کیا ہم خود کو زیادہ خوش رکھ سکتے ہیں؟

خوش رہنے کی دعا عام طور پر دی جاتی ہے جس سے اس انمول شے کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ تاہم خوشی ہر ایک کا نصیب نہیں ہوتی۔ زندگی میں غم اور دکھ ہمارا پیچھا کرتے رہتے ہیں لہٰذا ضروری ہے کہ ان سے چھٹکارہ پانے اور خوشی حاصل کرنے کے طریقوں کا پتا چلایا جائے۔ بعض اوقات انسان خوشی پانے کے ہنر سے آگاہ نہ ہونے پر بھی زندگی کا لطف نہیں اٹھا پاتا۔ ان لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا شروع کریں جن سے آپ کو مسرت اور دلی سکون ملتا ہے۔ عام طور پر ہمارا دن تین حصوں میں تقسیم ہوتا ہے۔ گھر، دفتر اور دوست۔ تینوں میں خوشی کی تلاش اور پریشانیوں سے نجات کے لیے قدرے مختلف حکمت عملی ضرورت ہوتی ہے۔

گھر میں شریک حیات کے ساتھ بہتر اور خوش گوار تعلقات کا ہونا ضروری ہے۔ دفتر میں اپنے ہنر کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ کام کرنے والوں سے اچھا تعلق ہونا چاہیے۔ ایسی جگہ کام کرنے کو ترجیح دینی چاہیے جہاں کا ماحول آپ کو پریشان نہ کرے۔ منفی خیالات اور جذبات کو اپنے ذہن میں نہ آنے دیں کیونکہ یہ ہماری خوشی کے دشمن بن جاتے ہیں۔ ان اندرونی خیالات کی وجہ سے بیرونی خوشی کا احساس نہیں ہو پاتا۔ آئیے اس بارے میں مزید جانتے ہیں۔ خوشی کاارادہ کریں خوش رہنے کے لیے شعوری فیصلہ کرنا چاہیے ۔

معروف برطانوی فلسفی برٹرینڈ رسل اپنی کتاب کنکوئسٹ آف ہیپینس میں کہتے ہیں کہ خوشی انعام کی صورت میں نہیں ملتی اسے پانا پڑتا ہے۔ اسے پانے کے لیے انسان کو اپنی اندرونی اور بیرونی دنیا کو بدلنے کی کوششیں کرنا ہوتی ہے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق خوش رہنے کے لیے خوش رہنے کا ارادہ کرنا ضروری ہے۔ اپنے آپ سے خوش رہنے اور پریشان نہ ہونے کا عہد کرنا ہوتا ہے۔ خوشی کو اپنی زندگی کے بڑے مقاصد میں سے ایک بنانا پڑتا ہے۔ خوشی کے چھوٹے سے موقع کو بھی اہم جاننا چاہیے۔ دوسروں کی تعریف کریں شاید ہی کوئی فرد اپنی تعریف نہ سننا چاہے لیکن دوسروں کی تعریف کرنے میں کنجوسی پرتی جاتی ہے۔ اگر کسی نے تھوڑا سا بھی اچھا یا نیکی کا کام کیا ہے تو اس کی تعریف ضرور کرنی چاہیے اور شکریہ بھی ادا کرنا چاہیے۔ یہ کھلے دل کی علامت ہے۔ تنگ دل لوگ نہ خود خوش ہو پاتے ہیں اور نہ ہی دوسروں کو خوش دیکھ پاتے ہیں۔ ان میں خود کو شامل مت کیجیے۔ لوگوں کی مناسب انداز میں تعریف کر کے آپ نا صرف ان کے لیے مسرت کا سامان پیدا کریں گے بلکہ وہ آپ کے بارے میں مثبت تاثر قائم ہوتا ہے۔ گھر ہو یا دفتر تعریف کرنے سے لوگوں کے رویے بہتر ہوتے ہیں۔

اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ بے جا تعریف کی جائے۔ معاف کرنا سیکھیں کسی نے آپ کے ساتھ کچھ برا کیا ہو تو دکھ اور تکلیف کا ہونا فطری ہوتا ہے۔ لیکن اگر یہ دل و دماغ پر چھا جائے توانسان ہمہ وقت کوفت میں رہتا ہے جس سے خوشی جاتی رہتی ہے۔ بعض اوقات معاف نہ کرنے کی صورت میں پیدا ہونے والا ذہنی دباؤ ہمیں پریشان کیے رکھتا ہے ۔ یہ تشویش اورمایوسی کو بڑھا کر ہماری خوشی چھین لیتا ہے۔ اس سے چھٹکارہ پانے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ درگزر کو اپنی شخصیت کا حصہ بنالیں۔ معاف کرنا آسان نہیں ہوتا لیکن یہ ناممکن بھی نہیں۔ اگر کسی نے دھوکا دیا ہے تو معاف کرنے کی جانب پہلا قدم یہ ہو گا کہ آپ دھوکا دینے والے کے نکتہ نظر سے حالات کا جائزہ لیں اور یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ اس نے ایسا کیوں کیا ہو گا۔ اس وقت کو یاد کریں جب آپ نے کسی کو معاف کیا تھا۔ اپنے آپ سے کا عہد کریں کہ آپ درگزر سے کام لیں گے اور پھر اس پر قائم رہیں۔ منفی خیالات دور بھگائیں جسمانی صفائی کی طرح ذہنی صفائی بھی لازمی ہے۔

جسم سے میل اور گندگی کو صاف کرنا پڑتا ہے تو ذہن سے منفی خیالات کو۔ان خیالات کی آمد از خود ہوتی ہے تاہم انہیں ذہن سے نکالنے کے لیے شعوری کوشش کرنا پڑتی ہے۔ یہ مختلف طریقوں سے کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے سب سے پہلے اس وقت کویاد کرنا چاہیے جب منفی خیالات وارد نہیں ہوئے تھے۔ اس کے بعد زندگی کے مثبت پہلوؤں کی جانب توجہ مبذول کرنی چاہیے۔ متعدد سرگرمیاں منفی خیالات کو ذہن سے نکالنے میں مدد دیتی ہیں۔ ان میں مراقبہ، سیروسیاحت اور کتب بینی شامل ہیں۔ دولت خوشی نہیں خرید سکتی زندگی کی بنیادی ضروریات کا پورا ہونا ضروری ہے جس کے لیے دولت کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن اگر دولت ہی کو خوشی سمجھ لیا جائے تو خوشی روٹھ جاتی ہے۔

دولت کو سب کچھ سمجھ کر اس کی دوڑ میں بعض لوگ اتنے اندھے ہو جاتے ہیں کہ انہیں اور کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ وہ اپنوں سے دور ہو جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ اپنے لیے بھی وقت نہیں نکال پاتے۔ یقینا دولت چاہیے ہوتی ہے لیکن اسے خوشی کی قیمت پر حاصل نہیں کرنا چاہیے۔ اچھے دوست بنائیں ان افراد سے دوستی کریں جو آپ کا خیال رکھتے ہیں اور جن کے ساتھ وقت بتا کر مسرت کا احساس ہوتا ہے۔ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ زیادہ تعداد میں اچھے دوست رکھنے والے افراد زیادہ خوش و خرم رہتے ہیں۔ پس نئے اور اچھے دوستوں کی تلاش شروع کیجیے۔ مقصد تلاش کریں روزمرہ کی زندگی میں بہت سے کام ہماری ضرورت ہوتے ہیں چاہے ہم انہیں پسند کریں یا نہ کریں۔

مثال کے طور پر ہمیں بعض اوقات اس جگہ بھی ملازمت کرنی پڑتی ہے جہاں ہم کرنا نہیں چاہتے۔ تاہم کچھ فارغ وقت بھی ملتا ہے جسے بہت سے لوگ ٹی وی، فلم یا انٹرنیٹ پر ضائع کر دیتے ہیں۔ اس کی ایک اہم وجہ زندگی میں مقصد نہ ہونا ہے۔ زندگی کا بامعنی اور بامقصد ہونا ضروری ہے ۔ جتنا وقت ملے اپنے مقصد کے حصول کی کوشش کرنی چاہیے۔ چاہے چھوٹا ہو یا بڑا اپنی زندگی کا کوئی مثبت مقصد بنائیں اور اسے پانے کے جتن کریں۔ اس سے خوشی اور روحانی سکون بھی ملے گا اور دوسروں کا بھلا بھی ہو گا۔

محمد اقبال

کولیسٹرول کیسے کم کیا جائے؟

زندگی مزے سے گزر رہی تھی۔ چٹ پٹے مرغن کھانے، سری پائے، گردے کپورے، مغز، نہاری اور ناشتے میں انڈا اور مکھن کھانا معمول تھا۔ اس طرح کے کھانے اور کھابے کھانا مزیدار لگتا خود کھانے کے ساتھ اور دوسروں کو کھلانا بہت اچھا لگتا۔ صحت بھی خوب تھی۔ ڈاکٹر کے پاس کم کم جانا ہوتا۔ ایک دن بیٹھے بیٹھے سینے میں گھٹن محسوس ہوئی۔ ڈاکٹر کے پاس پہنچے ECG اور دوسرے ٹیسٹ ہوئے تو پتا چلا کہ خون میں کولیسٹرول کی مقدار کافی حد تک بڑھ چکی ہے۔ ECG میں بھی گڑبڑ ہے۔ خون میں کولیسٹرول بڑھنا خاصا تشویشناک ہوتا ہے۔ اس کے بڑھنے اور مضمرات کے بارے میں ذہن میں کئی سوالات جنم لیتے ہیں۔

کولیسٹرول کیا ہے؟

کولیسٹرول چربی کی ایک قسم ہے، جس کی مناسب مقدار کا جسم میں ہونا ضروری ہے۔ ایک نارمل آدمی کے جسم میں کولیسٹرول کی مقدار قریباً 100 گرام یا اس سے تھوڑی سی زیادہ ہوتی ہے کولیسٹرول جسم میں بنتا اور جمع ہوتا ہے۔ اس کی مناسب مقدار جسم میں ضروری ہارمونز پیدا کرنے کے لیے اور نظام ہضم میں مدد دینے کے لیے ضروری ہے۔ مختلف قسم کی خوراک مثلاً گوشت، انڈے، دودھ، مکھن اورگھی وغیرہ میں کولیسٹرول کی خاصی مقدار ہوتی ہے، اسی طرح کی غذا کھانے سے خون میں کولیسٹرول کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ جب خون میں کولیسٹرول کی مقدار حد سے بڑھ جائے، تو پھر یہ خون کی نالیوں کے اندرونی حصے میں جمع ہو کر اور چکنائی کی تہیں بنا کر خون کے نارمل بہائو میں رکاوٹ پیدا کر کے ہارٹ اٹیک کا سبب بن سکتا ہے، جس سے فوری موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔

کولیسٹرول کی اقسام :

کولیسٹرول خون میں گردش کرتا ہے۔ جسم میں موجود چکنائی اور لحمیات Protein  کے چھوٹے چھوٹے مرکبات کو لیسٹرول کو اس کے استعمال کی جگہ پر لے جاتے ہیں۔ ان مرکبات کو Lipo proteins کہتے ہیں۔

ان کی مندرجہ ذیل اقسام ہیں:

(1) Very Low Denity Lipoproteins (VDVL) (2) Low Density (LDL) Lipoproteins (3) High Density Lipoproteins (HDL) LDL اور VLDL جسم میں موجود کولیسٹرول کو جسم کے مختلف حصوں تک پہنچاتے ہیں جبکہ HDL اصل میں خون میں موجود کولیسٹرول کو کم کرنے کا کام کرتے ہیں کیونکہ یہ جسم سے زیادہ کولیسٹرول کو جگر تک پہنچاتے ہیں جہاں سے وہ صفرا وغیرہ بنانے کے کام آتا ہے۔ اگر خون میں LDL اور VLDL کی مقدار زیادہ ہو گی تو پھر لازماً کولیسٹرول کی زیادہ مقدار خون میں شامل ہو کر اس کی وریدوں یا شریانوں کو تنگ کرنے کا باعث بنے گا۔ مرغن غذائیں یا کولیسٹرول والی زیادہ خوراک کھانے سے جسم میں مختلف قسم کی چربی Triglycerdies بھی زیادہ ہو جاتی ہے، جس کی وجہ سے خون کی نالیوں میں Clot آنے کا خطرہ مزیدبڑھ جاتا ہے۔

کولیسٹرول کا لیول :

جسم میں کولیسٹرول اور مختلف قسم کے Lipoproteins اور چکنائی کی مقدار معلوم کرنے کیلئے خون کا معائنہ کیا جاتا ہے۔ اسے Lipid profile کا نام دیا جاتا ہے۔ اس ٹیسٹ کو کروانے کے لیے کم از کم بارہ گھنٹے بھوکا رہنا ضروری ہے۔ تبھی خون میں کولیسٹرول وغیرہ کی مقدار کا صحیح پتہ چلتا ہے۔

ایک تندرست آدمی کا Lipid profile مندرجہ ذیل ہونا چاہیے: کولیسٹرول 200 – 120 ملی گرام/ ڈیسی لٹر HDL 41-52 ملی گرام/ ڈیسی لٹر LDL 108-188 ملی گرام/ ڈیسی لٹر ٹرائی گلیسرائیڈ ز 150 ملی گرام تک.

خون میں کولیسٹرول کی زیادتی کے مضمرات:

خون میں کولیسٹرول کی زیادتی کے باعث دل کے دورے کے امکانات 10-8 گنا بڑھ جاتے ہیں۔ خون میں کولیسٹرول زیاہ ہونے کے ساتھ اگر سگریٹ نوشی یا شراب نوشی کی بھی لت ہو ،تو پھر ہر وقت دل کے دورے کا خطرہ ہوتا ہے۔ زیادہ کولیسٹرول اور ٹرائی گلیسرائیڈز دل کو خون پہنچانے والی نالیوں میں CLOT بن کر دل کو خون کی سپلائی بند کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں دل کے دورے سے واپسی کے تمام امکانات معدوم ہو جاتے ہیں۔ موٹاپے کے ساتھ اگر ذیابیطس بھی ہو ، تو دل کے دورے کے امکانات اور بھی بڑھ جاتے ہیں۔

ڈاکٹر آصف محمود جاہ

مشکل حالات سے کیسے نمٹیں؟

مثبت رویہ کامیاب زندگی کی کلید ہے۔ اچھے حالات میں تو مثبت رویہ رکھنا اتنا مشکل نہیں لیکن وقت پلٹا کھا جائے تو ہم اس سے دامن چھڑا لیتے ہیں۔ جان رکھیں کہ ناکامیاں، مشکلات اور پریشانیاں بھی زندگی کا ہی حصہ ہیں، چاہے وہ چھوٹی ہوں یا بڑی، اس لیے اگر آپ واقعی ایک کامیاب شخصیت بننا چاہتے ہیں تو ہر طرح کے حالات میں اپنا رویہ اور سوچنے کا انداز برقرار رکھنا پڑے گا۔ خراب حالات کے باوجود اپنی سوچ کو ہمیشہ بہتر رکھنے کے لیے کچھ آزمودہ طریقے ہیں، جیسا کہ

وقفہ لیں آپ کی زندگی معمول کے مطابق گزر رہی ہو تو ایسا لگتا ہے کہ یہ ہمیشہ ہی ایسی رہے گی، پھر اچانک کچھ ہو جاتا ہے۔ آپ کے تمام منصوبے درہم برہم ہو جاتے ہیں، ہم حیران رہ جاتے ہیں اور پھر ردِ عمل دکھاتے ہیں۔ بد قسمتی سے یہی ردِ عمل بسا اوقات مسئلے کو خطرناک بنا دیتا ہے۔ ہم ایسے فیصلے کرتے ہیں جو اچھی طرح سوچ بچار کے بعد نہیں کیے جاتے۔ اس لیے جب بھی ایسے حالات کا سامنا ہو، کچھ قدم پیچھے ہٹیں اور مسئلے کے بارے میں سوچیں۔ یہ قدم آپ کو اس کا معقول حل سوچنے کا موقع دے گا۔

منزل پر نظر ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ ایسے حالات میں توجہ ان چیزوں پر چلی جاتی ہے جن پر نظر ڈالنے کی چنداں ضرورت نہیں ہوتی۔ گاڑیوں کی ریس میں جب ڈرائیور کو مشکل صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ اپنی نظر آگے کی طرف رکھتے ہیں، ورنہ ان کی گاڑی تباہ ہونے کا خطرہ زیادہ ہو جاتا ہے۔ یعنی ان کی نظر ہدف پر رہتی ہے اور یہی رویہ انہیں مسئلے سے باہر نکالتا ہے۔ توجہ حل پر، مسائل پر نہیں خراب حالات خاموش نہیں رہتے، وہ چیخ چیخ کر آپ کی توجہ اپنی جانب مبذول کرواتے ہیں اور آپ اس پر بھرپور ردِ عمل دکھاتے ہیں۔

اتنا کہ اُٹھتے بیٹھتے بات بھی انہی مسائل کے بارے میں کرتے ہیں یعنی انہیں ضرورت سے زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ مسئلے کے بجائے اگر آپ اس کے حل پر بات کریں تو یہ حالات آپ کو بہت کچھ سکھا سکتے ہیں۔ اس لیے شکوہ شکایت کے بجائے مسئلے کے حل کی حوصلہ افزائی کریں اور مثبت نتائج پر زور دیں۔ مثبت طاقت حاصل کریں ذہن کی ساخت کچھ ایسی ہے کہ اسے کسی سمت میں بس دھکا دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ پھر یہ پہاڑی سے لڑھکتے پتھر کی طرح ہو جاتا ہے اور اس سمت میں چلتا چلا جاتا ہے۔

اس لیے آپ کو اپنی سوچ کو مستحکم کرنے کے لیے کچھ کام کرنا ہو گا۔ جب خراب حالات آپ کے جذبات کو چھیڑیں تو کسی ایسے دوست سے ملاقات کریں جو آپ کے حوصلے بلند کرے۔ خود کلامی انسان کی سب سے بڑی طاقتوں میں سے ایک اپنی سوچ پر گرفت پانے کی قوت ہے۔ مسائل کے بجائے اپنی زندگی کی اچھی چیزوں پر سوچیں۔ خود سے بات کر کے زندگی کے مثبت پہلوؤں پر دھیان دیں، ان کا لطف اُٹھائیں اور خوشی اور سکون کو محسوس کریں۔ یہ وقت بھی گزر جائے گا اس جملے کو ہمیشہ اپنے ذہن میں تازہ رکھیں۔ کتنے بھی بُرے حالات ہوں، لیکن یہ وقت بھی گزر جائے گا۔ یوں آپ بدترین صورت حال میں بھی امید سے جڑے رہیں گے۔ اس سے آپ کا رویہ بھی بدلے گا، بہتر احساس بھی جنم لے گا اور آپ کو دوبارہ آگے بڑھنے کے لیے راستہ بھی ملے گا۔

زرتاشیہ میر

کامیاب افراد صبح 4 بجے کیوں اٹھتے ہیں؟

صبح سورج طلوع ہونے سے پہلے اٹھنا ہوسکتا ہے بیشتر افراد کو ناممکن کام لگتا ہو مگر بڑی تعداد میں کامیاب کاروباری افراد اور لیڈروں کا ماننا ہے کہ علی الصبح 4 بجے بستر سے نکل آنا ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ یہ بات ایک نئی رپورٹ میں سامنے آئی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق صبح بہت جلد اٹھنا کسی فرد کی ذہنی وہ جسمانی کارکردگی میں اضافے کا باعث بنتا ہے کیونکہ اس وقت مداخلت کا امکان نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ یعنی اس وقت لوگ سوشل میڈیا کو نہیں دیکھتے جبکہ اتنی صبح ایس ایم ایس یا میسجنگ وغیرہ کے لیے بھی کوئی فرد دستیاب نہیں ہوتا۔

رپورٹ کے مطابق اس وقت کو کام سے ہٹ کر سرگرمیوں جیسے ورزش، ذاتی نگہداشت، ذاتی نشوونما، روحانی نشوونما اور خاندان کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ہمارا جسم دن کے آغاز میں زیادہ متحرک ہوتا ہے، جبکہ ذہن بھی علی الصبھ زیادہ الرٹ ہوتا ہے جس کے باعث ذہنی و جسمانی کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ ایپل کے سی ای او او ٹم کک سمیت اس وقت متعدد کامیاب ترین افراد صبح چار بجے اٹھنے کو اپنی کامیابی کی ایک وجہ قرار دیتے ہیں۔

خیال رہے کہ 1400 سال قبل اسلامی تعلیمات میں بھی صبح جلد اٹھنے کی تاکید کی گئی تھی۔ اب سائنس نے بھی اس کی تصدیق کی ہے تاہم صبح جلد اٹھنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو رات کو جلد سونا ہے۔ اس لیے رات کو دوستوں سے ملنے یا دیگر مشاغل کا وقت کم ہوتا ہے تاہم زندگی میں کامیابی کے لیے اتنی قربانی تو دینی پڑتی ہے۔

حقیقی خوشی دولت سے نہیں ملتی : نئی تحقیق

ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ آمدن دگنی ہونے کی نسبت اچھی صحت اور اچھا شریکِ زندگی لوگوں کی زندگیوں کو زیادہ خوش و خرم بناتا ہے۔ لندن سکول آف اکنامکس کی اس تحقیق میں دو لاکھ لوگوں کی زندگیوں پر مرتب ہونے والے مختلف حالات کا جائزہ لیا گیا۔ اس سے پتہ چلا کہ ڈپریشن یا بےچینی کی بیماری لوگوں کی خوشی پر سب سے زیادہ اثرانداز ہوتی ہے، جب اچھے شریکِ حیات کی وجہ سے سب سے زیادہ خوشی نصیب ہوتی ہے۔ تحقیق کے شریک منصف کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے ‘ریاست کا نیا کردار سامنے آتا ہے۔’ یہ تحقیق دنیا بھر میں کیے جانے والے رائے عامہ کے متعدد بین الاقوامی جائزوں پر مشتمل ہے۔

سائنس دانوں نے معلوم کیا کہ آمدن دگنی ہو جانے سے ایک سے لے کر دس تک کے پیمانے میں خوشی صرف 0.2 درجے کے قریب بلند ہوئی۔ تحقیق کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ اپنی آمدن کے خود پر پڑنے والے اثر کی بجائے دوسروں سے اپنی آمدن کے تقابل کا زیادہ احساس کرتے ہیں۔ تاہم اچھا شریکِ حیات مل جانے سے خوشی میں 0.6 درجے اضافہ ہو جاتا ہے، جب کہ شریکِ حیات کی موت یا علیحدگی سے اسی قدر کمی واقع ہوتی ہے۔ تاہم اس پیمانے پر سب سے زیادہ منفی اثر ڈپریشن اور بےچینی کی بیماری سے پڑتا ہے، جس سے خوشی 0.7 درجے گر جاتی ہے۔ اسی طرح بےروزگاری سے بھی اسی قدر کمی واقع ہوتی ہے۔

تحقیق کے شریک مصنف پروفیسر رچرڈ لیئرڈ نے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاست کو اپنے شہریوں کی خوشی میں نیا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے، اور وہ دولت پیدا کرنے سے زیادہ خوشی پیدا کرنے پر زور دے۔ انھوں نے کہا: ‘شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ جو چیزیں ہماری خوشی اور دکھ میں سب سے زیادہ کردار ادا کرتی ہیں وہ ہمارے سماجی تعلقات اور ہماری ذہنی اور جسمانی صحت ہیں۔

‘ماضی میں ریاست غربت، بےروزگاری، تعلیم اور جسمانی صحت جیسے مسائل کے خلاف جنگ لڑتی رہی ہے۔ لیکن گھریلو تشدد، کثرتِ شراب نوشی، ڈپریشن اور بےچینی، امتحانوں کا دباؤ، وغیرہ بھی اتنے ہی اہم ہیں۔ انھیں مرکزی اہمیت دینے کی ضرورت ہے۔’

دنیا بھر میں عوام کی اولین ترجیح کیا ہے؟

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ امریکا، ایران اور کیوبا میں کیا چیز مشترک ہے یا جنوبی امریکا کس طرح باقی دنیا سے مختلف ہے یا پھر زندگی میں کس چیز کی اہمیت ہے ؟ اس سوچ کو بنانے میں آپ کے ملک کا کیا کردار ہے؟ دنیا بھر کے 80 ہزار سے زیادہ لوگوں نے اپنی رائے دی ہے کہ ان کی زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت کس چیز کی ہے اور ان کی آرا کو ذیل میں دئیے گئے نقشے کی صورت میں دکھایا گیا ہے، یعنی ہر ملک میں عوام کی اولین ترجیح کیا ہے؟ نقشہ انٹر نیٹ پر تفصیل سے موجود ہے جسے دیکھ کر آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ امریکا، کینیڈا، مغربی و وسطی یورپ اور اسکینڈے نیویا کے ترقی یافتہ ممالک میں زندگی سے مطمئن ہونا اور صحت سب سے اولین ترجیح ہے۔

اس کے مقابلے میں جنوبی امریکا میں تعلیم اولین ترجیح ہے، یعنی کم آمدنی رکھنے والے ملکوں کے عوام تعلیم کو ترجیح دے رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے یہی ایک راستہ ہے۔ یورپ میں جارجیا اور سلووینیا میں ماحولیات اولین ترجیح ہے۔ رومانیہ واحد ملک ہے، جس کے عوام تعلیم کو اہمیت دیتے ہیں اور البانیہ اور یوکرین میں لوگ عوام کو ترجیح دیتے ہیں۔ مالڈووا براعظم کا پہلا ملک ہے کہ جو ملازمت کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ جاپان اور متحدہ عرب امارات جیسے ترقی یافتہ ممالک میں عوام حفاظت کو سب سے زیادہ اہم سمجھتے ہیں جبکہ آسٹریلیا میں عوام کام اور زندگی کے درمیان توازن کو سب سے زیادہ ترجیح دینا چاہتے ہیں۔ ایشیا میں پاکستان، بنگلہ دیش، تاجکستان اور شام ایسے ملک ہیں، جو تعلیم کو ترجیح دے رہے ہیں جبکہ ایران، افغانستان، جنوبی کوریا اور بھارت زندگی میں اطمینان چاہتے ہیں۔ چین اور ترکی میں صحت سب سے ااگے ہے جبکہ سعودی عرب، قطر اور کویت میں آمدنی سب کے مطمع نظر ہے۔ ویسے آپ سے بھی سوال ہے کہ آپ اپنی زندگی میں اولین ترجیح کس کو دیتے ہیں؟ سوچئے گا ضرور!!!۔

شجاعت حامد

کیا اچھے افراد زندگی کی دوڑ میں ہمیشہ پیچھے رہ جاتے ہیں ؟

کیا اچھے افراد زندگی کی دوڑ میں ہمیشہ پیچھے رہ جاتے ہیں ؟ہوسکتا ہے،یہ خیال آپ کے ذہن میں آتا ہو اور کسی حد تک یہ ٹھیک بھی ہے ،مگر ایسے افراد طویل المعیاد بنیادوں پر زیادہ کامیاب ہوتے ہیں۔یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق میں سامنے آئی ہے۔ پینسلوانیا یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ دنیا میں تین طرح کے لوگ ہوتے ہیں، ایک لینے والے، ایک دینے والے اور تیسرے مطابقت پیدا کرنے والے۔تحقیق کے مطابق لینے والے بس اپنے لیے جیتے ہیں جبکہ دینے والے پیچھے مڑ کر بھی دوسروں کی بے غرض مدد کرتے ہیں جبکہ مطابقت پیدا کرنے والے ان دونوں کے درمیان کہیں ہوتے ہیں، یعنی یہ لوگوں کی مدد تو کرنا چاہتے ہیں، مگر جواب میں مدد کی توقع بھی کرتے ہیں۔

 تحقیق میں بتایا گیا کہ دینے والے افراد اکثر عملی زندگی میں بدترین کارکردگی کے حامل ہوتے ہیں، مگر حیران کن طور پر سب سے بہترین بھی وہی ہوتے ہیں۔تحقیق کے دوران ان تینوں اقسام کے رضاکاروں پر کیے گئے تجربات سے معلوم ہوا کہ دوسروں کی بے غرض مدد کرنے والے اپنے شعبے کے بدترین 25 فیصد حصے اور بہترین 25 فیصد حصے میں شامل تھے جبکہ لینے والے اور مطابقت پیدا کرنے والے درمیان میں موجود تھے۔ محققین کا کہنا تھا کہ اچھے افراد ہوسکتا ہے کہ زندگی کی دوڑ میں میں پیچھے رہ جائیں ،مگر ان کے سب سے آگے رہنے کے امکانات بھی ہوتے ہیں۔ان کا ماننا تھا کہ سخاوت مختصر المدت کے لیے تو نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے، مگر یہ طویل المعیاد بنیادوں پر روشن مستقبل کی ضمانت ثابت ہوتی ہے۔ تحقیق کاروں کے بقول ایسے افراد درحقیقت دیگر افراد کی مدد کرکے اپنے مسائل حل کرنے کے طریقے سیکھتے ہیں۔

 

 زرتاشیہ میر

زندگی میں سب سے زیادہ پچھتاوا کس چیز کا ہے؟

زندگی میں پچھتاوا کس شخص کو محسوس نہیں ہوتا مگر وہ کون سے فیصلے ہوتے ہیں جو لوگوں کو سب سے زیادہ پچھتانے پر مجبور کردیتے ہیں؟ درحقیقت زندگی میں مواقعوں کو چھوڑ دینے کا پچھتاوا ایسا ہوتا ہے جو زندگی بھر پیچھا نہیں چھوڑتا۔ یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔ کارنیل یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے دوران عمر کی 7 ویں دہائی گزارنے والے افراد سے پوچھا گیا کہ اگر انہیں ماضی میں کچھ کرنے کا موقع دیا جائے تو وہ کیا چیز دوبارہ کرنا پسند کریں گے؟

تو جواب میں سامنے آیا کہ ایسی چیزیں جو نوجوانی میں نہیں کرسکیں وہ اس کی تلافی کرنا پسند کریں گے۔ جیسے تعلیم مکمل کرنا، کیرئیر میں ترقی کا عزم، اپنی شخصیت کا خیال رکھنا وغیرہ۔ تحقیق کے مطابق جب ہم پچھتاوے کے بارے میں سوچتے تو ہم میں سے بیشتر کے لیے سب سے بڑا پچھتاوا وہ چیزیں ہوتی ہیں جو ہم کسی نہ کسی وجہ سے کر نہیں پاتے، حالانکہ ہمارے پاس وقت، پیسے یا توانائی بھی ہوتی ہے۔ محققین کا کہنا تھا کہ لوگوں کو سب سے زیادہ پچھتاوا اس بات کا ہوتا ہے کہ ہمارے پاس موقع تھا مگر ہم نے کچھ کیا نہیں، یا ہم نے بہت زیادہ انتظار کیا۔

شدید گرمی کی لہر… اس سے بچنے کے لیے کیا کریں؟

رواں سال موسم گرما کا آغاز ایک شدید لہر کے ساتھ ہوا ہے۔ گذشتہ برس رمضان المبارک کے آغاز میں ہی ملک بھر میں گرمی کی سخت لہر آئی تھی، جس میں ڈیڑھ سے دو ہزار افراد جان سے چلے گئے تھے۔ اس مرتبہ بھی رمضان المبارک کی آمد آمد ہے اور اس سے پہلے ہی بڑے شہروں میں درجہ حرارت 40 سے 50 درجہ سینٹی گریڈ کے درمیان ہے جبکہ گرمی کے لیے مشہور مقامات یعنی جیکب آباد، سبی وغیرہ میں تو ففٹی مکمل ہو چکی ہے۔ اتنے شدید گرم موسم میں کئی امراض ہو سکتے ہیں، جن کے بارے میں آگاہی بہت ضروری ہے تا کہ ہنگامی صورت میں انہیں پہچانا جا سکے اور فوری طور پر طبی امداد دی جا سکے: گرمی دانے یہ دانے گرمی کے موسم میں کسی کوبھی بے حال کر دیتے ہیں۔ یہ گرم موسم میں حد سے زیادہ پسینہ بہنے کی وجہ سے نکلتے ہیں اور خاص طور پر بچوں کو پریشان کرتے ہیں۔

علامات:ننھے سرخ رنگ کے دانے یا ان کے گچھے، خاص طور پر گردن، بالائی سینے اور بازوؤں وغیرہ پر نکلتے ہیں۔ کیا کریں:اگر ممکن ہو، تو کسی ٹھنڈے اور خشک ماحول کا رخ کریں۔ دانے کی جگہوں کو خشک رکھیں، اس میں پاؤڈر کام آ سکتا ہے اور کسی بھی مرہم یا کریم سے اجتناب کریں کیونکہ یہ جسم کو گرم اور نم رکھتی ہیں، جس سے گرمی دانے مزید بڑھ سکتے ہیں۔ پانی کی کمی یہ تب واقع ہوتی ہے جب عام افعال انجام دینے کے لیے جسم میں کافی پانی نہیں بچتا۔ علامات:چکر آنا، تھکن، چڑ چڑاپن، پیاس، پیلے رنگ کا پیشاب، بھوک کا مٹ جانا، سستی وغیرہ کیا کریں:پانی یا پھلوں کے ہلکے رس پئیں اور چائے، کافی اور دیگر مشروبات سے مکمل اجتناب کریں۔ کسی ٹھنڈی جگہ پر منتقل ہو جائیں، ترجیحاً ایئرکنڈیشنڈ ماحول میں اور اگر ممکن ہو، تو پانی سے بھری ایک سپرے بوتل ساتھ رکھیں تا کہ پھوار کے ذریعے ماحول کو ٹھنڈا رکھ سکیں۔

اگر پھر بھی طبیعت نہ سنبھل رہی ہو ،تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ پٹھوں کا اکڑنا یہ عام طور پر ان لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے ،جو سخت مشقت کرتے ہیں ،جس کے دوران بہت پسینہ بہتا ہے اور جسم سے نمکیات اور پانی ختم ہو جاتا ہے۔ اس سے پٹھے اکڑنے لگتے ہیں۔ علامات:پٹھوں میں درد اور اینٹھن۔ یہ گرمی سے ہونے والی تھکان کی ابتدائی علامت بھی ہو سکتی ہے۔ کیا کریں:سب کام روک دیں اور فوری طور پر کسی ٹھنڈی جگہ کا رخ کریں، ترجیحاً ایئرکنڈیشنڈ جگہ کا اور یہاں اپنی ٹانگوں کو تھوڑا سا اوپر اٹھا کر لیٹ جائیں۔ پانی پئیں یا ہلکے پھلوں کے رس کا استعمال کریں۔ نہائیں، پٹھوں کی ہلکی پھلکی مالش کریں تا کہ اینٹھن کم ہو اور کول پیک کا استعمال کریں۔ چند گھنٹوں تک دوبارہ اس سرگرمی میں ہاتھ نہ ڈالیں ،چاہے اینٹھن کم ہی کیوں نہ ہو جائے۔ اگر یہ درد ایک گھنٹے سے زیادہ جاری رہے، تو ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

تھکان جسم سے پسینے کی صورت میں نمکیات اور پانی کے اخراج کے بعد یہ جسمانی رد عمل ہوتا ہے۔ علامات:بہت زیادہ پسینہ آنا، جلد پیلی ہو جانا اور نبض کی رفتار کم پڑ جانا، تیز اور معمولی سانس پٹھوں میں کمزوری یا اینٹھن، تھکاوٹ اور کمزوری، چکر آنا، سر درد، قے یا متلی وغیرہ کیا کریں:کسی ٹھنڈی جگہ کارخ کریں، ترجیحاً ایئرکنڈیشنڈ ہو اور لیٹ جائیں۔ اضافی کپڑے اتار دیں، ٹھنڈے پانی کے ہلکے ہلکے گھونٹ لیں اور نہائیں۔ بغلوں، گردن کے پچھلے حصوں اور ٹانگوں کے درمیان کول پیک رکھیں۔ اگر علامات ایک گھنٹے سے زیادہ دیر تک برقرار رہیں، تو ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ ہیٹ سٹروک، یعنی لو لگنا جب جسم کے درجہ حرارت کو مناسب حد تک نہ رکھا جائے اور یہ 40.5 درجہ سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جائے ،تو ہیٹ سٹروک ہو جاتا ہے، جسے عام طور پر لولگنا کہتے ہیں۔ یہ گرمی کے موسم کا سب سے خطرناک مرض ہے کیونکہ اس سے جان بھی جا سکتی ہے۔ جسم کے درجہ حرارت کو فوری طور پر کم کرنے کے لیے طبی امداد بہت زیادہ ضروری ہے۔

علامات:جسم کے درجہ حرارت میں یکدم اضافہ ہو جانا، جلد کا سرخ، گرم اور خشک ہو جانا (کیونکہ پسینہ رک جاتا ہے) خشک اور سوجی ہوئی زبان، تیزی سے چلتی ہوئی نبض، تیز لیکن معمولی سانس، شدید پیاس، سردرد، قے اور متلی، چکر آنا، گھبراہٹ، بات کرنے میں مشکلات اور الٹی سیدھی باتیں یا عجیب و غریب رویہ، ہوش کھو بیٹھنا، دورہ پڑنا یا کومے میں چلے جانا،وغیرہ۔ کیا کریں:فوری طور پر ہنگامی مدد طلب کریں، ریسکو 1122 یاایمبولنس کو طلب کریں۔ اضافی کپڑے اتار دیں اور اگر مریض ہوش میں ہو، تو اسے پانی کے ہلکے ہلکے گھونٹ پلائیں۔ جتنی جلدی اور جس طرح ہو سکے، جسم کا درجہ حرارت کم کرنے کی کوشش کریں، جیسا کہ سپرے بوتل سے پانی کا چھڑکاؤ کریں ۔ کپڑے پانی سے تر کر دیں یا جسم پر ٹھنڈا پانی ڈالیں۔ بغلوں، رانوں کے درمیان اور گردن کے پیچھے کول پیک رکھیں۔ ڈسپرین یا پیراسیٹامول ہر گز نہ دیں، اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا بلکہ الٹا مزید نقصان دیں گی۔ 

(اُردو ٹرائب سے مقتبس)