مردان واقعہ اور ریاست کی ذمہ داری

 مردان یونیورسٹی میں ایک طالب علم کو توہین مذہب کے الزام پر یونیورسٹی کے  ہی طلبہ نے بے دردی سے قتل کر دیا۔ نہ ان سنگین الزامات کی تحقیقات کی گئیں، نہ ہی معاملہ پولیس اور عدالت کے پاس گیا بلکہ ہجوم نے خود ہی الزام لگایا، اپنی عدالت لگائی اور سزا بھی دے دی۔ اس واقعہ کی وزیر اعظم نواز شریف، عمران خان، آصف علی زرداری، مولانا سمیع الحق، مفتی محمد نعیم اور دوسرے کئی سیاسی و مذہبی رہنمائوں نے مذمت کی جبکہ وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا اور متعلقہ پولیس ڈی آئی جی کے مطابق ابھی تک کی تحقیقات میں توہین مذہب کے کوئی ثبوت نہیں ملے۔ خیبر پختون خوا حکومت نے معاملہ کی جوڈیشل انکوائری کا حکم دے دیا ہے جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان نے بھی اس معاملہ کا سو موٹو نوٹس بھی لے لیا ہے۔

امید ہے آئندہ چند ہفتوں میں کیس کے تمام حقائق سامنے آ جائیں گے اور یہ کہ مشال خان پر لگائے گئے الزامات کی نوعیت درست تھی یا غلط یا کہ اُسے کسی سازش کا نشانہ بنا کر اس طرح قتل کروایا گیا۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ ریاست کے ہوتے ہوئے کسی بھی گروہ یا افراد کے مجمع کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ الزام کے بنیاد پر قانون ہاتھ میں لے کر کسی کی جان لے لیں۔ الزام کیسا بھی ہو اس کے لیے معاملہ پولیس، عدالت اور ریاست کے حوالے کیا جائے۔ اگر ہجوم اور گروہوں کو الزام لگا کر لوگوں کو مارنے کی اجازت دے دی جائے تو پھر تو یہاں کوئی بھی نہیں بچے گا اور خصوصاً ایک ایسے معاشرے میں جہاں سنگین سے سنگین الزامات لگانے کا رواج عام ہو اور اس کام کے لیے میڈیا اور سوشل میڈیا کو خوب استعمال کیا جاتا ہو۔

یہاں ریاست اور ریاست کے ذمہ داروں کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے اور اس سوال پر غور کرنا چاہیے کہ آخر ہماری ریاست گستاخی کے الزام میں سزا پانے والوں میں سے کسی ایک کی سزا پر بھی عمل درآمد میں کیوں ناکام رہی۔ ریاست کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ شہریوں کو قانون کی عمل داری نظر آئے تا کہ ہر کسی کو یقین ہو کہ کسی بھی قسم کا جرم کرنے والا سزا سے نہیں بچ سکتا۔ مردان واقعہ کا ایک ا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ مشال خان کے قتل کا حوالہ دے کر ایک طبقہ نے اسلام، blasphemy law اور ماضی قریب میں عدالت، حکومت اور پارلیمنٹ کی طرف سے سوشل میڈیا پر سے گستاخانہ مواد کو بلاک کرنے اور گستاخی کے مرتکب افراد کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات پر سوال اٹھانے شروع کر دیئے۔ کچھ نے کہا کہ مردان یونیورسٹی کا واقعہ blasphemy law کا غلط استعمال ہے۔

کوئی ان سے پوچھے یہ قانون کہاں کسی مجمع یا گروہ کو الزام کی بنیاد پر کسی بھی فرد کو مارنے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ قانون تو ریاست کو گستاخی کے الزام پر کارروائی کی ہدایت دیتا ہے۔ جو کچھ حال ہی میں عدلیہ، پارلیمنٹ اور حکومت نے سوشل میڈیا پر سے گستاخانہ مواد کو ہٹانے کے لیے کیا وہ انتہائی قابل تعریف اقدام ہے اور اس کا مقصد ایک ایسے فتنہ پر قابو پانا ہے جو کسی بھی اسلامی معاشرے میں اشتعال انگیزی، نفرت اور غم و غصہ کا باعث بنتا ہے۔ کسی ایک واقعہ کا بہانہ بنا کر کوئی اگر یہ چاہے کہ blasphemy law کو ہی ختم کر دیا جائے یا کوئی آزادی ٔرائے کے مغربی standards کو یہاں لاگو کیا جائے تو ایسا ممکن نہیں ہو سکتا کیوں کہ اس سے فتنہ بڑھے گا۔ مردان کا واقعہ کسی مدرسہ میں نہیں بلکہ عبدالولی خان یونیورسٹی میں ہوا جس میں ملوث طلبہ کی اکثریت کا مبینہ طور پر ایسی سیاسی جماعتوں کی طلبہ تنظیموں سے تعلق ہے جو اپنے آپ کو سیکولر اور لبرل کہتی ہیں لیکن افسوس کہ بحث ساری اسلام کے متعلق کی جا رہی ہے۔

ایسے موقعوں پر ہی ٹی وی چینلز کو علماء کرام کو بلا کر یہ پوچھنے کا موقع ملتا ہے کہ اسلام اس بارے میں کیا کہتا ہے۔ مردان واقعہ پر عدلیہ اور حکومت دونوں نے نوٹس لے لیا اور امید کی جا سکتی ہے کہ اس معاملہ میں پورا پورا انصاف ہو گا لیکن کیا چیف جسٹس آف پاکستان، وزیر اعظم نواز شریف، عمران خان، دوسرے رہنما اور ہمارا میڈیا زرا اس بات پر غور کرے گا کہ ہر ایسے موقع پر ہم اسلام کو لا کر کٹہرے میں تو کھڑا کر دیتے ہیں لیکن اسلام کی تعلیمات کو فروغ دینے کے لیے ہم کیا کر رہے ہیں۔ جب ہم اسکولوں میں، اپنے گھروں میں، میڈیا کے ذریعے اور حکومتی سطح پر معاشرے کو اسلامی تعلیمات سے آگاہ نہیں کریں گے اور اس ضد پر قائم رہیں گے کہ ریاست کا مذہب کے معاملات میں کوئی کردار نہیں تو پھر اسلام سے شکایت کیسی۔

میں چوہدری نثار علی خان سے متفق ہوں کہ مشال خان کے وحشیانہ قتل کو مذہب کے ساتھ جوڑنا قابل افسوس ہے۔ میری حکومت، پارلیمنٹ ، عدلیہ، سیاسی جماعتوں اور میڈیا سے گزارش ہے کہ لوگوں کو اسلام پڑھانے اور معاشرہ کو قرآن و سنت کے مطابق ماحول فراہم کرنے میں اپنا اپنا کردار ادا کریں جیسا کہ آئین پاکستان کی منشاء ہے۔ جہاں تک توہین مذہب اور گستاخی کے جرم کا تعلق ہے تو اس بارے میں ایک اصول پر ہم سب کو کاربند رہنا چاہیے اور وہ یہ کہ جس پر یہ جرم ثابت ہو گیا اُسے نشان عبرت بنائیں جس نے کسی پر جھوٹا الزام لگایا اُس پر قذف لگائیں۔ اسی طرح سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر کو روکا جائے اور ایسا کرنے والوں کو سزائیں دی جائیں۔

اس کے ساتھ ساتھ میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے دوسروں پر توہین مذہب کے جھوٹے الزامات لگانے والوں سے بھی سختی سے نپٹا جائے، انہیں سزائیں دی جائیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسے مواد (جھوٹے الزامات) کو بھی سوشل میڈیا پر بلاک کیا جائے اور میڈیا پر ان کی تشہیر کو سختی سے روکا جائے۔ ہمیں نوجوانوں اور بچوں کو یہ تعلیم بھی دینی چاہیے کہ وہ نہ صرف ہر صورت میں اپنے دین اور مقدس ہستیوں کا احترام کریں بلکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق دوسروں کے مذاہب کو بھی بُرا مت کہیں۔

انصار عباسی

جواب سے زیادہ سوال اہمیت رکھتے ہیں

کہتے ہیں کہ جواب اہم نہیں ہوتے، سوالات انہیں اہم بناتے ہیں۔ کونسا سوال کس طرح، کس وقت اور کن حالات میں پوچھا جائے اہل علم اسے ایک باقاعدہ سائنس قرار دیتے ہیں۔ یوں کسی بھی صحت مند مکالمے کے لئے میزبان کا موضوع پر دسترس رکھنا اور سوالات پوچھنے کی سائنس سے مکمل واقف ہونا ناگزیر ہے۔ ایک لائق میزبان جہاں نامعقول سوالات کے زریعے مہمان اور ناظرین کا وقت ضائع نہیں کرتا وہیں بحث کو بھی تعمیری سمت پر گامزن رکھتا ہے۔ گو یہ درست ہے کہ سوالات سوچ کے نئے دریچے کھولتے ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ کچھ سوال فتنے اور فساد کے دروازے بن جاتے ہیں۔ ایک لائق میزبان اس پہلو کو بھی ہمیشہ اپنے ذہن میں رکھتا ہے۔
ایک زمانہ تھا جب ہمارے یہاں ضیاء محی الدین، طارق عزیز، حمایت علی شاعر، قریش پوری، مستنصر حسین تارڑ، انور مقصود، نعیم بخاری اور معین اختر جیسے میزبان ہوا کرتے تھے، لیکن آج بد قسمتی سے یہ شعبہ عامر لیاقت، جنید جمشید، وسیم بادامی، فہد مصطفی، حمزہ علی عباسی، مایا خان، شائستہ واحدی اور ساحر لودھی کے حوالے ہے۔ گزشتہ روز کسی ٹی وی پروگرام میں اداکار حمزہ علی عباسی نے کچھ ایسے متنازع سوالات چھیڑے ہیں، جن کے نتیجے میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ایک فتنہ کھڑا ہوگیا ہے۔ میری ذاتی رائے میں تو موصوف کو کسی مذہبی پروگرام کی میزبانی ہی کرنی ہی نہیں چاہئے تھی لیکن اگر پھر بھی انہیں یہ شوق چڑھ ہی گیا تھا تو قاعدے کے مطابق اپنی تحقیقی ٹیم پر انحصار کرنا چاہیئے تھا۔
کچھ لوگ متعرض ہیں کہ بس سوال ہی تو کیا تھا، انہیں اندازہ نہیں کہ سوال کس قدر نازک، بے موقع اور غیرضروری تھا۔ پھر سوال، سوالیہ انداز میں پوچھا جاتا ہے جبکہ موصوف کا انداز سوالیہ نہ تھا بلکہ وہ اپنی پہلے سے قائم شدہ رائے کی تصدیق یا تردید کا تقاضہ کررہے تھے۔ سونے پر سہاگہ دونوں مولوی حضرات کو بھی جانے کہاں سے ڈھونڈ کر لایا گیا تھا۔ جو جواب ایک عام سا اسلام پسند نوجوان بھی باآسانی دے سکتا تھا، وہ ان سے بن نہ پایا۔ اسکی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ سحر و افطار ٹرانسمیشن کی خرافات نے جہاں سنجیدہ علمائے دین کو ان سے کنارہ کشی اختیار کرنے پر مجبور کیا ہے وہیں شہرت اور چانس کے بھوکے کٹ ملاؤں کی لاٹری نکل آئی ہے۔
سوال تھا کہ ریاست کیسے کسی شخص یا جماعت کو کافر قرار دے سکتی ہے؟ میرا سائل سے جوابی سوال ہے کہ کونسی ریاست؟ سیکولر یا مذہبی؟ یقیناً ایک سیکولر ریاست فلسفیانہ اور قانونی دونوں حوالوں سے اپنے شہریوں کے عقائد پر حکم لگانے کا اختیار نہیں رکھتی۔ لیکن کیا پاکستان ایک سیکولر ریاست ہے؟ 1973ء کے متفقہ دستور میں ہم اپنے اس فیصلے کا حتمی اعادہ کرچکے ہیں کہ پاکستان قرآن و سنت کی بالادستی پر یقین رکھنے والی ایک خالص مذہبی جمہوریہ ہوگی۔ بطور مذہبی ریاست اسلامی جمہوریہ کی قانونی ضرورت، ذمہ داری  اور مجبوری ہے کہ ’’مسلم‘‘ اور ’’غیر مسلم‘‘ کی تعریف وضع کرے۔ قانونی ضرورت یوں ہے کہ اسلامی ریاست مسلمانوں اور غیر مسلم اقلیت کے لئے کچھ حقوق و فرائض رکھتی و بیان کرتی ہے۔ 
تعریف طے نہ ہونے کی صورت میں انکی ادائیگی کیسے ممکن ہوگی۔ زکواۃ کس سے لی جائے گی؟ اس سے آگے نکاح و طلاق، رضاعت و ولدیت، تجہیز و تدفین اور جائیداد و وراثت ایسے معاملات میں پیدا ہونے والے تنازعات میں مسلم قوانین کس پر لاگو ہونگے اور کون اس سے بری الزماں ہوگا۔ اسی طرح قرآن کریم نے حدود اور فقہ سے متعلق تعزیر کے قوانین مقرر کر رکھے ہیں۔ ان قوانین کو کس پر نافذ کیا جائے گا؟ اور کسے استثنیٰ حاصل ہوگا؟ ذمہ داری یوں ہے کہ اسلامی جمہوریہ اس بات پر معمور ہے کہ حق کی اشاعت اور باطل کی سرکوبی کرے۔ اس پر لازم ہے کہ وہ فتنے کی سرکوبی کرے، اچھائی کا حکم اور برائی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے۔ اب آپ خود ہی بتائیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآل وسلم کے بعد نئے نبی کا دعویدار بن کر کھڑے ہوجانے سے بڑا فتنہ بھلا اور کیا ہوسکتا ہے؟ سیدنا ابوبکر نے تو جھوٹے نبی کے ساتھ  باضابطہ قتال کا معاملہ فرمایا تھا اور مجبوری یہ ہے کہ قانون سازی کے عمل میں شریعت کا ماخذ طے اور واضح ہونا نا گزیر ہے۔
میرے مطابق تو یہ سوال ہی سراسر مغالطے اور غلط فہمی کا شکار تھا۔ جواب سے پہلے ہی سائل نے یہ فیصلہ سنا دیا تھا کہ اسلام اور کفر کا فیصلہ کرنا علمائے دین کی ذمہ داری ہے۔ حالانکہ علمائے دین کسی بھی اسلامی نظام حکومت میں فیصلے کا حق نہیں رکھتے، وہ اپنی رائے دے سکتے ہیں۔ حکم، امر یا اختیار صرف اولی الامر کے لئے مخصوص ہے۔ جواب سے قطع نظر اصل مسئلہ اس حل شدہ نازک مسئلے پر رمضان ٹرانسمیشن جیسے غیر سنجیدہ  پروگرامات میں سوال چھیڑنا ہے۔ فرض کریں کہ جواب میں کوئی مولوی بھی سائل کی طرح بے باک ہوجاتا ہے اور قادیانی تصورات کے باب میں زندیق اور مرتد کا مسئلہ چھیڑ دیتا تو اسکا کیا نتیجہ نکلتا؟ یقیناً علمی و فکری مباحثے اچھی بات ہیں بشرطیکہ علمی لوگ ہی مخصوص ماحول میں برپا کریں۔
مختصر یہ کہ اس تنازع نے سحر و افطار ٹرانسمیشن کے نام پر چلنے والی طوفان بدتمیزی کے ایک اور مضر پہلو کو بھی واضح کیا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ پیمرا رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں اس دکانداری کے خلاف حتمی ایکشن لے۔
کاشف نصیر