یروشلم : یورپی یونین اسرائیل کا ساتھ نہیں دے گی

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے یورپی یونین سے کہا ہے کہ وہ امریکی صدر کی پیروی کرتے ہوئے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرے لیکن یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے ایسا کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کا یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے ساتھ برسلز میں ملاقات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کے فیصلے سے مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہوا ہے، ’’حقیقت کو تسلیم کرنا امن کی بنیاد ہے۔‘‘

لیکن یورپ میں اسرائیل کے قریب ترین اتحادی ملک چیک جمہوریہ نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ کا فیصلہ مشرق وسطیٰ میں امن کوششوں کے حوالے سے ایک برا فیصلہ ہے۔ دوسری جانب فرانس نے بھی زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ یروشلم کی حیثیت کا فیصلہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین طے پانے والے حتمی معاہدے میں ہی ہو گا۔ اسرائیل میں اپنے ملک کا سفارت خانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں چیک جمہوریہ کے وزیر خارجہ لوبومیر زاورلیک کا کہنا تھا، ’’مجھے ڈر ہے کہ یہ (فیصلہ) ہماری کوئی مدد نہیں کر سکتا۔‘‘

اسرائیلی وزیر اعظم اپنے یورپ کے دورے کے دوران یورپی رہنماؤں کے جذبات کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش میں ہیں کیوں کہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کی مذمت نہ صرف مسلم دنیا بلکہ سرکردہ یورپی رہنما بھی کر رہے ہیں۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں سے ملاقات کے بعد بھی اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا تھا، ’’فلسطینیوں کو اب یہودی ریاست کو تسلیم کر لینا چاہیے اور اس حقیقت کو بھی کہ اس کا ایک دارالحکومت ہے، جسے یروشلم کہا جاتا ہے۔‘‘

اسرائیلی وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا، ’’اس کے باوجود کہ ابھی کوئی معاہدہ موجود نہیں، مجھے یقین ہے کہ مستقبل میں یہی ہونے جا رہا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ تمام یا زیادہ تر یورپی ملک اپنے سفارت خانے یروشلم منتقل کرتے ہوئے اسے اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کر لیں گے تاکہ سلامتی، خوشحالی اور امن کے لیے مل کر کام کیا جا سکے۔‘‘ گزشتہ ہفتے چیک جمہوریہ کی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ وہ تل ابیب سے اپنا سفارت خانہ یروشلم منتقل کرنے کو تیار ہے لیکن بعد میں اس یورپی ملک کی طرف سے کہا گیا تھا کہ وہ صرف مغربی یروشلم پر ہی اسرائیلی حاکمیت کو تسلیم کرتا ہے۔

یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ وہ 1967ء میں قبضے میں لیے گئے فلسطینی علاقوں کو اسرائیل کا حصہ نہیں سمجھتے۔ ان علاقوں میں مغربی کنارہ، مشرقی یروشلم اور گولان کی پہاڑیاں شامل ہیں۔ چیک جمہوریہ کے وزیر خارجہ کا اسرائیلی وزیر اعظم سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’مجھے یقین ہے کہ یکطرفہ فیصلوں سے کشیدگی کم کرنا ناممکن ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا، ’’ہم اسرائیلی ریاست کی بات کر رہے ہیں لیکن ہمیں اس کے ساتھ ساتھ فلسطینی ریاست کی بھی بات کرنا چاہیے۔‘‘ قبل ازیں فرانس نے امریکا سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ مشرق وسطیٰ میں امن سے متعلق اپنے منصوبے کی وضاحت کرے کہ واشنگٹن آخر کیا چاہتا ہے؟

Advertisements

ٹرمپ کی ٹی وی دیکھنے کی عادات، نیو یارک ٹائمز پر ’’ٹویٹر حملہ‘‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خلاف ایک مضمون کی اشاعت پر موقر روزنامے نیویارک ٹائمز کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ اس اخبار کا قصور یہ ہے کہ اس نے صدر ٹرمپ کی ٹیلی ویژن دیکھنے کی عادات کے بارے میں ایک تفصیلی مضمون شائع کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے ایک ٹویٹ میں لکھا ہے:’’ ایک اور جھوٹی کہانی ، لیکن اس مرتبہ نیویارک ٹائمز میں شائع ہوئی ہے۔ اس میں یہ کہا گیا ہے کہ میں دن میں چار سے آٹھ گھنٹے ٹی وی دیکھتا رہتا ہوں۔ بالکل غلط ۔

نیز میں سی این این اور ایم ایس این بی سی نہیں دیکھتا۔ میں ان دونوں کو ’’جعلی نیوز‘‘ خیال کرتا ہوں۔ میں کبھی ڈان لیمن کو نہیں دیکھتا، وہی صاحب جنھیں میں نے ایک مرتبہ ٹیلی ویژن پر’’ گونگا شخص‘‘ قرار دیا تھا‘‘۔ نیویارک ٹائمز میں ہفتے کے روز شائع شدہ اس مضمون کے لکھاری نے صدر ٹرمپ کے روزمرہ معمولات کی تفصیل بیان کی ہے اور یہ کہا ہے کہ وہ دن میں چار گھنٹے تک        ٹی وی دیکھتے ہیں اور وہ زیادہ تر سی این این یا ایم ایس این بی سی دیکھتے ہیں۔

پاکستانی روپے کی قدر میں کمی : کس کو فائدہ ہے اور کسے نقصان ؟

ڈالرکے مقابلے میں پاکستانی روپے کی گرتی ہوئی قدر سے پاکستان کی ٹیکسٹائل اور دیگر برآمدی صنعت سے وابستہ افراد میں خوشی کی لہردوڑ گئی ہے البتہ درآمد کنندگان میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کا براہِ راست اثر ان اشیاء کی قیمتوں پر ہوتا ہے جو بیرونِ ملک سے درآمد کی جاتی ہیں جیسے کہ کمپیوٹرز، گاڑیاں اور موبائل فونز وغیرہ اور ان تمام اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان پر بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف اور عالمی بنک کے قرضوں کا حجم بھی بڑھ جاتا ہے۔ مثلا اگر ایک ڈالر 100 روپے کے برابر ہو اور ایک ارب ڈالر کا قرضہ ہو تو اس حساب سے 100 ارب روپے کا قرضہ ہو گا لیکن اگر ڈالر 110 کا ہو جائے تو قرضہ بھی اسی حساب سے بڑھ جائے گا۔

دوسری جانب روپے کی قدر میں کمی سے ملکی برآمدات کرنے والوں کو بظاہر فائدہ ہوتا ہے۔ چونکہ برآمد کرنے والے کو اپنی چیز کی زیادہ قیمت مل رہی ہوتی ہے اس لیے وہ اپنی پیداواری لاگت میں رہتے ہوئے اشیاء کی قیمت میں کمی کر سکتا ہے۔ اس طرح عالمی منڈی میں برآمدات بڑھ جاتی ہیں اوراس سے جاری کھاتے یا کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ بھی کم ہو جاتا ہے۔ ماہرِ معاشیات پروفیسرشاہد حسن صدیقی کہتے ہیں کہ ’جب سے موجودہ حکومت آئی ہے پاکستان کی برآمدات مستقل گر رہی ہیں اور درآمدات تیزی سے بڑھ رہی ہیں جس کی وجہ سے گزشتہ چار سال چار ماہ میں 107 ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ ہوا ہے۔ ایسے میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی گئی رقوم کے ذریعے اسے کم کرنے کی کوشش کی گئی تاہم پھر بھی جاری کھاتے کاخسارہ تقریبا 22 ارب ڈالر ہو گیا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں گزشتہ ایک سال سے جاری سیاسی افراتفری اورعدالتی کارروائی کی وجہ سے اب تک بیرونی سرمایہ کاری میں کمی آئی ہے جس سے پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر میں پانچ ارب ڈالرسے زیادہ کی کمی واقع ہوئی ہے۔ پروفیسرشاہد حسن صدیقی کے بقول ’روپے کی قدر مزید کم ہونے کی گنجائش ہے تاہم اس عمل سے کرنٹ اکاؤنٹ کے خسارے میں کوئی خاطر خواہ فرق نہیں پڑے گا کیونکہ اس کے ساتھ جو دوسرے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے اس کے لیے مرکزی بینک اور حکومت دونوں تیار نہیں ہیں لہذا اس عمل سے مہنگائی میں اضافہ ہو گا اور بجٹ کا خسارہ بھی بڑھ جائے گا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ’روپے کی قدرمیں کمی بظاہر غیر مقبول فیصلہ ہے تاہم پاکستان کا بااثر طبقہ یعنی برآمد کنندگان اور ٹیکسٹائل لابی اس سے بہت خوش ہوں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ’حکومت نے پانچ سے دس فیصد کی ایڈجسٹمنٹ کےلیے آئی ایم ایف سے ملاقات کرنے کا عندیہ دیا ہے تاہم اگر ڈالر 111 روپے سے اوپر گیا تو حالات خراب ہو سکتے ہیں۔‘ ظفر پراچہ نے بتایا کہ کرنسی ڈیلرز کو روپے کی قدر میں کمی سے نقصان ہی ہوتا ہے کیونکہ اگر انھوں نے ڈالر بیچنا بند کیا تو افراتفری مچ سکتی ہے اور کبھی بھی اس کا فائدہ نہیں ہوتا کیونکہ بیچنے والا بیچنا بند کر دیتا ہے اور خریدنے والا بھاگ بھاگ کر خریدتا ہے۔

بشکریہ بی بی سی اردو

انڈین سیاست کو قاتلوں کی ضرورت ہے

راجستھان کے راجسمند ضلع میں بنگال کے ایک مسلم ورکر کے قتل اور انھیں زندہ جلائے جانے کی ویڈیو نے انڈیا کے تمام جمہوریت پسندوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس ویڈیو میں قاتل کو کلہاڑی سے وار کرنے کے بعد ‘لو جہاد’ کے بارے میں مسلمانوں کو وارننگ دیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ حملہ آور قتل کے بعد کہتا ہے کہ ‘لو جہاد میں جو بھی ملوث ہو گا اس کے ساتھ یہی برتاؤ کیا جائے گا۔‘ قتل کی یہ ویڈیو اس نے خود سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جو کچھ ہی دیر میں وائرل ہو گئی۔ لو جہاد آر ایس ایس اور بی جے پی کا تخلیق کیا ہوا استعارہ ہے اور اس سے مراد ان مسلم نوجوانوں سے ہے جو ہندو لڑکیوں سے شادی کرتے ہیں۔

ہندو سخت گیروں کا الزام ہے کہ مسلم اس طرح کی شادیاں ایک منظم مذہبی سازش کے تحت ہندو لڑکیوں کو مسلمان بنانے کے لیے کر رہے ہیں۔ بی جے پی کے کئی رہنما گذشتہ دو تین برس سے اس اصطلاح کو پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں۔ ابھی تک ایسا کوئی ثبوت یا اشارہ نہیں ملا ہے جس سے یہ پتہ چلتا ہو کہ اس طرح کی شادیاں کسی سازش کے تحت ہو رہی ہیں۔ لیکن نفرت کا یہ پروپگنڈہ کس حد تک موثر ہے اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ انسداد دہشت گردی کا ادارہ این آئی اے ‘اس نام نہاد تصوراتی’ لو جہاد’ کی تفتیش کر رہا ہے۔ لو جہاد اور اس طرح کے دوسرے مسلم مخالف نفرت انگیز پروپگنڈے کا معاشرے پر گہرا اثر پڑ رہا ہے۔ عام لوگ اب ان میں یقین کرنے لگے ہیں۔ راجستھان میں قتل کا واقعہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ حملہ آور مقتول کے بارے میں صرف یہ جانتا تھا کہ وہ مسلم ہے اور اس نے اسے صرف اس لیے قتل کیا کہ وہ مسلم تھا۔

مقتول ایک شادی شدہ شخص تھا جس کی مسلم بیوی اور تین بچے بنگال کے ضلع مالدہ میں رہتے ہیں۔ وہ ملازمت کے لیے راجستھان میں مقیم تھا۔ قاتل کو واضح طور پر نفرت کی مہم سے ترغیب ملی تھی۔ راجستھان میں مذہبی نفرت کے سبب مسلمانوں کو قتل کرنے کے کئی واقعات ہو چکے ہیں۔ اس بہیمانہ واقعے پر بی جے پی کی قیادت اور راجستھان کی حکومت نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ ماضی کے بعض واقعات میں بھی قتل کی ویڈیوز بنائی گئی تھیں اور انھیں باقاعدہ شیئر کیا گیا تھا۔ کچھ معاملات میں ملزم گرفتار کیے گئے لیکن میڈیا کی اطلاعات کے مطابق ان میں سے بیشتر ضمانت پر رہا ہو گئے۔ قتل کے اس تازہ واقعے میں بھی کچھ دنوں بعد حملہ آور کو نشئی یا ذہنی طور پر بیمار بتا کر اگر ضمانت پر رہا کر دیا جائے تو کسی کو کوئی حیرت نہیں ہونی چاہیے۔

اس طرح کے بڑھتے ہوئے واقعات کا سبب بھی یہی ہے کہ مجرموں کو یہ پتہ ہے وہ جرم کے بعد بچ جائیں گے اور انھیں معاشرے اور سیاست کے ایک طبقے کی پشت پناہی حاصل ہے۔ مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت کی مہم شدت اختیار کر رہی ہے۔ بی جے پی کے ایک مرکزی وزیر نے بنگلور میں کہا کہ جب تک اسلام کو جڑ سے اکھاڑ کر نہیں پھینکا جاتا تب تک دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ہو سکتا۔ گجرات کے بڑودہ شہر میں بی جے پی کے ایک امیدوار نے ایک سیاسی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے حقلے میں داڑھی ٹوپی والوں کی تعداد کم ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے مسلمانوں کو ‘سماج دشمن’ قرار دیا اور کہا کہ انھیں دھمکا اور ڈرا کر رکھنا ضروری ہے۔

مسلمانوں کے خلاف نفرت کا یہ زہر رفتہ رفتہ پورے معاشرے میں پھیل رہا ہے۔ پہلے جو پس پردہ اپنی نفرتوں کا اظہار کرتے تھے اب کھل کر کرنے لگے ہیں۔ ملک میں اب اکثریت مذہبی سیاست ہو رہی ہے۔ یہ ایک خطرناک نظریہ اور ایک خطرناک روش ہے۔ ایک سرکردہ صحافی رویش کمار نے موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس سیاست کو مزید قاتلوں کی ضرورت ہے۔ نفرتوں کی اس سیاست کو معاشرے کے ایک بڑے طبقے کی قبولیت حاصل ہے۔ انڈین جمہوریت ایک برے دور سے گزر رہی ہے اور ملک کی ایک بڑی اکثریت محض خاموش تماشائی ہے۔

شکیل اختر
بی بی سی اردو، دہلی

واٹس ایپ اب ان فونز میں استعمال نہیں کیا جا سکے گا

اگر تو آپ واٹس ایپ استعمال کرتے ہیں تو جان لیں کہ دنیا بھر میں لاکھوں صارفین اس ماہ کے آخر میں اس ایپ کو استعمال کرنے سے محروم ہو جائیں گے۔
جی ہاں واٹس ایپ اب متعدد فونز میں کام نہیں کر سکے گی، کیونکہ دنیا کے مقبول ترین میسنجر نے ایسی ڈیوائسز کے لیے سپورٹ ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حوالے سے واٹس ایپ نے گزشتہ سال اعلان کیا تھا تاہم اسے التوا میں ڈال دیا تھا۔

واٹس ایپ کے مطابق 31 دسمبر 2017 میں بلیک بیری آپریٹنگ سسٹم، بلیک بیری 10 اور ونڈوز 8.0 اور اس سے پہلے کی ڈیوائسز میں واٹس ایپ کی سپورٹ ختم کر دی جائے گی، جس کے بعد ان پر اس چیٹ ایپ کو استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔ یہ سپورٹ گزشتہ سال دسمبر میں ختم ہونی تھی مگر پہلے اسے جون اور پھر دسمبر 2017 تک کے لیے التواءمیں ڈال دیا گیا۔ اسی طرح نوکیا ایس 40 میں واٹس ایپ کا استعمال 31 دسمبر 2018 تک ختم کر دی جائے گی، جبکہ اینڈرائیڈ ورژن 2.3.7 اور اس سے پہلے کے فون میں یہ سپورٹ یکم فروری 2020 تک ختم کر دی جائے گی۔

واٹس ایپ کے مطابق چونکہ ہم اب ان پلیٹ فارمز کو زیادہ متحرک طریقے سے ڈویلپ نہیں کر رہے، تو کچھ فیچرز کسی بھی وقت کام کرنا بند کر سکتے ہیں۔
واٹس ایپ کے اس فیصلے سے بلیک بیری کا ہر فون متاثر ہو گا چاہے اس میں نیا بلیک بیری 10 سسٹم ہی کیوں نہ موجود ہو۔ اسی طرح ونڈوز 8.0 یا اس سے پہلے کے آپریٹنگ سسٹم پر جو فون چل رہا ہو گا اس پر بھی واٹس ایپ کی سپورٹ ختم ہو جائے گی۔ ان تمام ڈیوائسز کو استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد کروڑوں میں ہے اور اس فیصلے سے وہ ضرور متاثر ہوں گے۔

گزشتہ سال واٹس ایپ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اگرچہ یہ موبائل ڈیوائسز ہماری کامیابی کا اہم حصہ ہیں مگر ان فونز میں ایسی خوبیاں نہیں جو ہماری ایپ کے فیچرز کو مستقبل میں توسیع دے سکیں۔ واٹس ایپ کا کہنا تھا کہ یہ فونز استعمال کرنے والے صارفین سال کے ختم ہونے سے قبل نئی ڈیوائسز پر منتقل ہو جائیں۔
بیان کے مطابق یہ فیصلہ ہمارے لیے بہت مشکل تھا مگر لوگوں کو اپنے دوستوں سے رابطوں کے لیے سہولیات فراہم کرنے کے لیے ضروری تھا۔ کمپنی کے بقول اس فیصلے سے سروس میں مزید سیکیورٹی ٹولز اور نئے فیچرز کا اضافہ کرنے میں مدد ملے گی۔

صحت کے لیے پیدل چلنے سے بہتر کوئی طریقہ نہیں : مسعود احمد برکاتی

کالون پیٹرک لوگوں کو پیدل چلنے کا مشورہ دیتا ہے، اس کی عمر ساٹھ سال سے
زیادہ ہے، لیکن وہ ابھی تک چاق چوبند ہے۔ گزشتہ سال اس نے پیدل چلنے کے ایک مقابلے میں حصہ لیا اور اوّل آیا۔ اس نے ساٹھ میل کا فاصلہ 12 گھنٹے 36 منٹ اور 20 سیکنڈ میں طے کیا اور اوّل آنے کا اعزاز حاصل کیا۔ حالانکہ اس مقابلے میں اس سے بھی کم عمر کے لوگ شریک تھے۔ کہا جاتا ہے کہ انسان کے قدم اٹھا کر چلنے سے اس کی قوت کا اندازہ ہوتا ہے۔ دنیا میں صحت برقرار رکھنے کا بہترین نسخہ باقاعدگی سے پیدل چلنا ہے۔ پھر لطف یہ کہ اس میں خرچ بھی کچھ نہیں، صحت بھی اچھی رہتی ہے اور اچھی خاصی تفریح بھی ہو جاتی ہے۔

جب انسان کے دو پیر سلامت ہوں اور اس کے دل میں یہ خواہش ہو اور ارادہ بھی کہ اپنی جسمانی اور دماغی صحت کو برقرار رکھا جائے، اس وقت تک اس مقصد کے حصول کے لیے پیدل چلنے سے بہتر کوئی طریقہ نہیں۔ کالون پیٹرک (جس نے ایک مقابلے میں یہ کام یابی حاصل کی) کا بیان ہے کہ اگر میں یہ کہوں:’’میری اس امتیازی کامیابی اور جسمانی صحت کا باعث بڑی حد تک میری پابندی سے پیدل چلنے کی عادت ہے تو اس میں کوئی مبالغہ نہیں۔ مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ لوگوں کو پیدل چلنے سے کیا فائدہ ہوتا ہے۔ مجھے اس میں بھی ذرا ساشبہ نہیں کہ اگر آپ یہ عادت ڈال لیں تو آپ کو کس قدر فائدہ پہنچ سکتا ہے۔‘‘

میرے خیال میں صحیح طریقے سے پیدل چلنا بھی ایک فن ہے، لیکن افسوس یہ ہے کہ پیدل چلنے والے بھی اس پرانے فن کو فراموش کر چکے ہیں جو حقیقت میں بہترین ورزش ہی ہے۔ اس کا بڑا سبب موٹروں اور موٹر سائیکلوں کا کثرت سے استعمال ہے، جنھوں نے انسانی پیروں کی جگہ لے لی ہے۔ اس سے میرا یہ مطلب نہیں کہ آمدورفت کے ان ذرائع کو ختم کر دیا جائے، لیکن میرا یہ مطلب ضرور ہے کہ انہیں انسان کے روزانہ پیدل چلنے کی ورزش کے راستے میں حائل نہ ہونا چاہیے۔

صحیح طریقے سے پیدل چلنے کا مطلب یہ ہے کہ اعضا کی ہم آہنگی کے ساتھ حرکت سے نہ صرف صحت ملتی اور فائدہ پہنچتا ہے، بلکہ حقیقت میں سارے جسم کو قوت بھی حاصل ہوتی ہے، چوں کہ پیدل چلنے کی ورزش میں انسان گہرے سانس لیتا ہے، اس لیے اس کے جسمانی نظام میں آکسیجن کی مقدار بھی زیادہ داخل ہوتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ قلب زیادہ قوت سے کام کرتا ہے، دوران خون بڑھتا ہے اورجسم انسانی کے تمام اندرونی اعضا زیادہ فعال ہو جاتے ہیں۔ اعضا کی فعالیت کے باعث شگفتگی اور اپنی بہتر حالت کا احساس ہوتا ہے اور اس کو وہی لوگ بہتر طریقے سے سمجھتے اور محسوس کر سکتے ہیں جنہیں باقاعدہ پیدل چلنے کی عادت ہوتی ہے۔ اس احساس کو سمجھنے کے لیے پیدل چلنا ضروری ہے۔ چال قدرے تیز ہونی چاہیے۔ فاصلہ بھی کافی ہونا چاہیے اور ہفتے میں کم از کم پانچ روز چلنا فائدے مند ثابت ہوتا ہے۔

عام طور سے لوگ قدرتی اور متوازن چال کے بجائے اکڑ کر اور بناوٹی انداز سے چلنے لگتے ہیں، اس طرح وہ اس فائدے سے جو صحیح طریقے سے چلنے پر حاصل ہونا چاہیے، محروم رہتے ہیں، کیوں کہ صحیح طرح سے چلنے کے معنی یہ ہیں کہ جسم سیدھا رہے، سختی نہ ہو اور چال میں موسیقی کی سی ہم آہنگی ہو۔ عام آدمی اور مقابلوں میں حصہ لینے والے تجربہ کار پیادہ رو لوگ بھی، جنہیں بہتر علم ہونا چاہیے، پیدل چلنے میں گھٹنوں سے زیادہ اور ٹخنوں سے کم کام لیتے ہیں۔ اگر کسی شخص کو معلوم ہو کہ ابتدائی دونوں میں پیدل چلتے رہنے کے بعد بھی جلد تھکن ہو جاتی ہے، اس کی پیٹھ میں درد ہوتا ہے اور اعصاب دکھنے لگتے ہیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ وہ اپنے اعصاب سے صحیح کام نہیں لے رہا ہے اور اس کا توازن درست نہیں۔

پیدل چلتے وقت انسان کا سر، کندھے اور سینہ جھکا ہوا نہیں رہنا چاہیے، کیوں کہ اس طرح خمیدہ کمری یا کبڑے ہونے سے بچاؤ ہوتا ہے۔ اسی طرح کولہوں کو ادھر ادھر جھکانے کے رجحان سے بھی بچنا چاہیے۔ پیدل چلتے وقت جسم کی ہر حرکت کو راست اور سامنے کی جانب ہونا چاہیے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ جسم کا وزن ایک پیر سے دوسرے پیر پر ٹھیک طریقے سے منتقل کیا جائے۔ مطلب یہ کہ جو پیر آپ کو آگے کی طرف بڑھا رہا ہے، اس وقت تک زمین سے نہ اٹھے، جب تک جسم کا وزن پوری طرح سے آگے بڑھتے ہوئے پیر پر منتقل نہ ہو جائے۔ بہتر یہ ہے کہ نہ کولھے جھکائے جائیں اور نہ قدم بڑھاتے وقت کندھوں کو جھٹکا دیا جائے۔

سینہ ابھرا ہوا ہونے کے بجائے خوب پھیلا ہوا ہونا چاہیے اور چلتے وقت اس بات کا بھی خیال رکھا جائے کہ آپ کس قسم کے جوتے پہنے ہوئے ہیں، کیوں کہ جوتوں کا آرام دہ ہونا بے حد ضروری ہے۔ چلتے وقت اپنے پیروں کی طرف توجہ رکھیں اور یہ دیکھیں کہ قدم صحیح رخ پر پڑ رہے ہیں یا نہیں۔ قدم بڑھا کر سیدھے چلنے میں سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ جسم کا بوجھ پیر کے اگلے اور چوڑے حصے پر پڑتا اور متوازن رہتا ہے۔ ایڑیوں پر بوجھ ڈالنے سے اجتناب کرنا چاہیے کیوں کہ اس سے توازن پوری طرح برقرار رکھنے میں دقت ہوتی ہے۔ پیدل چلنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کے ٹانگوں کو کولھوں سے آگے بڑھائیں۔ گھٹنے ان کے ساتھ ہم آہنگی سے حرکت کریں۔ ایڑیاں پہلے زمین کو چھوئیں، لیکن اتنی تیزی سے کہ ایڑیوں سے قطعاً آواز نہ نکلے۔

باقاعدہ پیادہ روی، گھر میں ورزش، پابندی سے غسل اور مناسب اور موزوں غذا جسم انسانی کی تقریباً جملہ خرابیوں کو دور کر کے صحت قائم رکھتی ہے اور ان کے ذریعے سے جوانی، شگفتگی، تازگی اور صحت کو برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ صبح تڑکے روزانہ پیدل چلنا، جب ہوا صاف اور پاکیزہ ہوتی ہے، بہترین، ارزاں ترین اور آسان ترین نسخہ ہے، ہر اس انسان کے لیے جو اپنی صحت اور جسمانی قوت کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ کالون پیٹرک کا یہ کہنا ہے کہ ’’میں اسی اصول پر مدتوں سے عمل کر رہا ہوں۔ بعض اوقات میں پیدل چلتا ہوا دور تک حسین مناظر دیکھنے چلا جاتا ہوں اور وہاں کسی جھیل میں آبی پرندوں کے تیرنے اور غوطے لگانے کا لطف اٹھاتا ہوں۔‘‘ تجربے سے معلوم ہوا کہ پیدل چلنے سے نہ صرف عمر میں اضافہ ہوتا ہے، بلکہ مسلسل مشق سے انسان کی صلاحیتوں اور قوتوں میں اضافہ ہوتا ہے اور اس طرح ’’بڑھاپا‘‘ دور رہتا ہے۔

ہمارے ملک میں بہت کم لوگ صبح کو ہوا خوری کے لیے نکلتے ہیں اور جو نکلتے بھی ہیں وہ پابندی نہیں کرتے۔ بڑے شہروں کی زندگی میں جہاں بہت سی سہولتیں اور آسائشیں ہیں، وہیں بعض بہت سی خرابیاں بھی ہیں۔ مثال کے طور پر دن میں مختلف قسم کی گاڑیوں کے چلنے اور کارخانوں، فیکٹریوں اور ملوں وغیرہ سے دھواں نکلنے کے باعث ہوا بہت کثیف رہتی ہے، اس لیے بڑے بڑے پارک بنائے جاتے ہیں۔ اگر صبح کے وقت پیدل چلنے کی عادت ڈالی جائے تو صاف اور تازہ ہوا مل سکتی ہے، جو کسی اچھے سے اچھے ٹانک سے بھی بہتر ہوتی ہے۔

مسعود احمد برکاتی

(بشکریہ ہمدرد صحت، کراچی)

جنید جمشید کی زندگی پر اک نظر

3 ستمبر، 1964ء کو پیدا ہونے والے جنید جمشید 7 دسمبر، 2016ء کو یہ جہان چھوڑ کر چلے گئے۔ پورا ملک ان کے نام سے واقف ہے۔ 1980ء اور 90ء کی دہائی میں جوان ہونے والی نسل جانتی ہے کہ بطور پاپ گلوکار انہیں کتنی شہرت حاصل ہوئی۔ بعد ازاں انہوں نے نعت خوانی میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ آپ کراچی میں پاکستان ائیرفورس کے گروپ کیپٹن جمشید اکبر کے ہاں پیدا ہوئے۔ آپ کو پاک فضائیہ میں بطور فائٹر پائلٹ شامل ہونے کا بہت شوق تھا۔ لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ پھر انہوں نے یونیورسٹی آف انجینئرنگ لاہور میں داخلہ لیا اور انجینئرنگ کی سند حاصل کی۔

ان کے موسیقی کے گروپ وائٹل سائنز کا آغاز 1980ء کی دہائی میں ہوا۔ یہ گروپ مختلف مقامات اور تقریبات میں گانا گانے لگا۔ اسی دوران سرکاری ٹی وی اور پھر معروف فنی شخصیت شعیب منصور کی توجہ اس گروپ نے حاصل کی۔ شعیب منصورنے اس گروپ کے پہلے البم کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا جو بہت مقبول ہوا۔ 1987ء میں پہلے البم دل دل پاکستان کی ریلز کے ساتھ ہی جنید جمشید شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئے۔ وہ پاپ موسیقی گروپ وائٹل سائنز کے نمائندہ گلوکار تھے۔ ان کے گائے ہوئے بہت سے گانے مقبول ہوئے۔ وائٹل سائنزکے پہلے البم کی ریلیز کے ساتھ ہی پورے ملک میں اس گروپ اور جنید جمشید کی آواز کو پہچانا جانے لگا ۔ اسی البم میں ’’دل دل پاکستان‘‘ شامل تھا۔

موسیقی کے اس گروپ کی مقبولیت اور مالی کامیابی کے سبب پاکستان میں راک موسیقی پروان چڑھنے لگی۔ اس کے بعد جنید جمشید کی آواز کا جادو 1994ء ، 1999ء اور 2002ء میں ریلیز ہونے والے البمز میں جگا۔ یہ سب کامیاب ہوئے۔ اس دوران وائٹل سائنز ٹوٹ پھوٹ کا شکار بھی ہوا لیکن جنید کی مقبولیت کا ستارہ جگمگاتا رہا۔ ان کے گانے سرکاری ٹی وی پر عموماً نشر ہوتے رہتے تھے اور ان کے گانوں کی کیسٹس بھی خوب فروخت ہوا کرتی تھیں۔ 1994ء میں ریلیز ہونے والا البم ’’جنید آف وائٹل سائن ‘‘ ان کا ’’سولو‘‘ البم تھا۔ جبکہ 1999ء میں ریلیز ہونے والا البم ’’ان راہ پر‘‘ دوسرا ’’سولو‘‘ البم تھا۔ جنید جمشید اپنے البم کے گانوں کو خود بھی لکھا کرتے تھے۔

تاہم بعد ازاں ان میں اسلامی تعلیمات کی طرف رجحان بڑھ گیا۔ اس کے نتیجے میں انہوں نے موسیقی کی صنعت کو خیر آباد کہہ دیا۔ پھر وہ نعت خوان اور تاجر کے طور پر جانے جاتے رہے۔ 2004ء میں جنید جمشید نے موسیقی چھوڑنے کا باقاعدہ اعلان کیا اور بتایا کہ وہ اپنی زندگی اسلام کے لیے وقف کر رہے ہیں۔ بعدازاں انہوں نے دینی علم کے حصول اور تبلیغ کی جانب خاصی توجہ دی۔ 7 دسمبر 2016ء کو پی آئی اے کی ایک فلائٹ حادثے کا شکار ہوئی جس میں جنید جمشید بھی شامل تھے۔ بعد ازاں ان کی موت کی تصدیق کر دی گئی۔ وہ اپنی دوسرے شریک حیات کے ساتھ چترال گئے ہوئے تھے۔ وہ اسلام آباد واپس آ رہے تھے کہ فلائٹ خیبر پختون خواہ کے مقام حویلیاں میں حادثے کا شکار ہو گئی۔

رضوان عطا