پی ٹی وی کا عروج و زوال

کچھ عرصہ پہلے ایک چینل کے اینکر نے ایک کالم میں سابق وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید سے ایک ملاقات کا ذکر کیا، جس میں ان کے بقول اُنہیں پی ٹی وی میں ڈائریکٹر نیوز کی پوسٹ کی پیشکش کی گئی تھی، جو انہوں نے ٹھکرا دی، لیکن اس کے ساتھ انہوں نے ایک معنی خیز تبصرہ کیا کہ اگر وہ یہ پیشکش قبول کر لیتے تو آج پرائیویٹ سیکٹر میں صحافت کی دُنیا میں وہ مقام حاصل نہ کر پاتے جو اُنہیں اِس وقت حاصل ہے۔ ان کی یہ بات غور طلب ہے کہ کیا واقعی پی ٹی وی نیوز میں ٹیلنٹ کی کوئی گنجائش نہیں یا وہاں ایسی فضا قائم ہے جو ٹیلنٹ کی قاتل ہے پرائیویٹ چینلوں میں اس وقت اوروں کے علاوہ طلعت حسین، کاشف عباسی، قطرینہ حسین،عاصمہ شیرازی وغیرہ بڑے کامیاب اینکر سمجھے جا رہے ہیں۔ انہوں نے پی ٹی وی سے اڑان بھری ہے اور ان بلندیوں پر پرواز کر رہے ہیں۔ ثابت ہو گیا کہ پی ٹی وی میں ان کا قیام ان کی پرواز میں کوتاہی کا باعث نہیں بنا۔ تاہم یہ سب لوگ پی ٹی وی میں وزیٹر تھے۔ مستقل ملازمین کے کردار کا جائزہ لیں تو اوپر ذکر کئے گئے اینکر کی بات میں کچھ صداقت نظر آتی ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ پی ٹی وی کے بڑے کامیاب لوگ بھی ریٹائرمنٹ کے بعد نجی شعبے میں کہیں نظر نہیں آئے۔ اس میں شاید نجی چینلوں میں اچھی پوزیشن پر موجود ان لوگوں کا تعصب بھی کام کر رہا ہو جو پی ٹی وی سے ہو کر گئے تھے تاہم یہ بھی صحیح ہے کہ پی ٹی وی میں سرکاری پالیسیوں کی گھٹن اور لیڈر شپ کی طرف سے جدت اور Initiative کی حوصلہ شکنی نے ورکرز کے ٹیلنٹ کو ناکامی سے دوچار کیا۔ پالیسی کی حد تک سیاسی اور فوجی حکومتوں کا اتفاق رائے رہا ہے،52 سال کی پی ٹی وی کی تاریخ میں بہت مختصر چند وقفے آئے جب پی ٹی وی کو ایڈیٹوریل آزادی ملی۔ ایک دفعہ تو وزیر اطلاعات جاوید جبار کو اسی شوق میں وزارت بھی قربان کرنا پڑی۔ یہ جنرل (ر) پرویز مشرف کا ابتدائی دور تھا۔ اب نجی چینلوں کی بھرمار سے پیدا ہونے والی صورتِ حال کے پیشِ نظر پی ٹی وی کو لبر الائز کرنے کی ضرورت اور موقع تھا، لیکن ایسا نہیں ہو سکا اور عجب ستم ظریفی ہے کہ اس کی ایک بڑی وجہ یہی نجی چینل بنے ہیں۔ ہوا یہ ہے کہ نجی چینلوں کی اکثریت نے شعوری یا غیر شعوری طور پر منفی ایجنڈے کو آگے بڑھایا ہے یہ حکومت کے لئے بھی منفی ہے اور وسیع تناظر میں معاشرے کے لئے بھی، ان چینلوں نے حکومت کا تقریباً بائیکاٹ کر رکھا ہے اور صرف منفی خبریں دی جاتی ہیں۔

ایک صحافی کی حیثیت سے مَیں بعض دفعہ یہ دیکھ کر حیران ہوتا ہوں کہ کوئی غیر ملکی وزیر خارجہ یا کوئی اور اہم آدمی پاکستان کے دورے پر آیا ہے تو نجی چینل اس کا تقریباً بائیکاٹ کر رہے ہوتے ہیں۔ وزیراعظم کسی ترقیاتی منصوبے کا افتتاح کر رہے ہیں تو اس کا بھی بائیکاٹ مثلاً حال ہی میں اسلام آباد میں اہلِ قلم کانفرنس ہوئی، جس میں مُلک بھر سے چار پانچ سو اہلِ قلم کے علاوہ کچھ غیر ملکی مہمانوں نے بھی شرکت کی۔ وزیراعظم نے افتتاح اور صدر نے افتتاحی تقریب سے خطاب کیا ،لیکن کسی چینل نے لائیو نہیں دکھایا اور نہ ہی شاید کسی نے کوئی پروگرام کیا۔ اس قسم کی بے شمار مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ اس صورتِ حال میں حکومت کا پی ٹی وی پر انحصار بڑھ گیا ہے۔

پی ٹی وی ہی ایک چینل ہے، جس کے ذریعے حکومت اپنا نقطہ نظر لوگوں تک پہنچا سکتی ہے۔ پی ٹی وی اور وزارتِ اطلاعات کے ارباب اختیار کو سوچنا چاہئے کہ اِن حالات میں پی ٹی وی کو مضبوط کرنے کی بڑی ضرورت ہے، لیکن نظر ایسا آتا ہے کہ انہوں نے پی ٹی وی سے سرے سے توجہ ہٹا لی ہے اور اس قومی ادارے کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ اس وقت پی ٹی وی میں قیادت کا شدید بحران ہے، ایم ڈی اور ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر کی پوسٹ خالی ہے۔ ایم ڈی کی پوسٹ ایک سال سے خالی ہے اور ابھی تک بھرتی کے لئے اشتہارہی نہیں دیا گیا۔ ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن کی پوسٹ پر ہفتوں اور مہینوں میں تبدیلی ہو رہی ہے۔ انگریزی چینل پی ٹی ورلڈ بھی ایک کنٹرولر کے حوالے ہے، نہ اس کا کوئی ڈائریکٹر ہے اور نہ چینل ہیڈ۔ ڈائریکٹر نیوز حال ہی میں مقرر کیا گیا ہے۔

اس سے پہلے ایک کنٹرولر کے پاس بڑی دیر چارج رہا، اس شخص کی کنٹرولر کی پوسٹ پر ترقی بھی مشکوک طریقے سے کی گئی تھی۔ نتیجہ حسبِ توقع بہت خراب نکلا اور پی ٹی وی کی تاریخ میں ایک ناخوشگوار باب کا اضافہ ہو گیا اور اس شخص کو ملازمت سے ڈسمس کر دیا گیا، لیکن بعد از خرابی بسیار۔ یہ ساری صورتِ حال پی ٹی وی میں قیادت کے خلاسے پیدا ہوئی ہے، اب بھی وقت ہے کہ ادارے کی تنظیم نوکی جائے اور ایک فل ٹائم ایم ڈی مقرر کیا جائے۔ ایک تجربہ کار شخص کو پی ٹی وی نیوز کا چینل ہیڈ مقرر کیا جائے، جو صورتِ حال کو سنبھال سکے۔ انگریزی چینل کے لئے بھی ایک سینئر آدمی کی ضرورت ہے۔

پی ٹی وی کے زوال کی کہانی کئی عشروں پر محیط ہے ہر حکومت اور شاید ہر ایم ڈی نے اس میں کچھ نہ کچھ حصہ ڈالا ہے۔ پیپلزپارٹی نے بے شمار لوگوں کو صرف سیاسی بنیادوں پر ملازم رکھا، جن کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ ایک اندازے کے مطابق 2009ء میں پی ٹی وی اور وزارت اطلاعات میں ایسے پارٹی وفا داروں کی تنخواہوں پر کروڑوں روپے سالانہ خرچ ہوتے تھے۔ میرٹ کی پامالی اور اقربا پروری بہت برسوں سے عروج پر ہے۔ باہر سے آنے والے منیجنگ ڈائریکٹروں نے بھی ایک آدھ کے سوا ادارے کے وسائل کا اپنے فائدے کے لئے بھرپور استعمال کیا۔ انہوں نے اندر کام کرنے والوں کی نسبت دس گنا تنخواہوں پر اپنے دوستوں کو نوازا اور پی ٹی وی کے مستقل ملازمین میں میرٹ کو نظر انداز کر کے ایسے فیصلے کئے، جن کے دور رس منفی اثرات نکلے۔ پھر نجی شعبے میں میڈیا کا دور شروع ہوا تو ہماری انتظامیہ نے اس چیلنج کے لئے تیاری نہیں کی، نتیجہ ظاہر ہے کہ پی ٹی وی کا گراف بہت نیچے چلا گیا۔ بات یہاں ختم نہیں ہوتی، بلکہ اگر اب بھی صورت حال کو نہ سنبھالا گیا تو ادارے کی اندرونی صورتِ حال بد سے بد ترین ہو جائے گی اور یہ ایک مجرمانہ غفلت ہو گی۔ کیا پی ٹی وی کا انجام بھی سٹیل مل، پی آئی اے اور ریلوے جیسا ہو گا؟

اے خالق سرگانہ

ہمارا پاکستان اور میڈیا کا پاکستان

سیاستدان ہو کہ صحافی دونوں کو زندہ رہنے کے لیے خبر چاہیے۔ اور خبر بھی کراچی، لاہور، پشاور یا اسلام آباد میں چاہیے۔ پارہ چنار میں 24 افراد کی ہلاکت اور 74 کا زخمی ہونا ایک اور افسوس ناک واقعہ ضرور ہے مگر خبر نہیں۔ اگر ہے بھی تو تین بلیٹنز کے بعد چوتھے گھنٹہ وار بلیٹن کی شہہ سرخی بننے کے قابل نہیں۔ خیبر ایجنسی میں نمازِ جمعہ کے موقع پر ایک مسجد میں بم پھٹنا اور تیس سے زائد نمازیوں کا مرنا کافی نہیں۔ آپریشن ضربِ عضب کے لیے ضروری ہے کہ کم ازکم کراچی ایئرپورٹ پر حملے میں دس دھشت گرد مارے جائیں۔

نیشنل ایکشن پروگرام اور فوجی عدالتوں کے قیام کے لیے کوئٹہ کی ہزارہ برادری کی نسل کشی اور ہزاروں کی تعداد میں ہجرت اور یوحنا آباد اور گوجرہ کی کرسچن بستیوں کا جلنا کافی نہیں تاوقتیکہ پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں ڈیڑھ سو بچے اور اساتذہ نہ مریں۔ آپریشن ردّ الفساد اور فوجی عدالتوں کا احیا تبھی ممکن ہے جب لاہور کے چیئرنگ کراس پر دس شہریوں کی ہلاکت اور پاک افغان سرحد بند کرنے کے لیے سیہون میں 72 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو جائے۔ کوئٹہ سول اسپتال میں پچاس وکلا اور شاہ نورانی کے مزار پر ساٹھ سے زائد لاشیں گرنے سے کام نہیں چلے گا۔

حالانکہ پارہ چنار پاک افغان سرحد سے ایک پتھر کی مار پر ہے مگر یہ کوئی ایسا بڑا واقعہ تو نہیں جس کے لیے کابل حکومت سے رسمی احتجاج بھی کیا جا سکے۔ چھوٹے چھوٹے علاقوں میں بڑے بڑے واقعات ہوتے ہی رہتے ہیں۔ چلڈرن آف لیسر گاڈ۔۔۔ خبر تو اصل میں یہ ہے کہ پاناما کیس کا فیصلہ اگلے ہفتے سنایا جائے گا کہ نہیں۔ خبر یہ ہے کہ فاسٹ باؤلر محمد عرفان کو چھ ماہ کے لیے قومی کرکٹ کھیلنے سے روک دیا گیا۔ خبر تو یہ ہے کہ ڈاکٹر عاصم حسین کو سندھ ہائی کورٹ نے ضمانت پر رہا کر دیا۔ خبر تو یہ ہے کہ جماعتِ اسلامی نے کراچی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف دو گھنٹے کے لیے شاہراہِ فیصل بند کر دی۔

اور سب سے بڑی خبر تو یہ ہے کہ عمران خان نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی تا کہ یہ یقین کیا جا سکے کہ جنرل صاحب آج بھی جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہیں کہ نہیں۔ یہ چیک کیا جا سکے کہ تھرڈ ایمپائر کی انگلی اب بھی کام کرتی ہے کہ نہیں۔ اور اس سے بھی بڑی خبر مریم نواز کی یہ ٹویٹ ہے کہ وزیرِ اعظم کے گردے میں ایک چھوٹی سی پتھری ہے مگر آپریشن کی ضرورت نہیں۔ وزیرِ اطلاعات مریم اورنگ زیب نے کہا ہے کہ وزیرِ اعظم کے پیٹ میں کچھ درد سا اٹھا تاہم اللہ تعالی کے فضل و کرم سے وزیرِ اعظم اپنے فرائض بخیر و خوبی انجام دے رہے ہیں۔

یہ اتنی بڑی خبر ہے کہ دو نیوز چینلز کے ٹاک شوز میں ان اسباب کا سیر حاصل تجزیہ بھی ہو گیا کہ ایسے وقت جب پاناما کیس کا فیصلہ سر پر ہے وزیرِ اعظم کے پیٹ میں درد اٹھنے کا مطلب اور مقصد کیا ہے؟ کیا یہ ججوں کی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش تو نہیں؟ کہنے کو پاکستان کا رقبہ سات لاکھ چھیانوے ہزار پچانوے مربع کلومیٹر اور آبادی اٹھارہ سے بیس کروڑ کے درمیان ہے۔ لیکن میڈیا کے خبری نقشے کا پاکستان دیکھا جائے تو یہ ملک چھ شہروں (اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، کوئٹہ، لاہور اور کراچی) پر مشتمل ہے جس کا رقبہ دس ہزار دو سو تئیس مربع کلو میٹر اور آبادی پانچ کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ اس میڈیائی پاکستان کو چھینک بھی آجائے تو بریکنگ نیوز ہے۔ اور باقی پاکستان خود کشی کر لے تب بریکنگ نیوز ہے۔

پیمرا جب لائسنس بانٹ رہا تھا تو جانے عقل کہاں بٹ رہی تھی؟

وسعت اللہ خان

تجزیہ کار

ست پارہ ڈیم : جہاں کبھی جھیل تھی

ست پارہ جھیل اپنے پانی کے گہرے، انتہائی گہرے سبز رنگ، وسط میں واقع ایک چھوٹے سے جزیرے اور اپنی وسعت کے باعث مجھے بے حد محبوب تھی ۔ اب یہاں ست پارہ ڈیم بنایا جا رہا ہے۔ بلندی سے دیکھیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پتھر کی انگشتری میں ایک گہرا سبز زمرد جڑا ہوا ہے۔ جو قریب آنے پر پھیل کر ست پارہ جھیل بن جاتا ہے۔ دیوسائی سے واپسی پر پہلے ست پارہ گائوں آتا ہے۔ اور ہرے بھرے کھیت اور سبز درختوں کے جھنڈ اس پتھریلے منظر میں رنگ بھرنے لگتے ہیں۔ پھر بائیں ہاتھ جھیل کو رکھتے ہوئے راستہ سکردو شہر کی طرف بڑھ جاتا ہے۔ ڈیم کی تعمیر جاری تھی اور جھیل کی سطح بلند ہو کر کافی وسیع ہو چکی تھی۔ اور اس کے درمیان چھوٹا سا ٹاپو بہت حد تک ڈوب چکا تھا اور اب صرف اس کا بالائی سرا اور چند درختوں کی چوٹیاں دکھائی دیتی تھیں۔

اس جھیل سے سکردو کو پینے کا پانی بھی مہیا کیا جاتا ہے۔ جو ایک تندوتیز پختہ نالے کی شکل میں آپ کے ساتھ ساتھ سکردو تک چلتا ہے۔ جب ہم کچی پگ ڈنڈی پر چلتے اس ٹیلے پر پہنچے جہاں بدھ کے مجسمے والی چٹان زیرِ آسمان پڑی موسموں کے تغیر جھیل رہی ہے تو یہ دیکھ کر دکھ ہوا اس کی دیکھ بھال کے لیے کوئی خاطر خواہ انتظام نہیں ہے۔  بس اس کے گرد خاردار تار کی باڑ لگا کر کانٹوں والی جھاڑیاں ڈال دی گئی ہیں۔ (پہلے تو یہ بھی انتظام نہیں تھا)۔ پھر ہمارے بھائیوں نے نہایت بھدے اور جلی حروف میں سرخ روغن سے اس تاریخی چٹان پر ’’نظر سے قتل کرڈالو نہ ہو تکلیف دونوں کو۔‘‘ جیسے بازاری شعر اور اپنے نام پتے ’’دائود خان آف —— ‘‘ وغیرہ مع ٹیلی فون نمبروں کے درج کر دئیے ہیں۔ مجھے نہیں علم کہ اس کام کا مقصد یا فائدہ کیا ہے؟ البتہ یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ اگر کسی غیر اسلامی ملک میں مسلمانوں کے کسی مقدس مقام کے ساتھ ایسا سلوک کیا جائے تو ہمارے جذبات اور احساسات کیا ہوں گے؟ ہم کچھ دیر خاموش بیٹھے سستاتے رہے۔ اگر آپ بدھ صاحب کی طرف منہ کر کے کھڑے ہوں تو آپ کی دائیں جانب دور تک سکردو کی آبادی اور اس سے پرے افق میں گم ہوتا صحرائی منظر پھیلا دکھائی دیتا ہے.

عمران الحق چوہان

ایدھی کی یاد میں یادگاری سکوں کا اجراء

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے خدمت انسانیت کے علمبردار مرحوم عبدالستار ایدھی کی خدمات کے اعتراف میں 50 روپے مالیت کا یادگاری سکہ جاری کر دیا۔ اس سلسلے میں منعقدہ خصوصی تقریب میں گورنر اسٹیٹ بینک اشرف محمود وتھرا نے خصوصی سکے عبدالستار ایدھی کے صاحبزادے فیصل ایدھی کو پیش کیے۔ یاد رہے کہ عبدالستار ایدھی وہ واحد سماجی کارکن ہیں جن کے نام پر یادگاری سکے جاری کیے گئے ہیں۔ پاکستان میں اب تک یہ اعزاز صرف پانچ شخصیات کو حاصل ہے جن میں قائداعظم محمد علی جناح، علامہ محمد اقبال، محترمہ فاطمہ جناح، محترمہ بے نظیر بھٹو اور اب عبدالستار ایدھی بھی شامل ہیں۔

اس سکے کا کل وزن 13.5 گرام ہے جبکہ یہ 75 فیصد تانبہ اور 25 فیصد نکل پر مشتمل ہے۔ گورنر اسٹیٹ بینک اشرف وتھرا کے مطابق ابتدائی طور پر پانچ ہزار سکے جاری کیے گئے ہیں جو 16 مراکز پر دستیاب ہونگے جبکہ ضرورت پڑنے پر مزید سکے جاری کر دیے جائیں گے۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے اس موقع پر عبدالستار ایدھی کی انسانیت کے لیے خدمات کو سراہا اور انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ تقریب میں موجود فیصل ایدھی نے کہا کہ ’میں اسٹیٹ بینک کا مشکور ہوں جنہوں نے عبدالستار ایدھی کی خدمات کے اعتراف میں یادگاری سکے جاری کیے‘۔ فیصل ایدھی کا مزید کہنا تھا کہ ’عبدالستار ایدھی عوام کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے اور لوگوں کی فلاح کے لیے ان کا مشن ہمیشہ جاری رہنا چاہیے‘۔

سکے پر سامنے کی جانب عبدالستار ایدھی کا سال وفات درج ہے جبکہ سکے کے عقبی رخ پر عبدالستار ایدھی کی تصویر اور عرصہ حیات بھی درج ہے۔

خیال رہے کہ ایدھی فاؤنڈیشن کے بانی عبدالستار ایدھی رواں ماہ 8 جولائی کی شب 88 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے، انہیں گردوں کا عارضہ لاحق تھا۔

گزشتہ برس جولائی میں ہی وزیراعظم نواز شریف نے اسٹیٹ بینک کو ہدایات جاری کی تھیں کہ سماجی رہنما عبدالستار ایدھی کی یاد میں یادگاری سکے جاری کیے جائیں۔ پاکستان میں عبدالستار ایدھی کو انسانیت کی خدمت کے اعتبار سے لیجنڈ کا درجہ حاصل ہے، انہوں نے خالی ہاتھ اپنا سفر شروع کیا اور ایدھی فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی۔ ایدھی اور ان کی ٹیم نے میٹرنٹی وارڈز، مردہ خانے، یتیم خانے، شیلٹر ہومز اور اولڈ ہومز بھی بنائے، جس کا مقصد معاشرے کے غریب و بے سہارا لوگوں کی مدد کرنا تھا۔

اس ادارے کا نمایاں کارنامہ 1500 ایمبولینسوں پر مبنی ایمبولینس سروس ہے جو ملک میں دہشت گرد حملوں کے دوران بھی غیر معمولی طریقے سے اپنا کام کرتی نظر آتی ہیں۔ سنہ 2000ء میں گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں ایدھی فاؤنڈیشن کا نام دنیا کی سب سے بڑی فلاحی ایمبولینس سروس کے طور پر درج کیا گیا تھا۔

علامہ احسان الٰہی ظہیر کی خوبصورت یادیں

دنیا کی بے ثباتی کا کون گواہ نہیں‘ زندگی کی بے وفائی کا کسے احساس نہیں‘ رنگ و بُو کے اس جہاں میں کیسے کیسے ذیشان لوگ آئے‘ آب وگل کی اس کائنات میں عظیم ہستیوں نے جنم لیا۔ ان کی جلائی ہوئی شمعیں اپنی ضوفشانیوں سے زندہ قوموں کو ہمیشہ راستہ دکھاتی رہتی ہیں۔ دعوت و عزیمت کے ایک ایسے ہی کارواں کے قائد کو دنیا احسان الٰہی ظہیر کے نام سے جانتی ہے۔ ان کا شمار ملک کے نامور علماء دین اور بے باک سیاستدانوں میں ہوتا تھا۔ وہ آج ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں۔ مگر ان کی شعلہ نوا خطابت‘ ان کی بے خوف سیاست اور ان کی دبنگ شخصیت کی مہک بیس برس کے بعد بھی ابھی تک وطن عزیز کی فضائوں میں رچی بسی ہے۔

چھیالیس سال کی مختصر سی زندگی میں وہ اپنے کردار وعمل سے صدیوں کا فاصلہ طے کر چکے تھے۔ وہ ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ یہاں صر ف آقائے نامداررسول کریم ﷺ سے ان کی سچی محبت اور والہانہ عشق کے مختلف گوشوں اور شعلہ نوا خطابت کے تناظر میں کچھ گزارشات پیش ہیں۔ تحریک ختم نبوتؐ میں ان کا کردارپوری دنیا پر آشکار تھا۔ جس کا اعتراف لندن سے شائع ہونے والے ایک جریدے نے بھی کیا۔ اس نے برصغیر پاک وہند کے بارے ایک مضمون میں حضرت قائد اعظم محمد علی جناحؒ‘ علامہ اقبال‘ پنڈت جواہر لال نہرو اور علامہ احسان الٰہی ظہیر کی تصاویر شائع کیں۔ علامہ اقبالؒ کی تصویر اس لئے شائع ہوئی کہ انہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کیلئے اسلامی مملکت کا تصور پیش کیا۔ حضرت قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی تصویر اس لئے کہ انہوں نے علامہ اقبالؒ کے تصور کو عملی جامہ پہنایا۔ پنڈت جواہر لال نہرو کی تصویر اس لئے شائع کی کہ انہوں نے انگریز کی سازش سے برصغیر کے مسلمانوں میں قادیانیت کے نام سے ایک فرقے کی بنیاد رکھنے والے غلام احمد قادیانی کی پس پردہ سرپرستی کی تھی اور علامہ احسان الٰہی ظہیر کی تصویر اس لئے شائع کی کہ اس نوجوان عالم دین نے قادیانیت کی سازش کو بے نقاب کر کے اسے خارج از اسلام قرار دلوانے میں ہراول دستے کا کردار ادا کیا۔

انہوں نے مدینہ یونیورسٹی سے فراغت کے بعد وطن واپس آ کر وقت کی سیاسی تحریکوں اتحادوں اور مسجد چینیانوالی میں اپنی خطابت کے وہ جوہر دکھائے کہ انہیں لوگوں نے سید عطاء اللہ شاہ بخاری ثانی ؒ قرار دیا۔ وہ فِرق کے عالم تھے انہیں اپنی شعلہ نوا خطابت پر فخر تھا۔ وہ کہا کرتے تھے کہ’’ میں حضرت نبی اکرمؐ کے ختم الرسل ہونے پر مکمل یقین رکھتا ہوں ۔ میں نبوت کے جھوٹے دعویدار غلام احمد قادیانی کو مرتد اور کاذب کہتے وقت مصلحتوں سے کام کیوں لوں۔ میں اپنے ایمان اور عقیدے میں سیاسی مصلحتوں کی آلودگی قبول کر کے اپنی سیاست کی دکان نہیں چمکا سکتا۔ میں اس ملک میں قیامت تک اقتدار میں نہ آئوں مجھے کوئی غم نہیں ہو گا۔ میں کلمہ حق کہنے سے کبھی نہیں ہچکچائوں گا۔‘‘ وہ سچے عاشق حضرت رسول اکرمؐ تھے۔ ‘‘ ان کی ایمان افروز تقریروں نے جذبات اور احساسات کی دنیا میں ایک انقلاب برپا کر دیا۔

ان کی یادیں دلوں میں خزاں کا عالم برپا کئے ہوئے ہیں۔ طلب ثروت ان کا مقصد حیات نہ تھا۔ بلکہ دنیا کی جاہ و حشمت کو ٹھوکر لگا کر وہ ہمیشہ آرزوئے مغفرت کے طلبگار رہے۔ آپ مدینہ یونیورسٹی کے طالب علم رہے‘ یہاں سے امتیازی شان کے ساتھ امتحانات میں کامیاب ہوئے تھے۔ مدینہ ان کا دوسرا گھر تھا۔ ان کی زندگی مدینے والے کے پیغام ہی کو عام کرنے کیلئے وقف تھی۔ وہ اسی شہر میں موت کی تمنا کرتے تھے ،ان کی یہ خواہش رب نے پوری کر دی۔ وہ جنت البقیع میں حضرت امام مالکؒ کے پہلومیں دفن کئے گئے ۔ توحید کا ترانہ انہوں نے اس شان سے گایا کہ سننے والا جھوم جھوم اٹھے۔ قادیانیوں کے خلاف انہوں نے معرکے کی تحریریں لکھیں۔ اس گروہ کے خلاف ان کا قلم تلوار بنا ہوا تھا۔ احسان الٰہی ظہیر کو اس کے معاصرین سے بھی خوب داد ملی۔ آغا شورش کاشمیری انکے متعلق لکھتے ہیں کہ ’’انشاپردازی ان کی جیب کی گھڑی اور تقریر و خطابت ان کے ہاتھ کی چھڑی تھی‘‘۔

ممتاز عالم دین مولانا محمد یوسف بنوری مرحوم نے شاہی مسجد کے باطل شکن اجتماع میں ان کی خطابت کی جلوہ سامانیوں اور بگڑے ہوئے حالات پر قابو پانے کی عظیم قائدانہ صلاحیتوں پر آفرین کہتے ہوئے انہیں شیرقرار دیا۔ عرب کے شہرہ آفاق خطیب ڈاکٹر مصطفی السبائی نے کہا کہ ان کے لب و لہجے اور اسلوب بیان نے قدیم عرب کے خطباء کی یاد تازہ کر دی ہے اور ہم نے عالم اسلام میں ان سے بڑا خطیب نہ دیکھا اور نہ سنا ہے۔ ان کے الفاظ کا جادو مخالفین کے سر چڑھ کر بولتا رہا۔ ان کی تقریریں خوف نکال باہر کرتی تھیں۔ طاقتوروں کے خلاف لڑنے کا حوصلہ دیتی تھیں۔ کمزوروں کے دل سے کمزوری کااحساس ختم کر دیتی تھیں۔ وہ اسلام اور اپنے وطن سے بے حد محبت کرتے تھے۔

سانحہ مشرقی پاکستان پر وہ بہت رنجیدہ ہوئے۔ انہوں نے اپنے جذبات کا اظہار سقوط ڈھاکہ کے اگلے روز چینیاںوالی مسجد میں تاریخی خطبہ جمعہ میں کچھ یوں کیا تھا۔ ’’کہ آج ہماری اٹھی ہوئی گردنیں جھک گئی ہیں ‘آج ہمارے تنے ہوئے سینے سکڑ کر رہ گئے ۔ ہماری آوازیں کجلا گئی ہیں ۔ آج ہماری روح مرجھا گئی ، آج ہمارے دل بیٹھ گئے اور ہمارے اعصاب ٹوٹ گئے ۔ آج ہمارے جسم چھلنی ہو گئے ۔ آج ہمارے دل زخمی ہو گئے اور آج ہمارے جگر پھٹ کر رہ گئے ہیں۔ آج یہ سب کچھ کیوں ہے ؟ اس لئے کہ آج ڈھاکہ کی مسجد بیت المکرم ہمارے پاس نہیں رہی۔ آج ہم اس لئے اپنی آنکھوں کے سامنے جالے محسوس کرتے ہیں کہ آج چٹاگانگ کی عید گاہ ہم سے چھن گئی ہے۔ ‘‘

انہوں نے سلطانی جمہور کا پرچم بلند کئے رکھا اورکتاب وسنت کے نفاذ کیلئے کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہ کیا۔ وقت کے حاکموں کے ظالمانہ اقدامات کوزبان و قلم کے وار سے روکنے کی پوری کوشش کی۔ حریت فکر کی تاریخ میں ان کا نام ہمیشہ عزت سے لیا جائے گا۔ انہوں نے جوانوں میں عقابی روح پیدا کی۔ اپنی ولولہ انگیز خطابت سے ان میں بے باکی پیدا کی۔ سیاسی پنڈتوں کے جال توڑنے میں کبھی شکست نہ کھائی اور ہمیشہ اذان حق بلند کی۔ وہ شرک وبدعت کے قاطع اور قرآن وسنت پر فاتح نظر آئے۔ ان کے اعمال میں سنت تھی، توحید تھا۔ سیاست کے نشیب وفراز میں انہیں جہاد اور شہادت کی امنگ رہتی۔ قرآن و سنت کی تعلیمات کے پھیلانے اور پھر اپنے اس پاکیزہ مقصدکے حصول کیلئے ہمہ تن مقابلہ کرنا ان کا شغف عین تھا۔ ان کی زبان میں زہر نہیں تھا لیکن تاثیر اتنی زیادہ ہوتی تھی کہ شہد مخالفین کے دل میں زہر بن کر انہیں گھائل کر دیتا۔ ان سے جواب نہ بن پاتا تو تخریب کاری کا راستہ اختیار کرتے۔

انہیں موت کی دھمکیاں ملتیں ۔ لیکن احسان الٰہی ظہیر نے آخری لمحے تک باطل سے مفاہمت نہ کی۔ سچ کا ساتھ نہ چھوڑا۔ وہ کہا کرتے تھے کہ :’’ آگ اور خون کا ایک دریا ہے‘ جس پر ہمیں حق اور سچائی کا پل تعمیر کرنا ہے‘ پھر اسے پاٹنا ہے تب جا کے ایک انقلاب آئے گا‘ نہ جانے اس جدوجہد میں ہم سے کون اس دریا کی نذر ہو جائے۔‘ ‘ وہ کہا کرتے تھے کہ ’’میں کسی بزدل کا بیٹا نہیں مجھے اس ماں نے جنا ہے جو مجھے تختہ دار پرلٹکتا دیکھ کر یہ کہے گی کہ ابھی اس خطیب کے منبر سے اترنے کا وقت نہیں آیا۔‘‘

بن یوسف

وادئ سندھ اور تہذیبیں

یہ قیاس ہوتا ہے کہ سندھ کی ’’سلطنت‘‘ (اگر اس کی وسعت کی وجہ سے اسے یہ نام دینا جائز ہے) کے خاتمے کے بعد تمدنی انتشار کا ایک لمبا دور گزرا۔ کچھ اسی طرح کے حالات نے سندھ کی تہذیب کو جنم دیا تھا مگر اب ان حالات میں کچھ دُور افتادہ بیرونی عناصر بھی شامل ہو گئے تھے۔ ہڑپہ میں تہذیبِ سندھ والے شہر کی جگہ شاید خاصی مدت گزر جانے کے بعد ’’قبرستان ایچ‘‘ کا تمدن وجود میں آیا۔ یہ نام اسے ایک قبرستان کی وجہ سے دیا گیا ہے جو حقیقی ہڑپہ تمدن کے کھنڈرات کے ساتھ پایا گیا ہے۔ قبرستان ایچ والے لوگ بھدی اور بے ڈھنگی عمارتیں اور اچھی نقاشی والے مٹی کے برتن بناتے تھے۔

ان میں کچھ نیم ہڑپہ عناصر موجود ہیں مگر بنیادی طور پر وہ اپنی مخصوص نوعیت کے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ تمدن وسطی سندھ کے ایک ٹکڑے تک محدود تھا لیکن اس کی کافی کھوج ابھی نہیں ہوئی ہے۔ موہنجو داڑو کے 80 میل جنوب میں سندھ کی تہذیب کے چھوٹے قصبے چاہنو داڑو کی جگہ پر نچلے درجے کے ایک کے بعد ایک کر کے دو غاصب تمدن قائم ہوئے۔ انہیں مقامی ناموں ’’جُھکر‘‘ اور ’’جھنگر‘‘ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ تیس میل دور آمری میں بھی یہی ہوا۔ جُھکر والے دیہاتی مٹی کے برتن بناتے تھے اور گول بٹن جیسی مہریں استعمال کرتے تھے جن پر عموماً گول یا چوکور خانے دار نمونے بنے ہوئے تھے۔ یہ شمالی ایران اور کاکیشیا میں دوسرے ہزار سالہ قبل مسیح قرن میں پائے جانے والے نمونوں کے مشابہہ ہیں۔

شمالی بلوچستان کی ژوب وادی میں مغل فنڈی مقام پر قبروسائی نشاندہی کرنے والے ڈھیروں سے ایک تین پایوں والا مرتبان‘ گھوڑے کی گھنٹیاں‘ انگوٹھیاں اور چوڑیاں پائی گئی ہیں۔ ان کا موازنہ وسطی ایران میں سیالک کے مقام پر ’’قبرستان بی‘‘ سے برآمد ہونے والے سامان سے کیا گیا ہے۔ یہ سامان لگ بھگ ایک ہزار سال قبل مسیح کا ہے‘ لیکن ہوسکتا ہے کہ اس کے بعد کا ہی ہو۔ کچھ اِکادُکا چیزیں دریافت ہوئی ہیں‘ جو اسی طرح مغرب میں ایران اور کاکیشیا کی طرف اشارہ کرتی ہیں‘ ان کی مثالیں ہیں۔ لگ بھگ بارہویں صدی قبل مسیح کا کانسے کا مشہور چُھدا جو سندھ کے مغرب میں کوہ سلیمان میں واقع فورٹ مندو سے ملا ہے اور تانبے کا ایسا محور والا کلہاڑا جو افغانستان کی سرحد پر قدم وادی میں پایا گیا ہے۔

اس تھوڑے سے سامان سے مجموعی طور پر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ مقامی کم مایہ تمدنوں کو کچھ تو اپنی نیم سندھی وراثت سے ملاتی اور کچھ عناصر انہوں نے شمالی مغرب سے حاصل کرکے اپنے اندر سمو لئے تھے۔ حسب سمت سے درحقیقت آریوں کے حملے ہوئے تھے۔ مادی طور پر وادئ سندھ میں عظیم تہذیبِ سندھ اور اس کے بعد وجود میں آنے والے کم مایہ تمدنوں کے درمیان کوئی حقیقی تسلسل نہیں تھا۔ اس تسلسل کی غیرموجودگی غور طلب ہے۔

زبیر رضوی

پاکستان میں کم سِن گھریلوں ملازمین تشدد کا شکار کیوں بنتے ہیں؟

ماں باپ کا سہارا بننے کے لیے گھر سے نکلنے والی رضیہ تین مہینے بعد گھر لوٹی تو لہولہان تھی۔ فیصل آباد میں گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی رضیہ کا ایک ہی قصور تھا: روٹی جلنا۔ رضیہ ان ہزاروں پاکستانی بچوں میں شامل ہے جو غربت کے باعث لوگوں کے گھروں میں کام کرنے پر مجبور ہیں، کبھی قرضہ اتارنے کے لیے تو کبھی گھر کے معاشی حالات سدھارنے کے لیے۔ رضیہ کا تعلق فیصل آباد کے گاؤں بچیانہ سے ہے اور وہ فیصل آباد کے ایک متمول گھرانے میں ملازم تھیں۔ رضیہ نے خود پر ہونے والے تشدد کے بارے میں بتایا۔

‘میں روٹی بنانے گئی تو روٹی جل گئی۔ مالکن نے بہت مارا۔ میں ڈر کر چھت پر چھپنے کے لیے بھاگی۔ لیکن وہ مجھے چھت سے کھینچتے ہوئے نیچے لے آئی۔ پھر شیشے کی بوتل میرے سر پر دے ماری۔ دوسری بار مارنے لگی تو میں نے ہاتھ آگے کر دیا۔ میرے ہاتھ پر لگی اور میں بری طرح زخمی ہو گئی۔ لیکن وہ نہیں رکی، اس کے بعد اس نے مجھے چھری ماری۔’ پاکستان میں نابالغ بچوں کو گھروں میں ملازم رکھنا عام ہے۔ مگر ان کم عمر بچوں کے بنیادی حقوق اور تحفظ کے لیے کوئی قانون موجود ہی نہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں گھریلو ملازمین بالخصوص بچوں پر تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

گذشتہ برس پاکستان 167 ممالک کے گلوبل سلیوری انڈیکس یعنی غلامی کے عالمی اشاریے میں چھٹے سے تیسرے نمبر پر آ گیا تھا۔ ڈومیسٹک ورکرز یونین کے سیکریٹری مختار اعوان نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معاشرتی بے حسی اور معاشی مجبوری کے باعث پاکستان میں کم عمر بچوں سے مشقت کروانا ایک ایسا جرم ہے میں خود والدین اعانت جرم کے مرتکب ہیں۔

‘یہ لوگ دیہی علاقوں سے آتے ہیں اور انتہائی غریب لوگ ہوتے ہیں۔ کچھ پیسوں کے عوض اپنے بچوں کو دوسروں کے گھروں میں کام کرنے کے لیے چھوڑ آتے ہیں۔ گھریلو ملازمین میں زیادہ ترچھوٹی عمر کی بچیاں رکھی جاتی ہیں کیونکہ نہ اس نے بولنا ہے اور نہ ہی کسی چیز سے انکار کرنا ہے۔ گھریلو ملازمین پر تشدد کے تقریباً 80 سے 90 فیصد کیس رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔’

مبینہ تشدد کے بعد رضیہ کے گھر والوں نے اس کے خلاف آواز بلند کرنے کی بہت کوششیں کیں۔ رضیہ کے والد نے تھانے کے متعدد چکر لگائے لیکن ایف آئی آر تک نہ کٹی۔ محمد اسلم کا کہنا تھا کہ انصاف صرف امیروں کو ہی ملتا ہے۔ ‘غریب ہیں، جس تھانے میں بھی جاتے ہیں وہ آگے کہیں اور بھیج دیتے ہیں۔ وہ امیر لوگ ہیں انہوں نے پیسے دیے ہوئے ہیں، ہمارے پاس کوئی پیسہ نہیں، اسی لیے ہماری نہیں سنی گئی۔’ گلوبل سلیوری انڈیکس ترتیب دینے والے ادارے واک فری فاؤنڈیشن کے مطابق اس وقت پاکستان میں اکیس لاکھ سے زیادہ بچے جبری مشقت پر مجبور ہیں۔

اس کی بنیادی وجہ متعلقہ قانون کی عدم موجودگی ہے۔ اسی لیےاگر رضیہ جیسے متاثرین تھانے تک پہنچ بھی جائیں تو معاملہ لمبی کاغذی کارروائی کی نظر ہو جاتا ہے۔ رضیہ کا کیس فیصل آباد کے تھانے مدینہ ٹاون میں زیر تفتیش رہا۔ تاہم کئی ہفتے گزرنے کے بعد بھی ایف آئی آر تک درج نہ ہوئی۔ جب بی بی سی نے مدینہ ٹاون تھانے کے انویسٹی گیشن انچارج محمد اشرف سے اس بارے میں پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ کیس کی تحقیقات زخمیوں کی نوعیت کا تعین نہ ہونے کی وجہ سے رکی ہوئی ہے۔ جس کے لیے میڈیکل رپورٹ ڈیکلیئر ہونا ضروری ہے۔

رضیہ کے والدین کا کہنا ہے کہ وہ شہر سے دور رہتے ہیں مگر کرایہ نہ ہونے کے باوجود وہ تھانے کے کئی چکر لگا چکے ہیں۔ تاہم کیس میں خاطرخواہ پیش رفت نہیں ہوئی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ طویل قانونی چارہ جوئی سے بچنے کے لیے عام طور پر اس طرح کے معاملات میں کچھ رقم لے دے کر معاملہ رفع دفع کر دیا جاتا ہے۔ مختار اعوان کا کہنا ہے اس کیس میں بھی رضیہ کے والدین کو بالآخر صلح کرنی پڑی۔

حنا سعید

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہو

پاکستان میری ٹائم میوزیم

پاکستان میری ٹائم میوزیم کا افتتاح 27مارچ 1997ء کو کیا گیا تھا۔ اسے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، اس کے احاطے میں انتظامیہ کے دفاتر کے ساتھ ساتھ مختلف گیلریاں بنائی گئی ہیں۔ گیلریوں کے فرش ، دیواروں اور ستونوں پر شیشم کی لکڑی سے کام کیا گیا ہے۔’’ میرین ہسٹری گیلری‘‘ میں محمد بن قاسم کا مجسمہ بنا کر اس پر لوہے کی زنجیروں سے بنی ہوئی زرہ بکتر پہنائی گئی ہے قریبی بنے ہوئے شیشے کے شیلف میں ڈھال رکھی ہوئی ہے، یہ دونوں قیمتی تاریخی اشیاء اور ماڑی کی بندرگاہ کی کھدائی کے دوران ملی تھیں۔ ان کی ساخت کو دیکھتے ہوئے قیاس کیا جاتا ہے کہ یہ دونوں قیمتی اشیاء محمد بن قاسم کے دور کی ہیں۔

گیلری میں موہنجوداڑو کے تجارتی راستوں، محمد بن قاسم کی فوج کے دیبل پر حملے ، مسلمانوں کے قدیم بحری سازو سامان اور نقشوں کی پینٹنگز آویزاں کی گئی ہیں ۔’’نیول گیلری‘‘ میں 1965ء کی جنگ کے دوران بحریہ کی کامیابیوں کی عکاسی کی گئی ہے۔ یہاں بحریہ کے سازو سامان کا ڈسپلے کیا گیا ہے ۔ ’’دوار کا آپریشن پورٹس اینڈ ہاربر گیلری ‘‘میں پاکستان کی مختلف بندرگاہوں اور منوڑہ فورٹ قاسم کی پینٹنگز آویزاں کی گئی ہیں۔ کراچی کی بندرگاہ کا ماڈل بھی بنایا گیا ہے۔ ایک گیلری میں لکڑی کی پرانی طرز کی بنی ہوئی بارودی سرنگ کے خول میں کمپیوٹر ٹچ سسٹم کے ذریعہ پاک بحریہ اور میوزیم کے اوپن ایریا میں رکھی گئی چیزیں دکھائی جاتی ہیں۔ جن بچوں کو کمپیوٹر استعمال کرنا نہیں آتا وہ کمپیوٹر کی اسکرین پر انگلی رکھیں تو پوری اسکرین پر میوزیم کے کھلے علاقے میں رکھی گئی اشیاء کی فہرست آ جاتی ہے ۔

اس فہرست میں جو چیز دیکھنا چاہیں اس پر انگلی رکھنے سے اسکرین پر وہی چیز سامنے آ جاتی ہے۔ دوسرے کمپیوٹر سے نیوی کی تاریخ کے بارے میں معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔ ایک لابی میں وہ ڈنر سیٹ بھی محفوظ کیا گیا ہے جس میں حضرت قائد اعظمؒ کو پاک بحریہ کے پہلے دور کے موقع پر کھانا پیش کیا گیا تھا، دوسرے منزل کے داخلی راستے کے دائیں جانب دیوار میں ’’ شہدا آف پاکستان نیوی‘‘ کے عنوان سے ان تمام شہدا کے نام دیئے گئے ہیں جنہوں نے وطن عزیز کے دفاع کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ ’’ نیول چیف گیلری ‘‘ میں بحریہ کے تمام ریٹائر ہونے والے سربراہوں کے پورٹریٹ ، یونیفام اور زیر استعمال اشیاء محفوظ کر کے رکھی گئی ہیں ۔’’میرسن لائف گیلری ‘‘ فائبر سے بنائی گئی ہے، اس وسیع گیلری میں زیر آب دنیا کے مختلف حسین قدرتی مناظر دکھائے گئے ہیں۔

پہلی منزل پر ’’ بوٹ گیلری‘‘ میں ایک قدیمی نامکمل کشتی رکھی گئی ہے۔ عمارت میں ساٹھ سیٹوں پر مشتمل ایک ائیرکنڈیشنڈ آڈٹیوریم بھی بنایا گیا ہے جہاں سرکاری وفود کو بریفنگ دینے کے علاوہ دستاویزی فلموں کی نمائش بھی کی جاتی ہے۔ عمارت میں موجود لابرئیری میں تقریباً ایک ہزار کتب کا ذخیرہ موجود ہے۔ پاکستان میری ٹائم میوزیم ’’ تقریباً 22ایکڑ رقبے پر قائم کیا گیا ہے۔ میوزیم کے داخلی گیٹ کے بالکل سامنے ایک آہنی مچھلی کا ماڈل بنایا گیا ہے۔ اس کے احاطے میں ایک بڑی جھیل بنا کر یہاں سمندری ماحول بنانے کی کوشش کی گئی ہے بارش کا پانی جھیل میں جانے سے روکنے کے لیے جھیل کے کنارے پتھروں کی دیوار بنائی گئی ہے اس جھیل میں ایک مائن سوئیپر اور ایک مچڈ ( چھوٹی آبدوز) رکھی ہوئی ہے۔

مائن سوئیپر کا نچلا حصہ لکڑی کا ہے یہ بحری جہاز سمندر میں دشمن کی جانب سے بچھائی جانے والی بارودی سرنگیں صاف کرنے کا کام کرتا ہے۔ میوزیم میں اس لائٹ ہاؤس کا ایک ماڈل بنایا گیا ہے جس میں اوپر جانے کے لیے زینہ موجود ہے لائٹ ہاوس سے میوزیم کا دلکش نظارہ کیا جا سکتا ہے ان پر کشش اہم چیزوں کے علاوہ کھلے علاقے میں پی این ایس ہاربر کا پرانا ماڈل بوفرگسن ، مارک 7 اے ( توپ) ڈیتھ چارج 5-38 انچ مارک 38 ( توپ) 21 انچ تار پیڈو مارک 20 ایم ایم گن ، میزائل لانچر ، مارٹر مارک 10 سکوڈ ماونٹنگ ، سمیت معلوم کرنے کا آلہ کمانڈ اینڈ کنٹرول کنسول، سمت معلوم کرنے کی کیبنٹ ، ٹارگٹ ایکوریشن یونٹ     ( ریڈار کا حصہ) مارک 4556 انچ ، رینچ فانڈر ، شنگین ، ویبلے ریوالور مارک 6 کولٹ 38، رلوایور نمبر 2 مارک اور ریوالور ، 32 انچ دھانے کا ریوالور وغیرہ موجود ہیں یہاں پاک بحریہ کی وہ میت گاڑی بھی رکھی گئی ہے جس میں حضرت قائد اعظم محمد علی جناحؒ کا جنازہ گورنر ہاؤس کراچی سے قائد کی آخری آرام گاہ تک لے جایا گیا۔ بعد میں لیاقت علی خانؒ اور دیگر اکابرین کی میتیں لے جانے کے لیے بھی یہی میت گاڑی استعمال کی گئی ۔

شیخ نوید اسلم

(کتاب’’پاکستان کے آثارِ قدیمہ‘‘سے منقبس)