سوشل میڈیا کا ڈیٹا انسانی مزاج معلوم کرنے میں مددگار

برطانوی ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا مثلاً فیس بک، ٹوئٹر اور دیگر پلیٹ فارمز انسانی موڈ اور مزاج کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس ضمن میں اپنی نوعیت کا ایک بہت بڑا تجزیہ کیا گیا ہے جس میں یونیورسٹی آف برسٹل کے ماہرین نے 24 گھنٹے تک 80 کروڑ سے زائد ٹویٹر پیغامات کا جائزہ لیا اور مختلف موسموں میں بھی ٹویٹر پیغامات جمع کیے ہیں۔ بعد ازاں اس ڈیٹا کو مشین لرننگ سے گزار کر چیک کیا گیا۔ اس ڈیٹا کی مشین لرننگ اور تجزیئے کا سارا کام ڈاکٹر فیبن زوگینگ نے کیا ہے جبکہ مرکزی تحقیق ایک دماغی ماہر ڈاکٹر اسٹیفرڈ لائٹ مین نے کی ہے اور مصنوعی ذہانت (آرٹی فیشل انٹیلی جنس) کا سارا کام یونیورسٹی کے شعبہ انجینئرنگ میتھمیٹکس نے کیا ہے۔ اس تحقیق کے نتائج ’’برین اینڈ نیورو سائنس ایڈوانسز‘‘ نامی جریدے میں شائع ہوئی ہیں۔

اس کے لیے ماہرین نے جسمانی گھڑی (باڈی کلاک) کا جائزہ لیا جو دن اور رات کے لحاظ سے بدن کے معمولات کنٹرول کرتی ہے۔ اس کے لیے دماغ کا ایک چھوٹا سا حصہ ہپوتھیلمس ایک اہم کردار ادا کرتا ہے جس کے اندر ’’سپر اکیاسمیٹک نیوکلیئس‘‘ (ایس سی این) نامی گوشہ جسمانی گھڑی کا مرکز بھی ہے۔ واضح رہے کہ جسمانی گھڑی انسانی مزاج اور موڈ پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ ایس سی این دن اور رات یا سورج نکلنے اور غروب ہوتے عمل میں حساس کردار ادا کرتا ہے۔ اسی مناسبت سے ایس سی این دماغ اور بدن کو ضروری سگنل، پیغامات اور ہارمونز بھیجتا ہے۔

سائنس دانوں نے جن 80 کروڑ ٹویٹس کا تجزیہ کیا، وہ چار سال کے عرصے میں کی گئی تھیں۔ ان ٹویٹس میں خوشی، شادی، حیرت انگیز، مبارک باد ، ایسٹر اور کرسمس وغیرہ کے الفاظ نظرانداز کیے گئے تاکہ ڈیٹا پر اثر نہ پڑے۔ اس کے بعد منفی اور مثبت الفاظ والے ٹویٹس کی ایک فہرست بنائی گئی جو 24 گھنٹے کے موڈ کو ظاہر کرتی ہے۔ صبح کے وقت غصہ سب سے کم نوٹ کیا گیا جبکہ دن کے ساتھ ساتھ یہ ٹویٹس میں بڑھتا رہا اور شام تک موڈ خراب ہو کر غصہ اپنے عروج پر دکھائی دیا۔ دوسری جانب اداسی صبح 6 بجے کم دیکھی گئی اور صبح 8 بجے اپنے عروج پر تھی۔ اسی طرح تھکاوٹ صبح 8 بجے عروج پر تھی جو بقیہ دن میں درجہ بہ درجہ کم دیکھی گئی۔ ماہرین نے بڑے غور سے وہ الفاظ چنے ہیں جو اداسی، رنج یا غصے کی کیفیات کو ظاہر کرتے ہیں۔

بدلتے موسموں کا ٹویٹس میں غصے اور تھکاوٹ پر کوئی خاص اثر نہیں ہوا جبکہ بدلتے موسموں نے مزاج (موڈ) اور اداسی پر اپنا اثر ڈالا۔ یعنی موڈ اور اداسی پر موسم کا گہرا اثر ہوتا ہے۔ ماہرین نے تحقیق کے بعد کہا ہے کہ دن کے مختلف اوقات منفی اور مثبت موڈ پر اثر ڈالتے ہیں جبکہ موسمیاتی تبدیلی موڈ اور تھکاوٹ پر اثر انداز نہیں ہوتیں۔ اس لحاظ سے سوشل میڈیا انسانی مزاج سمجھنے میں نہایت اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس کی بدولت انسانی اندرونی گھڑی کو بھی سمجھا جا سکتا ہے۔
 

Advertisements

صحت کے لیے پیدل چلنے سے بہتر کوئی طریقہ نہیں : مسعود احمد برکاتی

کالون پیٹرک لوگوں کو پیدل چلنے کا مشورہ دیتا ہے، اس کی عمر ساٹھ سال سے
زیادہ ہے، لیکن وہ ابھی تک چاق چوبند ہے۔ گزشتہ سال اس نے پیدل چلنے کے ایک مقابلے میں حصہ لیا اور اوّل آیا۔ اس نے ساٹھ میل کا فاصلہ 12 گھنٹے 36 منٹ اور 20 سیکنڈ میں طے کیا اور اوّل آنے کا اعزاز حاصل کیا۔ حالانکہ اس مقابلے میں اس سے بھی کم عمر کے لوگ شریک تھے۔ کہا جاتا ہے کہ انسان کے قدم اٹھا کر چلنے سے اس کی قوت کا اندازہ ہوتا ہے۔ دنیا میں صحت برقرار رکھنے کا بہترین نسخہ باقاعدگی سے پیدل چلنا ہے۔ پھر لطف یہ کہ اس میں خرچ بھی کچھ نہیں، صحت بھی اچھی رہتی ہے اور اچھی خاصی تفریح بھی ہو جاتی ہے۔

جب انسان کے دو پیر سلامت ہوں اور اس کے دل میں یہ خواہش ہو اور ارادہ بھی کہ اپنی جسمانی اور دماغی صحت کو برقرار رکھا جائے، اس وقت تک اس مقصد کے حصول کے لیے پیدل چلنے سے بہتر کوئی طریقہ نہیں۔ کالون پیٹرک (جس نے ایک مقابلے میں یہ کام یابی حاصل کی) کا بیان ہے کہ اگر میں یہ کہوں:’’میری اس امتیازی کامیابی اور جسمانی صحت کا باعث بڑی حد تک میری پابندی سے پیدل چلنے کی عادت ہے تو اس میں کوئی مبالغہ نہیں۔ مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ لوگوں کو پیدل چلنے سے کیا فائدہ ہوتا ہے۔ مجھے اس میں بھی ذرا ساشبہ نہیں کہ اگر آپ یہ عادت ڈال لیں تو آپ کو کس قدر فائدہ پہنچ سکتا ہے۔‘‘

میرے خیال میں صحیح طریقے سے پیدل چلنا بھی ایک فن ہے، لیکن افسوس یہ ہے کہ پیدل چلنے والے بھی اس پرانے فن کو فراموش کر چکے ہیں جو حقیقت میں بہترین ورزش ہی ہے۔ اس کا بڑا سبب موٹروں اور موٹر سائیکلوں کا کثرت سے استعمال ہے، جنھوں نے انسانی پیروں کی جگہ لے لی ہے۔ اس سے میرا یہ مطلب نہیں کہ آمدورفت کے ان ذرائع کو ختم کر دیا جائے، لیکن میرا یہ مطلب ضرور ہے کہ انہیں انسان کے روزانہ پیدل چلنے کی ورزش کے راستے میں حائل نہ ہونا چاہیے۔

صحیح طریقے سے پیدل چلنے کا مطلب یہ ہے کہ اعضا کی ہم آہنگی کے ساتھ حرکت سے نہ صرف صحت ملتی اور فائدہ پہنچتا ہے، بلکہ حقیقت میں سارے جسم کو قوت بھی حاصل ہوتی ہے، چوں کہ پیدل چلنے کی ورزش میں انسان گہرے سانس لیتا ہے، اس لیے اس کے جسمانی نظام میں آکسیجن کی مقدار بھی زیادہ داخل ہوتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ قلب زیادہ قوت سے کام کرتا ہے، دوران خون بڑھتا ہے اورجسم انسانی کے تمام اندرونی اعضا زیادہ فعال ہو جاتے ہیں۔ اعضا کی فعالیت کے باعث شگفتگی اور اپنی بہتر حالت کا احساس ہوتا ہے اور اس کو وہی لوگ بہتر طریقے سے سمجھتے اور محسوس کر سکتے ہیں جنہیں باقاعدہ پیدل چلنے کی عادت ہوتی ہے۔ اس احساس کو سمجھنے کے لیے پیدل چلنا ضروری ہے۔ چال قدرے تیز ہونی چاہیے۔ فاصلہ بھی کافی ہونا چاہیے اور ہفتے میں کم از کم پانچ روز چلنا فائدے مند ثابت ہوتا ہے۔

عام طور سے لوگ قدرتی اور متوازن چال کے بجائے اکڑ کر اور بناوٹی انداز سے چلنے لگتے ہیں، اس طرح وہ اس فائدے سے جو صحیح طریقے سے چلنے پر حاصل ہونا چاہیے، محروم رہتے ہیں، کیوں کہ صحیح طرح سے چلنے کے معنی یہ ہیں کہ جسم سیدھا رہے، سختی نہ ہو اور چال میں موسیقی کی سی ہم آہنگی ہو۔ عام آدمی اور مقابلوں میں حصہ لینے والے تجربہ کار پیادہ رو لوگ بھی، جنہیں بہتر علم ہونا چاہیے، پیدل چلنے میں گھٹنوں سے زیادہ اور ٹخنوں سے کم کام لیتے ہیں۔ اگر کسی شخص کو معلوم ہو کہ ابتدائی دونوں میں پیدل چلتے رہنے کے بعد بھی جلد تھکن ہو جاتی ہے، اس کی پیٹھ میں درد ہوتا ہے اور اعصاب دکھنے لگتے ہیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ وہ اپنے اعصاب سے صحیح کام نہیں لے رہا ہے اور اس کا توازن درست نہیں۔

پیدل چلتے وقت انسان کا سر، کندھے اور سینہ جھکا ہوا نہیں رہنا چاہیے، کیوں کہ اس طرح خمیدہ کمری یا کبڑے ہونے سے بچاؤ ہوتا ہے۔ اسی طرح کولہوں کو ادھر ادھر جھکانے کے رجحان سے بھی بچنا چاہیے۔ پیدل چلتے وقت جسم کی ہر حرکت کو راست اور سامنے کی جانب ہونا چاہیے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ جسم کا وزن ایک پیر سے دوسرے پیر پر ٹھیک طریقے سے منتقل کیا جائے۔ مطلب یہ کہ جو پیر آپ کو آگے کی طرف بڑھا رہا ہے، اس وقت تک زمین سے نہ اٹھے، جب تک جسم کا وزن پوری طرح سے آگے بڑھتے ہوئے پیر پر منتقل نہ ہو جائے۔ بہتر یہ ہے کہ نہ کولھے جھکائے جائیں اور نہ قدم بڑھاتے وقت کندھوں کو جھٹکا دیا جائے۔

سینہ ابھرا ہوا ہونے کے بجائے خوب پھیلا ہوا ہونا چاہیے اور چلتے وقت اس بات کا بھی خیال رکھا جائے کہ آپ کس قسم کے جوتے پہنے ہوئے ہیں، کیوں کہ جوتوں کا آرام دہ ہونا بے حد ضروری ہے۔ چلتے وقت اپنے پیروں کی طرف توجہ رکھیں اور یہ دیکھیں کہ قدم صحیح رخ پر پڑ رہے ہیں یا نہیں۔ قدم بڑھا کر سیدھے چلنے میں سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ جسم کا بوجھ پیر کے اگلے اور چوڑے حصے پر پڑتا اور متوازن رہتا ہے۔ ایڑیوں پر بوجھ ڈالنے سے اجتناب کرنا چاہیے کیوں کہ اس سے توازن پوری طرح برقرار رکھنے میں دقت ہوتی ہے۔ پیدل چلنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کے ٹانگوں کو کولھوں سے آگے بڑھائیں۔ گھٹنے ان کے ساتھ ہم آہنگی سے حرکت کریں۔ ایڑیاں پہلے زمین کو چھوئیں، لیکن اتنی تیزی سے کہ ایڑیوں سے قطعاً آواز نہ نکلے۔

باقاعدہ پیادہ روی، گھر میں ورزش، پابندی سے غسل اور مناسب اور موزوں غذا جسم انسانی کی تقریباً جملہ خرابیوں کو دور کر کے صحت قائم رکھتی ہے اور ان کے ذریعے سے جوانی، شگفتگی، تازگی اور صحت کو برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ صبح تڑکے روزانہ پیدل چلنا، جب ہوا صاف اور پاکیزہ ہوتی ہے، بہترین، ارزاں ترین اور آسان ترین نسخہ ہے، ہر اس انسان کے لیے جو اپنی صحت اور جسمانی قوت کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ کالون پیٹرک کا یہ کہنا ہے کہ ’’میں اسی اصول پر مدتوں سے عمل کر رہا ہوں۔ بعض اوقات میں پیدل چلتا ہوا دور تک حسین مناظر دیکھنے چلا جاتا ہوں اور وہاں کسی جھیل میں آبی پرندوں کے تیرنے اور غوطے لگانے کا لطف اٹھاتا ہوں۔‘‘ تجربے سے معلوم ہوا کہ پیدل چلنے سے نہ صرف عمر میں اضافہ ہوتا ہے، بلکہ مسلسل مشق سے انسان کی صلاحیتوں اور قوتوں میں اضافہ ہوتا ہے اور اس طرح ’’بڑھاپا‘‘ دور رہتا ہے۔

ہمارے ملک میں بہت کم لوگ صبح کو ہوا خوری کے لیے نکلتے ہیں اور جو نکلتے بھی ہیں وہ پابندی نہیں کرتے۔ بڑے شہروں کی زندگی میں جہاں بہت سی سہولتیں اور آسائشیں ہیں، وہیں بعض بہت سی خرابیاں بھی ہیں۔ مثال کے طور پر دن میں مختلف قسم کی گاڑیوں کے چلنے اور کارخانوں، فیکٹریوں اور ملوں وغیرہ سے دھواں نکلنے کے باعث ہوا بہت کثیف رہتی ہے، اس لیے بڑے بڑے پارک بنائے جاتے ہیں۔ اگر صبح کے وقت پیدل چلنے کی عادت ڈالی جائے تو صاف اور تازہ ہوا مل سکتی ہے، جو کسی اچھے سے اچھے ٹانک سے بھی بہتر ہوتی ہے۔

مسعود احمد برکاتی

(بشکریہ ہمدرد صحت، کراچی)
 

کینسر کا علاج کیسے کیا جاتا ہے ؟

کینسر(سرطان) کا علاج کئی طریقوں سے کیا جاتا ہے۔ کینسر کا علاج مرض کی قسم اور شدت کو دیکھ کر تجویز کیا جاتا ہے۔ کینسر کے بعض مریضوں کے لیے صرف ایک طرح کا علاج ہی ممکن ہوتا ہے لیکن زیادہ تر کا علاج دو یا اس سے زائد طریقوں کے امتزاج سے کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر سرجری اور کیموتھراپی دونوں کی جاتی ہیں۔ اگر کسی کو بدقسمتی سے کینسر کا مرض لاحق ہو جائے تو علاج سے قبل اسے اس بارے میں بہت کچھ جان لینا چاہیے اور اچھی طرح سیکھ لینا چاہیے۔ مرض کی صور ت میں مریض ابہام کا شکار ہو سکتا ہے۔ تاہم ڈاکٹر سے بات کرنے اور علاج کی اقسام کے بارے میں جاننے سے اس ابہام کو دور کیا جا سکتا ہے۔ 

کینسر کے علاج کے طریقے مندرجہ ذیل ہیں۔ 

جراحی

اس طریقے میں کینسر کو جراحی کے ذریعے جسم سے علیحدہ کر دیا جاتا ہے۔

تابکاری

تابکاری سے علاج جسے ریڈیو تھراپی بھی کہا جاتا ہے، میں کینسر کے خلیوں کو تلف کرنے یا کینسر کی گومڑی کو چھوٹا کرنے کے لیے تابکاری کی زیادہ مقدار کو استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا انتخاب کرنے سے قبل اس کے ذیلی اثرات کے بارے میں جان لینا چاہیے۔ 

کیموتھراپی

اس طریق علاج میں ایسی ادویات استعمال کی جاتی ہیں جو کینسر کے خلیوں کو مار دیتی ہیں۔ اس کے ذیلی اثرات بھی ہوتے ہیں، لہٰذا اس طریقے کو استعمال کرنے سے قبل ان کے بارے جان لینا چاہیے۔ 

ایمونو تھراپی

اس طریقے میں جسم کے اندرونی نظام دفاع کی مدد کی جاتی ہے تاکہ وہ کینسر کے خلاف لڑ سکے۔ 

ٹارگٹ تھراپی

اس میں کینسر کے خلیوں کے اندر ان تبدیلیوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے جو کینسر کے خلیوں میں اضافے، ان کی تقسیم در تقسیم اور پھیلاؤ کا باعث ہوتی ہیں۔

ہارمون تھراپی

اس کے ذریعے سینے اور پوسٹیٹ کینسر کی نمو کو روکا جاتا ہے۔ 

سٹیم سیل ٹرانسپلانٹ

یہ وہ عمل ہے جس میں خون بنانے والے سٹیم سیلز (خلیوں) کو بحال کیا جاتا ہے جو کیموتھراپی یا تابکاری سے تباہ ہو گئے ہوں۔ 

(مترجم: رضوان عطا) 

دنیا تم سے پہلے بھی تھا بعد میں بھی رہے گا

کبھی کبھی شدت سے احساس ہوتا ہے کہ جس زندگی میں مقصدیت اور خوشیاں بھرنے کے لیے ہم سب بیل بنے ہوئے ہیں اور بے سمت بگٹٹ دوڑ رہے ہیں ایسی زندگی کس کام کی۔ ہم سے بہتر فیملی لائف تو جانوروں کی ہے جو زیادہ تر وقت ایک ساتھ گذارتے ہیں اور انھیں کوئی عجلت بھی نہیں۔ کیونکہ وہ اپنے ایجاد کردہ وقت اور تقسیمِ کار کے قیدی نہیں بلکہ فطرت کے بنائے ہوئے ٹائم ٹیبل کے تحت زندگی سے نبھا کر رہے ہیں۔ برا ہو ترقی کا جس نے اشیا اور لالچ تو عطا کر دی مگر کوالٹی ٹائم چھین لیا۔ اگر اپنی زندگی کا جائزہ لوں تو رائیگانی کا سوچ سوچ کے جھرجھری سی آجاتی ہے۔ بھارت اور پاکستان میں اوسط عمر سڑسٹھ اڑسٹھ برس کے لگ بھگ ہے۔ چلیے اس اوسط کو ہم کھینچ تان کے ستر برس فرض کر لیتے ہیں۔ یعنی پچیس ہزار پانچ سو پچاس دن۔

اب ان ستر برسوں کو آپ مختلف خانوں میں تقسیم کر کے دیکھیں۔ لگ بھگ ایک تہائی عمر یعنی تئیس برس نیند میں گذر جاتے ہیں۔ باقی سینتالیس میں سے اکیس برس بیٹھ کر کام کرنے ، ٹی وی دیکھنے ، سستانے ، فون یا انٹرنیٹ پر ، جلنے کڑھنے یا تصوراتی دنیا میں صرف ہو جاتے ہیں۔ اب بچے چھبیس برس۔ ان میں سے اوسطاً پندرہ برس ہوش سنبھالنے سیکھنے سکھانے اور کام کی تلاش میں گذر جاتے ہیں۔ اب باقی رھ گئے گیارہ برس۔ ان گیارہ برسوں میں سے بہت ہی کوئی طرم خان ہوا اور اسے زندگی کی مشقت نے مہلت دی تو چار برس اپنی مرضی کے کام ( لکھنا ، پڑھنا ، کھیلنا ، سیاحت ، فنونِ لطیفہ ) میں بسر کرنے کا موقع مل گیا۔ مگر یہ سب کرنا ہمیں اکثر تب یاد آتا ہے جب بقول ساقی امروہوی

میں اب تک دن کے ہنگاموں میں گم تھا
مگر اب شام ہوتی جا رہی ہے

یہ زندگی جسے ہم یادادشت کی کمزوری کے سبب لافانی سمجھ کے جینے کی کوشش کرتے ہیں کیا واقعی ہم جینے کی کوشش کرتے ہیں یا پھر زندگی ہمیں بسر کرتی ہوئی سامنے سے گذر جاتی ہے۔ آئن سٹائن کی طرح کتنے لوگ سوچتے ہیں کہ جسے زندگی سے سب سے بڑی شکایت یہ تھی کہ دن چوبیس گھنٹے کا کیوں ہے، اڑتالیس کا کیوں نہیں ؟ ہم میں سے اکثریت ریاض ختم کی طرح سوچتی ہے۔ یعنی کب شام ہو گی، کب رات ہو گی، کب نیا دن نکلے گا اور کب گذرے گا۔ ختم یوں نام پڑا کہ اس نے پوری کارآمد زندگی یوں گذار دی کہ ایک تھڑے پر بیٹھا آدم شماری کرتا رہتا اور دھوپ ستانے لگتی تو سامنے والے تھڑے پر منتقل ہو جاتا۔ ہر آتے جاتے سے کچھ کچھ دیر بعد ٹائم پوچھتا رہتا۔ کوئی کوئی جگت بھی لگا جاتا کہ بھائی ختم تجھے ٹائم پوچھ کے کرنا کیا ہے ؟

ہم میں سے کتنے سوچتے ہیں کہ جتنی توانائی ہم اپنے ناکارہ پن کے دفاع میں صرف کرتے ہیں، اس سے آدھی توانائی میں کوئی ڈھنگ کا کام بھی تو کر سکتے ہیں۔ مشفق دوست اور شاعر مرحوم جمال احسانی اکثر کہا کرتے تھے کہ جتنا دماغ ہم خود کو غریب رکھنے کے لیے لڑاتے ہیں اس سے آدھی محنت میں خوشحال بھی ہو سکتے ہیں۔ کہتے تھے کہ سب سے زیادہ محنتی بھکاری ہوتا ہے۔ صبح سے شام تک اپنی جاب کرتا ہے، پھر بھی بھکاری کہلاتا ہے۔ صرف اس لیے کہ اس کے پاس اس حالت سے نکلنے کے لیے کوئی آئیڈیا نہیں ہوتا۔ جیسے کولہو کے بیل کے پاس کوئی آئیڈیا نہیں ہوتا۔ مگر کیا ضروری ہے کہ ہر کسی کے پاس کوئی نہ کوئی آئیڈیا ہو اور وہ پورا بھی ہو جائے۔ تو پھر کیا کریں ؟

ہم اپنے بچوں کو کتنا معیاری وقت دیتے ہیں اور سنگل فیملیوں کے انٹرنیٹ زدہ بچے آپ کے ساتھ کتنا معیاری وقت گذارتے ہیں۔ ہم جن بہن بھائیوں کے ساتھ بچپن میں دن رات بسر کرتے تھے اور کبھی تصور بھی نہ کرتے تھے کہ سفاک زندگی کس کو کہاں لے جائے گی۔ ان کا ایک دوسرے سے آج کتنا رابطہ ہے ؟ دن میں کتنا ان کا خیال یا تصویر یا ان کے ساتھ گذرا کوئی لمحہ بلبلے کی طرح دل میں ابھرتا ہے اور پھوٹ جاتا ہے ؟ جو ماں آپ کے ساتھ تب سے ہے جب آپ خود سے کروٹ بھی نہیں لے پاتے تھے اور جو باپ آپ کے ساتھ تب سے ہے جب آپ نے اس کی انگلی پکڑ کے پہلا قدم بھرا تھا۔ آج ان کے ساتھ کس قدر کمیونیکیشن باقی ہے (میں سلام دعا اور عزت افزائی اور سرجھکا کے بات سن لینے کی بات نہیں کر رہا۔ کمیونیکیشن کی بات کر رہا ہوں )۔

کیا آج بھی آپ کے والدین آپ سے بے ساختہ کوئی بھی بات کرنے کا حق استعمال کرتے ہیں یا انتظار کرتے رہتے ہیں کہ کب آپ ان کے پاس آ کر بیٹھتے ہیں یا کب آپ کا موڈ اتنا اچھا ہوتا ہے کہ وہ آپ سے دل کی بات کہنے کی جرات کر سکیں۔
سال میں تین سو پینسٹھ دن ہوتے ہیں۔ گذشتہ برس جتنے گھنٹے آپ نے اپنی فیملی کے ساتھ بنا کسی دباؤ کے ہنسی خوشی گذارے ان کو جوڑ کر دنوں میں تبدیل کرنے کا تجربہ کیجیے۔ اگر تین سو پینسٹھ میں سے پانچ دن بھی نکل آئے تو میں آپ کے رویے پر رشک کروں گا۔ ( سب سے زیادہ معیاری وقت جرمن اپنے خاندانوں اور دوستوں کے ساتھ گذارتے ہیں یعنی اوسطاً دس روز سالانہ)۔

آپ بھلے امیر ہوں کہ غریب۔ فراغت خوشی دیتی ہے مگر ضرورت سے زیادہ فراغت زنگ آلود ہوتی ہے اور خالی دماغ میں رائیگانی ، نکتہ چینی ، منفیت اور حسد کے کیڑے مکوڑے گھر بنانا شروع کر دیتے ہیں۔ آپ ذرا بھارت اور پاکستان میں عدالتی ماحول کا جائزہ لیں۔ سب سے زیادہ دیوانی مقدمات ان سائلین کے ہوں گے جن کی عمر پچاس برس یا زائد ہو گی۔ جوانوں کو اتنی فرصت کہاں کہ ہر پھڈے میں ٹانگ اڑانے، میم میخ نکالنے یا اذیت پسندی کے لیے وقت نکل پائے۔چھوٹے شہروں میں ہزاروں ایسے لوگ ہیں جن کی زندگی میں مقدمہ ہی مصروفیت ہے۔ آپ وکیلوں کے آس پاس یا عدالتی منشیوں کے ساتھ سر جوڑ کے کھسر پھسر کرنے یا عدالتی کینٹین میں ہاف سیٹ چائے پر آٹھ سے تین بجانے والوں کے چہرے دیکھتے چلے جائیں۔ جوان چہرے اقلیت میں ہی نظر آئیں گے۔

کہنا شائد میں یہ چاہ رہا ہوں کہ دائمی زندگی کے چکر میں عارضی زندگی تباہ نہ کریں اور بطور انسان آپ کو جو چند کارآمد سال قدرت عطا کرتی ہے انھیں اپنی بساط کے مطابق معیاری اور مثبت انداز میں کھپانے اور اپنوں اور دوسروں کے لیے راحت کن شخصیت بننے میں لگائیں۔ اس عیاشی کے لیے بے تحاشا وسائل یا پیسہ ہونا شرط نہیں۔ محلے میں میرا سب سے اچھا دوست خلیل موچی ہے۔ میں اس کی چھوٹی سی دنیا کی سیدھی سادی گفتگو کی جھونپڑی میں کچھ دیر بیٹھ کر اس کے بے ضرر قصے اور زمانے کے بارے میں اس کا نقطہِ نظر بلا ٹوکے سنتا رہتا ہوں اور وہ جوتے بھی گانٹھتا رہتا ہے۔ آج تک خلیل نے کسی کے بارے میں کوئی غیبت کی اور نہ ہی اپنی محرومیوں کا چارٹ اپنے چہرے پر چسپاں کیا۔ اسی لیے پینسٹھ برس کی عمر میں بھی اس کا چہرہ مسکراہٹ کی گرمی سے تمتماتا رہتا ہے۔ صحبا دنیا تم سے پہلے بھی تھا بعد میں بھی رہے گا۔ رونا دھونا تمہارا عمر نہیں بڑھا سکتا کم کر سکتا ہے تو پھر ہنس بول کے سفر کاٹنے میں کیا مسئلہ ہے۔ 

وسعت اللہ خان
 

پاکستان میں دل، پھیپھڑوں کا مرض ہرچار میں سے ایک شخص کی موت کی وجہ

پاکستان میں اموات کی سب سی بڑی وجہ دل اور پھیپھڑوں کے امراض بن رہی ہے، مرنے والے ہر چار میں سے ایک پاکستانی اسی عارضے میں مبتلا ہوتے ہیں۔ آغا خان یونیورسٹی (اے کے یو) میں ہونے والی 20ویں نیشنل ہیلتھ سائنسس ریسرچ سمپوزیم کی تین روزہ کانفرنس کا انقعاد کیا گیا جس میں بتایا گیا کہ دل اور اس کے خطرے کو کم کرنے کے لیے عوام میں شعور بیدار کرنے کے علاوہ عوام کی صحت کا نظام بھی مؤثر اور مضبوط بنانا ہو گا۔ کانفرنس میں دل اور پھیپھڑوں کے عارضے اور مسائل سے نمٹنے اور ان کی بحالی کے حوالے سے گفتگو کی گئی۔

کانفرنس میں ماہرین نے دل اور پھیپھڑوں کے عارضے میں مبتلا افراد کے نئے طریقہ علاج اور زندگی بچانے والے طریقہ کار پر بحث کی جن کے ذریعے امراض کی فوری تشخیص اور علاج کے بہتر انتخاب کے عمل میں فائدہ پہنچا ہے۔ دل کے عارضے کے علاج میں ہونے والی پیش رفت کے حوالے سے ماہرین کا کہنا تھا کہ کراچی اور اسلام آباد کے ہسپتالوں نے دل کے مرض سے نمٹنے کے لیے نیا طریقہ علاج اپنا لیا ہے جن میں ٹرانسکیتھیٹر اورٹک والو امپلیمنٹیشن (ٹاوی) اینڈو ویسکیلور اینیوریزم ریپیئر (ایوار) شامل ہیں، ان دونوں طریقہ علاج سے آرٹا کی مرمت کا عمل کیا جاتا ہے جو پہلے صرف ترقی یافتہ ممالک کے بڑے ہسپتالوں میں کیا جاتا تھا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس طریقہ علاج سے امراض کے آخری اسٹیج کے مریضوں کے لیے بھی علاج ممکن ہو گیا ہے‘۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ان دونوں طریقہ علاج نے مشکل ترین دل اور واسکیولر عارضے کے علاج میں ایک نئی راہ پیدا کر دی ہے جبکہ پاکستان میں اس طریقہ علاج کے چند ماہرین بھی موجود ہیں۔ آغا خان یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر عثمان فہیم کا کہنا تھا کہ ہمیں اس طریقہ علاج کو بڑے پیمانے پر کم لاگت میں مریضوں تک پہنچانے کے چیلینج کا سامنا ہے۔ پھیپھڑوں کے مرض کے علاج میں ہونے والی جدت پر ماہرین کا کہنا تھا کہ ویڈیو اسسٹڈ تھوراسک سرجری اور برونکو اسکوپی کی وجہ سے پھیپھڑوں کے امراض کے علاج میں واضح بہتری آئی ہے۔

ان دونوں طریقہ علاج میں سرجری کرنے والے ڈاکٹروں کو ٹیومر کی شناخت اور اس سے نمٹنے میں آسانی ہوتی ہے اور اس طریقہ علاج سے مریض کو درد بھی کم ہوتا ہے۔ کانفرنس میں دل کے عارضے میں مبتلا افراد پر اسٹیم سیل تھیراپی کے تجربات کے نتائج بھی پیش کیے گئے۔ آزمائشی مرحلے میں ہونے کے باوجود ماہرین کا ماننا ہے کہ اسٹیم سیل کو متاثرہ پھیپھڑے یا متاثرہ دل میں لگانے سے اعظاء کی بحالی سمیت، ان کے کام کرنے میں بھی دوبارہ بحالی دیکھی گئی۔
کانفرنس میں جدید ٹیکنالوجی اور تشخیص کے طریقہ کار تھری ڈی ایکو اور کارڈیک ایم آر آئیز پر بھی بات چیت کی اور بتایا کہ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے انسانی اعضاء کی بہترین تصویر سامنے آجاتی ہے جس کے ذریعے سرجنز اور فزیشنز کو مرض سے نمٹنے کے لیے بہترین معلومات میسر ہو جاتی ہیں۔

تقریب کے مقاصد بتاتے ہوئے کانفرنس منتظم صولت فاطمی کا کہنا تھا کہ ’ہمارا مقصد جامعات کے درمیان باہمی تعلقات کے ساتھ بنائے گئے نئے منصوبوں کو سامنے لانا ہے تاکہ دنیا بھر میں ہوئی تحقیق سے پاکستانی مریض بھی مستفید ہو سکیں اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ہم نے بین الاقوامی مقررین سے رجوع کیا تا کہ اس کانفرنس کا دیرپا اثر پڑ سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کانفرنس کا ایک اور مقصد ’گول 3‘ کی عالمی کوششوں کو حاصل کرنا اور نومولود بچوں میں کارڈیو ویسکیولر کے مرض سے اموات کی شرح کو 2030 تک کم کرنا ہے۔

فائزہ الیاس
یہ خبر 4 نومبر 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی.
 

ورزش کیوں ضروری ہے ؟

دراصل ورزش ہر شخص کے لیے ضروری ہے۔ اس سے صحت قائم رہتی ہے اور جسم اچھی حالت میں رہتا ہے۔ ورزش سے دوران خون تیز ہو جاتا ہے۔ جو لوگ محنت کا کام کرتے ہیں ان کے لیے ورزش بہت ضروری ہے۔ مختلف قسم کی ورزشیں ہیں جن سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ سب سے آسان چہل قدمی ہے۔ جو ہر آدمی کے لیے ممکن ہے لیکن سیر کے وقت لباس موزوں ہونا چاہیے۔ خصوصاً موسم سرما میں گرم لباس ہونا چاہیے۔ کھلی ہوا میں سیر کرنی چاہیے۔ فاصلہ اور تیزی آدمی کی ضرورت اور رفتار پر منحصر ہوتی ہے۔ عام طور پر 40 تا 50 منٹ کی چہل قدمی کافی ہوتی ہے۔ تیرنا اور گھڑسواری بہترین ورزش ہے۔ ورزش جتنی ہلکی ہو اچھا ہے۔

لیکن پابندی ضروری ہے۔ بیرونی کھیل بہتر ورزش ہیں۔ بڑھاپے میں ہلکی ورزش کرنی چاہیے۔ جسم کی مالش بھی ایک ورزش ہے۔ جہاں انسان کی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے ورزش ضروری ہے وہاں مقررہ وقت پر سونا بھی صحت کیلئے انتہائی ضروری ہے کیونکہ جو توانائی محنت کے دوران خرچ ہوتی ہے۔ وہ نیند کے دوران پوری ہو جاتی ہے۔ گہری نیند جسم کے قواء کو مکمل آرام پہنچاتی ہے۔ اس طرح وہ زیادہ فعال ہو جاتے ہیں۔ اچھی نیند کے لیے غذا کا ہضم ہو جانا ضروری ہے۔ ورنہ منہضم غذا کا معدہ میں ہونا نیند میں خلل پیدا کر دے گا اور برے خواب نظر آئیں گے۔ بعض لوگ کھانا کھاتے ہی سو جاتے ہیں جو کہ بالکل غلط ہے ایسا کرنے سے پیٹ بڑھ جاتا ہے اور انسان طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ مثلاً موٹاپا، ذیابیطس، بدہضمی اور ضعف دماغ وغیرہ، چنانچہ نیند کا وقت مقرر کر لینا چاہیے۔ 

ویسے نیند کا بہترین وقت رات کا ہے۔ رات میں مکمل اور گہری نیند لی جا سکتی ہے۔ رات میں جلد سونے کی اور صبح جلد اٹھنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ رات کے کھانے اور سونے کے درمیان کم از کم دو گھنٹوں کا وقفہ ہونا چاہیے۔ شیرخوار بچے نیند کے زیادہ محتاج ہوتے ہیں۔ جوان بچوں سے کم اور بوڑھے اور بھی کم نیند چاہتے ہیں طبعی طور پر شیر خوار بچوں کو 15 تا 20 گھنٹے سونا چاہیے، بچے 10 تا 12 گھنٹے، جوان 8 گھنٹے اور بوڑھے 6 گھنٹے یا کم۔ کچھ لوگ دیر تک سونے کے عادی ہوتے ہیں اور صبح بھی دیر سے اٹھتے ہیں جو صحت کے اعتبار سے مناسب نہیں۔ نیند میں زیادہ یا کم سونا دونوں ہی صحت کے لیے مضر ہیں۔
 

پاکستان میں دوائیں سالانہ پانچ لاکھ جانیں لے لیتی ہیں : ماہرین

ماہرین کے مطابق ملک میں سالانہ تقریباً 5 لاکھ لوگ ادویات میں غلطی کی وجہ سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، ان غلطیوں میں دواؤں کی غلط تجویز، خوراک کی زیادتی اور دواؤں کے ضمنی اثرات (سائیڈ ایفیکٹس) شامل ہیں۔ پاکستان سوسائٹی آف ہیلتھ سسٹم فارماسسٹس (پی ایس ایچ پی) کے صدر عبداللطیف شیخ نے کراچی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ ‘پاکستان میں سالانہ 5 لاکھ افراد، بشمول خواتین اور بچے، ادویات کی غلط تجویز، تجویز کردہ مقدار سے زیادہ دوا لینے، ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر دوا لینے اور دواؤں کے ضمنی اثرات کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں’۔

عبداللطیف شیخ کا کہنا تھا کہ دواؤں کے معاملے میں بین الاقوامی طریقہ کار کو اپنا کر ان اموات کی روک تھام کی جا سکتی ہے، انہوں نے بتایا کہ امریکا میں ہر سال ان وجوہات کی بناء پر 80 ہزار لوگ ہلاک ہو جاتے ہیں، مگر پاکستان میں مطلوبہ مکینزم کی عدم موجودگی کی وجہ سے سرکاری طور پر اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔ انہوں نے بتایا، ‘ہمارے پاس حتمی ڈیٹا تو موجود نہیں، مگر غلط ادویات تجویز کرنے اور دیگر مہلک غلطیوں کی وجہ سے اندازاً 4 سے 5 لاکھ لوگ ہلاک ہو جاتے ہیں، یہ انتہائی تشویشناک صورتحال ہے جس پر حکام اور فارماسسٹس کو فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے’۔

پی ایس ایچ پی کے صدر کا کہنا تھا کہ ان کی تنظیم ہفتے کے روز اپنی دوسری بین الاقوامی کانفرنس منعقد کرے گی جس کا مقصد پاکستانی ہسپتالوں میں ادویات سے متعلق غلطیوں اور مریضوں کو بحفاظت ادویات کی فراہمی اور دیگر مسائل پر توجہ دینا ہو گا۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان کے نظامِ صحت میں فارماسسٹس کو ان کا جائز کردار ادا نہیں کرنے دیا جاتا اور ہسپتالوں میں ان کی بھرتی کے باوجود ادویات، خوراک اور دیگر مسائل کے بارے میں ان سے مشورہ نہیں کیا جاتا جس سے سنگین مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

مگر ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں اب فارماسسٹس کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے جو کہ ایک خوش آئند بات ہے۔ ‘سندھ میں حال ہی میں سیکڑوں فارماسسٹس بھرتی کیے گئے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ انہیں ادویات سے متعلق معاملات میں اپنے علم اور ہنر کو استعمال کرنے کی اجازت دی جائے گی’۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے موجودہ نظامِ صحت میں دواؤں کے منفی اثرات رپورٹ کرنے کا کوئی طریقہ کار موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے نہ ڈاکٹر اور نہ ہی مریض دواؤں کے منفی و ضمنی اثرات کو حکام تک پہنچا سکتے ہیں، اس کی وجہ سے کئی منفی اثرات رکھنے والی دوائیں اب بھی عوام کے لیے عام دستیاب ہیں اور تجویز بھی کی جاتی ہیں۔

یہ خبر 11 اکتوبر 2017 کے ڈان اخبار میں شائع ہوئی.
 

احساسِ تنہائی کیا ہے ؟

تنہائی کبھی نعمت ہے تو کبھی مصیبت۔ ادیبوں اور شاعروں نے تنہائی کو غنیمت سے تعبیر کیا ہے کیونکہ ہر وقت انہیں کوئی نہ کوئی خیال گھیرے رہتا ہے، لہٰذا تنہائی کہاں ہے؟ تنہائی کیا ہے ؟ اس بات کا دارومدار انسان کی سوچ پر ہے۔ بعض لوگ تنہائی کے لمحات ڈھونڈنے میں ساری زندگی صرف کرتے ہیں اور کچھ لوگ تنہائی کی ناگن کے ساتھ لڑتے لڑتے زندگی بتاتے ہیں۔ تنہائی کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ انسان دنیا میں تنہا آتا ہے اور تنہا ہی دنیا سے چلا جاتا ہے۔ مشہور و معروف شاعر حکیم مومن خان مومن نے اپنے ایک لافانی شعر سے خود کو ہی نہیں تنہائی کو بھی لازوال بنا دیا ہے۔ شعر یوں ہے۔

 تم میرے پاس ہوتے ہو گویا

 جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

 انسان اکیلا ہو سکتا ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ وہ احساسِ تنہائی کا شکار ہو۔ احساسِ تنہائی اس وقت شروع ہوتا ہے جب ایک انسان اپنے آپ کو سماجی طور پر ٹھکرایا ہوا اور علیحدہ تصور کرنے لگے، وہ رشتہ داروں ، دوست و احباب کی کمی محسوس کرنے لگے۔ ایسے انسان کے لئے تنہائی کا مطلب ہوتا ہے، میرا کوئی نہیں ہے اور میں کسی کا نہیں ہوں۔ جیسے مرزا غالب فرما گئے ہیں 

رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو

 ہم سخن کوئی نہ ہو اور ہم زباں کوئی نہ ہو

 بے در و دیوار سا اک گھر بنانا چاہئے

 کوئی ہمسایہ نہ ہو اور پاسباں کوئی نہ ہو

 پڑئیے گر بیمار تو کوئی نہ ہو تیمار دار اور

 اگر مر جائیے تو نوحہ خواں کوئی نہ ہو

 تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ تنہائی کا احساس انسان کی صحت کے لئے ضرر رساں ہو سکتا ہے۔

ایک یونیورسٹی میں کی گئی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جو طلبا دوستوں سے ملنے جلنے کی بجائے تن تنہا زندگی گزارنے کے عادی تھے ان کا نظامِ قوتِ مدافعت ان طلبا کے مقابلے میں بے حد ضعیف تھا جو اپنا وقت دوستوں کے ساتھ ہنسی مذاق، کھیل کود اور تفریح میں گزارنے کے عادی تھے۔ اسی تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ کچھ طالب علم دوستوں کے درمیان رہ کر بھی احساسِ تنہائی کے شکار تھے، ایسے طلبا میں سے بیشتر نیند میں دائمی خلل کے بھی شکار تھے۔ احساسِ تنہائی کے شکار لوگ ہر وقت ذہنی دباؤ میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ان کا فشار خون بڑی تیزی سے بلند یوں کو چھو سکتا ہے اور بعض اوقات دوائیوں کے استعمال سے بھی کم نہیں ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں ان کے جسم میں کولیسٹرول اور سیٹرس ہارمون کورٹیزول کی مقدار زیادہ ہونے کا امکان ہوتا ہے۔ 

محققین کا کہنا ہے کہ ایسے لوگ پریشانی، مایوسی اور افسردگی جیسے نفسیاتی امراض میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ مگر محققین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ سماجی علیحدگی اور احساسِ تنہائی میں فرق واضح کرنا لازمی ہے۔ اپنی مرضی سے سماجی علیحدگی اختیار کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ فرد احساسِ تنہائی کا شکار ہو۔ سماجی زندگی سے کنارہ کشی کا مطلب یہ نہیں کہ فرد کو احساسِ تنہائی بھی ہو۔ سماجی زندگی سے دوری اختیار کرنا فرد کا اپنا فیصلہ ہوتا ہے جبکہ احساسِ تنہائی ایک مخصوص ذہنی کیفیت ہے۔ کچھ لوگ ’’لوگوں کے سیلاب‘‘ سے دور اپنی ایک الگ دنیا بسا کر اطمینان کا سانس لیتے ہیں۔

 احساسِ تنہائی میں مبتلا ہونے کا مطلب’’اکیلا‘‘ ہونا نہیں ہے۔ مثال کے طور پر ایک شخص کسی بھیڑ یا جشن میں بھی اپنے آپ کو تنہا محسوس کرتا ہے اور کوئی شخص اکیلا ہونے کے باوجود بھی تنہائی کے احساس کا شکار نہیں ہوتا۔ احساسِ تنہائی ایک ایسی درد بھری ذہنی کیفیت ہے جس میں مبتلا شخص اپنے آپ کو سماجی زنجیرسے ’’کٹا ہوا‘‘ حلقہ محسوس کر کے یہ سوچنے لگتا ہے کہ اس کی بنیادی اور ضروری خواہشات پورا کرنے میں کوئی بھی شخص دلچسپی نہیں لے رہا ہے۔ اس لئے یہ ایک نفسیاتی عارضہ ہے۔ 

جب احساسِ تنہائی کسی بھی شخص کو اپنی گرفت میں لیتا ہے تو 

٭وہ محسوس کرتا ہے کہ اسے ’’محفل‘‘ سے نکالا گیا ہے۔ 

٭اس کا کوئی چاہنے والا نہیں ہے۔ 

٭وہ اپنے ماحول میں اپنے آپ کو بیگانہ محسوس کرتا ہے۔ 

٭ اسے یوں لگتا ہے کہ ایسا کوئی شخص نہیں جس کے ساتھ وہ اپنے تجربات، احساسات اور دکھ درد بانٹ سکے۔ 

٭اسے دوست بنانے میں دشواری پیش آتی ہے۔ وہ کسی اجنبی کے ساتھ سلام کرنے کی حد سے آگے نہیں بڑھ سکتا ۔ اور پھر اِن کے منفی اثرات یوں ظاہر ہوتے ہیں۔ 

٭احساسِ تنہائی کا شکار فرد احساس کمتری میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ 

٭اسے ہر وقت یہ خیال ستاتا ہے کہ ’’یہاں کسی کو بھی میری ضرورت نہیں ہے‘‘۔ 

٭ وہ دعوتوں اور محفلوں میں جانے سے گھبراتا ہے۔ 

٭وہ خود پسندی اور ’’خود آگہی‘‘ کے وہم میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ 

٭وہ کوشش کے باوجود اپنے جذبات اور احساسات بیان نہیں کر سکتا ہے۔ 

٭وہ دوسروں سے ہم کلام ہونے سے کتراتا ہے۔ 

٭وہ اپنے مسائل و مشکلات کسی دوسرے سے بیان کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتا ہے۔ 

٭وہ ایک مخصوص اور تنگ دائرے میں مقید ہو کر رہ جاتا ہے۔ اور پھر وہ ’’موجودہ جگہ‘‘ یا ماحول سے راہِ فرار اختیار کرتا ہے۔ مثلاً اگر وہ والدین کے ساتھ رہتا ہو تو اچانک کسی وقت بنا سوچے سمجھے گھر سے بھاگ کرکسی اور جگہ پناہ لیتا ہے، اس وقت وہ یہ بھی نہیں سوچتا کہ اسے مستقبل میں کن مشکلات ومسائل کا سامنا کرنا پڑے گا، اسی لئے گھر سے دور رہ کر ایسے نوجوان ایسی غلطیوں کے مرتکب ہو جاتے ہیں جن کا خمیازہ انہیں عمر بھر بھگتنا پڑتا ہے۔  

نذیر مشتاق

 

نقطہ نظر پیش کرنے کا درست طریقہ : ڈیل کارنیگی

اگر آپ کو مکمل یقین ہے کہ دوسرا شخص غلط کہہ رہا ہے اور آپ بے دھڑک اسے کہہ دیتے ہیں کہ تم غلط کہہ رہے ہو۔ تو کیا ہوتا ہے میں اسے واضح کرتا ہوں۔ مسٹر سانتے نیو یارک کا ایک نوجوان وکیل ہے۔ ایک بار اس نے امریکی سپریم کورٹ کے سامنے ایک بڑے اہم مقدمے میں دلائل دیئے۔ اس مقدمے کا تعلق بہت زیادہ رقم سے تھا اور اس میں ایک بہت ہی اہم قانونی نکتہ تھا۔ دلائل کے دوران ایک جج نے وکیل سے پوچھا۔ ’’ اس قسم کے قانونی معاملے میں زیادہ سے زیادہ میعاد چھ برس ہوتی ہے نا۔‘‘ مسٹر سانتے ایک دم رک گئے اور انہوں نے ایک لمحے کے لیے جج کی طرف گھور کر دیکھا اور پھر جواب دیا ’’ عزت مآب اس قسم کے قانون میں کوئی میعاد نہیں ہوتی۔‘‘ ’’ عدالت میں ایک سناٹا طاری ہو گیا۔‘‘ سانتے نے بتایا ’’ میں بالکل صحیح کہہ رہا تھا مگر جج غلطی پر تھا اور ایسا میں نے اسے بتا دیا تھا۔ 

لیکن کیا اس سے جج مطمئن ہو گیا ؟ نہیں۔ میں یہی سمجھتا تھا کہ میری قانونی پوزیشن بہت مضبوط ہے اور میرا خیال تھا کہ میں نے پہلے سے زیادہ اچھے دلائل دیئے ہیں لیکن میں نے ایک مشہور اور قابل جج کو اس کی غلطی کا بتا کر بہت بڑی غلطی کی اور اس طرح میں نے اس کے جذبات اور عزت نفس کو ٹھیس پہنچائی۔‘‘ ہم میں سے محض چند لوگ منطقی ہوتے ہیں۔ باقی سب میں صرف تعصب بھرا ہوا ہوتا ہے۔ ہم میں سے بہت سے اپنے ذہن میں حسد، شک خوف اور جلن کے جذبات لیے ہوئے ہوتے ہیں اور بہت سے لوگ اپنے مذہب اپنے بالوں کے سٹائل یا اپنے پسندیدہ ایکٹر کے بارے میں اپنا ذہن نہیں بدلنا چاہتے۔

اس لیے اگر آپ اس بات پر مائل ہوں کہ آپ لوگوں کو یوں بتائیں کہ وہ غلط ہیں تو ہر صبح ناشتے سے پہلے یہ پیراگراف ضرور پڑھیں۔ یہ جیمز ہاروے رابنسن کی مشہور کتاب The Mind in the Making سے لیا گیا ہے۔ ’’ ہم بعض اوقات کسی قسم کے دباؤ یا بھاری جذبات کے بغیر اپنا ذہن بدل رہے ہوتے ہیں۔ لیکن اگر ہمیں بتا دیا جائے کہ آپ غلط ہیں تو یہ بات ہمیں سخت ناگوار گزرتی ہے۔ ایک چھوٹا سا لفظ ’’ میرا یا میری‘‘ انسانی معاملات میں سب سے اہم ہے اور یہیں سے عقل کا ارتقا ہوتا ہے۔ اس میں بھی اتنی ہی طاقت ہوتی ہے جتنی ان الفاظ میں ہوتی ہے۔ جیسے ’’ میرا گھر‘‘ میرا والد، میرا ملک، میری کار اور میرا خدا، ہم ہر وقت اس یقین میں رہتے ہیں کہ جو کچھ ہم کہیں گے اسے سچ مانا جائے گا اور ہم اس وقت سخت ناراض ہو جاتے ہیں جب ہمارے خیالات پر ذرا برابر بھی شک کیا جائے۔ اور ایسی صورتحال میں ہم اپنے خیالات سے ہی چمٹے رہتے ہیں خواہ وہ غلط ہی کیوں نہ ہوں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہم نہ صرف دوسروں کو ناراض کرتے ہیں بلکہ اپنے لیے بھی ناخوشگوار حالات کا سامان پیدا کرتے ہیں۔‘‘ 

مشہور نفسیات دان کارل راجرز نے اپنی مشہور کتاب On Becoming a Person میں لکھا ہے۔ میں اس وقت کو اپنے لیے بہت قیمتی سمجھتا ہوں جب میں کسی دوسرے شخص کا نقطہ نظر سمجھنے کیلئے خود کو تیار کر لوں۔ جن الفاظ میں یہ بیان کیا گیا ہے، ہو سکتا ہے وہ آپ کو عجیب سے لگیں۔ لیکن یہ بہت ضروری ہے کہ آپ دوسروں کا نقطہ نظر سمجھنے کے لیے خود کو تیار کریں۔ بہت سی باتوں کے بارے میں ہمارا پہلا رد عمل ان کے خیالات کو جانچنا ہونا چاہیے۔ جب کوئی شخص اپنے کسی خیالی رویے یا جذبات کا اظہار کرتا ہے تو ہم فوراً یہ سوچتے ہیں ’’ یہ غلط ہے‘‘ ’’ یہ صحیح ہے‘‘ یہ بالکل فضول ہے۔ 

بہت کم ہم اس کے جذبات اور خیالات کو سمجھنے کے لیے خود کو آمادہ کرتے ہیں۔ میں نے ایک بار ایک اندرونی سجاوٹ کے ماہر کو اپنے گھر کے لیے پردے تیار کرنے کا آرڈر دیا۔ جب اس نے مجھے بل بنا کر دیا تو مجھے بہت مایوسی ہوئی۔ چند روز بعد میرا ایک دوست گھر آیا اور اس نے پردوں کو دیکھا۔ میں نے پردوں کی قیمت بتائی تو فوراً وہ چونک اٹھا ’’ کیا؟‘‘ اس نے کہا میں نے پردوں کی بہت زیادہ قیمت ادا کی ہے۔ ہاں یہ صحیح تھا اور اس نے مجھے صحیح بتایا تھا مگر بہت سے لوگ اپنے فیصلوں کے بارے میں سچائی سننا پسند نہیں کرتے۔ اس لیے ایک انسان کی طرح میں نے اپنے فیصلے کا دفاع کرنا شروع کر دیا۔ میں نے اسے بتایا کہ بہترین چیز خریدنے کے لیے زیادہ قیمت تو ادا کرنی پڑتی ہے۔

اگلے دن ایک اور دوست میرے گھر آیا اس نے پردوں کی تعریف کی اور اس نے کہا کاش مجھے بھی اپنے گھر کے لیے ایسے پردے مل جائیں میرا رد عمل بہت مختلف تھا۔ میں نے کہا کہ میں اتنے مہنگے پردے خرید نہیں سکتا تھا لیکن میں نے ان کے لیے پیسے دیئے ہیں جس کا مجھے افسوس ہے۔ ’’ جب ہماری غلطی ہو تو ہمیں تسلیم کر لینا چاہیے۔ اکثر یہ ہوتا ہے کہ ہم اپنی غلطی کو اندر ہی اندر تسلیم کر رہے ہوتے ہیں اور اگر ہمیں بڑی ملائمت کے ساتھ ہماری غلطی کا احساس دلایا جائے تو ہم اپنی غلطی کو اعلانیہ طور پر تسلیم بھی کر سکتے ہیں مگر اگر کوئی بحث کے ذریعے دلائل کے زور سے ہمیں غلط ثابت کرنے کی کوشش کرے تو ہم تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہوتے۔‘‘

امریکی سول وار کے دوران گریلے امریکہ کا سب سے مشہور ایڈیٹر تھا وہ ابراہام لنکن کی پالیسیوں کی بڑی شد و مد کے ساتھ مخالفت کرتا تھا۔ اسے یقین تھا کہ وہ اس قسم کے طور طریقوں سے لنکن کو اپنا ہمنوا بنا سکتا ہے۔ وہ ہر مہینے اورہر سال بعد لنکن پر سخت ترین الفاظ کے ساتھ تنقید کرتا دراصل اس نے لنکن کی موت سے ایک دن پہلے اس پر سخت ترین الفاظ میں طنز اور ذاتی حملے کئے تھے۔ لیکن کیا ان تمام حرکتوں سے اس نے ابراہام لنکن کو اپنا ہمنوا بنا لیا؟ ہرگز نہیں۔

ڈیل کارنیگی

 

خوش رہنا ہے؟ تو انداز فکر تبدیل کر لیجیے

کام یاب زندگی کو ہم خوشی سے تعبیر کرتے ہیں۔ زندگی میں خوشی کااحساس سکون اور طمانیت عطا کرتا ہے اور یہی کام یاب زندگی کی علامت سمجھے جاتے ہیں لیکن فی زمانہ ہر شخص خوشی کی تلاش میں سرگرداں نظر آتا ہے۔ خصوصاً خواتین بیشتر وقت پریشان رہتی ہیں۔ مختلف باتوں کی وجہ سے ہمہ وقت تفکرات میں گھری رہتی ہیں حالاںکہ خدا نے بے شمار نعمتیں اور رشتے عطا کیے ہوتے ہیں۔ مثلاً پیارکرنے والا شوہر، ہمدرد بہنیں اور سہیلیاں مگر پریشانیوں میں گھر کر وہ ایسے تمام پیارے رشتے اور بہت کچھ نظر انداز کر دیتی ہیں جب کہ زندگی میں یہ سمجھنا از حد ضروری ہے کہ ہمیں اپنی خوشیوں کا محور ایک ہی شخص یا ایک ہی چیز کو نہیں بنا لینا چاہیے۔ خوشیوں کے رنگ تو ہر سو بکھرے ہوتے ہیں۔ کبھی بھی اپنی خوشیوں کو کسی بھی ایک معاملے، ایک رشتے، اور فرد واحد تک محدود نہیں کرنا چاہیے۔

مثال کے طور پر ایک خاتون جس کا شوہر بہت اچھا ہے ان کے تعلقات نہایت اچھے ہیں، گھریلو زندگی بہت خوش گوار ہے، بہت اچھی سہیلیاں ہیں، پیارے پیارے سے بچے ہیں لیکن اگر وہ دفتر میں اپنی کارکردگی سے مطمئن نہیں یا ان کی ترقی نہیں ہو رہی تو وہ خوش نہیں ہیں۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ اگر مثبت انداز فکر سے سوچا جائے تو زندگی میں بے شمار رشتے اور دیگر معاملات بھی خوشیوں کا باعث ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر والدین، پیار کرنے والے اہل خانہ، ہنس مُکھ سا بھائی، اورپیار کرنے والی بھابھی، لیکن اگر ساس کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں ہوں تو وہ خاتون خوش نہیں رہتیں کیوں کہ ہم اپنے پاس موجود بے شمار نعمتوں اور پیارے پیارے رشتوں کے ہوتے ہوئے بھی اپنی خوشیوں کا محور اس ایک شخص یا ایک معاملے کو بنا لیتے ہیں، حالاںکہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔

ہر شخص کی زندگی میں ایسے بہت سے معاملات اور بہت سی باتیں اور بہت سے رشتے ہوتے ہیں جن کے متعلق سوچیں تو یاسیت، افسردگی اور بے چینی کا شکار ہو جائیں۔ شاید اپنی زندگی کے متعلق منفی انداز سے سوچنے لگیں لیکن زندگی میں کام یاب اور خوش وہی لوگ رہتے ہیں جو یہ سیکھ لیتے ہیں کہ اپنی زندگی میں ان چیزوں کو اپنا محور بنائیں ان کے متعلق سوچیں جو ہمیں بے حد پیاری ہوں، جو رشتے دل کے قریب ہوں۔ مثلاً بچے، اپنی پیاری اولاد، وہ بہترین سہیلی جو ہر سکھ دکھ میں ساتھ ہے۔ چاہے کیسے ہی حالات کیوں نا ہوں لیکن وہ ہمیشہ ساتھ کھڑی رہتی ہے۔ شوہر جو ہر معاملے میں ساتھ دیتے ہیں۔ زندگی میں آنے والے سرد و گرم میں ہمہ وقت ساتھ ہیں۔

اکثر گھروں میں چھوٹے موٹے جھگڑے تو ہوتے ہی رہتے ہیں۔ ان کی بنیاد پر کوئی فریق انتہائی قدم اٹھانے کے متعلق سوچنے لگتا ہے۔ مثال کے طور پر اکثر ساسوں کو بہووں سے بے انتہا شکایات ہوتی ہیں۔ دوسروں سے گفت گو کے دوران بھی ان کا یہ انداز ہوتا ہے کہ میں بہت پریشان ہوں، میری اور میری بہو کی بالکل نہیں بنتی اور شاید میں کسی دن خودکشی کرلوںگی۔ کتنی عجیب بات ہے کیوںکہ بہو تو صرف آپ کی زندگی کا ایک حصہ ہے۔ آپ کی زندگی صرف اس حصے تک محدود نہیں ہے۔ اس خول سے باہر نکل کر دیکھیں کتنا کچھ ہے صرف انداز فکر تبدیل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

ہم عموماً روزانہ گھر کے آنگن میں، بالکونی میں یا لان میں بیٹھ کر چائے پیتے ہیں، کبھی محسوس کیا کہ خوب صورت پرندے اڑ رہے ہوتے ہیں، سامنے پارک میں لوگ ہنس رہے ہوتے ہیں، واک کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ کتنا خوب صورت منظر ہوتا ہے۔ باہر قدرت کے حسین نظارے ہمارے لیے ہیں لیکن ہم دیکھتے ہی نہیں، ہم محسوس ہی نہیں کرتے کیوںکہ ہم اپنی سوچ کا محور صرف منفی چیزوں یا منفی باتوں کو بنا لیتے ہیں اور اسی میں مصروف رہتے ہیں۔ اگر ہم اپنی سوچ کا انداز تبدیل کر لیں تو زندگی خود بخود خوب صورت ہوتی چلی جائے گی۔ اپنی زندگی میں مثبت سوچ کے ساتھ ایک نیا قدم اٹھائیں۔ مثبت سوچ کے ساتھ جینے کا عزم کریں۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر پریشان ہونا یا ناخوش ہونا چھوڑ دیں۔ اگر شادی نہیں ہوئی، ہمسفر نہیں ملا تو یہ سوچیں کہ کنوارا رہنے کے کیا فائدے ہیں۔ ہر ذمے داری سے آزادی، اماں ابا سے لاڈ اٹھوانے کا بھی ایک اپنا ہی مزہ ہے۔

اگر ذاتی گھر نہیں ہے تو کرائے کے مکان میں کیا کیا فائدے ہیں۔ اگر شوہر سے ناخوش ہیں تو اس کو سمجھنے کی کوشش کریں، خوش رہیں اور دیگر بہت سارے پیارے رشتے جو ارد گرد موجود ہیں ان کے متعلق سوچیں۔ صرف آنکھیں کھولنے، سوچ کے در وا کرنے، پریشان کُن صورت حال سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے۔ جب ہم کسی مسئلے سے اپنی توجہ ہٹا لیتے ہیں وہ مسئلہ خود بخود صحیح ہو جاتا ہے۔ رشتے خود بخود اپنی جگہ بنانے لگتے ہیں۔ معاملات ٹھیک ہونے لگتے ہیں۔ بہت زیادہ سوچنا اور متفکر ہونا چھوڑ دیں تو معاملات از خود بہتر ہونے لگیں گے۔ اس طرح اپنی زندگی کو ہر قدم پر تبدیل کریں۔ مثبت طرز فکر کے ساتھ چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے دامن کو بھرنے کی کوشش کریں۔ زندگی میں خوشیوں کے رنگ بکھر جائیں گے۔

منیرہ عادل