پاکستان کا ’قاتل پہاڑ‘ ايک اور جان لے گيا

ايک پاکستانی اہلکار نے بتايا ہے کہ نانگا پربت سے ايک خاتون کوہ پيما کو بچا ليا گيا ہے جب کہ اس کے ايک ساتھی کے بارے ميں خيال کيا جا رہا ہے کہ وہ ہلاک ہو گيا ہے۔ ’ايلپائن کلب آف پاکستان‘ کے ترجمان نے تصديق کی کہ فرانسيسی کوہ پيما اليزبتھ ريول کو ريسکيو کر ليا گيا ہے۔ تاہم خراب موسم کی وجہ سے پولش شہری ٹومک ماکيووٹز کو نہيں بچايا جا سکا اور امکاناً وہ ہلاک ہو چکے ہیں۔ پاکستانی حکام نے پولينڈ سے تعلق رکھنے والے اس مرد کوہ پيما و فرانسيسی خاتون کوہ پيما کے ريسکيو کے ليے باقاعدہ کارروائی شروع کی تھی۔ دونوں غير ملکی کوہ پيما نانگا پربت سر کرنے کی کوششوں ميں تھے، جس کی اونچائی 8,126 ميٹر ہے۔ يہ کوہ پيما 7,400 ميٹر کی بلندی پر پھنس گئے تھے۔

ريسکيو کی کارروائی ميں پولينڈ کے کوہ پيماؤں سميت پاکستانی فوج کے اہلکاروں نے بھی حصہ ليا۔ چار پولش کوہ پيماؤں کو دنيا کے دوسرے سب سے اونچے پہاڑ ’کے ٹو‘ کے بيس کيمپ سے نانگا پریت پر اس مقام تک پہنچايا گيا، جہاں يہ  پھنسے ہوئے تھے۔ ان کے درست مقام کے بارے ميں اس وقت پتا چلا، جب دور سے ديگر کوہ پيماؤں نے دوربين کی مدد سے ديکھا کہ پہاڑ پر الیزبتھ ريول نيچے اترنے کی کوشش کر رہی ہے اور وہ اپنے پولش ساتھی کی مدد کر رہی ہے، جو بظاہر تکلیف ميں تھا۔

نانگا پربت دنيا کا نواں سب سے اونچا پہاڑ ہے۔ کوہ پيماؤں اور مقامی لوگوں ميں اسے ’قاتل پہاڑ‘ کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے کيونکہ اس کی چوٹی کو سر کرنے کی کوششوں ميں کافی کوہ پيماؤں کی جانيں جا چکی ہیں۔ پچھلے سال جولائی ميں بھی اسپين اور ارجنٹائن کے دو کوہ پيما اس پہاڑ کو سر کرنے کی کوشش کے دوران لا پتہ ہو گئے تھے۔ ان کے بارے ميں بھی خيال يہی ہے کہ وہ ہلاک ہو چکے ہيں۔ سن 1953 ميں پہلی مرتبہ کسی کوہ پيما نے نانگا پربت کو کاميابی سے سر کيا تھا۔ اسے سر کرنے کی کوششوں ميں تيس کوہ پيما ہلاک ہو چکے ہيں۔
 

Advertisements

بلند ترین پاکستانی چوٹی جو اب تک سر نہیں ہو سکی

خوبصورت قول ہے: ’’زندگی بھی پہاڑ کے مانند ہے۔ اس پر چڑھنا کٹھن ہے، مگر جب انسان چوٹی پر پہنچ جائے، تو متحیر کر دینے والے نظارے اس کے منتظر ہوتے ہیں۔‘‘ بلند و بالا پہاڑ فطرت کا شاہکار ہیں۔ خوش قسمتی سے خطہِ پاکستان فطرت کی ان ہیبت ناک اور دیوہیکل نشانیوں سے بھرا پڑا ہے۔ چناں چہ دنیا کے مشکل ترین مشغلوں میں سے ایک، کوہ پیمائی کے عاشق ارض پاک کی جانب کھینچے چلے آتے ہیں۔ یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی، کے ٹو پاکستان میں واقع ہے۔ مگر کم ہی لوگوں کو علم ہے کہ دنیا کی بلند ترین ’’دوشیزہ چوٹی‘‘ بھی ارض پاکستان کی زینت ہے۔ کوہ پیمائی کی اصطلاح میں دوشیزہ چوٹی سے مراد وہ چوٹی ہے جو ابھی تک سر نہ ہوئی ہو۔ اس پاکستانی چوٹی کا نام ’’موشو چیش‘‘ (Muchu Chhish) ہے جو 7453 میٹر (24452 فٹ) بلند ہے۔ یہ دنیا کی ساٹھویں جبکہ وطن عزیز کی پچیسویں بلند ترین چوٹی ہے۔ یہ قراقرم سلسلہ ہائے کوہ کے ذیلی سلسلے، ’’سبتورا موز تاغ‘‘ کا حصہ ہے۔
 

سبتورا موز تاغ کے پہاڑ وادی ہنزہ کے مغرب میں واقع ہیں۔ یہ پہاڑ قراقرم کو ہندوکش اور پامیر کے سلسلہ ہائے کوہ سے جدا کرتے ہیں۔ سبتورا موز تاغ کے پہاڑ پہلو بہ پہلو دور تک چلے گئے ہیں۔ اس ذیلی پہاڑی سلسلے کی بلند ترین چوٹی ’’سبتورا سار‘‘ کہلاتی ہے۔ یہ 7795 میٹر بلند چوٹی پاکستان کی دسویں جبکہ دنیا کی پچیسویں بلند ترین چوٹی ہے۔ سبتورا موز تاغ میں اکثر برفانی تودے گرتے رہتے ہیں۔ مزید براں علاقے میں طوفانی ہوائیں چلنا بھی معمول ہے۔ ان پہاڑوں کا بیشتر ڈھلوانی حصّہ بھی چپٹا ہے۔ یہ عوامل سبتورا موز تاغ کی چوٹیاں سرکرنا انتہائی مشکل بنا دیتے ہیں۔
2014ء میں برطانیہ کے مشہور کوہ پیما، پیٹر تھامسن نے موشو چیش سر کرنے کی کوشش کی تھی۔ تاہم نہایت سخت برف نے اسے چھ ہزار میٹر بلندی سے واپس ہونے پر مجبور کر دیا۔ یوں وہ دنیا کی بلند ترین کنواری چوٹی سر کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ سائنس و ٹیکنالوجی میں محیر العقول کارنامے سرانجام دینے کے بعد حضرت انسان کائنات کی وسیع پہنائیوں میں کمندیں ڈال رہا ہے۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ آج بھی کرہ ارض پر موشو چیش جیسے مقامات موجود ہیں جو اس کی ہمت و جرات کو چنوتی دیتے اور جذبہ مہم جوئی ابھارتے ہیں۔
یاد رہے، اعداد و شمار کی رو سے بھوٹان میں واقع چوٹی ’’گنگھڑ پوینسم‘‘ (Gangkhar Puensum) دنیا کی بلند ترین دوشیزہ چوٹی ہے۔ اس کی اونچائی 7570 میٹر ہے۔ مگر حکومت بھوٹان نے دیومالا اور مقامی روایات کی وجہ سے اس پر چڑھنے پر پابندی لگا رکھی ہے۔ اسی لیے قانونی طور پر پاکستان کی موشو چیش ہی کرہ ارض پر بلند ترین دوشیزہ چوٹی سمجھی جاتی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے وقتوں میں کون ہمت کا متوالا اس پاکستانی چوٹی پر انسانی دلیری و عزم کے جھنڈے گاڑتا ہے۔
سید عاصم محمود