زینب قتل کیس کا فیصلہ

پنجاب کے شہر قصور کی آٹھ سالہ معصوم بچی زینب کے اغواء، اور سفاکانہ قتل کے درندہ صفت مجرم عمران علی کو گزشتہ روز لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے چار مرتبہ سزائے موت، اکتالیس لاکھ روپے جرمانے اور عمر قید سمیت سخت سزاؤں کا حکم سنا دیا ہے جس پر ملک بھر میں بجا طور پر اظہار اطمینان کیا جا رہا ہے کیونکہ اس نوعیت کے سنگدلانہ جرائم کی روک تھام کیلئے دیگر اقدامات کیساتھ ساتھ عبرت انگیز سزائیں بھی قطعی ناگزیر ہیں۔ تاہم یہ امر بھی نہ صرف حکومتوں بلکہ پوری قوم خصوصاً اہل فکر و دانش کی فوری توجہ کا طالب ہے کہ معاشرے میں جنس زدگی اور اخلاق باختگی کے فروغ کے اسباب کیا ہیں اور ان پر قابو پانے کیلئے کن اقدامات اور تدابیر کے اختیار کیے جانے کی ضرورت ہے.

کیونکہ قصور کی یہ واردات کوئی منفرد واقعہ نہیں بلکہ جنسی جرائم، جن میں بچوں کیساتھ زیادتی کے واقعات خاص طور پر نمایاں ہیں، ملک بھر میں تیزی سے بڑھ رہے ہیں لیکن ان کی روک تھام کیلئے کسی بھی سطح پر کوئی فکرمندی نظر نہیں آتی۔ یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ زینب کا واقعہ بھی قصور ہی میں اسی سفاک مجرم کا شکار ہونے والی دوسری کم و بیش درجن بھر بچیوں کے مظلومانہ قتل کی طرح پولیس اور انتظامیہ کی لیت و لعل کی نذر ہو جاتا اگر علاقے کے لوگ اس پر غیر معمولی احتجاج نہ کرتے جس میں بتدریج پورا شہر اور پھر پورا ملک شامل ہو گیا۔ گزشتہ ماہ کے اوائل میں پیش آنے والی اس ہولناک اور الم انگیز واردات نے بلاشبہ پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ۔

قصور سے شروع ہونے والی احتجاج کی لہر ملک کے طول و عرض میں پھیل گئی جس کے نتیجے میں متعلقہ حکام اور اداروں کو بھی مجرم کا سراغ لگانے کیلئے بالآخر اپنی تمام صلاحیتوں اور توانائیوں کو حرکت میں لانا پڑا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے تحقیقات کی براہ راست نگرانی کی اور یوں مجرم کو قانون کی گرفت میں لانے اور کیفر کردار تک پہنچانے کی راہ ہموار ہو گئی، پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سائنٹفک بنیادوں پر شواہد کو شامل تفتیش کرتے ہوئے جرم کا تعین کیا گیا اور مجرم کو سزا سنائی گئی۔ لیکن یہ سب اس لیے ہوا کیونکہ زینب کے قتل کا واقعہ معصوم بچیوں کیساتھ اس نوعیت کی پے در پے وارداتوں کے بعد قصور کے لوگوں کے صبر کے پیمانے کو لبریز کرنے کا سبب بن گیا اورشہر میں پرتشدد مظاہرے شروع ہو گئے۔

کچرے کے ڈھیر سے گمشدہ زینب کی لاش ملنے کے بعد اہل علاقہ نے مشتعل ہو کر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کے دفتر پر دھاوا بول دیا، پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئیں اور پولیس کی فائرنگ سے دو افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔ چیف جسٹس نے زینب قتل کیس کا ازخود نوٹس لیا اور جے آئی ٹی تشکیل دی۔ جس کے بعد تفتیش کا سلسلہ تیزی سے آگے بڑھا، انسداد دہشت گردی عدالت نے ماہ رواں کی پندرہ تاریخ کو کیس کی سماعت مکمل کر کے فیصلہ محفوظ کر لیا جسے گزشتہ روز سنایا گیا۔ اس تفصیل سے واضح ہے کہ زینب کیس غیرمعمولی اہمیت اختیار کر جانے کی وجہ سے پایہ تکمیل تک پہنچا.

اگر اس کے پیچھے عوام کا یہ احتجاج اور چیف جسٹس کا سوموٹو نہ ہوتا تو غالب امکان اسی بات کا تھا کہ ان گنت معاملات کی طرح یہ کیس بھی سرد خانے کی نذر ہو جاتا یا تفتیش میں ناکامی کے عذر لنگ کیساتھ داخل دفتر کر دیا جاتا جبکہ جن معاشروں میں فی الواقع قانون کی بالادستی ہوتی ہے ان میں کسی بھی جرم کے سامنے آنے پر یکساں سرگرمی سے مجرم کو قانون کی گرفت میں لانے کیلئے پورا نظام متحرک ہو جاتا ہے۔ لہٰذا سانحہ قصور جیسے ہولناک واقعات کے مستقل سدباب کیلئے ضروری ہے کہ نفاذ قانون کے ذمہ دار اداروں کی اہلیت و استعداد میں قرار واقعی اضافہ کیا جائے اور انہیں کام چوری، رشوت خوری، اقربا پروری اور بددیانتی جیسی لعنتوں سے پاک کیا جائے پھر اس کیساتھ ساتھ ذرائع ابلاغ کے درست کردار اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کے ذریعے اخلاق باختگی ، جنس زدگی اور بے راہ روی کو بڑھانے والے اسباب کی روک تھام اور اسلامی تعلیمات کے مطابق پاکیزہ اور تعمیری فکر کے فروغ کیلئے مؤثر اقدامات عمل میں لائے جائیں۔

اداریہ روزنامہ جنگ

Advertisements

صحرائے چولستان میں تاریخی قلعہ دراوڑ کے قریب ڈیزرٹ جیپ ریلی

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں صحرائے چولستان میں تاریخی قلعہ دراوڑ کے قریب 13 ویں چولستان ڈیزرٹ جیپ ریلی کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔

اس جیپ ریلی میں ملک بھر سے 100 سے زائد جبکہ کینیڈا اور تھائی لینڈ سے تعلق رکھنے والے تین غیرملکی ڈرائیورز بھی حصہ لے رہے ہیں۔

صوبہ پنجاب کے محکمہ سیاحت کے جانب سے جیپ ریلی کا آغاز سنہ 2005 میں ہوا تھا جس کا مقصد پنجاب میں موٹو سپورٹس کا فروغ ہے۔

اس جیپ ریلی کا روٹ چولستان صحرا میں تین اضلاع بہاولپور، بہاولنگر اور رحیم یار خان میں تقریبا 450 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔

اس چار روزہ تقریب میں جیپ ریسوں کے علاوہ علاقائی ثقافت اور مقامی فنکاروں کے فن کا مظاہرہ بھی کیا جاتا ہے۔

 

دبئی میں پاکستانیوں کی 60 ارب مالیت کی جائدادیں

متحدہ عرب امارات کی حکومت نے 31 پاکستانیوں کی 60 ارب مالیت کی 55 جائدادوں کی تصدیق کر دی ہے۔ اس حوالے سے امارات ٹیکس حکام نے 53  پاکستانی سرمایہ کاروں کی تفصیلات فراہم کی ہیں جن میں سے صرف 5 نے اپنے اثاثے ایف بی آر کو ظاہر کیے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق، متحدہ عرب امارات کی حکومت نے 31 امیر پاکستانیوں کی جائدادوں کی تصدیق کر دی ہے ، جن کے 55 سے زائد اثاثہ جات جن کی مالیت تقریباً 60 ارب روپے بنتی ہے، دبئی کے قلب میں موجود ہیں۔ یہ تفصیلات اس وقت سامنے آئی ہیں جب پاکستان نے ان پاکستانیوں کی تفصیلات متحدہ عرب امارات کے حکام کو فراہم کی تھیں ، جنہوں نے مبینہ طور پر دبئی کی رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کی تھی۔

ایف آئی اے کے معاشی جرائم ونگ نے متحدہ عرب امارات کی وزارت خزانہ سے 16 نومبر،2017 کو درخواست کی تھی کہ وہ امیر پاکستانیوں کی تفصیلات فراہم کریں۔ ایف بی آر حکام کی جانب سے تیار کردہ دستاویزات کے مطابق، متحدہ عرب امارات کے ٹیکس حکام نے 53 پاکستانی شہریوں کی تفصیلات فراہم کی ہیں ، جس میں متعدد رئیل اسٹیٹ سے وابستہ سرمایہ کار شامل ہیں ، ان تفصیلات میں 31 کیسز میں پاسپورٹس کی نقول بھی فراہم کی گئی ہیں ، جو کہ 22 جنوری، 2018 اور 28جنوری ،2018 کو لکھے گئے خطوط میں موجود ہیں۔

ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ ان 31 پاکستانی شہریوں کی تقریبا 60 ارب روپے مالیت کے 55 اثاثے دبئی کے قلب میں موجود ہیں۔ اس سے قبل پہلی مرتبہ جیو نیوز/دی نیوز نے تقریباً 7ہزار پاکستانیوں کے اثاثہ جات سے متعلق خبر بریک کی تھی ، جس کی مالیت تقریباً11 سو ارب روپے تھی جو کہ گزشتہ 15 برسوں میں دبئی کے قلب میں بنائے گئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان افراد نے یہ اثاثے اپنے سالانہ ریٹرنز میں بھی ظاہر نہیں کیے۔ جیو نیوز کو ملنے والے دستاویزات کے مطابق، 100 پاکستانیوں کی فہرست جنہوں نے مبینہ طو ر پر متحدہ عرب امارت /دبئی میں جائدادیں خریدی تھیں ، ایف بی آر دفتر میں ڈائریکٹر، معاشی جرائم ونگ ایف آئی اے ہیڈ کوارٹر سے موصول ہو چکی ہیں ، جسے وزارت خزانہ کے ای او آئی یونٹ بھجوا دیا گیا ہے۔

متحدہ عرب امارات کے ٹیکس حکام نے 22 جنوری اور 28 جنوری کو لکھے گئے دو خطوط کے ذریعے 55 جائدادوں کی منتقلی کی تفصیلات فراہم کر دی ہیں ، ان میں سے 32 پاکستانی شہریوں کے پاسپورٹس کی نقول بھی فراہم کی گئی ہیں۔ ان 32 میں سے 31 کے شناختی کارڈز موجود ہیں ، جب کہ 31 میں سے 29 ایف بی آر کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں۔ ایف بی آر ریکارڈ کے مطابق، صرف 5 افراد نے متحدہ عرب امارات کے اثاثے ظاہر کیے ہیں۔ ایف بی آر نے پاکستان کے وزارت خارجہ امور سے درخواست کی ہے کہ متبادل طریقہ کار کے طور پر ، اس مسئلے سے متعلق متحدہ عرب امارات کے سفیر سے ان کی ملاقات کا بندوبست کیا جائے ۔دستاویزات کے مطابق، دفتر خارجہ نے یہ معاملہ متحدہ عرب امارات کی ایمبسی میں اٹھایا ہے اور متعدد خطوط لکھے ہیں ، تاہم اس پر مزید پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

ایف بی آر نے عدالت عظمیٰ کو بھی آگاہ کیا ہے کہ ایف بی آر اعداد وشمار کے مطابق، ان 29 افراد میں سے بیشتر انکم ٹیکس ریٹرنز باقاعدگی سے فائل کرتے ہیں۔ تقریباً 27 نے گزشتہ پانچ برسوں کے مکمل ٹیکس ریٹرنز فائل کیے ہیں ۔دستاویزات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان 29 افراد نے گزشتہ 10 برسوں میں سے کم سے کم 7 برس تک ٹیکس ریٹرنز فائل کیے ہیں۔ یہ معلومات متعلقہ اداروں کو بھجوائی گئی ہیں ، تاکہ گزشتہ پانچ برسوں میں سے کسی بھی سال کے رہ جانے والے ریٹرنز فائل کرنے کو یقینی بنایا جا سکے اور یہ بھی چیک کیا جا سکے کہ خریدی گئی جائدادوں کو ٹیکس ادا کنندہ نے اپنے سالانہ ریٹرنز میں ظاہر کیا ہے یا نہیں۔ جب کہ 2 غیر رجسٹرڈ شدہ افراد کو رجسٹرڈ کیا گیا ہے۔

پاکستان اور متحدہ عرب امارات نے ڈبل ٹیکس سے بچنے کے کنونشن پر 1993 میں دستخط کیے تھے۔ اس کنونشن کا آرٹیکل 27 معلومات کے تبادلے سے متعلق ہے۔ متحدہ عرب امارات کے حکام نے 2012 میں اس کنونشن کے بہت سے آرٹیکلز میں ترمیم کی درخواست کی تھی ، جس میں آرٹیکل 27 میں ترمیم کی تجویز بھی شامل تھی تاکہ اسے او ای سی ڈی ماڈل 2010 کے مطابق کر دیا جائے۔اس ضمن میں وفاقی کابینہ کی منظوری بھی طلب کی گئی تھی تاکہ کنونشن میں ترمیم سے متعلق دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا آغاز کیا جا سکے اور ضروری منظوری کے بعد یہ معاملہ متحدہ عرب امارات کے حکام تک سفارتی ذرائع سے پہنچایا جا سکے۔

یہ درخواست بھی کی گئی تھی کہ مذاکرات کے لیے باقاعدہ تاریخ اور جگہ کا بھی تعین کیا جائے ، جس سے پاکستان کو بھی جلد سے جلد آگاہ کیا جائے لیکن متحدہ عرب امارات حکام نے تاحال اس کا جواب نہیں دیا ہے۔ یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معلومات کا تبادلہ مذکورہ معاہدے کے آرٹیکل 27 کے تحت کیا جاتا ہے۔ اس آرٹیکل کے تحت کسی بھی فریق ریاست کو موصول ہونے والی معلومات خفیہ رکھی جائیں گی ، جس کی نوعیت وہی ہو گی جو کہ ریاست کے اندرونی قوانین کے تحت حاصل کردہ معلومات کی ہوتی ہے۔

تاہم، اگر معلومات فراہم کرنے والی ریاست نے ہی اسے خفیہ کہا ہے تو یہ معلومات صرف ان اداروں کے اہلکاروں کو فراہم کی جائے گی ، جو کہ اس سے متعلق ہوں گے ، ان میں عدالتیں اور انتظامی ادارے شامل ہیں۔ ایسے افراد یا حکام اس معلومات کو صرف مذکورہ مقاصد کے لیے ہی استعمال کر سکیں گے تاہم یہ معلومات عوامی عدالتی کارروائیوں اور عدالتی فیصلوں میں بھی سامنے لائی جا سکتی ہیں۔ اسی طرح، یہ معلومات کسی دوسری ایجنسی یا محکمے یا دیگر کسی مقصد کے لیے جس کا آرٹیکل میں ذکر نہیں ، یہ معلومات فراہم نہیں کی جائیں گی۔

زاہد گشکوری

بشکریہ روزنامہ جنگ کراچی

مشرف جس جنگ میں امریکی اتحادی بنے وہ ہماری نہیں تھی

آئی ایس آئی اسلام آباد کے سابق سٹیشن چیف میجرعامر نے کہا ہے پہلی افغان جنگ ہماری اپنی جنگ تھی مگر پرویز مشرف جس جنگ میں امریکی اتحادی بنے وہ ہماری نہیں امریکہ کی تھی، اگر ہم پہلی جنگ کاجائزہ لیں تو روس کیخلاف لڑائی ہم نے شروع کی، ایک بھی امریکی فوجی ہماری سرزمین پر اترا نہ ہی افغانستان گیا، کسی امریکی جہازنے لڑائی میں حصہ لیا، ہم سے ڈومور کے مطالبات ہوئے نہ ہی پاکستان پر دہشتگردی کا کوئی الزام لگا، اس جنگ کے نتیجہ میں ملک کا ایٹمی پروگرام مکمل ہوا،علیحدگی کی تحریکو ں کا خاتمہ، افغان سرزمین سے بھارتی عمل دخل ختم ہوا اور ملک میں معاشی بہتری آئی.

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایریا اسٹڈی سنٹر جامعہ پشاورمیں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، انہوں نے کہا پوری جنگ میں ہماری کوئی سول ملٹری جانی نقصان نہیں ہوا، روس بھارت گٹھ جوڑ کا خاتمہ کر دیا گیا، عالمی فورم پر پاکستان کو نیک نامی ملی مگر جب ہم موجود جنگ کا جائزہ لیتے ہیں جس میں مشرف نے ایک فون کال پر حصہ لینے کافیصلہ کیا تھا تو خوفناک حقائق سامنے آتے ہیں، افغانستان میں امریکہ اور 40 اتحادی ممالک کی ڈیڑھ لاکھ سے زائد فوج موجود رہی، افغانستان پر 57 ہزار سے زائد بمباریاں کی گئیں ۔

کیا پاکستان واقعی امریکی حلقہِ اثر سے نکل رہا ہے؟

پاکستان میں ماہرین امریکی سراغ رساں اداروں کی اس رپورٹ سے اتفاق کرتے ہیں کہ اسلام آباد حکومت پر اب امریکا کے بجائے چینی اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے۔
تجزیہ نگاروں کے خیال میں پاکستان کو کسی ایک ملک پر انحصار نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ایسا کرنے سے اسے سفارتی محاذ پر نقصان ہو سکتا ہے۔ واضح رہے سرد جنگ کے دوران پاکستان امریکی اور سرمایہ دارانہ کیمپ میں رہا، جس کی وجہ سے اس کے پاس سفارتی محاذ پر امکانات کی کمی رہی۔

نیشنل یونیورسٹی برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، اسلام آباد کے ادارہ برائے عالمی امن و استحکام سے وابستہ ڈاکڑ بکر نجم الدین نے اس رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ’’پاکستان اپنی مرضی یا خوشی سے چین کے قریب نہیں ہو رہا بلکہ یہ غیر دانشمندانہ امریکی پالیسی کا نتیجہ ہے کہ اسلام آباد اب بیجنگ کی طرف دیکھ رہا ہے۔ امریکا نے پاکستان کی قربانیوں کے عوض ہمیشہ اس سے مزید مطالبات کیے اور پاکستان کے تحفظات کو نظر انداز کیا۔ اس کے برعکس چین نے سفارتی اور معاشی سطح پر پاکستان کی بہت مدد کی۔ سی پیک میں چین کی طرف سے پاکستان کی بڑے پیمانے پر مدد اس بات کی غماز ہے کہ اگر امریکا پاکستان پر کوئی دباؤ ڈالتا ہے تو چین مدد کے لیے تیار ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’پاکستان کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی دانشمندانہ ہے کیونکہ سرد جنگ کے دوران ہم نے صرف امریکا سے دوستی رکھی جب کہ بھارت نے دونوں سپر طاقتوں سے تعلقات استوار رکھے اور اس کے علاوہ غیر جانبدار ممالک سے بھی اچھے تعلقات رکھے جس کی وجہ سے آج بھارت سفارتی محاذ پر بہت مضبوط ہے۔ لہذا ہمیں چین، روس، ایران اور امریکا سب سے بہتر تعلقات رکھنا چاہییں۔ صرف کسی ایک ملک پر انحصار دانشمندی نہیں۔‘‘ پریسٹن یونیورسٹی اسلام آبادکے شعبہء بین الاقوامی تعلقات سے وابستہ ڈاکڑ امان میمن بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ واشنگٹن نے پاکستان کے سکیورٹی تحفظات کو نہیں سمجھا اور اسی لیے پاکستان چین کی طرف ہوتا جا رہا ہے، ’’مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان نے کئی مواقعوں پر امریکا کو افغانستان میں بڑھتے ہوئے بھارتی اثر ورسوخ کے حوالے سے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا لیکن امریکا نے ان تحفظات کو حل کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا۔ الٹا افغانستان میں بھارت کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کی گئی۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’اب پاکستان روس، چین، ایران اور ترکی سمیت خطے کے تمام ممالک سے بہتر تعلقات بنا رہا ہے، جو ایک مثبت چیز ہے۔ پاکستان کو علم ہے کہ امریکا افغانستان میں اسلام آباد کی مدد کے بغیر کچھ نہیں کر سکتا، اس لیے ہماری حکومت اپنے کارڈ چالاکی سے کھیل رہی ہے۔ لیکن سارا انحصار چین پر ہی نہیں کرنا چاہیے بلکہ دیگر آپشنز کے حوالے سے بھی سوچنا چاہیے۔

بشکریہ DW اردو

پاکستانی مدارسں میں دو کروڑ بچے زیرِ تعلیم ہیں

پاکستان میں ایک تازہ تحقیق کے مطابق 43 فیصد والدین آج بھی مذہبی بنیاد پر
اپنے بچوں کو مدارس میں تعلیم کے لیے بھیجتے ہیں جبکہ مالی صورتحال کی وجہ سے ایسا کرنے والوں کی تعداد 35 فیصد ہے۔ اسلام آباد میں اس تحقیق پر مبنی ایک کتاب ’دی رول آف مدرسہ‘ شائع ہوئی ہے جس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایک خاندان میں بچوں کی تعداد اور اس خاندان کی معاشی صورتحال اہم پہلو ہیں جن کی وجہ سے لوگ ان مدارس کا رخ کرتے یا نہیں کرتے ہیں۔ نامہ نگار ہارون رشید نے بتایا کہ پاکستان میں دینی تعلیم دینے والے ان مدارس کی درست تعداد تو شاید ہی کسی کو معلوم ہو لیکن اس کتاب میں دیے گئے ایک اندازے کے مطابق سند جاری کرنے والے باظابطہ مدارس کی تعداد 32 ہزار سے زائد ہے جن میں دو کروڑ سے زائد طلبہ زیر تعلم ہیں۔

اس تحقیق کے لیے پاکستان بھر سے 558 ایسے خاندانوں کے ساتھ انٹرویوز کیے گیے ہیں جن کا کم از کم ایک بچہ مدرسے میں زیر تعلیم ہے۔ ماہرین کے مطابق اسلام میں بعد از مرگ زندگی کا تاثر بہت مضبوط ہے اور اکثر والدین اپنے بچوں کے لیے مدارس کا انتخاب اسی وجہ سے کرتے ہیں کہ انہیں بعد میں اس کا فائدہ ہو گا۔ دوسری بڑی وجہ معمول کے سکولوں میں مغربی تعلیم کا مثبت نہ ہونے کا تاثر بھی ہے۔ ملک کے 14 بڑے شہروں میں کیے گئے اس جائزے کے مطابق ان خاندانوں کو سکول اور مدرسے دونوں تک رسائی حاصل تھی لیکن ان میں سے 52 فیصد نے مدرسے جبکہ 47 فیصد نے سکول کو ترجیح دی۔ 43 فیصد نے کہا کہ وہ مذہب کی وجہ سے اپنے بچے مدرسے میں داخل کرواتے ہیں جبکہ 35 اس کی وجہ معاشی صورتحال بتاتے ہیں۔ سروے کے مطابق خاندان میں بچوں کی بڑی تعداد ان کے مدرسے میں جانے کا امکان بڑھا دیتے ہیں جبکہ معاشی صورتحال میں بہتری ان کے مدرسے میں پڑھنے کا امکان کم کر دیتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ملک میں یکساں نظام تعلیم ہی معاشی، دینی اور نسلی بنیادوں پر تفریق سے نئی نسل کو بچا سکتا ہے۔

کراچی میں جامع بنوریہ کے مہتمم مفتی محمد نعیم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لوگ اپنے بچے مدارس کی تعلیم اور ڈسپلن کی وجہ سے بھیجتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مدارس سکولوں اور یونیورسٹیوں سے زیادہ پرامن ہیں۔
کتاب میں درج تحقیق کے مطابق مدارس کی آمدن کے دو بڑے ذرائع ہیں۔ ان میں سے ایک اندرون اور دوسرا بیرون ملک سے ملنے والی رقوم ہیں۔ ملک کے اندر انھیں رقوم زکوٰۃ، عشر اور خمس جیسے ذرائع سے ملتی ہیں جبکہ بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی ان ہی مدوں میں رقوم مدراس کو بھیجتے ہیں۔ تاہم تحقیق کے مطابق بیرون ملک سے ملنے والی رقوم اندرون ملک سے کم ہوتی ہیں۔ کئی اسلامی ممالک یہ رقوم براہ راست مدارس کو ارسال کرتے ہیں۔ زیادہ تر مدارس کے مالی امور نہ تو مناسب دستاویزی شکل میں ہیں اور نہ ہی ان کا کوئی آڈٹ ہوتا ہے۔

تاہم جامعہ بنوریہ کے مہتمم مفتی محم نعیم کہتے ہیں کہ ان کے پانچ ہزار طلبہ پر مشتمل اس مدرسے کو ایک پیسہ بھی بیرون ملک سے نہیں ملا۔ ’اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے تو میں مجرم بننے کے لیے تیار ہوں۔‘  تحقیق میں مدارس کو ملنے والی فنڈنگ کو شفاف بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ مدارس کے ساتھ اعتماد سازی کے لیے ان کے ساتھ تعاون اور ان کی مالی معاونت کرے۔ خیبر پختونخوا میں تاہم ایسا کرنے پر وہاں کی صوبائی حکومت پر ماضی میں شہری حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کی گئی ۔  مفتی نعیم کہتے ہیں کہ خود حکومت مدارس کو مرکزی دھارے میں لانے کی خواہاں نہیں۔ ’تین سال سے ہم نے بنوریہ یونیورسٹی کے لیے تمام تر دستاویزات جمع کروائی ہوئی ہیں لیکن کوئی جواب نہیں ملا ہے۔ 

بشکریہ بی بی سی اردو
 

اے ٹی ایم فراڈ کیس میں چینی باشندوں کو سزا سنا دی گئی

عدالت نے اے ٹی ایم فراڈ کیس میں گرفتار دو چینی ملزمان کو ایک ایک سال قید اور فی کس 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنا دی ہے۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق کراچی سٹی کورٹ میں اے ٹی ایم فراڈ کیس کی سماعت ہوئی، عدالت نے شواہد اور گواہان کے بیانات کی روشنی میں دونوں چینی باشندوں کو مجرم قرار دیتے ہوئے ایک ایک سال قید اور فی کس 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔
واضح رہے کہ چینی باشندوں پر اے ٹی ایم مشینوں میں اسکیمنگ لگانے اور صارفین کا ڈیٹا ہیک کر کے ان کے اکاؤنٹ سے رقم نکلوانے کا الزام تھا، مجرمان کو ایف آئی اے نے کراچی کے علاقے ڈیفنس میں واقع ایک نجی بینک میں اسکمنگ لگاتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا تھا۔
 

راؤ انوار کو گرفتار کرنے کی مہلت ختم

چیف جسٹس پاکستان کی جانب سے سندھ پولیس کو راؤ انوار کی گرفتاری کیلئے دی گئی 72 گھنٹے کی مہلت ختم ہو گئی لیکن مفرور راؤ انوارسمیت پولیس پارٹی اب تک قانون کی گرفت میں نہیں آسکی۔ نقیب الله جعلی مقابلہ کیس میں حکومت سندھ نے مفرور ایس ایس پی راؤ انوار اور سابق ایس ایس پی انویسٹی گیشن ملیر ملک الطاف کومعطل کر دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق معطلی کے عرصے میں دونوں افسران کو سینٹرل پولیس آفس رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق آئی جی سندھ کی جانب سے راؤ انوار اور پولیس پارٹی کی گرفتاری کے لیے سی ٹی ڈی کو خصوصی ٹاسک دیا گیا ہے کہ وہ گرفتاری کے لیے بنائی گئی ٹیم کی مدد کریں۔

دوسری جانب جعلی پولیس مقابلے میں نقیب اللہ کے ہلاکت کے معاملے پر سپریم کورٹ نے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کو سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی گرفتاری کے لئے 72 گھنٹے کی مہلت دی تھی جوختم ہو چکی جبکہ گرفتاری تاحال عمل میں نہیں آسکی ہے۔ گزشتہ روز ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ثناء اللہ عباسی نے کہا تھا کہ کوشش ہے راؤ انوار سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہو جائے۔ مقدمے کے دو گواہان بھی عدالت میں بیان ریکارڈ کرا چکے ہیں اور گرفتاری کے لیے متعدد چھاپے بھی مارے گئے جو بے سود رہے۔
 

بے لگام میڈیا کا علاج

معذرت کے ساتھ چیف جسٹس صاحب سے عرض ہے کہ چاہے کتنے ہی سو موٹو نوٹس لے لیں میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائی جانے والی فتنہ انگیزی کا علاج اس طرح ممکن نہیں۔ میڈیا اور سوشل میڈیا کی مادر پدر آزادی کی جو حالت ہے اسے اگر روکنا ہے تو متعلقہ اداروں کو مضبوط بنانا ہو گا اور سخت قوانین اور ان کے اطلاق سے ہی میڈیا کو اب تمیز کے دائرے میں لایا جا سکتا ہے۔ ٹی وی چینلز کی بگاڑ کا تو تعلق ہی عدالتوں سے ہے جو پیمرا کے ہر نوٹس پر خلاف ورزی کرنے والے چینلز کو اسٹے آرڈر دے دیتے ہیں اور یوں ہر گزرتے دن کے ساتھ میڈیا کی فتنہ انگیزی رکنے کے بجائے مزید زور پکڑتی جا رہی ہے۔ 

چند روز قبل ایک ٹی وی اینکر کی طرف سے قصور سانحہ میں ملوث سفاک ملزم عمران علی کے متعلق جو ’’انکشافات‘‘ کیے گئے اور جن کے بارے میں اکثر ٹی وی چینلز اور اینکرز کا خیال ہے کہ یہ fake news ہے، اس پر جو رد عمل آیا اُس سے ایسا محسوس ہوا جیسے یہ کوئی نئی بات ہو۔ حقیقت میں تو ٹی وی چینلز کی یہ روز کی کہانی ہے۔ جھوٹ تو یہاں روز بولا جاتا ہے۔ یہاں تو ایسی ایسی ’’خبریں‘‘ نشر کی جاتی ہیں جن کا سر پائوں نہیں ہوتا، جس کی زبان میں جو آتا ہے وہ بول پڑتا ہے، کسی پر کروڑوں اربوں کی کرپشن کا الزام لگا دو کوئی مسئلہ ہی نہیں، جس کو جی چاہے ملک دشمن بنا دو، بھارتی ایجنٹ قرار دے دو کسی ثبوت کی ضرورت نہیں۔ 

انتشار پھیلانا ہے تو ٹی وی چینلز حاضر، کسی کی پگڑی اچھالنی ہے تو اینکرز اور ٹی وی اسکرین موجود، کسی کو نفرت انگیز تقریر کرنی ہے یا فتنہ انگیز مواد پھیلانا ہے تو اُس کے لیے بھی میڈٖیا کے دروازے کھلے ہیں۔ کہیں سے کوئی کاغذ مل جائے، بے شک جعلی ہو بغیر تصدیق کیے اُسے دستاویزات کا درجہ دے کر ٹی اسکرین پر چلا کر جس کا دل چاہے مٹی پلید کر دیں۔ کوئی خیال نہیں کیا جاتا کہ ایسی صحافت سے ملک و قوم کا کتنا نقصان ہو سکتا ہے، کسی کی جان جا سکتی ہے، تشدد ہو سکتا ہے۔ حالات تو اس قدر بگڑ چکے ہیں کہ اسلامی شعائر کے خلاف تک بات کی جاتی ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔ فکر ہے تو بس ریٹنگ کی۔ جہاں خلاف ورزی بڑی ہو اور عوامی ردعمل آ جائے تو پیمرا متعلقہ چینلز کو نوٹس بھیجتا ہے لیکن تقریباً ہر نوٹس کا نتیجہ ایک ہی نکلتا ہے،عدالتی اسٹے آرڈر۔ 

کتنا ہی بڑا جرم کوئی چینل کر دے، خلاف ورزی کتنی ہی سنگین کیوں نہ ہو، پیمرا کے ہر ایکشن کا توڑ عدالتی اسٹے آرڈر اور یہی اسٹے آرڈر اب مادر پدر آزاد اور فتنہ انگیز میڈیا کا سب سے بڑا سہارا بن چکا ہے۔ جیسا کہ میں پہلے بھی اس بات کا ذکر کر چکا ہوں، اسٹے آرڈرز نے اگر ایک طرف پیمرا کی رٹ کو برباد کر دیا ہے تو وہیں یہ بیماری اس حد تک سنگین صورت حال اختیار کر چکی ہے کہ میرے ایک کالم پر چیف جسٹس کی طرف سے بے حیائی پھیلانے پر ایک چینل کے خلاف سوموٹو ایکشن لیا جس کے خلاف متعلقہ چینل نے ایک ہائی کورٹ سے اسٹے لے لیا اور یوں چیف جسٹس کے سوموٹو کے باوجود پیمرا کچھ کرنے کے قابل ہی نہیں رہا۔ اس وقت بھی پیمرا کو پانچ سو سے زیادہ عدالتی کیسوں کا سامنا ہے۔ اس حالت میں پیمرا کیسے بے لگام میڈیا کو ریگولیٹ کر سکتا ہے۔ میری چیف جسٹس سے درخواست ہے کہ اگر اس بے لگام مادر پدر آزاد میڈیا کو کنٹرول کرنا ہے تو اس کے لیے سب سے پہلے عدالتی اسٹے آرڈرز کی بیماری کا علاج کیا جائے تاکہ پیمرا کی رٹ قائم ہو سکے۔

ایک دو چینلز اور چند ایک اینکرز پر اگر پیمرا خلاف ورزی کرنے پر پابندی لگا دے تو پھر دیکھیے کہ یہ چینلز کیسے سدھرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں یہاں ہتک عزت کے قانون کو موثر بنانا ہو گا۔ جھوٹی خبروں اور غلط الزامات پر اخبارات اور چینلز کو بھاری جرمانے ہونے چاہیے۔ ہمارے ہاں تو اس قانون کی حیثیت ہی کچھ نہیں۔ نہ قانون میں کوئی جان ہے اور نہ ہی عدالتیں ان کیسوں کا سالہہ سال تو کیا دہایوں میں بھی فیصلہ نہیں کرتی۔ اس بارے میں بھی چیف جسٹس کا کردار بہت اہم ہو گا۔ کسی ایک صحافی یا اینکر کی بجائے سسٹم کو ٹھیک کرنے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اگر حکومت یا عدلیہ کا یہ خیال ہے کہ میڈیا خود اپنے آپ کو درست کرنے کے لیے کچھ کرے گا تو میری ذاتی رائے میں ایسا ممکن نہیں۔ میڈیا کو ریگولیٹ کیے جانے کی اشد ضرورت ہے ورنہ کل کوئی بہت بڑا نقصان اور تباہی بھی ہو سکتی ہے۔

انصار عباسی
 

راؤ انوار کے سرکے قیمت مقرر کرنے والے شخص کی تلاش

کراچی پولیس نے ایس ایس پی راؤ انوار کے سر کی قیمت مقرر کرنے والے شخص کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس ویڈیو کلپ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک شخص کہہ رہا ہے کہ ’جو بھی راؤ انوار کا سر لائے گا میں اسے 50 لاکھ روپے انعام دوں گا. سپریم کورٹ میں کیس سماعت کے دوران چیف جسٹس نے آئی جی سندھ  کی توجہ اس ویڈیو کی جانب کرائی تھی اور سوال کیا تھا کہ کیا انھوں نے سوشل میڈیا پر وائرل یہ ویڈیو دیکھی ہے، مائیک پر آئیں اور سب کو بتائیں کہ وہ کیا ہے۔ آئی جی نے کمرہ عدالت کو بتایا تھا کہ راؤ انوار کے سر کی قیمت 50 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے.

جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان میں اب اس طرح لوگوں کے سر کی قیمتیں مقرر ہوں گی کیا یہ کلچر معتارف کرایا جائے گا، ہم شہریوں کے حقوق کے محافظ ہیں، یہ ویڈیو 24 گھنٹے سے چل رہی ہے کیا آپ نے کوئی ایکشن لیا؟ آئی جی نے انھیں بتایا کہ یہ ویڈیو راولپنڈی سے اپ لوڈ کی گئی ہے، چیف جسٹس نے ان سے استفسار کیا کہ آپ نے متعلقہ آئی جی سے رابطہ کیا، اس کے خلاف مقدمہ درج ہوا۔ انھوں نے سوال کیا کہ اس میں کون کون سے دفعات شامل ہو سکتی ہے، جس پر آئی جی نے انھیں بتایا کہ 153 اے، 505، 501 پی پی سی اور 61 اے ٹی اے۔  

بشکریہ بی بی سی اردو