مردان واقعہ اور ریاست کی ذمہ داری

 مردان یونیورسٹی میں ایک طالب علم کو توہین مذہب کے الزام پر یونیورسٹی کے  ہی طلبہ نے بے دردی سے قتل کر دیا۔ نہ ان سنگین الزامات کی تحقیقات کی گئیں، نہ ہی معاملہ پولیس اور عدالت کے پاس گیا بلکہ ہجوم نے خود ہی الزام لگایا، اپنی عدالت لگائی اور سزا بھی دے دی۔ اس واقعہ کی وزیر اعظم نواز شریف، عمران خان، آصف علی زرداری، مولانا سمیع الحق، مفتی محمد نعیم اور دوسرے کئی سیاسی و مذہبی رہنمائوں نے مذمت کی جبکہ وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا اور متعلقہ پولیس ڈی آئی جی کے مطابق ابھی تک کی تحقیقات میں توہین مذہب کے کوئی ثبوت نہیں ملے۔ خیبر پختون خوا حکومت نے معاملہ کی جوڈیشل انکوائری کا حکم دے دیا ہے جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان نے بھی اس معاملہ کا سو موٹو نوٹس بھی لے لیا ہے۔

امید ہے آئندہ چند ہفتوں میں کیس کے تمام حقائق سامنے آ جائیں گے اور یہ کہ مشال خان پر لگائے گئے الزامات کی نوعیت درست تھی یا غلط یا کہ اُسے کسی سازش کا نشانہ بنا کر اس طرح قتل کروایا گیا۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ ریاست کے ہوتے ہوئے کسی بھی گروہ یا افراد کے مجمع کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ الزام کے بنیاد پر قانون ہاتھ میں لے کر کسی کی جان لے لیں۔ الزام کیسا بھی ہو اس کے لیے معاملہ پولیس، عدالت اور ریاست کے حوالے کیا جائے۔ اگر ہجوم اور گروہوں کو الزام لگا کر لوگوں کو مارنے کی اجازت دے دی جائے تو پھر تو یہاں کوئی بھی نہیں بچے گا اور خصوصاً ایک ایسے معاشرے میں جہاں سنگین سے سنگین الزامات لگانے کا رواج عام ہو اور اس کام کے لیے میڈیا اور سوشل میڈیا کو خوب استعمال کیا جاتا ہو۔

یہاں ریاست اور ریاست کے ذمہ داروں کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے اور اس سوال پر غور کرنا چاہیے کہ آخر ہماری ریاست گستاخی کے الزام میں سزا پانے والوں میں سے کسی ایک کی سزا پر بھی عمل درآمد میں کیوں ناکام رہی۔ ریاست کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ شہریوں کو قانون کی عمل داری نظر آئے تا کہ ہر کسی کو یقین ہو کہ کسی بھی قسم کا جرم کرنے والا سزا سے نہیں بچ سکتا۔ مردان واقعہ کا ایک ا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ مشال خان کے قتل کا حوالہ دے کر ایک طبقہ نے اسلام، blasphemy law اور ماضی قریب میں عدالت، حکومت اور پارلیمنٹ کی طرف سے سوشل میڈیا پر سے گستاخانہ مواد کو بلاک کرنے اور گستاخی کے مرتکب افراد کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات پر سوال اٹھانے شروع کر دیئے۔ کچھ نے کہا کہ مردان یونیورسٹی کا واقعہ blasphemy law کا غلط استعمال ہے۔

کوئی ان سے پوچھے یہ قانون کہاں کسی مجمع یا گروہ کو الزام کی بنیاد پر کسی بھی فرد کو مارنے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ قانون تو ریاست کو گستاخی کے الزام پر کارروائی کی ہدایت دیتا ہے۔ جو کچھ حال ہی میں عدلیہ، پارلیمنٹ اور حکومت نے سوشل میڈیا پر سے گستاخانہ مواد کو ہٹانے کے لیے کیا وہ انتہائی قابل تعریف اقدام ہے اور اس کا مقصد ایک ایسے فتنہ پر قابو پانا ہے جو کسی بھی اسلامی معاشرے میں اشتعال انگیزی، نفرت اور غم و غصہ کا باعث بنتا ہے۔ کسی ایک واقعہ کا بہانہ بنا کر کوئی اگر یہ چاہے کہ blasphemy law کو ہی ختم کر دیا جائے یا کوئی آزادی ٔرائے کے مغربی standards کو یہاں لاگو کیا جائے تو ایسا ممکن نہیں ہو سکتا کیوں کہ اس سے فتنہ بڑھے گا۔ مردان کا واقعہ کسی مدرسہ میں نہیں بلکہ عبدالولی خان یونیورسٹی میں ہوا جس میں ملوث طلبہ کی اکثریت کا مبینہ طور پر ایسی سیاسی جماعتوں کی طلبہ تنظیموں سے تعلق ہے جو اپنے آپ کو سیکولر اور لبرل کہتی ہیں لیکن افسوس کہ بحث ساری اسلام کے متعلق کی جا رہی ہے۔

ایسے موقعوں پر ہی ٹی وی چینلز کو علماء کرام کو بلا کر یہ پوچھنے کا موقع ملتا ہے کہ اسلام اس بارے میں کیا کہتا ہے۔ مردان واقعہ پر عدلیہ اور حکومت دونوں نے نوٹس لے لیا اور امید کی جا سکتی ہے کہ اس معاملہ میں پورا پورا انصاف ہو گا لیکن کیا چیف جسٹس آف پاکستان، وزیر اعظم نواز شریف، عمران خان، دوسرے رہنما اور ہمارا میڈیا زرا اس بات پر غور کرے گا کہ ہر ایسے موقع پر ہم اسلام کو لا کر کٹہرے میں تو کھڑا کر دیتے ہیں لیکن اسلام کی تعلیمات کو فروغ دینے کے لیے ہم کیا کر رہے ہیں۔ جب ہم اسکولوں میں، اپنے گھروں میں، میڈیا کے ذریعے اور حکومتی سطح پر معاشرے کو اسلامی تعلیمات سے آگاہ نہیں کریں گے اور اس ضد پر قائم رہیں گے کہ ریاست کا مذہب کے معاملات میں کوئی کردار نہیں تو پھر اسلام سے شکایت کیسی۔

میں چوہدری نثار علی خان سے متفق ہوں کہ مشال خان کے وحشیانہ قتل کو مذہب کے ساتھ جوڑنا قابل افسوس ہے۔ میری حکومت، پارلیمنٹ ، عدلیہ، سیاسی جماعتوں اور میڈیا سے گزارش ہے کہ لوگوں کو اسلام پڑھانے اور معاشرہ کو قرآن و سنت کے مطابق ماحول فراہم کرنے میں اپنا اپنا کردار ادا کریں جیسا کہ آئین پاکستان کی منشاء ہے۔ جہاں تک توہین مذہب اور گستاخی کے جرم کا تعلق ہے تو اس بارے میں ایک اصول پر ہم سب کو کاربند رہنا چاہیے اور وہ یہ کہ جس پر یہ جرم ثابت ہو گیا اُسے نشان عبرت بنائیں جس نے کسی پر جھوٹا الزام لگایا اُس پر قذف لگائیں۔ اسی طرح سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر کو روکا جائے اور ایسا کرنے والوں کو سزائیں دی جائیں۔

اس کے ساتھ ساتھ میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے دوسروں پر توہین مذہب کے جھوٹے الزامات لگانے والوں سے بھی سختی سے نپٹا جائے، انہیں سزائیں دی جائیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسے مواد (جھوٹے الزامات) کو بھی سوشل میڈیا پر بلاک کیا جائے اور میڈیا پر ان کی تشہیر کو سختی سے روکا جائے۔ ہمیں نوجوانوں اور بچوں کو یہ تعلیم بھی دینی چاہیے کہ وہ نہ صرف ہر صورت میں اپنے دین اور مقدس ہستیوں کا احترام کریں بلکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق دوسروں کے مذاہب کو بھی بُرا مت کہیں۔

انصار عباسی

Advertisements

علامہ احسان الٰہی ظہیر کی خوبصورت یادیں

دنیا کی بے ثباتی کا کون گواہ نہیں‘ زندگی کی بے وفائی کا کسے احساس نہیں‘ رنگ و بُو کے اس جہاں میں کیسے کیسے ذیشان لوگ آئے‘ آب وگل کی اس کائنات میں عظیم ہستیوں نے جنم لیا۔ ان کی جلائی ہوئی شمعیں اپنی ضوفشانیوں سے زندہ قوموں کو ہمیشہ راستہ دکھاتی رہتی ہیں۔ دعوت و عزیمت کے ایک ایسے ہی کارواں کے قائد کو دنیا احسان الٰہی ظہیر کے نام سے جانتی ہے۔ ان کا شمار ملک کے نامور علماء دین اور بے باک سیاستدانوں میں ہوتا تھا۔ وہ آج ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں۔ مگر ان کی شعلہ نوا خطابت‘ ان کی بے خوف سیاست اور ان کی دبنگ شخصیت کی مہک بیس برس کے بعد بھی ابھی تک وطن عزیز کی فضائوں میں رچی بسی ہے۔

چھیالیس سال کی مختصر سی زندگی میں وہ اپنے کردار وعمل سے صدیوں کا فاصلہ طے کر چکے تھے۔ وہ ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ یہاں صر ف آقائے نامداررسول کریم ﷺ سے ان کی سچی محبت اور والہانہ عشق کے مختلف گوشوں اور شعلہ نوا خطابت کے تناظر میں کچھ گزارشات پیش ہیں۔ تحریک ختم نبوتؐ میں ان کا کردارپوری دنیا پر آشکار تھا۔ جس کا اعتراف لندن سے شائع ہونے والے ایک جریدے نے بھی کیا۔ اس نے برصغیر پاک وہند کے بارے ایک مضمون میں حضرت قائد اعظم محمد علی جناحؒ‘ علامہ اقبال‘ پنڈت جواہر لال نہرو اور علامہ احسان الٰہی ظہیر کی تصاویر شائع کیں۔ علامہ اقبالؒ کی تصویر اس لئے شائع ہوئی کہ انہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کیلئے اسلامی مملکت کا تصور پیش کیا۔ حضرت قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی تصویر اس لئے کہ انہوں نے علامہ اقبالؒ کے تصور کو عملی جامہ پہنایا۔ پنڈت جواہر لال نہرو کی تصویر اس لئے شائع کی کہ انہوں نے انگریز کی سازش سے برصغیر کے مسلمانوں میں قادیانیت کے نام سے ایک فرقے کی بنیاد رکھنے والے غلام احمد قادیانی کی پس پردہ سرپرستی کی تھی اور علامہ احسان الٰہی ظہیر کی تصویر اس لئے شائع کی کہ اس نوجوان عالم دین نے قادیانیت کی سازش کو بے نقاب کر کے اسے خارج از اسلام قرار دلوانے میں ہراول دستے کا کردار ادا کیا۔

انہوں نے مدینہ یونیورسٹی سے فراغت کے بعد وطن واپس آ کر وقت کی سیاسی تحریکوں اتحادوں اور مسجد چینیانوالی میں اپنی خطابت کے وہ جوہر دکھائے کہ انہیں لوگوں نے سید عطاء اللہ شاہ بخاری ثانی ؒ قرار دیا۔ وہ فِرق کے عالم تھے انہیں اپنی شعلہ نوا خطابت پر فخر تھا۔ وہ کہا کرتے تھے کہ’’ میں حضرت نبی اکرمؐ کے ختم الرسل ہونے پر مکمل یقین رکھتا ہوں ۔ میں نبوت کے جھوٹے دعویدار غلام احمد قادیانی کو مرتد اور کاذب کہتے وقت مصلحتوں سے کام کیوں لوں۔ میں اپنے ایمان اور عقیدے میں سیاسی مصلحتوں کی آلودگی قبول کر کے اپنی سیاست کی دکان نہیں چمکا سکتا۔ میں اس ملک میں قیامت تک اقتدار میں نہ آئوں مجھے کوئی غم نہیں ہو گا۔ میں کلمہ حق کہنے سے کبھی نہیں ہچکچائوں گا۔‘‘ وہ سچے عاشق حضرت رسول اکرمؐ تھے۔ ‘‘ ان کی ایمان افروز تقریروں نے جذبات اور احساسات کی دنیا میں ایک انقلاب برپا کر دیا۔

ان کی یادیں دلوں میں خزاں کا عالم برپا کئے ہوئے ہیں۔ طلب ثروت ان کا مقصد حیات نہ تھا۔ بلکہ دنیا کی جاہ و حشمت کو ٹھوکر لگا کر وہ ہمیشہ آرزوئے مغفرت کے طلبگار رہے۔ آپ مدینہ یونیورسٹی کے طالب علم رہے‘ یہاں سے امتیازی شان کے ساتھ امتحانات میں کامیاب ہوئے تھے۔ مدینہ ان کا دوسرا گھر تھا۔ ان کی زندگی مدینے والے کے پیغام ہی کو عام کرنے کیلئے وقف تھی۔ وہ اسی شہر میں موت کی تمنا کرتے تھے ،ان کی یہ خواہش رب نے پوری کر دی۔ وہ جنت البقیع میں حضرت امام مالکؒ کے پہلومیں دفن کئے گئے ۔ توحید کا ترانہ انہوں نے اس شان سے گایا کہ سننے والا جھوم جھوم اٹھے۔ قادیانیوں کے خلاف انہوں نے معرکے کی تحریریں لکھیں۔ اس گروہ کے خلاف ان کا قلم تلوار بنا ہوا تھا۔ احسان الٰہی ظہیر کو اس کے معاصرین سے بھی خوب داد ملی۔ آغا شورش کاشمیری انکے متعلق لکھتے ہیں کہ ’’انشاپردازی ان کی جیب کی گھڑی اور تقریر و خطابت ان کے ہاتھ کی چھڑی تھی‘‘۔

ممتاز عالم دین مولانا محمد یوسف بنوری مرحوم نے شاہی مسجد کے باطل شکن اجتماع میں ان کی خطابت کی جلوہ سامانیوں اور بگڑے ہوئے حالات پر قابو پانے کی عظیم قائدانہ صلاحیتوں پر آفرین کہتے ہوئے انہیں شیرقرار دیا۔ عرب کے شہرہ آفاق خطیب ڈاکٹر مصطفی السبائی نے کہا کہ ان کے لب و لہجے اور اسلوب بیان نے قدیم عرب کے خطباء کی یاد تازہ کر دی ہے اور ہم نے عالم اسلام میں ان سے بڑا خطیب نہ دیکھا اور نہ سنا ہے۔ ان کے الفاظ کا جادو مخالفین کے سر چڑھ کر بولتا رہا۔ ان کی تقریریں خوف نکال باہر کرتی تھیں۔ طاقتوروں کے خلاف لڑنے کا حوصلہ دیتی تھیں۔ کمزوروں کے دل سے کمزوری کااحساس ختم کر دیتی تھیں۔ وہ اسلام اور اپنے وطن سے بے حد محبت کرتے تھے۔

سانحہ مشرقی پاکستان پر وہ بہت رنجیدہ ہوئے۔ انہوں نے اپنے جذبات کا اظہار سقوط ڈھاکہ کے اگلے روز چینیاںوالی مسجد میں تاریخی خطبہ جمعہ میں کچھ یوں کیا تھا۔ ’’کہ آج ہماری اٹھی ہوئی گردنیں جھک گئی ہیں ‘آج ہمارے تنے ہوئے سینے سکڑ کر رہ گئے ۔ ہماری آوازیں کجلا گئی ہیں ۔ آج ہماری روح مرجھا گئی ، آج ہمارے دل بیٹھ گئے اور ہمارے اعصاب ٹوٹ گئے ۔ آج ہمارے جسم چھلنی ہو گئے ۔ آج ہمارے دل زخمی ہو گئے اور آج ہمارے جگر پھٹ کر رہ گئے ہیں۔ آج یہ سب کچھ کیوں ہے ؟ اس لئے کہ آج ڈھاکہ کی مسجد بیت المکرم ہمارے پاس نہیں رہی۔ آج ہم اس لئے اپنی آنکھوں کے سامنے جالے محسوس کرتے ہیں کہ آج چٹاگانگ کی عید گاہ ہم سے چھن گئی ہے۔ ‘‘

انہوں نے سلطانی جمہور کا پرچم بلند کئے رکھا اورکتاب وسنت کے نفاذ کیلئے کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہ کیا۔ وقت کے حاکموں کے ظالمانہ اقدامات کوزبان و قلم کے وار سے روکنے کی پوری کوشش کی۔ حریت فکر کی تاریخ میں ان کا نام ہمیشہ عزت سے لیا جائے گا۔ انہوں نے جوانوں میں عقابی روح پیدا کی۔ اپنی ولولہ انگیز خطابت سے ان میں بے باکی پیدا کی۔ سیاسی پنڈتوں کے جال توڑنے میں کبھی شکست نہ کھائی اور ہمیشہ اذان حق بلند کی۔ وہ شرک وبدعت کے قاطع اور قرآن وسنت پر فاتح نظر آئے۔ ان کے اعمال میں سنت تھی، توحید تھا۔ سیاست کے نشیب وفراز میں انہیں جہاد اور شہادت کی امنگ رہتی۔ قرآن و سنت کی تعلیمات کے پھیلانے اور پھر اپنے اس پاکیزہ مقصدکے حصول کیلئے ہمہ تن مقابلہ کرنا ان کا شغف عین تھا۔ ان کی زبان میں زہر نہیں تھا لیکن تاثیر اتنی زیادہ ہوتی تھی کہ شہد مخالفین کے دل میں زہر بن کر انہیں گھائل کر دیتا۔ ان سے جواب نہ بن پاتا تو تخریب کاری کا راستہ اختیار کرتے۔

انہیں موت کی دھمکیاں ملتیں ۔ لیکن احسان الٰہی ظہیر نے آخری لمحے تک باطل سے مفاہمت نہ کی۔ سچ کا ساتھ نہ چھوڑا۔ وہ کہا کرتے تھے کہ :’’ آگ اور خون کا ایک دریا ہے‘ جس پر ہمیں حق اور سچائی کا پل تعمیر کرنا ہے‘ پھر اسے پاٹنا ہے تب جا کے ایک انقلاب آئے گا‘ نہ جانے اس جدوجہد میں ہم سے کون اس دریا کی نذر ہو جائے۔‘ ‘ وہ کہا کرتے تھے کہ ’’میں کسی بزدل کا بیٹا نہیں مجھے اس ماں نے جنا ہے جو مجھے تختہ دار پرلٹکتا دیکھ کر یہ کہے گی کہ ابھی اس خطیب کے منبر سے اترنے کا وقت نہیں آیا۔‘‘

بن یوسف

راولپنڈی کی تاریخی جامع مسجد

اسلامی و مغلیہ طرز تعمیر کا عظیم شاہکار 121 سالہ پرانی مرکزی جامع مسجد راولپنڈی کا شمار پوٹھوہار ریجن کی چند تاریخی مساجد میں ہوتا ہے ، تاریخی مسجد کا سنگ بنیاد پیرمہرعلی شاہ گولڑہ شریف اور پیر آف میرا شریف پیر اللہ بخش نے 1896ء میں رکھا اور 1902ء میں تعمیر مکمل ہوئی۔ شہر کی جس مصروف شاہراہ پر یہ تاریخی مسجد واقع ہے اس سڑک کا نام بھی جامع مسجد روڈ رکھ دیا گیا۔ 18 کنال رقبے پرمحیط مسجد اسلامی آرٹ کا شاہکار ہے، مسجد کے 3 گنبد اور کئی چھوٹے چھوٹے مینار ہیں ۔ مسجد کی تعمیراور تزئین وآرائش میں جو غیرروایتی رنگ، میٹریل اور طرز تعمیر مقامی تاریخ کی ترقی وعروج کی ایک مثال ہے۔ مرکزی جامع مسجد کا انتظام محکمہ اوقاف کے پاس ہے۔

مسجد کے خطیب حافظ محمداقبال رضوی کے مطابق جب 1896ء میں مسجد کا سنگ بنیاد رکھا گیا تو مقامی سکھ آبادی نے روکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی ، جس پرمقامی مسلمان آبادی نے گولڑہ شریف اورمیرا شریف کے پیر صاحب سے رابطہ کیا اورپھر پیرمہرعلی شاہ اور پیر اللہ بخش نے سنگ بنیاد رکھا اور اختلاف ختم کرایا۔ یہ تاریخی مسجد آج بھی راولپنڈی شہرکی سب سے بڑی مسجد ہے جہاں ہزاروں افراد نماز جمعہ کیلئے خصوصی طور پرجمع ہوتے ہیں ۔ معروف شاعروادیب عطاالحق قاسمی کے والد مولانا بہائوالحق قاسمی جامع مسجد کے پہلے خطیب تھے اور اس وقت مسجد میں ایک ڈویژنل خطیب، ایک خطیب، ایک نائب خطیب، ایک موزن، ایک مدرس، دو خادم اور ایک خاکروب کام کر رہے ہیں جن کی تنخواہ اوقاف پلازا کی آمدنی میں سے محکمہ اوقاف ادا کرتا ہے۔

ڈاکٹرزاہداعوان

آپ کس خوشی میں ویلنٹائن ڈے مناتے ہیں؟

novalentines_kpp

بڑی عجیب بات ہے لوگوں کو عشق ہو جاتا ہے اوریہ عشق ہمیشہ جنس مخالف سے ہی ہوتا ہے۔ ہم ضرورتوں کو محبت کا نام دے دیتے ہیں عشق کا نام دے دیتے ہیں ۔ یہ ہماری ضرورت ہے اور بعض اوقات یہ ہوتا ہے کہ شادی سے پہلے تو بڑا عشق ہوتا ہے اور چند ہفتے گزرتے ہیں تو نوبت طلاق تک پہنچ جاتی ہے یعنی ایک دوسرے کو صحیح جانتے نہیں ہوتے۔ جب ایک دوسرے پر کھلتے ہیں توکہتے ہیں کہ ہمارا تو گزارا نہیں ہو سکتا یہ کہاں کا عشق ؟ عشق ایک کیفیت کا نام ہے کہ جب آپ کو احساس ہو کہ کوئی میرا بہت ہی خیال رکھنے والا ہے مجھے خود اپنا اتنا خیال نہیں جتنا میری بہتری چاہنے والا میرا خیال رکھتا ہے۔

اس کے جواب میں جو آپ کو اس ہستی سے محبت ہو گی ایک کیفیت آپ کے دل پر آئے گی آپ اس سے پیار کریں گے اسے اچھا جانیں گے اس کا احترام کریں گے اسی کا نام عشق ہے۔ اور سوائے اﷲ کے کوئی دوسرااس کا مستحق ہی نہیں کہ سب سے زیادہ ہماراخیال وہی رکھتا ہے جو آنکھ کے ایک ایک ذرے، باڈی کے ایک ایک سیل کی نشو ونما کررہا ہے ۔ ہم اسے مانیں یا نہ مانیں، ہم جانیں یا نہ جانیں وہ چلا رہا ہے ۔ پھر عشق ہے اس ذات کے ساتھ جس نے ہمیں اﷲ سے آشنا کردیا اگر درمیان میں وہ ذات نہ ہو تو ہم اپنی سوچ ، اپنی فکر سے ﷲ تک نہیں پہنچ سکتے ، تو عشق وہ ہے جو آپ کو اپنے نبی ؐسے ہو گا جس نے آپ کی ہرضرورت کی خوبصورت راہ متعین کر دی۔ اگر آپ ان راہوں پرچلیں تو اس دنیا میں بھی آپ معزز و معتبراور آخرت میں بھی آپ معزز اور معتبر اور اﷲ کی بارگاہ میں سرخرو انسانوں کا اتنا زیادہ بھلا چاہنے والا کون ہے ؟۔   say-no-valentine-day-islam-facebookاگر یہ نسبتیں پیدا ہو جائیں تو یہ عشق ہے ۔ جنس مخالف سے محبت نہیں ہے ہماری ضرورت ہے ہاں کسی میں انسانیت ہو تو وہ محض اسے ضرورت نہیں سمجھتا پھر وہ اس کا احترام بھی کرتا ہے۔ کوئی بھی ملک کسی دوسرے ملک کے آئین کو تسلیم ہی نہیں کرتا، انہیں وہ فٹ بھی نہیں بیٹھتا اور اس پروہ عمل کر بھی نہیں سکتے ۔ان کے موسم الگ ہوتے ہیں لباس، رہائش و بودو باش الگ ہوتی ہے، طریقے الگ ہوتے ہیں ۔ آپ نے دیکھا کسی انگریز نے کھسہ پہنا ہوا ہو؟ کبھی دیکھا کسی انگریز نے شلوار قمیض پہنی ہو؟ کسی انگریز کو دیکھا اس نے شیروانی پہنی ہو؟ تو پھرآپ کس خوشی میں ٹائی تک درست کر رہے ہوتے ہیں؟

آپ پتلون کوٹ اور ٹائی لگا کر مونچھ داڑی صاف کر کے اور ٹیڑھے بال کر کے انگریز بننے کی کس خوشی میں کوشش کر رہے ہیں ؟ کسی امریکن، کسی یورپین کسی خاتون کو دیکھا اس نے برقعہ پہنا ہو، پردہ کیا ہو؟ کوئی اسلامی رسم جس کی وہ تعریف بھی کرتے ہیں ، پسند بھی کرتے ہیں، کسی نے اپنائی؟ آپ کس خوشی میں ویلنٹائن ڈے مناتے ہیں؟ آپ کسی خوشی میں اپریل فول مناتے ہیں؟ آپ کسی خوشی میں بلیک فرائی ڈے مناتے ہیں؟ اﷲ پاک شعور دے اور احساس دے، ہماری بدنصیبی یہ ہے کہ ہمارا تو احساس ضیاع بھی رخصت ہو چکا ہے۔

محمد اکرم اعوان

پاکستان کو درپیش مسائل، اسوۂ حسنہ سے رہنمائی

الحمدﷲ ہمیں اپنی زندگی میں ایک مرتبہ پھر اﷲ کے محبوب ترین بندہ، رحمۃ اللعالمین، حضرت محمد رسول اﷲﷺ کے یومِ ولادت پر خوشیاں منانے اور اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کاموقع مل رہا ہے۔ عید میلادالنبی مبارک ہو۔ حضرت محمد ﷺ نے اﷲ کی آخری کتاب قرآن کے ذریعے انسان کو اس دنیا میں فلاح و کامرانی کے اصول بتائے اور طریقے سکھائے۔ آپﷺ کی تعلیمات سے انسان آخرت میں سرخروئی کے رازوں سے واقف ہوا۔ آپ کی قیادت میں ریاست مدینہ محض دس سال کے اندر دنیا کی تاریخ کے سب سے بڑے انقلاب کا مرکز بن گئی۔ یہ انقلاب انسان کے مادی اور روحانی دونوں رخوں پر اثر انداز ہوا۔ محمد رسول اﷲ ﷺ کی تعلیمات ہر دور کے انسان کے لیے فلاح اور نجات کا ذریعہ ہیں۔

مسلمان جب تک قرآن پاک اور حضرت محمدؐ کی تعلیمات پر عمل کرتے رہے اس دنیا میں کامیابیاں ان کے قدم چومتی رہیں۔ جب ان تعلیمات سے انحراف کیا مسلمان اپنی طاقت، دنیا کی امامت سے محروم ہو گئے۔ اکیسویں صدی میں مسلمانوں کی تعدا ڈیڑھ ارب سے زیادہ ہے۔ اسلامی تعلیمات سے انحراف کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ دنیا میں جگہ جگہ مسلمان غیروں کے سیاسی اور اقتصادی تسلط میں مبتلا ہیں۔ کشمیر و فلسطین سمیت دنیا کے کئی خطوں میں مسلمانوں کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے۔ اس صورت حال پر عالمی ضمیر تو ایک طرف خود مسلم ضمیر بھی خاموش ہے۔ ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ ڈیڑھ ارب سے زائد آبادی والی امت مسلمہ کے پچاس کروڑ سے زیادہ افراد شدید غربت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ اس غربت کی بڑی وجہ یہ ہے کہ سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کی ایک چھوٹی سی اقلیت نے وسائل کو اپنے پاس روک رکھا ہے۔ غریب یا نہایت کم سالانہ قومی آمدنی رکھنے والے نمایاں اسلامی ممالک میں پاکستان، بنگلہ دیش، سوڈان، نائیجیریا، شام اور دیگر ایشیائی و افریقی مسلم ممالک شامل ہیں۔

نبی کریم ﷺ نے جو نظام عطا فرمایا خلفائے راشدین کی جانب سے اس پر عمل کا ثمر یہ ملا کہ ریاست مدینہ میں تھوڑے عرصے میں ہی زکوٰۃ دینے والے تو بہت ہوگئے لیکن لینے والوں کو ڈھونڈنا پڑتا تھا۔ انسانی فطرت سے سب سے زیادہ واقف، خیر البشر حضرت محمد ﷺ نے ایک روز دعا فرمائی۔

اے اللہ! میں کفر اور افلاس سے پناہ مانگتا ہوں۔

پوچھا گیا، کیا یہ دونوں برابر ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا، ہاں۔ (سنن نسائی) ایک روز آپ ﷺ نے تاکید فرمائی کہ افلاس، قلت، ذلت اور ظلم کرنے یا مظلوم بننے سے اﷲ کی پناہ مانگا کرو۔ (سنن ابن ماجہ)

غربت بہت تکلیف دہ حالت ہے۔ اس کی وجہ سے کئی محرومیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کئی جرائم مثلاً چوری، ڈکیتی، رہزنی وغیرہ کے اسباب میں غربت اہم ترین ہے۔ قرآن پاک اور تعلیمات نبوی پر ایمان رکھنے والے افراد اور معاشروں کی ذمے داری ہے کہ وہ غربت دور کرنے اور معاشرے میں جرائم کی سطح کم سے کم رکھنے کے لیے ملک میں ذرایع پیداوار کو ترقی دیں اور انصاف کی فراہمی یقینی بنائیں۔ اسلامی اقتصادیات کا ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ معاشرے میں دولت کا ارتکاز نہ ہو اور گردش زر کا زیادہ سے زیادہ اہتمام ہو۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق دولت کے حصول کی کوششیں اپنے ساتھ کئی پابندیاں بھی لیے ہوئے ہیں۔ دولت اور وسائل اللہ کے عطا کردہ ہیں۔ انسان اپنی کوششوں سے ان وسائل تک رسائی پاتا ہے۔ لیکن انسان کو دولت کمانے کی مطلق آزادی نہیں دی گئی۔

ناجائز اور حرام ذرایع سے دولت کمانا منع ہے اور ایسا کرنا گناہ۔ انسان اپنی کمائی ہوئی دولت کو خرچ کرنے میں بھی کلی خودمختار نہیں۔ ناجائز اور ممنوعہ کاموں پر، دوسروں کے استحصال، ذخیرہ اندوزی، ظلم کے کاموں، معاشرے میں امن کے بگاڑ اور دیگر برے کاموں پر دولت خرچ نہیں کی جانی چاہیے۔ دولت کمانے اور خرچ کرنے پر یہ پابندیاں سرمایہ دارانہ نظام پسند نہیں کرتا۔ یہ پابندیاں اہل ثروت افراد کو دوسروں پر ظلم سے اور استحصال کرنے سے باز رکھتی ہیں۔ اسلامی تعلیمات میں جھوٹ، دھوکا دہی، رشوت، خیانت، ملاوٹ، فراڈ، ظلم کی آمیزش اور دیگر منفی درایع سے ہونے والی کمائی سے منع کیا گیا ہے۔

ایک مجلس میں آپ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ سب سے بہتر اور افضل کمائی کون سی ہے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ایسی تجارت جس میں اﷲ کی نافرمانی شامل نہ ہو اور اپنے ہاتھ سے کام کرنا۔ (مسند احمد)

آج ہمارے معاشرے میں کئی برائیاں نظر آتی ہیں۔ غذائی اشیاء اور دواؤں میں ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی، کم تولنا، جھوٹ بولنا، وعدہ خلافی، رشوت، چور بازاری، دوسروں کے مال و اسباب پر ناجائز قبضوں، اور دیگر کئی منفی کاموں نے ہمارے معاشرے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ کئی لوگ ایسے ہیں جو عبادت کرتے تو نظر آتے ہیں لیکن اس عبادت کا اثر ان کی عملی زندگی میں نظر نہیں آتا۔ کوئی ملاوٹ میں مصروف ہے، کوئی بلیک مارکیٹنگ میں، کوئی دوسروں کو ناحق تکلیف پہنچانے میں۔ کئی لوگ اپنے فائدے کے لیے بہت آرام سے جھوٹ بول دیتے ہیں۔

یاد رکھنا چاہیے کہ ناجائز کمائی محض انفرادی برائی نہیں بلکہ ہر ناجائز کمائی کسی نہ کسی کی حق تلفی کی وجہ بنتی ہے۔

اﷲ اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات اور تعلیمات پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے مسلمانوں کا معاشرہ ہم آہنگی، اتحاد، تعاون، خیر و فلاح کے ثمرات سے محروم ہونے لگتا ہے۔ ایسے معاشرے میں انتشار پھیلتا ہے۔ لوگوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھتا ہے اور ان کے درمیان تلخیاں اور نفرتیں پروان چڑھتی ہیں۔ ایسی کئی حالتیں ہم اپنے اردگرد دیکھ رہے ہیں۔ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے لوگوں سے پوچھاکہ کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے؟

لوگوں نے عرض کیا مفلس وہ شخص ہے جس کے پاس نہ تو درہم ہو نہ کوئی اور سامان۔ آپ ﷺ نے فرمایا: میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن اپنی نماز، روزہ اور زکوٰۃ کے ساتھ اﷲ کے پاس حاضر ہوگا۔ لیکن اس نے دنیا میں کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال ناحق کھایا ہوگا، کسی کو قتل کیا ہوگا، تو ان تمام مظلوموں میں اس کی نیکیاں بانٹ دی جائیں گی۔ اگر اس کی نیکیاں ختم ہوگئیں اور مظلوموں کے حقوق باقی رہے تو ان کی غلطیاں اس کے حساب میں ڈال دی جائیں گی اور پھر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ (صحیح مسلم)

کچھ لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ ناجائز طریقوں سے خوب دولت کماتے ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ صدقہ خیرات بھی کرتے رہتے ہیں شاید وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے صدقات ناجائز کمائی کے گناہ کو دھو دیں گے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:

کوئی بندہ حرام مال کمائے پھر اس میں سے خدا کی راہ میں صدقہ کرے تو یہ صدقہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ (مسند احمد)

آج اُمتِ مسلمہ کو درپیش کئی مسائل کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے معاشروں کو رسول اللہﷺ کی تعلیمات کے مطابق نہیں چلایا۔ ہمارے حکمرانوں، افسروں، تاجروں، صنعتکاروں اور کسی بھی ذمے داری پر عائد افراد کی اکثریت کسی نہ کسی طرح دوسروں کی حق تلفی کی مرتکب ہوتی رہی ہے۔ ہم پاکستانی اگر اپنی حالت بہتر بنانا چاہتے ہیں تو کیپٹل ازم کے دھوکے یا کمیونزم کے سحر میں اپنا وقت برباد کرنے کے بجائے ہمیں قرآن پاک اور حضرت محمدﷺ کے عطاکردہ نظام سے روشنی حاصل کرنا ہوگی۔

 ڈاکٹر وقار یوسف عظیمی