کیا سوشل میڈیا نوجوانوں کے درمیان خود کشی کی وجہ بن رہا ہے؟

امریکا میں سنجیدہ حلقے نوعمر (ٹین ایج) لڑکے اور لڑکیوں میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے رحجان سے سخت پریشان ہیں اور ان کے خیال میں اس کی وجہ فیس بک اور سوشل میڈیا ہو سکتے ہیں۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گزشتہ دو عشروں سے نوجوانوں میں خودکشی کا رحجان بتدریج کم ہو رہا تھا لیکن سال 2010 سے 2015 کے درمیان اس میں واضح اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ماہرین اس کی وجہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس ضمن میں کوئی واضح جواب کسی کے پاس نہیں لیکن نفسیاتی و سماجی ماہرین کے مطابق انٹرنیٹ پر تنقید یعنی ’سائبر بلیئنگ‘ (cyber bullying) اس کی وجہ ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق سوشل میڈیا پر نوعمر بچوں کی ذہنی تباہی کے تمام لوازمات موجود ہیں۔

امریکہ میں کئی نوجوان لڑکے لڑکیوں کی خودکشی کے بعد جب سوشل میڈیا کے استعمال اور اس کے اثرات پر ایک سروے کیا گیا تو کولوراڈو کی ایک 17 سال لڑکی نے بتایا کہ وہ انسٹا گرام کی تصاویر اور پوسٹس دیکھ دیکھ کر اکتا جاتی ہے۔ اس مہم کے تحت نوعمر بچوں کو آف لائن وقت گزارنے کو بھی کہا گیا تھا۔ اس مہم میں نوجوانوں سے کہا گیا ہے کہ وہ کم ازکم ایک ماہ تک آف لائن رہیں اور انٹرنیٹ سے دور رہیں۔ ایک اور 17 لڑکی کلو ای شلنگ نے کہا کہ سوشل میڈیا سے جس برے انداز میں لوگ گزر رہے ہیں وہ ان کے بارے میں کچھ پوسٹ نہیں کرتے۔ امریکہ میں سی ڈی سی کے مطابق امریکہ میں 13 سے 18 سال کی بڑی آبادی انٹرنیٹ پر موجود ہے۔ ایک سروے میں 13 سے 18 سال کے 5 لاکھ نوعمر لڑکے اور لڑکیوں کو شامل کیا گیا۔ ان سے دوستوں سے ملاقات اور سماجی تعلقات اور سوشل میڈیا استعمال کرتے ہوئے ان کے موڈ کے بارے میں پوچھا گیا اور خودکشی کے خیالات کی چھان بین بھی کی گئی۔

پانچ لاکھ نوعمر بچوں کے سروے کے بعد اس مطالعے سے جو نکات سامنے آئے وہ کچھ اس طرح تھے کہ شرکا روزانہ اوسط پانچ گھنٹے اپنے اسمارٹ فون پر صرف کرتے ہیں اور یہ شرح 2009 میں 8 فیصد تھی جو 2015 میں بڑھ کر 19 فیصد تک جا پہنچی۔ اب جو بچے روزانہ ایک گھنٹہ صرف کرتے تھے ان کے مقابلے میں زیادہ یعنی پانچ گھنٹے اسمارٹ فون سے کھیلنے والوں میں خودکشی کے خیالات 70 فیصد زائد نوٹ کیے گئے۔ 2015 میں 36 فیصد شرکا نے کہا کہ وہ خود کو اداس اور بے بس محسوس کرتے ہیں جبکہ 2009 میں یہ شرح 32 فیصد تھی۔ لڑکیوں میں یہ شرح 2015 تک 45 فیصد تک نوٹ کی گئی۔ جو لوگ بار بار سوشل میڈیا پر جاتے تھے، وہ بقیہ لوگوں کے مقابلے میں 14 فیصد زیادہ ڈپریشن کے شکار تھے۔ اس کی وجہ سوشل میڈیا پر وہ پوسٹس ہیں جنہیں دیکھ کر کوئی الجھن تو کوئی احساسِ کمتری کا شکار ہو جاتا ہے۔

اس سروے کی سربراہ ڈاکٹر جین ٹوینگے سان ڈیاگو یونیورسٹی میں نفسیات کی پروفیسر ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ والدین اپنے نوعمر بچوں پر نظر رکھیں اور ان کےلیے اسمارٹ فون استعمال کرنے کے وقت کی حد مقرر کریں۔ تاہم نوجوانوں کے ایک معالج ڈاکٹر وکٹر اسٹراسبرگر کہتے ہیں کہ اس ضمن میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ وکٹر کے مطابق کچھ لوگ سوشل میڈیا کو اس کا ذمہ دار نہیں سمجھتے اور مثال دیتے ہیں کہ جب امریکہ میں کامک بکس آئیں، جب ٹی وی کا راج شروع ہوا اور جب راک اینڈ رول کا رحجان بڑھا تو لوگوں نے کہا کہ اب دنیا خاتمے کے قریب ہے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ تاہم سوشل میڈیا دو طرفہ تنقید کا ایک اہم ذریعہ ہے اور یہاں لوگ خفیہ رہتے ہوئے بھی دوسروں پر اثر انداز ہوتے ہیں اور ہمیں اسی منفی قوت کو سمجھنا ہو گا۔

بشکریہ روزنامہ ایکسپریس اردو

Advertisements

فیس بک پر ان کاموں سے گریز کریں

فیس بک بہت مقبول ہے اور ایسا بلاوجہ نہیں۔ ایک دوسرے کو جاننے اور نئے لوگوں سے ملنے کا جذبہ اور شوق کم و بیش ہر فرد میں ہوتا ہے۔ فیس بک اس کی تکمیل کا ایک ذریعہ بن چکی ہے۔ کون نہیں چاہے گا کہ خوب سے خوب تر نظر آئے لیکن چند کام ایسے ہیں جو ناسمجھی میں کر لیے جاتے ہیں مگر جنہیں دوسرے ناپسند کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک حد سے زیادہ تصاویر شیئر کرنا ہے۔ کچھ لوگوں کی عادت بن جاتی ہے کہ وہ اپنی، اپنے کپڑوں اور ساتھیوں وغیرہ کی ایک کے بعد دوسری تصویر شیئر کرتے رہتے ہیں۔ اگر خاندان کے افراد یا دوستوں کی تصاویر زیادہ تعداد میں شیئر کی جائیں گی تو انہیں برا بھی لگ سکتا ہے۔ کچھ لوگ نہیں چاہتے کہ ان کی تصاویر سرعام دیکھی جائیں۔ بعض دوست یا خاندان کے افراد اپنی مرضی کی تصاویر ہی شیئر کرنا چاہتے ہیں۔

فیس بک پر بہت زیادہ فرینڈز بنانا بھی اچھا خیال نہیں کیا جاتا۔ زیادہ تر ان افراد کو پسند کیا جاتا ہے جو سوچ سمجھ کر فرینڈز کا انتخاب کرتے ہیں۔ جن کے بہت زیادہ فیس بک فرینڈز ہوں ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ فیس بک پر ضرورت سے زیادہ توجہ دے رہے ہیں یا انہیں توجہ حاصل کرنے کا جنون ہے۔  فیس بک پر انتہائی نجی معاملات کو بیان کرنے والوں یا ان پر بحث کرنے والوں کو اچھا خیال نہیں کیا جاتا۔ ان کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ وہ عام زندگی میں بھی لاپرواہ ہوں گے۔ اسی طرح دوسروں کے نجی معاملات پر گفتگو بھی غیر اخلاقی اور نامناسب خیال کی جاتی ہے۔ دوسروں کی ٹوہ لگانا اور بار بار سوال کرنا بھی ناموزوں ہوتا ہے۔ ایسا کرنے والوں کے بارے میں اچھی رائے قائم نہیں ہوتی۔

فیس بک پر بہت قریب سے لی گئی تصویر کو پروفائل پکچر کے طور پر نہیں لگانا چاہیے۔ یہ عام طور پر بدنما لگتی ہے۔ اسی طرح ہر مرتبہ سنجیدہ تصاویر شیئر کرنابھی اچھا نہیں ہوتا۔ سنجیدگی کے ساتھ ہنستی مسکراتی تصاویر بھی نظر آنی چاہئیں۔ فیس بک پر خودنمائی مت کریں۔ چاہیے آپ کو معلوم نہ ہو لیکن دل ہی دل میں آپ کے فرینڈز جان لیں گے کہ آپ ایسا کر رہے گے۔ اسی طرح خود کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا بھی اچھا خیال نہیں کیا جاتا۔ بعض افراد جب بھی کسی مہنگے ہوٹل، ایئرپورٹ یا اچھے ریسٹورنٹ میں جاتے ہیں اپنی تصویر یا مقام فیس بک پر ضرور شیئر کرتے ہیں۔ یہ خودنمائی دوسروں کو آسانی سے سمجھ میں آ جاتی ہے۔

سماجی تنہائی کا سبب سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال

امریکی ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ ٹوئٹر، فیس بک اور پنٹریسٹ جیسی سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کی وجہ ہے زیادہ تعداد میں لوگ تنہائی محسوس کر رہے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق ایک دن میں دو گھنٹے سے زیادہ سوشل میڈیا کے استعمال سے ایک فرد میں سماج سے الگ تھلگ ہونے کے امکانات دگنے ہوسکتے ہیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دوسرے افراد کی زندگیوں کے خیالی تصور سے حسد کے جذبات پیدا ہوسکتے ہیں۔ یونیورسٹی آف پٹسبرگ کے شعبہ طعبیات کی پروفیسر اور رپورٹ کی معاون مصنف الزبتھ ملر کا کہنا ہے کہ ’یہ تحقیق انسٹاگرام، سنیپ چیٹ اور ٹمبلر استعمال کرنے والوں سے متعلق ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ پہلے کیا آتا، سوشل میڈیا کا استعمال یا پہلے سے ہی موجود تنہائی کا رجحان۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’یہ ممکن ہے کہ نوجوان جو ابتدائی طور پر معاشرے میں تنہا محسوس کرتے ہیں انھوں نے سوشل میڈیا کا رخ اختیار کیا ہو ۔ یا یہ ان کا سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال ہو سکتا ہے جس کی وجہ سے وہ حقیقی دنیا میں تنہائی محسوس کرنے لگ گئے ہوں۔‘ اس رپورٹ کے مطابق ایک فرد جتنا زیادہ وقت آن لائن صرف کرتا ہے اتنا ہی کم وقت وہ حقیقی دنیا میں میل جول کرتا ہے۔ سوشل میڈیا کے استعمال سے بے دخل کیے جانے کے جذبات بھی بڑھ سکتے ہیں، جیسا کہ کسی تقریب میں دوستوں کی تصویر دیکھنا جہاں آپ کو مدعو نہ کیا گیا ہو۔

یہ تحقیق کرنے والی ٹیم نے 19 سے 32 سال کے عمر کے تقریبا 2000 افراد سے سوشل میڈیا کے استعمال کے بارے میں سوالات کیے تھے۔ یونیورسٹی آف پٹسبرگ کے سکول آف میڈیسن کے پروفیسر برائن پریمیک کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک اہم معاملہ ہے کیونکہ دماغی صحت کے مسائل اور سماجی تنہائی نوجوانوں میں وبائی امراض کی سطح پر ہیں۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ’ہم خلقی طور پر سماجی جانور ہیں، لیکن جدید زندگی ہمیں یکجا کرنے کے بجائے تقسیم کرنے کا رجحان رکھتی ہے۔‘ وہ کہتے ہیں: ’اگرچہ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ سوشل میڈیا سماجی تنہائی ختم کرنے کے مواقع فراہم کرتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ وہ حل نہیں جس کی لوگ امید کر رہے ہیں۔‘

پاکستان میں انٹرنیٹ کا بڑھتا ہوا نشہ

ایک حالیہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ طلبہ کی تقریباً 16.7 فیصد تعداد انٹرنیٹ کے نشے میں مبتلا ہے اور اس سے لڑکے اور لڑکیاں دونوں یکساں طور پر متاثر ہیں۔ پاکستان جرنل آف میڈیکل سائنسز کے حالیہ شمارے میں شائع ہونے والی ایک مقالے کے مطابق آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے جن طلبہ نے تحقیق میں حصہ لیا، ان میں سے 16.1 فیصد انٹرنیٹ کے درمیانے نشے میں مبتلا پائے گئے، جب کہ 0.6 فیصد کو اس نشے کا شدید طور پر شکار کہا جا سکتا ہے۔ تحقیق کے نتائج کے مطابق انٹرنیٹ کا عادی ہونے کے معاملے میں کوئی صنفی امتیاز نہیں پایا گیا اور طلبہ اور طالبات تقریباً یکساں شرح سے اس میں مبتلا ہوتے ہیں۔

تحقیق میں ایک اور بات یہ سامنے آئی کہ جو طلبہ کسی قسم کے کھیلوں یا جسمانی سرگرمی میں حصہ لیتے تھے، ان کے اس مخصوص نشے میں گرفتار ہونے کی شرح دوسروں کے مقابلے پر کم تھی۔ انٹرنیٹ کو عام ہوئے زیادہ عرصہ نہیں گزرا، لیکن حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ انٹرنیٹ کے نشے کے لیے باقاعدہ طبی اصطلاح ‘انٹرنیٹ ایڈکشن ڈس آرڈر’ یا آئی اے ڈی وضع کی جا چکی ہے، جس کی تعریف کچھ یوں ہے: ‘انٹرنیٹ کے استعمال میں خود پر قابو نہ رکھ پانا، جس کی وجہ سے مریض جسمانی، نفسیاتی اور سماجی مسائل کا شکار ہو سکتا ہے۔’

انٹرنیٹ جہاں ایک طرف طلبہ کو رابطے، معلومات اور تفریح کا سستا اور سہل وسیلہ فراہم کرتا ہے، تو دوسری جانب یہ ان نوجوانوں کو کسی نشے کی طرح اپنی لپیٹ میں بھی لے سکتا ہے۔ پچھلے چند برسوں میں ہمارے ملک میں انٹرنیٹ کا استعمال جنگل کی آگ کی طرح پھیلا ہے۔ سوشل میڈیا مینیجمنٹ کے ادارے ہُوٹ سویٹ کی رپورٹ ‘ڈیجیٹل ان 2017’ کے مطابق 2016 کے مقابلے پر حالیہ برس میں پاکستان میں انٹرنیٹ کے استعمال میں 20 فیصد کا اضافہ ہوا ہے اور اب ملک بھر میں ساڑھے تین کروڑ افراد انٹرنیٹ استعمال کر رہے ہیں، جن کا 72 فیصد حصہ موبائل فون کے ذریعے آن لائن ہوتا ہے۔

ظاہر ہے کہ اس تعداد کا بہت بڑا حصہ طلبہ پر مشتمل ہے، جو اپنی پڑھائی کے لیے انٹرنیٹ استعمال کرتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انٹرنیٹ پر تعلیمی وسائل کی کوئی حد نہیں اور یہ میڈیم طلبہ کو تعلیم و تحقیق میں بہت مدد دے سکتا ہے، لیکن کسی بھی طالبعلم کو پڑھائی کے دوران توجہ کے ارتکاز کی اشد ضرورت ہوتی ہے، لیکن انٹرنیٹ اس کے بالکل برعکس توجہ بٹانے کے بےشمار مواقع فراہم کرتا ہے، جس سے طالبعلم بھٹک کر کسی اور طرف نکل جاتا ہے۔ جرنل آف میڈیکل سائنسز میں شائع ہونے والی تحقیق کے نتائج کے مطابق طلبہ و طالبات یکساں طور پر انٹرنیٹ کے اسیر تھے۔ تاہم ہانگ کانگ اور ایران میں اسی قسم کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ لڑکے زیادہ اس عارضے کا شکار ہوتے ہیں۔

اس کے علاوہ جو طلبہ کسی قسم کی جسمانی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، ان کے اندر اس نشے کا شکار ہونے کی شرح کم تھی، کیوں کہ ایسے طلبہ جلدی سونے کے عادی تھے اور وہ اپنے وقت کا خاصہ حصہ موبائل یا لیپ ٹاپ سے دور کھیل کے میدان میں گزارتے تھے۔ عام طلبہ کے مقابلے پر انٹرنیٹ کے عادی طلبہ میں امتحانات میں ناکامی کی شرح ڈھائی گنا زیادہ تھی۔ تحقیق تحقیقی مقالے کے مرکزی مصنف لیفٹیننٹ کرنل پروفیسر عالمگیر خان آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں پروفیسر آف فزیالوجی ہیں۔ انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا: ’انٹرنیٹ کا نشہ کسی بھی دوسرے نشے کی مانند ہوتا ہے اور اس کے چھوٹنے کی بھی ویسے ہی جسمانی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔’

اس نشے میں اور دوسرے نشوں میں کیا فرق ہے؟ اس سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ‘نشے کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ کسی چیز کے عادی ہو جائیں اور وہ چیز آپ کو نہ ملے تو اس سے زندگی میں دلچسپی ہی ختم ہو جائے، کوئی چیز اچھی نہ لگے، آپ چڑچڑے پن کا شکار ہو جائیں، یا ڈیپریشن میں چلے جائیں۔’ انھوں نے کہا کہ ان کی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ’انٹرنیٹ کے نشے کا شکار لوگوں سے آپ ان کے گیجٹ لے لیں تو انھیں لگتا ہے کہ جیسے زندگی کا کوئی مقصد ہی نہیں ہے۔’

اس سے قبل پروفیسر عالمگیر اور ان کے ساتھیوں کی ایک اور تحقیق سے ظاہر ہوا تھا کہ انٹرنیٹ کا نشہ طلبہ کی تعلیمی سرگرمیوں پر بری طرح سے اثرانداز ہوتا ہے۔ جرنل آف اسلامک انٹرنیشنل میڈیکل کالج میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق عام طلبہ کے مقابلے پر انٹرنیٹ کے عادی طلبہ میں امتحانات میں ناکامی کی شرح ڈھائی گنا زیادہ تھی۔ پروفیسر عالمگیر کہتے ہیں کہ اس سلسلے میں والدین اور اساتذہ کا کردار بنتا ہے کہ وہ اپنے بچوں، خاص طور پر ایسے بچوں پر نظر رکھیں جن کی تعلیمی کارکردگی اچھی نہیں ہے اور دیکھیں کہ کہیں وہ انٹرنیٹ کے نشے کا شکار تو نہیں ہو گئے؟

پاکستان میں کیے جانے والے ان مطالعہ جات سے یہ بات کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ کسی بھی ٹیکنالوجی کی طرح انٹرنیٹ بھی دودھاری تلوار کی مانند ہے اور یہ بےتحاشا فائدے کے ساتھ ساتھ بے پناہ نقصان بھی پہنچا سکتی ہے۔ اس معاملے میں طلبہ، والدین، اساتذہ اور تعلیمی اداروں سب کو محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔

ظفر سید

بی بی سی اردو ڈاٹ کام

فیس بک کا استعمال بند کر دینا چاہیے، کیوں؟

آپ نے اکثر مضامین میں یہ پڑھا ہو گا کہ سوشل میڈیا کا استعمال کس طرح خود اعتمادی کو بری طرح نقصان پہنچاتا ہے اور احساس کمتری پیدا کرتا ہے، لیکن گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ صرف ایک ہفتے تک فیس بک کا استعمال ترک کر دینا دماغی صحت کو کافی بہتر بنا سکتا ہے۔ سائبر سائیکولوجی نامی جریدے میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق ڈنمارک کے 1100 افراد کو ایک ہفتے کے لیے فیس بک ترک کرنے یا اس پر مسلسل موجود رکھنے کے لیے چنا گیا۔ تحقیق سے پہلے اور بعد میں شرکا سے چند سوالات کیے گئے، جس میں پوچھا گیا کہ وہ زندگی سے کتنے مطمئن ہیں اور تنہائی، خوشی، پریشانی اور جوش جیسے جذبات کی سطح کو کتنا محسوس کرتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ لوگوں کا سوشل میڈیا استعمال کرنے کا انداز نتائج پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے۔

رضا کاروں کی جانب سے فیس بک پر صرف کیے گئے وقت اور ان کے دوستوں کی تعداد طے کرتی ہے کہ وہ سائٹ کتنی استعمال کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ سروے میں پوچھا گیا کہ فیس بک رضاکاروں کو حاسد بناتا ہے اور آیا وہ زیادہ پوسٹ کرتے ہیں یا ایسے ہی سکرول کرتے رہتے ہیں۔ ایک ہفتے بعد جو سائٹ سے دور رہے، انہوں نے زندگی میں اطمینان اور جذبات میں ٹھہراؤ میں بہتری ظاہر کی جبکہ سوشل میڈیا زیادہ استعمال کرنے والوں نے ذہنی صحت میں سب سے زیادہ مدد حاصل کی جبکہ کبھی کبھار اپنے پیجز دیکھنے والوں میں کوئی تبدیلی نہیں دکھائی دی، تو اس سے پہلے کہ آپ فیس بک کا ’’ڈی ایکٹیویٹ بٹن ڈھونڈیں۔ یہ جان لیں کہ یہ تحقیق کافی محدود تھی۔

رضاکاروں کو معلوم تھا کہ انہیں فیس بک کا استعمال ترک کرنا ہے یا جاری رکھنا ہے۔ اس لیے ہو سکتا ہے، پہلے سے ہی ان کا ذہن بنا ہوا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ انہوں نے سو فیصد سچ نہ بولا ہے۔ اس کے باوجود اگر آپ خود پر غور کریں، تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ فیس بک کی وجہ سے حسد اور عداوت بڑھ رہی ہے۔ خاص طور پر ان فیس بک صارفین نے، جو بہت زیادہ سماجی معلومات پیش کرتے ہیں اور یوں تقابل کا ایک سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔

انٹرنیٹ پر جھوٹی خبر کس حد تک اثرانداز ہو سکتی ہے ؟

ایک جھوٹی خبر کس حد تک اثرانداز ہو سکتی ہے اس کا مظاہرہ تین ہفتے قبل واشنگٹن نے دیکھا جب ایک شخص ایک جھوٹی خبر کے ردعمل میں ایک پیزا ریستوران میں فائرنگ کر دی۔ اطلاعات کے مطابق اس واقعے میں کسی کو نقصان نہیں پہنچا اور پولیس نے مسلح شخص کو حراست میں لے لیا۔ اسی طرح حال ہی میں منعقدہ امریکی انتخابات میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک کر جھوٹی خبروں کی اشاعت کا معاملہ سامنے آیا اور یہ دعویٰ کیا گیا کہ ان سے امریکی ووٹروں کی رائے عامہ میں تبدیلی ہوئی۔

جھوٹی خبروں اور اس کے ردعمل کے طور پر کوئی بیان جاری کرنے یا کوئی قدم اٹھانے کا معاملہ یہیں ختم نہیں ہوا۔ اس کے حالیہ شکار پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف بنے ہیں۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے اسرائیل کو خبردار کیا کہ کیا اسرائیل بھول گیا ہے کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے۔ وزیر دفاع نے یہ بیان اسرائیل کے وزیر دفاع کے مبینہ بیان کے جواب میں دیا۔  منگل کے روز آے ڈبلیو ڈی نامی ویب سائٹ پر شائع ایک خبر شائع ہوئی جس میں کہا گیا ‘اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ اگر پاکستان نے کسی بھی بہانے سے شام میں زمینی فوج بھیجی تو ہم اس ملک کو ایٹمی حملے میں تباہ کر دیں گے۔’ اس خبر کے مطابق اسرائیل کے سابق وزیر دفاع موشے یالون نے پاکستان کو دھمکی دی۔

اے ڈبلیو ڈی میں شائع ہونے والی کہانی کے مطابق یالون نے مزید پاکستانی فوج کی شام میں آمد کے حوالے سے کہا ‘جہاں تک ہمارا تعلق ہے یہ ایک دھمکی ہے اور اگر بدقسمتی سے وہ شام میں آتے ہیں تو ہمیں معلوم ہے کہ ہم نے کیا کرنا ہے۔ ہم ان کو ایٹمی حملے میں تباہ کردیں گے۔’ اس ‘دھمکی’ کے جواب میں پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ‘اسرائیلی وزیر دفاع نے پاکستان کے شام میں داعش کے خلاف کردار پر قیاس آرائی کرتے ہوئے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی دی۔ اسرائیل بھول رہا ہے کہ پاکستان بھی جوہری صلاحیت رکھتا ہے الحمداللہ۔’

تاہم اسرائیلی وزارت دفاع نے ٹوئٹ میں خواجہ آصف کو ٹیگ کرتے ہوئے کہا ہے ‘جو بیان سابق وزیر دفاع یالون کے حوالے سے نشر کیا گیا ہے وہ کبھی دیا ہی نہیں گیا۔’  ایک اور ٹوئٹ میں اسرائیلی وزارت دفاع نے ایک بار پھر خواجہ آصف کو ٹیگ کرتے ہوئے کہا ہے ’خواجہ آصف جس رپورٹ کا ذکر کر رہے ہیں وہ بالکل من گھڑت ہے۔’ تاہم واضح رہے کہ موشے یالون اسرائیل کے وزیر دفاع نہیں ہیں۔ ان کو عہدے سے مئی میں ہٹا دیا گیا تھا اور ان کی جگہ لائیبرمین کو مقرر کیا گیا ہے۔ حال ہی میں فیس بک پر غلط خبروں کے معاملے پر تنازع اس وقت کھڑا ہوا تھا جب بعض صارفین نے کہا کہ فیس بک پر پھیلنے والی بعد غلط خبریں امریکی صدارتی انتخاب کے نتائج پر اثرا انداز ہوئی ہیں۔

خیال رہے کہ کچھ اعداد و شمار سے یہ امر سامنے آیا تھا کہ کچھ جعلی خبریں فیس بک پر بڑے پیمانے پر شیئر کی گئی تھی جبکہ ان کی تردید زیادہ شیئر نہیں ہوئی۔ خیال رہے کہ انٹرنیٹ پر نقلی خبروں پر نظر رکھنے والی ایک ویب سائٹ mediabiasfactcheck.com کے مطابق انٹرنیٹ پر کئی ایسی ویب سائٹس ہیں جو نقلی خبریں پھیلاتی ہیں۔ ‘ایسی ویب سائٹس یہ غلط خبریں چھاپتی ہیں جن کی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔ ان ویب سائٹس پر خبریں قیاس آرائیوں پر مبنی ہوتی ہیں۔’

رضا ہمدانی

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

وٹس ایپ کی بے پناہ مقبولیت اور دلچسب حقائق

وٹس ایپ کا نام what’s up سے لیا گیا ہے، جس کا اُردومیں معنی ’’کیا چل رہا ہے‘‘کے ہیں ۔ وٹس ایپ کو آپ مستقبل کا سوشل میڈیا بھی کہہ سکتے ہیں، جس کی وجہ اس کے جدید فیچرز ہیں۔ وٹس ایپ کا ہیڈ کوارٹر ماؤٹین ویو، کیلیفورنیا میں واقع ہے۔ پہلے پہل وٹس ایپ iOS آپریٹنگ سسٹم رکھنے والے سمارٹ فونز کے لیے ہی دستیاب تھا، بعدازاں اس کی بڑھی ہوئی مقبولیت کے پیشِ نظر پہلے بلیک بیری، پھر اینڈرائیڈ اور آخر میں ونڈوز کے لیے بھی الگ سافٹ ویئرز متعارف کروا دِیے گئے۔ وٹس ایپ سے وائس کال، ویڈیو کال، ٹیکسٹ میسج، PDF فائلیں، تصویریں، اپنا مقام، آڈیو اور ویڈیو فائلیں بھی بھیجی سکتی ہیں، لیکن یہ سب تو آج کی بات ہے۔ اس سے قبل یعنی 2008ء سے 2009ء تک یہ فیچرز دستیاب نہ تھے۔

وٹس ایپ کو مشہورِ زمانہ سرچنگ اور سوشل ویب سائٹ ’’یاہو‘‘ کے ملازمین برین ایکٹن اور جین کوم نے ڈیزائن کیا۔ 2007ء میں یاہو سے مستعفی ہونے کے بعد دونوں دوستوں نے اپنا ذاتی سافٹ ویئرز ڈیزائن کرنے کا سوچا، جس کے لیے وہ جنوبی امریکا پہنچے، یہاں انہوں نے فیس بک اور ٹویٹر میں نوکری کے لیے کئی بار تگ و دو کی، لیکن ناکام ٹھہرے۔ اسی اثناء میں جین کوم نے ایک روسی ڈویلپر کے ساتھ مل کر وٹس ایپ ڈیزائن کیا اور جلد ہی اسےiOS کے ایپ سٹور پر ریلیز کر دیا۔ ریلیز کے کچھ عرصہ بعد ہی وٹس ایپ دنیا بھر میں مقبول ہو گئی، یہاں تک کہ 2009ء میں دنیا کی سب سے زیادہ استعمال کی جانے والی میسجنگ ایپلی کیشن بن گئی۔ 2013ء تک وٹس ایپ پرقریباً 200 ملین صارفین سرگرم رہے ۔

اس دوران اعداد و شمار کی ذمہ داری 50 ملازموں پر مشتمل سٹاف پر تھی۔ 2014ء تک صارفین کی تعداد بڑھ کر 500 ملین تک پہنچ گئی۔ اپریل 2014ء کی ایک رپورٹ کے مطابق وٹس ایپ صارفین ہر روز 700 ملین تصویریں، 100 ملین ویڈیوز، 10 بلین میسج کیا کرتے تھے۔ جین کوم نے وٹس ایپ کو اِن کارپوریٹ کروایا اور 19 فروری 2014ء کو 19.3 بلین ڈالر میں فیس بک کو فروخت کر دیا ۔ 19.3 بلین کی بھاری رقم دنیا ئے تاریخ کی سب سے زیادہ خریداری میں صرف کی جانے والی رقم تھی۔ بقول جین اور کوم اگر فیس بک یا ٹویٹر انہیں اپنے پاس ملازمت دے دیتے، تو ان سے بے شمار فائدے اُٹھا سکتے تھے۔ فیس بک نے وٹس ایپ میں ہر وہ چیز شامل کی، جس کی عام مواصلاتی زندگی میں لوگوں کو ضرورت ہوتی ہے۔

70 فیصد کے قریب وٹس ایپ صارفین روزانہ کی بنیاد پر آن لائن ہوتے ہیں۔ وٹس ایپ کے مطابق ہر روزقریباً 1 ملین نئے صارف شامل ہوتے ہے۔ وٹس ایپ اینڈرائیڈ سمارٹ فونز میں تیسری سب سے زیادہ ڈاؤن لوڈ کی جانے والی ایپ ہے۔ وٹس ایپ اب کمپیوٹر پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، جس کے لیے سمارٹ فون سے صرف ایک QR کوڈ سکین کرنا ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں1 بلین دفعہ ڈاؤن لوڈ ہونے کے دوران کوم سمیت صرف 4 لوگ وٹس ایپ کے تمام اعداد و شمار سنبھالے ہوئے تھے، جو اپنے آپ میں ایک ورلڈ ریکارڈ ہے۔ ٹویٹر اور فیس بک کی طرف سے رد کیے جانے پر برین ایکٹن نے ٹویٹ کیا کہ ’’یہ میرے لیے ایک بڑا موقع تھا کہ میں فیس بک یا ٹویٹر کے با کمال سٹاف کے ساتھ کام کر تا، لیکن ایسا نہ ہوا، پھر بھی میرا ایڈونچر ابھی باقی ہے‘‘ اور دلچسپ بات یہ کہ ایکٹن کے اس ٹویٹ کے کچھ عرصے بعد وٹس ایپ کا قیام عمل میں آیا۔

دانش احمد