بے لگام میڈیا کا علاج

معذرت کے ساتھ چیف جسٹس صاحب سے عرض ہے کہ چاہے کتنے ہی سو موٹو نوٹس لے لیں میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائی جانے والی فتنہ انگیزی کا علاج اس طرح ممکن نہیں۔ میڈیا اور سوشل میڈیا کی مادر پدر آزادی کی جو حالت ہے اسے اگر روکنا ہے تو متعلقہ اداروں کو مضبوط بنانا ہو گا اور سخت قوانین اور ان کے اطلاق سے ہی میڈیا کو اب تمیز کے دائرے میں لایا جا سکتا ہے۔ ٹی وی چینلز کی بگاڑ کا تو تعلق ہی عدالتوں سے ہے جو پیمرا کے ہر نوٹس پر خلاف ورزی کرنے والے چینلز کو اسٹے آرڈر دے دیتے ہیں اور یوں ہر گزرتے دن کے ساتھ میڈیا کی فتنہ انگیزی رکنے کے بجائے مزید زور پکڑتی جا رہی ہے۔ 

چند روز قبل ایک ٹی وی اینکر کی طرف سے قصور سانحہ میں ملوث سفاک ملزم عمران علی کے متعلق جو ’’انکشافات‘‘ کیے گئے اور جن کے بارے میں اکثر ٹی وی چینلز اور اینکرز کا خیال ہے کہ یہ fake news ہے، اس پر جو رد عمل آیا اُس سے ایسا محسوس ہوا جیسے یہ کوئی نئی بات ہو۔ حقیقت میں تو ٹی وی چینلز کی یہ روز کی کہانی ہے۔ جھوٹ تو یہاں روز بولا جاتا ہے۔ یہاں تو ایسی ایسی ’’خبریں‘‘ نشر کی جاتی ہیں جن کا سر پائوں نہیں ہوتا، جس کی زبان میں جو آتا ہے وہ بول پڑتا ہے، کسی پر کروڑوں اربوں کی کرپشن کا الزام لگا دو کوئی مسئلہ ہی نہیں، جس کو جی چاہے ملک دشمن بنا دو، بھارتی ایجنٹ قرار دے دو کسی ثبوت کی ضرورت نہیں۔ 

انتشار پھیلانا ہے تو ٹی وی چینلز حاضر، کسی کی پگڑی اچھالنی ہے تو اینکرز اور ٹی وی اسکرین موجود، کسی کو نفرت انگیز تقریر کرنی ہے یا فتنہ انگیز مواد پھیلانا ہے تو اُس کے لیے بھی میڈٖیا کے دروازے کھلے ہیں۔ کہیں سے کوئی کاغذ مل جائے، بے شک جعلی ہو بغیر تصدیق کیے اُسے دستاویزات کا درجہ دے کر ٹی اسکرین پر چلا کر جس کا دل چاہے مٹی پلید کر دیں۔ کوئی خیال نہیں کیا جاتا کہ ایسی صحافت سے ملک و قوم کا کتنا نقصان ہو سکتا ہے، کسی کی جان جا سکتی ہے، تشدد ہو سکتا ہے۔ حالات تو اس قدر بگڑ چکے ہیں کہ اسلامی شعائر کے خلاف تک بات کی جاتی ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔ فکر ہے تو بس ریٹنگ کی۔ جہاں خلاف ورزی بڑی ہو اور عوامی ردعمل آ جائے تو پیمرا متعلقہ چینلز کو نوٹس بھیجتا ہے لیکن تقریباً ہر نوٹس کا نتیجہ ایک ہی نکلتا ہے،عدالتی اسٹے آرڈر۔ 

کتنا ہی بڑا جرم کوئی چینل کر دے، خلاف ورزی کتنی ہی سنگین کیوں نہ ہو، پیمرا کے ہر ایکشن کا توڑ عدالتی اسٹے آرڈر اور یہی اسٹے آرڈر اب مادر پدر آزاد اور فتنہ انگیز میڈیا کا سب سے بڑا سہارا بن چکا ہے۔ جیسا کہ میں پہلے بھی اس بات کا ذکر کر چکا ہوں، اسٹے آرڈرز نے اگر ایک طرف پیمرا کی رٹ کو برباد کر دیا ہے تو وہیں یہ بیماری اس حد تک سنگین صورت حال اختیار کر چکی ہے کہ میرے ایک کالم پر چیف جسٹس کی طرف سے بے حیائی پھیلانے پر ایک چینل کے خلاف سوموٹو ایکشن لیا جس کے خلاف متعلقہ چینل نے ایک ہائی کورٹ سے اسٹے لے لیا اور یوں چیف جسٹس کے سوموٹو کے باوجود پیمرا کچھ کرنے کے قابل ہی نہیں رہا۔ اس وقت بھی پیمرا کو پانچ سو سے زیادہ عدالتی کیسوں کا سامنا ہے۔ اس حالت میں پیمرا کیسے بے لگام میڈیا کو ریگولیٹ کر سکتا ہے۔ میری چیف جسٹس سے درخواست ہے کہ اگر اس بے لگام مادر پدر آزاد میڈیا کو کنٹرول کرنا ہے تو اس کے لیے سب سے پہلے عدالتی اسٹے آرڈرز کی بیماری کا علاج کیا جائے تاکہ پیمرا کی رٹ قائم ہو سکے۔

ایک دو چینلز اور چند ایک اینکرز پر اگر پیمرا خلاف ورزی کرنے پر پابندی لگا دے تو پھر دیکھیے کہ یہ چینلز کیسے سدھرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں یہاں ہتک عزت کے قانون کو موثر بنانا ہو گا۔ جھوٹی خبروں اور غلط الزامات پر اخبارات اور چینلز کو بھاری جرمانے ہونے چاہیے۔ ہمارے ہاں تو اس قانون کی حیثیت ہی کچھ نہیں۔ نہ قانون میں کوئی جان ہے اور نہ ہی عدالتیں ان کیسوں کا سالہہ سال تو کیا دہایوں میں بھی فیصلہ نہیں کرتی۔ اس بارے میں بھی چیف جسٹس کا کردار بہت اہم ہو گا۔ کسی ایک صحافی یا اینکر کی بجائے سسٹم کو ٹھیک کرنے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اگر حکومت یا عدلیہ کا یہ خیال ہے کہ میڈیا خود اپنے آپ کو درست کرنے کے لیے کچھ کرے گا تو میری ذاتی رائے میں ایسا ممکن نہیں۔ میڈیا کو ریگولیٹ کیے جانے کی اشد ضرورت ہے ورنہ کل کوئی بہت بڑا نقصان اور تباہی بھی ہو سکتی ہے۔

انصار عباسی
 

Advertisements

بابا رحمتے کی یاد دہانی کے لیے

اللہ تعالیٰ مرحوم قاضی حسین احمد صاحب کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائیں۔ قاضی صاحب نے سپریم کورٹ کو پاکستان میں بڑھتی ہوئی فحاشی و عریانیت کو روکنے کے لیے ایک درخواست دی جس پر سو موٹو نوٹس لیا گیا لیکن پھر یہ مسئلہ کہیں گم ہی ہو گیا۔ نہ تو اب یہ معاملہ عدلیہ کی ترجیحات میں کہیں نظر آتا ہے اور نہ ہی جماعت اسلامی اور اُس کے موجودہ امیر سراج الحق صاحب کے پاس اتنا وقت ہے کہ وہ اس اہم ترین معاملے پرتوجہ دیں۔ ویسے ہو سکتا ہے سراج الحق صاحب اور جماعت اسلامی فحاشی و عریانیت کے معاشرے پر انتہائی خطرناک اثرات کی وجہ سے اندر اندر سے کڑہتے ہوں لیکن محسوس ایسا ہوتا ہے کہ دوسرے رہنمائوں اور سیاسی جماعتوں کی طرح اب جماعت اسلامی بھی میڈیا اور آزادی رائے کے علمبرداروں کو ناراض نہیں کرنا چاہتی۔ اگر میرا اندازہ غلط ہے تو پھر جماعت اسلامی اس معاملے کو سپریم کورٹ میں اٹھانے اور فحاشی و عریانیت کے خلاف عوامی مہم چلانے سے گریزاں کیوں ہے؟؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ن لیگ کے بعد اب جماعت اسلامی بھی روشن خیالی کی منزل کی طرف گامزن ہے؟؟

قصور سانحہ کے بعد اگرچہ ہمیں اصلاح معاشرہ کے لیے دوسرے بہت سے اقدامات اٹھانے ہوں گے تو وہاں پاکستان میں تیزی سے بڑھتی فحاشی و عریانیت کو بھی روکنا ہے جس کے لیے میڈیا، آزادی رائے اور free speech کے علمبرداروں سے کھل کر اختلاف کرنا ہو گا اور بغیر کسی خوف اور ڈر کے یہ بتانا ہو گا کہ ہمارے ٹی چینلز، کیبل، سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کس تیزی سے ہمارے مذہبی و معاشرتی اقدار کو تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ جنسی جرائم کی وجہ بن رہا ہے۔ آج کے دی نیوز اخبار میں سینئر صحافی صابر شاہ کی ایک تفصیلی تحقیقی رپورٹ شائع ہوئی جس میں بتایا گیا کہ کس طرح امریکی و مغربی ادارے بشمول ایف بی آئی، انٹرپول اور یو ایس اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائی جانے والی فحاشی اور جنسی جرائم کے تعلق کے بارے میں پریشان ہیں۔ 

اس رپورٹ میں بڑی تفصیل کے ساتھ بتایا گیا کہ امریکا میں یہ مرض اس حد تک سنگین صورت اختیار کر چکا ہے کہ ہر سیکنڈ میں اٹھائیس ہزار دو سو اٹھاون امریکی فحش سائٹس دیکھتے ہیں۔ فحاشی و عریانیت پھیلانے کا کام ایک منظم انداز میں دنیا بھر میں چلایا جا رہا ہے اور صرف بچوں کی فحش فلمیں بنا کر انٹرنیٹ پر پھیلانے والوں کی تعداد ستر ہزار ہے جو دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔ صابر شاہ کی اس رپورٹ میں جو بات ہمارے لیے انتہائی شرمناک ہے وہ گوگل کی 2015 کی وہ رپورٹ ہے جس میں بتایا گیا کہ اسلام کے نام پر بننے والے پاکستانی لوگوں نے اُس سال دنیا میں سب سے زیادہ فحش مواد کو انٹرنیٹ پر تلاش کیا اور دیکھا۔ یہ نتیجہ ہے اُس فحاشی و عریانیت کا جس کو روکنے کے لیے حکومت، پارلیمنٹ، عدلیہ کوئی بھی تیار نہیں۔ صابر شاہ نے اپنی رپورٹ میں ایک سوال اٹھایا کہ پاکستانی معاشرےکو سوچنا ہو گا کہ اس انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل کے دور میں ہماری اخلاقیات کا معیار کیوں اس قدر گر گیا ہے۔

چیف جسٹس صاحب سے میری درخواست ہے کہ وہ بچوں کے تحفظ کے لیے نئے قانون ضرور بنوائیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ فحاشی و عریانیت کی پٹیشن کو بھی جلد از جلد سنیں اور ایسا حکم نامہ جاری کریں جس سے اس لعنت سے اس معاشرہ کو پاک کیا جا سکے۔ ویسے چیف جسٹس صاحب کی یاد دہانی کے لیے ایک سوموٹو انٹرنیٹ پر فحش ویب سائٹس کے متعلق بھی کچھ سال پہلے لیا گیا تھا لیکن نہیں معلوم کہ اُس سوموٹو کا کیا ہوا کیوں کہ مرض ٹھیک ہونے کی بجائے مزید بڑھتا جا رہا ہے۔ میری بابا رحمتے سے درخواست ہے کہ ان کیسوں کو جلد از جلد سنیں تاکہ پاکستانی قوم کو فحاشی و عریانیت کے کینسر سے پاک کیا جا سکے۔

سانحہ قصور کا ذکر کرتے ہوئے، اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں صابر شاہ نے مرحوم جنرل ضیاء الحق کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 1981میں لاہور میں پپو نامی ایک معصوم بچے کو اغوا اور زیادتی کے بعد قتل کر کے اُس کی لاش پھینک دی گئی۔ جنرل ضیاء الحق کی ہدایت پر اس کیس کو فوجی عدالت میں چلایا گیا جہاں ایک ہفتہ کے اندر اندر مجرموں کو سزا سنا دی گئی جس پر اُن کو اسلامی اصولوں کے مطابق سرعام لاہور کے اُسی علاقہ کے چوک پر پھانسی دی گئی جہاں سے بچہ اغوا ہوا تھا۔ سفاک مجرموں کی لاشوں کو پورا دن چوک میں لٹکائے رکھا گیا تاکہ ایسے جرائم کے متعلق ایک ڈر اور خوف پیدا کیا جا سکے۔ صابر شاہ نے لکھا کہ اس سرعام پھانسی کے بعد تقریباً دس سال تک کسی بچے کے اغوا اور اُس کے ساتھ زیادتی کا کوئی واقعہ رپورٹ نہ ہوا۔ 

یہ ہے اسلامی سزائووں کا وہ مثبت اثر جس کی پاکستان جیسے بگڑے ہوئے معاشرہ کو بہت ضرورت ہے، میرا تو یہ مطالبہ ہو گا کہ قصور کا سانحہ ہو یا مردان کی معصوم عاصمہ سے زیادتی اور قتل کا اندوہناک واقعہ شریک مجرموں کو اسی انداز میں فوجی عدالت میں پیش کر کے سزائیں دی جائیں اور انہیں بھی قصور اور مردان شہر کے اہم چوک چوراہوں پر پھانسی دے کر ایک دو د ن کے لیے لٹکایا جائے۔ صابر شاہ کی رپورٹ میں ایف آئی اے کی سائبر ونگ کے حوالے سے لکھا گیا کہ اس کے 33 ملازمین کو تو تنخواہ ہی نہیں مل رہی وہ انٹرنیٹ پر فحاشی و عریانیت کو کیا روکیں گے۔ لیکن میرا اعتراض تو یہ ہے کہ جب سائبر قانون کو موجودہ حکومت کے دور میں تبدیل کیا گیا تو میرے بار بار کہنے اور لکھنے کے باوجود blasphemy اور pornography کو جرائم کی لسٹ میں رکھا ہی نہیں گیا اور اس کی مبینہ وجہ این جی اوز کا پریشر تھا۔ اس معاملہ پر تو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت صدیقی صاحب نے بھی حکومت کو ہدایت کی کہ ان دونوں جرائم کو سائبر قانون میں شامل کیا جائے لیکن ابھی تک حکومت نے اس عدالتی حکم پر کوئی عمل درآمد نہیں کیا۔.

انصار عباسی
 

اصلاح معاشرہ کون کرے گا ؟

قصور سانحہ پر نہ سیاست ہونی چاہیے اور نہ ہی اس واقعہ کو کسی مغربی

ایجنڈے کو پورا کرنے کے لیے کسی دوسرے کو استعمال کرنا چاہیے۔ لیکن افسوس کہ یہ دونوں کام خوب زور و شور کے ساتھ ہو رہے ہیں۔ حقیقت میں جن اقدامات کی ہمیں اشد ضرورت ہے اُن کے متعلق بات کوئی نہیں کر رہا۔ پہلے تو ہمیں اس بات کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ پاکستانی معاشرہ شدید تنزلی کا شکار ہے جس کو روکنے اور بہتر بنانے کی کوئی کوشش نہیں کی جا رہی۔ اصل ذمہ داری حکومت اور پارلیمنٹ کی ہے لیکن ہمارے حکمران اور سیاستدان تو کسی بھی مسئلہ پر میڈیا کے ہوا کا رخ دیکھ کر فیصلہ کرتے ہیں کہ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا اور اس طرح جس گراوٹ کا ہم بحیثیت قوم شکار ہیں اُس میں کمی کی بجائے مزید تیزی آ رہی ہے۔

قصور سانحہ پر میں نے اپنے گزشتہ کالم میں مطالبہ کیا تھا کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق سفاک مجرموں کو عدالت میں جرم ثابت ہونے پر چوکوں چوراہوں پر لٹکایا جائے تاکہ معاشرے کے لیے نشان عبرت بن سکیں لیکن مجھے امید نہیں کہ شہباز شریف یا پاکستان کا کوئی دوسرا حکمران ایسا کر سکتا ہے کیو نکہ وہ سب میڈیا سے ڈرتے ہیں اور مغرب کو ناراض نہیں کرنا چاہتے۔ مغرب کی تقلید اور میڈیا سے ڈرنے کی بجائے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ہمیں دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے معاشرتی بگاڑ کی کیا وجوہات ہیں اور انہیں کیسے ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔ لیکن افسوس جب حل کی بات ہوتی ہے تو میڈیا ہمیں مغرب کا سبق پڑھاتا ہے۔ قصور سانحہ کے بعد فلم و شوبز انڈسٹری کے افراد کے ذریعے قوم کو بتایا گیا کہ قصور جیسے واقعات کو کیسے روکا جا سکتا ہے؟

مختلف علاج تجویز کیے گئے لیکن کسی نے یہ نہیں کہا کہ اس قسم کے جرائم میں بڑھتی فحاشی و عریانی کا کتنا کردار ہے؟ کسی نے یہ نہیں بولا کہ ہماری فلموں، ڈراموں، اشتہاروں اور میڈیا کے ذریعے کس انداز میں جنسی بے راہ روی کے رجحانات پیدا ہو رہے ہیں اور ایسے رجحانات جرائم کا سبب کیسے بنتے ہیں!کسی نے اس بات کی نشاندھی نہیں کی کہ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ معاشرے کی اخلاقیات کی تباہی میں اس قدر آگے جا چکے ہیں کہ اب موبائل فون معاشرتی خرابیوں، برائیوں کے علاوہ جنسی جرائم کی ایک اہم وجہ بن چکے ہیں!!

افسوس کہ کسی نے یہ نہیں کہا کہ فحاشی و عریانیت کو روکنے کے لیے میڈیا، سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کی سخت نگرانی کی جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دی جائے!! والدین کی ذمہ داری پر تو بات ہوئی لیکن کسی نے یہ بات نہیں کی کہ ماں جو بچے کے لیے سب سے اہم درسگاہ کی حیثیت رکھتی ہے اُسے تو ہم نے حقوق نسواں اور برابری کے نام پر اپنی اصل ذمہ داری یعنی بچوں کی پرورش اور اُن کی دیکھ بھال سے دور کر رہے ہیں اور اب بچوں کو ملازموں، آیائوں، ڈرائیوروں، چوکیداروں، ڈے کیئر سینٹرز کے حوالے کرنے کا رواج زور پکڑ رہا ہے!! کیا کوئی دوسرا بچوں کی پرورش، اُن کی تربیت اور دیکھ بھال میں ماں کا نعم البدل ہو سکتا ہے؟؟

کسی نے یہ سوال نہیں اٹھایا کہ کیا ہم نکاح کو مشکل نہیں بنا رہے؟ کوئی مخلوط نظام تعلیم کی خرابیوں اور ان کے منفی اثرات کو اجاگر کیوں نہیں کرتا؟ کوئی شرم و حیا اور پردہ جیسے اسلامی احکامات کی نفی کرنے والوں کے خلاف آواز کیوں نہیں اُٹھاتا ؟ کوئی یہ بات کیوں نہیں کرتا کہ ہماری تعلیم میں تربیت کو کیوں شامل نہیں کیا جا رہا اور تربیت کے لیے اسلامی تعلیمات کو بنیاد بنانے میں کون کون رکاوٹ ہیں؟ قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق ماحول بنانے اور معاشرہ اور اس کے افراد میں اللہ تعالیٰ کا ڈر اور آخرت کا خوف پیدا کرنے کے لیے کوئی بات کیوں نہیں کی جاتی؟ کوئی حکومتوں ، حکمرانوں اور پارلیمنٹ پر اس بات پر زور کیوں نہیں دیتا کہ سزا و جزا کے اسلامی نظام کے نفاذ کے ساتھ ساتھ ہمارے معاشرے کو جنگی بنیادوں پر اصلاح اور افراد کو کردار سازی کی ضرورت ہے تاکہ حق اور باطل ، سچ اور جھوٹ ، ثواب اور گناہ، اچھائی اور برائی میں نہ صرف فرق واضح ہو بلکہ معاشرہ حق، سچ، اچھائی اور ثواب کے کاموں کا ساتھ دے اور باطل، جھوٹ، گناہ اور برائی کے کاموں سے دوسروں کو روکے؟

انصار عباسی
 

موسیقی و رقص کے کلاسیں اب اسکولوں میں

پاکستان کے مسلمانوں کو progressive اور لبرل بنایا جا رہا ہے تا کہ امریکا و یورپ کسی طرح خوش ہو جائیں۔ لیکن جو مرضی کر لیں اسلام کو نہیں بدلا جا سکتا ۔ اور ہاں جنہیں خوش کرنے کے لیے یہاں رہنے والے مسلمانوں کو جدّت پسندی اور روشن خیالی سیکھائی جا رہی ہے وہ بھی کبھی مطمئن نہیں ہوں گے تا وقت کہ دین اسلام کو ہی خیر باد کہہ دیا جائے۔ ایک خبر کے مطابق وفاقی حکومت نے قومی کلچر پالیسی کا مسودہ تیار کیا ہے جس کے تحت ملک بھر کے اسکولوں میں جماعت اول سے میٹرک تک کے نصاب میں موسیقی، رقص اور مصوری بطور مظامین شامل کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔ 

خبر کے مطابق اس پالیسی کا مقصد’’ قومی ثقافت‘‘ کو محفوظ بنانا ہے جبکہ اس پالیسی کی تیاری کے لیے پاکستان بھر سے نامور اداکاروں، فنکاروں اور ہنر مندوں سے مشاورت کی گئی۔ کوئی پوچھے ناچ گانے کا ہماری ثقافت سے کیا تعلق کہ اسکولوں میں بچوں کو اب میوزک اور رقص سیکھایا جائے گا۔ اگر یہ کلچر کسی کا تھا تو وہ اُس مخصوص طبقہ کا جن کا تعلق حسن کے بازاروں سے ہوتا تھا اور جن کو معاشرہ کبھی اچھی نظر سے نہیں دیکھتا تھا۔ ہمارے دین میں تو ایسی ثقافت کی کوئی گنجائش ہے ہی نہیں لیکن اسلام کے نام پر بننے والے پاکستان میں ایسی روشن خیالی اور لبرل ازم کو پروان چڑھایا جا رہا ہے جو امریکا و یورپ کے لیے تو قابل قبول ہو سکتا ہے لیکن اُس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ بلکہ اسلام تو اپنے پیروکاروں کو ایسے گناہ کے کاموں سے سختی سے روکتا ہے۔ 

میڈیا کے ذریعے ناچ گانے کو تو ہر ایک گھر میں پہلے ہی پہنچا دیا گیا ہے اور اب قومی کلچر پالیسی کے نام پر موسیقی اور رقص کی باقاعدہ تعلیم بھی دی جائے گی۔ اس پالیسی کے بنانے میں اداکاروں، فنکاروں وغیرہ نے اپنا کردار ادا کیا جو سمجھ میں آنے والی بات ہے لیکن جو سرکاری افسران اور سیاسی افراد اس کام میں شامل ہیں کیا اُن میں سے کسی کے اپنے گھر یا خاندان کا وہ کلچر ہے جسے ـ’’قومی کلچر پالیسی‘‘ کے نام پر وہ پوری قوم پر مسلط کرنے کی حکمت عملی بنا رہے ہیں؟ پہلے ہی یہاں حالات بہت خرابی کی طرف گامزن ہیں۔ 

ابھی چند روز قبل ہی میں نے سوشل میڈیا پر اسلامی اسکالرز ڈاکٹر ذاکر نائیک اور مفتی تقی عثمانی صاحب کا یہ پیغام کہ مسلمانوں کو Merry Christmas نہیں کہنا چاہیے، شیئر کیا لیکن اُن کی بات پر توجہ دینے کی بجائے بہت سے دیسی لبرلز میرے ہی پیچھے پڑ گئے۔ لیکن قابل افسوس بات یہ ہے کہ ہمارے سیاسی رہنمائوں کے ساتھ ساتھ اعلیٰ عسکری قیادت بھی Merry Christmas کا کیک کاٹتے ہوئے دیکھائی دی۔ بہت لوگ کہتے ہیں کہ اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ یہ بھی بحث کی جاتی ہے کہ ایسا کرنے کا مقصد تو بین المذاہب ہم آہنگی اور مذہبی رواداری کو معاشرہ میں پروان چڑھانا ہے۔

چند برسوں سے ہمارے سیاسی رہنما ہندوئوں کے ساتھ عبادت کرتے اور اُن کی مذہبی رسومات میں حصہ لیتے دیکھائی دیئے۔ کرسمس کے موقع پر کیک کاٹنا اور مسیحی برادری کی مذہبی رسومات میں شامل ہونےکا بھی اب رواج زور پکڑتا جا رہا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ اسلامی ریاست میں بسنے والی غیر مسلم اقلیتوں کو اُن کے حقوق دیئے جائیں، اُن سے اچھا برتائو کیا جائے، اُن کی عزت و آبرو اور جان و مال کا تحفظ کیا جائے، اُ نہیں تعلیم و صحت کی سہولتیں میسر کی جائیں اور اُن سے کسی قسم کی ناانصافی سے گریز کیا جائے اور ان کی عبادت گاہوں کی حفاظت کی جائے لیکن مغرب کی دیکھا دیکھی مختلف مذاہب کے رسومات جن کا تعلق faith سے ہے انہیں کلچر کا درجہ دے کر مسلمانوں کے لیے منانا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے اور یہی بات اسلامی اسکالرز کہتے ہیں۔

کچھ عرصہ قبل اسی موضوع پر محترم جسٹس مولانا تقی عثمانی نے ایک کالم جنگ اخبار کے لیے لکھا جس کے کچھ اقتباسات یہاں قارئیں کرام کے لیے پیش کیے جا رہے ہیں :’’اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کو شائستگی کے دائرے میں اپنے مذہبی تہوار منانے کا پورا حق حاصل ہے، اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس میں نہ خود کوئی رکاوٹ ڈالے، نہ دوسروں کو ڈالنے دے، لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ ان کی وہ مذہبی رسمیں جو ان کے عقیدے پر مبنی ہیں، ان میں کوئی مسلمان انہی کے ایک فرد کی طرح حصہ لینا شروع کر دے.

غیر مسلموں کے ساتھ رواداری، حسن وسلوک اور ان کی باعزت اور آرام دہ زندگی کا خیال رکھنا ضروری ہے اور مستحسن ہے، لیکن ہر چیز کی کچھ حدود ہوتی ہیں اور ان حدود سے آگے نکلنے ہی سے انتہا پسندی کی قلمرو شروع ہوتی ہے۔غیر مسلموں یا ان کی عبادت گاہوں پر حملے کرنا، یا ان کے اپنے مذہب پر عمل کرنے میں رکاوٹ ڈالنا یقیناً گناہ اور قابل مذمت ہے، لیکن کسی مسلمان کا ان کے عقیدوں پر مبنی رسوم میں شریک ہونا بھی ناجائز اور قابل مذمت ہے۔ اعتدال کا راستہ افراط و تفریط کی انتہائوں کے درمیان سے گزرتا ہےـ‘‘

انصار عباسی
 

فحاشی بے حیائی کو کون روکے گا ؟

چند روز قبل ایک سرکاری افسر کا فون آیا۔ کہنے لگے حالات اتنے خراب ہو چکے ہیں کہ فیملی کے ساتھ بیٹھ کر ڈرامے تو کیا خبریں تک نہیں دیکھی جا سکتی۔ کوئی پتا نہیں کس وقت اسکرین پر کیا چلا دیں۔ اشتہارات ہیں تو فحش، ڈرامے ہیں تو اُن میں ہمارے دینی اور معاشرتی اقدار کو تار تار کیا جا رہا ہے، بے حیائی کو پھیلایا جائے، فیشن شو جن میں لباس سے زیادہ عریانیت پر زور ہوتا ہے اُس کے بغیر تو کوئی خبر مکمل نہیں ہوتی۔ سرکاری افسر مجھے کہنے لگے کہ اس بارے میں مجھے کچھ کرنا چاہیے۔ اُن کی اس بات نے جیسے میری دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا ہو۔ میں نے انہیں کہا کہ مجھے تو اس معاملہ میں انتہائی مایوسی کا سامنا ہے۔ اتنی کوشش کی، کئی کالم لکھے، روشن خیال اینکرز اور کالم نگاروں کے طعنوں کا سامنا کیا متعلقہ اداروں ، سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں اور پارلیمنٹیرین سے بھی کئی بار بات کی۔ عمومی طور پر سب اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ہاں میڈیا معاشرے میں تیزی سے فحاشی و عریانیت پھیلانے اور ہماری مذہبی و معاشرتی اقدار کی تباہی میں بہت آگے نکل چکا ہے۔ لیکن افسوس کہ اس برائی کو روکنے کیلئے کوئی کچھ کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ 

اس برائی کے خلاف بیان جاری کر دیئے جاتے ہیں، پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں قراردادیں بھی پاس کر دی جاتی ہیں، وزیر اعظم کی طرف سے پیمرا کو ہدایات بھی دے دی جاتی ہیں لیکن کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بے شرمی اور بے ہودگی کو ہر گزرتے دن کے ساتھ آہستہ آہستہ بڑھاوا دیا جا رہا ہے بالکل اسی انداز میں جیسے کسی کے جسم میں زہر کو غیر محسوس انداز میں اس طرح شامل کیا جائے کہ موت کے قریب پہنچنے پر ہی پتا چلے کہ یہاں تو زندگی ہی کے خاتمہ کا سامنا ہے اور اب اتنی دیر ہو چکی کہ جان بچانے کی کوئی تدبیر میسر نہیں ۔ ویسے تو ہم میں بحیثیت قوم انفرادی اور اجتماعی طور پر بہت سی خرابیاں پائی جاتی ہیں جن کی درستگی کیساتھ معاشرہ کی کردار سازی پر ریاست کے ساتھ ساتھ ہر فرد کو بہت کام کرنا پڑے گا۔ 

لیکن مغربی دنیا کے برعکس شرم و حیا ہمارے معاشرے کا وہ سرمایہ تھا جس پر ہمیں ہمیشہ فخر رہا اور جس نے ہمیں دوسروں سے نمایاں رکھا۔ معاشرے کی دوسری خرابیوں کو دور کرنے اور افراد کی کردار سازی میں اپنا کردار ادا کرنے کی بجائے ہمارے میڈیا نے ہمارے اس معاشرتی فخر اور اسلامی شعائر شرم و حیا کو ہی نشانہ پر رکھ لیا ہے۔ شرم و حیا کو ختم کرنے کے لیے فحاشی و عریانیت کا زہر اس قوم کے جسم میں پھیلایا جا رہا ہے ۔ جیسا کہ میں نے اوپر کہا کہ کوئی میڈیا کو اس ظلم سے روکنے کیلئے تیار نہیں۔ سب ڈرتے ہیں جیسے مافیا اور ڈان سے ڈرا جاتا ہے۔ ان حالات میں حکومت، پارلیمنٹ کو اس قوم اور ہماری آئندہ آنے والی نسلوں کی دنیا و آخرت کی بقا کیلئے میڈیا کو آئین و قانون کے دائرہ میں رہ کر کام کرنے کا پابند بنانا ہو گا۔

انصار عباسی
x

علمائے کرام خاموش کیوں ؟

گذشتہ چند ہفتوں کے دوران جو کچھ ہوا اُس معاملہ میں پاکستان کے جید علمائے

کرام کو سب کی رہنمائی کرنی چاہیے کیونکہ جو معاملہ انتخابی قوانین میں متنازع تبدیلیوں سے شروع ہوا وہ ایک ایسے مرحلہ میں داخل ہو چکا ہے جہاں حکومت سے تعلق رکھنے والے چند افراد سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ کچھ مخصوص مذہبی شخصیات کے سامنے پیش ہو کر اپنے ایمان کی تجدید کروائیں اور اپنے آپ کو مسلمان ثابت کریں۔ سابق وزیر قانون زاہد حامد نے اپنے آپ کو مسلمان ثابت کرنے کے لیے ویڈیو پیغام دیا، دھرنا دینے والوں کے نمائندوں کے سامنے اپنے ایمان کی قسمیں کھائیں، حج و عمرہ کی تصویریں سوشل میڈیا میں ڈال دیں، ختم نبوت پر اپنے ایمان کا یقین دلایا اور اپنے استعفیٰ میں ایک بار پھر لکھا کہ وہ اور اُن کے آبائو اجداد پکے مسلمان ہیں۔

ابھی تک انتخابی قوانین میں متنازع تبدیلیوں (جن کو درست کیا جا چکا ہے) کے معاملے پرکسی پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوئی اور توقع ہے کہ آئندہ ایک دو ہفتوں کے دوران راجہ ظفر الحق صاحب اپنی حتمی رپورٹ مکمل کر کے اپنے پارٹی رہنما کو دے دیں گے جس سے یہ پتا چلے گا کہ کیا جو ہوا وہ پارلیمنٹ کی مشترکہ غلطی کا نتیجہ تھا یا اس معاملہ میں کسی سازش کا بھی کوئی عمل دخل تھا۔ لیکن یہاں نتیجہ سے پہلے ہی زاہد حامد سے استعفیٰ لے کر اُنہیں نہ صرف ’’مجرم‘‘ بنا دیا گیا بلکہ اُن کے ایمان پر بھی سوال اُٹھا دیئے گئے۔ اب رانا ثنا اللہ کے استعفے کی بات ہو رہی ہے اور اُن سے بھی یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے ایمان کی تجدید کے لیے کسی خاص مذہبی شخصیت کے سامنے پیش ہوں جو وزیر قانون پنجاب کو سن کر فیصلہ کریں گے کہ آیا رانا ثنا اللہ سے استعفیٰ لیا جائے یا اُن کے مسلمان ہونے پر یقین کر لیا جائے۔ 

راجہ ظفر الحق رپورٹ آنے کے بعد نجانے کتنے اور لوگوں کو اسی طرح اپنے ایمان کی تجدید کے لیے کسی نہ کسی مذہبی شخصیت کے سامنے پیش ہو کر اپنے آپ کو مسلمان ثابت کرنا پڑے گا۔ میڈیا میں ان معاملات پر بہت باتیں ہو رہی ہیں اور سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا یہ سلسلہ اگر چل نکلا تو کہیں رکنے کا نام لے گا۔ عدالت اور میڈیا میں یہ بھی سوال اٹھائے جا رہے ہیں کہ آیا گزشتہ دنوں اسلام کے نام پر جس انداز میں احتجاج کیے گئے، جو زبان استعمال کی گئی، جس طرح قومی و نجی املاک کو نقصان پہنچایا گیا اُس کا کسی بھی طرح اسلام سے کوئی تعلق ہے؟ پاکستان کے جید علمائےکرام سے میری گزارش ہے کہ وہ مل بیٹھ کر ان معاملات پر مسلمانوں کی رہنمائی فرمائیں اور عوام کے ذہنوں میں اٹھنے والے سوالات کا جواب دیں۔

ویسے آج کل عدالتیں، میڈیا، سیاستدان اور حکمران اسلام کی تعلیمات کا کافی حوالہ دے رہے ہیں لیکن کوئی یہ سوال نہیں اٹھا رہا کہ پاکستان کو قائم ہوئے ستر سال ہو چکے، یہ ملک اسلام کے نام پر بنا، ہمارا آئین اس ملک کو اسلامی ریاست بنانے کی ضمانت دیتا ہے لیکن کسی نے پاکستان کو اسلامی ریاست بنانے کے لیے عملی اقدامات کیوں نہ کئے؟ جب ریاست اسلام کے نفاذ سے ہاتھ کھینچ لے گی اور مذہبی معاملات کو دوسروں پر چھوڑ دیا جائے گا تو پھر یہی حال ہو گا جو آج پاکستان کا ہے جہاں مسجدیں فرقوں اور مسلکوں کے لحاظ سے پہچانی جاتی ہیں، فرقے اور مسلک اسلام سے آگے ہو گئے، جس کا دل چاہے جو فرقہ بنا لے کوئی پوچھنے والا نہیں، جو چاہے کسی دوسرے کو کافر کا فتویٰ لگا دے۔

آج ہماری یہ حالت ہے کہ اسلام کے نام پر مسلمان مسلمان کا قتل کر رہا ہے۔ ان حالات کو ٹھیک کرنا ہے تو ریاست کو اپنی ذمہ دار ی پوری کرنی پڑے گی، قرآن و سنت کی تعلیمات عام کرنی ہوں گی، ہر تعلیمی ادارے میں قرآن پاک ترجمہ کے ساتھ اور آپﷺ کا اسوہ حسنہ پڑھانا ہو گا، اپنی نسلوں کی تربیت اسلامی اقدار، روایات اور اصولوں کے مطابق کرنی ہو گی۔ حضرت محمد ﷺ سے کسی مسلمان کی محبت پر کسی دوسرے کو سوال کا کوئی حق حاصل نہیں لیکن سیاستدانوں اور حکمرانوں سے اس بات کی توقع ضرور ہے کہ اس محبت کی خاطر وہ اس ملک میں نظام مصطفیٰ ﷺ کے نفاذ کے لیے اقدامات ضرور اٹھائیں گے۔

جہاں تک میڈیا کا تعلق ہے، اُس کے بارے میں جو سپریم کورٹ کے معزز جج قاضی عیسیٰ نے کہا وہ غور طلب ہے۔ چند دن قبل فیض آباد دھرنے کا سو موٹو کیس سنتے ہوئے انہوں نے سوال اٹھایا کہ میڈیا کیوں فتنہ پھیلا رہا ہے؟ کیا میڈیا کا کام صرف پگڑیاں اچھالنا ہے؟ انہوں نے کہا کہ اس دوران کس چینل نے اسلام کی بات کی؟ قاضی عیسیٰ نے کہا کہ نہ سرکاری ادارے نہ میڈیا اسلام کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام میڈیا چینلز کی انتظامیہ کو قرآن پاک، آئین پاکستان اور پیمرا قوانین کی کاپیاں بھجوائی جائیں۔ انہوں نے اس با ت پر افسوس کا اظہار کیا کہ اس کیس کے گزشتہ سماعت کے دوران عدالت کی طرف سے قرآن و حدیث کے جو حوالے دیے گئے انہیں میڈیا نے اہمیت نہیں دی۔ دوسروں پر انگلی اٹھانے والے میڈیا کو چاہیے کہ اپنی بگڑتی حالت کو دیکھے اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔

انصار عباسی
 

ن لیگ کی خود احتسابی کا بہترین وقت ؟

میاں نواز شریف کے لیے بلخصوص اور ن لیگ کے لیے بلعموم یہ بہترین موقع ہے کہ اپنا محاسبہ کر کے غور کریں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ اُن کے لیے مصیبتیں اور مشکلات روز بروز بڑھتی جا رہی ہیں اور ختم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔ سب سے اہم بات غور کرنے کی یہ ہے کہ اپنے موجودہ دور حکومت کے دوران ن لیگی قیادت نے اپنے فیصلوں اور پالیسیوں سے کہیں اللہ تعالیٰ کو ناراض تو نہیں کیا ؟ یہ وقت ہے کہ میاں صاحب اور ن لیگی قیادت کے لیے سوچنے کا کہ غیروں کے ساتھ ساتھ یہاں موجود مغرب زدہ سیکولر طبقہ کو خوش کرنے کے لیے اُنہوں نے گزشتہ چار سال کے دوران کچھ ایسا تو نہیں کیا جس نے اسلامی نظریہ پاکستان کے تصور کو دھندلانے کی کوشش کی ہو ؟

میں یہاں بہت سے ایسے متنازعہ حکومتی اقدامات گنوا سکتا ہوں جن کے بارے میں میں ان سالوں کے دوران وقتا فوقتا لکھتا رہا اور جو بڑی تعداد میں عام پاکستانیوں کے ساتھ ساتھ بہت سے ن لیگیوں کے لیے بھی حیران کن تھے۔ کئی لیگیوں نے مجھے خود بتایا کہ معلوم نہیں کہ اُن کی اعلیٰ قیادت کے مشیر کون ہیں جنہوں نے ن لیگ کو اپنے آپ کو سیکولر اور لبرل ثابت کرنے کے لیے ایسے ایسے فیصلے کروائے جو اسلام پسندوں اور مذہبی طبقوں کے لیے انتہائی پریشان کن تھے۔ وہ ن لیگ جس کو دائیں بازو کی سیاسی طاقت مانا جاتا تھا ان سالوں کے دوران پاکستان کو لبرل اور ترقی پسند ریاست بنانے کا وعدہ کرتی رہی۔ ویسے تو جب میاں نواز شریف کو حکومت سے اقامہ جیسے بہانے پر وزارت عظمی سے نکالا گیا اور ہمیشہ کے لیے نااہل بھی قرار دے دیا گیا جس پر انہیں چاہیے تھا کہ ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ کا سوال اپنے آپ سے بھی کرتے اور پوچھتے کہ کہیں میں نے اللہ تعالیٰ کو ناراض تو نہیں کیا ؟ 

گزشتہ دو روز کے دوران پاکستان بھر میں جو سنگین صورتحال پیدا ہوئی اُس کے نتیجے میں ن لیگی حکومت کو سیاسی طور پر کیا قیمت ادا کرنی پڑے گی اس بارے میں فیصلہ تو مستقبل کرے گا لیکن جس انداز میں راولپنڈی اسلام آباد کو ملانے والے علاقہ فیض آباد کو کھولنے کے لیے ن لیگی حکومت نے آپریشن کیا اُس نے فیض آباد میں محدود احتجاج کو پاکستان بھر میں پھیلا دیا، ن لیگیوں پر حملے کروا دیے، کئی قیمتی جانوں کا ضیاع ہو گیا اور ایسی صورتحال پیدا ہو گئی کہ کسی کے کنٹرول میں نہیں۔ کسی کو کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ معاملہ کہاں اور کیسے رکے گا ؟ 

یہ بہترین وقت ہے کہ ن لیگی اور اُن کی قیادت سیاسی اور انتظامی حکمت عملی بنانے کے ساتھ ساتھ اللہ سے معافی بھی طلب کریں۔ ورنہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ پندرہ بیس دن کے فیض آباد دھرنے کو اس طرح ملک بھر میں پھیلا دیا جائیگا۔ کوئی ہوش مند دھرنے والوں کے خلاف آپریشن کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا کیوں کہ سب کو معلوم تھا کہ جس مسئلہ پر دھرنا دیا گیا وہ انتہائی نازک معاملہ ہے اور اُسے طے کرنے کے لیے طاقت کے استعمال کا مطلب یہ ہو گا کہ صورتحال کو مزید خراب کر دیا جائے۔ معلوم نہیں حکومت اور انتظامیہ کو کیا ہوا اور یہ کیسی حکمت عملی تھی کہ آپریشن کا فیصلہ بھی کیا تو میڈیا کو بتا کر اور اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ آپریشن اور گھیراو جلاو کو پوری دنیا کو میڈیا کے ذریعے دکھایا جائے۔

اس بات کو بھی یقینی بنایا گیا کہ جب پولیس اور ایف سی کو مار پڑے تو انہیں بھی بھاگتا ہوا دکھائیں۔ جب ٹی وی چینلز نے یہ صورتحال پورے پاکستان کو دکھا دی اور ملک بھر میں اشتعال پیدا ہو گیا، لوگ گھروں سے باہر نکل آئے تو پھر فیصلہ ہوا ٹی وی چینل بند کر دیں۔ ویسے تو فیض آباد اور اس کے گردو جوار کے علاقوں میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس کو دھرنے کے ابتدائی دنوں میں بند رکھا گیا لیکن آپریشن کے دوران ٹی چینلز کی لائیو کوریج کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی یقینی بنایا گیا کہ اس علاقہ میں نہ تو موبائل بند ہوں اور نہ ہی سوشل میڈیا۔ اس ’’بہترین حکمت عملی‘‘ پر وزیر داخلہ احسن اقبال کو کم از کم اس وزارت سے تو فوری طور پرفارغ کر دینا چاہیے۔

وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ دھرنے کی سازش میں بھارت کا بھی ہاتھ ہے۔ احسن اقبال صاحب انکوائری کروائیں ہو سکتا ہےفیض آباد آپریشن کے حکمت عملی بھی بھارتی سازش کا ہی نتیجہ ہو۔ بہتر ہو گا کہ اپنی غلطیوں اور خرابیوں کا بوجھ کسی دوسرے پر نہ ڈٖالا جائے۔ ویسے اگر میاں نواز شریف راجہ ظفرالحق کمیٹی کی سفارش پر چند ایک افراد کے خلاف ایکشن لے لیتے تو معاملہ دھرنے تک بھی نہ پہنچتا۔ ختم نبوت کے متعلق الیکشن قانون میں متازعہ ترامیم کیا کسی غلطی کا نتیجہ تھی یا کوئی سازش؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنا کسی بھی دوسرے معاملہ سے زیادہ اہم ہونا چاہیے تھا لیکن حکومت اور ن لیگی قیادت کو یہ بات سمجھ نہیں آئی۔

اس معاملہ کو جس طریقہ سے حکومت نے ہینڈل کیا ہے اُس سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کی آنکھوں پر پردے پڑ گئے ہوں اور ذہن ماوٗف ہو گیا ہو کیوں کہ جو بات ایک عام آدمی کی سمجھ میں آسانی سے آ رہی تھی وہ ن لیگ کے بڑے بڑے رہنمائوں اور تجربہ کار سیاستدانوں کو سمجھ نہ آئی اور انہوں نے اس آگ کو پورے پاکستان میں پھیلا دیا۔ پہلے معاملہ ایک وزیر کی رخصت سے حل ہو سکتا تھا لیکن اب ایک دو یا تین وزراء برطرف کر دیے جائیں اور حکومت بچ جائے تو بھی ن لیگ کے لیے مہنگا سودا نہیں۔ لیکن دیکھتے ہیں کہ اللہ کو کیا منظور ہے!!!

انصار عباسی

سیاسی جماعتیں بلا امتیاز احتساب کےعزم سے کیوں پیچھے ہٹ گئیں

پاکستان کے ایوان بالا سینیٹ نے 2015 میں ججوں اور جرنیلوں سمیت سب کو ملا کر احتساب کے حوالے سے رپورٹ کی منظوری دی تھی لیکن اب تقریباً تمام سیاسی جماعتیں، جنہوں نے پہلے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا تھا، وہ ہمت ہار گئیں اور اب اس ایشو پر عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کو ناراض کرنے سے گریز کیا ہے۔ سینیٹ نے ستمبر 2015 میں متفقہ طورپر ایک کمیٹی رپورٹ کی توثیق کی تھی۔ جس میں نئے احتسابی نظام کی تشکیل کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ جس میں ہر کسی کا بلا تخصیص احتساب ہو سکے۔ تاہم نیا احتسابی نظام تجویز کرنے کے لئے دونوں ایوانوں میں تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندہ ارکان پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی بنائی گئی۔ آخر کار اس کمیٹی نے ججوں اور جرنیلوں کو نئے احتسابی نظام کے دائرہ کار میں لانے کے خیال کو ترک کر دیا۔ جس پر کمیٹی غور کرتی رہی۔

موجودہ پارلیمانی کمیٹی میں اکثر اس سے قبل بلا امتیاز احتساب کے نظام پر آمادہ تھے لیکن اب ملک کی تمام صف اول کی سیاسی جماعتیں ردعمل سے بچنے کے لئے اپنے مطالبے سے دستبردار ہو گئیں۔ ستمبر 2015 میں سینیٹ نے مجلس قائمہ برائے قانون و انصاف کی رپورٹ کی منظوری دی۔ سینیٹ کمیٹی نے موجودہ احتسابی نظام پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا اور یہ بات نوٹ کی گئی تھی کہ نیب جسے تحقیقات اور کرپشن کے خاتمے کی ذمہ داری تفویض کی گئی تھی، وہ ’’بلا امتیاز احتساب‘‘ کے اصول پر پوری نہیں اتر سکی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ نیب پراسیکیوشن کی شفافیت پر سوالات اٹھنے لگے۔

سینیٹ کمیٹی کی رپورٹ جو ایوان بالا نے متفقہ طورپر منظور کی تھی، اس میں زور دیا گیا کہ اکا دکا کیسز میں نیب کے تحقیقاتی طریقہ کار کو قومی ذرائع ابلاغ نے معیاری انسانی حقوق اقدار کی خلاف ورزی قرار دیا۔ یہ تاثرات درست کرنے کی ضرورت تھی تاکہ احتسابی عمل کو اعتبار اور شفافیت پر مبنی بنایا جائے۔ سینیٹر ایم جاوید عباسی کی سربراہی میں سینیٹرز راجا ظفر الحق، اعتزاز احسن، زاہد خان، فروغ نسیم، سعید غنی، بابر اعوان، فاروق ایچ نائیک اور دیگر پر مشتمل کمیٹی نے مذکورہ رپورٹ تیار کی تھی۔

وفاقی حکومتی محکموں میں کرپشن کا ایشو اٹھایا گیا تھا اور اسے مئی 2015 میں کمیٹی کے حوالے کیا گیا تھا۔ جس نے کئی اجلاس کے بعد اپنی رپورٹ ترتیب دی۔ جس کی نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں: نیب اور ایف آئی اے کے حدود کار ایک دوسرے سے متجاوز ہیں۔ نیب آرڈیننس 1999 اور نہ ہی ایف آئی اے ایکٹ 1974 میں ان کے مینڈیٹ اور دائرہ کار میں فرق کو واضح کیا گیا۔ لہٰذا ابہام دور کرنے کے لئے ان دونوں اداروں کے قوانین کا ترجیحی بنیادوں پر جائزہ لیا جائے۔ دونوں اداروں کی مربوط کارکردگی کے لئے سہل طریقہ کار کو یقینی بنایا جا سکے۔ وفاقی سطح پر ایک انٹی کرپشن ادارہ بنایا جانا چاہئے جسے انتظامی امور اور مالی خود مختاری حاصل ہو۔

تمام کے لئے ایسا احتسابی نظام ہونا چاہئے جس میں احتسابی ادارے کو اعلیٰ ترین سطح کے سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کے خلاف تحقیقات کی آزادی ہو۔ اس نظام کو اپنے اختیارات انسانی حقوق کی بین الاقوامی اقدار اور ریاست کے احتسابی قوانین کے مطابق استعمال کرنے چاہئے۔ نیب کسی حد تک اس معیار پر پورا نہیں اترا۔ نیب پراسیکیوشن کی شفافیت پر سوال اٹھتے رہے۔ احتسابی عمل کو اعتبار بخشنے کے لئے ان تاثرات کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ مخبری اور رائٹ ٹو انفارمیشن پر مناسب دستور سازی کی ضرورت ہے تاکہ شفافیت اوراحتساب کے حوالے سے قوانین پر وسیع تر اتفاق رائے پیدا ہو۔ تمام وفاقی محکموں میں عام آدمی کی آسانی اور شفاف خدمات کی فراہمی کے لئے آئی ٹی بنیادں پر ون ونڈو آپریشن سسٹم قائم کیا جانا چاہئے۔

کرپشن کے خلاف عام آگہی کے لئے بڑے پیمانے پر میڈیا مہم چلائی جائے۔ سرکاری دستاویزات کو ضرورت سے زیادہ خفیہ رکھنے کے رجحان کا تدارک کرنے کے لئے فیصلے کئے جائیں اور پالیسی مرتب کی جائے۔ سرکاری محکموں کے لئے عوامی خدمات کی فراہمی کی خاطر وقت کی حد مقرر کئے جانے کا طریقہ کار متعارف کرایا جائے سرکاری اداروں کے اندر ہی نگراں یونٹ قائم کئے جائیں ۔کابینہ سیکرٹریٹ، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور فنانس ڈویژن کو ترغیبی بہتر کارکردگی اور پروفیشنل سول سروس کے لئے جامع سول سروس اصلاحات متعارف کرانی چاہئے۔

انصار عباسی

بشکریہ روزنامہ جنگ
 

میڈیا کی خرابی کا ذمہ دار کون ؟

ایک نجی ٹی وی چینل میں حال ہی میں نشر ہونے والے اپنے انٹرویو کے دوران وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے پاکستانی میڈیا خصوصاً ٹیلی ویژن چینلز کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کچھ دن پہلے اُنہوں نے پیمرا کے اعلیٰ عہداروں کے ساتھ ایک میٹنگ کی جس میں انہوں بتایا گیا کہ پیمرا نے ٹی وی چینلز کے خلاف مختلف خلاف ورزیوں کے ضمن میں نوٹسز جاری کئے لیکن ان نوٹسز کے جواب میں ٹی وی چینلز عدالتوں سے اسٹے لے لیتے ہیں اور یوں قانون اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے باوجود پیمرا کوئی ایکشن نہیں لے پاتا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ انہیں پیمرا چیئرمین نے بتایا ہے کہ اس وقت پیمرا کو مختلف عدالتوں کی طرف سے جاری کئے گئے تقریباً 800 اسٹے آرڈرز (حکم امتناہی) کا سامنے ہے جس کی سبب پیمرا کی نہ صرف رٹ ختم ہو چکی ہے بلکہ کروڑوں روپے ان کیسوں کی پیروی میں خرچ ہو جاتے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے انہوں نے چیئرمین پیمرا کو ہدایت دی ہے کہ وہ تمام عدالتی کیس واپس لے لے ۔ یعنی قانون اور ضابطہ کی خلاف ورزی کرنے والے تمام چینلز کے خلاف عدالتی کارروائی سے پیمرا پیچھے ہٹ جائے تا کہ کم از کم وکیلوں کو دی جانے والی کروڑوں روپے کی فیس تو بچ جائے۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پیمرا کی کارروائی نے اگر عدالتوں کی مداخلت پر اسٹے ہی ہو جانا اور ان اسٹے آرڈرز پر سالوں فیصلہ بھی نہیں ہونا تو پھر بہتر ہے مزید پیسہ ضائع نہ کرو۔ اس عدالتی نظام کے سامنے پیمرا اور حکومت کی اس بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے، شاہد خاقان عباسی نے یہ بھی کہا کہ ہم تمام کیس واپس لے رہے ہیں کیوں کہ جس کے ساتھ میڈیا نے زیادتی کی اگر اُسے وقت پر انصاف نہیں ملنا تو پھر عدالت میں جانے اور کیس لڑنے کا کیا فائدہ۔

وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ میڈیا کو کھلی چھٹی ہے جو مرضی آئے کرے۔ یعنی جس پر مرضی ہے بہتان تراشی کرے، جھوٹے الزام لگائے، اگر کسی کو شر پھیلانا ہے اور فتنہ بازی کرنی ہے تو اُسے بھی کھلی چھٹی، اگر کسی نے نفرت پھیلانی ہے اور لوگوں کو کسی فرد یا افراد کے خلاف اشتعال دلوانا ہے تو اُس پر بھی کوئی قدغن نہیں۔ وزیر اعظم نے جس بے بسی کا اظہار کیا ہے یہ اگر خصوصاً عدلیہ اور میڈیا کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ میڈیا خصوصاً ٹی وی چینلز نے اپنی آزادی کا بے حد غلط استعمال کرنا شروع کر دیا ہے اور اس کی اگر ایک طرف ذمہ داری میڈیا مالکان اور صحافی برادری پر آتی ہے تو دوسری طرف عدلیہ کا اس خرابی میں بہت اہم کردار ہے۔ جیسا کہ وزیر اعظم نے کہا پیمرا جب بھی کسی بھی چینل کے خلاف کارروائی کرتا ہے اور یہ کارروائی چاہے کتنی ہی سنگین خلاف ورزی پر ہو، چینل کو باآسانی عدالتوں سے اسٹے آرڈر مل جاتا ہے اور یوں پیمرا کو بے بس بنا دیا گیا ہے۔ 

نہ کسی چینل کو قانون و ضابطہ کی خلاف ورزی پر سزا ملتی ہے اور نہ ہی کسی اینکر کو اس بات کا ڈر ہے کہ جھوٹے الزامات لگانے، بہتان تراشی کرنے، فتنہ انگیزی پھیلانے حتیٰ کہ انتشار پھیلا کر دوسروں کی زندگیوں کے لیے خطرات پیدا کرنے پر اُنہیں پوچھا جا سکتا ہے یا سزا دی جا سکتی ہے کیوں کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے عدالتی اسٹے آرڈر ایک اہم ترین ہتھیار ہے جسے اب خوب استعمال کیا جا رہا ہے۔ فحاشی وعریانی پھیلانے اور اسلامی شعائر کا مذاق اڑانے پر بھی اگر پیمرا کوئی ایکشن لیتی ہے تو اس کے خلاف بھی فوری اسٹے آرڈر دے دیا جاتا ہے۔ ان حالات میں وزیر اعظم صاحب نے جو کہا وہ درست ہے۔ یعنی اگر پیمرا کو عدالتی اسٹے آرڈرز نے چلنے ہی نہیں دینا اور کسی چینل کے خلاف کوئی کارروائی ہونی ہی نہیں تو پھر عدالتوں میں پیمرا اپنا وقت اور پیسہ کیوں ضائع کرے۔ 

مجھے کوئی امید نہیں کہ میڈیا اپنی خود احتسابی کرے گا یا کوئی ایسا نظام بنائے گا جس کے نتیجہ میں ٹی وی چینلز شرانگیزی، بہتان تراشی، شرارت، فحاشی وعریانیت سے اپنے آپ کو باز رکھیں۔ مجھے یہ بھی امید نہیں کہ عدلیہ اسٹے آرڈرز کی وجہ سے پیمرا کی رٹ پر پڑنے والی کاری ضرب اور انصاف کے راستہ میں پیدا کی جانیں والی رکاوٹوں کا احساس کرتے ہوئے اسٹے آرڈرز کی اس بیماری سے اس قوم کی نجات دلائے گی۔ اس لیے وزیر اعظم صاحب کو چاہیے کہ بہتر ہو گا کہ پیمرا کے ادارہ کو ہی بند کر دیا جائے کیوں کہ عدالتی اسٹے آرڈرز نے تو ویسے ہی اسے بیکار کر کے رکھ دیا ہے۔

انصار عباسی
 

ایک اور حلف جس کی خلاف ورزی پر سب خاموش ہیں

گزشتہ روز قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ نے بھی متفقہ طور پر حال ہی میں نئے الیکشن قانون میں کی گئی انتہائی متنازع ترامیم کو واپس لے لیا جو ایک خوش آئند عمل ہے جس پر پاکستان کے عوام مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ ختم نبوت کے مسئلہ پر کسی قسم کا کوئی بھی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ بجا طور پر میڈیا اور عوام کی توجہ اس خاص ترمیم پر مرکوز رہی لیکن متنازع تبدیلیوں میں ایک اور خطرناک تبدیلی بھی کی گئی جس کا میڈیا میں کوئی ذکر نہ ہوا لیکن میرے رب کی مہربانی سے وہ تبدیلی بھی واپس ہو گئی۔

قارئین کرام کی معلومات کے لیے یہ بتاتا چلوں کے الیکشن لڑنے کے خواہش مند افراد کے لیے قانون کے مطابق مہیا کیے گئے کاغذات نامزدگی میں ختم نبوت کے ساتھ ساتھ ایک اور حلفیہ بیان لازم ہے جس کا تعلق اسلامی نظریہ پاکستان کے تحفظ اور پاکستان میں جمہوریت کو اسلامی اصولوں کے مطابق چلانے سے متعلق ہے۔ اس بیان کو بھی نئے الیکشن قانون میں حلفیہ بیان سے بدل کر اقرار نامہ کیا گیا لیکن اب تازہ ترامیم کے ساتھ ہی پھر صورت حال پرانی ہو چکی جو قابل تسکین بات ہے۔ 

درج ذیل میں اس حلفیہ بیان کو پڑھیے:
’’میں مذکورہ بالا امیدوار حلفاً اقرار کرتا ہوں کہ : (دوم) میں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے کئے ہوئے اعلان کا وفادار رہوں گا ؍گی کہ پاکستان معاشرتی انصاف کے اسلامی اصولوں پر مبنی ایک جمہوریت ہو گی۔ میں صدقِ دل سے پاکستان کا حامی اور وفادار رہوں گا؍ گی اور یہ کہ میں اسلامی نظریہ کو برقرار رکھنے کے لیے کوشاں رہوں گا؍ گی جو قیام پاکستان کی بنیاد ہے۔‘‘

یہ حلفیہ بیان حالیہ قانون میں کی گئی تبدیلیوں سے پہلے بھی موجود تھا اور اب دوبارہ ترمیم کے ذریعے ایک بار پھر کاغذات نامزدگی میں حلف کے ساتھ شامل کر دیا گیا ہے جو بہت اچھی خبر ہے۔ یہ حلفیہ بیان پاکستان کی پارلیمنٹ یعنی سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ساتھ ساتھ تمام صوبائی اسمبلیوں کے ممبران کے لیے لازم ہے لیکن مجھے تعجب اس بات پر ہے کہ حلف لینے کے باوجود ہمارے حکمران اور ممبران پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی پاکستان کی اسلامی اساس کے تحفظ اور اس ملک کو اسلامی اصولوں کے مطابق چلانے کے لیے کوئی کوشش کیوں نہیں کر رہے۔

بلکہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ نہ صرف وفاقی و صوبائی حکومتوں کی طرف سے پاکستان کو روشن خیالی ، لبرل ازم اور ترقی پسندی کے نام پرمغرب زدہ کیا جا رہا ہے بلکہ یہاں تو کئی سیاسی رہنما اورممبران اسمبلی ایسے ہیں جو کھلے عام پاکستان کو سیکولر بنانے کی بات کر کے اس حلف کی خلاف ورزی کرتے ہیں لیکن اس خلاف ورزی کو نہ تو عدلیہ دیکھتی ہے نہ ہی الیکشن کمیشن، میڈیا یا کوئی اور اگر کوئی ممبر پارلیمنٹ اپنے کسی سیاسی معاملہ میں اپنی پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کر دے یا اُس کے خلاف بول پڑے تو اس پر تو ایکشن لیا جاتا ہے۔ کوئی اپنی دولت کے بارے میں دی گئی تفصیلات کے متعلق جھوٹ بولے یا پیسہ چھپائے تو اس پر بھی نااہلی کی کارروائی شروع کر دی جاتی ہے۔

لیکن یہ کیا کہ قسم اٹھا کر یہ حلف لینے والے کہ وہ نہ صرف پاکستان کے قیام کی بنیاد بننے والے اسلامی نظریہ کا تحفظ کریں گے بلکہ پاکستان کی جمہوریت کو اسلامی اصولوں کے مطابق چلائیں گے، کس آسانی سے لبرل اور سیکولر پاکستان کی بات کرتے ہیں، خلاف اسلام قانون سازی کرتے ہیں، ایسی پالیسیاں بناتے ہیں جو اسلامی اصولوں کے خلاف ہوتی ہیں لیکن ایسے سیاسی رہنمائوں، حکمرانوں اور ممبران پارلیمنٹ کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جاتا۔ میری سیاسی جماعتوں، الیکشن کمیشن، عدلیہ اور پارلیمنٹ سے گزارش ہے کہ وہ اس حلف کی کھلے عام خلاف ورزی کرنے والوں کے بارے میں بھی سوچیں اور اُن کا احتساب کریں.

کیوں کہ یہ دھوکہ پاکستانی قوم کے ساتھ نہیں کیا جانا چاہیے کہ حلف تو آپ لیں پاکستان کو اسلامی ریاست بنانے کا اور جب اسمبلیوں میں آئیں یا اقتدار کی کرسی پر بیٹھیں تو روشن خیالی، لبرل ازم اور ترقی پسندی کی باتیں کریں اور مغرب زدہ پالیسیاں بنائیں۔ میڈیا سے مجھے کوئی امید نہیں کہ اس معاملہ پر بات کرے گا کیوں کہ بہت کچھ جو میڈیا کر رہا ہے وہ تو اسلامی پاکستان میں چل ہی نہیں سکتا۔

انصار عباسی