بلوچستان نایاب جنگلی حیات کی سرزمین

  بلوچستان نہ صرف حسین قدرتی مناظر سے سجی سرزمین ہے بلکہ یہ قدرتی وسائل سے بھی مالا مال ہے یہاں نایاب اور خوبصورت جانور بھی پائے جاتے ہیں جو اس کے حسن کو چار چاند لگاتے ہیں، یہاں پائے جانے والے جنگلی بکرے مارخور کو قومی جانور ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ بلوچستان میں چنکارہ ہرن، گولڈن چیتا، اڑیال،لومڑی، مخصوص بلی یعنی سینڈ کیٹ sand cat اور مختلف اقسام کے سانپ، کچھوے، چھپکلی اورکئی اقسام کے پرندے بھی پائے جاتے ہیں، نایاب جانوروں میں کئی ایسے بھی ہیں جن کے ختم ہوجانے کا خدشہ لاحق ہے۔

اس کی بڑی وجہ غیرقانونی شکار اور ان کےلئےضروری مخصوص ماحول اور سہولیات کی کمی ہے، جس کےباعث ان کی تعداد کم سےکم تر ہوتی جا رہی ہے۔ اس کااندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اب ہزارگنجی نیشنل پارک میں سلیمان مارخور کی تعداد چند سو رہ گئی ہے۔ اس حوالے سے کنزرویٹر جنگلی حیات ونیشنل پارکس شریف الدین بلوچ نے بتایا کہ بلوچستان میں کافی اہم وائلڈ لائف species ہیں ،اس حوالے سے بلوچستان کی خاص اہمیت ہے ، جنگلی حیات میں صوبے میں کئی رینگنے والے اور دیگر mammals جانور ، اور reptiles کی سب سے زیادہ اقسام بلوچستان میں پائی جاتی ہیں،اسی طرح کئی طرح کے پرندے بھی یہاں پائے جاتے ہیں۔

یہ امر خوش آئند ہے کہ جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے صوبائی محکمے متحرک اور فعال ہیں اور اس سلسلے میں کوئٹہ کے نواح میں چلتن پہاڑ کےدامن میں تین لاکھ پچیس ہزار ایکڑ رقبے پر ہزار گنجی چلتن نیشنل پارک اور ہنگول میں نیشنل پارک قائم کیا گیا ہے۔ ہنگول نیشنل پارک کی ملک میں منفرد حیثیت کا حامل ہے، اس پارک کا ایریا بلوچستان کے تین اضلاع لسبیلہ، گوادر اور آوارا ن میں آتا ہے ، جبکہ ایک ہزار 650 مربہ کلومیٹر پر پھیلے اس پارک کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ اس کا کچھ حصہ مکران کےساحلی علاقے سے بھی ملحق ہے۔ محکمہ جنگلات اور جنگلی حیات بلوچستان کی جانب سے اب تیسرا نیشنل پارک زیارت میں قائم کرنےکافیصلہ کیا گیا ہے، یہ سلیمان مارخور کےتحفظ کےلئے ہو گا، تاہم محکمہ جنگلی حیات کو عملے کی کمی اور دیگر مسائل کا سامنا ہے۔

ماہرین کے مطابق جنگلی حیات کو بچانے کے لیے عوام میں شعور بیدا ر کرنے کے علاوہ قدرتی ماحول کےتحفظ کے لیے بھی بھرپور اقدامات کرنا ضروری ہیں۔

اس حوالے سے نایاب جنگلی حیات کےغیرقانونی شکار پر عائد پابندی پر سخت عملدرآمد کی بھی ضرورت ہے۔ ابھی حال ہی میں کوئٹہ کےنواح میں مارخور کےشکار پر کارروائی کرتے ہوئے صوبائی وزیرداخلہ میر سرفراز بگٹی کےخلاف بھی مقدمہ درج کیا گیا، یہ الگ بات ہے کہ اس کے کچھ دنوں بعد صوبائی سیکرٹری جنگلی حیات کو ہی عہدے سے ہٹا دیا گیا، صوبائی حکومت کےایک نوٹیفکیشن کےمطابق سیکرٹری جنگلی حیات کا یہ تبادلہ public interest یعنی عوامی مفاد میں کیا گیا ہے۔

راشد سعید

Advertisements

کوئٹہ حملہ : شہید کیپٹن روح اللہ کیلئے تمغہ جرأت

 آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کوئٹہ کے پولیس ٹریننگ سینٹر میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے دوران جان کی بازی ہارنے والے کیپٹن روح اللہ کے لیے تمغہ جرأت اور زخمی نائب صوبیدار محمد علی کے لیے تمغہ بسالت کا اعلان کردیا۔ پاک افواج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کیپٹن روح اللہ اور نائب صوبیدار محمد علی کے لیے تمغوں کا اعلان کیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق دونوں جوان پولیس ٹریننگ سینٹر میں دہشت گردوں کے خلاف جوانمردی سے لڑے اور انھوں نے ایک خودکش حملہ آور کے حملے کو ناکام بنایا۔ کیپٹن روح اللہ کی فیس بک پروفائل کے مطابق وہ 5 مئی 1999 کو پیدا ہوئے تھے۔

یاد رہے کہ پیر 24 اکتوبر کی رات 11 بج کر 10 منٹ پر کوئٹہ کے سریاب روڈ پر واقع پولیس ٹریننگ کالج پر دہشت گردوں نے اس وقت دھاوا بولا جب کیڈٹس آرام کررہے تھے جس کے بعد فائرنگ اور دھماکوں کا آغاز ہوگیا۔ حملے کے نتیجے میں 60 اہلکار جاں بحق جبکہ 100 سے زائد زخمی ہوئے، عام طور پر اس اکیڈمی میں 700 کے قریب کیڈٹس موجود ہوتے ہیں۔ حملے کے بعد جائے وقوعہ پر فرنٹیئر کور (ایف سی) اور فوج کے اسپیشل سروسز گروپ (ایس ایس جی) کمانڈوز پہنچے جنہوں نے ریسکیو آپریشن شروع کیا۔

بلوچستان کے وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے بتایا تھا کہ واقعے میں تین دہشت گرد ملوث تھے، انہوں نے پہلے واچ ٹاور میں موجود گارڈ کو نشانہ بنایا اور پھر اندر اکیڈمی گراؤنڈز میں داخل ہوگئے۔ جوابی آپریشن کی قیادت کرنے والے فرنٹیئر کانسٹیبلری(ایف سی) بلوچستان کے آئی جی میجر جنرل شیر افگن نے بتایا تھا کہ ’ایف سی کے آنے کے تین سے چار گھنٹے بعد صورتحال پر قابو پالیا گیا‘۔

انہوں نے بتایا کہ دہشت گرد افغانستان میں موجود اپنے ساتھیوں سے مسلسل رابطے میں تھے، تینوں حملہ آوروں نے خود کش جیکٹس بھی پہن رکھی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ’دو حملہ آوروں نے خود کو دھماکے سے اڑالیا جبکہ تیسرے دہشت گرد کو سیکیورٹی اہلکاروں نے ہلاک کیا‘۔ واقعے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم داعش نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا جبکہ حملہ آوروں کی تصاویر بھی جاری کردی گئیں۔

دہشتگردی کی روک تھام صرف ہماری ذمے داری ہے : وسعت اللہ خان

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر خودکش بمبار اتنی زیادہ چیک پوسٹیں عبور کر کے اپنے آٹھ کلو گرام بارود سمیت سول اسپتال کوئٹہ کی ایمرجنسی تک کیسے پہنچ گیا؟ پیچھے یقیناً زبردست منصوبہ بندی تھی۔ مقامی دہشتگردوں میں تو اتنا دماغ نہیں کہ وہ ایسی غیرمعمولی پلاننگ کر سکیں کہ جب وہ بلوچستان بار کے سابق صدر بلال انور قاضی کو گولی ماریں گے تو ان کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے سول اسپتال لائی جائے گی اور مقامی روایات کے مطابق جس وکیل کو اس واقعے کی اطلاع ملتی جائے گی وہ سول اسپتال پہنچتا چلا جائے گا اور جب سب قابلِ ذکرِ وکیل جمع ہو جائیں گے تو پھر بم پھاڑ کر انھیں ختم کر دیا جائے گا۔ ایسی سائنسی منصوبہ بندی تو کوئی اعلیٰ بدیسی دماغ ہی کر سکتا ہے۔ لہٰذا اندرونی چھوڑئیے صرف یہ سوچئے کہ اس طرح کی حرکت کا کس کس غیر ملک کوفائدہ ہو سکتا ہے؟

اب جب کہ ہم اصل واقعے کی فورنزک و انٹیلی جینس تحقیقات مکمل ہونے سے بہت پہلے ہی اصل مجرموں کی نشاندھی میں کامیاب ہو چکے ہیں تو اس جانب توجہ دی جائے کہ اے پی ایس پشاور، بڈبیر، باچا خان یونیورسٹی چار سدہ، لاہور گلشنِ اقبال پارک، واہگہ چیک پوسٹ دھماکا یا سول اسپتال کوئٹہ جیسی عوامی جگہوں پر ہونے والی وارداتوں کو پیشگی ناکام بنانا کن کن ملکی اداروں کی ذمے داری ہے؟ کالم میں اتنی جگہ نہیں کہ ہم ایک ایک مذکورہ واردات پر تفصیلاً بات کر سکیں۔ لہٰذا اپنی آسانی کے لیے تازہ اور فوری واردات یعنی کوئٹہ بم دھماکے کو روکنے کی ممکنہ ذمے داری پر بات کر لیتے ہیں۔ جو بھی نتیجہ نکل کے آئے گا وہ دیگر وارداتوں کے تجزئے کے لیے بھی ماڈل کا کام دے سکتا ہے. پہلی ذمے داری تو جیالوجیکل سروے آف پاکستان پر عائد ہوتی ہے کہ جس کا ہیڈکوارٹر کوئٹہ میں ہے۔ یہ وہ ادارہ ہے جو زمین کے اندر چھپے ہوئے عناصر کا بھی کھوج نکال لیتا ہے۔ تو پھر اس کی نگاہ سے دہشتگردوں کا انڈر گراؤنڈ نیٹ ورک کیسے چوک گیا؟

اب اگر جیالوجیکل سروے کے اہلکار کہیں کہ صاحب یہ ہمارا کام نہیں ہم تو صرف زمین کی اندرونی تبدیلیوں اور موادپر نگاہ رکھتے ہیں۔ تو ان حیلہ طرازوں سے کوئی پوچھے کہ گوگل ارتھ میں تمہیں صرف پہاڑ، ندی نالے ہی نظر آتے ہیں کوئی انسان یا کوئٹہ شہر کی سڑکیں یا ان سڑکوں سے گزرنے والا بارودی ٹرک یا مشکوک موٹر سائیکل نظر نہیں آتا؟ تم جیسا ادارہ جس سے زمین کا کوئی چپہ پوشیدہ نہیں صرف یہ کہہ کے تو جان نہیں چھڑا سکتا کہ دہشت گرد تلاشنا یا انھیں روکنے کے لیے بروقت اطلاع دینا ہماری ذمے داری نہیں۔

چلیے اگر جیالوجیکل سروے اپنی بنیادی ذمے داری پوری نہیں کر سکا تو اسپتال کے گیٹ پر کیا واچ اینڈ وارڈ کا عملہ نہیں تھا؟ اُسے خود کش بمبار اسپتال میں داخل ہوتا کیوں دکھائی نہیں دیا؟ یہ تو کوئی بہانہ نہیں کہ اسپتالی محافظوں کے پاس جو دستی سکینرز ہوتے ہیں وہ اصلی سکینرز کی میڈ ان چائنا فرسٹ کاپی ہوتے ہیں۔ اور یہ بھی کوئی بہانہ نہیں کہ اسپتال جیسی جگہوں پر روزانہ ہزاروں افراد اور سیکڑوں مریض آتے جاتے ہیں لہٰذا چار پانچ کچے پکے تربیت یافتہ آٹھ ہزار روپے ماہانہ تنخواہ والے چوکیدار کس کو روکیں اور کسے جانیں دیں؟ اگر وارادت کے بعد یہی بہانے کرنے ہیں تو اسپتال انتظامیہ ان مٹی کے پُتلوں کو تنخواہ دینے کے بجائے گھر کیوں نہیں بھیجتی؟

حق بات تو یہ ہے کہ جتنے بھی پبلک مقامات پر دہشتگردی کا خطرہ ہے۔ ان مقامات پر دہشتگردی روکنا انھی اداروں کا کام ہے جن کے تحت یہ پبلک مقامات آتے ہیں۔ مثلاً اسکولوں کی سیکیورٹی محکمہ تعلیم کی ذمے داری ہے جسے ہر اسکول کو سرکلر بھیجنا چاہیے کہ کسی مشکوک فرد کو اسکول میں داخل نہ ہونے دیں بھلے وہ خود کو خودکش بمبار ہی کیوں نہ کہے۔ اسی طرح اسپتالوں کو دہشتگردی سے بچانا محکمہ صحت کی اور پبلک پارکس کے تحفظ کی ذمے داری متعلقہ شہر یا قصبے کی بلدیہ کے ڈائریکٹوریٹ پارکس اینڈ ہارٹیکلچر کی ہے۔ ( یہ تو ہماری عدالتیں اور آئین بھی کہتے ہیں کہ ہر ادارے کو اپنے اپنے دائرے میں رہ کر کام کرنا چاہیے اور کسی دوسرے ادارے کے دائرے میں نہیں گھسنا چاہیے)۔

چلیے اگر مذکورہ ادارے اپنے صارفین کو تحفظ نہیں دے پا رہے تو ان کی نااہلی کا رونا رونے کے بجائے صارف کو اپنے گریبان میں بھی تو جھانک کے سوچنا چاہیے کہ وہ خود کامنِ سینس (عقلِ سلیم) سے کام لیتے ہوئے اپنی حفاظت کیوں نہیں کر پا رہا؟

اور کسی شہر کے نہ سہی مگر کوئٹہ کے وکلا کو تو یہ معلوم ہونا چاہیے تھا کہ بلوچستان بار کے صدر بلال انور قاضی کی شہادت دراصل وہ کانٹا ہے جس میں دہشتگرد وکلا برادری کو اٹکا کر شکار کریں گے۔ دہشتگردوں نے اس طرح کی تکنیک کوئی پہلی بار تھوڑا استعمال کی ہے؟ ماضی میں انھوں نے ایک پولیس افسر کو مارا اور پھر اس کی نمازِ جنازہ میں شریک دیگر پولیس افسروں پر خودکش حملہ کیا۔ وکیلوں کو تو ویسے بھی مجرموں کی نفسیات ہم سے زیادہ معلوم ہوتی ہے اور وہ باریک سے باریک موشگافی تک پہنچنے اور بال کی کھال اتارنے کے لیے مشہور ہوتے ہیں۔ تعجب ہے کہ انھیں سامنے کی بات کیوں سجھائی نہیں دی کہ دہشتگرد ایک شحض کی لاش کو چارہ بنا کر پورے قانونی غول کو اپنے ساتھ لے جائیں گے۔ امیدہے زندہ رہ جانے والے وکلا آیندہ صرف اپنے کلائنٹس کے مفادات ہی کی نہیں بلکہ اپنی حفاظت بھی خود کریں گے۔ انھی خطوط پر اگر پبلک پارک کا تحفظ مقامی بلدیہ اپنی ذمے داری نہیں سمجھتی تو پھر والدین کو اس کا ذمے دار ہونا پڑے گا، انھیں اپنے بچوں کے اسکولوں کی بھی حفاظت کرنا ہو گی، مشکوک افراد اور اشیاء پر بھی نگاہ رکھنا ہو گی، متعلقہ حکام کو بھی مطلع کرنا ہو گا اور پھر اپنے روٹی روزگار کا بھی ساتھ ساتھ سوچنا ہو گا۔

وہ کسی کا شعر ہے نا کہ

یہ شہادتِ گہہِ الفت میں قدم رکھنا ہے

لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا

کوئٹہ سانحے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے محمود اچکزئی سمیت کچھ افراد ایجنسیوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ڈال رہے ہیں۔ یہ رویہ مناسب نہیں۔ کوئٹہ کے دھماکے کو اگر جیالوجیکل سروے آف پاکستان چاہتا تو روکا جا سکتا تھا۔ اس کا الزام ایجنسیوں کی غفلت کو ٹھہرانا کسی طور مناسب نہیں۔ ایجنسیاں بچاری تو اس موقع پر دور دور تک نہیں تھیں۔ اس کے علاوہ میں سائبر کرائم بل کی پارلیمنٹ سے بروقت منظوری کا بھی خیر مقدم کرتا ہوں۔ جو لوگ ملکی سالمیت کے معاملے پر کسی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔ سائبر کرائم بل کے ذریعے ان کے پیچ کس کے ایک پیج پر لانے میں مدد ملے گی۔ یوں ہم سب اس پرچم کے سائے تلے ہنسی خوشی رہنا سیکھ لیں گے۔

وسعت اللہ خان

مغوی چپ کیوں سادھ لیتا ہے

کچلاک کوئٹہ سے کوئی پچیس کلومیٹر دور ایک ایسا سنگھم ہے‘ جہاں سے ایک
سڑک سیدھی پشین اور چمن کے راستے افغانستان چلی جاتی ہے جب کہ دوسری سڑک زیارت اور لورالائی کے راستے ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی مقام فورٹ منرو پر پنجاب میں داخل ہوتی ہے۔ یہی سڑک زیارت کے پہاڑی سلسلے سے ذرا پہلے مسلم باغ اور ژوب کی طرف مڑتی ہے جو خیبرپختونخوا میں ڈیرہ اسماعیل خان کے ضلع میں داخل ہوتی ہے۔ اسی لیے کچلاک میں ہوٹلوں‘ چائے خانوں اور دیگر سفری ضروریات کی چیزوں کی بہت سی دکانیں اور ریڑھیاں ہروقت موجود رہتی ہیں۔ یہاں کے ہوٹل تو دن رات کھلے ہوتے ہیں۔

80 کی دہائی میں جب بلوچستان پر امن و امان کا راج تھا تو ہم لوگ رات گئے جب
کوئٹہ شہر سناٹے میں ڈوب چکا ہوتا ‘ کچلاک میں چینک چائے پینے جایا کرتے تھے۔ پورے بلوچستان میں کچلاک کے ہوٹلوں کا ’’روش‘‘ مشہور ہے۔ یہ ایک طرح کا نمکین گوشت ہوتا ہے جسے صرف نمک میں پکایا جاتا ہے۔ یہ وہی ’’روش‘‘ ہے جسے سلمان تاثیر کے بیٹے شہباز تاثیر نے کھا کر ساڑھے تین سو روپے بل ادا کیا اور ہوٹل والے سے لاہور فون کرنے کے لیے موبائل مانگا جو اسے نہیں دیا گیا۔
وہ وہاں سے ہوٹل کے باہر چلا گیا۔ جہاں سیکیورٹی اداروں کے افراد نے اسے اٹھا لیا اور پھر  پورے ملک کے ٹیلی ویژن چینلز پر بریکنگ نیوز چلنے لگی۔ اس کی برآمدگی کے دعوے شروع ہو گئے۔ کچلاک سے برآمدگی ایک انتہائی حیران کن خبر تھی۔ اس لیے کہ کچلاک دراصل ایک چھوٹا سا بازار ہے جس میں کسی بھی قسم کی مجرمانہ سرگرمی یا کسی قسم کا خفیہ ٹھکانہ بنایا ہی نہیں جا سکتا۔ اس کے ارد گرد مختلف گاؤں ہیں لیکن وہاں بھی رہنے والے ایک دوسرے کو بہت اچھی طرح جانتے اور ایک ہی قوم قبیلے کے افراد ہوتے ہیں۔ برآمدگی کا سہرا سر پر سجانے کی اس کارروائی نے مجھے اپنی نوکری کے بالکل آغاز کا ایک واقعہ یاد کروا دیا۔ اس کا تعلق بھی اسی علاقے سے تھا۔

وہ زمانہ تھا جب روس افغانستان میں موجود تھا اور افغان مہاجرین پاکستان میں۔ بلوچستان کے ساتھ لگنے والے بارڈر جس میں غزنی اور قندھار وغیرہ شامل ہیں ان پر نجیب اللہ کی جانب سے عصمت اللہ مسلم اچکزئی بارڈر ملیشیا کا جرنیل مقرر تھا۔ چمن کی سرحد کے اس پار اس نے اپنا ہیڈ کوارٹر بنا رکھا تھا جسے وہ ’’قرار گاہ‘‘ کہتا تھا۔ وہاں کئی کنٹینر رکھے ہوئے تھے۔

عصمت اللہ کے لوگ چمن‘ پشین اور گردونواح سے لوگوں کو تاوان کے لیے اغوا کرتے اور انھیں وہاں کنٹینروں میں بند کر کے رکھا جاتا۔ چونکہ نجیب اللہ کے تعلقات بلوچستان کے پشتون قوم پرستوں کے ساتھ گہرے تھے‘ اس لیے لوگ‘ مصیبت کے مارے ان سے رابطہ کرتے اور پھر تاوان کی رقم ادا کر کے اپنے رشتے دار کو واپس لے آتے۔ کچلاک ان دنوں عصمت اللہ مسلم کے ایک دوست کے حوالے سے بہت مشہور ہوا جو مہترزئی قبیلے سے تھا۔ یہی زمانہ تھا جب پشتون علاقے کے علاوہ بلوچ علاقے میں آباد ہندوؤں کے بھی منظم اغوا برائے تاوان کا سلسلہ شروع ہوا۔
سب سے پہلے گردھاری لال بھاٹیہ کو اغوا کیا گیا اور اس زمانے میں نوے لاکھ روپے تاوان وصول کیا گیا۔ پھر آہستہ آہستہ پورے بلوچستان میں آباد اقلیتوں جن میں ہندو اور پارسی شامل تھے ان کے اغوا کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ بلوچ علاقوں میں جتھے قبائل سرداروں کی سرپرستی میں کام کرتے اور وقت آنے پر قوم پرست سیاست کا علم اٹھا لیتے۔ پارسی کراچی ہجرت کر گئے اور ہندو بھارت کے شہر اندور میں جا کر آباد ہو گئے۔ انھی دنوں میری نوکری کا آغاز ہوا تھا اور میں چمن میں اسسٹنٹ کمشنر کی حیثیت سے تعینات تھا۔ 1988 کا اپریل‘ دو تاریخ۔ اچانک 
چمن کی سرحدی چوکی پر عصمت اللہ مسلم پاکستان میں داخل ہوا۔
اس زمانے میں بارڈر پر تین سیکیورٹی ایجنسیوں کی چوکیاں تھیں۔ لیویز‘ ایف آئی اے اور ایف سی۔ لیویز نے اسے پہچان لیا اور ایف آئی اے والوں نے اسے اپنی چوکی میں لا کر بٹھایا۔ ایف سی والوں نے اس کے بارے میں اپنے کمانڈنٹ سے رابطہ قائم کیا۔ کمانڈنٹ وہاں پہنچا اور اس نے حالات دیکھتے ہوئے کہا کہ اسے واپس سرحد کے پار بھیج دو۔ اس پر ایف آئی اے والوں نے کہا کہ ہم نے تو سارے ملک میں بتا دیا ہے کہ ہم نے اتنے بڑے اغوا کار کو پکڑ لیا ہے اور ساتھ ہی ہم نے غیر قانونی بارڈر کراس کرنے پر کیس بھی رجسٹرڈ کر لیا ہے۔ کمانڈنٹ کہنے لگا‘ اس کو چھوڑ دو ورنہ حالات خراب ہو جائیں گے۔
اب ایف آئی اے والوں کے ہاتھ پاؤں پھول گئے، کہا گیا کیس رجسٹرڈ ہے‘ گرفتاری ڈالی جا چکی ہے۔ اب اسے صرف اسسٹنٹ کمشنر ہی ’’ڈی پورٹ‘‘ کر سکتا ہے۔ یوں مجھے خبر کی گئی۔ اس کے بعد کی کہانی بہت طویل ہے۔ عصمت اللہ مسلم کے ملیشیا کے لوگ آئے‘ انھوں نے پوسٹ کا گھیراؤ کیا اور اپنے جرنیل کو لے کر چلے گئے اور یوں ایف آئی اے کے اہل کاروں نے جو تمغہ اپنے سینے پر سجانا تھا وہ رہ گیا۔
اغوا برائے تاوان ایسا جرم ہے جس میں اکثریت ایسے افراد کی ہوتی ہے جو تاوان دے کر کسی نہ کسی طریقے سے گھر واپس لوٹتے ہیں ۔لیکن متعدد کیس ایسے ہوتے ہیں جن میں قانون نافذ کرنے والے اپنے سینوں پر برآمدگی کا تمغہ سجائے پھرتے ہیں۔ یہی کیفیت شہباز تاثیر کے معاملے کی ہے۔ معاملہ اس لیے الجھتا رہا ہے کہ پہلے دن ہی سے ہر کوئی مسئلے کو الجھاتا ہے۔ سچ ایک ایسی نایاب چیز ہے جو ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہاں سے غائب ہوتی جا رہی ہے۔
اس کے بعد میڈیا ہر قسم کی خواہش کی خبر بنا کر بریکنگ نیوز چلا رہا ہوتا ہے۔ 
شام کو تبصرہ نگار بیٹھ کر عمیق تبصرے کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اس میں کس کس کا ہاتھ ہے۔ پہلے دن سے سب کو علم تھا کہ شہباز تاثیر کو اغوا کرنے والے وہ ’’ایڈونچرز‘‘ قسم کے نوجوان تھے جنھیں لاہور کے راستوں سے زیادہ یہاں کے ماحول کا علم تھا۔ لیکن آپ اس زمانے کے تبصرے اور ٹی وی پروگرام نکال لیں‘ ہر کوئی ایک ہی طرف اشارہ کر رہا تھا اور وہ تھے طالبان۔ اس کے بعد طرح طرح کی چہ مگوئیاں شروع ہوئیں اور وہ بھی میڈیا پر‘ کوئی جائیداد کا شاخسانہ قرار دیتا‘ کوئی ممتاز قادری کے ساتھ تعلق جوڑتا‘ کسی کو طالبان کے گروہوں کے ہاتھ بار بار فروخت کی کہانی بنانا ہوتی۔ یہاں تک کہ اسے ڈرون حملے میں مار بھی دیا گیا۔
ادھر ہمارے سیکیورٹی انجینئرز کا حال یہ ہے کہ ان کی رسائی ہی ان علاقوں میں بہت کم ہے جہاں اس طرح کے لوگ اغوا برائے تاوان کے لیے رکھے جاتے ہیں۔ اکثر اہل کار قبائلی معاشروں سے نا آشنا ہوتے ہیں اور دوسرا ان کے لیے زبان کا اتنا بڑا مسئلہ درپیش ہوتا ہے کہ کئی واسطوں سے وہ بات کی تہہ تک پہنچتے ہیں۔ اسی لیے مسلسل جدوجہد اور تگ و دو صرف اس مغوی کا خاندان ہی کرتا رہتا ہے‘‘ جو اپنے عزیز کو واپس لانے کے لیے سب کچھ کرنے کو تیار ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر ان کا عزیز واپس آ جائے تو وہ خوف سے زبان نہیں کھولتا اور گھر والے بھی کسی مزید بکھیڑے میں پڑنے سے بہتر خیال کرتے ہیں کہ ان کے عزیز کی برآمدگی کا تمغہ کسی کے بھی سینے پر سج جائے‘ وہ لوگ آرام سے رہیں۔اس لیے کہ زبان کھولنے پر یہ تمغہ سجانے والے لوگ اسے کسی بھی خطرے میں مدد کو نہیں آئیں گے۔
قبائلی معاشروں میں ایک ’’خبر‘‘ یا ’’حال‘‘ ہوتا ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ کوئی بات کبھی چھپی نہیں رہتی۔ قبائلی معاشرے میں اندھا قتل بھی چھپا نہیں رہتا کہ یہ ان کی روایات ہیں کہ چھوٹی سے چھوٹی خبر یا بات کو آگے تک پہنچانا ہے۔ کچلاک کے ارد گرد جو قبائل آباد ہیں اور پشین اور چمن کے ارد گرد کے لوگوں تک جو خبریں پہنچی ہیں اور ان کا ذکر زبان زد عام ہے۔ ان میں ایک یہ کہ چالیس کروڑ تاوان ادا کیا گیا ہے جب کہ پہلے دو ارب روپے مانگا جا رہا تھا۔ دوسری خبر یہ ہے کہ شہباز تاثیر ان گروپوں کے ہاتھ بیچا گیا تھا جو طالبان کی افغانستان میں موجود قیادت کے مخالف تھے۔
اس لیے طالبان نے ان کا تعاقب جاری رکھا ہوا تھا۔ وہ اس تعاقب کے خوف سے بھاگ رہے تھے۔ ایسے میں شہباز ان کے ہاتھ آیا جسے طالبان چند سو روپے دے کر کچلاک چھوڑ گئے۔ دونوں صورتوں میں تمغہ کسی کے سینے پر نہیں سجتا۔ لیکن صرف ایک تلخ حقیقت ہے جو اغوا برائے تاوان کے ہر کیس کے بعد سامنے آتی ہے۔ مغوی اپنی زبان نہیں کھولتا۔ وزیر داخلہ نے انکوائری کا حکم دیا ہے کہ اسے سچ نہیں بتایا گیا۔ لیکن انکوائری اس بات پر ہونی چاہیے کہ ریاست مغوی کے دل سے خوف ختم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے کہ ہر مغوی چپ سادھ لیتا ہے‘ کچھ بتاتا تک نہیں۔ یہی خوف اغوا برائے تاوان کرنے والوں کو حوصلہ دیتا ہے۔
اوریا مقبول جان

زیارت کاسُکون

بلوچستان کے ویران صحرا میں نخلستان کے چھوٹے چھوٹے یہ ٹکڑے اس بات کا احساس دلا رہے تھے کہ کاشتکاری یہاں بھی ممکن ہے ۔ اگر کوشش کی جائے تو پورا بلوچستان جنتِ نظیربن سکتا ہے ۔ جفاکش بلوچوں نے کاریزوں کے ذریعے ان نخلستان کو آباد کیا ہوا ہے۔ جنہیں ایک پوری نسل کھودتی ہے اور آئندہ نسلیں استفادہ کرتی ہیں۔ ان کاریزوں کے ذریعے پہاڑی چشموں کا پانی زیرِ زمین آبی راستوں سے کھیتوں تک لایا جاتا ہے۔

 تب جا کر یہ سرسبز ہو کر لہلہاتے ہیں _ورنہ پانی کے محتاج کئی کھیت بھی راستے میں ہم نے دیکھے تھے کہ پانی سے محروم رہ کر کس طرح ان کی ہریالی چھن گئی تھی۔ راستے میں ہر دس بیس میل بعد خانہ بدوشوں کی چھوٹی چھوٹی ٹکڑیاں بھی اپنے رزق کی تلاش میں پھرتی ہوئی نظر آئیںدوپہر ڈھل چکی تھی اور ہمارا سفر جاری تھا۔ آسمان پر کچھ کچھ بادل بھی منڈلانے لگے تھے اور کہیں کہیں یہ پہاڑوں کی چوٹیوں سے ٹکرا کو بوس و کنار میں مصروف تھے۔ 

ہوا بھی کچھ زیادہ سرد ہونے لگی تھی۔ کوئی پندرہ بیس میل ہی آگے بڑھے ہوں گے کہ بارش شروع ہوگئی اور ضرب المثل کی طرح چھاچھوں پانی برسنے لگا۔ فضا ہر طرف دھواں دار ہو گئی ۔ ابھی کچھ گھنٹے پہلے پانی کو ترسے ہوئے میدانوں اور پہاڑوں سے نکل کر آئے تھے اور یہاں تھا کہ بارش لگتا تھا اگلی پچھلی ساری کسر نکالنے پر تُلی ہوئی ہے۔ بس کی وِنڈ سکرین کے سامنے صرف پانی ہی پانی نظر آرہا تھا۔ ایک تو راستہ بے حد دُشوار اور اوپر سے شدید بارش۔ اسے کہتے ہیں یک نہ شُد دوشُد_! کئی چھوٹے بڑے نالے بارش کے پانی سے بھر گئے تھے اور انہوں نے دریاؤں کی سی شکل اختیار کر لی تھی۔

 ایک مقام پر تو ان نالوں نے سڑک کو ہی کہیں چھُپالیا تھا۔ پانی تیزی سے سڑک کے آر پارہو رہاتھا اور سامنے سے آنے والی کئی گاڑیاں رُک کر پانی کا زور کم ہونے کا انتظار کر رہی تھیں۔ نالے میں ڈوبی سڑک کو پارکرنا بڑا خطر ناک تھا۔ ڈرائیور شیر زمان یہاں رُکنے کے لیے تیار نہ تھا ۔اُس نے ہمت کر کے بس پانی میں ڈال دی۔ ایک لمحے کے لیے تو ایسے لگا کہ عین بیچ میں گاڑی کا انجن بند ہو جائے گااور پھر ہمیں یہ دریا تیر کر عبور کر ہوگا۔

تیرنا تو ہمیں آتا نہیں تھا لہذا ڈوبنا ہی مقدر تھا_! مگر ہماری قسمت اچھی تھی شیر زمان بڑی مہارت سے گاڑی کو پانی سے نکال لایا۔ مگر اسی لمحے ایک ابرآلود ہو ا کا جھونکا آیا اور بس کے اوپر بندھے سامان پر بچھی ترپال لے اُڑا، بس روک لی گئی۔ سب کو اپنے اپنے سامان کی پڑ گئی ۔ کنڈیکٹر اور ڈرائیور ایک ساتھ بس کی چھت پر چڑھ گئے اور بارش میں بھیگ کر ترپال باندھ دی

 (اسد سلیم شیخ کے سفرنامہ پاکستان ’’کچھ سفر بھولتے نہیں‘‘ سے مقتبس)