فیس بک : نیوز فیڈ کو بدلنے کا اقدام معاملات کو مزید بدتر بنانے کا باعث

فیس بک گزشتہ سال سے شدید تنقید کی زد میں ہے جب سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ وہاں جعلی خبریں یا اطلاعات کا مسئلہ کافی سنگین ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے وہ متعدد اقدامات بھی کر رہی ہے، جس میں سب سے اہم گزشتہ دنوں نیوزفیڈ میں تبدیلیاں لانے کا اعلان تھا۔ مگر ایسا نظر آتا ہے کہ نیوزفیڈ کو مکمل طور پر بدلنے کا اقدام معاملات کو مزید بدتر بنانے کا باعث بن رہا ہے۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق جن ممالک میں نیوزفیڈ میں تبدیلیوں کا تجربہ کیا جا رہا ہے، وہاں جعلی خبریں پوری سروس میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل چکی ہیں۔

فیس بک نے اس حقیقت کو راز میں نہیں رکھا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران نیوزفیڈ الگورتھم میں تبدیلیاں لائی گئی ہیں، تاہم باضابطہ اعلان گزشتہ ہفتے کرتے ہوئے بتایا کہ اب پبلشر کی پوسٹس کی جگہ دوستوں اور گھر والوں کی پوسٹس کو ترجیح دی جائے گی۔ آسان الفاظ میں اگر مختلف پیجز سے ابھی ویڈیوز یا پوسٹس سے نیوزفیڈ بھرا رہتا ہے، وہ اب دوستوں یا گھر والوں کے شیئرز سے بھرے گا۔
سننے میں تو اچھا خیال ہے کہ مگر اب تک جہاں اسے آزمایا گیا ہے، وہاں یہ تجربہ کچھ زیادہ اچھا نہیں رہا۔

بولیویا، سلواکیہ اور کمبوڈیا سمیت چھ ممالک میں نیوزفیڈ کی ان تبدیلیوں کو آزمایا ہے اور وہاں یہ مسئلہ سامنے آیا ہے کہ لوگوں کو اب جو خبریں مل رہی ہیں، وہ دوستوں کی شیئر کی ہوئی ہیں جو کہ سنسنی خیز بلکہ اکثر جعلی ہوتی ہیں۔ سلواکیہ کی ایک نیوز سائٹ کے ایڈیٹ کے مطابق لوگ عموماً بیزارکن خبریں یا حقائق شیئر نہیں کرتے، بلکہ انہیں توجہ حاصل کرنے کے کچھ سنسنی خیز مواد شیئر کرنا پسند ہوتا ہے۔ الگورتھم میں یہ تبدیلی یقیناً دنیا بھر میں ویب سائٹس یا دیگر اداروں کے لیے بڑا مسئلہ ثابت ہو گی مگر اس سے ہٹ کر بھی اس کے نتیجے میں بڑا مسئلہ سامنے آئے گا۔ فیس بک اہم میڈیا اداروں کے لیے اپنی خبریں شیئر کرنا مشکل ترین بنا دے گی اور ایسا کرنے سے جعلی خبروں کے لیے میدان صاف ہو جائے گا۔ اس حوالے سے ابھی تک فیس بک نے کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔
 

Advertisements

فیس بک پر ایسی پوسٹ کبھی مت کریں

اگر تو آپ فیس بک پر اپنی پوسٹس پر لائیکس، کمنٹس وغیرہ کی اپیل کرنے کے عادی ہیں تو ایسا کرنا فوری چھوڑ دیں، ورنہ سوشل میڈیا آپ کے خلاف ایکشن لے سکتا ہے۔ یہ انتباہ فیس بک کی جانب سے ایسے افراد کے لیے جاری کیا جو کہ اپنے دوستوں سے ووٹ، لائیک ، کمنٹ یا پوسٹ شیئر کرنے کی درخواست اس امید کے ساتھ کرتے ہیں کہ وہ لوگوں کی نیوزفیڈ پر سب سے اوپر نظر آئیں۔ فیس بک کے مطابق ایسی پوسٹس کو مکمل پابندی کا سامنا تو نہیں ہو گا مگر انہیں نیوز فیڈ پر اتنا نیچے پھینک دیا جائے گا کہ وہ اکثر افراد کی رسائی سے دور ہو جائیں گی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ نے اپنے بلاگ میں کہا کہ لوگ اس طریقہ کار کو بار بار استعمال کرتے ہیں اور اب ایسا کرنے پر ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
فیس بک کے مطابق ایسی پوسٹس پر کارروائی فوری طور پر شروع نہیں کی جارہی تاہم آئندہ چند روز بعد اس طرح کے طریقہ کار کو بالکل بھی برداشت نہیں کیا جائے گا۔ تاہم اس کا یہ بھی کہنا تھا کہ لوگوں سے مدد، مشورہ یا تجاویز مانگنے والی پوسٹس کے خلاف ایکشن نہیں لیا جائے گا جیسے کسی گمشدہ بچے کی رپورٹ، کسی مقصد کے لیے فنڈ اکھٹا کرنا یا سفری ٹپس وغیرہ۔

فیس بک کے مطابق اس اقدام کے بعد صارفین کے نیوزفیڈ پر زیادہ ‘مستند’ مواد نظر آنے لگے گا جس کی ساکھ کو حالیہ عرصے میں فرضی خبروں کے پھیلاﺅ سے شدید دھچکا لگا ہے۔ اب فیس بک کا کہنا ہے کہ اسپام، سنسنی پھیلانے والے یا غلط فہمی بڑھانے والے مواد کو پھیلنے سے روکنے کی کوشش کی جائے گی اور زیادہ بامعنی پوسٹس کو ہی صارف کی نیوزفیڈ میں دکھایا جائے گا۔ ویسے فیس بک کی جانب سے نیوزفیڈ کے الگورتھم میں اکثر اس طرح کی تبدیلیاں کی جاتی ہیں جس میں اسپام ویڈیو، جنک پوسٹس اور جعلی لائیکس کو ہدف بنایا جاتا ہے۔
 

’فیس بک‘ کے ساتھ کام کرنا گناہ کبیرہ تھا, فیس بک کے نائب سربراہ کا اظہار ندامت

سوشل میڈیا کی مشہور ویب سائیٹ ’فیس بک‘ کے ایک سابق ایگزیکٹو ڈپٹی ڈائریکٹر نے سوشل میڈیا کے ذریعے معاشرے کو تباہ کرنے کا اعتراف کرتے ہوئے ’فیس بک‘ کے ساتھ سرگرم رہنے پر شرمندگی کا اظہار کیا ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اسٹانفرڈ یونیورسٹی میں لیکچر کے دوران ’فیس بک‘ کے سابق سینیر عہدیدار چامتھ پالیھا پیٹیا نے کہا کہ میں نے خود بھی ’نیلی ویب سائیٹ‘ فیس بک‘ استعمال کرنا چھوڑ دی اور اپنے بچوں کو بھی اس سے منع کر دیا ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ ہم نے ’سوشل فیبرک‘ کو تباہ کرنے کے آلات ایجاد کیے ہیں۔ ان کا اشارہ فیس بک اور اس قبیل کی دوسری ویب سائیٹس کی طرف تھا۔ پالیھا پیٹیا نے بتایا کہ وہ ’فیس بک‘ میں صارفین میں اضافے کے نگران تھے اور 2007ء سے 2011ء تک ’فیس بک‘ کے ساتھ کام کیا۔ آج میں فیس بک کے ساتھ کام کرنےکو گناہ کبیرہ سمجھتا ہوں۔

انہوں نے مزید کہا کہ نہ صرف فیس بک بلکہ تمام سوشل ویب سائیٹس کو لمبے عرصے کے لیے بند کر دیا جائے۔ دوسری جانب فیس بک کے مالک اور چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ نے کمپنی کے سابق سینیر عہدیدار کے بیانات کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’چامتھ پالیھا پیٹیا‘ چھ سال سے کمپنی سے دور ہیں۔ ان کی باتوں میں کوئی صداقت نہیں۔ ’فیس بک‘ نے معاشروں کو تباہ نہیں بلکہ آپس میں جوڑا ہے۔

دبئی – العربیہ ڈاٹ نیت

 

فیس بک سب کچھ جانتی ہے ؟

سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک اس بات سے واقف ہوتی ہے کہ کروڑوں افراد اپنے فونز میں کیا کر رہے ہیں، چاہے وہ لوگ اس ویب سائٹ کا استعمال نہ بھی کر رہے ہوں۔ یہ دعویٰ امریکی جریدے وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں سامنے آیا۔ ویسے تو فیس بک خود تسلیم کرتی ہے کہ وہ صارفین کا ڈیٹا جمع کرتی ہے جس کا مقصد ان کے استعمال کا تجربہ بہتر بنانا ہوتا ہے۔ تاہم اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ فیس بک کسی اور کمپنی کے جمع کردہ ڈیٹا کو صارفین کی ایپ اور ویب سائٹس کے استعمال کی عادات کی تفصیلات جاننے کے لیے استعمال کرتی ہے، جیسے وہ کن ایپس کو استعمال کرتے ہیں، کتنا زیادہ استعمال کرتے ہیں اور کتنی وقت تک استعمال کرتے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔

یہ معلومات فیس بک پراڈکٹ روڈ میپ کو شکل دینے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں اور اسی وجہ سے واٹس ایپ کو خریدا گیا جبکہ اسنیپ چیٹ کو کچلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ فیس بک کے پاس اتنی زیادہ معلومات ہوتی ہیں کہ اسے علم ہوتا ہے کہ اسنیپ چیٹ صارفین کتنی پوسٹس روزانہ ایک دوسرے کو بھیجتے ہیں۔ اس سیٹ اپ سے فیس بک کو یہ جاننے میں مدد ملتی ہے کہ کونسی ایپس اور ویب سائٹس صارفین کے وقت کے لحاظ سے اس کے مقابل ہیں اور اس سے کمپنی کو انہیں شکست دینے میں کافی آسانی مل جاتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق فیس بک Onavo Protect نامی ایپ سے ڈیٹا اکھٹا کرتی ہے جو کہ ایک مفت وی پی این ایپ ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ یہ صارفین کا آن لائن ڈیٹا محفوظ رکھتی ہے، تاہم یہ جس کمپنی نے تیار کی تھی اسے فیس بک نے چند سال پہلے خرید لیا تھا۔ یہ ایپ اس وقت بھی ڈھائی کروڑ کے قریب افراد استعمال کر رہے ہیں اور رپورٹ میں بتایا گیا کہ جن لوگوں کے فونز میں یہ انسٹال ہے، وہ جب کوئی ایپ اوپن یا ویب سائٹ کھولتے ہیں، تو یہ ایپ ٹریفک کو فیس بک سرورز کی جانب ری ڈائریکٹ کر دیتی ہے۔ Onavo Protect کی شرائط میں درج بھی ہے کہ یہ موبائل ڈیٹا اور ایپ کے استعمال کا تجزیہ کرتی ہے اور اسے ‘ملحقہ اداروں’ سے شیئر بھی کر سکتی ہے تاہم لوگ عام طور پر اسے پڑھتے ہی نہیں۔
 

فیس بک پر صرف ’’لائیک ‘‘ کرنے کا نقصان

بہت سے لوگ دن بھر میں آنکھیں بند کر کے سینکڑوں لائیک کر کے ہی دم لیتے

ہیں۔ لیکن وہ اس کے نقصانات سے بے خبر ہوتے ہیں ایک لائیک کرتے ہی آپ کی سرچ ہسٹری سوشل میڈیا کے کرتا دھرتائوں کے علم میں آ جائے گی۔ وہ جو چاہیں معلوم کر سکتے ہیں۔ چنانچہ سوچ سمجھ کر لائیک یا ڈس لائیک کیجیے۔ وہ یہ سب کچھ بند کمپیوٹرز پر بھی کر سکتے ہیں۔ سرچ انجن کوئی بھی ہو ، یا سوشل میڈیا ہو، آپ کمپیوٹر بند کر کے کسی اورکام پر لگ جائیں لیکن سوشل میڈیا کے کرتا دھرتا اگر چاہیں تو بند کمپیوٹرز پر بھی آپ کی سرچ ہسٹری کا پتا چلا سکتے ہیں۔ جب کوئی کسی بھی ویب سائٹ پر لائیک کا بٹن دباتا ہے تو یہ انٹرنیٹ کے ریکارڈ میں چلا جاتا ہے اور فیس بک کے ریکارڈ میں بھی۔

بند کمپیوٹرز پر بھی یہ ادارے اس کی مدد سے ڈیٹا معلوم کر سکتے ہیں۔ ایسا ہی ایک مقدمہ امریکہ میں دائر ہوا، ایک شخص نے فیس بک انتظامیہ پر اپنا ڈیٹا چوری کرنے کا الزام لگایا۔ تاہم امریکی جج نے تکنیکی وجوہات کی بنا پر ریلیف دینے سے گریز کیا۔ درخواست گزار نے کہا کہ فیس بک بند کمپیوٹر پر اس کا ڈیٹا چوری کر سکتا ہے ۔ اس کے کیخلاف فیصلہ سنایا جائے‘‘۔ عدالت نے کہا کہ درخواست گزار نے ایسا کوئی واقعہ نہیں درج کیا جس سے ڈیٹا کی چوری کا پتہ چل سکے۔ درخواست دہندہ بہت سے طریقوں سے اپنا سسٹم محفوظ بنا سکتا ہے۔اس نے ایسا کیوں نہیں کیا۔ وہ اپنے سسٹم کو محفوظ بنانے میں خود ناکام رہا ہے۔امریکی ڈسٹرکٹ جج ایڈورڈ ڈیولا کے مطابق کیلی فورنیا کا یہ شہری اپنے سسٹم کی پرائیویسی کو قائم رکھنے میں ناکام رہا۔ وہ چاہتا تو مختلف طریقوں کے ذریعے اپنی پرائیویسی قائم رکھ سکتا تھا۔ لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔ اس لیے درخواست مسترد کی جاتی ہے۔ خواتین و حضرات آپ بھی ہوشیار رہیے،ایک لائیک مہنگی پڑ سکتی ہے۔
 

سید آصف عثمان گیلانی

فیس بک کے ماہانہ صارفین کی تعداد دو ارب کے قریب

سماجی رابطوں کی ویسب سائٹ فیس کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال
کے ابتدائی تین ماہ میں اس کے صارفین کی تعداد دو ارب تک پہنچ گئی ہے جبکہ اس کے منافع میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ فیس بک کا کہنا ہے کہ فیس بک استعمال کرنے والوں کی تعداد میں ہر ماہ ایک ارب 94 کروڑ تک کا اضافہ ہوا ہے جن میں سے ایک ارب 30 کروڑ روانہ کی بنیادوں پر استعمال کرتے ہیں۔ 

امریکی کمپنی کے مطابق ابتدائی تین ماہ کے دوران کمپنی کو تین ارب ڈالر سے زائد کا منافع ہے۔ تاہم فیس بک کا کہنا ہے کہ اشتہارات سے ہونے والی آمدن میں کمی ہوئی ہے۔ فیس بک کو حال ہی میں نفرت انگیز مواد، بچوں کے ساتھ زیادتی اور سوشل نیٹ ورک پر خود کو نقصان پہنچانے جیسے واقعات کے باعث شدید دباؤ کا برداشت کرنا پڑا۔

فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے اعلان کیا کہ وہ ویب سائٹ پر موجود مواد میں تبدیلی کے لیے تین ہزار اضافی افراد کو ملازمت پر رکھ رہے ہیں۔ دنیا کی کل آبادی میں سے 25 فیصد ہر ماہ فیس بک کا استعمال کرتے ہیں، جبکہ زیادہ تر نئے صارفین یورپ اور شمالی امریکہ سے باہر کے ہیں۔ ان نتائج کے بعد مارک زکربرگ کا کہنا تھا کہ صارفین کی بڑھتی تعداد کے باعث فیس بک کو یہ موقع ملا ہے کہ وہ اپنی ویب سائٹ کو مزید پھیلا کر ٹی وی، ہیلتھ اور سیاست کی جانب بڑھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اس بنیاد کے بعد ہماری توجہ کمیونٹی بنانے پر ہو گی۔ بہت کچھ کرنے کو ہے۔‘

فیس بک پر ان کاموں سے گریز کریں

فیس بک بہت مقبول ہے اور ایسا بلاوجہ نہیں۔ ایک دوسرے کو جاننے اور نئے لوگوں سے ملنے کا جذبہ اور شوق کم و بیش ہر فرد میں ہوتا ہے۔ فیس بک اس کی تکمیل کا ایک ذریعہ بن چکی ہے۔ کون نہیں چاہے گا کہ خوب سے خوب تر نظر آئے لیکن چند کام ایسے ہیں جو ناسمجھی میں کر لیے جاتے ہیں مگر جنہیں دوسرے ناپسند کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک حد سے زیادہ تصاویر شیئر کرنا ہے۔ کچھ لوگوں کی عادت بن جاتی ہے کہ وہ اپنی، اپنے کپڑوں اور ساتھیوں وغیرہ کی ایک کے بعد دوسری تصویر شیئر کرتے رہتے ہیں۔ اگر خاندان کے افراد یا دوستوں کی تصاویر زیادہ تعداد میں شیئر کی جائیں گی تو انہیں برا بھی لگ سکتا ہے۔ کچھ لوگ نہیں چاہتے کہ ان کی تصاویر سرعام دیکھی جائیں۔ بعض دوست یا خاندان کے افراد اپنی مرضی کی تصاویر ہی شیئر کرنا چاہتے ہیں۔ 

فیس بک پر بہت زیادہ فرینڈز بنانا بھی اچھا خیال نہیں کیا جاتا۔ زیادہ تر ان افراد کو پسند کیا جاتا ہے جو سوچ سمجھ کر فرینڈز کا انتخاب کرتے ہیں۔ جن کے بہت زیادہ فیس بک فرینڈز ہوں ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ فیس بک پر ضرورت سے زیادہ توجہ دے رہے ہیں یا انہیں توجہ حاصل کرنے کا جنون ہے۔

 فیس بک پر انتہائی نجی معاملات کو بیان کرنے والوں یا ان پر بحث کرنے والوں کو اچھا خیال نہیں کیا جاتا۔ ان کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ وہ عام زندگی میں بھی لاپرواہ ہوں گے۔ اسی طرح دوسروں کے نجی معاملات پر گفتگو بھی غیر اخلاقی اور نامناسب خیال کی جاتی ہے۔ دوسروں کی ٹوہ لگانا اور بار بار سوال کرنا بھی ناموزوں ہوتا ہے۔ ایسا کرنے والوں کے بارے میں اچھی رائے قائم نہیں ہوتی۔

فیس بک پر بہت قریب سے لی گئی تصویر کو پروفائل پکچر کے طور پر نہیں لگانا چاہیے۔ یہ عام طور پر بدنما لگتی ہے۔ اسی طرح ہر مرتبہ سنجیدہ تصاویر شیئر کرنابھی اچھا نہیں ہوتا۔ سنجیدگی کے ساتھ ہنستی مسکراتی تصاویر بھی نظر آنی چاہئیں۔ فیس بک پر خودنمائی مت کریں۔ چاہیے آپ کو معلوم نہ ہو لیکن دل ہی دل میں آپ کے فرینڈز جان لیں گے کہ آپ ایسا کر رہے گے۔ اسی طرح خود کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا بھی اچھا خیال نہیں کیا جاتا۔ بعض افراد جب بھی کسی مہنگے ہوٹل، ایئرپورٹ یا اچھے ریسٹورنٹ میں جاتے ہیں اپنی تصویر یا مقام فیس بک پر ضرور شیئر کرتے ہیں۔ یہ خودنمائی دوسروں کو آسانی سے سمجھ میں آ جاتی ہے۔  

فیس بک کے دلچسپ حقائق

فیس بک کا ہیڈ کوارٹر امریکی ریاست کیلی فورنیا میں واقع ہے جو اس کی اپڈیٹنگ اور اعداد و شمار کا ذمہ لیے ہوئے ہے۔ فیس بک کا شمار دنیا کی بہترین سوشل میڈیا ویب سائٹس میں ہوتا ہے۔ فیس بک پر سوشل ورک کے ساتھ ساتھ پروڈکٹس کی تشہیر بھی کی جا سکتی ہے۔ فیس بک کے مالک مارک زکر برگ ہیں جنہوں نے 4 فروری 2004ء کو اس کی بنیاد رکھی۔ دورانِ تعلیم زکر برگ نے اپنے دوست احباب سے تعلیمی معاملات اور دیگر سرگرمیوں میں آپسی تعلق بنائے رکھنے کے لیے فیس بک ڈیزائن کی۔ شروعات میں فیس بک کی حدیں نہایت محدود رہیں۔ یہاں تک کہ یہ صرف زکر برگ کے دوستوں کے زیرِ استعمال رہی۔
بعدازاں مختلف کالجز اور یونیورسٹی کے طالب علموں کے لیے بھی فیس بک کا ایک نیا ورژن متعارف کروایا گیا۔ 2006ء میں 13 سال تک کے بچوں کو بھی اپنا اکاؤنٹ رجسٹر کروانے کی اجازت دے دی گئی، لیکن چند ضروری پالیسیوں کا پابند ہونا ضروری تھا۔ فیس بک کا لفظ دراصل دو الفاظ ’’فیس‘‘ اور ’’بک‘‘ پر مشتمل ہے۔ یہ لفظ امریکی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں استعمال کی جانے والی طالب علموں اور اساتذہ کی ڈائریکٹری جس میں ان کی تصویر سمیت تمام تعلیمی اور دیگر عام معلومات درج کی جاتی تھی، سے لیا گیا ہے۔ اس طرح صارف اپنے قریبی رشتے داروں، دوستوں اور آفس سٹاف کا الگ الگ گروپ بنا سکتا ہے، 2012ء میں انکارپوریٹ ہوجانے کے بعد فیس بک نے ’’انٹل پبلک آفرنگ‘‘ شروع کی۔ اس طرز کی آفرنگ میں کمپنی اپنے شیئرز سرمایہ کاروں کو فروخت کرنے کی پیش کش کرتی ہے۔ زکر برگ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ صرف 3 مہینوں میں وہ اپنی کمپنی کے 104 بلین ڈالر زکے شیئرز بیچ چکے تھے، جو اس وقت کے سٹاک مارکیٹ میں سب سے زیادہ تھے۔
13 جولائی 2015ء میں فیس بک تیزی سے ترقی کرتی ہوئی سٹاک مارکیٹ میں 250 بلین ڈالر کی حد عبور کر گئی۔ 30 ستمبر2016ء کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں فیس بک پر 1.79 بلین صارفین ہر روز سرگرم رہتے ہیں۔ جبکہ اپریل 2016ء کے اعداد و شمار کے مطابق فیس کے 65 فیصد صارفین 13 سے 18 سال کی عمر کے ہیں۔ فیس بک کے بارے کچھ دلچسپ حقائق یہ ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر ہیکرز فیس بک پر 6 لاکھ مرتبہ اکاؤنٹس ہیک کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بیشتر صارفین 40 منٹ روزانہ فیس بک استعمال کرتے ہیں۔ فیس بک کی پہلی اپ لوڈ کی جانے والی تصویر الپاچینو کی تھی۔ فیس بک پر تقریباً 30 ملین مرے ہوئے لوگوں کے اکاؤنٹ موجود ہیں۔ ٹویٹر کی طرح فیس بک بھی چائنہ میں 7 سال سے پابندی کا شکار ہے۔ کسی بھی پینترے سے فیس بک پر مارک زکر برگ کو بلاک نہیں کیا جا سکتا۔ فیس بک ہر امریکی صارف سے تقریباً 5.85 ڈالر کماتا ہے۔ فیس بک کے مالک مارک زکر برگ نے 2013ء میں 1 بلین ڈالر غرباء کو عطیہ کیے اور اس طرح وہ دنیا کے سب سے بڑے عطیہ کرنے والے بن گئے ۔
فیس بک پر موجود ’’Like‘‘ کا بٹن دراصل ’’زبردست‘‘ کا مونوگرام ہے۔ تقریباً 8.7 فیصد فیس بک اکاؤنٹس جعلی ہیں۔ فیس بک پر ہر منٹ میں 1.8 ملین لائکس کیے جاتے ہیں۔ سٹاک مارکیٹ نیچے آنے پر فیس بک ہر منٹ میں 25 ہزار ڈالر گنوا دیتا ہے۔ 2005ء میں ’’مائی سپیس‘‘ نامی کمپنی نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ فیس بک خرید رہی ہے لیکن 75 ملین ڈالر جیسی چھوٹی رقم لینے سے زکر برگ نے انکار کر دیا۔ مارک زکر برگ مالک ہونے کی حیثیت سے ماہانہ 1 ڈالر یعنی 100 روپے تنخواہ لیتے ہیں۔ فیس بک نے اپنے ایک ملازم کو بچے کی پیدائش پر 3 مہینے کی چھٹی تنخواہ کے ساتھ دی تھی۔ فیس بک میں ایک ایسا آپشن بھی ہے جس کے استعمال سے مرنے سے قبل کوئی شخص اپنا اکاؤنٹ کسی دوسرے کے حوالے کر سکتا ہے۔ فیس بک کا پہلا ’’سالانہ ہیکر کپ کوڈنگ چیلنج‘‘ گوگل کے ایک سافٹ ویئر پروگرامر نے جیتا تھا۔ یہ شخص جب اپنا انعام لینے فیس بک کے ہیڈ کوارٹر پہنچا تو اس نے گوگل کا بیچ لگایا ہوا تھا۔
دانش احمد انصاری