ترکی، یورپ میں اسلام و فوبیا کے اسباب کو جاننے کی کوشش میں

ترک قومی اسمبلی نے یورپی ممالک میں مسلمانوں پر حملوں اور اسلام مخالف پراپیگنڈا کے خلاف ایک قدم اٹھایا ہے۔ اس دائرہ کارہ میں مغربی ملکوں میں اسلامی دشمنی کا جائزہ ذیلی کمیشن کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ یہ کمیشن اسلامو فوبیا کے سب سے زیادہ عام ہونے والے ملکوں جرمنی، آسڑیا، فرانس اور بیلجیم کا دورہ کرتے ہوئے ان ممالک میں اس کے اسباب کو جاننے کی کوشش کرے گا۔
کمیشن مذکورہ ملکوں سے اجازت لیتے ہوئے جائے مقام پر تفتیش کرنے اور اسلام و فوبیا حملوں کے متاثرین سے ملاقاتیں کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ یہ یورپ میں پر تشدد واقعات، اموری زندگی میں ہیڈ اسکارف اور برقعے کے خلاف امتیازی سلوک، عبادت کی آزادی اور مساجد کی بے حرمتی پر محیط دین ِ اسلام سے خوف کا ہر پہلو سے جائزہ لے گا۔ خیال رہے کہ مغربی ممالک میں 2016 تک 2800 سے زائد اسلام و فوبیا واقعات رونما ہوئے تھے جبکہ گزشتہ برس یہ تعداد تین ہزار سے بھی زائد تھی۔
 

Advertisements

مجلس احرارِ اسلام

۲۹؍ دسمبر ۱۹۲۹ء کو مجلس احرارِ اسلام کے نام سے ایک قافلۂ لاہور میں تشکیل پایا تھا۔ امیر شریعت حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری، رئیس الاحرار مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی، چودھری افضل حق، مولانا سید محمد دائود غزنوی، شیخ حسام الدین، خواجہ عبدالرحمن غازی اور مولانا مظہر علی اظہر جیسے سربکف، جاں باز مجاہدوں نے اس انقلابی جماعت کی بنیاد رکھی۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری اس کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔ دین کے متوالوں اور آزادی کے علم برداروں نے علی برادران کی برپا کردہ تحریک خلافت میں خوب دادِ شجاعت دی اور تحریک ِ خلافت کی ناکامی کے بعد دل برداشتہ اور مایوس ہونے کی بجائے عزمِ کامل اور پوری جرأت و شجاعت کے ساتھ حریّتِ اسلامی اور آزادیٔ وطن کا علم بلند کیا۔

حضرت امیر شریعت نے تاسیسی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ’’میں چاہتا ہوں کہ مسلمان نوجوان ہندوستان کی آزادی کا ہراول دستہ ثابت ہوں اور آزادی کے حصول کا فخر ہمارے حصے میں آئے۔‘‘ ممبئی میں جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ’’غلامی بہت بڑا گناہ ہے، اگر اس گناہ سے نکلنا ہے تو اس سے بہتر کوئی موقع نہیں کہ ہم انگریزوں کے خلاف پُرامن لڑائی میں شامل ہو جائیں۔‘‘ موچی دروازہ لاہور میں خطاب کرتے ہوئے کہا: ’’استبداد کی چکی کا دستہ گورے کے ہاتھ میں ہو یا کالے کے ہاتھ میں چکی وہی رہتی ہے اور میں اِس چکی کو توڑ دینا چاہتا ہوں۔‘‘ قافلۂ احرار، انگریزی استعمار سے آزادی حاصل کرنے کے لیے اپنی حیاتِ عزیز کا کل اثاثہ جمع کر کے میدانِ کارزار میں اترا، صفیں درست کیں، کفن بردوش، سرخ پوش مجاہد، سرخ پرچم ہاتھوں میں تھامے، بغاوت کی لے پر شہادت کے گیت چھیڑ کر جادہ پیما ہوئے۔

ہیں احرار پھر تیز گام اللہ اللہ 

ہوئی تیغِ حق بے نیام اللہ اللہ

حضرت شاہ ولی اللہؒ، حضرت سید احمد شہیدؒ، حضرت محمد قاسم نانوتویؒ، حضرت شیخ الہند محمود حسن ؒاور حضرت نانور شاہ کشمیریؒ کے فکر و درد کو لے کر ذرا آگے بڑھے تو انگریز اپنے تمام تر ظلم و استبداد اور قہر سامانی کے ساتھ مقابلے پر سامنے موجود تھا۔ انگریز، اُس کے ٹوڈی سرکاری مسلمان، جاگیردار اور قادیانی گروہ کے خلاف انھوں نے چومکھی جنگ لڑی۔ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں اور اس دینی، قومی اور وطنی جدوجہد میں مصائب و مشکلات کی گھاٹیوں کو پوری جرأت و شجاعت، عزم و ہمت اور صبر و استقامت کے ساتھ عبور کیا۔ 

آزادی کی جدوجہد کے ساتھ ساتھ اپنی دینی شناخت کو نہ صرف قائم رکھا بلکہ اس کی پوری پوری حفاظت کی۔ ڈیڑھ درجن سے زائد قومی و ملّی تحریکوں کو پروان چڑھایا۔ یہ حقیقت ہے کہ ابناء امیر شریعت نے بقائِ احرار کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دیا۔ خصوصاً جانشینِ امیر شریعت حضرت مولانا سید ابوذر بخاریؒ نے اعتقادی و فکری بنیادوں پر احرار کو مضبوط و منظم کیا۔ لٹے ہوئے قافلے کو پھر سے تشکیل دے کر اس امانت کی حفاظت کا حق ادا کیا۔ ابن امیر شریعت مولانا سید عطاء المحسن بخاریؒ کے انتقال کے بعد جماعت کی امارت حضرت پیر جی سید عطاء المہیمن بخاری کے سپرد ہوئی۔

قافلۂ احرار اُن کی قیادت میں اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے۔ تحریک مقدس تحفظ ختمِ نبوّت، مجلس احرارِ اسلام کی پہچان تھی اور ہے۔ ۱۹۳۰ء میں قادیانیت کے عوامی محاسبے کا آغاز کیا اور شعبۂ تبلیغ تحفظ ختمِ نبوّت قائم کر کے ایک منظم جدوجہد کی۔ تحریک تحفظ ختمِ نبوّت ۱۹۳۴ء (قادیان) اور ۱۹۵۳ء میں بے پناہ قربانیاں دیں، شہدا ختمِ نبوّت کا خون رنگ لایا اور ۱۹۷۴ء میں فتح و کامرانی کا سورج طلوع ہوا۔ عوامی جدوجہد پارلیمنٹ میں پہنچی اور قادیانیوں کو پاکستان کے آئین میں غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا۔ ۱۹۸۴ء میں مزید پیش رفت ہوئی، قانون امتناعِ قادیانیت بنا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کی حقیقی آزادی و خود مختاری کے لیے نوجوان ہراول دستہ بنیں، عالمی استعمار کی غلامی کے خلاف پر امن جد وجہد تیز تر کر دیں اور استبداد کی چکی توڑ ڈالیں۔

سیدمحمد کفیل بخاری

 

متحدہ مجلس عمل کی بحالی

اگرچہ چھ جماعتوں پر مشتمل مذہبی اور سیاسی اتحاد ، متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کو بحال کرنے کی کوششیں کافی دیر سے جاری تھیں لیکن اس کی توقعات اُس وقت بڑھ گئیں جب جماعت ِاسلامی کے امیر، سراج الحق نے گزشتہ ماہ اعلان کیا کہ اس ضمن میں اصولی فیصلہ کر لیا گیا ہے، اورسابقہ اسلامی اتحاد کی باضابطہ بحالی کا اعلان دسمبر 2017 ء کے وسط میں کر دیا جائے گا۔ تاہم ان چھ مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے نظریات اور فعالیت سے واقفیت رکھنے والے افراد جانتے ہیں کہ متحدہ مجلس ِعمل کی بحالی کوئی سیدھا سادہ، ہموار معاملہ نہیں ہو گا۔ 2008 ء میں متحدہ مجلس عمل کی تحلیل کے بعد سے یہ جماعتیں مختلف ، بلکہ مخالف اہداف کے حصول کے لئے فعال دکھائی دے رہی ہیں۔ نیز دو سب سے بڑی مذہبی جماعتیں اس وقت مخالف اتحادیوں کا حصہ ہیں۔

جمعیت علمائے اسلام (فضل) پاکستان مسلم لیگ نواز کے ساتھ اتحاد رکھتے ہوئے وفاقی حکومت کا حصہ ہے، جبکہ جماعت اسلامی خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے حکومتی اتحاد میں ذیلی شراکت دار کے طور پر مطمئن ہے۔ چونکہ پاکستان مسلم لیگ نواز اور تحریک انصاف ایک دوسرے کی شدید ترین مخالف ہیں اس لئے بعض اوقات اُن کے حامی بھی ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہو جاتے ہیں۔ کچھ حالیہ فیصلے اور نزاعی مسائل شاید متحدہ مجلس عمل کی بحالی میں آڑے آئیں۔ ان میں سے ایک فیصلہ نومبر کے آغاز میں جمعیت علمائے اسلام سمیع الحق کے قائد، مولانا سمیع الحق اور پاکستان تحریک ِ انصاف کے چیئرمین عمران خان کے درمیان ہونے والا سمجھوتہ تھا۔ 

اس کا ہدف 2018 ء کے عام انتخابات کے لئے سیاسی اتحاد کا قیام تھا۔ یہ ایک حیران کن پیش رفت تھی۔ اس کا جمعیت علمائے اسلام سمیع الحق کو بہت حد تک فائدہ ہو سکتا ہے کیونکہ وہ ایک چھوٹی جماعت ہے اور اس کی نہ تو ملک کی اسمبلی میں کوئی نمائندگی ہے اور نہ ہی اس کا قابل ِ ذکر ووٹ بنک ہے۔ تحریک ِ انصاف کو اس سے واحد فائد ہ یہ ہو سکتا ہے کہ وہ متحدہ مجلس عمل کی بحالی کے عمل کو روک دے، یا کم از کم جمعیت علمائے اسلام سمیع الحق کو اس سے دور رکھے۔ اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ متحدہ مجلس عمل میں ہمیشہ جماعت ِاسلامی اور جمعیت علمائے اسلام فضل کو بالا دستی حاصل رہی ہے نیزتحریک ِ انصاف دعویٰ کر سکتی ہے کہ اس کی پالیسیاں اور قیادت ایک دینی جماعت کے لئے قابل قبول ہیں۔ اس طرح وہ اپنی حریف جماعت، جمعیت علمائے اسلام فضل کے الزامات کا تدارک کر سکتی ہے ۔ مولانا فضل الرحمان، عمران خان پر غیر اسلامی اقدار کو فروغ دینے اور یہودی لابی کے لئے کام کرنے کا الزام لگاتے رہتے ہیں۔

پاکستان تحریک ِ انصاف کوجمعیت علمائے اسلام سمیع الحق کے ساتھ شراکت داری کے نتیجے میں پہنچنے والا نقصان فائدے کی نسبت کہیں زیادہ ہو گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ماضی میں مولانا سمیع الحق کے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ قریبی روابط رہے ہیں۔ 2014ء میں پاکستان مسلم لیگ نواز کی وفاقی حکومت کے ساتھ ہونے والے پرامن مذاکرات ، جو ناکامی سے دوچار ہوئے، میں مولانا نے تحریک طالبان پاکستان کی نمائندگی کی تھی ۔ مزید برآں، انتخابی اتحاد کے تحت، تحریک ِ انصاف کو خیبر پختونخوا اسمبلی اور سینیٹ میں کچھ نشستیں مولانا سمیع الحق کی جماعت کو دینی پڑ سکتی ہیں، لیکن اس کے عوض اسے دوسری طرف سے کچھ نہیں ملے گا۔ بلکہ اس سمجھوتے کی وجہ سے تحریک انصاف کی صفوں میں کچھ ناراضگی بھی پید ا ہو سکتی ہے۔ جمعیت علمائے اسلام سمیع الحق کو دئیے گئے انتخابی حلقوں سے تحریک انصاف کے ٹکٹ کے خواہشمند بغاوت پر اترتے ہوئے بطور آزاد امیدوار انتخابی معرکے میں شریک ہونے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔

چونکہ پاکستان تحریک ِ انصاف مولانا فضل الرحمان کے مسلسل حملوں کی زد میں ہے ، چنانچہ اس نے بہتر سمجھا ہے کہ مولانا سمیع الحق اُن کے ساتھ کھڑے دکھائی دیں۔ وزیر ِ اعلیٰ پرویز خٹک نے خیبر پختونخوا حکومت کے فنڈز سے تین سو ملین روپے دارالعلوم حقانیہ کو دئیے تھے ۔ نوشہرہ ضلع کے شہر اکوڑہ خٹک میں واقع دارالعلوم حقانیہ ، جسے مولانا سمیع الحق چلاتے ہیں، ملک کے سب سے بڑے دینی مدارس میں سے ایک ہے ۔ پرویز خٹک اور مولانا سمیع الحق، دونوں کا تعلق ضلع نوشہرہ سے ہے۔ پرویز خٹک نے مولانا کے مدرسے کو فنڈز دیتے ہوئے اُنہیں اپنی پارٹی کے قریب لانے اور انتخابی اتحاد قائم کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ تحریک انصاف نے مدرسے کو عطیہ فراہم کرنے کے متنازع فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے اسے مدرسہ اصلاحات لانے اور انہیں مرکزی دھارے میں شامل کرنے کی کوشش کا ایک حصہ قرار دیا ۔ 

عمران خان نے مولانا سمیع الحق کے ہمراہ پولیو کے قطرے پلانے کی مہم چلانے کے لئے بھی دارالعلوم حقانیہ کا انتخاب کیا تا کہ پولیو کے قطروں کے خلاف کچھ مخصوص علما اور انتہا پسندوں کی تنقید کا توڑ کر سکیں۔ ہو سکتا ہے کہ عمران خان جمعیت علمائے اسلام سمیع الحق کے ساتھ انتخابی اتحاد قائم کرنے کی کچھ اپنی وجوہ رکھتے ہوں لیکن کچھ حلقے اسے کچھ اور معانی دیتے ہیں۔ ایک سینئر سرکاری افسر کو یہ کہتے سنا گیا کہ عمران خان کا مولانا سمیع الحق کے ساتھ اتحاد کرنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ مولانا کے انتہا پسندوں پر اثر و رسوخ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے آنے والے انتخابات کی مہم کے دوران خود کش حملوں سے محفوظ رہ سکیں۔ کہنا پڑے گا کہ موصوف بہت دور کی کوڑی لائے، کیونکہ مولانا سمیع الحق تمام انتہا پسند گروہوں پر اس طرح کا اثر نہیں رکھتے ۔ ایک تو انتہا پسند اب گروہ در گروہ بہت سی شاخوں میں تقسیم ہو چکے ہیں، اور پھر اُن کے پاس حملہ کرنے کا اپنا محرک ہوتا ہے ۔ 

متحدہ مجلس عمل کے بحال اور فعال ہونے میں کچھ دیگر رکاوٹیں بھی ہو سکتی ہیں۔ ایک وجہ جماعت ِاسلامی اورجمعیت علمائے اسلام فضل کا فاٹا کے مستقبل پر اپنایا گیا مختلف موقف ہے ۔ زیادہ تر دیگر سیاسی جماعتوں ، بشمول جمعیت علمائے اسلام سمیع الحق کی طرح جماعت ِاسلامی بھی فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کی پرزور حامی ہے ۔ دوسری طرف جمعیت علمائے اسلام فضل اس کی ببانگ دہل مخالفت کر رہی ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ ریفرنڈم کے ذریعے قبائلی عوام کو فیصلے کا حق دیا جائے کہ کیا وہ خیبر پختونخوا کے ساتھ ملنا چاہتے ہیں یا اپنا ایک الگ صوبہ چاہتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان اس حد تک چلے گئے ہیں کہ وہ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کو خطے میں امریکی ایجنڈا قرار دیتے ہیں۔ اُن کے موقف کو غلط قرار دیتے ہوئے جماعت اسلامی کے رہنما، سراج الحق کا کہنا ہے کہ یہ انضمام قبائلی عوام کو معاشی ، سیاسی اور قانونی حقوق دینے اور فاٹا کو ترقی کے راستے پر ڈالنے کے لئے ضروری ہے ۔

ایک اور نزاعی مسئلہ حکومت سے نکلنے کا ہے ۔ جمعیت علمائے اسلام فضل پاکستان مسلم لیگ نواز کی وفاقی حکومت میں شامل ہے تو جماعت اسلامی پاکستان تحریک ِ انصاف کی خیبر پختونخوا کی حکومت کا حصہ ہے ۔ وہ حکومتوں کی پانچ سالہ مدت تک اُن کے ساتھ رہنا چاہتی ہیں تاکہ وہ ترقیاتی فنڈز حاصل کر کے منصوبے مکمل کریں اور اگلے انتخابات میں ووٹروں کی حمایت کی امید رکھ سکیں۔ جماعت ِ اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام فضل کے رہنمائوں کا کہنا ہے کہ حکومت سے نکلنے کا اعلان متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے کیا جائے گا لیکن تاحال اس پر کوئی اتفاق ِ رائے نہیں پایا جاتا۔ 

یہ بات واضح ہے کہ مذہبی شناخت رکھنے والی سیاسی جماعتیں متحدہ مجلس عمل کی بحالی کے لئے بے تاب ہیں تاکہ وہ اپنے ووٹوں کو مستحکم کر سکیں اور عوام کے سامنے ایک اسلامی آپشن رکھ سکیں۔ اُنھوں نے 2002 ء کے عام انتخابات میں بہت اچھی کارکردگی دکھائی تھی جب متحدہ مجلس عمل نے ایک انتخابی اتحاد کے طور پر الیکشن میں حصہ لیا اور خیبر پختونخوا اسمبلی میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرتے ہوئے حکومت بنائی ۔ اس کے علاوہ وہ بلوچستان کی مخلوط حکومت کا بھی حصہ تھی ۔ متحدہ مجلس عمل قومی اسمبلی میں حکمران جماعت، پاکستان مسلم لیگ ق کے سامنے سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی تھی ۔ ق لیگ کو جنرل پرویز مشرف نے اپنے سیاسی ایجنڈے کے حصول کے لئے تشکیل دیا تھا۔ تاہم متحدہ مجلس عمل کی 2002 ء میں انتخابی کامیابی اسلامی ووٹ کے ارتکاز اور امریکہ مخالف لہر کا نتیجہ تھی ۔ نائن الیون کے بعد القاعدہ کو تباہ کرنے اور طالبان کا تختہ الٹنے کے لئے افغانستان پر حملے کی وجہ سے خطہ امریکہ مخالف جذبات سے کھول رہا تھا ۔

رحیم اللہ یوسفزئی
 

حضرت شاہ ولی اللہؒ کے حالاتِ زندگی

حضرت شاہ ولی اللہؒ کی تحریک کی ابتدا غدر (1857ء کی بغاوت) سے کافی قبل ہوتی ہے۔ فروری 1707ء میں اور نگ زیب کے انتقال کے بعد سے ہی مغلیہ سلطنت کا زوال ہونے لگتا ہے۔ ملک کا شیرازہ بکھرنے لگتا ہے۔ نتیجہ کے طور پر تخریبی عناصر سر اٹھانے لگتے ہیں۔ یورپ کی سفید فام طاقتیں جن کو اورنگ زیب کے آباؤ اجداد نے مہربانیوں اور عنایتوں سے نوازا تھا، جن کو شاہ جہاں نے اپنے غیض و غضب کا شکار بھی بنایا تھا، اب ان کو تجارت کی آزادی مل چکی تھی۔ لیکن رفتہ رفتہ تجارت کے ساتھ اب ان کا عمل دخل ملک کے سیاسی معاملات میں بھی ہونے لگا۔ صوبوں کے گورنر خودمختار ہونے لگے۔ مرہٹوں کی طاقت روز بروز بڑھنے لگی۔ دہلی کے شمال میں روہیلوں کی حکومتیں قائم ہونے لگیں۔

مغرب میں جاٹوں نے اپنے اثرات پھیلائے سب کے سب آپس میں لڑتے مرتے رہتے۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے۔ ایسے حالات میں 1739ء میں نادر شاہ کا حملہ ہوا جس نے دہلی میں قتل و خون کا بازار گرم کر دیا۔ اس کے بعد 1747ء میں احمد شاہ ابدالی کے حملے شروع ہوئے اور لوٹ مار ہوئی۔ احمد شاہ ابدالی کے حملے کے دس سال بعد 1757ء میں بنارس کی مشہور لڑائی ہوئی۔ اس کے بعد کئی حملے احمد شاہ ابدالی کے اور ہوئے جس نے دن بدن مرکز کی حکومت کو اور کمزور کر دیا اور خزانے لوٹے گئے۔ اورنگ زیب کے انتقال کے بعد سے پچاس سال کی میعاد میں متعدد بادشاہ تخت پر بٹھائے گئے اور اتارے گئے۔ ملک کے ان سیاسی حالات نے اقتصادی اور معاشی حالات پر بہت اثر ڈالا۔ ہندوستان ہچکولے کھانے لگا۔ چند ہی برسوں میں اس کی حالت ایک دم سے گر گئی۔ مذہب کی اہمیت گھٹتی چلی گئی۔

حضرت شاہ ولی اللہؒ (1762ئ۔ 1702ء ) ٹھیک اسی دور کے پیداوار تھے۔ انھوں نے یہ تمام زوال اپنی آنکھوں سے دیکھے۔ وطن کو اجڑتے دیکھا، قوم کو بکھرتے دیکھا، مذہبی انتشار دیکھا اور مذہب کے دشمنوں کا بڑھتا ہوا اقتدار بھی دیکھا۔ خدا نے ایک درد مند دل اور سنجیدگی سے سوچنے والا دماغ دے رکھا تھا۔ بس اٹھ کھڑے ہوئے اور قوم کی مذہبی، اخلاقی، سیاسی اور اخلاقی اصلاح کا سنجیدگی سے منصوبہ بنایا۔ ان کا خیال تھا کہ ہندوستان کی قوموں میں مذہب سے متعلق سچا جذبہ اٹھتا چلا جا رہا ہے جب کہ مذہبی جذبہ ہی انسان کوانسان بناتا ہے۔ اور یہی جذبہ اپنے ملک اور قوم کو بہتر بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ 

اقتصادی اور معاشی توازن بخشنے میں بھی یہی جذبہ کام کرتا ہے۔ اور مذہبی جذبہ جبھی ختم ہوتا ہے جب اس کے ماننے والے معاشی و اقتصادی بحران کا شکار ہوں گے۔ حضرت شاہ ولی اللہؒ نے مسلمانوں کو مذہبی اور اقتصادی اعتبار سے پستے دیکھا، جس کے سو فیصدی ذمہ دار انگریز تھے۔ لہٰذا سات سمندر پار سے آئی ہوئی اس غیر ملکی حکومت کوحضرت شاہ ولی اللہؒ سخت ناپسند کرتے تھے۔ انگریزوں نے سب سے زیادہ اثر مسلم تجاّر پر ہی ڈالا۔ حضرت شاہ ولی اللہؒ کو اس طبقہ کی تباہی کا سخت افسوس تھا کیونکہ معیشت کا انحصار اسی طبقہ پر ہوتا ہے۔ اسی درمیان آپؒ نے 1728ء میں حجاز کا سفر فرمایا۔ وہاں دو سال قیام کے بعد یورپ اور ایشیا میں رہ کر تفصیلی معلومات حاصل کیں وہاں کے حالات کو پڑھا۔ غور کیا۔

تمام عرب ممالک میں مسلمانوں کا پرچم لہرا رہا تھا۔ وہاں سے واپسی پر آپؒ ایک نیا ذہن، نئی بیداری اور نئے خیالات لے کر آئے۔ واپس آتے ہی انھوں نے اقتصادی اور سیاسی اصول مرتب کیے، جس کا اظہار عوامی طبقہ پر تھا۔ ان لوگوں کے حق میں تھا جو محنت کرتے ہیں۔ پسینہ بہاتے ہیں۔ اس حکومت اور اس سماج کی بے حد برائی کی جو مزدوروں اور کاشتکاروں پر بھاری ٹیکس لگائے، انھوں نے اسے قوم کا دشمن قرار دیا۔ علمی اصلاح کے لیے قرآن عظیم کی حکمت عملی کو اس کا معجزہ ثابت کرنے کا عنوان بنایا اور دولت کے تمام اخلاقی اور عملی مقاصد کا مرجع اور مدار اقتصادی عدم توازن کو قرار دیا۔

حضرت شاہ ولی اللہؒ کے یہ خیالات تیزی سے پھیلے اور رفتہ رفتہ ایک تحریک کی شکل اختیار کر گئے۔ حضرت شاہ ولی اللہؒ نے سماجی اصلاحات میں بڑی عرق ریزی سے کام لیا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک صوفی تھے۔ ان کے تمام خیالات میں تصوف کار فرما نظر آئے گا۔ لیکن یہ تصوف ایک انفرادیت رکھتا ہے۔ بقول ظہیر احمد صدیقی : ’’شاہ ولی اللہ کا رجحان عام طور سے تصوف کی طرف تھا۔ ان کے نزدیک علم و عمل کے صحیح امتزاج کا نام تصوف ہے۔ وہ نفیِ خودی کے سخت مخالف تھے۔ ان کی تحریروں سے صاف پتہ چلتا ہے کہ جہاں انھوں نے صوفیہ کی قابلِ اعتراض باتوں کو دیکھا ان پر معترض ہوئے۔‘‘ انگریزوں کے خلاف جب یہ آوازیں تیزی سے اٹھیں تو انگریزوں نے اسے بدنام کرنے کی کوشش کی۔ لیکن یہ تحریک ایک انقلاب آمیز جذبات لے کر بلند ہوئی۔

بادشاہ کی طاقت اگرچہ کمزور تھی لیکن دو سو سالہ دبدبے کے اثرات ابھی تک تھے۔ صوبوں کے گورنر خود مختار ہو گئے تھے۔ مرہٹے بغاوت کر رہے تھے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی فتح کی منزل کی طرف بڑھ رہی تھی۔ ایسے حالات میں حضرت شاہ ولی اللہؒ نے اپنی آواز اٹھائی۔ نوابوں، تمام صاحبانِ اقتدار کی مذمت کی۔ اور تیز آندھی میں انقلاب کا ایک چراغ روشن کرنے کی کوشش کی۔ بقول مولانا محمد میاں ’’اٹھارہویں صدی عیسوی کے ہندوستان میں ملک کل نظام یعنی مکمل اور ہمہ گیر انقلاب کا نصب العین ایک چراغ تھا جو شہنشاہیت، شاہ پرستی اور اجارہ داری کی طوفان انگیز آندھیوں میں روشن کیا گیا تھا۔‘‘ 1762ء میں حضرت شاہ ولی اللہؒ کا انتقال ہو گیا۔

لیکن وہ اپنی ذات اور صفات سے ہندوستان میں ایک تحریک کی بنیاد ڈال گئے۔ مولانا عبیداللہ سندھی، جو حضرت شاہ ولی اللہؒ کے پیرو تھے، انھوں نے اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ حقیقتاً حضرت شاہ ولی اللہؒ نے ایک مجاہدانہ زندگی گزاری۔ قوم کی اصلاح کے سلسلے میں ایک تحریک کی بنیاد ڈالی، جوان کے انتقال کے بعد ان کے جانشینوں نے آگے جاری رکھی۔ حضرت شاہ ولی اللہؒ کے بعد یہ ذمہ داری ان کے بیٹے شاہ عبد العزیز نے سنبھالی۔

علی احمد فاطمی

 

ایک اور حلف جس کی خلاف ورزی پر سب خاموش ہیں

گزشتہ روز قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ نے بھی متفقہ طور پر حال ہی میں نئے الیکشن قانون میں کی گئی انتہائی متنازع ترامیم کو واپس لے لیا جو ایک خوش آئند عمل ہے جس پر پاکستان کے عوام مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ ختم نبوت کے مسئلہ پر کسی قسم کا کوئی بھی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ بجا طور پر میڈیا اور عوام کی توجہ اس خاص ترمیم پر مرکوز رہی لیکن متنازع تبدیلیوں میں ایک اور خطرناک تبدیلی بھی کی گئی جس کا میڈیا میں کوئی ذکر نہ ہوا لیکن میرے رب کی مہربانی سے وہ تبدیلی بھی واپس ہو گئی۔

قارئین کرام کی معلومات کے لیے یہ بتاتا چلوں کے الیکشن لڑنے کے خواہش مند افراد کے لیے قانون کے مطابق مہیا کیے گئے کاغذات نامزدگی میں ختم نبوت کے ساتھ ساتھ ایک اور حلفیہ بیان لازم ہے جس کا تعلق اسلامی نظریہ پاکستان کے تحفظ اور پاکستان میں جمہوریت کو اسلامی اصولوں کے مطابق چلانے سے متعلق ہے۔ اس بیان کو بھی نئے الیکشن قانون میں حلفیہ بیان سے بدل کر اقرار نامہ کیا گیا لیکن اب تازہ ترامیم کے ساتھ ہی پھر صورت حال پرانی ہو چکی جو قابل تسکین بات ہے۔ 

درج ذیل میں اس حلفیہ بیان کو پڑھیے:
’’میں مذکورہ بالا امیدوار حلفاً اقرار کرتا ہوں کہ : (دوم) میں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے کئے ہوئے اعلان کا وفادار رہوں گا ؍گی کہ پاکستان معاشرتی انصاف کے اسلامی اصولوں پر مبنی ایک جمہوریت ہو گی۔ میں صدقِ دل سے پاکستان کا حامی اور وفادار رہوں گا؍ گی اور یہ کہ میں اسلامی نظریہ کو برقرار رکھنے کے لیے کوشاں رہوں گا؍ گی جو قیام پاکستان کی بنیاد ہے۔‘‘

یہ حلفیہ بیان حالیہ قانون میں کی گئی تبدیلیوں سے پہلے بھی موجود تھا اور اب دوبارہ ترمیم کے ذریعے ایک بار پھر کاغذات نامزدگی میں حلف کے ساتھ شامل کر دیا گیا ہے جو بہت اچھی خبر ہے۔ یہ حلفیہ بیان پاکستان کی پارلیمنٹ یعنی سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ساتھ ساتھ تمام صوبائی اسمبلیوں کے ممبران کے لیے لازم ہے لیکن مجھے تعجب اس بات پر ہے کہ حلف لینے کے باوجود ہمارے حکمران اور ممبران پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی پاکستان کی اسلامی اساس کے تحفظ اور اس ملک کو اسلامی اصولوں کے مطابق چلانے کے لیے کوئی کوشش کیوں نہیں کر رہے۔

بلکہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ نہ صرف وفاقی و صوبائی حکومتوں کی طرف سے پاکستان کو روشن خیالی ، لبرل ازم اور ترقی پسندی کے نام پرمغرب زدہ کیا جا رہا ہے بلکہ یہاں تو کئی سیاسی رہنما اورممبران اسمبلی ایسے ہیں جو کھلے عام پاکستان کو سیکولر بنانے کی بات کر کے اس حلف کی خلاف ورزی کرتے ہیں لیکن اس خلاف ورزی کو نہ تو عدلیہ دیکھتی ہے نہ ہی الیکشن کمیشن، میڈیا یا کوئی اور اگر کوئی ممبر پارلیمنٹ اپنے کسی سیاسی معاملہ میں اپنی پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کر دے یا اُس کے خلاف بول پڑے تو اس پر تو ایکشن لیا جاتا ہے۔ کوئی اپنی دولت کے بارے میں دی گئی تفصیلات کے متعلق جھوٹ بولے یا پیسہ چھپائے تو اس پر بھی نااہلی کی کارروائی شروع کر دی جاتی ہے۔

لیکن یہ کیا کہ قسم اٹھا کر یہ حلف لینے والے کہ وہ نہ صرف پاکستان کے قیام کی بنیاد بننے والے اسلامی نظریہ کا تحفظ کریں گے بلکہ پاکستان کی جمہوریت کو اسلامی اصولوں کے مطابق چلائیں گے، کس آسانی سے لبرل اور سیکولر پاکستان کی بات کرتے ہیں، خلاف اسلام قانون سازی کرتے ہیں، ایسی پالیسیاں بناتے ہیں جو اسلامی اصولوں کے خلاف ہوتی ہیں لیکن ایسے سیاسی رہنمائوں، حکمرانوں اور ممبران پارلیمنٹ کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جاتا۔ میری سیاسی جماعتوں، الیکشن کمیشن، عدلیہ اور پارلیمنٹ سے گزارش ہے کہ وہ اس حلف کی کھلے عام خلاف ورزی کرنے والوں کے بارے میں بھی سوچیں اور اُن کا احتساب کریں.

کیوں کہ یہ دھوکہ پاکستانی قوم کے ساتھ نہیں کیا جانا چاہیے کہ حلف تو آپ لیں پاکستان کو اسلامی ریاست بنانے کا اور جب اسمبلیوں میں آئیں یا اقتدار کی کرسی پر بیٹھیں تو روشن خیالی، لبرل ازم اور ترقی پسندی کی باتیں کریں اور مغرب زدہ پالیسیاں بنائیں۔ میڈیا سے مجھے کوئی امید نہیں کہ اس معاملہ پر بات کرے گا کیوں کہ بہت کچھ جو میڈیا کر رہا ہے وہ تو اسلامی پاکستان میں چل ہی نہیں سکتا۔

انصار عباسی
 

سیاسی جماعتیں ختم نبوت سے متعلق حلف نامے کی بحالی کیلیے متفق

قومی اسمبلی میں نمائندگی رکھنے والی تمام سیاسی جماعتوں نے ختم نبوت سے متعلق حلف نامے کو اصل شکل میں واپس لانے کے لیے فوری آئینی ترمیم کے لیے اتفاق کر لیا ہے۔ قومی اسمبلی میں پارلیامنی لیڈران کے ہمراہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے سردار ایازصادق نے کہا کہ الیکشن ایکٹ 2017 میں ترمیم کے وقت ختم نبوت سے متعلق حلف نامے کے الفاظ میں غلطی ہوگئی تھی، غلطی کودرست کرنا کوئی بری بات نہیں، اس کے لیے انہوں نے پارلیمانی لیڈران کا اجلاس بلایا تھا۔ ہم ختم نبوت سے متعلق حلف نامہ پرانی حیثیت میں بحال کریں گے۔ وفاقی وزیرقانون زاہد حامد نے کہا کہ ساری جماعتوں کا مشکور ہوں انہوں نے اس معاملے پر اتفاق کیا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اپوزیشن نے اس کی نشاندہی کی اوراسے اسمبلی میں سامنے لایا گیا، یہ بڑا حساس ، جذباتی اور اہم مسئلہ ہے، اجلاس میں فیصلہ ہوا ہے کہ الیکشن ایکٹ 2017 میں ایک ترمیم کی جائے گی جس کے ذریعے حلف نامے کو اس کی اصل شکل میں لایا جائے گا، اس کے ساتھ ہی میں نے تجویز دی ہے کہ شق 203 پربھی نظرثانی کی جائے کیونکہ یہ معاملہ عدالتوں میں جا چکا ہے۔ اس سے قبل پارلیمنٹ ہاؤس میں اسپیکرقومی اسمبلی سردارایاز صادق کی زیرصدارت پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس ہوا جس میں شیخ صلاح الدین، اکرم درانی، شاہ محمود قریشی، مولانا امیرزمان اور دیگر پارلیمانی لیڈر شریک ہوئے۔ الیکشن بل میں امیدواروں کے حلف نامے میں الفاظ کی تبدیلی سے پیدا صورتحال پر غور کیا گیا، اجلاس میں سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈران نے فیصلہ کیا کہ کاغذات نامزدگی میں حلف نامے کو اس کی اصل شکل میں لایا جائے گا۔
 

سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ … ایک عہد ساز شخصیت

حضرت امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی انمول یادوں کے تذکرے جس طرح اہلِ اسلام کے دلوں میں تازہ ہیں، محسوس ہوتا ہے کہ شاہ صاحب اب بھی ہم میں موجود ہیں۔ حالانکہ انہیں اس عالم سے رخصت ہوئے نصف صدی سے زائد عرصہ بیت چکا ہے، مگر اُن کی یادوں کی خوشبو آج بھی سروسمن کی وسعتوں سے دارو رسن کی حدوں تک پھیلی ہوئی ہے۔ سید عطاء للہ شاہ بخاری 23؍ ستمبر 1892ء میں صوبہ بہار (انڈیا) کے علاقہ پٹنہ میں پیدا ہوئے۔ خاندانی نجیب الطرفینی ان کا مقدر بنی۔ اوائل عمری ہی میں اردو زبان وبیان کے رموز سے بہرہ ور ہوئے۔ علم کی پیاس پٹنہ سے امرتسر کے مردم خیز خطّے میں لے آئی۔ تعلیم تکمیل کو پہنچا ہی چاہتی تھی کہ ہندوستان میں تحریک خلافت کا آغاز ہو گیا۔

امرتسر ان دنوں سیاست کا مرکز تھا۔ شاہ صاحب بھی سیاست کی تپش سے محفوظ نہ رہ سکے۔ تعلیم کا سلسلہ موقوف کیا اور سامراج کے تُرک مسلمانوں پرظلم و زیادتی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ شعلہ بار خطابت کا ملکہ قدرت نے وافر مقدار میں مہیا کر رکھا تھا۔ بس اسے آگ دکھانے کی دیر تھی۔ خلافت عثمانیہ کے نحیف و نزار وجود کو انگریزوں نے روند ڈالا تو سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ برصغیر کے چپے چپے میں پہنچے اور انہوں نے اپنی آتشیں تقریروں سے فرنگی سرکار کے خلاف عوام الناس کے دلوں میں بغاوت کے شعلے بھڑکا دیئے۔ اسی تحریک خلافت ہی میں وہ پہلی مرتبہ عین عالم شباب میں جیل کی آزمائشوں میںڈ الے گئے.

اور قید و بند کا یہ سلسلہ ایسا مضبوط ہوا کہ پھران کی ساری زندگی ’’ریل اور جیل‘‘ سے عبارت ہو گئی۔ 1929ء میں اپنے ساتھیوں مولانا ظفر علی خان، چودھری افضل حق، شیخ حسام الدین، مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی، ماسٹر تاج الدین انصاری اور مولانا مظہر علی اظہر کے ساتھ مل کر برصغیر کی مقبول جماعت مجلس احرار اسلام کی بنیاد رکھی۔ 1930ء میں جب ان کی عمر محض اڑتیس برس تھی، اپنے وقت کی عظیم دینی شخصیت علامہ سیّد انور شاہ کاشمیریؒ کی تجویز پر پانچ سو جیّد علماء کرام اور مشائخ نے ختم نبوت کے محاذ پر اُن کو ’’امیرشریعت‘‘ تسلیم کرتے ہوئے اُن کے ہاتھ پر بیعت کر لی اور یوں متحدہ پنجاب شاہ صاحب کی مضبوط قیادت میں آ گیا۔ پھر مجلس احرار اسلام نے ان کی رہنمائی میں بیسیوں معرکے سر کیے، جس کی تفصیلات تاریخ کا حصہ ہیں. 

قسّامِ ازل نے بخاریؒ صاحب کو گونا گوں خصوصیات سے نوازا تھا۔ وہ اپنی ذات میں بیک وقت بے مثل خطیب، برجستہ گو شاعر اور شعر فہمی میں یکتائے فن، متبحر عالم دین، سیاست دان، مدبر، نابغہ اور صاحبِ بصیرت انسان تو تھے ہی، مگر اس کے ساتھ ساتھ معاملہ فہمی، مزاج شناسی، دوست داری، وضع داری، تحمل و رواداری جیسی صفات بھی اُن کی ذات میں بدرجہ اتم موجود تھیں۔ یہی وہ بنیادی وجوہ تھیں کہ جن کی بناء پر وہ مرجع خلائق اور عام و خاص کے دلوں کی دھڑکن تھے۔ برصغیر میں شاہ صاحب جیسی کسی دوسری دلنواز شخصیت کا وجود عنقا تھا۔ وہ اپنے دینی اصول و عقائد پر سختی کے ساتھ کاربند تھے اور ان میں کسی نرمی اور ترمیم کے روادار نہ تھے، مگر ذاتی حیثیت سے وہ ہر دینی وسیاسی، علمی وادبی حتیٰ کہ ایک حد تک مذہب سے گریز پا طبقات میں بھی ہر دلعزیز تسلیم کیے جاتے تھے۔

اسی سبب وہ جہاں علامہ سیّد انور شاہ کشمیریؒ جیسی عظیم دینی ہستی کے منظور نظر تھے، وہیں وہ فیض احمد فیض، صوفی تبسم، اختر شیرانی، جگر مراد آبادی، عبد الحمید عدم، ساغر صدیقی جیسے رندانِ بلاکش کے ہاں میر محفل مانے جاتے تھے۔ شاہ صاحب برصغیر کی وہ واحد شخصیت تھے کہ جن کا احترام ہر طبقہ میں پایا جاتا تھا۔ وہ جہاں حضرت پیر سیّد مہر علی شاہ گولڑویؒ، حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ اور قطب الاقطاب حضرت شاہ عبد القادر رائے پوریؒ کی محبتوں کا مرکز تھے وہیں وہ شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی اور مفتی اعظم مولانا مفتی کفایت اللہ دہلویؒ کی آنکھوں کی ٹھنڈک بھی تھے۔ شاہ صاحب یکساں طور پر مولانا ابو الکلام آزاد، علامہ محمد اقبالؒ اور مولانا محمد علی جوہر کی عنایات اور ان کی صحبتوں سے فیض یاب ہوئے۔

مختلف النوع شخصیات کے شاہ صاحب کے ساتھ تعلقات کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ عقائد ونظریات کے مابین واضح فرق کے باوجود یہ سب لوگ شاہ صاحب کے ساتھ پیار و محبت اور انس و مروّت کیسے روا رکھتے تھے! درحقیقت یہ شاہ صاحب کی وسعت ظرفی، تحمل مزاجی، شفقت و رواداری کے علاوہ ان کی انسان دوستی تھی، کیونکہ انہوں نے ایک دینی رہنما کی حیثیت سے اسلام کے اصولوں کے عین مطابق کسی فرد سے اس کے عقیدہ و نظریہ کی بناء پر نفرت نہیں کی، بلکہ ایک معالج کی طرح مرض سے نفرت ضرور کی، مگر مریض کو گلے لگایا۔ ان کے حسن سلوک سے بے شمار لوگوں کو ہدایت نصیب ہوئی۔ انہوں نے ایک داعی کا کردار ادا کیا اور داعی کسی سے نفرت نہیں کیا کرتا۔ ممتاز نعت گو شاعر حافظ لدھیانویؒ شاہ صاحب کو ملنے ملتان آئے۔

مغرب کی نماز کے لیے جماعت کھڑی ہوئی تو شاہ صاحب نے خود مصلیٰ امامت پر کھڑے ہونے کی بجائے فرمایا کہ آج ہم حافظ بیٹا کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔ یہ حکم سن کر داڑھی منڈے نوجوان حافظ لدھیانوی کے بقول اُن کا وجود کانپ کر رہ گیا، لیکن چارو ناچار اُن کو شاہ صاحب سمیت بہت سے علماء کرام کی امامت کرنا پڑی۔ شاہ صاحب کے اس برتاؤ سے اگلے دن سے ہی حافظ لدھیانوی نے بغیر کسی کے کہنے کے داڑھی رکھ لی۔ لوگوں کے عیبوں کی پردہ پوشی شاہ صاحب کا عمر بھر شیوہ رہا۔ وہ خوبیوں پر نگاہ رکھتے اور کمزوریوں سے درگزر فرماتے تھے۔ ہر مکتبہ فکر نے شاہ صاحب کی وسعتِ ظرفی اور وسیع المشربی کی بدولت ان کا دل سے احترام کیا اور اس طرح وہ سب کے لیے عقیدت و محبت کا روشن مینار تھے۔ 

اپنی بے مثال قوتِ لسانی، فکر و نظر کی پختگی اور حلم و تواضع کے پیش نظر وہ ہندوستان کی ہر دلعزیز شخصیت تھے۔ مشہور انگریز مصنف ڈبلیو، سی سمتھ نے لکھا تھا کہ: ’’یہ غیر معمولی انسان ہندوستان کی سب سے زیادہ اثر آفریں شخصیت ہونے کا نہایت قوی دعویٰ کر سکتا ہے۔‘‘ شاہ صاحب نے 21؍ اگست 1961ء کو ملتان میں رحلت فرمائی اور وہیں آسودئہ خاک ہیں۔ اللہ ان کی قبر کو اپنی رحمتوں سے بھر دے اور اُن کا سچا نعم البدل عطا کرے جو اُنہی کی طرح تمام طبقات کو اتحاد و یگانگت کا آفاقی درس دے اور اُمت کو توحید و ختم نبوت کی اساس پر یکجا کر دے۔ (آمین )۔

 ڈاکٹر عمرفاروق احرار

حکمران باہر کیوں علاج کرواتے ہیں؟

نائجیریا، انگولا، زمبابوے، بینن اور انگولا کے صدور اور پاکستان کے وزیرِ اعظم میں کیا مشترک ہے؟ ان میں ایک قدر مشترک یہ ہے کہ انھیں اپنے ملک کے صحت کے نظام پر بھروسہ نہیں ہے۔ نائجیریا کے صدر اپنے مذکورہ ہم منصبوں میں پہلے ہیں جنھوں نے بیرونِ ملک طبی امداد کے لیے سفر کیا لیکن گذشتہ سال تمام مذکورہ صدور صحت کی وجہ سے بیرون کا سفر کر چکے ہیں۔ پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف بھی گذشتہ برس لندن میں علاج کروا چکے ہیں۔

بہت سے معاملوں میں ان حکمرانوں نے اپنے ملک کی کم فنڈ والی طبی خدمات کو خیرباد کہا ہے جس پر ملک کے تقریبا تمام تر شہریوں کا انحصار ہے۔ اقوام متحدہ کے عالمی صحت کے ادارے کے مطابق سنہ 2010 میں افریقی ممالک میں صحت کی فنڈنگ 135 امریکی ڈالر فی کس تھی جبکہ امیر ممالک میں یہ رقم 3150 امریکی ڈالر کے مساوی ہے۔ صحت کے نگراں ادارے سیٹیزن ہیلتھ واچ کے مطابق زمبابوے جیسے ملک میں سرکاری ہسپتالوں میں عام درد کش اور اینٹی بایوٹک دوائیں بھی بعض اوقات ختم ہو جاتی ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ فنڈ کی کمی کے سبب سرکاری طبی نظام تشویشناک انداز میں روبہ زوال ہے۔

بی بی سی ابوجا کے مدیر نظیرو میکائیلو کا کہنا ہے کہ نائجیریا میں سرکاری طبی نظام انتہائي خستہ ہے۔ حکومت کے ملازمین اور پرائیویٹ سروسز میں صحت کے بیمے کی سکیم کے تحت کچھ لوگوں کو پرائیویٹ طبی سہولیات تک رسائی حاصل ہے جبکہ زیادہ تر افراد کا سرکاری ہسپتالوں پر ہی انحصار ہے۔ ان دونوں ممالک میں اچھے نجی طبی نظام پیسے والے لوگوں کے لیے دستیاب ہیں لیکن بعض معاملوں میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ بیرون ملک میں بہتر سہولیات ہیں۔
نائیجیریا کے 74 سالہ صدر محمد بخاری رواں سال اپنے علاج کے لیے چار ماہ برطانیہ میں گزار چکے ہیں جس کی وجہ سے ملک میں نکتہ چینی کی جا رہی ہے۔

زمبابوے کے صدر رابرٹ موگابے سنہ 1980 سے اقتدار میں ہیں اور رواں سال تیسری بار علاج کے لیے سنگاپور جانے پر ان کے ناقدین کہتے ہیں کہ وہ ہسپتال سے ملک چلا رہے ہیں۔ انگولا کی حکومت نے مئی کے مہینے میں بتایا کہ صر جوز ایڈوارڈو دوس سینٹوس، جو 38 سال سے صدر ہیں، انھوں نے علاج کے لیے سپین کا سفر کیا ہے۔ لیکن نائجیریا کی طرح یہاں کی حکومت کو پریشانیوں کا سامنا نہیں ہے۔ حزب اختلاف کے ترجمان ایورسٹو دا لوز نے کہا کہ ان کے دورے سے ان کی چار دہائیوں کی حکومت کی نااہلی ثابت ہوتی ہے جو یہ دکھاتی ہے کہ صحت کی سہولیات کی حالت کتنی خستہ ہے۔

الجیریا کے 80 سالہ صدر عبدالعزیز بوتفلیکا کی صحت ایک عرصے سے ناساز ہے۔ سنہ 2013 میں ان پر فالج کا حملہ ہوا تھا اور انھیں سنہ 2014 میں ہونے والے انتخابات میں ویل چیئر پر ووٹ ڈالنے جاتے دیکھا گيا اور بعد میں وہ فرانس کے ایک ہستال میں علاج کے لیے گئے تھے۔ بینن کی حکومت اپنے نسبتاً کم عمر صدر 59 سالہ پیٹرس ٹیلن کی صحت کے بارے میں تشویش رکھتی ہے۔ وہ جون میں علاج کے لیے فرانس گئے جہاں حکومت کے مطابق ان کے پراسٹیٹ اور نظام انہضام کے دو آپریشن ہوئے۔ لیکن دوسرے ملک علاج کے لیے جانے کی وجہ کیا ہے؟ اس کے جواب میں کسی بھی صدر کے ترجمان نے یہ نہیں کہا کہ بیرون ملک عام طور پر طبی سہولیات بہتر ہیں۔

بشکریہ بی بی سی اردو
 

دو قومی نظریہ اور جشن فتح

میچ کب کا ختم ہوچکا لیکن جشن فتح جاری ہے کرکٹ میچ صرف اوول گراﺅنڈ میں نہیں ہوا تھا اس کا اصل میدان تو سری نگر کا لال چوک اور ڈھاکہ کی مساجد تھیں جہاں ہزاروں بنگالی پاکستان کی فتح کےلئے سربسجود تھے۔ کرکٹ کی فتح نے تین باتیں واضح کر دی ہیں۔ ہم سب پاکستانی ہیں۔ تمام تعصبات پر مبنی تقسیم مصنوعی اور عارضی ہے۔ اچھی قیادت اسے پل بھر میں ختم کر سکتی ہے، ہم ہجوم نہیں، ایک قوم ہیں۔ دو قومی نظریہ دیوانے کی بڑ نہیں،ایک حقیقت تھی اور آج بھی ہے۔ پاکستانی ریاست کی اسلامی شناخت کسی جبر کا نتیجہ نہیں، عوام کے دلوں کی آواز ہے۔ پاک بھارت ٹیموں کا میچ ختم ہوا ہے لیکن مقبوضہ کشمیر کے سبزہ زاروں’ جنت نظر کوہساروں میں یہ میچ اب بھی جاری ہے جس کے کھلاڑی سنگ بدست نہتے نوجوان کشمیری اور مقابل 10 لاکھ بھارتی فوجی ہیں۔

وہ دو قومی نظریہ، جسے پاکستان میں، پاکستانی سر زمین پراجنبی بنایا جا رہا ہے جسے ہمارے کچھ نام نہاد روشن خیال دانشور دیس نکالا دینا چاہتے ہیں موقع پاتے ہی نئے رنگ و روپ میں پاکستان کے دشمنوں کو للکارتا ہوا منظر عام پر نمودار ہو جاتا ہے۔ اتوار کی شب یہ دو قومی نظریہ پوری آب و تاب سے اوول کی تاریخی کرکٹ گراﺅنڈ میں کچھ ایسے نمودار ہوا کہ ساری دنیا کی نگاہیں چکا چوند ہو گئیں۔ کھیل میں ہار جیت منطقی انجام ہوتا ہے لیکن جس طرح کا رد عمل بھارت میں دکھائی دیا اس نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے دو قومی نظریے کی بنیاد پر ہندوستان کی تقسیم فطری تقاضا تھا اور فطرت کے مقابل کوئی جیت نہیں سکا۔ 

سری نگر اور مقبوضہ وادی کے چپے چپے میں جس طرح کرکٹ کی فتح کا جشن منایا گیا ہے۔ جس طرح جواں سال میر واعظ نے عید سے پہلے عید کا نعرہ مستانہ بلند کیا، جس طرح سری نگر کا آسمان آتش بازی سے گل رنگ ہوا اور جو چراغاں مقبوضہ کشمیر کے گھر گھر میں ہوا وہ تو پاکستان کے کسی شہر میں بھی نہیں ہو سکا۔ سب سے حیران کن رد عمل بھارتی مسلم نوجوانوں کا سامنے آیا ہے جنہوں نے مودی کے رام راج کے سامنے سینہ تان کر پاکستان کی فتح کا جشن منایا اب تک درجنوں نوجوان بغاوت کے الزام میں گرفتار ہو چکے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر اسمبلی کے رکن انجینئر رشید جو حکمران اتحاد کا حصہ ہیں سب پر بازی لے گئے۔ جب ایک ٹاک شو میں لائیو ان سے متعصب اینکر پرسن نے بار بار پاکستان کی فتح پر ان کے جذبات، اندرونی جذبات کے بارے میں ایک ہی سوال بار بار دہرایا تو بھارت نواز اتحاد کا حصہ انجینئر رشید نے برملا کہہ دیا کہ انہیں پاکستان کی فتح پر بہت خوشی ہوئی ہے۔ جب اینکر نے بھارتی ٹیکسوں پر، اسمبلی رکنیت اور دیگر مفروضوں پر گفتگو جاری رکھی تو انجینئر رشید نے واضح الفاظ میں بتا دیا کہ وہ سرے سے بھارتی آئین کو تسلیم نہیں کرتے وہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے تحت مقبوضہ کشمیر اسمبلی کا حصہ ہیں۔ وہ بھارت کے دستور کو تسلیم نہیں کرتے جب تک اقوام متحدہ کی قراردادیں بروئے کار نہیں آتیں وہ پاکستانی بھائیوں کی خوشیوں میں شریک رہیں گے جس پر وہ بھارتی اینکر جھنجھلاتا رہا اپنا سر پیٹتا رہا۔

کہتے ہیں کہ منہ سے نکلی بات اور کمان سے نکلا تیر کبھی واپس نہیں آتا اس لئے وہ اینکر دہائیاں دیتا رہا۔ لکیر پیٹتا رہا۔ سری نگر کے بعد جشن فتح کا دوسرا مرکز ڈھاکہ تھا جس کا ذکر ہمارے ذرائع ابلاغ نے دیدہ دانستہ، جان بوجھ کر نہیں کہا کہ ہمارے باطل ”روشن خیالوں“ کو ڈھاکہ سے بار بار دو قومی نظریے کا ظہور بالکل پسند نہیں، وہ اسے بنگلہ قوم پرستی کے جوار بھاٹے میں ڈبو دینا چاہتے ہیں ہمیشہ کے لئے غرق کر دینا چاہئے ہیں لیکن بھارت کے سرپرستانہ رویئے کے ردعمل اور اسلام سے عام بنگلالی کی بے پایاں محبت کا اعجاز ہے کہ پاکستان کے خلاف پھیلائی جانے والی بے بنیاد کہانیوں کے باوجود پاکستان سے محبت کا جذبہ دعاﺅں کی صورت میں ابھر کر سامنے آتا رہتا ہے۔ 

پاکستان کی فتح کی خبر سنتے ہی ہزاورں نہیں لاکھوں بنگالیوں نے سجدئہ شکر ادا کیا اور نوافل ادا کئے۔ ”صاحب البدر“ پروفیسر سلیم منصور خالد نے میچ کے بعد ڈھاکہ شہر میں عوامی رد عمل اور جوش و خروش پر مبنی وڈیو کلب بھجوائے جنہیں دیکھ کر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ یہ فتح پاکستان کی نہیں بنگلہ دیش کی ہے۔ کرکٹ اور دو قومی نظرئیے کے تال میل سے جنم لینے والی اس کہانی کا کرکٹ اور دو قومی نظریے کے تال میل سے جنم لینے والی اس کہانی کا یہ باب ہمارے نام نہاد چڑی ماروں اور چڑی بازوں کو قطعاً پسند نہیں ہے۔ ان کے سینوں پر سانپ لوٹ رہے ہیں کہ ہم پاکستان کی نظریاتی اساس بدلنے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا رہے ہیں لیکن برا ہو کرکٹ کا، انگلستان کی اشرافیہ کے پسندیدہ سیکولر کھیل کا جس میں فتح و شکست کے نظریاتی پہلو انہیں بد مزہ کر رہے ہیں شاید اسی لئے نجم سیٹھی کی مئے ناب کے پس منظر والی تصاویر کا رنگ، بد رنگ ہو کر رہ گیا ہے اور خود انہیں اپنے ممدوح کی مخالفانہ نعرہ بازی کو سر جھکا کر سننا پڑا، اس بار پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (ISPR) نے قوم کی خوشیوں میں افسروں اور جوانوں کی شرکت کی بروقت تصاویر جاری کر کے کمال کر دیا۔

کرکٹ سے جنرل قمر جاوید باجوہ کا والہانہ لگاﺅ ہی تھا کہ انہوں نے ساری ٹیم کو عمرہ کرانے کا اعلان کر دیا جس پر بعض بے بصیرت، تیرہ بختوں کو جمہوریت اور جمہوری نظام میں ”مداخلت“ دکھائی دی لیکن یہ سب کچھ عوامی جوش و خروش میں بہہ گیا اور جناب وزیراعظم نواز شریف نے کھلاڑیوں کے لئے فوری طورپر ایک ایک کروڑ نقد انعام کا اعلان کر دیا ہے۔ شاہی خاندان کے بعض مقربین دعوے کر رہے ہیں کہ یہ انعام قومی خزانے سے نہیں وزیراعظم نواز شریف جیب خاص سے دیں گے۔

معاملہ اگر کھیل تک محدود ہوتا تو بھارت میں اتنا المناک رد عمل سامنے نہ آتا تین دن گزرنے کے باوجود سارے بھارت پر سکتہ طاری ہے اب ماتم کی جگہ سوگ نے لے لی ہے۔ جس کی کہانی ہمارا خالدی سنا رہا ہے۔ خالد محمود مدتوں سے دفتر خارجہ اور سفارتی سرگرمیاں رپورٹ کر رہے ہیں، ہمارے پیارے خالدی اپنے آپ کو خالصتاً پیشہ وارانہ امور تک محدود رہتے ہیں نظریاتی اور سیاسی دھڑے بندیوں سے کوسوں میل دور اپنے کام سے کام رکھتے ہیں اس لئے استفسار پر ہمیشہ بے لاگ اور غیر جانبدارانہ تجزیہ کر کے آنکھیں کھول دیتے ہیں۔ شبِ گذشتہ بتا رہے تھے کہ بھارت میں جاری سوگ ختم ہونے میں نہیں آ رہا ہے، انہوں نے کسی جاننے والے کا کاروباری ویزا جلد پراسیس کرانے کی درخواست کی تو انہیں بتایا گیا کہ بھارت میں ہر چیز بند ہے اس لئے اس وقت جانے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ کاروباری معاہدے اور دیگر تفصیلات پر جواب ملا کہ سارے کاروبار بھی بند پڑے ہیں معاہدے کون کرے گا اس لئے انتظار کریں۔ 

سرشام ٹاک شوز میں پاکستان اور پاکستانی ٹیم کا مذاق اڑانے والے ماتم کرنے کے بعد تھک ہار کہ کب کے سو چکے ہیں سوشل میڈیا پر ”فاردر ڈے“ کے حوالے سے پاکستان کو نشانہ بنانے والوں کو ہمارے نوجوانوں نے بڑے کرارے جواب دیئے ہیں۔ بھارت کے حجم کی بنا پر اسے والد اور پاکستان کو بیٹا قرار دینے والوں کو بتا دیا گیا کہ پاکستان 14 اگست کو معرض وجود میں آیا تھا جبکہ بھارت ایک دن بعد 15 اگست کو آزاد ہوا تھا، اس لئے تاریخی اعتبار سے پاکستان کو بھارت کا والد گرامی ہونے کا شرف حاصل ہے جس پر علم الکلام کے مظاہرے کرنے والے متعصب ہندو اپنا سا منہ لے کر خاموش ہو گئے۔

اب کی بار خالصتانی سکھوں نے اپنے انوکھے انداز میں جشن فتح منایا اور اسے ہندو بنئے پر متحدہ پنجاب کی فتح قرار دیا۔ یہ سب دیکھ کر، سن کر ہمارے پاکستانی بد باطن جعلی دانشوروں کو سانپ سونگھ گیا کہ جس دو قومی نظرئیے کو وہ بھولا بسرا خواب بنانا چاہتے تھے۔ وہ اوول گراﺅنڈ کے سبزہ زار سے نئی طاقت اور قوت کے ساتھ نمودار ہو چکا ہے۔ سری نگر اور ڈھاکہ میں جلوہ گر ہے۔حرفِ آخر یہ کہ ضلع میانوالی کے ریٹائرڈ سکول اساتذہ کو گذشتہ 3 ماہ سے پنشن نہیں ملی، خادم اعلیٰ پنجاب سے مداخلت کی درخواست ہے کہ ان بے نوا، بے صدا بزرگوں کی داد رسی فرمائیں اور ان کے لئے عید کی خوشیاں دوبالا کر دیں۔

اسلم خان
 

مسلمانوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی ‘غیر قانونی’

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس وقت ایک اور قانونی دھچکے کا سامنا کرنا پڑا جب ایک وفاقی اپیل کورٹ نے چھ مسلم اکثریتی ممالک کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر عائد پابندی کو بحال کرنے سے انکار کر دیا۔ امریکا کے شہر سان فرانسسکو میں قائم نویں سرکٹ کورٹ آف اپیلز نے پہلے امریکی ریاست ہوائی کے ایک وفاقی جج کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی سفری پابندی کے خلاف ٹرمپ انتظامیہ کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ری پبلکن صدر کا 6 مارچ کا حکمنامہ موجودہ امیگریشن قوانین سے متصادم ہے۔ 

مگر تین ججوں، جو کہ سب ڈیموکریٹک پارٹی کے نامزد کردہ ہیں، پر مشتمل اس پینل نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا یہ سفری پابندی مسلمانوں کے خلاف غیر آئینی تفریق ہے۔ دوسری جانب رچمنڈ، ورجینیا میں قائم چوتھی سرکٹ کورٹ آف اپیل نے بھی 25 مئی کو ریاست میری لینڈ کے ایک جج کی جانب سے ٹرمپ کی سفری پابندیوں کے خلاف دیے گئے فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔ اس عدالت نے اپنے حکمنامے میں کہا تھا کہ یہ پابندیاں مسلمانوں کے خلاف “مذہبی عدم برداشت، تفریق، اور مخاصمت سے بھرپور ہیں۔”

ٹرمپ انتظامیہ اپنی ان سفری پابندیوں پر اب تک تمام عدالتی سماعتوں میں ناکام رہی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان شان اسپائسر کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ پیر کے روز آنے والے عدالتی حکمانے کا جائزہ لے گی۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ سفری پابندیاں مکمل طور پر قانونی ہیں، اور سپریم کورٹ انہیں برقرار رکھے گی۔
واضح رہے کہ امریکی صدر نے اقتدار سنبھالتے ہی لیبیا، ایران، صومالیہ، سوڈان، شام، اور یمن کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر 90 روزہ پابندی عائد کر دی تھی۔ صدر ٹرمپ کے مطابق یہ فیصلہ امریکا کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا تھا، کیوں کہ ان ممالک کے شہری دہشتگردی میں ملوث ہو سکتے ہیں۔ سفری پابندیوں کے خلاف فوراً ہی وکلاء تنظیموں اور عوام نے درخواستیں دائر کیں، جس کے بعد سے لے کر اب تک یہ پابندی معطل ہے، اور اب اس کا حتمی فیصلہ امریکا کی سپریم کورٹ میں ہوگا۔