Beauty Of Interior Baluchistan Pakistan

A boy walks with his camels in Jaffarabad district in the southeast of the Pakistani province of Balochistan.
Advertisements

صحت کے لیے پیدل چلنے سے بہتر کوئی طریقہ نہیں : مسعود احمد برکاتی

کالون پیٹرک لوگوں کو پیدل چلنے کا مشورہ دیتا ہے، اس کی عمر ساٹھ سال سے
زیادہ ہے، لیکن وہ ابھی تک چاق چوبند ہے۔ گزشتہ سال اس نے پیدل چلنے کے ایک مقابلے میں حصہ لیا اور اوّل آیا۔ اس نے ساٹھ میل کا فاصلہ 12 گھنٹے 36 منٹ اور 20 سیکنڈ میں طے کیا اور اوّل آنے کا اعزاز حاصل کیا۔ حالانکہ اس مقابلے میں اس سے بھی کم عمر کے لوگ شریک تھے۔ کہا جاتا ہے کہ انسان کے قدم اٹھا کر چلنے سے اس کی قوت کا اندازہ ہوتا ہے۔ دنیا میں صحت برقرار رکھنے کا بہترین نسخہ باقاعدگی سے پیدل چلنا ہے۔ پھر لطف یہ کہ اس میں خرچ بھی کچھ نہیں، صحت بھی اچھی رہتی ہے اور اچھی خاصی تفریح بھی ہو جاتی ہے۔

جب انسان کے دو پیر سلامت ہوں اور اس کے دل میں یہ خواہش ہو اور ارادہ بھی کہ اپنی جسمانی اور دماغی صحت کو برقرار رکھا جائے، اس وقت تک اس مقصد کے حصول کے لیے پیدل چلنے سے بہتر کوئی طریقہ نہیں۔ کالون پیٹرک (جس نے ایک مقابلے میں یہ کام یابی حاصل کی) کا بیان ہے کہ اگر میں یہ کہوں:’’میری اس امتیازی کامیابی اور جسمانی صحت کا باعث بڑی حد تک میری پابندی سے پیدل چلنے کی عادت ہے تو اس میں کوئی مبالغہ نہیں۔ مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ لوگوں کو پیدل چلنے سے کیا فائدہ ہوتا ہے۔ مجھے اس میں بھی ذرا ساشبہ نہیں کہ اگر آپ یہ عادت ڈال لیں تو آپ کو کس قدر فائدہ پہنچ سکتا ہے۔‘‘

میرے خیال میں صحیح طریقے سے پیدل چلنا بھی ایک فن ہے، لیکن افسوس یہ ہے کہ پیدل چلنے والے بھی اس پرانے فن کو فراموش کر چکے ہیں جو حقیقت میں بہترین ورزش ہی ہے۔ اس کا بڑا سبب موٹروں اور موٹر سائیکلوں کا کثرت سے استعمال ہے، جنھوں نے انسانی پیروں کی جگہ لے لی ہے۔ اس سے میرا یہ مطلب نہیں کہ آمدورفت کے ان ذرائع کو ختم کر دیا جائے، لیکن میرا یہ مطلب ضرور ہے کہ انہیں انسان کے روزانہ پیدل چلنے کی ورزش کے راستے میں حائل نہ ہونا چاہیے۔

صحیح طریقے سے پیدل چلنے کا مطلب یہ ہے کہ اعضا کی ہم آہنگی کے ساتھ حرکت سے نہ صرف صحت ملتی اور فائدہ پہنچتا ہے، بلکہ حقیقت میں سارے جسم کو قوت بھی حاصل ہوتی ہے، چوں کہ پیدل چلنے کی ورزش میں انسان گہرے سانس لیتا ہے، اس لیے اس کے جسمانی نظام میں آکسیجن کی مقدار بھی زیادہ داخل ہوتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ قلب زیادہ قوت سے کام کرتا ہے، دوران خون بڑھتا ہے اورجسم انسانی کے تمام اندرونی اعضا زیادہ فعال ہو جاتے ہیں۔ اعضا کی فعالیت کے باعث شگفتگی اور اپنی بہتر حالت کا احساس ہوتا ہے اور اس کو وہی لوگ بہتر طریقے سے سمجھتے اور محسوس کر سکتے ہیں جنہیں باقاعدہ پیدل چلنے کی عادت ہوتی ہے۔ اس احساس کو سمجھنے کے لیے پیدل چلنا ضروری ہے۔ چال قدرے تیز ہونی چاہیے۔ فاصلہ بھی کافی ہونا چاہیے اور ہفتے میں کم از کم پانچ روز چلنا فائدے مند ثابت ہوتا ہے۔

عام طور سے لوگ قدرتی اور متوازن چال کے بجائے اکڑ کر اور بناوٹی انداز سے چلنے لگتے ہیں، اس طرح وہ اس فائدے سے جو صحیح طریقے سے چلنے پر حاصل ہونا چاہیے، محروم رہتے ہیں، کیوں کہ صحیح طرح سے چلنے کے معنی یہ ہیں کہ جسم سیدھا رہے، سختی نہ ہو اور چال میں موسیقی کی سی ہم آہنگی ہو۔ عام آدمی اور مقابلوں میں حصہ لینے والے تجربہ کار پیادہ رو لوگ بھی، جنہیں بہتر علم ہونا چاہیے، پیدل چلنے میں گھٹنوں سے زیادہ اور ٹخنوں سے کم کام لیتے ہیں۔ اگر کسی شخص کو معلوم ہو کہ ابتدائی دونوں میں پیدل چلتے رہنے کے بعد بھی جلد تھکن ہو جاتی ہے، اس کی پیٹھ میں درد ہوتا ہے اور اعصاب دکھنے لگتے ہیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ وہ اپنے اعصاب سے صحیح کام نہیں لے رہا ہے اور اس کا توازن درست نہیں۔

پیدل چلتے وقت انسان کا سر، کندھے اور سینہ جھکا ہوا نہیں رہنا چاہیے، کیوں کہ اس طرح خمیدہ کمری یا کبڑے ہونے سے بچاؤ ہوتا ہے۔ اسی طرح کولہوں کو ادھر ادھر جھکانے کے رجحان سے بھی بچنا چاہیے۔ پیدل چلتے وقت جسم کی ہر حرکت کو راست اور سامنے کی جانب ہونا چاہیے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ جسم کا وزن ایک پیر سے دوسرے پیر پر ٹھیک طریقے سے منتقل کیا جائے۔ مطلب یہ کہ جو پیر آپ کو آگے کی طرف بڑھا رہا ہے، اس وقت تک زمین سے نہ اٹھے، جب تک جسم کا وزن پوری طرح سے آگے بڑھتے ہوئے پیر پر منتقل نہ ہو جائے۔ بہتر یہ ہے کہ نہ کولھے جھکائے جائیں اور نہ قدم بڑھاتے وقت کندھوں کو جھٹکا دیا جائے۔

سینہ ابھرا ہوا ہونے کے بجائے خوب پھیلا ہوا ہونا چاہیے اور چلتے وقت اس بات کا بھی خیال رکھا جائے کہ آپ کس قسم کے جوتے پہنے ہوئے ہیں، کیوں کہ جوتوں کا آرام دہ ہونا بے حد ضروری ہے۔ چلتے وقت اپنے پیروں کی طرف توجہ رکھیں اور یہ دیکھیں کہ قدم صحیح رخ پر پڑ رہے ہیں یا نہیں۔ قدم بڑھا کر سیدھے چلنے میں سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ جسم کا بوجھ پیر کے اگلے اور چوڑے حصے پر پڑتا اور متوازن رہتا ہے۔ ایڑیوں پر بوجھ ڈالنے سے اجتناب کرنا چاہیے کیوں کہ اس سے توازن پوری طرح برقرار رکھنے میں دقت ہوتی ہے۔ پیدل چلنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کے ٹانگوں کو کولھوں سے آگے بڑھائیں۔ گھٹنے ان کے ساتھ ہم آہنگی سے حرکت کریں۔ ایڑیاں پہلے زمین کو چھوئیں، لیکن اتنی تیزی سے کہ ایڑیوں سے قطعاً آواز نہ نکلے۔

باقاعدہ پیادہ روی، گھر میں ورزش، پابندی سے غسل اور مناسب اور موزوں غذا جسم انسانی کی تقریباً جملہ خرابیوں کو دور کر کے صحت قائم رکھتی ہے اور ان کے ذریعے سے جوانی، شگفتگی، تازگی اور صحت کو برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ صبح تڑکے روزانہ پیدل چلنا، جب ہوا صاف اور پاکیزہ ہوتی ہے، بہترین، ارزاں ترین اور آسان ترین نسخہ ہے، ہر اس انسان کے لیے جو اپنی صحت اور جسمانی قوت کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ کالون پیٹرک کا یہ کہنا ہے کہ ’’میں اسی اصول پر مدتوں سے عمل کر رہا ہوں۔ بعض اوقات میں پیدل چلتا ہوا دور تک حسین مناظر دیکھنے چلا جاتا ہوں اور وہاں کسی جھیل میں آبی پرندوں کے تیرنے اور غوطے لگانے کا لطف اٹھاتا ہوں۔‘‘ تجربے سے معلوم ہوا کہ پیدل چلنے سے نہ صرف عمر میں اضافہ ہوتا ہے، بلکہ مسلسل مشق سے انسان کی صلاحیتوں اور قوتوں میں اضافہ ہوتا ہے اور اس طرح ’’بڑھاپا‘‘ دور رہتا ہے۔

ہمارے ملک میں بہت کم لوگ صبح کو ہوا خوری کے لیے نکلتے ہیں اور جو نکلتے بھی ہیں وہ پابندی نہیں کرتے۔ بڑے شہروں کی زندگی میں جہاں بہت سی سہولتیں اور آسائشیں ہیں، وہیں بعض بہت سی خرابیاں بھی ہیں۔ مثال کے طور پر دن میں مختلف قسم کی گاڑیوں کے چلنے اور کارخانوں، فیکٹریوں اور ملوں وغیرہ سے دھواں نکلنے کے باعث ہوا بہت کثیف رہتی ہے، اس لیے بڑے بڑے پارک بنائے جاتے ہیں۔ اگر صبح کے وقت پیدل چلنے کی عادت ڈالی جائے تو صاف اور تازہ ہوا مل سکتی ہے، جو کسی اچھے سے اچھے ٹانک سے بھی بہتر ہوتی ہے۔

مسعود احمد برکاتی

(بشکریہ ہمدرد صحت، کراچی)

جنید جمشید کی زندگی پر اک نظر

3 ستمبر، 1964ء کو پیدا ہونے والے جنید جمشید 7 دسمبر، 2016ء کو یہ جہان چھوڑ کر چلے گئے۔ پورا ملک ان کے نام سے واقف ہے۔ 1980ء اور 90ء کی دہائی میں جوان ہونے والی نسل جانتی ہے کہ بطور پاپ گلوکار انہیں کتنی شہرت حاصل ہوئی۔ بعد ازاں انہوں نے نعت خوانی میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ آپ کراچی میں پاکستان ائیرفورس کے گروپ کیپٹن جمشید اکبر کے ہاں پیدا ہوئے۔ آپ کو پاک فضائیہ میں بطور فائٹر پائلٹ شامل ہونے کا بہت شوق تھا۔ لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ پھر انہوں نے یونیورسٹی آف انجینئرنگ لاہور میں داخلہ لیا اور انجینئرنگ کی سند حاصل کی۔

ان کے موسیقی کے گروپ وائٹل سائنز کا آغاز 1980ء کی دہائی میں ہوا۔ یہ گروپ مختلف مقامات اور تقریبات میں گانا گانے لگا۔ اسی دوران سرکاری ٹی وی اور پھر معروف فنی شخصیت شعیب منصور کی توجہ اس گروپ نے حاصل کی۔ شعیب منصورنے اس گروپ کے پہلے البم کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا جو بہت مقبول ہوا۔ 1987ء میں پہلے البم دل دل پاکستان کی ریلز کے ساتھ ہی جنید جمشید شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئے۔ وہ پاپ موسیقی گروپ وائٹل سائنز کے نمائندہ گلوکار تھے۔ ان کے گائے ہوئے بہت سے گانے مقبول ہوئے۔ وائٹل سائنزکے پہلے البم کی ریلیز کے ساتھ ہی پورے ملک میں اس گروپ اور جنید جمشید کی آواز کو پہچانا جانے لگا ۔ اسی البم میں ’’دل دل پاکستان‘‘ شامل تھا۔

موسیقی کے اس گروپ کی مقبولیت اور مالی کامیابی کے سبب پاکستان میں راک موسیقی پروان چڑھنے لگی۔ اس کے بعد جنید جمشید کی آواز کا جادو 1994ء ، 1999ء اور 2002ء میں ریلیز ہونے والے البمز میں جگا۔ یہ سب کامیاب ہوئے۔ اس دوران وائٹل سائنز ٹوٹ پھوٹ کا شکار بھی ہوا لیکن جنید کی مقبولیت کا ستارہ جگمگاتا رہا۔ ان کے گانے سرکاری ٹی وی پر عموماً نشر ہوتے رہتے تھے اور ان کے گانوں کی کیسٹس بھی خوب فروخت ہوا کرتی تھیں۔ 1994ء میں ریلیز ہونے والا البم ’’جنید آف وائٹل سائن ‘‘ ان کا ’’سولو‘‘ البم تھا۔ جبکہ 1999ء میں ریلیز ہونے والا البم ’’ان راہ پر‘‘ دوسرا ’’سولو‘‘ البم تھا۔ جنید جمشید اپنے البم کے گانوں کو خود بھی لکھا کرتے تھے۔

تاہم بعد ازاں ان میں اسلامی تعلیمات کی طرف رجحان بڑھ گیا۔ اس کے نتیجے میں انہوں نے موسیقی کی صنعت کو خیر آباد کہہ دیا۔ پھر وہ نعت خوان اور تاجر کے طور پر جانے جاتے رہے۔ 2004ء میں جنید جمشید نے موسیقی چھوڑنے کا باقاعدہ اعلان کیا اور بتایا کہ وہ اپنی زندگی اسلام کے لیے وقف کر رہے ہیں۔ بعدازاں انہوں نے دینی علم کے حصول اور تبلیغ کی جانب خاصی توجہ دی۔ 7 دسمبر 2016ء کو پی آئی اے کی ایک فلائٹ حادثے کا شکار ہوئی جس میں جنید جمشید بھی شامل تھے۔ بعد ازاں ان کی موت کی تصدیق کر دی گئی۔ وہ اپنی دوسرے شریک حیات کے ساتھ چترال گئے ہوئے تھے۔ وہ اسلام آباد واپس آ رہے تھے کہ فلائٹ خیبر پختون خواہ کے مقام حویلیاں میں حادثے کا شکار ہو گئی۔

رضوان عطا

کھیر تھر پارک : وادی کوہ تراش

کھیر تھر پارک میں کرچات سینٹر سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع کوہ تراش کی وادی آج بھی انسانی تہذیب کو اپنے دامن میں لپیٹے ہوئے ہے کوہ تراش فارسی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں تراشنے والوں کا پہاڑ۔ پہاڑ اور اس کے نواح میں 3500 قبل از مسیح کے انسانی تہذیب کے آثار ملے ہیں یہ آثار ایک مکمل آبادی اور تہذیب کے بھر پور شواہدات فراہم کرتے ہیں۔ کھیر تھر پارک کا علاقہ جغرافیائی لحاظ سے خشک خطوں میں شمار کیا جاتا ہے اور بنیادی طور پر یہ علاقہ بارانی رہا ہے تاہم یہاں پر سالانہ بارش کا اوسط 6 سے 8 انچ رہا ہے۔ 1994ء سے یہ علاقہ مکمل طور پر خشک سالی کا شکار ہے۔ پہاڑوں پر سے گھاس پھونس، ترائی میں درختوں سے سبزہ اور موسمی ندی نالوں میں پانی خشک ہو گیا ہے اور صورتحال بدتر ہو چلی ہے۔

کھیر تھر نیشنل پارک کو عالمی حیثیت کے حامل ہونے کے علاوہ ملکی قوانین کے تحت بھی تحفظ حاصل ہے سندھ وائلڈ لائف آرڈیننس کے تحت کھیر تھر نیشنل پارک کی حدود میں کسی بھی قسم کی کھدائی، کان کنی یا کسی بھی مقاصد کے استعمال کے لیے زمین کی صفائی یا ہمواری جیسے اقدامات پر پابندی عائد ہے صوبائی حکومت کے ایک اور حکم مجریہ 1970ء کے مطابق پارک میں تیل و گیس کے لیے کان کنی خصوصی طور پر ممنوع ہے۔ مظاہر فطرت کے تحفظ کے لیے قائم نیشنل پارک لوگوں کی معلوماتی تفریح کا اہم ذریعہ ہوتے ہیں لیکن کھیر تھر نیشنل پارک فروغ سیاحت کے ذمے دار اداروں کی فہرست میں شامل ہونے کے باوجود ماحولیاتی سیاحت سے دلچسپی رکھنے والوں کی نظروں سے اوجھل ہے اس کی بنیادی وجوہات مناسب قیام و طعام کی سہولتوں کا فقدان اور کچے راستوں پر سفر کے لیے مناسب نشانوں کی عدم موجودگی بھی شامل ہیں۔

اگر سندھ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ اور حکومت سندھ فروغ سیاحت سے متعلق اداروں کے تعاون سے کرچات تک پہنچنے کے لیے پختہ سڑک، سیاحوں کے لیے مناسب کرائے پر قیام و طعام اور گارڈن کی فراہمی اور بجلی کے لیے شمسی توانائی کا پلانٹ استعمال کرے اور فروغ سیاحت کے لیے ذرائع ابلاغ کی مدد سے مہم چلائیں تو کھیر تھر نیشنل پارک سیاحت کے فروغ کی بہترین مثال بن سکتا ہے۔ پہاڑی سلسلوں سے بھرے ہوئے اس نیشنل پارک میں میدانی علاقے بھی ہیں اور بنجر علاقے بھی ہیں تاہم گھنے جنگلات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

بِٹ کوائن کیا ہے؟ اور اس کی قیمت آسمان کو کیوں چھو رہی ہے؟

ڈیجیٹل کرنسی بٹ کوائن کی قیمت کا شدید اتار چڑھاؤ جاری رہا اور چند لمحوں کے لیے اس کی قیمت 17 ہزار امریکی ڈالر کراس کر گئی تھی تاہم پھر اس میں 2500 امریکی ڈالر کی کمی ہوئی۔ کوائن ڈیسک ڈاٹ کام کے مطابق اس کی قیمت 14 فیصد کمی کے بعد 14500 ڈالر تک گر چکی ہے۔ یاد رہے کہ اس ہفتے کے دوران بٹ کوائن کی قیمت 70 فیصد تک بڑھی ہے اور اس کی قیمت میں ڈرامائی اضافے کو بغیر بریک کے ٹرین سے تشبیہ دی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس صنعت سے منسلک ایک گروپ کا کہنا ہے کہ بٹ کوائن کے فیوچرز میں تجارت کے منصوبے شاید قبل از وقت ہیں۔

ادھر ناقدین کا کہنا ہے کہ بٹ کوائن ایک مالیاتی ببل ہے جیسا کہ ڈاٹ کام بوم تھا تاہم کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس کی قیمت میں اضافہ اس وجہ سے ہے کہ اب یہ مالیاتی آلات کے مرکزی دھارے میں آ رہا ہے۔ بٹ کوآئن کی قیمت میں اضافے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس اختتامِ ہفتہ پر اس کی فیوچرز مارکیٹ کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ بٹ کوائن فیوچرز شکاگو کی فیوچرز ایکسچینج میں متعارف کروائے جا رہے ہیں۔ ادھر دنیا کی سب سے بڑی فیوچرز ایکسچینج سی ایم ای بٹ کوائن فیوچرز آئندہ ہفتے شروع کرے گی۔

تاہم وال سٹریٹ کے اہم ترین بینکاروں اور تاجروں کی تنظیم فیوچرز انڈسٹری ایسوسی ایشن نے امریکی حکام سے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بٹ کوائن کے معاہدوں کو بغیر مکمل جانچ پڑتال کے منظور کر دیا گیا ہے۔ اگرچہ گولڈ مین سیکس اس تنظیم کا رکن بینک ہے یہ وہی بینک ہے جو کہ کچھ صارفین کے لیے بٹ کوائٹ فیوچرز کی تجارت میں سہولت کار کا کام کرے گا۔ بینک کی ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے بینک نے اپنی جانچ پڑتال کے دوران اس کرنسی کے حوالے سے خطرات کا جائزہ لیا ہے۔ واضح رہے کہ کرپٹو کرنسی کی صنعت میں قوانین کی عدم موجودگی کی وجہ سے اب تک بڑے سرمایہ کاروں نے اس میں پیسے نہیں ڈالے ہیں۔ تاہم بٹ کوائن فیوچرز مارکیٹ کے سامنے آنے سے امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اسے کافی حد تک زیرِ قانون یا ریگیولیٹڈ مانا جائے گا۔

جاوید ہاشمی نے نہیں پوچھا کہ ’مجھے کیوں بلایا؟

مخدوم جاوید ہاشمی قومی سیاست کے ایک باعزت مِس فٹ بزرگ ہیں۔ ایسے بزرگ جن کے سبق آموز جرات مندانہ تجربات کی دھاک محلے میں ہر کسی پر ہوتی ہے۔ ان کی بات کو کوئی نہ نہیں کرتا اور دل ہی دل میں ہاں بھی نہیں کہتا۔ بابا جی کی نصیحت محلے کے بڑے چھوٹے سر جھکا کے کھڑے کھڑے سنتے ہیں اور پھر پیڈل مارتے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ مخدوم صاحب میں 66 برس کی عمر میں بھی اتنی ہی توانائی ہے جتنی 45 برس پہلے کی پنجاب یونیورسٹی کے 21 سالہ طلبا یونین کے صدر میں تھی۔ سدابہار توانائی نے اگر کہیں ڈیرہ ڈالا ہے تو وہ جاوید ہاشمی کا ڈیرہ ہے۔ برین ہیمبرج کا حملہ بھی ان کی شعلہ صفتی نہ بجھا سکا۔

سنہ 1972 میں گورنر پنجاب مصطفیٰ کھر کو دو لڑکیوں کے اغوا کے شبہے میں رگیدنے سے لے کر اسلامی سربراہ کانفرنس کے موقعے پر بنگلہ دیش نامنظور چیختے ہوئے لاہور میں شاہ فیصل کے قافلے کے سامنے سڑک پر آجانے تک، بھٹو دشمنی کے جوش میں ضیا الحق کی پہلی کابینہ میں چند ماہ کے لیے یوتھ منسٹر ہونے اور پھر سنہ 1985 کے غیر جماعتی انتخابات میں پہلی بار ایم این اے بننے اور پھر سنہ 1988 میں مسلم لیگ ن میں شمولیت اور پھر 23 برس بعد پاکستان تحریکِ انصاف میں ڈھائی برس گزار کے دوبارہ مسلم لیگ ن میں واپسی پر اصولی رضامندی تک۔۔۔

اک طرفہ تماشا ہے حسرت کی طبیعت بھی
ہے مشقِ سخن جاری چکی کی مشقت بھی

عام طور سے اگر کوئی بندہ اسلامی جمیعتِ طلبا سے چھلانگ مار کے تحریکِ استقلال اور پھر وہاں سے ضیا کے غیر جماعتی نظام اور پھر مسلم لیگ ن اور پھر تحریکِ انصاف اور پھر واپس نون لیگ کی طرف آجائے تو ایسے شخص کو پاکستانی سیاست میں ’لوٹا‘ کہا جاتا ہے۔ مگر جاوید ہاشمی شاید واحد سیاستدان ہیں جنھیں دیکھ کر جہاندیدہ لوٹے بھی اپنا لوٹا پھینک کے نکل لیتے ہیں۔ اتنے راستے بدلنے کے باوجود بھی جاوید ہاشمی شاید اس لیے لوٹے کا خطاب نہ پا سکے کیونکہ انھوں نے اب تک جو بھی کامیاب یا ناکام سیاسی ہجرتیں یا فیصلے کیے وہ کسی ترغیب یا لالچ میں آ کر نہیں بلکہ طبیعت کے ہاتھوں کیے۔ لہذا انھیں لوٹا کہنا کسی کو شوبھا نہیں دے سکتا۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ

وہ کہیں بھی گیا لوٹا تو میرے پاس آیا
بس یہی بات ہے اچھی میرے ہرجائی کی

نواز شریف کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ مصیبت کے وقت وہ اور لوگوں پر تکیہ کرتے ہیں اور راحت ملتی ہے تو تکیے بھی بدل جاتے ہیں۔ جیسے دورِ جلاوطنی میں انھیں جاوید ہاشمی پارٹی صدارت کے لیے موزوں دکھائی دیے اور پرویز مشرف نے فوج کو بغاوت پر اکسانے کے الزام میں جاوید ہاشمی کو ساڑھے تین برس کے لیے جیل میں ڈال دیا۔ لیکن جب شریفوں کے اچھے دن آئے تو اینٹی اسٹیبلشمنٹ جاوید ہاشمی کی جگہ اسٹیبشلمنٹ نواز چوہدری نثار علی خان کو قائدِ حزبِ اختلاف چن لیا گیا۔ زرداری کے مقابلے میں صدارتی امیدوار جاوید ہاشمی کو بنانے کے بجائے جسٹس ریٹائرڈ سعید الزماں صدیقی کو بنا دیا گیا۔

اب نواز شریف ایک بار پھر مصیبت میں ہیں اور جاوید ہاشمی کی کمزوری ہے کہ کسی گاؤں کی دور دراز دخانی چکی سے آتی کوک کوک کوک کی آواز بھی اگر انھیں اینٹی اسٹیبلشمنٹ محسوس ہو تو دوڑے چلے جاتے ہیں۔ یہ جاوید ہاشمی کی بڑائی ہے کہ مجھے کیوں نکالا فیم نواز شریف سے سات برس بعد ہونے والی ملاقات میں انھوں نے نہیں پوچھا ’مجھے کیوں بلایا؟‘ مجھے انتظار ہے اس وقت کا جب نواز شریف کے برے دن ختم ہوں اور کوئی چوہدری نثار علی پھر معاملات خوش اسلوبی سے سنبھال لے اور جاوید ہاشمی ایک بار پھر ’ہاں میں باغی ہوں‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے سوٹا گھماتے ہوئے کسی پگڈنڈی پر چلتا جا رہا ہو۔

یہاں کون ہے تیرا مسافر جائے گا کہاں
دم لے لے گھڑی بھر یہ چھئیاں پائے گا کہاں

وسعت اللہ خان
تجزیہ کار

پاکستان میں اے ٹی ایم فراڈ سے کیسے بچا جائے ؟

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے حال ہی میں نجی حبیب بینک لمیٹڈ کی اے ٹی ایم مشینوں سے صارفین کی معلومات چوری ہونے کے واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ حبیب بینک کی انتظامیہ کے ساتھ مل کر صارفین کی رقوم لوٹانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے حکام کے مطابق گذشتہ ماہ نجی بینک حبیب بینک لمیٹڈ کے بینک اکاؤنٹس کو اے ٹی ایم (آٹومیٹڈ ٹیلر مشین) کارڈز کے ذریعے ہیک کر لیا گیا اور اب تک ان واقعات میں بینک کے 296 صارف متاثر ہوئے ہیں۔ ان صارفین کے اکاؤنٹس سے کل ایک کروڑ دو لاکھ روپے چوری کیے گئے ہیں۔ تاہم ابھی تک وفاقی تحقیقاتی ایجنسی یعنی ایف آئی اے کو اس بارے میں بینک کی جانب سے کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے ایف آئی اے میں سائبر کرائمز کے ڈائریکٹر کیپٹن ریٹائرڈ محمد شعیب نے کہا ہے کہ اس بارے میں ابھی صرف سوشل میڈیا یا مقامی خبر رساں اداروں سے ہی معلومات حاصل ہو رہی ہیں۔ ‘بینک ہمیں باضابطہ شکایت درج کرائے گا اس کے بعد ہی تحقیقات کا آغاز ہو سکے گا‘۔ دوسری جانب بینک دولت پاکستان کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق متاثرہ بینک نے ان تمام اے ٹی ایم کارڈز کو بند کر دیا ہے جنھیں ہیک کرنے کے بعد استعمال کیا گیا، جبکہ متاثرہ صارفین کو یہ رقم واپس کرنے کے عمل کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔

اے ٹی ایم سکِیمنگ یا فراڈ میں ہوتا کیا ہے؟
واضح رہے کہ اے ٹی ایم سکِیمنگ یا فراڈ ایک ایسا عمل ہے جس میں اے ٹی ایم کارڈ کی مقناطیسی پٹی پر موجود تمام اہم ڈیٹا چوری کر لیا جاتا ہے۔ اس کے لیے مشین میں کارڈ پاکٹ میں سکینر نصب کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ اے ٹی ایم مشین کے ‘کی پیڈ’ پر ایک اور کی پیڈ نصب کیا جاتا ہے جو وہ خفیہ پِن کوڈ محفوظ کر لیتا ہے جو کارڈ استعمال کرنے کے لیے صارف مشین میں داخل کرتا ہے۔ اس کے علاوہ خفیہ کیمرہ بھی نصب کیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ معلومات کسی بھی دوسرے کارڈ پر باآسانی منتقل کی جا سکتی ہیں جو دنیا کے کسی بھی حصے میں بینک اکاؤنٹ سے پیسے چوری کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

احتیاطی تدابیر
آئی ٹی اور سیکیورٹی سے متعلق اشاعت و تشہیر سے وابستہ آئی ٹی ماہر عبداللہ سعد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں اب ڈیبِٹ اور کریڈٹ کارڈ کے استعمال میں خاصا اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے گذشتہ چند سالوں میں دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان ایسے ہیکرز کی توجہ حاصل کر رہا ہے۔ عبداللہ سعد کے مطابق کسی بھی صارف کے لیے یہ خاصا مشکل ہے کہ وہ یہ جانچ سکیں کہ ان کے زیر استعمال اے ٹی ایم مشین پر ڈیٹا چوری کرنے کے لیے کوئی آلہ نصب کیا گیا ہے تاہم وہ صارفین کو چند احتیاطی تدابیر ضرور دیتے ہیں:

1. ایسی اے ٹی ایم مشینیں جہاں عام طور پر رش رہتا ہے، وہاں سکیمنگ کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ اس لیے انہیں استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

2. اگر آپ کسی اے ٹی ایم مشین کو باقاعدگی سے استعمال کرتے ہیں تو مشین پر موجود کسی بھی تبدیلی کو نظرانداز نہ کریں، ایسی مشین پر کارڈ ہرگز استعمال نہ کریں، اور متعلقہ بینک کو اطلاع دیں۔

3. بینک کے ساتھ یا بینک کے اندر موجود اے ٹی ایم مشینیں نسبتاً محفوظ ہوتی ہیں۔

4. صارف دو اکاؤنٹس رکھیں، جن میں سے ایک اکاؤنٹ کا اے ٹی ایم یا ڈیبٹ کارڈ جاری کروائیں اور اس اکاؤنٹ میں صرف ضرورت کے مطابق رقم رکھیں۔ تاکہ ہیکنگ ہونے کی صورت میں بھی بڑے نقصان سے بچا جا سکے۔

عبداللہ سعد یہ بھی کہتے ہیں کہ صارف کے پاس کارڈ سے رقم نکلوانے کی حد مقرر کرنے کا اختیار ہونا چاہیے۔

پاکستان میں اس وقت بینکوں نے چوبیس گھنٹوں میں اے ٹی ایم مشین سے پچاس ہزار روپے نکلوانے کی حد مقرر کی ہے، جو کہ عبداللہ سعد کے مطابق زیادہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ صارف کے پاس اپنا اے ٹی ایم کارڈز ’آف ‘کرنے کا اختیار بھی ہونا چاہیے جیسا کہ دنیا کے کئی ممالک میں یہ نظام رائج ہے۔ اس نظام میں بھی صارف صرف اس وقت کارڈ ’آن‘ کرتا ہے جب وہ اے ٹی ایم مشین استعمال کر رہا ہوتا ہے۔

فرحت جاوید
بی بی سی اردو، اسلام آباد