فیس بک پر ان کاموں سے گریز کریں

فیس بک بہت مقبول ہے اور ایسا بلاوجہ نہیں۔ ایک دوسرے کو جاننے اور نئے لوگوں سے ملنے کا جذبہ اور شوق کم و بیش ہر فرد میں ہوتا ہے۔ فیس بک اس کی تکمیل کا ایک ذریعہ بن چکی ہے۔ کون نہیں چاہے گا کہ خوب سے خوب تر نظر آئے لیکن چند کام ایسے ہیں جو ناسمجھی میں کر لیے جاتے ہیں مگر جنہیں دوسرے ناپسند کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک حد سے زیادہ تصاویر شیئر کرنا ہے۔ کچھ لوگوں کی عادت بن جاتی ہے کہ وہ اپنی، اپنے کپڑوں اور ساتھیوں وغیرہ کی ایک کے بعد دوسری تصویر شیئر کرتے رہتے ہیں۔ اگر خاندان کے افراد یا دوستوں کی تصاویر زیادہ تعداد میں شیئر کی جائیں گی تو انہیں برا بھی لگ سکتا ہے۔ کچھ لوگ نہیں چاہتے کہ ان کی تصاویر سرعام دیکھی جائیں۔ بعض دوست یا خاندان کے افراد اپنی مرضی کی تصاویر ہی شیئر کرنا چاہتے ہیں۔

فیس بک پر بہت زیادہ فرینڈز بنانا بھی اچھا خیال نہیں کیا جاتا۔ زیادہ تر ان افراد کو پسند کیا جاتا ہے جو سوچ سمجھ کر فرینڈز کا انتخاب کرتے ہیں۔ جن کے بہت زیادہ فیس بک فرینڈز ہوں ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ فیس بک پر ضرورت سے زیادہ توجہ دے رہے ہیں یا انہیں توجہ حاصل کرنے کا جنون ہے۔  فیس بک پر انتہائی نجی معاملات کو بیان کرنے والوں یا ان پر بحث کرنے والوں کو اچھا خیال نہیں کیا جاتا۔ ان کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ وہ عام زندگی میں بھی لاپرواہ ہوں گے۔ اسی طرح دوسروں کے نجی معاملات پر گفتگو بھی غیر اخلاقی اور نامناسب خیال کی جاتی ہے۔ دوسروں کی ٹوہ لگانا اور بار بار سوال کرنا بھی ناموزوں ہوتا ہے۔ ایسا کرنے والوں کے بارے میں اچھی رائے قائم نہیں ہوتی۔

فیس بک پر بہت قریب سے لی گئی تصویر کو پروفائل پکچر کے طور پر نہیں لگانا چاہیے۔ یہ عام طور پر بدنما لگتی ہے۔ اسی طرح ہر مرتبہ سنجیدہ تصاویر شیئر کرنابھی اچھا نہیں ہوتا۔ سنجیدگی کے ساتھ ہنستی مسکراتی تصاویر بھی نظر آنی چاہئیں۔ فیس بک پر خودنمائی مت کریں۔ چاہیے آپ کو معلوم نہ ہو لیکن دل ہی دل میں آپ کے فرینڈز جان لیں گے کہ آپ ایسا کر رہے گے۔ اسی طرح خود کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا بھی اچھا خیال نہیں کیا جاتا۔ بعض افراد جب بھی کسی مہنگے ہوٹل، ایئرپورٹ یا اچھے ریسٹورنٹ میں جاتے ہیں اپنی تصویر یا مقام فیس بک پر ضرور شیئر کرتے ہیں۔ یہ خودنمائی دوسروں کو آسانی سے سمجھ میں آ جاتی ہے۔

پاکستان میں انٹرنیٹ کا بڑھتا ہوا نشہ

ایک حالیہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ طلبہ کی تقریباً 16.7 فیصد تعداد انٹرنیٹ کے نشے میں مبتلا ہے اور اس سے لڑکے اور لڑکیاں دونوں یکساں طور پر متاثر ہیں۔ پاکستان جرنل آف میڈیکل سائنسز کے حالیہ شمارے میں شائع ہونے والی ایک مقالے کے مطابق آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے جن طلبہ نے تحقیق میں حصہ لیا، ان میں سے 16.1 فیصد انٹرنیٹ کے درمیانے نشے میں مبتلا پائے گئے، جب کہ 0.6 فیصد کو اس نشے کا شدید طور پر شکار کہا جا سکتا ہے۔ تحقیق کے نتائج کے مطابق انٹرنیٹ کا عادی ہونے کے معاملے میں کوئی صنفی امتیاز نہیں پایا گیا اور طلبہ اور طالبات تقریباً یکساں شرح سے اس میں مبتلا ہوتے ہیں۔

تحقیق میں ایک اور بات یہ سامنے آئی کہ جو طلبہ کسی قسم کے کھیلوں یا جسمانی سرگرمی میں حصہ لیتے تھے، ان کے اس مخصوص نشے میں گرفتار ہونے کی شرح دوسروں کے مقابلے پر کم تھی۔ انٹرنیٹ کو عام ہوئے زیادہ عرصہ نہیں گزرا، لیکن حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ انٹرنیٹ کے نشے کے لیے باقاعدہ طبی اصطلاح ‘انٹرنیٹ ایڈکشن ڈس آرڈر’ یا آئی اے ڈی وضع کی جا چکی ہے، جس کی تعریف کچھ یوں ہے: ‘انٹرنیٹ کے استعمال میں خود پر قابو نہ رکھ پانا، جس کی وجہ سے مریض جسمانی، نفسیاتی اور سماجی مسائل کا شکار ہو سکتا ہے۔’

انٹرنیٹ جہاں ایک طرف طلبہ کو رابطے، معلومات اور تفریح کا سستا اور سہل وسیلہ فراہم کرتا ہے، تو دوسری جانب یہ ان نوجوانوں کو کسی نشے کی طرح اپنی لپیٹ میں بھی لے سکتا ہے۔ پچھلے چند برسوں میں ہمارے ملک میں انٹرنیٹ کا استعمال جنگل کی آگ کی طرح پھیلا ہے۔ سوشل میڈیا مینیجمنٹ کے ادارے ہُوٹ سویٹ کی رپورٹ ‘ڈیجیٹل ان 2017’ کے مطابق 2016 کے مقابلے پر حالیہ برس میں پاکستان میں انٹرنیٹ کے استعمال میں 20 فیصد کا اضافہ ہوا ہے اور اب ملک بھر میں ساڑھے تین کروڑ افراد انٹرنیٹ استعمال کر رہے ہیں، جن کا 72 فیصد حصہ موبائل فون کے ذریعے آن لائن ہوتا ہے۔

ظاہر ہے کہ اس تعداد کا بہت بڑا حصہ طلبہ پر مشتمل ہے، جو اپنی پڑھائی کے لیے انٹرنیٹ استعمال کرتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انٹرنیٹ پر تعلیمی وسائل کی کوئی حد نہیں اور یہ میڈیم طلبہ کو تعلیم و تحقیق میں بہت مدد دے سکتا ہے، لیکن کسی بھی طالبعلم کو پڑھائی کے دوران توجہ کے ارتکاز کی اشد ضرورت ہوتی ہے، لیکن انٹرنیٹ اس کے بالکل برعکس توجہ بٹانے کے بےشمار مواقع فراہم کرتا ہے، جس سے طالبعلم بھٹک کر کسی اور طرف نکل جاتا ہے۔ جرنل آف میڈیکل سائنسز میں شائع ہونے والی تحقیق کے نتائج کے مطابق طلبہ و طالبات یکساں طور پر انٹرنیٹ کے اسیر تھے۔ تاہم ہانگ کانگ اور ایران میں اسی قسم کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ لڑکے زیادہ اس عارضے کا شکار ہوتے ہیں۔

اس کے علاوہ جو طلبہ کسی قسم کی جسمانی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، ان کے اندر اس نشے کا شکار ہونے کی شرح کم تھی، کیوں کہ ایسے طلبہ جلدی سونے کے عادی تھے اور وہ اپنے وقت کا خاصہ حصہ موبائل یا لیپ ٹاپ سے دور کھیل کے میدان میں گزارتے تھے۔ عام طلبہ کے مقابلے پر انٹرنیٹ کے عادی طلبہ میں امتحانات میں ناکامی کی شرح ڈھائی گنا زیادہ تھی۔ تحقیق تحقیقی مقالے کے مرکزی مصنف لیفٹیننٹ کرنل پروفیسر عالمگیر خان آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں پروفیسر آف فزیالوجی ہیں۔ انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا: ’انٹرنیٹ کا نشہ کسی بھی دوسرے نشے کی مانند ہوتا ہے اور اس کے چھوٹنے کی بھی ویسے ہی جسمانی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔’

اس نشے میں اور دوسرے نشوں میں کیا فرق ہے؟ اس سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ‘نشے کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ کسی چیز کے عادی ہو جائیں اور وہ چیز آپ کو نہ ملے تو اس سے زندگی میں دلچسپی ہی ختم ہو جائے، کوئی چیز اچھی نہ لگے، آپ چڑچڑے پن کا شکار ہو جائیں، یا ڈیپریشن میں چلے جائیں۔’ انھوں نے کہا کہ ان کی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ’انٹرنیٹ کے نشے کا شکار لوگوں سے آپ ان کے گیجٹ لے لیں تو انھیں لگتا ہے کہ جیسے زندگی کا کوئی مقصد ہی نہیں ہے۔’

اس سے قبل پروفیسر عالمگیر اور ان کے ساتھیوں کی ایک اور تحقیق سے ظاہر ہوا تھا کہ انٹرنیٹ کا نشہ طلبہ کی تعلیمی سرگرمیوں پر بری طرح سے اثرانداز ہوتا ہے۔ جرنل آف اسلامک انٹرنیشنل میڈیکل کالج میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق عام طلبہ کے مقابلے پر انٹرنیٹ کے عادی طلبہ میں امتحانات میں ناکامی کی شرح ڈھائی گنا زیادہ تھی۔ پروفیسر عالمگیر کہتے ہیں کہ اس سلسلے میں والدین اور اساتذہ کا کردار بنتا ہے کہ وہ اپنے بچوں، خاص طور پر ایسے بچوں پر نظر رکھیں جن کی تعلیمی کارکردگی اچھی نہیں ہے اور دیکھیں کہ کہیں وہ انٹرنیٹ کے نشے کا شکار تو نہیں ہو گئے؟

پاکستان میں کیے جانے والے ان مطالعہ جات سے یہ بات کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ کسی بھی ٹیکنالوجی کی طرح انٹرنیٹ بھی دودھاری تلوار کی مانند ہے اور یہ بےتحاشا فائدے کے ساتھ ساتھ بے پناہ نقصان بھی پہنچا سکتی ہے۔ اس معاملے میں طلبہ، والدین، اساتذہ اور تعلیمی اداروں سب کو محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔

ظفر سید

بی بی سی اردو ڈاٹ کام

فیس بک کا استعمال بند کر دینا چاہیے، کیوں؟

آپ نے اکثر مضامین میں یہ پڑھا ہو گا کہ سوشل میڈیا کا استعمال کس طرح خود اعتمادی کو بری طرح نقصان پہنچاتا ہے اور احساس کمتری پیدا کرتا ہے، لیکن گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ صرف ایک ہفتے تک فیس بک کا استعمال ترک کر دینا دماغی صحت کو کافی بہتر بنا سکتا ہے۔ سائبر سائیکولوجی نامی جریدے میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق ڈنمارک کے 1100 افراد کو ایک ہفتے کے لیے فیس بک ترک کرنے یا اس پر مسلسل موجود رکھنے کے لیے چنا گیا۔ تحقیق سے پہلے اور بعد میں شرکا سے چند سوالات کیے گئے، جس میں پوچھا گیا کہ وہ زندگی سے کتنے مطمئن ہیں اور تنہائی، خوشی، پریشانی اور جوش جیسے جذبات کی سطح کو کتنا محسوس کرتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ لوگوں کا سوشل میڈیا استعمال کرنے کا انداز نتائج پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے۔

رضا کاروں کی جانب سے فیس بک پر صرف کیے گئے وقت اور ان کے دوستوں کی تعداد طے کرتی ہے کہ وہ سائٹ کتنی استعمال کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ سروے میں پوچھا گیا کہ فیس بک رضاکاروں کو حاسد بناتا ہے اور آیا وہ زیادہ پوسٹ کرتے ہیں یا ایسے ہی سکرول کرتے رہتے ہیں۔ ایک ہفتے بعد جو سائٹ سے دور رہے، انہوں نے زندگی میں اطمینان اور جذبات میں ٹھہراؤ میں بہتری ظاہر کی جبکہ سوشل میڈیا زیادہ استعمال کرنے والوں نے ذہنی صحت میں سب سے زیادہ مدد حاصل کی جبکہ کبھی کبھار اپنے پیجز دیکھنے والوں میں کوئی تبدیلی نہیں دکھائی دی، تو اس سے پہلے کہ آپ فیس بک کا ’’ڈی ایکٹیویٹ بٹن ڈھونڈیں۔ یہ جان لیں کہ یہ تحقیق کافی محدود تھی۔

رضاکاروں کو معلوم تھا کہ انہیں فیس بک کا استعمال ترک کرنا ہے یا جاری رکھنا ہے۔ اس لیے ہو سکتا ہے، پہلے سے ہی ان کا ذہن بنا ہوا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ انہوں نے سو فیصد سچ نہ بولا ہے۔ اس کے باوجود اگر آپ خود پر غور کریں، تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ فیس بک کی وجہ سے حسد اور عداوت بڑھ رہی ہے۔ خاص طور پر ان فیس بک صارفین نے، جو بہت زیادہ سماجی معلومات پیش کرتے ہیں اور یوں تقابل کا ایک سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔

سوشل میڈیا کے دور میں خوش کیسے رہا جائے؟

صبح ہوئی ہے، آنکھ کُھلی نہیں پر ہاتھ ہیں کہ حرکت میں آچکے ہیں۔ ایک ہاتھ سے آنکھیں مسل رہا ہوں، دوسرے سے سیل فون ٹٹول رہا ہوں۔ کدھر ہے؟ رات کو سرہانے ہی تو رکھا تھا، کہیں گر تو نہیں گیا؟ کسی نے اٹھا تو نہیں لیا؟ خدانخواستہ کہیں نیچے آ کر ٹوٹ ہی تو نہیں گیا۔۔۔۔ او یہ رہا۔۔۔۔ شکر ہے۔ ذرا دیکھوں تو کتنے میسجز آئے ہیں۔ فیس بُک کھولتا ہوں، نہیں پہلے انسٹا گرام یا پھر ٹوئٹر۔ یہ ہے ہم میں سے بہت ساروں کے دن کا آغاز۔ رینڈم فوٹوز لائک کرنا، نائیس ہے، اچھا ہے، بہت خوب، اوسم اور ایسے دو چار اور لگے بندے لفظوں سے ہر دوسرے تیسرے فوٹو یا ویڈیو پر کمنٹ کرنا۔ اِدھر کی چیز اُدھر اور یہاں کی وہاں شئیر کرتے ہوئے صبح کا آغاز کرنا اور سارا دن یہی کرتے رہنا۔

کوئی دوست ملنے آیا، بیٹھا، بات کی، سنی نہ سنی، فیس بک پر لگے رہے۔ وہ کالج کا کوئی واقعہ سناتا رہا یا کوئی اور بات یہ پتا نہیں، البتہ اس کے ساتھ لی ہوئی سیلفی تبھی اپ لوڈ ہو گئی۔ اسکول، کالج میں استاد نے کیا پڑھایا، کس موضوع پر بات کی، دھیان نہیں، یاد نہیں۔ ماں نے تو شوق سے کھانا بنایا ہے لیکن کیا، کیا جائے فاسٹ اینڈ فیوریس ایٹ کا ٹریلر بھی تو دیکھنا ہے۔ اس لئے ایک ہاتھ میں نوالہ اور دوسرے میں سیل فون ضروری ہے۔ بیوی بچوں کے ساتھ گھوم رہے ہیں، سب کا موڈ خوشگوار ہے۔ اچانک ایک نوٹیفکیشن آیا۔ دو سال پرانے ایک فوٹو پر کسی پرانے دوست نے لکھا ’’واہ وہ بھی کیا دن تھے جب توسارا دن نگہت کے ساتھ گزار دیتا تھا اور ہمیں سلام تک نہ کرتا تھا‘‘۔ سب کچھ جیسے دھڑام سے آ گرا۔ نگہت کون ہے؟ بیوی غصہ، بچے خوف زدہ اور صاحب پریشاں۔

یہ زندگی اور پھر گلہ کہ خوش نہیں ہم۔ 24 گھنٹے سوشل میڈیا سے جکڑے ہوئے اور شکوہ کے زندگی میں کوئی مزہ نہیں، پریشانی ہے، ڈپریشن ہے، بیوی فضول میں شک کرتی ہے، میاں بے جا پابندیاں لگاتے ہیں۔ بھئی زندگی جیو گے تو خوشی ملے گی ناں؟ سیل، لیپ ٹاپ، کمپیوٹر، سوشل میڈیا۔۔۔ یہ تو تمہاری زندگی کو آسان کرنے کے لئے تھے، انہیں تو تمہاری زندگی کا جزو ہونا تھا اور تم نے انہیں ہی اپنی زندگی کا کُل بنا لیا۔ دوست، گھر والے، بیوی، بچے رشتے دار، کسی کے لئے کوئی وقت نہیں لیکن انجان لوگوں کے لئے دن رات آن لائن۔ ’سوشلی کنیکٹیڈ‘ لیکن حقیقت میں کسی سے کوئی واسطہ نہیں۔ اسی سے پھر پریشانی اور ڈپریشن جنم لیتا ہے۔ حد سے تجاوز کرنے کے بجائے اعتدال میں رہتے ہوئے ان مصنوعات کا فائدہ اٹھائیے اور سہولت کو زحمت نہ بناتے ہوئے فیس بُک پڑھنے کے بجائے بکس پڑھی جائیں، فضول کمنٹس کی بجائے کچھ کام کا لکھیئے۔

عمران خوشحال راجہ

کیا فیس بک کے دوست آپ کے اصل دوست ہیں؟

سماجی روابط کی ویب سائٹس مثلاً ٹوئٹر اور فیس بک نے ہمیں ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کر دیا ہے، جہاں ہم کمپیوٹر کے سامنے سے اٹھے بغیر ناصرف اپنے دوستوں سے رابطے میں رہ سکتے ہیں بلکہ نئے دوست بھی بنا سکتے ہیں،لیکن نئی تحقیق میں ماہرین یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ کیا دوستی کے تعلقات براہ راست کے رابطے کے بغیر بھی پنپ سکتے ہیں۔

 یہ تازہ تحقیق آکسفرڈ یونیورسٹی کے تحقیق کاروں کی طرف سے منعقد کی گئی ، جس میں ایک مطالعے کے سربراہ ڈاکٹر رابن ڈنبر کو معلوم ہوا کہ ہماری نفسیاتی رکاوٹیں جو ہمیں اصل زندگی میں زیادہ قریبی دوست بنانے سے روکتی ہیں، وہی رکاوٹیں آن لائن قریبی دوستوں کی تعداد کو بھی محدود کرتی ہیں۔

یہ تحقیق ’’رائل سوسائٹی اوپن سائنس‘‘ کی جنوری کی اشاعت کا حصہ ہے، جس میں ڈاکٹر رابن ڈنبر نے کہا کہ یقینی طور پر فیس بک کی وجہ سے کبھی کبھار ملنے جلنے والے دوستوں کے ساتھ بھی تعلقات کو کسی نا کسی حد تک برقرار رکھا جا سکتا ہے، لیکن ان کا کہنا تھا کہ ’’اگر آپ اپنے دوستوں سے وقتاً فوقتاً ملاقاتیں نہیں کرتے ہیں، تو صرف سوشل میڈیا پر زیادہ وقت گزارنے سے آپ اپنے دوستوں کو واقف کار بننے سے نہیں روک سکتے ہیں‘‘۔

انھوں نے کہا کہ چہرے سے چہرے کے رابطے میں کوئی ایسی خاص بات ہے، جو دوستی کے رشتے کو برقرار رکھنے میں اہم ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وقتاً فوقتاً دوستوں کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بات چیت کرنا دوستی کو مضبوط رکھنے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ پروفیسر ڈنبر اور ان کے ساتھیوں نے دو مطالعاتی جائزے شروع کیے، جس میں انہوں نے سماجی دماغ کے نظریہ کی جانچ پڑتال کی یہ ایک سوچ ہے، جو بتاتی ہے کہ ہمارا دماغ تعلقات نبھانے کے لیے صرف 100 سے 200 افراد کے سائز کا گروپ تشکیل دینے کے قابل ہے۔
یہ دیکھنے کے لیے کہ کیا انٹرنیٹ کے زیادہ استعمال سے زیادہ حقیقی دوست بن سکتے ہیں؟ محققین نے اپنے دو جائزوں کے لیے 3,300 شرکاء کو شامل کیا۔ ایک عام سوشل میڈیا کے صارف نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر اس کے دوستوں کی اوسط 155 ہے۔ اسی طرح دوسرے جائزے کے شرکاء کے مطابق ان کے آن لائن دوستوں کی اوسط 183 تھی،تاہم جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ اپنے فیس بک کے دوستوں سے کتنا قریب ہیں؟ 
تو شرکاء سماجی دماغ کے نظریہ ’’سوشل برین ہائپوتھیسس‘‘ سے متفق نظر آئے، جس کے مطابق انسان نفسیاتی طور پر زیادہ دوستیاں نبھانے کے قابل نہیں ۔ فیس بک پر 155 دوست رکھنے والے صارفین نے بتایا کہ وہ دوستوں کے گروپ میں سے صرف 28 دوستوں کو اپنا حقیقی دوست سمجھتے ہیں۔مزید برآں انہوں نے وضاحت کی کہ فیس بک پر وہ صرف 4 ایسے دوست رکھتے ہیں،جنھیں وہ مصیبت کے وقت میں پکار سکتے ہیں جبکہ 14 وہ دوست ہیں، جن سے انھیں مشکل وقت میں ہمدردی مل سکتی ہے حتیٰ کہ فیس بک کے ایسے صارفین جن کے دوستوں کی اوسط زیادہ تھی۔
انہوں نے بھی مشکل حالات میں مدد اور ہمدردی کے لیے صرف چند دوستوں کے نام لیے۔شریک محقق فج ایس نے مطالعے سے نتیجہ اخذ کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے، جہاں نئے اور پرانے دوستوں کے ساتھ دوستی کو برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ فیس بک کے پوسٹ، لائیکس اور سیلفیاں اس خوشی کا متبادل نہیں بن سکتی ہیں، جو خوشی آپ کو دوستوں کے ساتھ وقت گزارنے سے حاصل ہوتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ سچ ہے کہ فیس بک، جہاں آپ کو نئے دوست بنانے کے قابل بناتا ہے، وہیں آپ کے واقف کاروں کو دوست بنانے کی اجازت دیتا ہے جبکہ حقیقی دنیا میں ہم واضح طور پر اپنے قریبی اور دور کے رشتوں میں فرق کر سکتے ہیں۔
نصرت شبنم