فیس بک : نیوز فیڈ کو بدلنے کا اقدام معاملات کو مزید بدتر بنانے کا باعث

فیس بک گزشتہ سال سے شدید تنقید کی زد میں ہے جب سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ وہاں جعلی خبریں یا اطلاعات کا مسئلہ کافی سنگین ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے وہ متعدد اقدامات بھی کر رہی ہے، جس میں سب سے اہم گزشتہ دنوں نیوزفیڈ میں تبدیلیاں لانے کا اعلان تھا۔ مگر ایسا نظر آتا ہے کہ نیوزفیڈ کو مکمل طور پر بدلنے کا اقدام معاملات کو مزید بدتر بنانے کا باعث بن رہا ہے۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق جن ممالک میں نیوزفیڈ میں تبدیلیوں کا تجربہ کیا جا رہا ہے، وہاں جعلی خبریں پوری سروس میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل چکی ہیں۔

فیس بک نے اس حقیقت کو راز میں نہیں رکھا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران نیوزفیڈ الگورتھم میں تبدیلیاں لائی گئی ہیں، تاہم باضابطہ اعلان گزشتہ ہفتے کرتے ہوئے بتایا کہ اب پبلشر کی پوسٹس کی جگہ دوستوں اور گھر والوں کی پوسٹس کو ترجیح دی جائے گی۔ آسان الفاظ میں اگر مختلف پیجز سے ابھی ویڈیوز یا پوسٹس سے نیوزفیڈ بھرا رہتا ہے، وہ اب دوستوں یا گھر والوں کے شیئرز سے بھرے گا۔
سننے میں تو اچھا خیال ہے کہ مگر اب تک جہاں اسے آزمایا گیا ہے، وہاں یہ تجربہ کچھ زیادہ اچھا نہیں رہا۔

بولیویا، سلواکیہ اور کمبوڈیا سمیت چھ ممالک میں نیوزفیڈ کی ان تبدیلیوں کو آزمایا ہے اور وہاں یہ مسئلہ سامنے آیا ہے کہ لوگوں کو اب جو خبریں مل رہی ہیں، وہ دوستوں کی شیئر کی ہوئی ہیں جو کہ سنسنی خیز بلکہ اکثر جعلی ہوتی ہیں۔ سلواکیہ کی ایک نیوز سائٹ کے ایڈیٹ کے مطابق لوگ عموماً بیزارکن خبریں یا حقائق شیئر نہیں کرتے، بلکہ انہیں توجہ حاصل کرنے کے کچھ سنسنی خیز مواد شیئر کرنا پسند ہوتا ہے۔ الگورتھم میں یہ تبدیلی یقیناً دنیا بھر میں ویب سائٹس یا دیگر اداروں کے لیے بڑا مسئلہ ثابت ہو گی مگر اس سے ہٹ کر بھی اس کے نتیجے میں بڑا مسئلہ سامنے آئے گا۔ فیس بک اہم میڈیا اداروں کے لیے اپنی خبریں شیئر کرنا مشکل ترین بنا دے گی اور ایسا کرنے سے جعلی خبروں کے لیے میدان صاف ہو جائے گا۔ اس حوالے سے ابھی تک فیس بک نے کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔
 

Advertisements

سوشل میڈیا کا ڈیٹا انسانی مزاج معلوم کرنے میں مددگار

برطانوی ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا مثلاً فیس بک، ٹوئٹر اور دیگر پلیٹ فارمز انسانی موڈ اور مزاج کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس ضمن میں اپنی نوعیت کا ایک بہت بڑا تجزیہ کیا گیا ہے جس میں یونیورسٹی آف برسٹل کے ماہرین نے 24 گھنٹے تک 80 کروڑ سے زائد ٹویٹر پیغامات کا جائزہ لیا اور مختلف موسموں میں بھی ٹویٹر پیغامات جمع کیے ہیں۔ بعد ازاں اس ڈیٹا کو مشین لرننگ سے گزار کر چیک کیا گیا۔ اس ڈیٹا کی مشین لرننگ اور تجزیئے کا سارا کام ڈاکٹر فیبن زوگینگ نے کیا ہے جبکہ مرکزی تحقیق ایک دماغی ماہر ڈاکٹر اسٹیفرڈ لائٹ مین نے کی ہے اور مصنوعی ذہانت (آرٹی فیشل انٹیلی جنس) کا سارا کام یونیورسٹی کے شعبہ انجینئرنگ میتھمیٹکس نے کیا ہے۔ اس تحقیق کے نتائج ’’برین اینڈ نیورو سائنس ایڈوانسز‘‘ نامی جریدے میں شائع ہوئی ہیں۔

اس کے لیے ماہرین نے جسمانی گھڑی (باڈی کلاک) کا جائزہ لیا جو دن اور رات کے لحاظ سے بدن کے معمولات کنٹرول کرتی ہے۔ اس کے لیے دماغ کا ایک چھوٹا سا حصہ ہپوتھیلمس ایک اہم کردار ادا کرتا ہے جس کے اندر ’’سپر اکیاسمیٹک نیوکلیئس‘‘ (ایس سی این) نامی گوشہ جسمانی گھڑی کا مرکز بھی ہے۔ واضح رہے کہ جسمانی گھڑی انسانی مزاج اور موڈ پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ ایس سی این دن اور رات یا سورج نکلنے اور غروب ہوتے عمل میں حساس کردار ادا کرتا ہے۔ اسی مناسبت سے ایس سی این دماغ اور بدن کو ضروری سگنل، پیغامات اور ہارمونز بھیجتا ہے۔

سائنس دانوں نے جن 80 کروڑ ٹویٹس کا تجزیہ کیا، وہ چار سال کے عرصے میں کی گئی تھیں۔ ان ٹویٹس میں خوشی، شادی، حیرت انگیز، مبارک باد ، ایسٹر اور کرسمس وغیرہ کے الفاظ نظرانداز کیے گئے تاکہ ڈیٹا پر اثر نہ پڑے۔ اس کے بعد منفی اور مثبت الفاظ والے ٹویٹس کی ایک فہرست بنائی گئی جو 24 گھنٹے کے موڈ کو ظاہر کرتی ہے۔ صبح کے وقت غصہ سب سے کم نوٹ کیا گیا جبکہ دن کے ساتھ ساتھ یہ ٹویٹس میں بڑھتا رہا اور شام تک موڈ خراب ہو کر غصہ اپنے عروج پر دکھائی دیا۔ دوسری جانب اداسی صبح 6 بجے کم دیکھی گئی اور صبح 8 بجے اپنے عروج پر تھی۔ اسی طرح تھکاوٹ صبح 8 بجے عروج پر تھی جو بقیہ دن میں درجہ بہ درجہ کم دیکھی گئی۔ ماہرین نے بڑے غور سے وہ الفاظ چنے ہیں جو اداسی، رنج یا غصے کی کیفیات کو ظاہر کرتے ہیں۔

بدلتے موسموں کا ٹویٹس میں غصے اور تھکاوٹ پر کوئی خاص اثر نہیں ہوا جبکہ بدلتے موسموں نے مزاج (موڈ) اور اداسی پر اپنا اثر ڈالا۔ یعنی موڈ اور اداسی پر موسم کا گہرا اثر ہوتا ہے۔ ماہرین نے تحقیق کے بعد کہا ہے کہ دن کے مختلف اوقات منفی اور مثبت موڈ پر اثر ڈالتے ہیں جبکہ موسمیاتی تبدیلی موڈ اور تھکاوٹ پر اثر انداز نہیں ہوتیں۔ اس لحاظ سے سوشل میڈیا انسانی مزاج سمجھنے میں نہایت اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس کی بدولت انسانی اندرونی گھڑی کو بھی سمجھا جا سکتا ہے۔
 

فیس بک ڈیٹا کے حصول کیلئے پاکستانی درخواستیں بڑھ گئیں

حکومت پاکستان کی جانب سے فیس بک استعمال کرنے والے افراد کے بارے میں معلومات کے حصول کے لیے رواں سال کی پہلی ششماہی کے دوران درخواستوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اس بات کا انکشاف فیس بک کی ششماہی ٹرانسپیرنسی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ جنوری 2017 سے جون 2017 کے دوران پاکستان کی جانب سے فیس بک سے لیگل پراسیس اور ایمرجنسی کے نام سے مجموعی طور پر ڈیٹا کے حصول کے لیے 1050 درخواستیں کی گئیں، یہ تعداد جولائی 2016 سے دسمبر 2016 کے دوران 998، جبکہ جنوری 2016 سے جون 2016 کے دوران 719 تھی۔

فیس بک کے مطابق پاکستانی حکومت نے 1540 صارفین یا اکاﺅنٹس کے بارے میں ڈیٹا طلب کیا، یہ تعداد جولائی 2016 سے دسمبر 2016 تک 142، جبکہ جنوری سے جون 2016 کے دوران 1015 تھی۔ 1540 اکاﺅنٹس یا صارفین کے لیے 1050 درخواستوں میں سے فیس بک نے 63 فیصد پر تعاون کرتے ہوئے حکومت کو ڈیٹا یا معلومات فراہم کیں۔ اس سے ہٹ کر بھی پاکستان کی جانب سے فیس بک سے کسی جرم کی تحقیقات کے لیے 399 درخواستوں کے ذریعے 613 اکاﺅنٹس یا صارفین کا ڈیٹا یا ریکارڈ محفوظ کرنے کی درخواست کی گئی، یہ تعداد گزشتہ سال کی دوسری ششماہی میں 442 ، جبکہ جنوری سے جون 2016کے دوران 280 درخواستوں کے ذریعے 363 صارفین یا اکاﺅنٹس کا ڈیٹا یا ریکارڈ محفوظ رکھنے کی درخواست کی گئی تھی۔

اس رپورٹ کے مطابق پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی قانونی درخواستوں کی بناء177 پیجز یا انفرادی اکاﺅنٹس پر ایسے مواد کو بلاک کیا گیا جو کہ پاکستانی قوانین کی خلاف ورزی، توہین مذہب یا ملکی خودمختاری کے خلاف تھا، جولائی سے دسمبر 2016 میں تعداد 6 جبکہ جنوری سے جون 2016 کے دوران 25 تھی۔ حکومت پاکستان کی جانب سے جولائی سے دسمبر 2015 کے دوران 471، جنوری سے جولائی 2015 میں 192 درخواستوں کے ذریعے 275 اکاﺅنٹس جبکہ جولائی 2014 سے دسمبر 2014 کے درمیان 100 درخواستوں کے ذریعے 150 صارفین یا اکاﺅنٹس کا ڈیٹا طلب کیا گیا تھا۔

فیس بک کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں صارفین سے متعلق معلومات کے حصول کے لیے حکومتی درخواستوں میں گزشتہ ششماہی کے مقابلے میں 23 جبکہ ایک سال پہلے کے مقالبے میں 33 فیصد اضافہ ہوا اور امریکا، بھارت، جرمنی اور فرانس اس حوالے سے سرفہرست رہے۔ مجموعی طور پر دنیا بھر میں 78 ہزار 890 درخواستیں کی گئیں، یہ تعداد گزشتہ ششماہی میں 64 ہزار 279 تھیں۔ فیس بک کا اپنے ایک بیان میں کہنا تھا کہ وہ کسی بھی حکومت کو ’ بیک ڈور ’ یا صارف کے ڈیٹا تک براہ راست رسائی نہیں دیتا اور ہر درخواست کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا جاتا ہے کہ اس کا جواب دینا چاہئے یا نہیں۔ اس سے قبل گزشتہ سال فیس بک نے اپنی رپورٹ کے حوالے سے کہا تھا کہ حکومتی درخواستوں پر جواب اسی صورت میں دیا جاتا ہے جب وہ کسی فوجداری مقدمے سے متعلق ہو۔
 

فیس بک پر ایسی پوسٹ کبھی مت کریں

اگر تو آپ فیس بک پر اپنی پوسٹس پر لائیکس، کمنٹس وغیرہ کی اپیل کرنے کے عادی ہیں تو ایسا کرنا فوری چھوڑ دیں، ورنہ سوشل میڈیا آپ کے خلاف ایکشن لے سکتا ہے۔ یہ انتباہ فیس بک کی جانب سے ایسے افراد کے لیے جاری کیا جو کہ اپنے دوستوں سے ووٹ، لائیک ، کمنٹ یا پوسٹ شیئر کرنے کی درخواست اس امید کے ساتھ کرتے ہیں کہ وہ لوگوں کی نیوزفیڈ پر سب سے اوپر نظر آئیں۔ فیس بک کے مطابق ایسی پوسٹس کو مکمل پابندی کا سامنا تو نہیں ہو گا مگر انہیں نیوز فیڈ پر اتنا نیچے پھینک دیا جائے گا کہ وہ اکثر افراد کی رسائی سے دور ہو جائیں گی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ نے اپنے بلاگ میں کہا کہ لوگ اس طریقہ کار کو بار بار استعمال کرتے ہیں اور اب ایسا کرنے پر ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
فیس بک کے مطابق ایسی پوسٹس پر کارروائی فوری طور پر شروع نہیں کی جارہی تاہم آئندہ چند روز بعد اس طرح کے طریقہ کار کو بالکل بھی برداشت نہیں کیا جائے گا۔ تاہم اس کا یہ بھی کہنا تھا کہ لوگوں سے مدد، مشورہ یا تجاویز مانگنے والی پوسٹس کے خلاف ایکشن نہیں لیا جائے گا جیسے کسی گمشدہ بچے کی رپورٹ، کسی مقصد کے لیے فنڈ اکھٹا کرنا یا سفری ٹپس وغیرہ۔

فیس بک کے مطابق اس اقدام کے بعد صارفین کے نیوزفیڈ پر زیادہ ‘مستند’ مواد نظر آنے لگے گا جس کی ساکھ کو حالیہ عرصے میں فرضی خبروں کے پھیلاﺅ سے شدید دھچکا لگا ہے۔ اب فیس بک کا کہنا ہے کہ اسپام، سنسنی پھیلانے والے یا غلط فہمی بڑھانے والے مواد کو پھیلنے سے روکنے کی کوشش کی جائے گی اور زیادہ بامعنی پوسٹس کو ہی صارف کی نیوزفیڈ میں دکھایا جائے گا۔ ویسے فیس بک کی جانب سے نیوزفیڈ کے الگورتھم میں اکثر اس طرح کی تبدیلیاں کی جاتی ہیں جس میں اسپام ویڈیو، جنک پوسٹس اور جعلی لائیکس کو ہدف بنایا جاتا ہے۔
 

’فیس بک‘ کے ساتھ کام کرنا گناہ کبیرہ تھا, فیس بک کے نائب سربراہ کا اظہار ندامت

سوشل میڈیا کی مشہور ویب سائیٹ ’فیس بک‘ کے ایک سابق ایگزیکٹو ڈپٹی ڈائریکٹر نے سوشل میڈیا کے ذریعے معاشرے کو تباہ کرنے کا اعتراف کرتے ہوئے ’فیس بک‘ کے ساتھ سرگرم رہنے پر شرمندگی کا اظہار کیا ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اسٹانفرڈ یونیورسٹی میں لیکچر کے دوران ’فیس بک‘ کے سابق سینیر عہدیدار چامتھ پالیھا پیٹیا نے کہا کہ میں نے خود بھی ’نیلی ویب سائیٹ‘ فیس بک‘ استعمال کرنا چھوڑ دی اور اپنے بچوں کو بھی اس سے منع کر دیا ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ ہم نے ’سوشل فیبرک‘ کو تباہ کرنے کے آلات ایجاد کیے ہیں۔ ان کا اشارہ فیس بک اور اس قبیل کی دوسری ویب سائیٹس کی طرف تھا۔ پالیھا پیٹیا نے بتایا کہ وہ ’فیس بک‘ میں صارفین میں اضافے کے نگران تھے اور 2007ء سے 2011ء تک ’فیس بک‘ کے ساتھ کام کیا۔ آج میں فیس بک کے ساتھ کام کرنےکو گناہ کبیرہ سمجھتا ہوں۔

انہوں نے مزید کہا کہ نہ صرف فیس بک بلکہ تمام سوشل ویب سائیٹس کو لمبے عرصے کے لیے بند کر دیا جائے۔ دوسری جانب فیس بک کے مالک اور چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ نے کمپنی کے سابق سینیر عہدیدار کے بیانات کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’چامتھ پالیھا پیٹیا‘ چھ سال سے کمپنی سے دور ہیں۔ ان کی باتوں میں کوئی صداقت نہیں۔ ’فیس بک‘ نے معاشروں کو تباہ نہیں بلکہ آپس میں جوڑا ہے۔

دبئی – العربیہ ڈاٹ نیت

 

کیا سوشل میڈیا نوجوانوں کے درمیان خود کشی کی وجہ بن رہا ہے؟

امریکا میں سنجیدہ حلقے نوعمر (ٹین ایج) لڑکے اور لڑکیوں میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے رحجان سے سخت پریشان ہیں اور ان کے خیال میں اس کی وجہ فیس بک اور سوشل میڈیا ہو سکتے ہیں۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گزشتہ دو عشروں سے نوجوانوں میں خودکشی کا رحجان بتدریج کم ہو رہا تھا لیکن سال 2010 سے 2015 کے درمیان اس میں واضح اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ماہرین اس کی وجہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس ضمن میں کوئی واضح جواب کسی کے پاس نہیں لیکن نفسیاتی و سماجی ماہرین کے مطابق انٹرنیٹ پر تنقید یعنی ’سائبر بلیئنگ‘ (cyber bullying) اس کی وجہ ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق سوشل میڈیا پر نوعمر بچوں کی ذہنی تباہی کے تمام لوازمات موجود ہیں۔

امریکہ میں کئی نوجوان لڑکے لڑکیوں کی خودکشی کے بعد جب سوشل میڈیا کے استعمال اور اس کے اثرات پر ایک سروے کیا گیا تو کولوراڈو کی ایک 17 سال لڑکی نے بتایا کہ وہ انسٹا گرام کی تصاویر اور پوسٹس دیکھ دیکھ کر اکتا جاتی ہے۔ اس مہم کے تحت نوعمر بچوں کو آف لائن وقت گزارنے کو بھی کہا گیا تھا۔ اس مہم میں نوجوانوں سے کہا گیا ہے کہ وہ کم ازکم ایک ماہ تک آف لائن رہیں اور انٹرنیٹ سے دور رہیں۔ ایک اور 17 لڑکی کلو ای شلنگ نے کہا کہ سوشل میڈیا سے جس برے انداز میں لوگ گزر رہے ہیں وہ ان کے بارے میں کچھ پوسٹ نہیں کرتے۔ امریکہ میں سی ڈی سی کے مطابق امریکہ میں 13 سے 18 سال کی بڑی آبادی انٹرنیٹ پر موجود ہے۔ ایک سروے میں 13 سے 18 سال کے 5 لاکھ نوعمر لڑکے اور لڑکیوں کو شامل کیا گیا۔ ان سے دوستوں سے ملاقات اور سماجی تعلقات اور سوشل میڈیا استعمال کرتے ہوئے ان کے موڈ کے بارے میں پوچھا گیا اور خودکشی کے خیالات کی چھان بین بھی کی گئی۔

پانچ لاکھ نوعمر بچوں کے سروے کے بعد اس مطالعے سے جو نکات سامنے آئے وہ کچھ اس طرح تھے کہ شرکا روزانہ اوسط پانچ گھنٹے اپنے اسمارٹ فون پر صرف کرتے ہیں اور یہ شرح 2009 میں 8 فیصد تھی جو 2015 میں بڑھ کر 19 فیصد تک جا پہنچی۔ اب جو بچے روزانہ ایک گھنٹہ صرف کرتے تھے ان کے مقابلے میں زیادہ یعنی پانچ گھنٹے اسمارٹ فون سے کھیلنے والوں میں خودکشی کے خیالات 70 فیصد زائد نوٹ کیے گئے۔ 2015 میں 36 فیصد شرکا نے کہا کہ وہ خود کو اداس اور بے بس محسوس کرتے ہیں جبکہ 2009 میں یہ شرح 32 فیصد تھی۔ لڑکیوں میں یہ شرح 2015 تک 45 فیصد تک نوٹ کی گئی۔ جو لوگ بار بار سوشل میڈیا پر جاتے تھے، وہ بقیہ لوگوں کے مقابلے میں 14 فیصد زیادہ ڈپریشن کے شکار تھے۔ اس کی وجہ سوشل میڈیا پر وہ پوسٹس ہیں جنہیں دیکھ کر کوئی الجھن تو کوئی احساسِ کمتری کا شکار ہو جاتا ہے۔

اس سروے کی سربراہ ڈاکٹر جین ٹوینگے سان ڈیاگو یونیورسٹی میں نفسیات کی پروفیسر ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ والدین اپنے نوعمر بچوں پر نظر رکھیں اور ان کےلیے اسمارٹ فون استعمال کرنے کے وقت کی حد مقرر کریں۔ تاہم نوجوانوں کے ایک معالج ڈاکٹر وکٹر اسٹراسبرگر کہتے ہیں کہ اس ضمن میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ وکٹر کے مطابق کچھ لوگ سوشل میڈیا کو اس کا ذمہ دار نہیں سمجھتے اور مثال دیتے ہیں کہ جب امریکہ میں کامک بکس آئیں، جب ٹی وی کا راج شروع ہوا اور جب راک اینڈ رول کا رحجان بڑھا تو لوگوں نے کہا کہ اب دنیا خاتمے کے قریب ہے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ تاہم سوشل میڈیا دو طرفہ تنقید کا ایک اہم ذریعہ ہے اور یہاں لوگ خفیہ رہتے ہوئے بھی دوسروں پر اثر انداز ہوتے ہیں اور ہمیں اسی منفی قوت کو سمجھنا ہو گا۔

بشکریہ روزنامہ ایکسپریس اردو
 

فیس بک سب کچھ جانتی ہے ؟

سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک اس بات سے واقف ہوتی ہے کہ کروڑوں افراد اپنے فونز میں کیا کر رہے ہیں، چاہے وہ لوگ اس ویب سائٹ کا استعمال نہ بھی کر رہے ہوں۔ یہ دعویٰ امریکی جریدے وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں سامنے آیا۔ ویسے تو فیس بک خود تسلیم کرتی ہے کہ وہ صارفین کا ڈیٹا جمع کرتی ہے جس کا مقصد ان کے استعمال کا تجربہ بہتر بنانا ہوتا ہے۔ تاہم اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ فیس بک کسی اور کمپنی کے جمع کردہ ڈیٹا کو صارفین کی ایپ اور ویب سائٹس کے استعمال کی عادات کی تفصیلات جاننے کے لیے استعمال کرتی ہے، جیسے وہ کن ایپس کو استعمال کرتے ہیں، کتنا زیادہ استعمال کرتے ہیں اور کتنی وقت تک استعمال کرتے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔

یہ معلومات فیس بک پراڈکٹ روڈ میپ کو شکل دینے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں اور اسی وجہ سے واٹس ایپ کو خریدا گیا جبکہ اسنیپ چیٹ کو کچلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ فیس بک کے پاس اتنی زیادہ معلومات ہوتی ہیں کہ اسے علم ہوتا ہے کہ اسنیپ چیٹ صارفین کتنی پوسٹس روزانہ ایک دوسرے کو بھیجتے ہیں۔ اس سیٹ اپ سے فیس بک کو یہ جاننے میں مدد ملتی ہے کہ کونسی ایپس اور ویب سائٹس صارفین کے وقت کے لحاظ سے اس کے مقابل ہیں اور اس سے کمپنی کو انہیں شکست دینے میں کافی آسانی مل جاتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق فیس بک Onavo Protect نامی ایپ سے ڈیٹا اکھٹا کرتی ہے جو کہ ایک مفت وی پی این ایپ ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ یہ صارفین کا آن لائن ڈیٹا محفوظ رکھتی ہے، تاہم یہ جس کمپنی نے تیار کی تھی اسے فیس بک نے چند سال پہلے خرید لیا تھا۔ یہ ایپ اس وقت بھی ڈھائی کروڑ کے قریب افراد استعمال کر رہے ہیں اور رپورٹ میں بتایا گیا کہ جن لوگوں کے فونز میں یہ انسٹال ہے، وہ جب کوئی ایپ اوپن یا ویب سائٹ کھولتے ہیں، تو یہ ایپ ٹریفک کو فیس بک سرورز کی جانب ری ڈائریکٹ کر دیتی ہے۔ Onavo Protect کی شرائط میں درج بھی ہے کہ یہ موبائل ڈیٹا اور ایپ کے استعمال کا تجزیہ کرتی ہے اور اسے ‘ملحقہ اداروں’ سے شیئر بھی کر سکتی ہے تاہم لوگ عام طور پر اسے پڑھتے ہی نہیں۔
 

فیس بک پر صرف ’’لائیک ‘‘ کرنے کا نقصان

بہت سے لوگ دن بھر میں آنکھیں بند کر کے سینکڑوں لائیک کر کے ہی دم لیتے

ہیں۔ لیکن وہ اس کے نقصانات سے بے خبر ہوتے ہیں ایک لائیک کرتے ہی آپ کی سرچ ہسٹری سوشل میڈیا کے کرتا دھرتائوں کے علم میں آ جائے گی۔ وہ جو چاہیں معلوم کر سکتے ہیں۔ چنانچہ سوچ سمجھ کر لائیک یا ڈس لائیک کیجیے۔ وہ یہ سب کچھ بند کمپیوٹرز پر بھی کر سکتے ہیں۔ سرچ انجن کوئی بھی ہو ، یا سوشل میڈیا ہو، آپ کمپیوٹر بند کر کے کسی اورکام پر لگ جائیں لیکن سوشل میڈیا کے کرتا دھرتا اگر چاہیں تو بند کمپیوٹرز پر بھی آپ کی سرچ ہسٹری کا پتا چلا سکتے ہیں۔ جب کوئی کسی بھی ویب سائٹ پر لائیک کا بٹن دباتا ہے تو یہ انٹرنیٹ کے ریکارڈ میں چلا جاتا ہے اور فیس بک کے ریکارڈ میں بھی۔

بند کمپیوٹرز پر بھی یہ ادارے اس کی مدد سے ڈیٹا معلوم کر سکتے ہیں۔ ایسا ہی ایک مقدمہ امریکہ میں دائر ہوا، ایک شخص نے فیس بک انتظامیہ پر اپنا ڈیٹا چوری کرنے کا الزام لگایا۔ تاہم امریکی جج نے تکنیکی وجوہات کی بنا پر ریلیف دینے سے گریز کیا۔ درخواست گزار نے کہا کہ فیس بک بند کمپیوٹر پر اس کا ڈیٹا چوری کر سکتا ہے ۔ اس کے کیخلاف فیصلہ سنایا جائے‘‘۔ عدالت نے کہا کہ درخواست گزار نے ایسا کوئی واقعہ نہیں درج کیا جس سے ڈیٹا کی چوری کا پتہ چل سکے۔ درخواست دہندہ بہت سے طریقوں سے اپنا سسٹم محفوظ بنا سکتا ہے۔اس نے ایسا کیوں نہیں کیا۔ وہ اپنے سسٹم کو محفوظ بنانے میں خود ناکام رہا ہے۔امریکی ڈسٹرکٹ جج ایڈورڈ ڈیولا کے مطابق کیلی فورنیا کا یہ شہری اپنے سسٹم کی پرائیویسی کو قائم رکھنے میں ناکام رہا۔ وہ چاہتا تو مختلف طریقوں کے ذریعے اپنی پرائیویسی قائم رکھ سکتا تھا۔ لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔ اس لیے درخواست مسترد کی جاتی ہے۔ خواتین و حضرات آپ بھی ہوشیار رہیے،ایک لائیک مہنگی پڑ سکتی ہے۔
 

سید آصف عثمان گیلانی

سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا نشہ

نشہ کسی چیز کا ہو برا ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارم ایک نشے کی صورت اختیار کر چکے ہیں اور اس سے سب سے زیادہ نوجوان متاثر ہو رہے ہیں۔ سوشل میڈیا ان کی زندگیوں پر بڑی تیزی سے اثر انداز ہوا ہے کیونکہ اسے سبک رفتاری سے مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس سے ان کی دماغی صحت، رویے اور سرگرمیاں سب متاثر ہو رہے ہیں۔ان باتوں کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ اس کے اثرات پر ایک نئی تحقیق کے حیرت انگیز نتائج سامنے آئے ہیں۔ اس کے مطابق نوجوانوں کی دماغی صحت کے لیے سوشل میڈیا کا پلیٹ فارم انسٹاگرام سب سے نقصان دہ ہے۔ نیز مفید ترین یوٹیوب ہے۔ یہ بات برٹش رائل سوسائٹی کی ایک حالیہ رپورٹ میں کی گئی ہے۔

سوسائٹی کی چیف ایگزیکٹو شرلی کرامر کے مطابق سوشل میڈیا کا شمار سگریٹ اور الکحل سے زیادہ نشہ آور چیز کے طور پر کیا جاتا ہے اور یہ لت نوجوانوں کی زندگیوں میں کچھ اس انداز سے سرایت کر چکی ہے کہ جب ان کی دماغی صحت کے مسائل پر بات کی جاتی ہے تو اسے نظرانداز کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق انسٹاگرام اور سنیپ چیٹ کو دماغی صحت لیے سب سے زیادہ نقصان دہ اس لیے سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ تصویروں پر بہت زیادہ مرکوز ہیں اوران سے نوجوانوں میں اپنے اندر کسی کمی کا احساس ہوتا ہے اور وہ فکر مند رہنے لگتے ہیں۔ اس تحقیق میں برطانیہ کے تقریباً 15 سو نوجوانوں سے انٹرویوز کیے جن کی عمریں 14 سے 24 سال کے درمیان تھیں۔

تحقیق کے مطابق سب سے مثبت رائے یوٹیوب کے بارے میں تھی جب کہ اس کے بعد ٹوئٹر اور فیس بک کا نمبر تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کے منفی اثرات سے نپٹنے کے لیے ضروری ہے کہ لوگوں میں آگاہی پیدا کی جائے اور مختلف پلیٹ فارمز پر انتباہ جاری کیا جائے۔ دماغی صحت کے لیے ضروری ہے کہ سوشل میڈیا کے استعمال میں احتیاط برتی جائے۔

ر۔ع