دنیا تم سے پہلے بھی تھا بعد میں بھی رہے گا

کبھی کبھی شدت سے احساس ہوتا ہے کہ جس زندگی میں مقصدیت اور خوشیاں بھرنے کے لیے ہم سب بیل بنے ہوئے ہیں اور بے سمت بگٹٹ دوڑ رہے ہیں ایسی زندگی کس کام کی۔ ہم سے بہتر فیملی لائف تو جانوروں کی ہے جو زیادہ تر وقت ایک ساتھ گذارتے ہیں اور انھیں کوئی عجلت بھی نہیں۔ کیونکہ وہ اپنے ایجاد کردہ وقت اور تقسیمِ کار کے قیدی نہیں بلکہ فطرت کے بنائے ہوئے ٹائم ٹیبل کے تحت زندگی سے نبھا کر رہے ہیں۔ برا ہو ترقی کا جس نے اشیا اور لالچ تو عطا کر دی مگر کوالٹی ٹائم چھین لیا۔ اگر اپنی زندگی کا جائزہ لوں تو رائیگانی کا سوچ سوچ کے جھرجھری سی آجاتی ہے۔ بھارت اور پاکستان میں اوسط عمر سڑسٹھ اڑسٹھ برس کے لگ بھگ ہے۔ چلیے اس اوسط کو ہم کھینچ تان کے ستر برس فرض کر لیتے ہیں۔ یعنی پچیس ہزار پانچ سو پچاس دن۔

اب ان ستر برسوں کو آپ مختلف خانوں میں تقسیم کر کے دیکھیں۔ لگ بھگ ایک تہائی عمر یعنی تئیس برس نیند میں گذر جاتے ہیں۔ باقی سینتالیس میں سے اکیس برس بیٹھ کر کام کرنے ، ٹی وی دیکھنے ، سستانے ، فون یا انٹرنیٹ پر ، جلنے کڑھنے یا تصوراتی دنیا میں صرف ہو جاتے ہیں۔ اب بچے چھبیس برس۔ ان میں سے اوسطاً پندرہ برس ہوش سنبھالنے سیکھنے سکھانے اور کام کی تلاش میں گذر جاتے ہیں۔ اب باقی رھ گئے گیارہ برس۔ ان گیارہ برسوں میں سے بہت ہی کوئی طرم خان ہوا اور اسے زندگی کی مشقت نے مہلت دی تو چار برس اپنی مرضی کے کام ( لکھنا ، پڑھنا ، کھیلنا ، سیاحت ، فنونِ لطیفہ ) میں بسر کرنے کا موقع مل گیا۔ مگر یہ سب کرنا ہمیں اکثر تب یاد آتا ہے جب بقول ساقی امروہوی

میں اب تک دن کے ہنگاموں میں گم تھا
مگر اب شام ہوتی جا رہی ہے

یہ زندگی جسے ہم یادادشت کی کمزوری کے سبب لافانی سمجھ کے جینے کی کوشش کرتے ہیں کیا واقعی ہم جینے کی کوشش کرتے ہیں یا پھر زندگی ہمیں بسر کرتی ہوئی سامنے سے گذر جاتی ہے۔ آئن سٹائن کی طرح کتنے لوگ سوچتے ہیں کہ جسے زندگی سے سب سے بڑی شکایت یہ تھی کہ دن چوبیس گھنٹے کا کیوں ہے، اڑتالیس کا کیوں نہیں ؟ ہم میں سے اکثریت ریاض ختم کی طرح سوچتی ہے۔ یعنی کب شام ہو گی، کب رات ہو گی، کب نیا دن نکلے گا اور کب گذرے گا۔ ختم یوں نام پڑا کہ اس نے پوری کارآمد زندگی یوں گذار دی کہ ایک تھڑے پر بیٹھا آدم شماری کرتا رہتا اور دھوپ ستانے لگتی تو سامنے والے تھڑے پر منتقل ہو جاتا۔ ہر آتے جاتے سے کچھ کچھ دیر بعد ٹائم پوچھتا رہتا۔ کوئی کوئی جگت بھی لگا جاتا کہ بھائی ختم تجھے ٹائم پوچھ کے کرنا کیا ہے ؟

ہم میں سے کتنے سوچتے ہیں کہ جتنی توانائی ہم اپنے ناکارہ پن کے دفاع میں صرف کرتے ہیں، اس سے آدھی توانائی میں کوئی ڈھنگ کا کام بھی تو کر سکتے ہیں۔ مشفق دوست اور شاعر مرحوم جمال احسانی اکثر کہا کرتے تھے کہ جتنا دماغ ہم خود کو غریب رکھنے کے لیے لڑاتے ہیں اس سے آدھی محنت میں خوشحال بھی ہو سکتے ہیں۔ کہتے تھے کہ سب سے زیادہ محنتی بھکاری ہوتا ہے۔ صبح سے شام تک اپنی جاب کرتا ہے، پھر بھی بھکاری کہلاتا ہے۔ صرف اس لیے کہ اس کے پاس اس حالت سے نکلنے کے لیے کوئی آئیڈیا نہیں ہوتا۔ جیسے کولہو کے بیل کے پاس کوئی آئیڈیا نہیں ہوتا۔ مگر کیا ضروری ہے کہ ہر کسی کے پاس کوئی نہ کوئی آئیڈیا ہو اور وہ پورا بھی ہو جائے۔ تو پھر کیا کریں ؟

ہم اپنے بچوں کو کتنا معیاری وقت دیتے ہیں اور سنگل فیملیوں کے انٹرنیٹ زدہ بچے آپ کے ساتھ کتنا معیاری وقت گذارتے ہیں۔ ہم جن بہن بھائیوں کے ساتھ بچپن میں دن رات بسر کرتے تھے اور کبھی تصور بھی نہ کرتے تھے کہ سفاک زندگی کس کو کہاں لے جائے گی۔ ان کا ایک دوسرے سے آج کتنا رابطہ ہے ؟ دن میں کتنا ان کا خیال یا تصویر یا ان کے ساتھ گذرا کوئی لمحہ بلبلے کی طرح دل میں ابھرتا ہے اور پھوٹ جاتا ہے ؟ جو ماں آپ کے ساتھ تب سے ہے جب آپ خود سے کروٹ بھی نہیں لے پاتے تھے اور جو باپ آپ کے ساتھ تب سے ہے جب آپ نے اس کی انگلی پکڑ کے پہلا قدم بھرا تھا۔ آج ان کے ساتھ کس قدر کمیونیکیشن باقی ہے (میں سلام دعا اور عزت افزائی اور سرجھکا کے بات سن لینے کی بات نہیں کر رہا۔ کمیونیکیشن کی بات کر رہا ہوں )۔

کیا آج بھی آپ کے والدین آپ سے بے ساختہ کوئی بھی بات کرنے کا حق استعمال کرتے ہیں یا انتظار کرتے رہتے ہیں کہ کب آپ ان کے پاس آ کر بیٹھتے ہیں یا کب آپ کا موڈ اتنا اچھا ہوتا ہے کہ وہ آپ سے دل کی بات کہنے کی جرات کر سکیں۔
سال میں تین سو پینسٹھ دن ہوتے ہیں۔ گذشتہ برس جتنے گھنٹے آپ نے اپنی فیملی کے ساتھ بنا کسی دباؤ کے ہنسی خوشی گذارے ان کو جوڑ کر دنوں میں تبدیل کرنے کا تجربہ کیجیے۔ اگر تین سو پینسٹھ میں سے پانچ دن بھی نکل آئے تو میں آپ کے رویے پر رشک کروں گا۔ ( سب سے زیادہ معیاری وقت جرمن اپنے خاندانوں اور دوستوں کے ساتھ گذارتے ہیں یعنی اوسطاً دس روز سالانہ)۔

آپ بھلے امیر ہوں کہ غریب۔ فراغت خوشی دیتی ہے مگر ضرورت سے زیادہ فراغت زنگ آلود ہوتی ہے اور خالی دماغ میں رائیگانی ، نکتہ چینی ، منفیت اور حسد کے کیڑے مکوڑے گھر بنانا شروع کر دیتے ہیں۔ آپ ذرا بھارت اور پاکستان میں عدالتی ماحول کا جائزہ لیں۔ سب سے زیادہ دیوانی مقدمات ان سائلین کے ہوں گے جن کی عمر پچاس برس یا زائد ہو گی۔ جوانوں کو اتنی فرصت کہاں کہ ہر پھڈے میں ٹانگ اڑانے، میم میخ نکالنے یا اذیت پسندی کے لیے وقت نکل پائے۔چھوٹے شہروں میں ہزاروں ایسے لوگ ہیں جن کی زندگی میں مقدمہ ہی مصروفیت ہے۔ آپ وکیلوں کے آس پاس یا عدالتی منشیوں کے ساتھ سر جوڑ کے کھسر پھسر کرنے یا عدالتی کینٹین میں ہاف سیٹ چائے پر آٹھ سے تین بجانے والوں کے چہرے دیکھتے چلے جائیں۔ جوان چہرے اقلیت میں ہی نظر آئیں گے۔

کہنا شائد میں یہ چاہ رہا ہوں کہ دائمی زندگی کے چکر میں عارضی زندگی تباہ نہ کریں اور بطور انسان آپ کو جو چند کارآمد سال قدرت عطا کرتی ہے انھیں اپنی بساط کے مطابق معیاری اور مثبت انداز میں کھپانے اور اپنوں اور دوسروں کے لیے راحت کن شخصیت بننے میں لگائیں۔ اس عیاشی کے لیے بے تحاشا وسائل یا پیسہ ہونا شرط نہیں۔ محلے میں میرا سب سے اچھا دوست خلیل موچی ہے۔ میں اس کی چھوٹی سی دنیا کی سیدھی سادی گفتگو کی جھونپڑی میں کچھ دیر بیٹھ کر اس کے بے ضرر قصے اور زمانے کے بارے میں اس کا نقطہِ نظر بلا ٹوکے سنتا رہتا ہوں اور وہ جوتے بھی گانٹھتا رہتا ہے۔ آج تک خلیل نے کسی کے بارے میں کوئی غیبت کی اور نہ ہی اپنی محرومیوں کا چارٹ اپنے چہرے پر چسپاں کیا۔ اسی لیے پینسٹھ برس کی عمر میں بھی اس کا چہرہ مسکراہٹ کی گرمی سے تمتماتا رہتا ہے۔ صحبا دنیا تم سے پہلے بھی تھا بعد میں بھی رہے گا۔ رونا دھونا تمہارا عمر نہیں بڑھا سکتا کم کر سکتا ہے تو پھر ہنس بول کے سفر کاٹنے میں کیا مسئلہ ہے۔ 

وسعت اللہ خان
 

Advertisements

خوش رہنا ہے؟ تو انداز فکر تبدیل کر لیجیے

کام یاب زندگی کو ہم خوشی سے تعبیر کرتے ہیں۔ زندگی میں خوشی کااحساس سکون اور طمانیت عطا کرتا ہے اور یہی کام یاب زندگی کی علامت سمجھے جاتے ہیں لیکن فی زمانہ ہر شخص خوشی کی تلاش میں سرگرداں نظر آتا ہے۔ خصوصاً خواتین بیشتر وقت پریشان رہتی ہیں۔ مختلف باتوں کی وجہ سے ہمہ وقت تفکرات میں گھری رہتی ہیں حالاںکہ خدا نے بے شمار نعمتیں اور رشتے عطا کیے ہوتے ہیں۔ مثلاً پیارکرنے والا شوہر، ہمدرد بہنیں اور سہیلیاں مگر پریشانیوں میں گھر کر وہ ایسے تمام پیارے رشتے اور بہت کچھ نظر انداز کر دیتی ہیں جب کہ زندگی میں یہ سمجھنا از حد ضروری ہے کہ ہمیں اپنی خوشیوں کا محور ایک ہی شخص یا ایک ہی چیز کو نہیں بنا لینا چاہیے۔ خوشیوں کے رنگ تو ہر سو بکھرے ہوتے ہیں۔ کبھی بھی اپنی خوشیوں کو کسی بھی ایک معاملے، ایک رشتے، اور فرد واحد تک محدود نہیں کرنا چاہیے۔

مثال کے طور پر ایک خاتون جس کا شوہر بہت اچھا ہے ان کے تعلقات نہایت اچھے ہیں، گھریلو زندگی بہت خوش گوار ہے، بہت اچھی سہیلیاں ہیں، پیارے پیارے سے بچے ہیں لیکن اگر وہ دفتر میں اپنی کارکردگی سے مطمئن نہیں یا ان کی ترقی نہیں ہو رہی تو وہ خوش نہیں ہیں۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ اگر مثبت انداز فکر سے سوچا جائے تو زندگی میں بے شمار رشتے اور دیگر معاملات بھی خوشیوں کا باعث ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر والدین، پیار کرنے والے اہل خانہ، ہنس مُکھ سا بھائی، اورپیار کرنے والی بھابھی، لیکن اگر ساس کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں ہوں تو وہ خاتون خوش نہیں رہتیں کیوں کہ ہم اپنے پاس موجود بے شمار نعمتوں اور پیارے پیارے رشتوں کے ہوتے ہوئے بھی اپنی خوشیوں کا محور اس ایک شخص یا ایک معاملے کو بنا لیتے ہیں، حالاںکہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔

ہر شخص کی زندگی میں ایسے بہت سے معاملات اور بہت سی باتیں اور بہت سے رشتے ہوتے ہیں جن کے متعلق سوچیں تو یاسیت، افسردگی اور بے چینی کا شکار ہو جائیں۔ شاید اپنی زندگی کے متعلق منفی انداز سے سوچنے لگیں لیکن زندگی میں کام یاب اور خوش وہی لوگ رہتے ہیں جو یہ سیکھ لیتے ہیں کہ اپنی زندگی میں ان چیزوں کو اپنا محور بنائیں ان کے متعلق سوچیں جو ہمیں بے حد پیاری ہوں، جو رشتے دل کے قریب ہوں۔ مثلاً بچے، اپنی پیاری اولاد، وہ بہترین سہیلی جو ہر سکھ دکھ میں ساتھ ہے۔ چاہے کیسے ہی حالات کیوں نا ہوں لیکن وہ ہمیشہ ساتھ کھڑی رہتی ہے۔ شوہر جو ہر معاملے میں ساتھ دیتے ہیں۔ زندگی میں آنے والے سرد و گرم میں ہمہ وقت ساتھ ہیں۔

اکثر گھروں میں چھوٹے موٹے جھگڑے تو ہوتے ہی رہتے ہیں۔ ان کی بنیاد پر کوئی فریق انتہائی قدم اٹھانے کے متعلق سوچنے لگتا ہے۔ مثال کے طور پر اکثر ساسوں کو بہووں سے بے انتہا شکایات ہوتی ہیں۔ دوسروں سے گفت گو کے دوران بھی ان کا یہ انداز ہوتا ہے کہ میں بہت پریشان ہوں، میری اور میری بہو کی بالکل نہیں بنتی اور شاید میں کسی دن خودکشی کرلوںگی۔ کتنی عجیب بات ہے کیوںکہ بہو تو صرف آپ کی زندگی کا ایک حصہ ہے۔ آپ کی زندگی صرف اس حصے تک محدود نہیں ہے۔ اس خول سے باہر نکل کر دیکھیں کتنا کچھ ہے صرف انداز فکر تبدیل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

ہم عموماً روزانہ گھر کے آنگن میں، بالکونی میں یا لان میں بیٹھ کر چائے پیتے ہیں، کبھی محسوس کیا کہ خوب صورت پرندے اڑ رہے ہوتے ہیں، سامنے پارک میں لوگ ہنس رہے ہوتے ہیں، واک کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ کتنا خوب صورت منظر ہوتا ہے۔ باہر قدرت کے حسین نظارے ہمارے لیے ہیں لیکن ہم دیکھتے ہی نہیں، ہم محسوس ہی نہیں کرتے کیوںکہ ہم اپنی سوچ کا محور صرف منفی چیزوں یا منفی باتوں کو بنا لیتے ہیں اور اسی میں مصروف رہتے ہیں۔ اگر ہم اپنی سوچ کا انداز تبدیل کر لیں تو زندگی خود بخود خوب صورت ہوتی چلی جائے گی۔ اپنی زندگی میں مثبت سوچ کے ساتھ ایک نیا قدم اٹھائیں۔ مثبت سوچ کے ساتھ جینے کا عزم کریں۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر پریشان ہونا یا ناخوش ہونا چھوڑ دیں۔ اگر شادی نہیں ہوئی، ہمسفر نہیں ملا تو یہ سوچیں کہ کنوارا رہنے کے کیا فائدے ہیں۔ ہر ذمے داری سے آزادی، اماں ابا سے لاڈ اٹھوانے کا بھی ایک اپنا ہی مزہ ہے۔

اگر ذاتی گھر نہیں ہے تو کرائے کے مکان میں کیا کیا فائدے ہیں۔ اگر شوہر سے ناخوش ہیں تو اس کو سمجھنے کی کوشش کریں، خوش رہیں اور دیگر بہت سارے پیارے رشتے جو ارد گرد موجود ہیں ان کے متعلق سوچیں۔ صرف آنکھیں کھولنے، سوچ کے در وا کرنے، پریشان کُن صورت حال سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے۔ جب ہم کسی مسئلے سے اپنی توجہ ہٹا لیتے ہیں وہ مسئلہ خود بخود صحیح ہو جاتا ہے۔ رشتے خود بخود اپنی جگہ بنانے لگتے ہیں۔ معاملات ٹھیک ہونے لگتے ہیں۔ بہت زیادہ سوچنا اور متفکر ہونا چھوڑ دیں تو معاملات از خود بہتر ہونے لگیں گے۔ اس طرح اپنی زندگی کو ہر قدم پر تبدیل کریں۔ مثبت طرز فکر کے ساتھ چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے دامن کو بھرنے کی کوشش کریں۔ زندگی میں خوشیوں کے رنگ بکھر جائیں گے۔

منیرہ عادل
 

خود اعتمادی بڑھائیں اور زندگی میں کامیاب ہو جائیں

اگر شخصیت میں اعتماد ہو تو کم تعلیم کے باوجود زندگی میں ترقی ممکن ہے جبکہ خوداعتمادی سے محرومی اعلیٰ تعلیم اور صلاحیت کو بھی ماند کر دیتی ہے۔
درحقیقت حقیقی اعتماد شخصیت میں ایک جادو سا بھر دیتا ہے ۔ ایسا ہونے پر لوگوں کو خود پر اور اپنی صلاحیت پر یقین ہوتا ہے اور خود اعتمادی سے بھرپور افراد کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جنھیں کرنے سے گریز کرتے ہیں جو درج ذیل ہیں۔

جواز نہیں تراشتے
خوداعتماد لوگوں کو جس ایک چیز پر یقین ہوتا ہے وہ ذاتی تاثیر ہے، ان کا ماننا ہوتا ہے کہ وہ چیزوں کو بنا سکتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ایسے افراد کبھی بھی ٹریفک میں پھنسنے کی وجہ سے تاخیر یا ترقی نہ ملنے پر انتظامیہ کی شکایات نہیں کرتے، درحقیقت ایسے افراد کبھی بہانے یا جواز نہیں تراشتے کیونکہ انہیں یقین ہوتا ہے کہ وہ اپنی زندگیوں پر کنٹرول رکھتے ہیں۔

وہ ہمت نہیں ہارتے
خوداعتمادی کی دولت سے مالامال افراد اپنی پہلی کوشش ناکام ہونے پر ہار نہیں مانتے، وہ اس کام میں سامنے آنے والی مشکلات اور ناکامیوں کو رکاوٹ کے طور پر دیکھتے ہیں جسے عبور کرنا ہوتا ہے۔ وہ بار بار ایک چیز مکمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ وہ یہ جاننے کی کوشش بھی کرتے ہیں کہ آخر ان کی ناکامی کی وجہ کیا ہے اور کس طرح اگلی بار اس سے بچا جا سکتا ہے۔

وہ کام کرنے کے لیے اجازت ملنے کا انتظار نہیں کرتے
خوداعتماد افراد کے لیے یہ ضروری نہیں کہ کوئی انہیں بتائے کہ کیا کرنا ہے یا کیسے کرنا ہے، وہ وقت ضائع کیے اور سوالات کیے اپنے کام کو نمٹاتے ہیں، وہ بس اپنے کام کو نمٹانا چاہتے ہیں اور اسے پورا کرتے ہیں۔

انہیں توجہ کی خواہش نہیں ہوتی
لوگ ان افراد کو زیادہ نہیں پسند کرتے جو توجہ حاصل کرنے کے لیے بے تاب ہوتے ہیں، خوداعتماد افراد جانتے ہیں کہ وہ اپنی حد تک کتنے موثر ہیں اور انہیں خود کو اہم ثابت کرنے میں دلچسپی نہیں ہوتی۔ ایسے افراد بس اپنے اندر درست رویہ پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ خود کو ملنے توجہ کو بھی دیگر افراد کے کام کی جانب مبذول کراتے ہیں۔

انہیں مسلسل تعریف کی ضرورت نہیں ہوتی
کیا آپ نے کسی ایسے شخص کو دیکھا ہے جو چاہتا ہے لوگ اسے مسلسل سراہے؟ خوداعتماد افراد ایسا نہیں کرتے، انہیں نہیں لگتا کہ ان کی کامیابی کا انحصار دیگر افراد کی تعریف پر ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ جتنا بھی اچھا کام کریں، ہمیشہ کوئی نہ کوئی ایسا ہوگا جو لازمی تنقید کرے گا۔

وہ کام ٹالتے نہیں
لوگ کاموں کو ٹالتے کیوں ہیںَ کئی بار اس کی وجہ بس یہ ہوتی ہے کہ وہ سست ہوتے ہیں جبکہ متعدد بار اس کی وجہ ان کا خوفزدہ ہونا ہوتا ہے، یعنی تبدیلی، ناکامی یا ہو سکتا ہے کامیابی کا خوف۔ خوداعتماد افراد کاموں کو ٹالتے نہیں کیونکہ وہ خود پر یقین رکھتے ہیں اور توقع کرتے ہیں کہ ان کے اقدامات انہیں مقصد کے قریب لے جائیں گے۔

دیگر افراد سے موازنہ نہیں کرتے
ایسے افراد اپنے فیصلے دوسرون کے سر تھوپتے نہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ہر ایک کے پاس کچھ نہ کچھ خاص ہوتا ہے، اور انہیں دیگر افراد کی ہمت یا حوصلہ توڑنے کی ضرورت نہیں ہوتی تاکہ خود اچھا محسوس کر سکیں۔ دیگر افراد سے موازنہ کرنا شخصیت کو محدود کرتا ہے ۔ خوداعتمادی کے نتیجے میں لوگ اپنا وقت دیگر افراد سے موازنہ میں ضائع نہیں کرتے۔

تنازعے سے بچنے کی کوشش نہیں کرتے
خوداعتماد افراد کی نظر میں تنازعہ ایسی چیز نہیں جس سے ہر قیمت پر بچا جائے، بلکہ وہ اسے ایسے دیکھتے ہیں کہ اس کو کیسے موثر طریقے سے نمٹائیں۔ ناخوشگوار بات چیت یا فیصلے کرنے سے وہ ہچکچاتے نہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ تنازع زندگی کا حصہ ہے۔

وسائل کی کمی کو آڑے نہیں آنے دیتے
ایسے افراد اپنے راستے سے اس لیے پیچھے نہیں ہٹ جاتے کیونکہ ان کے پاس وسائل، عملہ یا رقم نہیں، اس کی بجائے وہ آگے بڑھنے کے لیے کوئی راستہ ڈھونڈتے ہیں یا کوشش کرتے ہیں کہ ان کے بغیر ہی آگے بڑھ سکیں۔

بہت زیادہ مطمئن نہیں ہوتے
ایسے افراد جانتے ہیں کہ بہت زیادہ اطمینان ان کے مقاصد کے حصول کے لیے خاموش قاتل ثابت ہوتا ہے۔ جب وہ اطمینان محسوس کرنے لگتے ہیں تو اسے خطرے کی جھنڈی کے طور پر لیتے ہیں اور اپنی شخصیت کی حدود کو پھیلانے لگتے ہیں، ان کے خیال میں تھوڑا سا عدم اطمینان ذاتی زندگی اور کیرئیر دونوں کے لیے اچھا ہوتا ہے۔
 

کیا ہم خود کو زیادہ خوش رکھ سکتے ہیں؟

خوش رہنے کی دعا عام طور پر دی جاتی ہے جس سے اس انمول شے کی اہمیت
کا اندازہ ہوتا ہے۔ تاہم خوشی ہر ایک کا نصیب نہیں ہوتی۔ زندگی میں غم اور دکھ ہمارا پیچھا کرتے رہتے ہیں لہٰذا ضروری ہے کہ ان سے چھٹکارہ پانے اور خوشی حاصل کرنے کے طریقوں کا پتا چلایا جائے۔ بعض اوقات انسان خوشی پانے کے ہنر سے آگاہ نہ ہونے پر بھی زندگی کا لطف نہیں اٹھا پاتا۔ ان لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا شروع کریں جن سے آپ کو مسرت اور دلی سکون ملتا ہے۔ عام طور پر ہمارا دن تین حصوں میں تقسیم ہوتا ہے۔ گھر، دفتر اور دوست۔ تینوں میں خوشی کی تلاش اور پریشانیوں سے نجات کے لیے قدرے مختلف حکمت عملی ضرورت ہوتی ہے۔

گھر میں شریک حیات کے ساتھ بہتر اور خوش گوار تعلقات کا ہونا ضروری ہے۔ دفتر میں اپنے ہنر کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ کام کرنے والوں سے اچھا تعلق ہونا چاہیے۔ ایسی جگہ کام کرنے کو ترجیح دینی چاہیے جہاں کا ماحول آپ کو پریشان نہ کرے۔ منفی خیالات اور جذبات کو اپنے ذہن میں نہ آنے دیں کیونکہ یہ ہماری خوشی کے دشمن بن جاتے ہیں۔ ان اندرونی خیالات کی وجہ سے بیرونی خوشی کا احساس نہیں ہو پاتا۔ آئیے اس بارے میں مزید جانتے ہیں۔ خوشی کاارادہ کریں خوش رہنے کے لیے شعوری فیصلہ کرنا چاہیے ۔ 

معروف برطانوی فلسفی برٹرینڈ رسل اپنی کتاب کنکوئسٹ آف ہیپینس میں کہتے ہیں کہ خوشی انعام کی صورت میں نہیں ملتی اسے پانا پڑتا ہے۔ اسے پانے کے لیے انسان کو اپنی اندرونی اور بیرونی دنیا کو بدلنے کی کوششیں کرنا ہوتی ہے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق خوش رہنے کے لیے خوش رہنے کا ارادہ کرنا ضروری ہے۔ اپنے آپ سے خوش رہنے اور پریشان نہ ہونے کا عہد کرنا ہوتا ہے۔ خوشی کو اپنی زندگی کے بڑے مقاصد میں سے ایک بنانا پڑتا ہے۔ خوشی کے چھوٹے سے موقع کو بھی اہم جاننا چاہیے۔ دوسروں کی تعریف کریں شاید ہی کوئی فرد اپنی تعریف نہ سننا چاہے لیکن دوسروں کی تعریف کرنے میں کنجوسی پرتی جاتی ہے۔ اگر کسی نے تھوڑا سا بھی اچھا یا نیکی کا کام کیا ہے تو اس کی تعریف ضرور کرنی چاہیے اور شکریہ بھی ادا کرنا چاہیے۔ یہ کھلے دل کی علامت ہے۔ تنگ دل لوگ نہ خود خوش ہو پاتے ہیں اور نہ ہی دوسروں کو خوش دیکھ پاتے ہیں۔ ان میں خود کو شامل مت کیجیے۔ لوگوں کی مناسب انداز میں تعریف کر کے آپ نا صرف ان کے لیے مسرت کا سامان پیدا کریں گے بلکہ وہ آپ کے بارے میں مثبت تاثر قائم ہوتا ہے۔ گھر ہو یا دفتر تعریف کرنے سے لوگوں کے رویے بہتر ہوتے ہیں۔ 
اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ بے جا تعریف کی جائے۔ معاف کرنا سیکھیں کسی نے آپ کے ساتھ کچھ برا کیا ہو تو دکھ اور تکلیف کا ہونا فطری ہوتا ہے۔ لیکن اگر یہ دل و دماغ پر چھا جائے توانسان ہمہ وقت کوفت میں رہتا ہے جس سے خوشی جاتی رہتی ہے۔ بعض اوقات معاف نہ کرنے کی صورت میں پیدا ہونے والا ذہنی دباؤ ہمیں پریشان کیے رکھتا ہے ۔ یہ تشویش اورمایوسی کو بڑھا کر ہماری خوشی چھین لیتا ہے۔ اس سے چھٹکارہ پانے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ درگزر کو اپنی شخصیت کا حصہ بنالیں۔ معاف کرنا آسان نہیں ہوتا لیکن یہ ناممکن بھی نہیں۔ اگر کسی نے دھوکا دیا ہے تو معاف کرنے کی جانب پہلا قدم یہ ہو گا کہ آپ دھوکا دینے والے کے نکتہ نظر سے حالات کا جائزہ لیں اور یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ اس نے ایسا کیوں کیا ہو گا۔ اس وقت کو یاد کریں جب آپ نے کسی کو معاف کیا تھا۔ اپنے آپ سے کا عہد کریں کہ آپ درگزر سے کام لیں گے اور پھر اس پر قائم رہیں۔ منفی خیالات دور بھگائیں جسمانی صفائی کی طرح ذہنی صفائی بھی لازمی ہے۔
جسم سے میل اور گندگی کو صاف کرنا پڑتا ہے تو ذہن سے منفی خیالات کو۔ان خیالات کی آمد از خود ہوتی ہے تاہم انہیں ذہن سے نکالنے کے لیے شعوری کوشش کرنا پڑتی ہے۔ یہ مختلف طریقوں سے کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے سب سے پہلے اس وقت کویاد کرنا چاہیے جب منفی خیالات وارد نہیں ہوئے تھے۔ اس کے بعد زندگی کے مثبت پہلوؤں کی جانب توجہ مبذول کرنی چاہیے۔ متعدد سرگرمیاں منفی خیالات کو ذہن سے نکالنے میں مدد دیتی ہیں۔ ان میں مراقبہ، سیروسیاحت اور کتب بینی شامل ہیں۔ دولت خوشی نہیں خرید سکتی زندگی کی بنیادی ضروریات کا پورا ہونا ضروری ہے جس کے لیے دولت کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن اگر دولت ہی کو خوشی سمجھ لیا جائے تو خوشی روٹھ جاتی ہے۔
دولت کو سب کچھ سمجھ کر اس کی دوڑ میں بعض لوگ اتنے اندھے ہو جاتے ہیں کہ انہیں اور کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ وہ اپنوں سے دور ہو جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ اپنے لیے بھی وقت نہیں نکال پاتے۔ یقینا دولت چاہیے ہوتی ہے لیکن اسے خوشی کی قیمت پر حاصل نہیں کرنا چاہیے۔ اچھے دوست بنائیں ان افراد سے دوستی کریں جو آپ کا خیال رکھتے ہیں اور جن کے ساتھ وقت بتا کر مسرت کا احساس ہوتا ہے۔ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ زیادہ تعداد میں اچھے دوست رکھنے والے افراد زیادہ خوش و خرم رہتے ہیں۔ پس نئے اور اچھے دوستوں کی تلاش شروع کیجیے۔ مقصد تلاش کریں روزمرہ کی زندگی میں بہت سے کام ہماری ضرورت ہوتے ہیں چاہے ہم انہیں پسند کریں یا نہ کریں۔
مثال کے طور پر ہمیں بعض اوقات اس جگہ بھی ملازمت کرنی پڑتی ہے جہاں ہم کرنا نہیں چاہتے۔ تاہم کچھ فارغ وقت بھی ملتا ہے جسے بہت سے لوگ ٹی وی، فلم یا انٹرنیٹ پر ضائع کر دیتے ہیں۔ اس کی ایک اہم وجہ زندگی میں مقصد نہ ہونا ہے۔ زندگی کا بامعنی اور بامقصد ہونا ضروری ہے ۔ جتنا وقت ملے اپنے مقصد کے حصول کی کوشش کرنی چاہیے۔ چاہے چھوٹا ہو یا بڑا اپنی زندگی کا کوئی مثبت مقصد بنائیں اور اسے پانے کے جتن کریں۔ اس سے خوشی اور روحانی سکون بھی ملے گا اور دوسروں کا بھلا بھی ہو گا۔
محمد اقبال

ملازمت کے دوران خوش رہنے کے سنہری اصول

دنیا بھر میں کروڑوں لوگ ملازمت کرتے ہیں ، تقریباََ ہر جگہ کے مسائل میں ایک چیز مشترکہ ہے اور وہ ہے کام کا پریشر۔ ملازمت کے دوران کام کے پریشر کی وجہ سے غصہ، ذہنی تنائو، ڈپریشن اور جھگڑے بھی ہوتے ہیں ۔ اصل سوال یہ ہے کہ ملازمت کے دوران ان تکلیف دہ چیزوں سے کیسے بچا جائے۔ عمومی طور پر افسران اور ماتحتوں کا رشتہ ساس بہو کے رشتہ کی طرح ہی ہوتا ہے۔ کہیں افسران ماتحتوں سے خوش نہیں تو کہیں ماتحت افسران سے خوش نہیں ۔ 
٭جب ماتحتوں کی طرف سے کام کو ایک ذمہ داری کے طور پر لیا جائے گا اور افسران بے جا دبائو سے گریز کریں گے تو کسی حد تک ماحول نارمل ہوجائے گا۔
 
٭کام کو جب آپ دبائو اور بوجھ سمجھ کر کرینگے تو کوفت ہو گی۔ پہلے تو آپ کو اپنے پسندیدہ شعبہ میں ہی جانا چاہیے ۔ جس کام میں آپ کا شوق شامل ہوگا وہاں کام آپ کو بوجھ محسوس نہیں ہوگا اور آپ مقررہ وقت سے زیادہ بھی خوش دلی سے کام کرنے میں عار محسوس نہیں کرینگے۔ 
 
٭جب کام پر بیٹھ جائیں تو سب سے پہلے جو چیز اپنائیں وہ خوش اخلاقی اور مسکراتا ہوا انداز ہو۔ دیکھا گیا ہے کہ کچھ لوگ خوامخواہ افسر بننے کے زعم میں اپنے چہرے پر بے جا سنجیدگی سجائے رکھتے ہیں اور ایسا وہ اس لئے کرتے ہیں کہ ماتحت ان سے دبے رہیں اور زیادہ توجہ سے کام کریں ۔ حالانکہ خوش اخلاقی کے ساتھ بھی آپ اچھا کام لے سکتے ہیں ۔ 
٭سخت الفاظ کی بجائے دوسروں سے مناسب اور بارعب نپے تلے الفاظ کے ساتھ بات کریں ۔ آپ کا مخاطب کوئی ہو چاہے صارف ہو ، ماتحت ہو یا افسر ہو الفاظ نپے تلے اور بے ادبانہ نہ ہوں تو بہت سے سخت معاملات آسانی سے حل ہو جاتے ہیں جس سے آپ کی شخصیت بھی مجروح نہیں ہوتی اور آپ پر غصہ بھی سوار نہیں ہوتا ۔ 
٭یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ کچھ لوگ ٹینشن گھر سے لے کر آتے ہیں اور دفتر میں ایک دوسرے پر نکالتے ہیں ۔ اس کے لئے واضح اصول اپنا لیں کہ گھر کی ٹینشن گھر تک ۔ کام کو دوسرے افراد (صارف، ماتحت یا افسر) کے لئے آسان بنانے کی کوشش کریں جتنا زیادہ دبائو میں کام لیا یا دیا جائے گا اتنا ہی غلطیاں زیادہ ہوں گی ۔ زیادہ سے زیادہ آسانیاں تقسیم کریں ۔
 
٭ماتھے پر تیوری چڑھا کر بات کرنے کی بجائے اگر پرسکون اور ہنس مکھ انداز میں بات کی جائے چاہے وہ کتنی سخت کیوں نہ ہو اس کا برااثر نہیں ہو گا۔ دوستانہ انداز میں بہتر کام ہوتا ہے بجائے اس کے کہ کسی کو آپ ہر وقت ذہنی دبائو میں رکھیں۔ 
٭جن دفاتر کے کائونٹرز کا عوام سے براہ راست واسطہ پڑتا ہے وہاں چڑچڑاپن زیادہ دیکھا گیا ہے ۔ کچھ لوگ جلدباز ہوتے ہیں کچھ ویسے ہی الٹا جواب دیتے ہیں تو ان سب سے نمٹنے کے لئے خوش اخلاقی اور تمیز سے بات کرنا کام کو آسان کرنے کے لئے بہترین ہتھیار ہے۔ دوسروں کے لئے خوامخواہ مشکلات کھڑی نہ کریں ۔ دفاتر میں معمولی سا کام بھی کروانا ہو تو عملہ آپ کی دوڑیں لگوا دے گا ۔ دفاتر کے عملہ کو بھی چاہیے کہ وہ دوسروں کے لئے آسانیاں پیدا کرینگے تو ان کی مشکلات بھی دور ہونگی کیونکہ معاشرہ ایک دوسرے سے منسلک ہوتا ہے ۔ آپ کسی کی مشکل کو آسان کرنے کی روایت ڈالیں گے تو دوسرے آپ کے لئے راستہ صاف کرینگے۔ اس طرح دیکھا دیکھی مشکلات اور مسائل کے حل نکلتے آئیں گے اور کام بھی آسان ہوتا جائیگا۔
طیب رضا عابدی
 

حقیقی خوشی دولت سے نہیں ملتی : نئی تحقیق

ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ آمدن دگنی ہونے کی نسبت اچھی صحت اور
اچھا شریکِ زندگی لوگوں کی زندگیوں کو زیادہ خوش و خرم بناتا ہے۔ لندن سکول آف اکنامکس کی اس تحقیق میں دو لاکھ لوگوں کی زندگیوں پر مرتب ہونے والے مختلف حالات کا جائزہ لیا گیا۔ اس سے پتہ چلا کہ ڈپریشن یا بےچینی کی بیماری لوگوں کی خوشی پر سب سے زیادہ اثرانداز ہوتی ہے، جب اچھے شریکِ حیات کی وجہ سے سب سے زیادہ خوشی نصیب ہوتی ہے۔ تحقیق کے شریک منصف کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے ‘ریاست کا نیا کردار سامنے آتا ہے۔’ یہ تحقیق دنیا بھر میں کیے جانے والے رائے عامہ کے متعدد بین الاقوامی جائزوں پر مشتمل ہے۔

سائنس دانوں نے معلوم کیا کہ آمدن دگنی ہو جانے سے ایک سے لے کر دس تک کے پیمانے میں خوشی صرف 0.2 درجے کے قریب بلند ہوئی۔ تحقیق کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ اپنی آمدن کے خود پر پڑنے والے اثر کی بجائے دوسروں سے اپنی آمدن کے تقابل کا زیادہ احساس کرتے ہیں۔ تاہم اچھا شریکِ حیات مل جانے سے خوشی میں 0.6 درجے اضافہ ہو جاتا ہے، جب کہ شریکِ حیات کی موت یا علیحدگی سے اسی قدر کمی واقع ہوتی ہے۔ تاہم اس پیمانے پر سب سے زیادہ منفی اثر ڈپریشن اور بےچینی کی بیماری سے پڑتا ہے، جس سے خوشی 0.7 درجے گر جاتی ہے۔ اسی طرح بےروزگاری سے بھی اسی قدر کمی واقع ہوتی ہے۔

تحقیق کے شریک مصنف پروفیسر رچرڈ لیئرڈ نے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاست کو اپنے شہریوں کی خوشی میں نیا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے، اور وہ دولت پیدا کرنے سے زیادہ خوشی پیدا کرنے پر زور دے۔ انھوں نے کہا: ‘شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ جو چیزیں ہماری خوشی اور دکھ میں سب سے زیادہ کردار ادا کرتی ہیں وہ ہمارے سماجی تعلقات اور ہماری ذہنی اور جسمانی صحت ہیں۔
‘ماضی میں ریاست غربت، بےروزگاری، تعلیم اور جسمانی صحت جیسے مسائل کے خلاف جنگ لڑتی رہی ہے۔ لیکن گھریلو تشدد، کثرتِ شراب نوشی، ڈپریشن اور بےچینی، امتحانوں کا دباؤ، وغیرہ بھی اتنے ہی اہم ہیں۔ انھیں مرکزی اہمیت دینے کی ضرورت ہے۔’

دنیا بھر میں عوام کی اولین ترجیح کیا ہے؟

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ امریکا، ایران اور کیوبا میں کیا چیز مشترک ہے یا

جنوبی امریکا کس طرح باقی دنیا سے مختلف ہے یا پھر زندگی میں کس چیز کی اہمیت ہے ؟ اس سوچ کو بنانے میں آپ کے ملک کا کیا کردار ہے؟ دنیا بھر کے 80 ہزار سے زیادہ لوگوں نے اپنی رائے دی ہے کہ ان کی زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت کس چیز کی ہے اور ان کی آرا کو ذیل میں دئیے گئے نقشے کی صورت میں دکھایا گیا ہے، یعنی ہر ملک میں عوام کی اولین ترجیح کیا ہے؟ نقشہ انٹر نیٹ پر تفصیل سے موجود ہے جسے دیکھ کر آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ امریکا، کینیڈا، مغربی و وسطی یورپ اور اسکینڈے نیویا کے ترقی یافتہ ممالک میں زندگی سے مطمئن ہونا اور صحت سب سے اولین ترجیح ہے۔ 

اس کے مقابلے میں جنوبی امریکا میں تعلیم اولین ترجیح ہے، یعنی کم آمدنی رکھنے والے ملکوں کے عوام تعلیم کو ترجیح دے رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے یہی ایک راستہ ہے۔ یورپ میں جارجیا اور سلووینیا میں ماحولیات اولین ترجیح ہے۔ رومانیہ واحد ملک ہے، جس کے عوام تعلیم کو اہمیت دیتے ہیں اور البانیہ اور یوکرین میں لوگ عوام کو ترجیح دیتے ہیں۔ مالڈووا براعظم کا پہلا ملک ہے کہ جو ملازمت کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ جاپان اور متحدہ عرب امارات جیسے ترقی یافتہ ممالک میں عوام حفاظت کو سب سے زیادہ اہم سمجھتے ہیں جبکہ آسٹریلیا میں عوام کام اور زندگی کے درمیان توازن کو سب سے زیادہ ترجیح دینا چاہتے ہیں۔ ایشیا میں پاکستان، بنگلہ دیش، تاجکستان اور شام ایسے ملک ہیں، جو تعلیم کو ترجیح دے رہے ہیں جبکہ ایران، افغانستان، جنوبی کوریا اور بھارت زندگی میں اطمینان چاہتے ہیں۔ چین اور ترکی میں صحت سب سے ااگے ہے جبکہ سعودی عرب، قطر اور کویت میں آمدنی سب کے مطمع نظر ہے۔ ویسے آپ سے بھی سوال ہے کہ آپ اپنی زندگی میں اولین ترجیح کس کو دیتے ہیں؟ سوچئے گا ضرور!!!۔ 

شجاعت حامد