی برٹرینڈ رسل اپنی کتاب کنکوئسٹ آف ہیپینس میں کہتے ہیں کہ خوشی انعام کی صورت میں نہیں ملتی اسے پانا پڑتا ہے۔ اسے پانے کے لیے انسان کو اپنی اندرونی اور بیرونی دنیا کو بدلنے کی کوششیں کرنا ہوتی ہے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق خوش رہنے کے لیے خوش رہنے کا ارادہ کرنا ضروری ہے۔ اپنے آپ سے خوش رہنے اور پریشان نہ ہونے کا عہد کرنا ہوتا ہے۔ خوشی کو اپنی زندگی کے بڑے مقاصد میں سے ایک بنانا پڑتا ہے۔ خوشی کے چھوٹے سے موقع کو بھی اہم جاننا چاہیے۔ دوسروں کی تعریف کریں شاید ہی کوئی فرد اپنی تعریف نہ سننا چاہے لیکن دوسروں کی تعریف کرنے میں کنجوسی پرتی جاتی ہے۔ اگر کسی نے تھوڑا سا بھی اچھا یا نیکی کا کام کیا ہے تو اس کی تعریف ضرور کرنی چاہیے اور شکریہ بھی ادا کرنا چاہیے۔ یہ کھلے دل کی علامت ہے۔ تنگ دل لوگ نہ خود خوش ہو پاتے ہیں اور نہ ہی دوسروں کو خوش دیکھ پاتے ہیں۔ ان میں خود کو شامل مت کیجیے۔ لوگوں کی مناسب انداز میں تعریف کر کے آپ نا صرف ان کے لیے مسرت کا سامان پیدا کریں گے بلکہ وہ آپ کے بارے میں مثبت تاثر قائم ہوتا ہے۔ گھر ہو یا دفتر تعریف کرنے سے لوگوں کے رویے بہتر ہوتے ہیں۔

اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ بے جا تعریف کی جائے۔ معاف کرنا سیکھیں کسی نے آپ کے ساتھ کچھ برا کیا ہو تو دکھ اور تکلیف کا ہونا فطری ہوتا ہے۔ لیکن اگر یہ دل و دماغ پر چھا جائے توانسان ہمہ وقت کوفت میں رہتا ہے جس سے خوشی جاتی رہتی ہے۔ بعض اوقات معاف نہ کرنے کی صورت میں پیدا ہونے والا ذہنی دباؤ ہمیں پریشان کیے رکھتا ہے ۔ یہ تشویش اورمایوسی کو بڑھا کر ہماری خوشی چھین لیتا ہے۔ اس سے چھٹکارہ پانے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ درگزر کو اپنی شخصیت کا حصہ بنالیں۔ معاف کرنا آسان نہیں ہوتا لیکن یہ ناممکن بھی نہیں۔ اگر کسی نے دھوکا دیا ہے تو معاف کرنے کی جانب پہلا قدم یہ ہو گا کہ آپ دھوکا دینے والے کے نکتہ نظر سے حالات کا جائزہ لیں اور یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ اس نے ایسا کیوں کیا ہو گا۔ اس وقت کو یاد کریں جب آپ نے کسی کو معاف کیا تھا۔ اپنے آپ سے کا عہد کریں کہ آپ درگزر سے کام لیں گے اور پھر اس پر قائم رہیں۔ منفی خیالات دور بھگائیں جسمانی صفائی کی طرح ذہنی صفائی بھی لازمی ہے۔

جسم سے میل اور گندگی کو صاف کرنا پڑتا ہے تو ذہن سے منفی خیالات کو۔ان خیالات کی آمد از خود ہوتی ہے تاہم انہیں ذہن سے نکالنے کے لیے شعوری کوشش کرنا پڑتی ہے۔ یہ مختلف طریقوں سے کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے سب سے پہلے اس وقت کویاد کرنا چاہیے جب منفی خیالات وارد نہیں ہوئے تھے۔ اس کے بعد زندگی کے مثبت پہلوؤں کی جانب توجہ مبذول کرنی چاہیے۔ متعدد سرگرمیاں منفی خیالات کو ذہن سے نکالنے میں مدد دیتی ہیں۔ ان میں مراقبہ، سیروسیاحت اور کتب بینی شامل ہیں۔ دولت خوشی نہیں خرید سکتی زندگی کی بنیادی ضروریات کا پورا ہونا ضروری ہے جس کے لیے دولت کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن اگر دولت ہی کو خوشی سمجھ لیا جائے تو خوشی روٹھ جاتی ہے۔

دولت کو سب کچھ سمجھ کر اس کی دوڑ میں بعض لوگ اتنے اندھے ہو جاتے ہیں کہ انہیں اور کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ وہ اپنوں سے دور ہو جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ اپنے لیے بھی وقت نہیں نکال پاتے۔ یقینا دولت چاہیے ہوتی ہے لیکن اسے خوشی کی قیمت پر حاصل نہیں کرنا چاہیے۔ اچھے دوست بنائیں ان افراد سے دوستی کریں جو آپ کا خیال رکھتے ہیں اور جن کے ساتھ وقت بتا کر مسرت کا احساس ہوتا ہے۔ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ زیادہ تعداد میں اچھے دوست رکھنے والے افراد زیادہ خوش و خرم رہتے ہیں۔ پس نئے اور اچھے دوستوں کی تلاش شروع کیجیے۔ مقصد تلاش کریں روزمرہ کی زندگی میں بہت سے کام ہماری ضرورت ہوتے ہیں چاہے ہم انہیں پسند کریں یا نہ کریں۔

مثال کے طور پر ہمیں بعض اوقات اس جگہ بھی ملازمت کرنی پڑتی ہے جہاں ہم کرنا نہیں چاہتے۔ تاہم کچھ فارغ وقت بھی ملتا ہے جسے بہت سے لوگ ٹی وی، فلم یا انٹرنیٹ پر ضائع کر دیتے ہیں۔ اس کی ایک اہم وجہ زندگی میں مقصد نہ ہونا ہے۔ زندگی کا بامعنی اور بامقصد ہونا ضروری ہے ۔ جتنا وقت ملے اپنے مقصد کے حصول کی کوشش کرنی چاہیے۔ چاہے چھوٹا ہو یا بڑا اپنی زندگی کا کوئی مثبت مقصد بنائیں اور اسے پانے کے جتن کریں۔ اس سے خوشی اور روحانی سکون بھی ملے گا اور دوسروں کا بھلا بھی ہو گا۔

محمد اقبال

Advertisements

مشکل حالات سے کیسے نمٹیں؟

مثبت رویہ کامیاب زندگی کی کلید ہے۔ اچھے حالات میں تو مثبت رویہ رکھنا اتنا مشکل نہیں لیکن وقت پلٹا کھا جائے تو ہم اس سے دامن چھڑا لیتے ہیں۔ جان رکھیں کہ ناکامیاں، مشکلات اور پریشانیاں بھی زندگی کا ہی حصہ ہیں، چاہے وہ چھوٹی ہوں یا بڑی، اس لیے اگر آپ واقعی ایک کامیاب شخصیت بننا چاہتے ہیں تو ہر طرح کے حالات میں اپنا رویہ اور سوچنے کا انداز برقرار رکھنا پڑے گا۔ خراب حالات کے باوجود اپنی سوچ کو ہمیشہ بہتر رکھنے کے لیے کچھ آزمودہ طریقے ہیں، جیسا کہ

وقفہ لیں آپ کی زندگی معمول کے مطابق گزر رہی ہو تو ایسا لگتا ہے کہ یہ ہمیشہ ہی ایسی رہے گی، پھر اچانک کچھ ہو جاتا ہے۔ آپ کے تمام منصوبے درہم برہم ہو جاتے ہیں، ہم حیران رہ جاتے ہیں اور پھر ردِ عمل دکھاتے ہیں۔ بد قسمتی سے یہی ردِ عمل بسا اوقات مسئلے کو خطرناک بنا دیتا ہے۔ ہم ایسے فیصلے کرتے ہیں جو اچھی طرح سوچ بچار کے بعد نہیں کیے جاتے۔ اس لیے جب بھی ایسے حالات کا سامنا ہو، کچھ قدم پیچھے ہٹیں اور مسئلے کے بارے میں سوچیں۔ یہ قدم آپ کو اس کا معقول حل سوچنے کا موقع دے گا۔

منزل پر نظر ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ ایسے حالات میں توجہ ان چیزوں پر چلی جاتی ہے جن پر نظر ڈالنے کی چنداں ضرورت نہیں ہوتی۔ گاڑیوں کی ریس میں جب ڈرائیور کو مشکل صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ اپنی نظر آگے کی طرف رکھتے ہیں، ورنہ ان کی گاڑی تباہ ہونے کا خطرہ زیادہ ہو جاتا ہے۔ یعنی ان کی نظر ہدف پر رہتی ہے اور یہی رویہ انہیں مسئلے سے باہر نکالتا ہے۔ توجہ حل پر، مسائل پر نہیں خراب حالات خاموش نہیں رہتے، وہ چیخ چیخ کر آپ کی توجہ اپنی جانب مبذول کرواتے ہیں اور آپ اس پر بھرپور ردِ عمل دکھاتے ہیں۔

اتنا کہ اُٹھتے بیٹھتے بات بھی انہی مسائل کے بارے میں کرتے ہیں یعنی انہیں ضرورت سے زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ مسئلے کے بجائے اگر آپ اس کے حل پر بات کریں تو یہ حالات آپ کو بہت کچھ سکھا سکتے ہیں۔ اس لیے شکوہ شکایت کے بجائے مسئلے کے حل کی حوصلہ افزائی کریں اور مثبت نتائج پر زور دیں۔ مثبت طاقت حاصل کریں ذہن کی ساخت کچھ ایسی ہے کہ اسے کسی سمت میں بس دھکا دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ پھر یہ پہاڑی سے لڑھکتے پتھر کی طرح ہو جاتا ہے اور اس سمت میں چلتا چلا جاتا ہے۔

اس لیے آپ کو اپنی سوچ کو مستحکم کرنے کے لیے کچھ کام کرنا ہو گا۔ جب خراب حالات آپ کے جذبات کو چھیڑیں تو کسی ایسے دوست سے ملاقات کریں جو آپ کے حوصلے بلند کرے۔ خود کلامی انسان کی سب سے بڑی طاقتوں میں سے ایک اپنی سوچ پر گرفت پانے کی قوت ہے۔ مسائل کے بجائے اپنی زندگی کی اچھی چیزوں پر سوچیں۔ خود سے بات کر کے زندگی کے مثبت پہلوؤں پر دھیان دیں، ان کا لطف اُٹھائیں اور خوشی اور سکون کو محسوس کریں۔ یہ وقت بھی گزر جائے گا اس جملے کو ہمیشہ اپنے ذہن میں تازہ رکھیں۔ کتنے بھی بُرے حالات ہوں، لیکن یہ وقت بھی گزر جائے گا۔ یوں آپ بدترین صورت حال میں بھی امید سے جڑے رہیں گے۔ اس سے آپ کا رویہ بھی بدلے گا، بہتر احساس بھی جنم لے گا اور آپ کو دوبارہ آگے بڑھنے کے لیے راستہ بھی ملے گا۔

زرتاشیہ میر

کامیاب افراد صبح 4 بجے کیوں اٹھتے ہیں؟

صبح سورج طلوع ہونے سے پہلے اٹھنا ہوسکتا ہے بیشتر افراد کو ناممکن کام لگتا ہو مگر بڑی تعداد میں کامیاب کاروباری افراد اور لیڈروں کا ماننا ہے کہ علی الصبح 4 بجے بستر سے نکل آنا ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ یہ بات ایک نئی رپورٹ میں سامنے آئی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق صبح بہت جلد اٹھنا کسی فرد کی ذہنی وہ جسمانی کارکردگی میں اضافے کا باعث بنتا ہے کیونکہ اس وقت مداخلت کا امکان نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ یعنی اس وقت لوگ سوشل میڈیا کو نہیں دیکھتے جبکہ اتنی صبح ایس ایم ایس یا میسجنگ وغیرہ کے لیے بھی کوئی فرد دستیاب نہیں ہوتا۔

رپورٹ کے مطابق اس وقت کو کام سے ہٹ کر سرگرمیوں جیسے ورزش، ذاتی نگہداشت، ذاتی نشوونما، روحانی نشوونما اور خاندان کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ہمارا جسم دن کے آغاز میں زیادہ متحرک ہوتا ہے، جبکہ ذہن بھی علی الصبھ زیادہ الرٹ ہوتا ہے جس کے باعث ذہنی و جسمانی کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ ایپل کے سی ای او او ٹم کک سمیت اس وقت متعدد کامیاب ترین افراد صبح چار بجے اٹھنے کو اپنی کامیابی کی ایک وجہ قرار دیتے ہیں۔

خیال رہے کہ 1400 سال قبل اسلامی تعلیمات میں بھی صبح جلد اٹھنے کی تاکید کی گئی تھی۔ اب سائنس نے بھی اس کی تصدیق کی ہے تاہم صبح جلد اٹھنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو رات کو جلد سونا ہے۔ اس لیے رات کو دوستوں سے ملنے یا دیگر مشاغل کا وقت کم ہوتا ہے تاہم زندگی میں کامیابی کے لیے اتنی قربانی تو دینی پڑتی ہے۔

حقیقی خوشی دولت سے نہیں ملتی : نئی تحقیق

ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ آمدن دگنی ہونے کی نسبت اچھی صحت اور اچھا شریکِ زندگی لوگوں کی زندگیوں کو زیادہ خوش و خرم بناتا ہے۔ لندن سکول آف اکنامکس کی اس تحقیق میں دو لاکھ لوگوں کی زندگیوں پر مرتب ہونے والے مختلف حالات کا جائزہ لیا گیا۔ اس سے پتہ چلا کہ ڈپریشن یا بےچینی کی بیماری لوگوں کی خوشی پر سب سے زیادہ اثرانداز ہوتی ہے، جب اچھے شریکِ حیات کی وجہ سے سب سے زیادہ خوشی نصیب ہوتی ہے۔ تحقیق کے شریک منصف کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے ‘ریاست کا نیا کردار سامنے آتا ہے۔’ یہ تحقیق دنیا بھر میں کیے جانے والے رائے عامہ کے متعدد بین الاقوامی جائزوں پر مشتمل ہے۔

سائنس دانوں نے معلوم کیا کہ آمدن دگنی ہو جانے سے ایک سے لے کر دس تک کے پیمانے میں خوشی صرف 0.2 درجے کے قریب بلند ہوئی۔ تحقیق کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ اپنی آمدن کے خود پر پڑنے والے اثر کی بجائے دوسروں سے اپنی آمدن کے تقابل کا زیادہ احساس کرتے ہیں۔ تاہم اچھا شریکِ حیات مل جانے سے خوشی میں 0.6 درجے اضافہ ہو جاتا ہے، جب کہ شریکِ حیات کی موت یا علیحدگی سے اسی قدر کمی واقع ہوتی ہے۔ تاہم اس پیمانے پر سب سے زیادہ منفی اثر ڈپریشن اور بےچینی کی بیماری سے پڑتا ہے، جس سے خوشی 0.7 درجے گر جاتی ہے۔ اسی طرح بےروزگاری سے بھی اسی قدر کمی واقع ہوتی ہے۔

تحقیق کے شریک مصنف پروفیسر رچرڈ لیئرڈ نے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاست کو اپنے شہریوں کی خوشی میں نیا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے، اور وہ دولت پیدا کرنے سے زیادہ خوشی پیدا کرنے پر زور دے۔ انھوں نے کہا: ‘شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ جو چیزیں ہماری خوشی اور دکھ میں سب سے زیادہ کردار ادا کرتی ہیں وہ ہمارے سماجی تعلقات اور ہماری ذہنی اور جسمانی صحت ہیں۔

‘ماضی میں ریاست غربت، بےروزگاری، تعلیم اور جسمانی صحت جیسے مسائل کے خلاف جنگ لڑتی رہی ہے۔ لیکن گھریلو تشدد، کثرتِ شراب نوشی، ڈپریشن اور بےچینی، امتحانوں کا دباؤ، وغیرہ بھی اتنے ہی اہم ہیں۔ انھیں مرکزی اہمیت دینے کی ضرورت ہے۔’

سچے کھرے لوگوں کی نشانیاں

سچے اور کھرے، جن کے اندر کوئی بناوٹ اور تصنع نہ ہو، ایسے افراد کی تلاش ایک بڑا مشکل کام ہے اور آج کے زمانے میں تو چراغ چھوڑئیے، سرچ لائٹ لے کر نکلنے سے بھی ایسے لوگ بمشکل ملیں گے، لیکن کیا آپ ایسے لوگوں کی پہچان جانتے ہیں؟ ہوسکتا ہے کہ وہ دفتر میں آپ کے برابر میں بیٹھا ہوا شخص ہی ہو؟ آپ کو ایسے افراد کی کچھ علامتیں بتاتے ہیں، امید ہے آپ کو ڈھونڈنے میں آسانی ہوگی۔

1-ایسے لوگ جیسے ہوتے ہیں، ویسے ہی نظر آتے ہیں۔ یہ ایسا کرنے یا بننے کی کوشش نہیں کرتے کہ جس کی وجہ سے لوگوں کی نظروں میں پسندیدہ بن جائیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ لوگوں کی پروا نہیں کرتے بلکہ وہ ایسے فیصلے کرنے میں بھی نہیں چوکتے جو ہر دل عزیز نہ ہوں۔ وجہ سادہ سی ہے، سچے اور کھرے لوگوں کو دوسروں کی توجہ کی ضرورت نہیں ہوتی، وہ شو بازی نہیں کرتے۔

2- دوسری نشانی یہ ہے کہ وہ دوسروں کے لیے فتوے جاری نہیں کرتے۔ یہ کھلے ذہن کے ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے لوگ ان تک رسائی بھی حاصل کرتے ہیں اور دلچسپی بھی دکھاتے ہیں۔ ایسے شخص سے بھلا کون بات کرنا چاہے گا، جو پہلے ہی اپنی رائے بنا چکا ہے اور کسی کی سننے کو تیار نہیں۔

3- سچے ، کھرے اور حقیقی افراد اپنا راستہ خود متعین کرتے ہیں۔ یہ اپنے اطمینان اور خوشی کے احساس کو دوسروں کی رائے پر نہیں بناتے۔ وہ جانتے ہیں کہ وہ کون ہیں اور یوں وہ کچھ اور بننے کی اداکاری نہیں کرتے۔ کس سمت میں جانا ہے ،اس کا تعین ان کے اندر سے ہوتا ہے، اپنے اصولوں اور اپنی اقدار سے۔

4- حقیقی افراد کی ایک اور پہچان یہ ہوتی ہے کہ وہ سخی ہوتے ہیں۔ چاہے معاملہ آپ کو کچھ سکھانے کا ہو، کام کے گر اور راز بتانے کا ہو یا پھر مالی پریشانی میں مدد کا۔ وہ اپنے علم اور مال کو کبھی خود تک محدود نہیں رکھتے۔ ساتھ ہی وہ سب کی عزت کرتے ہیں۔ وہ کبھی خواہ مخواہ اور زبردستی کے عزت دار بننے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ سب کو یکساں احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ چاہے وہ ان کے منیجر ہوں یا جس ہوٹل میں دوپہر کا کھانا کھاتے ہیں، وہاں کا بیرا۔

5- کھرے لوگوں کی ایک پہچان یہ ہے کہ وہ مادہ پرست نہیں ہوتے اور خوشی کے لیے کسی چمکتی دمکتی نئی چیز کے محتاج نہیں ہوتے۔ آپ کو آجکل ایسے لوگ نظر آتے ہوں گے، جو زبردست اور جدید ترین چیزیں خرید کر سٹیٹس بنانے اور عزت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کچھ کرنے کے بعد بھی خوش اور مطمئن نہیں ہو پاتے۔ خوشی دراصل اندر سے پیدا ہونے والا ایک احساس ہے، اسے باہر سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

6- قابل اعتماد ہونا بھی سچے اور کھرے لوگوں کی ایک بڑی نشانی ہے۔ لوگ ان کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں، انہیں اپنا ہم راز بناتے ہیں، اپنی مشکلات سامنے رکھتے ہیں کیونکہ وہ ان پر بھروسہ کرتے ہیں کیونکہ ایسے لوگ جو کہتے ہیں وہ کرتے ہیں۔ اگر وہ وعدہ کرتے ہیں، تو اسے پورا کرتے ہیں۔

7- ایسے لوگوں کی آخری اہم ترین علامت یہ ہے کہ یہ انا پرست ہرگز نہیں ہوتے۔ انہیں اپنے اندر کے خوشی کے احساس کو بڑھانے کے لیے بیرونی تعریفوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ نہ ہی انہیں شہرت کی طلب ہوتی ہے اور نہ ہی یہ دوسرے لوگوں کی کامیابی کا سہرا اپنے سر پر باندھتے ہیں۔ یہ منافق نہیں ہوتے، وہ جوکہتے ہیں وہ کرتے ہیں۔ ایسا نہیں کہ وہ آپ کے سامنے کچھ اور کہتے ہوں، لیکن پس پردہ کچھ اور ہوں۔

زندگی میں سب سے زیادہ پچھتاوا کس چیز کا ہے؟

زندگی میں پچھتاوا کس شخص کو محسوس نہیں ہوتا مگر وہ کون سے فیصلے ہوتے ہیں جو لوگوں کو سب سے زیادہ پچھتانے پر مجبور کردیتے ہیں؟ درحقیقت زندگی میں مواقعوں کو چھوڑ دینے کا پچھتاوا ایسا ہوتا ہے جو زندگی بھر پیچھا نہیں چھوڑتا۔ یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔ کارنیل یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے دوران عمر کی 7 ویں دہائی گزارنے والے افراد سے پوچھا گیا کہ اگر انہیں ماضی میں کچھ کرنے کا موقع دیا جائے تو وہ کیا چیز دوبارہ کرنا پسند کریں گے؟

تو جواب میں سامنے آیا کہ ایسی چیزیں جو نوجوانی میں نہیں کرسکیں وہ اس کی تلافی کرنا پسند کریں گے۔ جیسے تعلیم مکمل کرنا، کیرئیر میں ترقی کا عزم، اپنی شخصیت کا خیال رکھنا وغیرہ۔ تحقیق کے مطابق جب ہم پچھتاوے کے بارے میں سوچتے تو ہم میں سے بیشتر کے لیے سب سے بڑا پچھتاوا وہ چیزیں ہوتی ہیں جو ہم کسی نہ کسی وجہ سے کر نہیں پاتے، حالانکہ ہمارے پاس وقت، پیسے یا توانائی بھی ہوتی ہے۔ محققین کا کہنا تھا کہ لوگوں کو سب سے زیادہ پچھتاوا اس بات کا ہوتا ہے کہ ہمارے پاس موقع تھا مگر ہم نے کچھ کیا نہیں، یا ہم نے بہت زیادہ انتظار کیا۔

معاف کرنا سیکھیے

ستائیس برس جیل میں قیدکاٹنے کے بعد جب نیلسن مینڈیلاآزاد دنیا میں واپس آیا تو ہر چیز بدل چکی تھی۔ سب سے انقلابی تبدیلی جدوجہدکاکامیاب ہوناتھا جس کی بدولت سفید فام اقلیت کے ظلم اوراقتدارکاسورج غروب ہوچکا تھا۔ جنوبی افریقہ میں سیکڑوں برس کے بعد سیاہ فاموں کو اپنے ملک پرحکومت کرنے کاموقعہ ملاتھا۔ شہربدل چکے تھے۔ گھر بدل چکے تھے۔ لوگ بدل چکے تھے۔ مگرسب سے بڑی بات یہ تھی کہ نیلسن مینڈیلاخودبھی بدل چکاتھا۔

گورے خوف سے کانپ رہے تھے کہ ان کے ساتھ کیا سلوک روارکھاجائے گا۔ پورا ملک خاموش تھا۔ یہ گیارہ فروری 1990ء کادن تھا۔
نیلسن مینڈیلا’’وکٹرورسٹر‘‘جیل سے آزاد ہورہاتھا ۔ سب کواندازہ تھاکہ وہ ملک کاصدر ہوگا۔ جیلر سوچ رہاتھاکہ اب ملک سے فرارہوجاناچاہیے کیونکہ اس نے تنہائی، جسمانی اذیت اورذہنی  تشدد سمیت  نیلسن مینڈیلا کو ہر بلاکے سامنے ڈال دیاتھا۔ قیدخانے سے نکلتے وقت مینڈیلا واپس مڑا۔ جیلرسے ہاتھ ملایا۔ اس کے خاندان کی خیریت پوچھی ۔ شکریہ ادا کیا اور باہر آگیا۔ لاکھوں کا ہجوم اس کا منتظر تھا۔وقت نے اختیارات کی تلواراس کے نحیف ہاتھوں میں تھمادی تھی۔ اس کے ساتھ ہروہ زیادتی کی گئی جو ممکن تھی مگر مینڈیلا نے زندگی کاسب سے بڑاسبق سیکھ لیا تھا۔

ہرایک کو دل سے معاف کرکے اپنے ملک کو ترقی کی شاہراہ پرگامزن کرنے کاسبق۔ پرسی یوتر جنوبی افریقہ کاکامیاب ترین سفید فام وکیل تھا۔ وہ دل سے قائل تھاکہ کالوں کوحکومت کرنے کاکوئی حق نہیں۔1963ء میں پرسی نیلسن مینڈیلاکے خلاف حکومت کی طرف سے وکیل مقررہوا تھا۔ مشہورمقدمہ جسے رائے وؤنیاٹرائل کہاجاتاہے ۔ نیلسن مینڈیلاکوعمرقیدکی سزاسنائی گئی۔ اسے زنجیریں پہنادی گئیں اور روبن آئس لینڈ  کی اذیت گاہ میں منتقل کردیاگیا۔ فیصلے  کے بعد پرسی اپنے ملک کا نجات دہندہ قرار دیاگیا۔ ایک ایسا کامیاب وکیل جس نے دنیاکے خطرناک ترین ملزموں کوان کے منطقی انجام تک پہنچا ڈالا۔

نیلسن مینڈیلا کا صدربننا پرسی کے لیے موت کے پیغام جیسا تھا۔ وہ ملک سے بھاگنے کامنصوبہ بنارہاتھا کہ ایوان صدرسے پیغام آیا کہ صدر اس کے اعزاز میں کھانا دینا چاہتے ہیں۔ پرسی سمجھاکہ یہ ایک مذاق ہے۔ اپنے خاندان کوبتاکرگیاکہ اسے قصرِصدارت میں بلاکرقتل کردیاجائے گا یاجیل بھیج دیاجائے گا۔ مینڈیلا نے دروازے پر اسے خوش آمدیدکہا۔ سادہ سے کھانے کا اہتمام تھا۔ کھانے کے بعد مینڈیلا نے پرسی کا شکریہ ادا کیا اور اسے معاف کردیا اور یہ کہاکہ وہ تو محض وکیل کی حیثیت سے اپنے فرائض پورے کررہاتھا۔ پرسی کئی دن دھاڑیں مارمارکرروتارہا۔
کرسٹوبرینڈجیل کا ایک ملازم تھا۔ ایسا دیہاتی جوزیادہ تعلیم یافتہ بھی نہیں تھا تاہم  وہ سمجھتا تھا کہ جنوبی افریقہ میں امن صرف اس لیے ہے کہ وہاں انگریز حکومت کررہے ہیں۔ اس کا تبادلہ روبن آئی لینڈکی جیل میں کردیاگیا۔جب ڈیوٹی پرپہنچا توجیلرنے بتایاکہ جیل میں دنیا کے خطرناک ترین مجرم رکھے گئے ہیں۔ اسے حکم دیا گیاکہ جانورنماانسانوں سے کم سے کم رابطہ رکھنا چاہیے اوریہ کسی رعایت کے حقدارنہیں ہیں۔ کرسٹو انتہائی درشت رویہ کا حامل تھا۔ ڈیوٹی بی سیکشن میں لگادی گئی۔ یہاں کئی قیدی تھے۔ نیلسن مینڈیلاان میں سے ایک تھا۔جب وہ پہلی باراحاطے میں گیا توصبح کاوقت تھا۔
قانون کے مطابق تمام خطرناک قیدیوں کو ایک گھنٹے کے لیے کھولا گیا۔ مینڈیلاآہستہ آہستہ چلتا ہوا کرسٹو کے پاس آیااورپوچھنے لگاکہ تم نئے افسرہو۔کرسٹونے سختی سے جواب دیا’’ دفع ہوجاؤاوراپنے کام سے کام رکھو‘‘ مینڈیلا خاموشی سے اپنی کوٹھڑی کی صفائی میں مصروف ہوگیا۔ کئی دن گزر گئے۔ دونوں کے درمیان کوئی مکالمہ نہ ہوا۔ ایک دن مینڈیلا دوبارہ اس کے پاس آیا اور کہا کہ جیل کے احاطہ میں چندسبزیاں اورپودے لگانے کی اجازت دی جائے۔ کرسٹو نے پھراسکی بے عزتی کی اورانکارکردیا۔ گھر واپس آکر کرسٹو جیل کے قوانین کامطالعہ کرتارہا۔وہاں سبزیوں کے بیج فراہم نہ کرنے کے متعلق کوئی قانون نہیں تھا۔
کرسٹو نے خبطی بوڑھے کوچند بیج لادیے۔ مینڈیلانے مٹی میں کیاری بنائی اورکھرپہ سے تمام بیج لگادیے۔ کرسٹونے محسوس کیاکہ عجیب قیدی ہے۔ یا تومطالعہ کرتارہتا ہے یا پھر کیاریوں میں پودوں کی دیکھ بھال کرتا رہتا ہے۔ بہرحال قوانین کے مطابق خطرناک قیدی سے بہت کم باتیں کرتا تھا۔ کوئی ایسا ذہنی تشددنہیں جوکرسٹو نے منڈیلا پرنہ کیا ہو۔ جب مینڈیل صدر بنا، توکرسٹو کو بلوایا۔اس کے ساتھ ڈھیروں تصاویربنوائیںاور معاف کردیا۔معافی کی بازگشت پوری دنیامیں گونجی۔جنوبی افریقہ کے لوگوں میں صدرکا رویہ دیکھ کرصلح پسندی اور امن کے جذبات ابھرنے لگے۔
جنوبی افریقہ میں سب سے مقبول کھیل رگبی تھا۔ وہاں  نام کی ایک سفیدفام ٹیم تھی۔ گہرے سبزرنگ کی بنیان پہنتی تھی۔ اس کے کھلاڑی سیاہ فام ٹیم سے نفرت کرتے تھے۔ رگبی کی اس ٹیم کوسفیدفام بالادستی کا نشان تصور کیا جاتا تھا۔ ٹیم سیاہ جلدوالوں کے لیے نفرت کانشان تھی۔ مینڈیلا کورگبی سے خاصا لگاؤتھا۔آزادی حاصل کرنے کے بعد ساؤتھ افریقہ میں رگبی کاورلڈکپ ہوا۔ پوری دنیاسے کھیل کی مایہ نازٹیموں نے حصہ لیا۔سب کاخیال تھاکہ ملک کاصدراس ٹیم کی حوصلہ افزائی نہیں کرے گا۔
بلکہ گمان تھاکہ اس ٹیم کو ٹورنامنٹ میں حصہ نہیں لینے دیا جائے گا۔مینڈیل انے سب کے اندازے غلط ثابت کردیے۔ میچ والے دن گہرے سبزرنگ کی شرٹ پہن کراسٹیڈیم میں آگیا۔ تماشائیوں کو سانپ سونگھ گیا۔
مینڈیلانے اسپرنگ بک کے حق میں نعرے لگانے شروع کردیے۔اس کے کپتان فرینکواس کوبلاکرگلے لگالیا۔ کہا کہ ٹیم اب جنوبی افریقہ کی ٹیم ہے۔ اسے ہرقیمت پرجیتناہوگا کیونکہ یہ پورے ملک کی عزت کا سوال ہے۔فرینکواس اوراس کی ٹیم اس جذبے سے کھیلی کہ ٹورنامنٹ جیت گئی۔ مینڈیلا سبزلباس پہنے میدان میں آیااور اپنے ہاتھوں سے کپتان کوٹرافی دی۔ اس نے دنیا کو پیغام دیا کہ وہ اپنے ملک کونسلی تعصبات سے آگے لے جانا چاہتا ہے اور اپنے دشمنوں کومعاف کرنے کاحوصلہ رکھتاہے۔
اب اپنے ملک  پرنظرڈالیے۔کسی شعبہ پرغور کیجیے۔ خواہ وہ سیاسی ہو،سرکاری ہو،سماجی ہو،مذہبی ہویااقتصادی ہو۔ ہرجگہ آپکودرشتی،انتقامی ذہنیت اوربے رحمی کے اوصاف نظر آئیںگے۔سب سے پہلے سرکاری شعبہ سے شروع کروں گا۔ صرف اس لیے کہ میراتعلق اسی شعبہ سے ہے۔ بہت سے ایسے افسروں کوجانتاہوں جنہوں نے اپنی پوری زندگی دوسروں کونقصان پہنچانے میں صَرف کردی ہے۔ اپنے سے پہلے موجود افسروں کی کمزوریاں نکال کرانھیں تکلیف پہنچانے کو ثواب سمجھتے ہیں۔عام لوگوں کوہروقت گالیاں دیتے ہیں۔ ان کی بے عزتی کرکے خوش ہوتے ہیں۔
سیاستدانوں کے عام سے سفارشی رقعوں کی فوٹوکاپیاں کراکراپنے جیسی منفی صفات کے مالک افسروں میں تقسیم کرتے ہیں۔ بتاتے ہیں کہ آج فلاں اہم آدمی کے کہنے کے باوجودکام نہیں کیا۔ یہ نہیں بتاتے کہ کام میرٹ پرہونے والاتھا یا نہیں۔ میرے پاس درجنوں افسروں کے نام ہیں جنہوں نے پوری زندگی خلقِ خداکے فائدے کے لیے کوئی کام نہیں کیا۔ وہ اذیت پسندی کا ایسا نشان ہیں جنھیں ہمار انظام اپنی کمزوری کی بدولت برداشت کررہاہے۔
آپ سیاست پرنظرڈالیے۔ تقریباًہرسیاستدان کی ایک معمولی سی خواہش ہے کہ اس کے مخالفوں کے سر درختوں سے لٹکے ہوں۔ مذہبی حلقوں نے اپنے اپنے مسلکی قلعے تیار کررکھے ہیں۔ہرفرقہ دوسرے کوکھرامسلمان نہیں سمجھتا۔ ایک دوسروں کوواجب القتل قراردیناعام سی بات ہے۔ حد تو یہ ہے کہ کاروباری طبقہ بھی ایک دوسرے کے خلاف اسی طرح سربکف ہے۔ایک کانقصان دوسرے کا فائدہ ہے۔نجی شعبہ میں اقتصادی دشمنی عروج پرہے۔میں ہر شعبہ سے اَن گنت مثالیں دے سکتاہوں جہاں ایک دوسرے کے لیے صرف اور صرف انتقام اوربربادی کے جذبات ہیں۔
اپنے ملک کو ناکام ریاست بالکل نہیں سمجھتا۔ مگراسے ایک مشکل سماج ضرورگردانتاہوں۔ہرشخص کسی نہ کسی اندھے انتقام کی آگ میں جل رہاہے۔اس کے دل میں یہ احساس موجزن رہتاہے کہ اپنے مخالف کوسبق ضرور سکھائے۔ صاحبان! یہاں زخموں پرمرہم رکھنے والے لوگ بہت ہی کم ہیں یاشائد خاموش ہوچکے ہیں۔کسی شعبہ میں نیلسن مینڈیلا جیسا بے لوث انسان نظرنہیں آتا جو اذیت پہنچانے والے کو بھی معاف کرنے کا ظرف رکھتا ہو 
راؤ منظر حیات

ذہنی صحت پر بھی دھیان دیں

دن بھر میں آٹھ گھنٹے کی نیند لازمی لیں تاکہ دن بھر کی تھکاوٹ دور ہو سکے اور جسم و دماغ کھوئی ہوئی توانائی بحال کر لیں،کھانا آرام و سکون سے کھائیں، غصہ، حسد اور کینہ جیسی منفی عادات سے احتراز برتیں، غصے کے دوران ہمیشہ ضبط سے کام لیں، لوگوں سے ہمیشہ خوش اسلوبی سے ملیں اور چھوٹی موٹی باتوں کو درگزر کریں۔ہر بات کو اپنے ذہن پر سوار مت کریں، اگر کوئی ناموافق بات سنیں یا نظر آئے تو اسے بھلانے کی کوشش کریں، چھوٹوں سے پیار و محبت اور بڑوں کا ادب کریں۔ 

لالچ ، حرص و ہوس سے گریز کریں، ہر قسم کے نشہ سے دور رہیں ،احساسِ کمتری کو کبھی اپنے اوپر غالب نہ آنے دیں اور مراقبہ یعنی خاموشی و یکسوئی سے ارتکاز اور ورزش کی عادت ڈالیں جو ذہنی و جسمانی صحت کیلئے اکسیر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پاکستان میں ذہنی امراض کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان میں ذہنی صحت کے حوالے سے شہریوں کی صورتحال اچھی نہیں ہے اور ملک میں ڈپریشن کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ 

اسی وجہ سے ملک میں خود کشیوں کی شرح بھی بڑھ رہی ہے۔ ملک میں جاری دہشت گردی، بد امنی، خودکش بم دھماکے، غربت، بے روزگاری، لوڈ شیڈنگ اورخاندانی نظام کی ٹوٹ پھوٹ کے علاوہ بے یقینی اور عدم تحفط کا بڑھتا ہوا احساس لوگوں میں اضطراب، بے چینی، چڑچڑاپن، غصہ اور ذہنی دباؤ پیدا کرنے کا باعث بنتا جا رہا ہے جو کہ ان کی جسمانی ، ذہنی و نفسیاتی صحت کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ یاد رکھیں کہ زندگی گزارنے کے لیے ہمیشہ پر امید اور مثبت انداز اختیار کریں۔ واہمے اور ناامیدی انسان کو کمزور کر دیتی ہے اور کمزور انسان بیماریوں

کا گڑھ بن جاتا ہے۔

 یہ حالت مسلسل رہے تو آخر کار انسان ذہنی، جسمانی اور نفسیاتی امراض میں مبتلا ہو کر نہ صرف اپنی بلکہ اپنے پیاروں کی زندگی کیلئے بھی روگ بن جاتا ہے۔ ایک صحت مند جسم کے لیے صحت مند ذہن کا ہونا ضروری ہے۔ ایسی بے شمار بیماریاں جیسے سردرد‘ حافظے کی کمزوری‘ ذہنی تھکن‘ بصارت کی کمزوری‘ ہکلانے کی عادت‘ ذہنی تناؤ و دباؤ‘ احساسِ کمتری یا اس طرح کی دیگر بیماریاں جو کہ ذہنی و نفسیاتی ہوتی ہیں لیکن ان کی طرف سے لاپرواہی برتی جاتی ہے جو کہ بعدازاں جسمانی عوارض کا باعث بن کر کئی پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہیں۔

 اس لیے اگر ایسے امراض کا علاج کرنے کے لیے منفی نفسیاتی عناصر کا تدارک کیا جائے تو جسمانی بیماریاں خود بخود ور ہونے لگتی ہیں۔ پاکستان میں عمومی طور پر لاحق ہونے والے ذہنی و نفسیاتی امراض میںانزائیٹی ،فکر، تشویش‘ اعصابی دباؤ‘ احساسِ کمتری‘ اعصاب زدگی‘ الزائیمر‘ تنہائی پسندی‘بے خوابی وکم خوابی‘ بسیار خوابی و خراٹے لینا‘ نیند کے دوران سانس کا رکنا‘ پاگل پن‘ پارکنسن ڈیزیز‘رعشہ‘ حسد‘ حافظہ کی کمزوری‘ خوف کا فوبیا‘ خود اعتمادی کا فقدان‘ خیالات کا تسلط اور تکرارِ عمل ‘ ڈپریشن ،افسردگی ‘ ذہنی اضمحلال‘بائی پولر ڈس آرڈر‘ ذہنی تناؤ اور دباؤ‘ سردرد اور دردِ شقیقہ‘ شیزوفرینیا‘ فرسٹریشن ‘ احساسِ محرومی‘ فالج و لقوہ‘ مرگی‘ وہم اور ہسٹیریا وغیرہ شامل ہیں۔

 یہ چند ایک بیماریاں ہیں جن کے متعلق عموماً معاشرے میں جنوں کے سایے کی باتیں کی جاتی ہیں حالانکہ یہ مکمل طور پر ذہنی و نفسیاتی عوارض ہیں۔ بس شرط یہ ہے کہ ان کی طرف دھیان دیا جائے اور ان کا مکمل علاج معالجہ کرایا جائے تو یہ افراد بھی معاشرے کے دیگر صحتمند افراد کی طرح بہتر ،خوشحال، قابلِ تکریم اور پْروقار زندگی بسر کر سکتے ہیں۔ –  

کیا آپ کامیاب ہونا چاہتے ہیں ؟

کیا آپ کامیاب ہونا چاہتے ہیں ؟ اگر آپ کا جواب ہاں ہے تو پھر آپ کو ’’ خوشی اور ‘‘ کامیابی ‘‘ کی وہ تعریف بیا ن کرنا ہوگی جو آپ کے خیال میں درست ہو ۔ ایک رائے کے مطابق خود اعتمادی سے کامیابی اور کامرانی حاصل کی جا سکتی ہے اور خوشی کیلئے آپ کو پر اعتماد ہونا ہوگا۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ایک چیز کسی کی خوشی کا سبب ہوتی ہے تو کسی کیلئے نہیں ہوتی لیکن یہ آپ کا اعتماد ہے جو آپ کو خوش کر سکتا ہے۔ 
پُر اعتماد لوگ ہی کامیاب ہوتے ہیںاور خوش بھی ۔ وہ اپنے آپ پر بھروسہ رکھتے ہیں اور وہ کسی ایسی سرگرمی میں ملوث نہیں ہوتے جو ان کی روح کو مجروح کرے۔ آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ پُر اعتماد لوگ کیا نہیں کر تے یعنی ان کی عادات میں کونسی چیزیں شامل نہیں ہوتیں اور وہ انہی کی بنا پر خوش رہتے ہیں ۔ 1۔کسی کا امتحان نہیں لیتے :۔پُر اعتماد لوگ جیو اور جینے دو کی پالیسی پر کار بند ہوتے ہیں ۔ وہ نہ کسی کا امتحان لیتے ہیں اورنہ ہی کسی کے بارے میں منفی رائے دیتے ہیں یا کسی کی رائے پر تبصرہ کرتے ہیں ۔
 وہ کسی غیر ضروری ڈرامے کا حصہ نہیں بنتے اور نہ ہی اپنے دوستوں کی بد خوہیاں کرتے ہیں ۔ پیٹھ پیچھے برائی کرنے کا تصور ان کے ہاں نہیں ہوتا۔ پُر اعتماد لوگوں کا ہی کہنا ہوتا ہے کہ سب کو پُر اعتماد ہونا چاہیے بلکہ وہ اعتماد سازی میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتے ہیں ۔ 2۔خود نمائی سے اجتناب :۔ خود نمائی اور دکھاوا ہمارے معاشرے کی وہ بیماریاں ہیں جو اندر ہی اندر دیمک کی طرح خاندان کو کھا جاتی ہیں ۔ اس دکھاوے میں اخراجات کرنے کے بعد بھی لوگ دھوکے میں ہی رہتے ہیں اور اپنے آپ کو دھوکہ دیتے ہیں لیکن افسوس کہ حقیقی خوشی سے دور رہتے ہیں ۔
 پُر اعتماد لوگوں کی ایک بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ اس دکھاوے سے دور رہتے ہیں اور حقیقت کے آئینے سے ہی سب کو دیکھتے ہیں ۔ یہ حقائق انہیں حقیقی خوشی دیتے ہیں ۔ 3۔آسیب اورتوہمات سے دور:۔پُر اعتماد لوگ اپنے اوپر کسی وہم و خیال کو مسلط نہیں کرتے اور نہ ہی کسی ایسی رائے پر بے قرار ہوتے ہیں جو لوگوں نے ان کے بارے میں قائم کی ہوئی ہوتی ہے ۔ ایسے لوگ اپنا احتساب خود کرتے ہیں اور اس کے کڑے امتحان سے گزرتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں اصل شکل کی آگاہی حاصل ہوتی ہے ۔ 
ان کے مقابلے میں اعتماد سے عاری لوگ دوسروں کے منہ کی طرف دیکھتے ہیں کہ کوئی ان کی تعریف کرے اور وہ آگے بڑھیں گویا بے اعتماد لوگوں کو آگے بڑھنے کے لیے سہارا درکار ہوتا ہے جبکہ پُر اعتماد لوگ کسی کے سہاروں کی بجائے اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ رکھتے ہیں ۔ 4۔اقدار کے موازنے سے اجتناب :۔ اگر آپ پُر اعتماد ہیں تو پھرآپ کے عقائد بھی مضبوط ہوں گے ۔ ایسے لوگ اپنے راستوں کا خود تعین کرتے ہیں اور کچھ سنہری اصولوں کو اپنی اقدار کا حصہ بنا لیتے ہیں اور پھر ساری زندگی ان اقدار کی حفاظت میں جتے رہتے ہیں ۔
 یہ بہت ہی دلچسپ امر ہے کہ اعتماد کی دولت سے مالا مال ایسے لوگ اپنی ان اقدار کاموازنہ کسی دوسرے سے نہیں کرتے، نہ وہ اپنی اقدار کو سر عام کرتے ہیںاور نہ ہی کسی کو کرنے دیتے ہیں، ان کی اس خوبی کی وجہ سے انہیں فطری خوشیوں کا ادراک رہتاہے ۔ 5۔منفی رویوں سے اجتناب :۔ اوپرے ونفرے کہتی ہیں ’’ اگر آپ اپنی زندگی میں جو کچھ موجود ہے ،کو دیکھتے ہیں تو آپ کو مزید بھی ملے گا لیکن اگر آپ کی نظر ایسی چیزوں پر ٹکتی ہے جو آپ کی زندگی کا حصہ نہیں تو سمجھ لیں آپ خالی ہاتھ ہیں اور رہیں گے ۔ ‘‘اس خوبصورت قول کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ پُر اعتماد لوگوں کے لیے ہے جو ہر طرح کے منفی رویوں سے دور رہتے ہیں، ہمیشہ روشن خیال رہتے ہیں،جس کی وجہ سے وہ اپنی اور لوگوں کی سچی خوشیوں سے محظوظ رہتے ہیں ۔ 6۔خود کو ہمہ وقت درست خیال نہیں کرتے :۔ پُر اعتماد لوگوں کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ ہمہ وقت خود کو بھی صحیح اور درست خیال نہیں کرتے ۔
 ان کے خیال میں ان کی اپنی رائے غلط رہنے کا امکان رہتا ہے اور جہاںمحسوس ہوتا ہے کہ وہ غلط ہیں وہ فوراََ ہی اس غلطی کو تسلیم کرتے ہیں اور اس ساری صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں کہ یہ غلطی کیوں کر ہوئی ہے ۔ جب کوئی اس طرح کی سائنسی طرز زندگی کو اپناتے ہیں تو پھر اس صورت میں ان کے دکھی ہونے کے چانسز سکڑ جاتے ہیں ۔ 7۔صورتحال کو پیچیدہ نہیں کرتے :۔ لوگ عام سی صورتحال کوگمبھیربنانے کی عادت میں مبتلا ہوتے ہیں ۔ 
معمولی سی بات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے اور ایسا تجسس برپا کر دیتے ہیں کہ ہر کوئی اس کی لپیٹ میں آ کر خوفزدہ ہو جاتا ہے ۔پُر اعتماد لوگ ہربُری صورتحال کا سامنا ’’ کچھ نہیں ہوتا ‘‘ سب ٹھیک ہو جائیگا ‘‘ جیسے جملوں سے کرتے ہیں ۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آدمی کی ٹینشن ختم ہو جاتی ہے ۔ گویا صورتحال کو پیچیدہ بنانے سے اجتناب برتا جائے تو کامیابی اور دکھ کی جگہ سکھ مل سکتا ہے یہی فلاسفی پُر اعتماد لوگوں کی ہے ۔ 8۔اول فول نہیں بکتے :۔ اخلاقیات کا شاندار اور مطمئن زندگی سے چولی دامن کا ساتھ ہے ۔
ایک مہذب آدمی اپنے اخلاقی رویوں سے انتہائی نفیس زندگی بسر کر رہا ہوتا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں اعتماد سے عار ی لوگ ہر طرح کی اخلاقیات سے دور ہو تے ہیں ۔سرِراہ آپ کوکئی ایسے کردار ملیں گے جو بات بات پر سیخ پا ہوجاتے ہیں اور گالیاں بکنا شروع کر دیتے ہیں ۔ ان کے منہ سے الفاظ نہیں بلکہ آگ کے شعلے نکلتے رہتے ہیں جس سے ایسی آگ بھڑک اُٹھتی ہے کہ کبھی کبھی تو جان کے لالے بھی پڑ جاتے ہیں ۔ ان کے مقابلے میں پُر اعتماد لوگ ہمیشہ دھیمے لہجے میں رہتے ہیں اور اول فول بکنے سے اجتناب برتتے ہیں ۔ 9۔اندھا اعتماد نہیں کرتے :۔ اندھا اعتماد سے مراد ایسی صورتحال ہے جس میں کوئی بھی آنکھوں پر پٹی باندھ کر سڑک کراس کرے ۔
 ایسی تصویر میں سو فیصد حادثے کا خدشہ ہوتا ہے اور حادثے ہمیشہ نقصانات کا سبب بنتے ہیں ۔ یہ اصول پُر اعتماد لوگوں کی زندگی کا خاصا ہوتا ہے ۔ وہ کسی کی نصیحت کو بلا چو ں چراں نہیں قبولتے بلکہ ہر بات کو سائنسی اپروچ سے پرکھتے ہیں ۔ 10۔خوفزدہ نہیں ہوتے :۔ اندیشے اور ان دیکھے واقعات خوف کی کیفیت پیدا کرتے ہیں ۔ عام لوگ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے ڈر جاتے ہیں ۔ ہارجانے کا احساس ایسے لوگوں کو آگے بڑھنے ہی نہیں دیتا جبکہ پرُ اعتماد لوگوں کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا ۔
 یہاں مثال پولیس اور فوج کے محکموں کی دی جاتی ہے ۔ عمومی رائے ہے کہ فوج کے اہلکار پُر اعتماد ہوتے ہیں اور ان کی فیصلہ سازی کی قوت زیادہ مضبوط ہوتی ہے اس لیے کہ یہ ادارہ اپنے لوگوں کو اعتماد کی دولت سے مالا کرتا ہے اس کے مقابلے میں پولیس والوں کا یہ رویہ نہیں ہے ۔ یہاں کسی محکمہ کی تضحیک کرنا مطلوب نہیں بلکہ حقیقت بیان کرناہے کہ دونوں اداروں میں اعتماد سازی میں فرق ہے ۔ یہی فرق پُر اعتمامد لوگوں کو ممتاز کرتا کرتاہے۔
عبدالستار ہاشمی
 

دنیا کے کامیاب ترین افراد کن مضامین کا مطالعہ کرتے ہیں؟

کیا آپ جانتے ہیں کہ اگر آپ ملک کا رہنما بننا چاہتے ہیں تو آپ کو کس قسم کی ڈگری کی ضرورت ہو گی، یا کیا آپ جانتے ہیں کہ یونیورسٹی کا تجربہ گریجویشن کے بعد آپ کی کامیابی پر اثر انداز ہو سکے گا۔ایسے بہت سے سوالات کے جوابات برٹش کونسل کی حالیہ تحقیق نے دئیے ہیں، جس میں ماہرین نے تجویز کیا ہے کہ اعلیٰ تعلیم کا تجربہ کسی بھی رہنما کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ 
برٹش کونسل کے نتائج 30 ممالک کے تعلیمی پس منظر کے حامل 1,700 افراد پر مبنی ہے جن کا تعلق کارپوریٹ، غیر منافع بخش اداروں اور حکومتی پس منظر سے تھا۔مطالعہ میں10پیشہ وارانہ ’لیڈرز‘ یا قائدین کے انٹرویوز بھی شامل تھے، جن سے پوچھا گیا تھا کہ کیا ان کی اعلیٰ تعلیم نے انھیں متعلقہ شعبے میں ترقی کی منزل تک پہنچانے میں کوئی کردار ادا کیا ہے۔ ماہرین نے کہا کہ نتائج کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صرف تعلیم ہی کامیابی کا واحد راستہ ہے، جیسا کہ دنیا کے بہت سے کامیاب ترین لوگوں کے پاس یونیورسٹی کی ڈگری نہیں ہے ان میں مشہور کاروباری شخصیات فیس بک کے شریک بانی مارک زکربرگ اور رچرڈ برینسن کا نام شامل ہے،تاہم ہمارا مطالعہ ان رہنماؤں اور کامیاب افراد پر ہے جنھوں نے اپنی ڈ گریاں مکمل کی ہیں اور ان کی اعلیٰ تعلیم نے انھیں کامیاب بنانے میں مدد کی ہے۔ 
نصف رہنماؤں سے زائدنے سوشل سائنس اور ہیومینیٹیز کا مطالعہ کیا:تحقیق سے پتا چلا کہ نصف سے زائد 55 فیصد رہنماؤں نے سوشل سائنس (سماجی سائنس) اور ہیو مینیٹیز (غیر سائنسی علوم ) کا مطالعہ کیا تھا۔ ان میں سے 44 فیصد نے سوشل سائنس اور 11 فیصد نے ہیو مینیٹیز میں ڈگری حاصل کی تھی جبکہ جو لوگ سرکاری ملازمتوں پر فائز تھے، ان میں سوشل سائنس کے مطالعے کے امکانات زیادہ تھے، اسی طرح غیر منافع بخش تنظیموں سے وابستہ افراد ہیومینیٹیز کا پس منظر رکھتے تھے۔
 نوجوان رہنما جن کی عمریں 45 برس سے کم تھیں، ان کا پس منظر سماجی سائنس اور ہیومینیٹیز سے تھا، لیکن اس کے برعکس بڑی عمر کے رہنماؤں نے سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کا مطالعہ کیا تھا۔ کامیاب کیرئیر کے لیے کوئی ایک مضمون ذمہ دار نہیں تھا:ماہرین نے کہا کہ ہمارے نتائج یہ تجویز نہیں کرتے ہیں کہ خاص تعلیمی نظم و ضبط کیرئیر کی کامیابی کی طرف قیادت کرتا ہے۔جو لوگ حکومت میں تھے ان میں سوشل سائنس پڑھنے کا امکان تھا اور جو غیر منافع بخش اداروں کے لیے کام کرتے تھے ان کے پاس ہیومینیٹیز کی ڈگری تھی۔
 کیرئیر کی کامیابی میں غیرنصابی سرگرمیوں کا کردار
ماہرین نے کہا اعلیٰ تعلیم براہ راست سیکھنے کے مقابلے میں زیادہ تجربہ فراہم کرتی ہے، جیسا کہ طالب علم جانتے ہیں کہ وہ اپنے تعلیمی مطالعے سے باہر کی سرگرمیوں اور تجربات سے نئی مہارتیں سیکھتے ہیں اسی حوالے سے ان دس رہنماؤں سے پوچھا گیا تھا کہ کیا ان کی غیر نصابی سرگرمیوں کا ان کی کامیابی میں حصہ ہے اس سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ کھیلوں کے ذریعے انھوں نے نظم و ضبط اور مسابقتی دوڑ کو سیکھا ہے، جبکہ یونیورسٹی میں مختلف ثقافتوں کے ساتھ مطالعہ کا تجربہ اور یونیورسٹی کے ماحول نے انھیں کاروباری یا تخلیقی بنانے کے لیے حوصلہ افزائی کی ہے۔ 
بین الاقوامی تجربہ ضروری ہے
نتائج سے ظاہر ہوا کہ تقریباً نصف 46 فیصد رہنماؤں نے بین الاقوامی تعلیم یا ملازمت کا تجربہ حاصل کیا تھا۔ جتنی اعلیٰ سطح کی ان کی ڈگری تھی اتنا ہی ان میں بیرون ملک تعلیم کا امکان زیادہ تھا۔ ان کامیاب افراد نے زیادہ تر بیرون ملک سے ماسٹرز کی ڈگری یا پیشہ ورانہ پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی تھی جبکہ سب سے مقبول مطالعہ کی منزل امریکہ اور برطانیہ ہیں۔کینیڈا، برطانیہ اور امریکہ میں ہیومینیٹیز گریجویٹس کا تناسب سب سے زیادہ ہے۔رہنماؤں میں ہیومینیٹیز میں گریجویٹس کی سب سے بڑی تعداد کینیڈا سے آئی تھی، اس کے بعد برطانیہ اور امریکہ سے 19 فیصد، پولینڈ، روس اور یوکرین سے 18 فیصد اور چین، جاپان اور جنوبی کوریا سے 16 فیصد رہنماؤں نے غیر سائنسی علوم میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کی تھی۔
 مصر، سعودی عرب اور ترکی کے رہنماؤں میں بیرون ملک تعلیم کا امکان ز یادہ تھا: نتائج سے انکشاف ہوا کہ مصر، سعودی عرب اور ترکی سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں میں 71 فیصد بین الاقوامی تعلیمی تجربے کا امکان تھا، جبکہ ان کے مقابلے میں کینیڈین، برطانوی اور امریکی رہنماؤں کی ایک چوتھائی تعداد بیرون ملک سے تعلیم یافتہ تھی۔ آسٹریا، جرمنی، نیدرلینڈ میں 96 فیصد اور ارجنٹینا، برازیل اور میکسیکو کے رہنماؤں میں اپنے ملک میں تعلیم حاصل کرنے کے امکانات 91 فیصد پائے گئے۔
 
نصرت شبنم