مردم شماری

سخت گرمی، دھوپ اور پیاس میں سارا دن گلیوں میں گھومنا۔ دھول مٹی کا سامنا۔ میں مردم شماری ٹیم میں شامل تھا۔ پیشہ ورانہ ذمہ داریوں اور لوگوں کے عجیب و غریب رویوں کے درمیان توازن برقرار رکھنا۔ گھر گھر جانا اور لوگوں کے کوائف اکھٹے کرنا۔ ایک تھکا دینے والا مشکل کام۔ جو ہمیں روز کرنا پڑتا ہے۔ اس دن ہم سندھ کے دور افتادہ علاقے میں چھوٹے سے گھر تک پہنچے۔ ٹوٹے ہوئے دروازے پر لٹکا ہوا ٹاٹ کا پردہ گھر کی زبوں حالی چھپانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ ’’مردم شماری ٹیم!‘‘میں نے دروازہ بجاتے ہوئے آواز لگائی۔ کچھ دیر میں ایک بوڑھی عورت اپنی پیوند زدہ چادر سنبھالتی ہوئی باہر آ گئی۔ زندگی میں آنے والے نشیب و فراز ، ہزاروں جھریاں بن کر اس کے چہرے پر ثبت ہو گئے تھے۔

ہمیں دیکھ کر وہ یوں مسکرائی گویا ہمارا ہی انتظار کر رہی ہو۔ ’’اماں! گھر میں کتنے افراد ہیں؟‘‘ میں نے پوچھا۔ ’’بس میں اور میرا بیٹا۔‘‘ وہ اپنا پوپلا منہ کھول کر بولی۔ ’’اچھا! کیا نام ہے اس کا؟‘‘ میں رجسٹر پر لکھنے لگا۔ ’’ساجد وہ بھی تیری طرح فوج میں ہے۔ لاہور میں مردم شماری ڈیوٹی لگی ہے۔‘‘ اس نے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر آنکھوں کو سورج کی روشنی سے بچاتے ہوئے کہا۔ ’’مگر وہ یہاں نہیں رہتا۔ صرف چھٹیوں میں آتا ہے۔ ‘‘وہ کچھ سوچ کر اداس ہو گئی۔ میرا دل بجھ گیا۔ ایک اکیلی بوڑھی عورت جس کی آنکھیں اپنے بیٹے کو دیکھنے کے لئے ترس جاتی ہونگی۔ ’’ہاں اماں! نام تو لکھنا پڑے گا ناں۔ ‘‘میں نے سوچوں کو جھٹک دیا۔ ’’ٹھہر میں تیرے لئے پانی لاتی ہوں۔‘‘ وہ بمشکل اٹھی اورمسکرا کر اندر چلی گئی۔ وطن کے لئے ہم فوجیوں کو کتنی جدائیاں سہنا پڑتی ہیں۔ مجھے اپنی ماں یاد آنے لگی۔

کچھ لمحے گزرے ہونگے کہ اندر سے اس کے رونے کی آواز آنے لگی۔ وہ کسی سے فون پر بات کر رہی تھی۔ میں نے کان لگا کر سننے کی کوشش کی لیکن کچھ سمجھ نہیں آیا۔ میں بے چین ہو گیا۔ اندر جانا خلاف ڈیوٹی تھا۔ اضطراب میں پہلو بدلتا رہا۔ تھوڑی دیر بعد وہ آنسو پونچھتی ہوئی باہر آ گئی۔ میں سوال کرنے ہی والا تھا کہ وہ بولی۔ ’’بیٹا! ساجد کا نام لکھا کیا لسٹ میں؟‘‘ ’’ہاں اماں ! لکھ لیا‘‘میں جلدی سے بولا۔ ’’کاٹ دے۔‘‘وہ روتی ہوئی وہیں دروازے پر گر پڑی۔ میں آنکھیں پھاڑے اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ ’’بیدیاں روڈ پر دھماکہ ہو گیا ہے۔ ظالموں نے اسے مار ڈالا۔‘‘وہ چلا رہی تھی۔ میری ٹیم کے ساتھی بھاگ کر وہاں جمع ہو گئے۔ جو اپنوں کو شمار کرنے نکلا تھا، اب خود شمار نہیں ہو سکتا تھا۔ مجھے چکر آنے لگے۔ رجسٹر میرے ہاتھ سے گر گیا۔

ذیشان یاسین

Advertisements

پاکستان میں مردم شماری کیوں ضروری ہے؟

کسی بھی ملک کی ترقی اور فلاح و بہبود کے لیے ضروری ہے کہ پالیسی ساز اداروں کو اس ملک کی صحیح آبادی کا علم ہو۔ پاکستان کے آئین کے مطابق ریاست کے متعلقہ ادارے اس بات کے آئینی طور پر پابند ہیں کہ ہر دس سال میں ایک بارملک بھر میں مردم شماری کرائیں۔ ملک میں شرح تعلیم ، بیروزگاری کی شرح، مردوں، خواتین اور بچوں کی تعداد کتنی ہے، یہ سب مردم شماری سے ہی معلوم ہوتا ہے۔ آبادی کی بنیاد پر ہی ملک کے اندر صوبوں اور وفاق کا بجٹ تیار کیا جاتا ہے۔ صحیح معنوں میں آبادی معلوم ہونے کے بعد اداروں کی تشکیل اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جاتے ہیں۔ بدقسمتی سے وطنِ عزیز میں ہر اس عمل کے خلاف سیاسی جماعتیں صف آرا ہوتی ہیں جس سے ملک کو فائدہ پہنچتا ہو۔ اپنے چھوٹے چھوٹے گروہی، سیاسی اور ذاتی مفاد کی خاطر یہ سیاسی جماعتیں ہمیشہ احتجاج اور بائیکاٹ کرنے سے بھی نہیں ہچکچاتیں۔

دوسری جانب یہی جماعتیں اس بات پراحتجاج نہیں کرتیں کہ گزشتہ 19 سال سے ملک میں مردم شماری نہیں ہوئی ہے۔ کیوں کہ ان سیاسی شعبدہ بازوں کو معلوم ہوتا ہے کہ ملک میں صحیح مردم شماری سے ان حلقوں میں تبدیلی ممکن ہے اور ان کا سیاسی نقصان ہونے کا اندیشہ ہے۔ الیکشن ہوں یا مردم شماری ہر اس عمل کے خلاف ان سیاست دانوں نے ہمیشہ تنازع ضرور کھڑا کیا۔ وطنِ عزیز کو ستر سال ہوئے مگراب تک صرف پانچ بار مردم شماری ہوئی ہے۔ وہ بھی بروقت نہیں۔ ملک میں پہلی بار مردم شماری 1951، دوسری دس سال بعد یعنی 1961 جب کہ 1971 میں ملک میں ایک جنگ دشمن کے خلاف لڑی جا رہی تھی، جس کے باعث مردم شماری 1972 میں ممکن ہو ئی۔ چوتھی مردم شماری سنہ 1991 اور آخری بار ملک میں مردم شماری 1998 میں کرائی گئی۔

غلام یاسین بزنجو