قتل و غارت کے وکیل

سگمنڈ فرائڈ وہ شخص ہے جس سے نفسیات کا علم منسوب کیا جاتا ہے۔ یوں تو انسانی نفسیات اور نفسیاتی  بیماریوں پر قدیم طب میں بہت سا مواد ملتا ہے لیکن جس شخص نے اپنے آپ کو انسانی ذہن اور نفسیات کے مطالعے کے لیے خاص کرلیا وہ سگمنڈ فرائڈ ہی تھا۔ وی آنا کے شہر میں پیدا ہونے والا یہ یہودی ہٹلر کے ظلم و بربریت کا گواہ بھی تھا اور اس کے وزیر گوئبلز کے پراپیگنڈے کا شکار، گوئبلز وہ شخص ہے جس نے اس دنیا کو یہ فقرہ تحفے میں دیا کہ ’’اس قدر جھوٹ بولو اور بار بار بولو کہ وہ سچ محسوس ہونے لگے‘‘۔ فرائڈ نے انسانی ذہن کو شعور،لاشعور اور تحت الشعور جیسی اصلاحات میں تقسیم کیا۔ اس کے نزدیک انسان کے ہر فعل کے پس پردہ جنسی جذبہ چھپا ہوتا ہے۔

اسی لیے خوابوں کی تعبیر کے بارے میں اس کی کتابیں ہر خواب کا تجزیہ کرتے ہوئے اس میں جنس ضرور ڈھونڈ نکالتی ہیں۔ ایک وسیع یہودی خاندان ہمیشہ اپنے زیر کفالت افراد کی تربیت اور تعلیم پر خصوصی توجہ دیتا ہے۔ فرائڈ کی زیر تربیت بھی صرف اس کی بیٹی اینا فرائڈ ہی نہیں بلکہ اور بہت سے لوگ شامل تھے۔ ان میں اس کا ایک دوسرے رشتے سے بھانجہ ایڈورڈ برنیز ”Edward Bernays” بھی شامل تھا۔ اس کی ماں فرائڈ کی بہن اور اس کا باپ فرائڈ کی بیوی کا بھائی تھا۔ اس کا خاندان جرمنی کی یہودی نفرت یلغار سے تنگ آکر امریکا جاکرآباد ہوگیا۔

وہ جنگ عظیم اول کے زمانے میں امریکی صدر کی پراپیگنڈہ مہم کا انچارج تھا۔ جنگ کے زمانے میں لوگوں کو جنگ پر آمادہ کرنا، اپنی فتوحات کا ڈھول پیٹنا، دشمن کو ظالم ثابت کرنا اور اپنی افواج کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اتارے گئے افراد کو انسانیت کی بدترین مخلوق ثابت کرنا دراصل پراپیگنڈے کا حصہ بلکہ مقصد ہوتا ہے۔ فرائڈ کی محبت اور تربیت کے ساتھ ساتھ زرخیز یہودی ذہن کی وجہ سے اس نے جدید دور کی میڈیا انڈسٹری کو انسانی ذہنوں کو مسخر کرنے کی ایک سائنس بنا دی۔ اس نے پہلی دفعہ لفظ پبلک ریلیشنز استعمال کیا جو آج تک دنیا بھر میں مستعمل ہے۔ اس کے نزدیک پراپیگنڈہ یا میڈیا صرف خیالات کی ترویج کا نام نہیں بلکہ یہ لوگوں کی رائے بنانے، اسے تبدیل کرنے اور اسے اپنی رائے کے مطابق ڈھالنے کا نام ہے۔

امریکی صدر وڈرو ولسن کی جنگ عظیم اول کے زمانے کی پراپیگنڈہ ٹیم کے انچارج کی حیثیت سے اس نے امریکی عوام کو ایک نعرہ دیا کہ ’’امریکا اس لیے جنگ میں ممدو معاون ہے تاکہ پورے یورپ میں جمہوریت نافذ ہوجائے‘‘ یہ وہ زمانہ تھا جب عورتوں کی آزادی اور حقوق نسواں کی تحریک کا آغاز ہوا تھا۔ اس نے مردوں سے آزادی کی علامت کے طور پر عورتوں کو مشورہ دیا کہ 1929ء میں جب ایسٹر پریڈ ہو تو عورتیں اس میں سگریٹ پیتی ہوئی شامل ہوں۔ اس طرح ان میں اور مردوں میں آزادی کا فرق نظر نہیں آئے گا۔ اسی کے پراپیگنڈے نے امریکی عوام کو جنگ عظیم اول کے دوران ہونے والے قتل و غارت پر قائل کرلیا۔ اپنے اس سارے منصوبے اور سوچ کو وہ ”Engineering Consent” کہتا ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ لوگوں کو میڈیا اور پراپیگنڈے کے زور سے ایک ایسی بات پر قائل کرنا جسے وہ نہیں چاہتے ہیں۔ ایڈورڈ برنیز کا یہ تصور آج بھی دنیا بھر میں میڈیا کی روح ہے۔

آپ کس قدر آسانی سے امریکی، برطانوی، یورپی بلکہ پسماندہ ممالک کی اکثریت کو قائل کر لیتے ہیں کہ افغانستان کے دور دراز اور پسماندہ ترین ملک جہاں ٹیلیفون، ٹیلی ویژن اور ریلوے جیسی بنیادی چیزیں بھی میسر نہیں وہاں بیٹھے چند لوگوں نے ایک سازش تیار کی اور پھر نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر تباہ کردیا۔ اس کے بعد آپ دنیا کو اس بات پر بھی قائل کرلیتے ہیں کہ افغانستان میں بسنے والے انسانیت کے دشمن ہیں اور پھر جب امریکی جہاز ان پر بم برساتے ہیں، ٹینک ان کو روندتے ہیں یا گولیاں ان کے سینے چھلنی کرتی ہیں تو کسی کو ان سے ہمدردی نہیں ہوتی۔ یہی میڈیا دنیا بھر کو صدام حسین کے بارے میں جھوٹی اور من گھڑت رپورٹیں دکھا کر قائل کر لیتا ہے کہ عراق کے عوام کو مارنا اور ان کا خون بہانا جائز ہے۔ پھر جب کئی منزلہ عمارت پر امریکی میزائل آ کر گرتا ہے تو ہم ٹیکنالوجی کی داد دے رہے ہوتے ہیں۔ ہمیں احساس تک نہیں ہوتا کہ اس عمارت میں عورتیں بچے اور بوڑھے بھی تھے جو اس میزائل گرنے سے موت کی آغوش میں چلے گئے ہوں گے۔

جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ ثابت کرنا اسی میڈیا کا کمال ہے۔ اس وقت گزشتہ کئی ہفتوں سے دو شہروں کا محاصرہ جاری ہے۔ آپ حیران ہوں گے کہ دنیا بھر کا آزاد میڈیا جسے آپ انسانیت کا فخر تصور کیا جاتا ہے۔ ان دونوں شہروں میں ایک شہر کے محاصرے کو جائز اور دوسرے شہر کے محاصرے کو ناجائز قرار دیتا ہے۔ ایک شہر ’’موصل‘‘ ہے اور دوسرا ’’حلب‘‘۔ دونوں پر اس میڈیا کے مطابق شدت پسند اسلامی گروہ قابض ہیں۔ لیکن موصل کا محاصرہ کرنے والے سرکاری فوجی انھیں شدت پسندوں سے آزادی دلانے کے لیے ان پر خوراک پانی اور دوائیں بند کررہے ہیں۔ انھیں چن چن کر مار رہے ہیں۔ پوری دنیا کا میڈیا لوگوں کو قائل کرنے میں مصروف ہے کہ یہ سب کچھ انسانیت، آزادی اور جمہوریت کی بالادستی کے لیے ہورہا ہے۔ مغربی صحافی جو عراقی افواج کے ساتھ ہیں وہ روز ان فوجیوں کی وکٹری کا نشان بنانے والی تصویریں اخباروں کے صفحہ اول پر لگاتے ہیں۔ دوسری جانب حلب ہے جہاں بشارالاسد کے سپاہیوں کو ظالم بنا کر پیش کیا جاتا ہے جنہوں نے حلب شہر کا محاصرہ کررکھا ہے۔

اسی میڈیا کے تحت حلب کے شدت پسند دراصل آزادی کے ہیرو ہیں جب کہ وہی شدت پسند موصل میں انسانیت کے دشمن۔ جان پجر Jahn Piger ان لوگوں میں سے ہے جو اس دنیا میں قتل و غارت اور بربریت کا ذمے دار میڈیا کو ٹھہراتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اگر اس قدر زور دار پراپیگنڈہ نہ ہوتا تو دنیا پر القاعدہ، داعش اور النصرہ کا وجود معمولی سا ہوتا اور آج عراق اور شام کے شہری اپنی جانیں بچانے کے لیے دنیا بھر میں دربدر نہ ہورہے ہوتے۔ لیبیا کی تباہی اور قدافی کی المناک موت صرف اور صرف میڈیا کی جنگ اور فتح ہے۔ ایک پر امن ملک جس کے شہری دنیا کے ہر جائزے کے مطابق مطمئن زندگی گزار رہے تھے۔ پہلے اسے دنیا کی نظروں میں ظالم بنایا گیا ، یورپ اور امریکا کے عوام کو فائل کیا کہ اب اس ملک کی تباہی انسانیت کے لیے بہترہے۔ اس کے بعد نیٹو کے جہاز نو ہزار سات سو دفعہ اڑے اور انھوں نے یورینیم وارڈ ہیڈز والے میزائل عوام الناس پر پھینکے۔ کوئی ایک آنسو ان معصوم عوام کی موت پر آنکھوں سے نہ نکلا، کوئی دل خوف سے نہ کانپا۔ کسی کو اندازہ تک نہ ہوا کہ وہاں کتنی معصوم جانیں موت کے گھاٹ اتار دی گئیں۔ اس لیے مغربی میڈیا پوری دنیا کو قائل کرچکا تھا کہ ان سب کیڑے مکوڑوں کی موت دنیا کے امن کے لیے ضروری ہے۔

یہ مغربی میڈیا امریکی انتخابات کے موقع پر اپنے جھوٹ اور پراپیگنڈہ تکنیک کے عروج پر ہوتا ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ اس کے نزدیک ڈونلڈ ٹرمپ جس نے ایک قتل نہیں کیا وہ خوفناک آدمی ہے جب کہ ٹرومین، کنیڈی، جانسن، بش وغیرہ امن کی فاختائیں ہیں۔ اوباما جس نے گزشتہ تیس سال میں خرچ ہونے والی رقم سے بھی زیادہ امریکی ایٹمی ہتھیاروں پر خرچ کی ہے جو ایک ہزار ارب بنتی ہے۔ وہ اس وقت منی ایٹم بم بنوا رہا ہے جنھیں B-61 اور ماڈل 12 کہا جاتا ہے۔ اس کے دور میں سب سے زیادہ ڈرون حملوں میں لوگ مارے گئے۔ وہ امن کا نوبل انعام حاصل کرتا ہے۔ لیکن میڈیا اس کے کسی جرم پر گفتگو نہیں کرتا۔ اسے ڈونلڈ ٹرمپ جیسے بڑبولے اور منہ پھٹ نہیں چاہیں، ہیلری جیسے منافق چاہیں جس کے ہاتھ لیبیا کے عوام کے خون میں رنگے ہوں لیکن پھر بھی امن کی فاختہ دکھائی دے۔

اوریا مقبول جان

Advertisements

الطاف حسین گاڑی سے نہ اترے

یہ سنہ 1987 میں جنوری کی کوئی رات تھی، جب میں اور پروفیسر جمال نقوی کے صاحبزادے عاصم جمال نارتھ ناظم آباد میں ایک سڑک کے کنارے کسی دیوار پر نعرے لکھ رہے تھے۔ اُن دنوں ہم ڈیموکریٹک سٹوڈنٹ فیڈریشن کے رکن تھے اور کراچی کی دیواروں پر ‘تعلیم حق ہے نہ کہ رعایت’ لکھتے پھرتے تھے۔

میں دیوار کے ایک کونے پر کھڑا لال رنگ سے کسی کی دیوار پر انقلاب برپا کر رہا تھا اور میرا دوست یہی کام سامنے کسی اور دیوار پر کر رہا تھا۔ اتنے میں موٹر سائیکل پر دو پولیس والے آ گئے اور انہوں نے ہمیں پکڑ لیا۔ مجھے یاد ہے اُس رات سردی بھی کافی تھی اور ہم سڑک پر کھڑے کانپتے ہوئے اُن پولیس والوں کی ڈانٹ اور دھمکیاں سن رہے تھے۔

اتنے میں دور سے ایک اور گاڑی آتی دکھائی دی تو پولیس والے نے اپنے ساتھی سے کہا کہ ‘اوئے روک اِس کو۔’ گاڑی کو روک لیا گیا۔ ہم نے دیکھا گاڑی میں مہاجر قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین بیٹھے ہوئے ہیں۔ ایم کیو ایم اُس وقت متحدہ نہیں مہاجر تھی۔ پولیس والے نے شیشے کو کھٹکھٹایا تو الطاف حسین نے شیشہ نیچے کر دیا۔ پولیس والے نے اُن سے ہاتھ ملایا اور بڑی عزت سے سلام کرتے ہوئے کہا کہ ‘سر آپ لوگ جا سکتے ہیں’ اِس دوران اُس گاڑی میں سے ایم کیو ایم کی پوری قیادت اترتی دکھائی دی۔ امین الحق، سلیم شہزاد، طارق جاوید اور کئی دوسرے۔ لیکن الطاف حسین گاڑی میں ہی بیٹھے رہے اور انُہوں نے جاتے جاتے ہمیں دیکھا اور پولیس والوں سے کہا ‘اِنہیں کیوں پکڑ رکھا ہے’ پولیس والے نے کہا سر یہ لوگ دیواروں پر سیاسی نعرے لکھ رہے تھے۔ جس پر الطاف حسین بولے ‘یہ اپنے ہی بچے ہیں انہیں جانے دو’ اور ہماری جان چھوٹ گئی۔

وقت گزرتا گیا ایم کیو ایم سندھ کے شہری علاقوں کی سب سے بڑی جماعت بن گئی، مہاجر قومی موومنٹ سے متحدہ قومی موومنٹ میں تبدیل ہوگئی۔ لیکن یہ جماعت ایک ہی شخصیت کے گرد گھومتی رہی۔ الطاف حسین کسی کو بھی ٹکٹ دے دیں وہی کامیاب۔ الطاف حسین کے ایک اشارے پر پارٹی کے قومی اور صوبائی اسبملیوں کے ارکان مستعفیٰ ہونے کے لیے بیتاب۔ انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان تو شہر میں پولنگ سٹیشنز سنسان۔ ہڑتال کی اپیل تو بند ہر دکان۔ پارٹی میں اُن کے سامنے کسی کی شخصیت ابھرنے ہی نہیں دی گئی۔ ‘ہم کو منزل نہیں رہنما چاہیے’ کا نعرہ الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے تعلق کی بالکل صحیح نمائندگی کرتا ہے۔ جب تک الطاف حسین زندہ ہیں ایم کیو ایم کو اُن سے اور اُن کو ایم کیو ایم سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ اِس جماعت کی نشو نما ہی اِسی انداز میں ہوئی ہے۔

الطاف حسین گذشتہ 25 برس سے پاکستان سے باہر ہیں اور پارٹی کی مقامی قیادت نے ہر اچھے برے وقت میں حالات کا مقابلہ کیا۔ ڈاکٹر فاروق ستار، وسیم اختر، حیدر عباس رضوی، فیصل سبزواری، خواجہ اظہار الحسن، انیس قائم خانی وغیرہ ہی پارٹی کو کامیابی سے چلاتے رہے۔

مسائل اُس وقت شروع ہوئے جب الطاف حسین کی تقریریں ’ناقابلِ برداشت‘ ہوتی گئی نہ صرف اُن کے مخالفین کے لیے بلکہ خود اُن کے ساتھیوں کے لیے بھی۔ یہاں تک کے رہنماوں کی کارکنوں کے ذریعے پٹائی کے واقعات بھی سامنے آنے لگے۔ اگر ایم کیو ایم نائن زیرو سے پی آئی بی کالونی تک منتقل ہو گئی ہے تو اِس کی بڑی وجہ الطاف حسین کا غیر متوقع مزاج اور تقاریر ہیں۔ اگر یہ اسٹیبلشمنٹ کی سازش ہے بھی تو الطاف حسین نے اُس کا کام آسان کر دیا ہے۔

حسین عسکری

بی بی سی اردو سروس، لندن

فیصلے کی گھڑی

لندن کے ایک معروف اخبار نے 24مارچ‘ 1933 کو ایک ہیڈ لائن لگائی جس نے پورے یورپ میں ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ “Judea declare war on Garmany” (یہودیوں نے جرمنی کے خلاف اعلان جنگ کر دیا)۔ خبر کی تفصیل بہت خوفناک ہے۔ دوسری ہیڈ لائن تھی، ’’دنیا بھر کے یہودی متحد ہو گئے اور انھوں نے جرمنی کی مصنوعات کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا‘‘۔ خبر بتاتی ہے کہ دنیا بھر کے یہودیوں نے جرمنی کے خلاف معاشی جنگ کا اعلان کیا ہے۔ ایک کروڑ چالیس لاکھ یہودی فرد واحد کی طرح اکٹھے ہو چکے ہیں۔ یہ سب یہودی ہر سطح پر جرمنی کا مقابلہ کریں گے‘ دکاندار‘ بینکر‘ تاجر یہاں تک کہ یہودی بھکاری بھی اپنا کشکول جرمنی سے جنگ کے لیے خالی کر دے گا۔ دنیا کے ہر بڑے شہر میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں‘‘۔ یہ خبر ٹھیک ایک دن کے بعد اخبار میں لگائی گئی کیونکہ 23مارچ کو ہٹلر کی نازی پارٹی اور اس کی شریک جرمن نیشنل پارٹی نے یہودیوں کی تفتیش کے لیے پہلا کنسٹریشن Concentration کیمپ قائم کیا تھا۔ یہ اس زمانے کی بات ہے کہ جب نہ چوبیس گھنٹے کا ٹیلی ویژن ہوتا تھا اور نہ ہی سوشل میڈیا۔ لیکن اگلے دن ہی لندن کے اخبار نے یہودیوں کی طرف سے ہٹلر کے خلاف طبل جنگ بجا دیا اور پھراس قدر بجاتے رہے کہ پورے یورپ میں یہودیوں کے خلاف اور ان کی حمایت میں ایک فضا بن گئی۔

اس سارے کھیل کا مقصد یورپ میں صدیوں سے رہنے والے یہودیوں کو غیر محفوظ بنا کر اسرائیل کی سرزمین کی طرف دھکیلنا تھا جہاں پہلی جنگ عظیم کے بعد سے ہی وہ جا کر آباد ہونا شروع ہو گئے تھے۔ یہ معاشی بائیکاٹ اور وہ بھی یہودیوں کی جانب سے‘ کیا اتنا خطرناک تھا کہ حکومت گرا سکتا تھا۔ جی ہاں! اس لیے کہ یہ بائیکاٹ ان یہودی سود خور بینکاروں کی جانب سے تھا جنہوں نے پہلی جنگ عظیم میں اپنا سرمایہ لگایا‘ اور پھر اس سے کئی گنا زیادہ کمایا۔ پہلی جنگ عظیم کے بہت بڑے مورخ ایلن بروگر(Alan Bruger) کے مطابق ان عالمی سود خور بینکاروں نے محاذ جنگ پر مرنے والے ایک سپاہی کے عوض دس ہزار ڈالر کمائے۔

یہ وہ زمانہ تھا جب 1913 میں امریکا کا کل بجٹ 714 ملین ڈالر تھا اور صرف ایک سرمایہ دار راک فیلر کی سلطنت 900 ملین ڈالر پر محیط تھی۔ 1913سے لے کر آج تک پوری دنیا کے بینکاری نظام پر آٹھ خاندانوں کا قبضہ ہے۔ روتھ شیلڈ (Roth Schid)‘ راک فیلر (Rock feller)‘ کوہن لوچ (Kuhn Loch)‘ لی مین (Lehman)‘ لزارڈ (Lazard) اور اسرائیل موسیز سیف (Israel Moses seif)۔ امریکا کا فیڈرل بینک یعنی ٹریژی بھی انھی  کے کنٹرول میں ہے۔ ایک عالمی جنگ ان سود خور بینکاروں کی ضرورت کیوں ہوتی ہے۔ ان سرمایہ دار سود خور بینکاروں کا پیٹ چھوٹے چھوٹے مقروض صنعتکاروں کی دولت سے نہیں بھرتا۔ یہ طریقہ ایک مستقل سردرد ہے چھان پھٹک کر قرض دینا اور اپنے قرضے کی واپسی۔ کس قدر بہتر ہے کہ حکومتوں کو مقروض کرو اور پھر وہ عوام کا خون نچوڑ کر قرض کی ادائیگی کریں۔ اس کے لیے دنیا بھر میں پہلا تجربہ جنگ عظیم اول تھی۔ کوئی مورخ آج تک اس گورکھ دھندے کو حل نہیں سکا کہ پہلی جنگ عظیم شروع کیسے ہوئی۔

سرائیگو میں ولی عہد فرڈنیڈ کے قتل کے بعد آسٹریا نے سربیا سے معافی مانگنے کو کہا‘ سربیا نے معافی نامہ لکھ کر بھیج دیا لیکن آسٹریا نے جنگ کا اعلان کر دیا۔ پورے یورپ کے اسکولوں‘ کالجوں اور یونیورسٹیوں کی ٹیکسٹ کی کتابوں میں یہی کہانی پڑھائی جاتی ہے۔ لیکن دنیا بھر کے سنجیدہ مورخ اس بات پر متفق ہیں کہ یہ قتل تو ایک بہانہ تھا اس کے پیچھے کئی سالوں کی جنگی تیاری تھی‘ اسلحہ خریدا جا چکا تھا۔ ایک دوسرے کے خلاف نفرت کا طوفان عروج پر تھا۔ اس جنگ کو چھیڑنے کے عمل کو آٹھ بڑے سودی بینکار خاندانوں کا فارمولا کہا جاتا ہے جسے روتھ شیلڈ فارمولا کہتے ہیں یعنی’’اقوام کو اقوام کے خلاف کھڑا کرو تاکہ دونوں طرف قرضہ دے کر کماؤ۔‘‘ جنگ عظیم اول ختم ہوئی تو سب کو معلوم تھا کہ جرمنی کی معیشت تباہ ہو چکی ہے۔

لیکن یہ جنگ کسی کو تباہ کرنے کے لیے تھوڑا کی گئی تھی ۔ یہ تو انھیں لوٹنے کے لیے برپا کی گئی تھی۔ پہلے تو جنگ کے دوران بینکوں نے جرمنی کو اس کے خفیہ آپریشن کے لیے قرضہ فراہم کیا‘ پھر جب جرمنی ہار گیا تو اس پر بھاری تاوان جنگ ڈال دیا گیا۔ سب کو پتہ تھا کہ تباہ حال جرمنی جنگ کا تاوان اور قرضہ ادا نہیں کر سکتا۔ یہ سود خوربینکار سامنے آئے‘ جرمنی کو پہلے ڈاوس (Dawes) پلان‘ پھر (Yung) ینگ پلان کے ذریعے امریکیوں نے بھاری قرضے دیے گئے۔ 31اگست 1921ء کو جرمنی نے ایک ارب سونے کے مارک قرض اور سود کی صورت ادا کر دیے ۔ یہ منظر بھی دیکھنے کے قابل تھا جب سونے اور چاندی کے یہ سکے بکسوں میں بھر کر ریل کے ذریعے سوئٹزر لینڈ ‘ ڈنمارک اور ہالینڈ لے جائے گئے اور سٹیمر میں ڈال کر امریکا کے سود خور بینکاروں کے حوالے کیے گئے۔ یہ عالمی بینکاروں کا پہلا کامیاب تجربہ تھا۔

عالمی جنگ سے پیسہ کمانے کا عالمگیر تجربہ۔ اس کے بعد روتھ شیلڈ فارمولا کے تحت پوری دنیا کو دوسو کے قریب قومی ریاستوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ پاسپورٹ‘ کرنسی‘ ویزا‘ جھنڈہ‘ ترانہ اور سرحد جیسے مقدس لفظ وجود میں آئے۔ ہر ملک کی مسلح افواج بنیں اور ہر ایک کا دشمن بھی تخلیق ہو گیا۔ اب تو جنگ بھی آسان ہو گئی اور اس سے منافع کمانے کا راستہ بھی ۔صرف پچیس سال کے اندر اندر دوسری جنگ عظیم برپا ہوئی۔ امریکا اتحادی فوج کا حصہ تھا لیکن آپ حیران ہوں گے کہ امریکا کی فورڈ کمپنی فرانس میں جرمن فوجیوں کو ٹرک بھیجتی رہی‘اسٹینڈرڈ آئل کمپنی سوئٹزر لینڈ کے راستے جرمنی کوتیل فراہم کرتی رہی۔ انٹرنیشنل امریکن ٹیلیفون کمپٹی ITTکا سربراہ سوستھینی بین Sosthene behn امریکا سے میڈرڈ گیا‘ وہاں سے جرمنی کے شہر برن پہنچا اور ہٹلر کے مواصلاتی نظام کو موثر بنایا اور ان کے ربورٹ بم کی صلاحیت کو بہتر کیا تاکہ وہ لندن پر بم برسا سکیں۔ اسی دوران بال بیرنگ بنانے والی کمپنیوں نے جنوبی امریکا کے ممالک کے ذریعے جرمنی کو بال بیرنگ مہیا کیے جب کہ امریکی افواج اس کی کمی کو شدت سے محسوس کر رہی تھی۔ اس جنگ کے بعد ان سودی بینکاروں نے تباہ حال یورپ سے جو کچھ وصول کیا اور آج تک کر رہے ہیں وہ ان کی مکمل تقدیر ہے۔ ان کو قرضے دے کر پاؤں پر اس لیے کھڑا کیا گیا کہ وہ دوبارہ قرض ادا کریں اور پھر قرض لیں۔

یورپ تباہ ہو گیا ‘ برباد ہو گیا‘ لٹ گیا‘ ہر کسی نے جنگ سے توبہ کر لی‘ ہر کوئی جنگ سے نفرت کر کے ان سودی بینکاروں کی تجوریاں بھرنے کے لیے دن رات کمائی کرنے لگا۔ لیکن کیا دنیا سے جنگ ختم ہو گئی… نہیں ہرگز نہیں… جنگ تو ان سود خوروں کا سب بڑا کاروبار ہے۔ جنگ ویت نام چلی گئی‘ کمبوڈیا اور لاؤس میں جا پہنچی چلی‘ نکارا گوا اور ہنڈراس میں آگ برسانے لگی‘ انگولا ‘ صومالیہ  اور پورے افریقہ میں تباہی پھیلانے لگی۔ افغانستان کو برباد کرتی ہوئی عراق جا نکلی اور اب شام کے افق پر روز بجلی کی طرح چمک رہی ہوتی ہے۔ کیا ان تمام جنگوں میں اسی پورپ کا سرمایہ اسلحہ اور فوجیں شامل نہیں تھیں‘ جنہوں نے جنگ سے توبہ کر لی تھی۔ تو بہ نہیں کی تھی‘ بلکہ یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ اب جنگ ہم دوسرے کی سرزمین پرلڑیں گے‘ دوسروں کے سروں کی فصلیں کاٹیں گے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد ان سودی بینکاروں نے جس قدر سرد جنگ کے 45سالوں میں کمایا ہے وہ پہلی دو جنگوں سے بھی زیادہ ہے ۔سامان جنگ نیا بھی ہے اور مہنگا بھی ۔ خوف کا عالم ویسے ہی ہے۔ پہلے نازی دہشت گرد تھے‘ پھر کمیونسٹ دہشت گرد اور اب مسلمان دہشت گرد۔ رنیڈ کارپوریشن نے 2009ء میں کہا تھا،’’ امریکی معیشت کو ایک عالمی جنگ ہی بچا سکتی ہے‘‘۔ میدان جنگ منتخب ہو چکے‘ شام اور ہندوستان ۔ان مضبوط معیشتوں کا بھی اندازہ کر لیا گیا ہے جو جنگ کا خرچہ اٹھاسکتی ہیں۔

یہ ہیں‘ روس‘ چین ‘ بھارت ‘عرب ریاستیں اور ایران ۔ یورپ کو بھی مسلمان دہشت گردوں سے خوفزدہ کر کے جنگ کے لیے تیار کر لیا گیا ہے۔ 1933ء میں ایک اخبار تھا جس نے ہیڈ لائن لگائی تھی ۔ اب پورا میڈیا ایک خوفناک جن بن چکا ہے۔ شام میں لڑائی چلتی رہتی ہے تو عرب کمزور ہوں گے اور روس اس بندرگاہ کو استعمال نہ کر سکے گا۔ ایک خود مختار کشمیری ریاست کی جدوجہد شروع ہوتی ہے اور وہ بن جاتی ہے تو چین کی معاشی ناکہ بندی ممکن اور پاکستان کا معاشی استحصال۔ صرف دو ماہ پہلے فلپائن کو چین کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں فتح دلوائی گئی کہ چین اپنے جنوبی سمندر کے جزیروں پر حق نہیں رکھتا۔ چین نے کہا ہم اس فیصلے کو نہیں مانیں گے۔

لوہا گرم‘ بھٹی چل پڑ ی ہے‘ کوئی ایک واقعہ‘ ایک حادثہ اس بارود کو آگ لگا دے گا۔ کس قدر حیرت کی بات ہے کہ سیدالانبیاء صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے بھی آخری عالمی جنگ کے بارے میں انھی دو محاذوں کا ذکر کیا ہے۔ ’’شام و ہند‘‘ اور فتح کی بشارتیں دی ہیں۔ جو اللہ کے رسول ؐ پر ایمان رکھتے ہیں وہ بھی جان لیں کہ یہ جنگ رکنے والی نہیں ‘ اور جو عالمی نظام کو زر کو خدا مانتے ہیں‘ وہ بھی سمجھ لیں کہ جنگ آ رہی ہے۔ فیصلہ آپ کو کرنا ہے کہ یہ جنگ ہم نے کس کے مفاد کے لیے لڑنا ہے‘ اللہ کے دین کی عظمت کے لیے یا عالمی استعمار کے ایجنڈے کے لیے… فیصلے کی گھڑی ہے۔

اوریا مقبول جان

دہشتگردی کی روک تھام صرف ہماری ذمے داری ہے : وسعت اللہ خان

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر خودکش بمبار اتنی زیادہ چیک پوسٹیں عبور کر کے اپنے آٹھ کلو گرام بارود سمیت سول اسپتال کوئٹہ کی ایمرجنسی تک کیسے پہنچ گیا؟ پیچھے یقیناً زبردست منصوبہ بندی تھی۔ مقامی دہشتگردوں میں تو اتنا دماغ نہیں کہ وہ ایسی غیرمعمولی پلاننگ کر سکیں کہ جب وہ بلوچستان بار کے سابق صدر بلال انور قاضی کو گولی ماریں گے تو ان کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے سول اسپتال لائی جائے گی اور مقامی روایات کے مطابق جس وکیل کو اس واقعے کی اطلاع ملتی جائے گی وہ سول اسپتال پہنچتا چلا جائے گا اور جب سب قابلِ ذکرِ وکیل جمع ہو جائیں گے تو پھر بم پھاڑ کر انھیں ختم کر دیا جائے گا۔ ایسی سائنسی منصوبہ بندی تو کوئی اعلیٰ بدیسی دماغ ہی کر سکتا ہے۔ لہٰذا اندرونی چھوڑئیے صرف یہ سوچئے کہ اس طرح کی حرکت کا کس کس غیر ملک کوفائدہ ہو سکتا ہے؟

اب جب کہ ہم اصل واقعے کی فورنزک و انٹیلی جینس تحقیقات مکمل ہونے سے بہت پہلے ہی اصل مجرموں کی نشاندھی میں کامیاب ہو چکے ہیں تو اس جانب توجہ دی جائے کہ اے پی ایس پشاور، بڈبیر، باچا خان یونیورسٹی چار سدہ، لاہور گلشنِ اقبال پارک، واہگہ چیک پوسٹ دھماکا یا سول اسپتال کوئٹہ جیسی عوامی جگہوں پر ہونے والی وارداتوں کو پیشگی ناکام بنانا کن کن ملکی اداروں کی ذمے داری ہے؟ کالم میں اتنی جگہ نہیں کہ ہم ایک ایک مذکورہ واردات پر تفصیلاً بات کر سکیں۔ لہٰذا اپنی آسانی کے لیے تازہ اور فوری واردات یعنی کوئٹہ بم دھماکے کو روکنے کی ممکنہ ذمے داری پر بات کر لیتے ہیں۔ جو بھی نتیجہ نکل کے آئے گا وہ دیگر وارداتوں کے تجزئے کے لیے بھی ماڈل کا کام دے سکتا ہے. پہلی ذمے داری تو جیالوجیکل سروے آف پاکستان پر عائد ہوتی ہے کہ جس کا ہیڈکوارٹر کوئٹہ میں ہے۔ یہ وہ ادارہ ہے جو زمین کے اندر چھپے ہوئے عناصر کا بھی کھوج نکال لیتا ہے۔ تو پھر اس کی نگاہ سے دہشتگردوں کا انڈر گراؤنڈ نیٹ ورک کیسے چوک گیا؟

اب اگر جیالوجیکل سروے کے اہلکار کہیں کہ صاحب یہ ہمارا کام نہیں ہم تو صرف زمین کی اندرونی تبدیلیوں اور موادپر نگاہ رکھتے ہیں۔ تو ان حیلہ طرازوں سے کوئی پوچھے کہ گوگل ارتھ میں تمہیں صرف پہاڑ، ندی نالے ہی نظر آتے ہیں کوئی انسان یا کوئٹہ شہر کی سڑکیں یا ان سڑکوں سے گزرنے والا بارودی ٹرک یا مشکوک موٹر سائیکل نظر نہیں آتا؟ تم جیسا ادارہ جس سے زمین کا کوئی چپہ پوشیدہ نہیں صرف یہ کہہ کے تو جان نہیں چھڑا سکتا کہ دہشت گرد تلاشنا یا انھیں روکنے کے لیے بروقت اطلاع دینا ہماری ذمے داری نہیں۔

چلیے اگر جیالوجیکل سروے اپنی بنیادی ذمے داری پوری نہیں کر سکا تو اسپتال کے گیٹ پر کیا واچ اینڈ وارڈ کا عملہ نہیں تھا؟ اُسے خود کش بمبار اسپتال میں داخل ہوتا کیوں دکھائی نہیں دیا؟ یہ تو کوئی بہانہ نہیں کہ اسپتالی محافظوں کے پاس جو دستی سکینرز ہوتے ہیں وہ اصلی سکینرز کی میڈ ان چائنا فرسٹ کاپی ہوتے ہیں۔ اور یہ بھی کوئی بہانہ نہیں کہ اسپتال جیسی جگہوں پر روزانہ ہزاروں افراد اور سیکڑوں مریض آتے جاتے ہیں لہٰذا چار پانچ کچے پکے تربیت یافتہ آٹھ ہزار روپے ماہانہ تنخواہ والے چوکیدار کس کو روکیں اور کسے جانیں دیں؟ اگر وارادت کے بعد یہی بہانے کرنے ہیں تو اسپتال انتظامیہ ان مٹی کے پُتلوں کو تنخواہ دینے کے بجائے گھر کیوں نہیں بھیجتی؟

حق بات تو یہ ہے کہ جتنے بھی پبلک مقامات پر دہشتگردی کا خطرہ ہے۔ ان مقامات پر دہشتگردی روکنا انھی اداروں کا کام ہے جن کے تحت یہ پبلک مقامات آتے ہیں۔ مثلاً اسکولوں کی سیکیورٹی محکمہ تعلیم کی ذمے داری ہے جسے ہر اسکول کو سرکلر بھیجنا چاہیے کہ کسی مشکوک فرد کو اسکول میں داخل نہ ہونے دیں بھلے وہ خود کو خودکش بمبار ہی کیوں نہ کہے۔ اسی طرح اسپتالوں کو دہشتگردی سے بچانا محکمہ صحت کی اور پبلک پارکس کے تحفظ کی ذمے داری متعلقہ شہر یا قصبے کی بلدیہ کے ڈائریکٹوریٹ پارکس اینڈ ہارٹیکلچر کی ہے۔ ( یہ تو ہماری عدالتیں اور آئین بھی کہتے ہیں کہ ہر ادارے کو اپنے اپنے دائرے میں رہ کر کام کرنا چاہیے اور کسی دوسرے ادارے کے دائرے میں نہیں گھسنا چاہیے)۔

چلیے اگر مذکورہ ادارے اپنے صارفین کو تحفظ نہیں دے پا رہے تو ان کی نااہلی کا رونا رونے کے بجائے صارف کو اپنے گریبان میں بھی تو جھانک کے سوچنا چاہیے کہ وہ خود کامنِ سینس (عقلِ سلیم) سے کام لیتے ہوئے اپنی حفاظت کیوں نہیں کر پا رہا؟

اور کسی شہر کے نہ سہی مگر کوئٹہ کے وکلا کو تو یہ معلوم ہونا چاہیے تھا کہ بلوچستان بار کے صدر بلال انور قاضی کی شہادت دراصل وہ کانٹا ہے جس میں دہشتگرد وکلا برادری کو اٹکا کر شکار کریں گے۔ دہشتگردوں نے اس طرح کی تکنیک کوئی پہلی بار تھوڑا استعمال کی ہے؟ ماضی میں انھوں نے ایک پولیس افسر کو مارا اور پھر اس کی نمازِ جنازہ میں شریک دیگر پولیس افسروں پر خودکش حملہ کیا۔ وکیلوں کو تو ویسے بھی مجرموں کی نفسیات ہم سے زیادہ معلوم ہوتی ہے اور وہ باریک سے باریک موشگافی تک پہنچنے اور بال کی کھال اتارنے کے لیے مشہور ہوتے ہیں۔ تعجب ہے کہ انھیں سامنے کی بات کیوں سجھائی نہیں دی کہ دہشتگرد ایک شحض کی لاش کو چارہ بنا کر پورے قانونی غول کو اپنے ساتھ لے جائیں گے۔ امیدہے زندہ رہ جانے والے وکلا آیندہ صرف اپنے کلائنٹس کے مفادات ہی کی نہیں بلکہ اپنی حفاظت بھی خود کریں گے۔ انھی خطوط پر اگر پبلک پارک کا تحفظ مقامی بلدیہ اپنی ذمے داری نہیں سمجھتی تو پھر والدین کو اس کا ذمے دار ہونا پڑے گا، انھیں اپنے بچوں کے اسکولوں کی بھی حفاظت کرنا ہو گی، مشکوک افراد اور اشیاء پر بھی نگاہ رکھنا ہو گی، متعلقہ حکام کو بھی مطلع کرنا ہو گا اور پھر اپنے روٹی روزگار کا بھی ساتھ ساتھ سوچنا ہو گا۔

وہ کسی کا شعر ہے نا کہ

یہ شہادتِ گہہِ الفت میں قدم رکھنا ہے

لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا

کوئٹہ سانحے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے محمود اچکزئی سمیت کچھ افراد ایجنسیوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ڈال رہے ہیں۔ یہ رویہ مناسب نہیں۔ کوئٹہ کے دھماکے کو اگر جیالوجیکل سروے آف پاکستان چاہتا تو روکا جا سکتا تھا۔ اس کا الزام ایجنسیوں کی غفلت کو ٹھہرانا کسی طور مناسب نہیں۔ ایجنسیاں بچاری تو اس موقع پر دور دور تک نہیں تھیں۔ اس کے علاوہ میں سائبر کرائم بل کی پارلیمنٹ سے بروقت منظوری کا بھی خیر مقدم کرتا ہوں۔ جو لوگ ملکی سالمیت کے معاملے پر کسی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔ سائبر کرائم بل کے ذریعے ان کے پیچ کس کے ایک پیج پر لانے میں مدد ملے گی۔ یوں ہم سب اس پرچم کے سائے تلے ہنسی خوشی رہنا سیکھ لیں گے۔

وسعت اللہ خان

عراقی یادوں کا البم…وسعت اللہ خان

2003 میں اس وقت بی بی سی کے نامہ نگار وسعت اللہ خان عراق گئے تھے۔ زیر نظر کالم بی بی سی اردو کے لیے ان کی یاد داشتوں پر مبنی خصوصی تحریر کا پہلا حصہ ہے۔
بغداد کے فردوس سکوائر میں ایستادہ صدام حسین کے دیوہیکل مجسمے کو گرائے جانے کے ٹھیک ایک ماہ بعد (دس مئی 2003) کو میں عمان سے نکلا اور سرحد پر قائم سنسان سرحدی چیک پوسٹ عبور کرتا، راستے میں کہیں کہیں جلے ہوئے ٹینک، توپیں اور فوجی ٹرک دیکھتا براستہ رمادی و فلوجہ بغداد کے فلسطین ہوٹل پہنچا۔ پچھلے ایک ماہ کے دوران ایک عام عراقی کے اردگرد کی روزمرہ دنیا جس تیزی سے بدلی تھی اس کا مقابلہ کرنے کے لیے عراقیوں نے سکتے کی چادر اوڑھ لی تھی۔ عراقی طبعاً بلند آہنگ ہوتے ہیں مگر مجھ جیسے اجنبیوں کو لگتا تھا جیسے ہزاروں انسانی پتلے گلیوں بازاروں میں ’درد کا حد سے گذر جانا دوا ہوجانا‘ کی تعبیر بنے گھوم رہے ہیں۔ پٹرول پمپوں پر لگی لمبی لمبی قطاروں کے سوا کہیں بھی انسانی شور نہیں تھا۔ پٹرول کا عنقا ہونا صدام کے جانے سے زیادہ اہم تھا۔ ایسے ہی ایک پٹرول پمپ پر میں نے سنا ’پٹرول کیا یہ امریکی سب لے جائیں گے‘۔
چونکہ ملک سکتے میں تھا اس لیے بدامنی بھی کہیں نہیں تھی۔ میرے ڈرائیور نوری الہندی کے پرکھے تین نسل پہلے بغداد میں آباد ہوئے لہٰذا وہی میرا مترجم بھی تھا۔ ہم دونوں کسی بھی کیفے میں جا کر بیٹھ جاتے اور نوری مجھے بتاتا رہتا کہ کون کیا کہہ رہا ہے۔ یہ دائیں والا کہہ رہا ہے کہ صدام کو امریکیوں نے چھپایا ہوا ہے اور جب سودے بازی ہو جائے گی تو وہ پھر واپس آجائے گا۔ پیچھے والا کہہ رہا ہے کہ عراق کے تین ٹکڑے کیے جائیں گے اور ان میں سے ایک ٹکڑا صدام کے حوالے کر دیا جائے گا۔۔۔
شاید کسی کو یقین نہیں تھا کہ صدام چلا گیا ہے۔ ناصریہ کے آدھے زخمی سرکاری ہسپتال میں ایک ڈاکٹر بات کرتے کرتے اچانک چپ ہوگیا۔ پھر سرگوشی میں کہنے لگا ’باہر چل کے بات کرتے ہیں۔ سامنے والا مخبرات (صدام انٹیلی جینس) کا ایجنٹ ہے‘۔ میں نے کہا صدام تو اب نہیں ہے۔ ڈاکٹر نے کہا ’امریکیوں کا کیا بھروسہ ؟‘
بصرہ برطانوی فوج کے قبضے میں تھا۔ برطانوی فوجی کسی راہگیر سے بات کرتے ہوئے کالا چشمہ اتار لیتے تھے۔ شاید انہیں بریفنگ دی گئی تھی کہ عرب کالا چشمہ پہن کر بات کرنے والوں کو مغرور اور بدتمیز سمجھتے ہیں۔ مگر میں نے کسی امریکی فوجی کو کہیں بھی کالا چشمہ اتار کر بات کرتے نہیں دیکھا۔
نجف میں محمد باقر الحکیم سے ملاقات ہوئی جو طویل جلا وطنی کاٹ کر تازہ تازہ ایران سے لوٹے تھے۔
انھوں نے دورانِ گفتگو ایسا فقرہ کہا جو آج بھی تازہ ہے ’اگر عراقی شیعوں اور سنیوں کو غیر عراقیوں نے ایک دوسرے سے بدزن نہ کیا تو ہم لبنانیوں کی طرح ایک دوسرے کے ساتھ رہنا سیکھ لیں گے۔ بصورتِ دیگر عراق اور اردگرد کا خطہ زہریلے سانپوں میں گھر جائے گا‘۔ (تین ماہ بعد باقر الحکیم ایک دھماکے میں ہلاک ہوگئے)۔ مقتدہ الصدر (سربراہ مہدی ملیشیا) سے ملاقات کا وقت طے ہوا لیکن پھر ان کے ترجمان نے معذرت کرلی۔ البتہ آیت اللہ علی السیستانی سے پانچ منٹ کی ملاقات کا شرف ضرور حاصل ہوا۔ میں صرف ایک سوال پوچھ پایا اب عراق کا مستقبل کیا ہے؟‘ جواب آیا ’امریکی جتنا جلد چلے جائیں اتنی جلد زخم مندمل ہونے لگیں گے ورنہ یکطرفہ پالیسیاں زخم کو ناسور بنا دیں گی۔‘ (امریکی اور اتحادی آٹھ برس بعد عراق سے لوٹے۔ تب تک زخم ناسور بن چکا تھا)۔
صدام حسین کا عراق جبر تلے ضرور سسک رہا تھا مگر عرب دنیا کی سب سے خواندہ اور پڑھی لکھی مڈل کلاس بھی عراق میں ہی تھی۔ پچیس برس میں تین خونریزہ جنگوں، بارہ برس کی مسلسل اقتصادی پابندیوں اور اندرونی جبر نے ایک جیتے جاگتے ملک اور سماج کو اندر باہر سے توڑ پھوڑ کے رکھ دیا؟
اس کا اندازہ بغداد کے ایک عیسائی دکاندار (غالباً موافق حداد نام تھا) کے اہلِ خانہ سے مل کر ہوا۔ موافق کی اہلیہ سکول ٹیچر تھیں مگر جنگ کے بعد سکول بند تھے۔ بیٹا دکان پر باپ کا ہاتھ بٹاتا تھا اور بیٹی میڈیکل سائنس کی طالبہ تھی۔ وہ خوش بھی تھے اور زبان سے نابلد غیرملکی کے بارے میں متجسس اور محتاط بھی۔ جو کچھ گھر میں پکا تھا سامنے رکھ دیا۔
ہر دو منٹ بعد موافق کے منہ سے نکلتا ’ہم آپ سے جو بھی باتیں کر رہے ہیں اس لیے کر رہے ہیں کہ آپ یہاں نہیں رہتے۔ کسی کو بتائیے گا نہیں۔‘ گھر کے دونوں کمروں میں کوئی فرنیچر نہیں تھا۔ میں نے انجانے میں پوچھ لیا کہ کیا عراقی گھروں میں فرشی نشست ہی پسند کی جاتی ہے؟ موافق نے کوئی جواب نہیں دیا۔ البتہ اس کی بیوی نے دو چار جملے بولے مگر حداد نے میرے ڈرائیور نوری کو شاید ترجمے سے منع کردیا۔ موافق فیملی سے رخصت ہونے کے بعد میں نے نوری سے پوچھا اس کی بیوی کیا کہہ رہی تھی؟ وہ کہہ رہی تھی کہ ’انہیں بتاؤ کہ ہم اس لیے انہیں فرش پر بٹھا رہے ہیں کہ فرنیچر تو ایک ایک کر کے بک گیا۔ ہمارے ہمسائیوں کے پاس تو مہمانوں کی تواضع کے لیے برتن بھی نہیں بچے۔‘
میں نے ایک جگہ سگریٹ خریدنے کے لیے گاڑی رکوائی۔ پانچ سو دینار کا سگریٹ کا پیکٹ اور سو دینار کی ماچس کی ڈبیہ خرید کر گاڑی میں آ بیٹھا۔ اگلے آدھے گھنٹے تک میں اور نوری بنا بات کیے سفر کرتے رہے۔
وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

میری عید اور عیدی کہاں ہے..وسعت اللہ خان

روزانہ کے پھیروں، آج کل آج کل کے سیکڑوں بہانوں ، ٹنوں خوشامد اور منوں ناراضی کے نتیجے میں عید کا چاند دکھائی دینے کے بھی گھنٹے دو گھنٹے بعد شکور ٹیلرز ترسا ترسا کے بالاخر یہ کہتے ہوئے جوڑے دے دیتا کہ اس وقت کان کھجانے کی بھی فرصت نہیں لہذا استری گھر جا کے کروا لینا اور اماں سے تاخیر پر معذرت کر لینا۔ یہ شکور درزی کا ہر سال کا معاملہ تھا۔ دادی کہتی تھیں درزی خون کے آنسو نہ رلائے تو کاہے کا درزی۔ بہرحال اس قدر زلت اور خون جلانے کے باوجود جیسے ہی سلا سلایا جوڑا ہاتھ میں آتا ساری کلفت دور ہوجاتی۔ رات کو میں اپنا جوڑا سرہانے رکھ کے سوتا اور تھوڑے تھوڑے وقفے سے اٹھ اٹھ کر دیکھتا کہ اپنی جگہ پر تو ہے نا۔ چاند رات سال کی سب سے طویل رات ہوتی تھی۔کٹنے کا نام ہی نہ لیتی۔
بے چینی سے کروٹ پر کروٹ بدلنے کا سبب یہ نہیں تھا کہ صبح ہی صبح نہا دھو کر نئے کپڑے پہن کر ابا کی انگلی تھامے آموں کے باغ میں بنی عیدگاہ میں نماز پڑھنے جانا پڑے گا۔ بلکہ بے چینی کا اصل سبب یہ ہوتا کہ نماز ختم ہو تو ہم ابا کی انگلی چھڑا کے گھر کی طرف بھاگیں اور دادی کی گود میں سر رکھ کے انھیں ایک آنکھ سے ملتجیانہ دیکھنا شروع کردیں۔ دادی کہتیں مجھے پتہ ہے تو کیوں گھسا چلا جا رہا ہے، لا یہ صندوقچی دے۔ اور میں ہاتھ بڑھا کر وہ صندوقچی تپائی سے اٹھاتا اور دادی کے سامنے دھر دیتا۔ اس ’’ خزانے‘‘ کی چھوٹی سی چابی دادی کے گلے میں چاندی کے خلال والی ڈوری کے ساتھ پروئی لٹکتی رہتی۔ دادی اس جادوئی چابی سے صندوقچی کھولتیں اور حساب کتاب کی پرچیوں اور چورن کی جانے کب سے بندھی پڑیوں کو ایک طرف کرتے ہوئے ایک روپے کا بڑا سا سکہ نکالتیں اور یہ کہتے ہوئے ہاتھ پر دھر دیتیں ’’لے کل موہے تیری عیدی‘‘۔ اور کل موہا عیدی پکڑتے ہی یہ جا وہ جا۔پیچھے پیچھے دادی کی آواز آتی رہتی ’’ یہ آج کل کے بچے کتنے مطلبی ہو گئے ہیں…توبہ توبہ ‘‘…
دادی کے عطاکردہ کلدار ایک روپے کی اہمیت یہ تھی کہ اب ہم اسے سرٹیفکیٹ بنا کر گھر کے ہر بڑے کے پاس دھڑلے سے جاتے اور ایک روپے کا سکہ ہتھیلی پر جما کر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتے ’’دادی نے عیدی دی ہے‘‘۔ اس کا مطلب یہ ہوتا کہ تم کس کھیت کی مولی ہو تم بھی عیدی نکالو۔ یوں عیدی وصولی مہم کے نتیجے میں دو پہر تک وہ مطلوبہ رقم جمع ہوجاتی کہ جسے باہر جا کر اپنی مرضی سے اڑایا جا سکے۔ اس دوران امی پیالوں میں شیر خرما ڈال کر چھوٹی چھوٹی ٹریز میں رکھتی جاتیں اور ساتھ ہی ساتھ ہر ہمسائے کے جتنے بچے ہوتے ان کے لیے پچاس پیسے کے سکے بھی گن کے رکھتیں۔ یہ ٹرے خالہ زہرہ کے ہاں دے آؤ اور پھر انور گرداور کے گھر دے آؤ اور یہ والی ٹرے باجی شہناز کے گھر جائے گی۔ اور ہم باری باری پھیرے لگاتے۔ان پھیروں کے نتیجے میں ہر گھر سے ہمیں بھی جوابی عیدی ملتی اور جب تک محلے میں شیر خرما بانٹنے کا کام ختم ہوتا تب تک ہماری جیب عیدی کے سکوں سے اتنی بھر جاتی کہ اب پھٹی کہ جب پھٹی۔
اس کے بعد ہم گھر سے دوڑتے ہوئے نکلتے اور ایک بلاک اسکول کے سامنے 
والے میدان میں پہنچ کر دم لیتے۔ وہاں سے تب تک گھر واپسی نہ ہوتی جب تک آخری سکہ بھی خرچ نہ ہوجاتا۔ میٹھی املی، گھگھو گھوڑے، چرخ چوں چرخ چوں کرتا نیچے سے اوپر اور اوپر سے نیچے آنے والا لکڑی کا گھماؤ جھولا کہ جس کے ہر چکر میں پیٹ میں میٹھی میٹھی اینٹھن اٹھتی۔ اور پھر چھرے والی بندوق سے پٹھان کے غبارے پھوڑنے کا کھیل۔ اور پھر بائسکوپ کے جادوئی ڈبے والا جو صرف عید کے دن آتا اور پھر سال بھر کے لیے غائب ہوجاتا۔ بائسکوپ مین ڈبے کے نیچے لگی پھرکی گھماتا جاتا اور ڈبے کے اندر تصویر بدلتی جاتی۔ سترہ من کی دھوبن دیکھو ، مکہ دیکھو مدینہ دیکھو ، انگریجی میم دیکھو…اور اس کے بعد بندر کا تماشا دکھانے والا اور میدان کے آخری کونے پر ریچھ کا ناچ اور بچوں کی تالیاں۔ اور پھر رسیلے گولے گنڈے اور کھوئے والی بڑی قلفی۔ اس کے بعد ان اشیا سے داغدار کپڑوں کے ساتھ گھر واپسی۔ اس زمانے میں داغ اچھے نہیں ہوتے تھے لہذا گھر واپسی پر کپڑے گندے کرنے پر ماں کان ضرور کھینچا کرتی تھی۔
اب تو خیر میرے بچے بہت ہی بڑے ہوگئے ہیں۔ کئی سال مجھ سے پوچھتے رہے بابا آپ عید کے دن کمرے میں کیوں بند رہتے ہیں۔ نئے کپڑے پڑے رہتے ہیں آپ پہنتے کیوں نہیں۔ شام کو جو لوگ ملنے آتے ہیں آپ ان کے ساتھ بیٹھ کے ہنستے کیوں نہیں۔ صرف پانچ منٹ رسمی سی بات چیت کر کے کیوں اٹھ جاتے ہیں۔ بابا عام دنوں میں تو آپ اتنا ہنستے ہیں مگر عید کے دن آپ کا چہرہ اسپاٹ کیوں ہوتا ہے۔ کئی عیدیں گذر گئیں اب بچوں نے مجھ سے پوچھنا چھوڑ دیا ہے۔ البتہ ایک روائیت ضرور برقرار ہے۔ صبح وہ ایک ایک کر کے میرے کمرے میں آتے ہیں۔سلام کرتے ہیں اور میں انھیں پہلے سے بنا کر سرہانے رکھے لفافے میں سے کوئی ایک پکڑا دیتا ہوں۔ مجھے معلوم ہے کہ یہ غیر مناسب رویہ ہے۔ مجھے اپنے لیے نہیں تو اپنے بچوں کے لیے ضرور عید کے دن وہ سب کرنا چاہیے جو وہ کہتے ہیں۔ مگر میں کیا کروں۔عید کے دن وہ بچہ کہیں سے میرے سامنے آ کے کھڑا ہوجاتا ہے اور پھر خالی خالی نظروں سے چاروں طرف وہ سب ڈھونڈتا رہتا ہے جو اب کہیں نہیں۔
ہاں وہ کلدار ایک روپے کا سکہ آج بھی میرے پاس محفوظ ہے۔ہر عید پر میں اسے الماری سے نکالتا ہوں اور دیر تک الٹتا پلٹتا رہتا ہوں اور پھر دروازے پر دستک سنتے ہی تکئیے کے نیچے چھپا دیتا ہوں۔
ایک چھوٹا سا لڑکا تھا میں جن دنوں
ایک میلے میں پہنچا ہمکتا ہوا
جی مچلتا تھا ایک ایک شے پر مگر
جیب خالی تھی کچھ مول لے نہ سکا
لوٹ آیا لیے حسرتیں سیکڑوں
ایک چھوٹا سا لڑکا تھا میں جن دنوں
خیر محرومیوں کے وہ دن تو گئے
آج میلہ لگا ہے اسی شان سے
آج چاہوں تو اک اک دوکاں مول لوں
آج چاہوں تو سارا جہاں تول لوں
نارسائی کا اب جی میں دھڑکا کہاں
پر وہ چھوٹا سا ننھا سا لڑکا کہاں 
( ابنِ انشا )
وسعت اللہ خان

نواب برٹش یار جنگ کی استادی

ہمیں ہمارے بڑے اور ان کے بڑے اور ان کے بڑے نسل در نسل بتاتے آئے کہ انگریز سو سال آگے کی پلاننگ کرتا ہے تبھی تو اس کی سلطنت میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔ ہمیں بتایا جاتا رہا کہ انگریز جمہوریت، روشن خیالی اور صنعتی انقلاب کا امام ہے، یورپی نشاۃ ثانیہ کا پیغمبر ہے، فنِ سفارت کاری کا استاد ہے، اس کے تہذیبی و تمدنی اثرات سے کوئی نہ بچ پایا۔ ہمیں یقین دلایا گیا کہ دنیا میں دو طرح کے لوگ بستے ہیں ایک وہ جو انگریزی جانتے ہیں، دوسرے وہ جو ان پڑھ ہیں۔ مگر یہ سب 23 جون سے پہلے کا قصہ ہے۔ ساڑھے سات سو برس پرانا وہ قصہ تو یاد ہو گا کہ کس طرح طاعون زدہ جرمن قصبے ہیملن کے بچے ایک پائیڈ پائپر کی بین سے نکلنے والے مدھر سروں سے مست قطار اندر قطار اس کے پیچھے چل پڑے اور پھر جانے کہاں کھو گئے۔ ہیملن کا پائیڈ پائپر تو والدین کو بتائے بغیر ان کے بچے لے گیا مگر تین دن پہلے امیگریشن کے فرضی طاعون سے خوفزدہ برطانوی بڈھوں نے اپنے ہاتھوں اپنے بچے سنہرے مستقبل کی مدھر دھن سنانے والے پائیڈ پائپر کے حوالے خوشی خوشی کردیے۔
میں بھی عجیب شخص ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بس
خود کو تباہ کرلیا اور ملال بھی نہیں (جون ایلیا)
 آپ نے کہا ہم یورپی یونین میں تو رہیں گے مگر یورو زون کا حصہ نہیں بنیں گے اور اپنا پاؤنڈ چلائیں گے، یورپ نے کہا جیسے قبلہ کی مرضی۔ آپ نے کہا مابدولت یورپی یونین میں تو رہیں گے مگر شنیگن معاہدے میں شامل نہیں ہوں گے اور بارڈر کنٹرول اپنے ہاتھ میں رکھیں گے۔ یورپ نے کہا جیسے حضور چاہیں ویسا کرلیں۔ آپ نے فرمایا یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سرآنکھوں پر مگر امریکہ سے ہم اپنے خصوصی تعلقات میں مداخلت برداشت نہیں کریں گے۔ یورپ نے کہا بجا فرمایا۔ 
حضورِ والا نے بقائمی ہوش و حواس 1992 میں یورپی یونین کے موجودہ ڈھانچے میں شمولیت کے لیے تاریخی ماسترخت معاہدے پر دستخط کیے۔ آپ کو معلوم تھا کہ اس نکاح کے بعد ماتھے پر شکن لائے بغیر تمام رکن ممالک کے مابین افراد، اشیا اور کاروبار کی آزادانہ نقل و حمل ہوگی۔ اور پھر اچانک 24 برس بعد ایک وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون کو جانے کیوں سوجھی کہ برطانیہ کے یورپی یونین میں رہنے نہ رہنے پر ریفرنڈم کروائیں گے۔ حالانکہ یہ ریفرنڈم تو انیس سو بانوے میں ہونا چاہیے تھا۔ اور جب ریفرنڈم کا پنڈورا بکس کھل گیا اور اس میں سے نسل پرستی و تنگ نظری کے حشرات نکل نکل کر رینگنے لگے تو یہی ڈیوڈ کیمرون ووٹروں سے اپیل کرتے رہے کہ خدارا یونین سے نکلنے کے لیے ووٹ نہ دیجیے۔ مگر تب تک ہر قصبہ، محلہ، خاندان بٹ چکا تھا اور تمام قومی جماعتیں پٹ چکی تھیں۔ ایسا آخری بار 17 ویں صدی کی خونی خانہ جنگی میں ہوا تھا جب برطانیہ شاہ پرستوں اور جمہور پرستوں میں بٹ گیا تھا۔
 
مگر یہ ریفرنڈم تاریخ میں پہلی ایسی خانہ جنگی کے طور پر یاد رکھا جائے گا جو بلٹ کے بجائے بیلٹ سے لڑی گئی۔ جیتنے والوں کو بھی سمجھ میں نہیں آ رہا کہ اب وہ اپنی فتح کا کیا کریں اور ہارنے والے بھی ششدر ہیں کہ بیٹھے بٹھائے سر پر اینٹ (برک زٹ) کیوں مار لی؟ اگر تو یہ آزادی ہے تو کیسی آزادی ہے جس پر احساسِ تنہائی قہقہے لگا رہا ہے۔ ہمیں بتایا جاتا رہا کہ انگریز سے زیادہ معاملہ فہم تیز طرار کوئی نہیں ہوتا تبھی تو مٹھی بھر انگریزوں نے لڑاؤ اور حکومت کرو کے اصول پر آدھی دنیا کو سینکڑوں سال دبا کے رکھا۔ مگر یہ کیا ہوا کہ استاد اپنے ہی مجرب جال میں خود پھنس گیا۔ تو کیا اب بھی انگریز لوگ اہلِ سکاٹ لینڈ اور آئرش لوگوں پر لطائف بناتے سناتے رہیں گے؟
وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پکڑ سکو تو پکڑ لو : Catch me if you can

ممکن ہے اکیسویں صدی یکم جنوری دو ہزار سے شروع ہوئی ہو۔ مگر میری نسل
کے لیے بیسویں صدی جمعہ چار جون دو ہزار سولہ کو محمد علی پر مکمل ہوئی۔اب ساٹھ کے عشرے میں پیدا ہو کر ستر کے عشرے میں ہوش سنبھالنے والا کوئی ایسا بچہ دیکھنے کی خواہش ہے جو یہ دعویٰ کر سکے کہ وہ محمد علی کی باکسنگ کے قصے دیکھے یا سنے بغیر بڑا ہو گیا۔ کوئی ایسا ملے تو مجھ سے ضرور ملوائیے گا۔ میں سونی لسٹن کا نام اس لیے نہیں جانتا کہ وہ عالمی چیمپئن تھا بلکہ اس لیے یاد ہے کہ محمد علی نے اسے ہرایا تھا۔ مجھے فلائیڈ پیٹرسن ، ہنری کوپر ، جیری کویری ، جوفریزر ، جوبگنر ، کین نارٹن ، جارج فورمین ، لیون سپنکس اس لیے تھوڑی یاد ہیں کہ وہ عظیم باکسر تھے بلکہ یوں لاشعور کی ہارڈ ڈسک میں موجود ہیں کہ محمد علی کے مقابل انھیں باکسنگ رنگ میں دیکھا تھا۔

ہاں محمد علی جوفریزر ، کین نارٹن ، لیون سپنکس سے ایک ایک بار ہارنے کے بعد جیتا۔ انیس سو اسی اور اکیاسی میں لیری ہومز اور ٹریور بیربیک سے لگاتار ہارنے کے بعد عظیم ترین علی نے باکسنگ سے ریٹائرمنٹ لے لی تھی۔ لیکن کیا کسی کو محمد علی کی یہ ناکامیاں اور آخری دو فیصلہ کن شکستیں یاد ہیں ؟ باکسرز کے نام تو شائد بہت سوں کو یاد رہ جائیں مگر کسی باکسر کے مینیجر کا نام کیسے کروڑوں لوگوں کے حافظے کا حصہ بن جاتا ہے ؟ مگر جو علی کو جاننے کا دعویٰ کرے اور اس کے مینیجر ڈان کنگ کو نہ جانے ؟

 کیسے ممکن ہے ؟ تیس اکتوبر انیس سو چوہتر صبح چار بجے پاکستان میں ہر اس جگہ جہاں پی ٹی وی دیکھنا ممکن ہے وہاں محلے کے جن جن گھروں میں ٹی وی سیٹ موجود ہیں ان گھروں کے دروازے کھلے ہیں، صحن میں چٹائی بچھی ہے۔ جو بھی بچہ ، بڑا ، محلے کی عورت اور مرد چاہِے آئے اور بلیک اینڈ وائٹ اسکرین پر ٹکٹکی باندھ لے۔ بار بار اناؤنسر بتا رہا ہے کہ ’’ اب سے کچھ دیر بعد ہم آپ کو کنشاسا لے جائیں گے جہاں اس صدی کی سب سے بڑی باکسنگ فائٹ میں جارج فورمین اور محمد علی آمنے سامنے ہوں گے۔ یہ خصوصی نشریات آپ تک مصنوعی سیارے کے ذریعے پہنچائی جا رہی ہیں ‘‘۔ 

ایسا رت جگا پاکستانی دو بار کیا کرتے تھے۔ یا تو قومی ہاکی ٹیم کسی دور دراز ٹائم زون میں اولمپکس یا ورلڈ کپ میچ کھیل رہی ہو یا محمد علی کی فائٹ ہو رہی ہو۔ اگر محمد علی صرف باکسر ہوتا تو سوائے باکسنگ پرستاروں کے کس کو یاد رہتا۔اگر وہ میرا ہیرو اس لیے تھا کہ اس نے سن چونسٹھ میں عالمی چیمپئن سونی لسٹن کو پہلی بار ہرا کے گزشتہ روز ہی اسلام قبول کر لیا تو مسلمان ہونے والے دوسرے عالمی چیمپئن مائک ٹائی سن کا نام سن کے میرا خون جوش کیوں نہیں مارتا۔ شائد علی نسل در نسل اس لیے یاد ہے کہ وہ کوئی ایک شے نہیں انسانی شکل میں پورا انعامی پیکیج تھا۔

سن ساٹھ کے عشرے کی دنیا میں بلیک پاور کے دو استعارے تھے۔ افریقہ میں نیلسن منڈیلا اور امریکا میں مارٹن لوتھر کنگ۔ دونوں جنات کے سائے میں سے محمد علی نام کا ایک بڑبولا لونڈا بھی کہیں سے آن دھمکا۔ جب اس لونڈے نے جنگِ ویتنام کے لیے جبری بھرتی کا قانون ماننے سے انکار کرتے ہوئے چیختے ہوئے کہا ، ’’ وہ مجھ سے کیوں کہہ رہے ہیں کہ میں وردی پہن کر گھر سے دس ہزار میل پرے جا کے ویتنام کے سانولے لوگوں پر بم گراؤں اور گولیاں برساؤں ، جب کہ یہاں لوئزویل کے کالوں سے کتوں جیسا سلوک روا ہے اور وہ بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں ۔‘‘

امریکی دائیں بازو نے اس گستاخ کالے چھوکرے پر جیسے ہی غداری کا لیبل لگایا اور حکومت نے اس کا باکسنگ لائسنس دس برس کے لیے منسوخ کیا اور کچھ عرصے جیل میں بھی ڈالا تو محمد علی سامراجی جنگ کے خلاف سن ساٹھ کے نوجوان کے لیے بغاوت و مزاحمت کا استعارہ بن گیا۔ حالانکہ ابھی وہ محمد علی دور دور نہیں جو باکسنگ رنگ میں جو فریزر اور کین نارٹن کو خاک چٹوائے گا اور جارج فورمین کو ہرا کر بیسویں صدی کا سب سے بڑا کھلاڑی بن جائے گا۔ مگر امریکی سپریم کورٹ نے اس لڑکے کی اندرونی آواز کو سنا اور ساڑھے تین برس بعد ہی باکسنگ لائسنس واپس کرنے کا حکم دے دیا۔ آپ نے زندگی میں کتنے بڑ بولے دیکھے جو اپنے منہ سے کہیں کہ وہ عظیم ترین ہیں اور دنیا کہے ہاں تم عظیم ترین ہو۔ باکسر چھوڑ کتنے ایسے کھلاڑی یاد ہیں جو اپنے بارے میں شاعری بھی خود ہی کرتے ہوں اور اس کونے سے دنیا کے دوسرے کونے تک ہر لڑکا اور لڑکی ان کا ہم آواز بھی ہو جائے اور ان کے چہرے میں خود کو تمتماتا دیکھے۔میری نسل کو آج تک ’’ کیچ میں اف یو کین ‘‘ حفظ ہے۔
’’ وہ تتلی کی طرح لہراتا ہے اور مکھی سا ڈنک مارتا ہے ، محمد ، دی بلیک سپر مین ، جو حریف کو للکارتا ہے ، میں علی ہوں ، پکڑ سکو تو پکڑ لو‘‘۔ ویسے تو علی نے باکسنگ بارہ برس کی عمر میں ہی شروع کردی تھی تاکہ اس چور کی دھنائی کرسکے جو اس کی سائیکل لے کے چمپت ہوگیا تھا۔ لیکن علی نے سن ساٹھ کے روم اولمپکس میں لائٹ ویٹ گولڈ میڈل جیتنے کے بعد پروفیشنل مقابلوں سمیت اکیس برس رنگ میں گذارے اور ریٹائرمنٹ کے بعد پینتیس برس ناموری و گمنامی کے درمیان پارکنسن ڈزیز سے مکے بازی کرتے صرف کیے۔ کھیل ہو کہ پرفارمنگ آرٹ ، دونوں کا تعلق شو بزنس سے ہے۔ شوبزنس کا اصول ہے رات گئی بات گئی ، آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل ، تم روٹھے ہم چھوٹے۔ مگر محمد علی پر شو بزنس کی زندگی والا کلئیہ بھی تو لاگو نہیں ہو پا رہا۔ آپ نے یہ تو سنا ہوگا کہ اپنے وقت کا بڑا کرکٹر ، اپنے وقت کا بہترین سینٹر فارورڈ ، اپنے وقت کا بڑااداکار  اپنے وقت کی بہترین گلوکارہ ، اپنے وقت کا بہترین کامیڈین فلاں فلاں۔ کبھی کسی کو کہتے سنا کہ اپنے دور کا بہترین شاعر غالب ، اپنے زمانے کا بہترین باکسر محمد علی ؟
وسعت اللہ خان