حکومت اور فوج کے بیانات، تعلقات میں کشیدگی کے عکاس

پاکستان میں فوج اور حکومت کے درمیان مختلف معاملات پر بیان بازی کے بعد صورتحال ایک بار پھر کشیدہ نظر آ رہی ہے۔ تازہ ترین معاملہ ملک کی اقتصادی حالت کا ہے جس کے بارے میں وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال نے واشنگٹن سے بھیجے گئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کو معیشت پر بیانات اور تبصروں سے گریز کرنا چاہیے۔ ایک روز قبل ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے ایک نجی ٹی وی چینل پر گفت گو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملکی معیشت کی حالت اگر بری نہیں تو بہت اچھی بھی نہیں ہے۔ اس معاملے پر رد عمل دیتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کو معیشت پر بیانات اور تبصروں سے گریز کرنا چاہیے کیوں کہ پاکستان کی معیشت مستحکم ہے اور غیر ذمہ دارانہ بیانات پاکستان کی عالمی ساکھ متاثر کر سکتے ہیں جب کہ آئی ایم ایف پروگرام پر جانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ 2013 کے مقابلے میں معیشت بہت بہتر ہے جب کہ ملک میں توانائی کے منصوبوں اور بجلی کی فراہمی سے صنعتی شعبے میں سرمایہ کاری سے درآمدات پر دباوٴ پڑا ہے مگر یہ قابل برداشت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی تاریخ کے سب سے بڑے ترقیاتی بجٹ پر عمل ہو رہا ہے، ٹیکسوں کی وصولی میں دو گنا سے زائد اضافہ ہوا ہے جب کہ سیکیورٹی آپریشنز کے لئے بھی وسائل فراہم کئے جا رہے ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر کے علاوہ دو روز قبل ایف پی سی سی آئی اور آئی ایس پی آر کے اشتراک سے کراچی میں ایک سیمینار ہوا تھا جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے خطاب کیا اور ملکی معیشت کی مشکل صورتحال پر بات کی تھی۔

اس سے قبل احتساب عدالت میں داخلے کی اجازت نہ ملنے پر وزیرداخلہ نے رینجرز کے رویے پر سخت برہم ہو کر ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ریاست کے اندر ریاست بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ علاوہ ازیں فوج کے ترجمان نے رکن قومی اسمبلی محمد صفدر کی طرف سے احمدیوں کو افواج میں بھرتی کرنے سے متعلق دیے گئے بیان کی بھی نفی کی اور میجرجنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ پاک فوج میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہیں جو “جب وردی پہن لیتے ہیں تو صرف پاکستانی بن جاتے ہیں۔”

وزیرداخلہ کے ڈی جی آئی ایس پی آر کے “خلاف” بیان کے بعد حکومت مخالف جماعت پاکستان تحریک انصاف بھی فوری ایکشن میں نظر آئی اور کچھ ہی دیر بعد اس کے ایک مرکزی راہنما اسدعمر کی طرف سے ایک بیان جاری کیا گیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ وزیر داخلہ دوسروں کو نصیحتوں کی بجائے اپنا قبلہ درست کریں تو بہتر ہو گا۔ اسد عمر کا کہنا تھا کہ “طائر لا ہوتی ایک مرتبہ پھر آئی ایم ایف کے در پر سجدہ ریز ہونے جا رہا ہے، تجارتی خسارہ ریکارڈ پر ریکارڈ توڑے جا رہا ہے، رواں مالی سال کے پہلے تین ماہ کا تجارتی خسارہ گزشتہ برس کے ریکارڈ خسارے سے بھی 20 فیصد زیادہ ہے۔”

ایسے مواقع پر بیان دینے میں عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید بھی پیچھے نہ رہے اور فوراً ایک ویڈیو بیان جاری کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ملک کا وزیر داخلہ آئی ایس پی آر کے خلاف بیان دے رہا ہے۔ “صاف صاف نہیں بتاتے کہ آرمی چیف کا بیان چبھا ہے۔" اس جاری بیان بازی سے ظاہر ہورہا ہے کہ حکومت اور فوج کے درمیان سب کچھ اچھا نہیں ہے۔ دونوں ادارے اپنے اندر موجود اختلافات کو چھپانے کی کوشش بھی نہیں کر رہے اور میڈیا میں لگاتار اس کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔ سینئر صحافی انصار عباسی نے اس بارے میں اپنے ٹوئٹر پیغام میں اس صورتحال پر وارننگ لکھ کر کہا کہ چیزیں خراب سے خراب تر ہوتی جا رہی ہیں، بہتری کا سوچنا چاہیے، پاکستان کا سوچنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ "میری سول اور ملٹری قیادت سے درخواست ہے کہ وہ مل کر بیٹھیں اور معاملات کو حل کریں، کھلے عام ایسی لڑائی سے صرف پاکستان کو نقصان ہو گا۔" انصار عباسی نے وزیراعظم کو مشورہ دیا کہ وہ قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کریں اور بند کمرے میں بیٹھ کر تمام معاملات پر بات کریں۔

علی رانا

بشکریہ وائس آف امریکہ
 

Advertisements

خواجہ آصف کے بیانات سے پاکستان کے مسائل بڑھ سکتے ہیں ؟

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور نے وزیر خارجہ خواجہ آصف کے حقانی نیٹ ورک اور کالعدم تنظیموں سے متعلق سیمینار میں خطاب پر تنقید کرتے ہوئے آئندہ اجلاس میں انہیں طلب کر لیا۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کا اجلاس نو منتخب چیئرمین خسرو بختیار کی زیر صدارت اسلام آباد میں ہوا۔ پاکستان تحریک انصاف کی رکن اسمبلی شیریں مزاری سمیت کئی اراکین وزیر خارجہ کے حقانی نیٹ ورک اور کالعدم تنظیموں سے متعلق دیئے گئے بیان پر پھٹ پڑے اور کہا کہ خواجہ اصف کے بیانات سے پاکستان کے لیے مزید مسائل بڑھائیں گے۔

اراکین کا کہنا تھا کہ خواجہ آصف کو کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں طلب کیا جائے اور وضاحت مانگی جائے، کیونکہ وہ جس قسم کے بیانات دے رہے ہیں وہ امریکی پالیسی کو ماننے کے مترادف ہے۔ شیریں مزاری بولیں وزیر خارجہ سے کالعدم تنظیموں کے معاملے پر بریفنگ لی جائے ۔ خواجہ آصف سے کلبھوشن یادیو اور نئی امریکی پالیسی سے متعلق بھی پوچھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے دہشت گرد گروپوں کے خاتمے کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں، لیکن امریکہ کے’ ڈو مور‘کے مطالبے اور اپنا گھر ٹھیک کرنے کو درست قرار دینا مسلح افواج کی دہشت گردی کے خلاف ان قربانیوں کی نفی ہے۔
شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ ملک کا وزیر خارجہ کا ہی اگر پالیسی کے خلاف بیان دے گا تو دشمن کی ضرورت نہیں، پتا نہیں وزیر خارجہ کن کے مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں۔
 

دنیا اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار ہمیں نہ ٹھہرائے

پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے دنیا سے کہا ہے کہ پاکستان کی بجائے وہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے زیادہ اقدامات کرے۔ انھوں نے یومِ دفاع کے موقعے پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ‘عالمی طاقتیں اگر اس کام میں ہمارا ہاتھ مضبوط نہیں کر سکتیں تو ہمیں اپنی ناکامیاں کا ذمہ دار بھی نہ ٹھہرائیں۔’ انھوں نے کہا کہ ‘بےبہا قربانیوں، اور دو دہائیوں پر محیط جنگ کے باوجود آج ہمیں کہا جا رہا ہے کہ ہم نے دہشت گردی کے عفریت کا بلاتفریق مقابلہ نہیں کیا۔ اگر پاکستان نے اس جنگ میں کافی نہیں کیا تو پھر دنیا کے کسی ملک نے کچھ نہیں کیا کیوں کہ اتنے محدود وسائل کے ساتھ اتنی بڑی کامیابی صرف پاکستان ہی کا کمال ہے۔ اب میں کہتا ہوں، now the world must do more’

جنرل باجوہ نے کہا کہ ‘امریکہ سے تعلقات کے بارے میں قوم کے جذبات واضح ہیں۔ ہم امداد نہیں عزت اور اعتماد چاہتے ہیں۔ ہماری قربانیوں کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔ ہم امریکہ اور نیٹو کے ہر اس عمل کی حمایت کریں گے جس سے خطے میں بالعموم اور افغانستان میں بالخصوص امن کی راہ ہموار ہو، تاہم ہمارے سکیورٹی خدشات کو بھی ایڈریس کرنا ہو گا۔’ جنرل باجوہ نے یہ باتیں اس ماحول میں کی ہیں جب امریکہ اور پاکستان کی تعلقات تناؤ کا شکار ہیں۔ دو ہفتے قبل پاکستان نے قائم مقام امریکی نمائندہ خصوصی برائے پاکستان اور افغانستان ایلس ویلز کا دورۂ پاکستان ملتوی کر دیا تھا۔

گذشتہ ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نئی افغان پالیسی جاری کرتے ایک تقریر میں الزام لگایا تھا کہ پاکستان نے کچھ ایسے دہشت گردوں کو پناہ دے رکھی ہے جو افغانستان میں امریکی اور افواج کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ اس کے چند روز بعد افغانستان میں امریکی اور نیٹو فورسز کے کمانڈر جنرل جان نکلسن نے کہا تھا کہ امریکہ کو معلوم ہے کہ افغان طالبان کی قیادت پاکستان سے کام کر رہی ہے۔ جنرل باجوہ نے اپنی تقریر میں کہا کہ ‘سپر پاورز کی شروع کردہ جنگوں کی قیمت ہم نے دہشت گردی، انتہا پسندی اور اقتصادی نقصان کی صورت میں ادا کی ہے۔ 

ہم افغانستان کی جنگ پاکستان میں نہیں لڑ سکتے۔ ہم افغان دھڑوں کے درمیان جنگ کا حصہ نہیں بن سکتے۔ تاہم یہ ضرور کر سکتے ہیں کہ اپنی سرحد کی حفاظت کریں۔ اس سلسلے میں ہم سرحد پر 26 سو کلومیٹر طویل باڑھ اور نو سو سے زیادہ پوسٹیں اور قلعے تعمیر کر رہے ہیں۔’ ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم اپنی سرحد کو کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے اور دوسروں سے بھی یہ توقع رکھتے ہیں کہ جن دہشت گردوں نے مغربی سرحد کے پار پناہ لے رکھی ہے ان کے خلاف جلد اور موثر اقدام ہوں گے۔’
 

City govt seeks Pak Army help as rain wrecks havoc in Karachi

City government has sought Pakistan Army assistance to cope with the rain emergency after torrential rains flooded Karachi. Mechanized Engineering Corps of Pakistan Army has accepted the request made by Deputy Karachi Mayor Arshad Wohra. According to sources at Karachi Metropolitan Corporation machinery from Pakistan Army would be received soon for drainage of water accumulated on the roads. Heavy downpour lashed Karachi for the second straight day as major road and low-lying areas were inundated and the life in the metropolitan city almost thrown out of gear.
 According to details, North Nazimabad, F.B Area, Gulistan-e-Johar, Gulshan–e-Ibqal, Shah Faisal Colony, MA Jinnah Road, II Chandrigar Road, North Karachi, Shadman Town, Guslshan-e-Hadeed, Shah Latif Town, Malir and other areas received heavy rain. Meanwhile, many areas of Karachi plunged into darkness as dozens of K-Electric feeders tripped due to heavy rain. Heavy rains wreaked havoc in Karachi leaving five and several others critically injured as a result of electrocution in the early hours of Thursday .

مشرف کو واپس آ کر عدالتوں کا سامنا کرنا چاہیے ؟

پاکستان کے واحد حیات سابق فوجی آمر کے طور پر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف ملک کے اس چھوٹے مگر اہم حصے کے ترجمان بن کر سامنے آئے ہیں۔ اپنے حریف میاں محمد نواز شریف کے سیاسی زوال کے بعد سابق آمر نے سویلین سیاستدانوں کے خلاف ایک کے بعد ایک تبصرے کیے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر کو ایک ایسے فرد کی بیان بازی کے طور پر نظرانداز کیا جا سکتا ہے جو آج کے دور میں اپنی محدود سیاسی حیثیت کو تسلیم کرنے میں ناکام ہے۔ مگر اپنے مخصوص انداز میں سابق آمر اپنی حدیں پار کر چکے ہیں۔ خود ساختہ جلاوطنی کے دوران بی بی سی اردو کو دیے گئے ایک حیران کن انٹرویو میں مشرف نے نا صرف اپنے دور کا دفاع کیا، بلکہ ایوب اور ضیاء ادوار کا بھی۔

شکر ہے کہ مشرف کے لیے بھی یحییٰ خان کے دور کا دفاع کرنا ایک انتہائی قدم ہوا اور وہ اس سے باز رہے۔ مگر پھر بھی ملکی تاریخ کی دو انتہائی تباہ کن فوجی آمریتوں کا شرمناک دفاع اور تمام سویلین سیاستدانوں کو کھلے عام برا بھلا کہنا ایک غیر معمولی بات ہے۔ مشرف بھلے ہی معذرت خواہ نہ ہوں، مگر وہ انتہائی غلط ضرور ہیں۔ فوجی حکومتیں ملک کے لیے کتنی تباہ کن رہی ہیں، اس کا اندازہ اس آسان معیار سے لگایا جا سکتا ہے جو مشرف کی بھی سمجھ میں آئے گا: زیادہ تر نے دفتر رسوائی کے بعد چھوڑا، اور ہر آمریت کے بعد ملک میں اتفاقِ رائے پیدا ہوا کہ سویلین حکومت کی جانب لوٹنا ضروری ہے ( جنرل ایوب کے معاملے میں غیر معمولی سیاسی صورتحال نے اس ناگزیر مرحلے کو کچھ حد تک ٹال دیا)۔

خود مشرف سنگین قانونی مسئلے سے خود کو بچانے کے لیے بیماری کا بہانہ کرنے اور اپنے ادارے کو استعمال کر کے ملک سے بھاگنے پر مجبور ہوئے۔ اب جبکہ ان کے حریف سیاسی دوڑ سے باہر نکل گئے ہیں، تو مشرف کو اپنے اس نظریے، کہ پاکستانی عوام سویلین حکمرانوں سے زیادہ فوجی حکمرانوں کو ترجیح دیتے ہیں، کو اس طرح آزمانا چاہیے کہ وہ واپس آئیں اور عدالتوں کا سامنا کریں۔ یقیناً مشرف کے نزدیک جن عدالتوں نے نواز شریف کے معاملے میں انصاف کیا ہے، وہ ‘عوام کے پسندیدہ حکمران’ کے ساتھ بھی انصاف ہی کریں گی، مشرف کی اپنی دلیل کے مطابق۔

 بنیادی سوال — کہ پاکستان میں احتساب صرف سویلین سیاستدانوں کا ہی کیوں ہوتا ہے؟ — کا جواب مشرف کی ہٹ دھرم اور شدید بے وقوفانہ گفتگو میں چھپا ہے۔ یقیناً آج مشرف کو آزادی آئینی نظام کے مسخ کیے جانے کی وجہ سے حاصل ہے جس کی بنیادی وجہ آئین کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی منتخب اور اپنے مفاد کے لیے تشریح ہے۔ موجودہ عسکری قیادت کو عوامی طور پر مشرف کے بیانات سے اظہارِ لاتعلقی کرنا چاہیے۔

یہ اداریہ ڈان اخبار میں 5 اگست 2017 کو شائع ہوا۔
 

پاکستان اب ایران کے نشانے پر بھی ؟

پاکستان کو ایران سے دھمکی ملی ہے، یہ دھمکی سرجیکل اسٹرئیک کی ہے، ایرانی افواج کے سربراہ نے یہ دھمکی دی ہے، پتہ نہیں ایرانی حکومت ا ور میڈیا نے اپنے کمانڈرا نچیف پر اعتراض کیا ہے کہ نہیں کہ آپ کون ہوتے ہیں ، ایک دوست اسلامی برادر ملک پاکستان کو دھمکانے والے اور ایسا خوفناک بیان جاری کرنے والے، یہ بیان ایران کی حکومت دیتی تو ہم سمجھتے کہ یہ ایران کی پالیسی کا حصہ ہے مگر کیا پتہ کہ ایرانی آرمی چیف نے اپنی طرف سے بڑ ہانک دی ہو اور اب انہیں اپنے فارن آفس یا پارلمنٹ یا میڈیا یا صدر ممکت کے سامنے پیش ہو کر وضاحتیں کرنا پڑ جائیں۔ پاکستان میں فوج نے ایک ٹویٹ کیا تو لوگ اسکی جان کو آ گئے کہ دیکھو حکم عدولی ہو گئی، چین آف کمانڈ خراب ہو گئی ، بلا تاخیر اسے زہر قاتل قرار دے ڈالا۔
مگر جب پاکستان کے خلاف بھارتی آرمی چیف کہتے ہیں کہ پاکستان پر فوج کشی نہیں کریں گے، انہی کے آدمی کرائے پر لے کر ان کا خون بہائیں گے۔ تو کیا بھارتی حکومت یا سول سوسائٹی نے اسے برا بھلا کہا۔ امریکی سی آئی اے کے سربراہ نے کہا کہ اسامہ بن لادن پاکستان میں ہوا تو ہم اس کے خلاف کاروائی کریں گے اور پھر چند برس بعد یہ دھمکی حقیقت میں بدل گئی، بش نے اور اوبامہ نے کہا کہ جہاں کہیں کسی امریکی کی جان کو خطرہ ہوا تو اس ملک کے خلاف ایکشن لیں گے اور امریکہ پچھلے پندرہ برس سے پوری دنیا کو نشانہ بنا رہا ہے، بھارتی حکومت نے اوڑی سانحے کے بعد دھمکی دی کہ وہ سرجیکل اسٹرائیک کریں گے اور پاکستان کے اند ر جہادی ٹھکانوں کو نشانہ بنائیں گے، اور پھر انہوں نے دعوی کر دیا کہ یہ سرجیکل اسٹرائیک ہو گئی، یہ اسٹرائیک ایک معمہ بن گئی کہ ہوئی یا نہ ہوئی مگر بھارتی حکومت دنیا کے سامنے سچی ہو گئی کہ    اسنے اپنی دھمکی پر عمل کر دکھایا، اب وہی دھمکی، اسی ہی زبان میں ایرانی آرمی چیف نے پاکستان کو دی ہے، یہ سرجیکل اسٹرائیک کی دھمکی ہے، اس کے دو حصے ہیں کہ پاکستان ان دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کرے جو ایران میں کارروائیاں کرتے ہیں اور گر پاکستان نے خاموشی اختیار کی تو ایران ان ٹھکانوں کو نشانہ بنائے گا۔
سرتاج عزیز نے رسمی طور پر کہہ دیا کہ ہمیں دہشت گردوں کے ٹھکانوں سے مطلع کرو، ہم کاروائی کریں گے مگر ایران ا س پر مطمئن نہیں ہو گا، ہم نے ہمیشہ کہا کہ گڈا ور بیڈ طالبان کی تمیز کئے بغیر ضرب عضب کا آپریشن کر رہے ہیں مگر امریکہ ہماری بات پر یقین نہیں کرتا، امریکہ تو خیر اس معاملے میں حریف ہے، خود ہمارا میڈیا اور ہماری سول سوسائٹی نہیں مانتی اور اس کا الزام ہے کہ ہم حقانی گروپ کی پشت پناہی کر رہے ہیں ، ڈان لیکس کا سارا  جھگڑا ہی اسی بنیاد پر ہے، ہم گھر پھونک تماشہ دیکھنے والی قوم بن گئے ہیں، آپس میں جو تم پیزار چلتی رہتی ہے اور باقی کسر بھارت، افغانستان اور ایران نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ہمارے ہاں جھگڑا ہی یہ ہے کہ پاکستان کو خطے میں یا عالمی برادری میں کس نے تنہا کیا، مگر یہ تنہائی صاف نظر ا ٓ رہی ہے، مودی نے دھمکی دی تھی کہ وہ پاکستان کو تنہا کر کے رکھ دے گا، اندرا گاندھی نے بھی ستر اکہتر میں پہلے تو پاکستان کو یکہ و تنہا کیا، اسے عالمی تنہائی کا شکار کیا اور پھر پاکستان کو شکار کیا۔ کیا یہ ڈرامہ پھر دہرایا جانے والا ہے۔ خدا نخواستہ!! اور ا س کا نتیجہ کیا نکلے گا۔ ایران کے آرمی چیف کو سوچ سمجھ کر بات کرنی چاہئے تھی، انہیں ایک نظر پاک ایران تعلقات کی طویل تاریخ اور مشترکہ تہذیبی ا ور ثقافتی رشتوں پر بھی ڈال لینی چاہئے تھی، سارے مسئلے دھمکیوں اور سرجیکل اسٹرائیکوں سے حل نہیں ہوتے، اگر پاکستان پر ایران نے سرجیکل اسٹرائیک کی تو پاکستان نے چوڑیاں نہیں پہن رکھیں۔ ایران کو پاکستان کی دفاعی قوت کے بارے میں کسی غلط فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہئے۔ ایران اس بھول میں نہ رہے کہ پاکستان میں سیاسی سطح پر جوتیوں میں دال بٹ رہی ہے مگر وہ یاد رکھے کہ ہماری دفاعی پالیسی ایک طے شدہ امر ہے ا ور ہم اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے۔
افغانستان نے دانت دکھانے کی کوشش کی تو منہ کی کھائی ، وہ طورخم بارڈر پر لڑا، اب چمن بارڈر پر لڑا، مگر وہ پاک فوج کے حملے کی تاب نہیں لا سکا ، اب ایہ الگ بات ہے کی امریکی ا ور نیٹو افواج ا س کی مد د کو میدان میں نکل آئیں ۔ یہ ایک تیسری عالمی جنگ کا آغاز ہو گا ، پاکستان کے ساتھ چین ہو گا، روس ہو گا، واقعی سے پاکستان تنہا نہیں ہو گا اور یہی جو سیاسی جماعتیں چونچیں لڑا رہی ہیں، یہ اکٹھی نظر آئیں گی، کیا آرمی پبلک اسکول کے خلاف دہشت گردی کے بعد پاکستان میں اتحاد نہیں ہوا۔ بالکل ہوا۔ کیا کراچی آپریشن پر پورا ملک خوش نہیں، باکل خوش ہے اور مطمئن ہے اور ہر کسی نے سکون کا سانس لیا۔
ایران کی پاکستان سے لڑائی بنتی نہیں، اس سے ایک غلطی ہو گئی کہ کل بھوشن اس کی سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی کے لئے آتا جاتا رہا۔ تو کیا ایران اس غلطی پر اڑنا چاہتا ہے، کیا ملے گا یہ اڑی کر کے۔ ایران کے سورما تاریخ میں مشہور ہیں مگر پاکستان گیدڑوں کا ملک نہیں، پاک فوج کا ایک ایک سپاہی اور افسر سورما ہے۔ وہ داد شجاعت دینے میں کسی سے پیچھے نہیں، ایران نے بلا شبہہ عراق سے برسوں تک لڑائی کی مگر پاکستان کوعراق نہ سمجھ لیا جائے، پاکستان ایک امن پسند ملک ہے، ایران کا دوست ملک ہے، ہمسایہ ہے اور اسلامی رشتوں میں بندھا ہوا ہے، پاکستان کوکوئی ضرورت نہیں کہ اپنے ہمسائے سے چھیڑ چھاڑ کرے، دشمن قوتیں ضرور پاکستان سے آپریٹ کرتی ہوں گی اور ایران کو نقصان پہنچا رہی ہوں گی مگر پاکستان کی د شمن قوت بھارت تو علانیہ طور پر ایران سے کاروائیاں کرتی ہے ا ور ایک طوطا کل بھوشن ساری کہانی اگل چکا ہے، ایران کو ا س پر ندامت کا اظہار کرنا چاہئے اور اگرا سے کوئی اور حقیقی مسئلہ درپیش ہے تو اچھے ہمسایوں کی طرح مل بیٹھ کر اس کا حل نکالنا چاہئے ۔
 اسد اللہ غالب 
 

اسلامی فوجی اتحاد اور پاکستانی پالیسی کے تقاضے

اسلامی ممالک کا فوجی اتحاد، مشرق وسطیٰ کی سیکورٹی کے منظر نامے میں
ایک اہم تبدیلی کا آغاز ہے۔ اس اتحاد اور اس میں پاکستان کی شمولیت کے مضمرات نے نہ صرف مشرق وسطیٰ میں ارتعاش پیدا کیا بلکہ اس کی گونج مغربی حلقوں میں بھی سنی گئی۔ پاکستان کو اس اتحاد میں شمولیت پر نکتہ چینی کا ہدف بناتے ہوئے کبھی اسے سنی اتحاد کے مترادف اور کبھی خطے میں سنی شیعہ اختلاف کو ہوا دینے کی کوشش قرار دیا گیا۔ ان اعتراضات کا بغور جائزہ لیتے ہوئے ان کا جواب دوسری نوعیت کے دلائل سے دیا گیا کہ یہ اتحاد عالم اسلام کی فورسز کی محض صورت گری کرے گا، اس میں زمینی چیلنجوں سے نبرد آزما ہونے کی صلاحیت نہیں ہو گی۔

تاہم یہ اسلامی نیٹو تشکیل دینے کی نمائندگی ضرور کرے گا۔ دلائل کے تیسرے سلسلے میں یہ کہا گیا کہ پاکستان کو مشرق وسطیٰ کے سیکورٹی معاملات میں مبینہ کردار ادا کرنے کے بجائے اپنی اندرونی سرحدوں پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے اور اسے خطے کے کسی رسمی اتحاد میں شامل نہیں ہونا چاہیے۔ اس دلیل میں اس امر پر بھی زور دیا گیا ہے کہ اتحاد میں پاکستان کی شمولیت سے ایران ناراض ہو جائے گا جس کے نتیجے میں پاکستان کے لیے سیکورٹی کا مسئلہ مزید الجھ سکتا ہے۔ آخری دلیل کے مطابق پاکستان کو ادراک ہے کہ جنوبی ایشیا کی سیکورٹی کا مشرق وسطیٰ کی سیکورٹی سے کوئی اشتراک نہیں۔
ان تمام دلائل سے بظاہر لگتا ہے کہ پاکستان کا اس فوجی اتحاد کا حصہ بننا شاید اس کی خارجہ اور دفاعی پالیسی کا بد ترین فیصلہ ہے، لیکن پوری صورتحال کا قریب سے جائزہ لینے سے پتا چلتا ہے کہ حقیقت اس اسٹرٹیجک لینڈ سکیپ کے برعکس ہے جس کی بنیاد پر یہ سب کچھ کہا جا رہا ہے ۔ اولاً، اسلامی فوجی اتحاد اساسی طور پر دولت اسلامیہ (داعش) سے لاحق خطرات اور خطے میں اس کے ممکنہ فوجی عواقب کے خلاف ہے۔ ثانیاً، داعش ایک ایسا نقطہ ہے جس پر سنی اور شیعہ سوچ یکساں ہے، یعنی یہ ایک ایسا خطرہ ہے جسے عالم اسلام کو لگام دینے کی ضرورت ہے۔ اگرچہ یہ خوف بھی ہے کہ اس سے ایران اور سعودی عرب کے مابین اثر پذیری کی جنگ شروع ہو جائے گی جو شیعہ سنی خلیج کی شکل اختیار کر لے گی، لیکن اصل صورتحال یہ ہے کہ دونوں ریاستیں حقیقت پسند ہیں اور انہیں اچھی طرح ادراک ہے کہ داعش کے حوالے سے ایک دوسرے کے دائرہ اثر میں مداخلت کے نتیجے میں عالم اسلام میں ایک نئی مذہبی قیادت کو ابھرنے کا موقع ملے گا، جس کا کرتا دھرتا داعش اور حوثیوں کی طرح نان اسٹیٹ ایکٹرز ہوں گے، جن کی نوعیت اگرچہ قبائلی ہے مگرہ وہ مذہب کی ایک بہت سے مختلف شکل کی نمائندگی کرتے ہیں جس کا سعودی عرب اور ایران کے مستند سنی اور شیعہ مسالک سے کوئی تعلق نہیں۔

ثالثاً، مجموعی طور پر یہ گروہ کوئی کمتر خطرہ نہیں ، اس لیے کہ اس میں شامل مختلف گروپ ٹی 62 اور ٹی 72 ٹینکوں سے ہووٹزر(Howitzer) گنوں جیسے بھاری فوجی ہتھیار تک استعمال کرنے کے قابل ہیں، وہ اپنی مجموعی آمدنی کا 60 سے 70 فی صد عراق میں تیل اور گیس اپنے انٹرنیشنل پارٹنرز کے ہاتھ بیچ کر حاصل کرتے ہیں ان حالات میں مغرب کی سربراہی میں پورا فوجی اتحاد مبینہ طور پر اس کے ابھار کے خلاف لڑ رہا ہے۔ یہ صورتحال ان گروپو ں کی وسعت پذیر صلاحیت کو روکنے میں ناکامی کا پتا دیتی ہے، جس کی وجہ دور خاطرز عمل ہے جو مشرق وسطیٰ میں دہشت گرد گروپوں کی موجودگی اور عالم اسلام کے ضمن میں اختیار کیا جاتا ہے۔ ایک سطح پر انہیں عراق اور شام کی اعتدال پسند فورسز کے لیے خطرہ گردانا جاتا ہے اور دوسری جانب انہیں بشار الاسد اور روس کا اثر کنٹرول کرنے میں مغرب اور امریکا کا سٹریٹجک پارٹنر سمجھا جاتا ہے۔ لہذا جب تک بین الاقوامی برادری ان دہشت گرد گرپوں کے بارے میں حتمی فیصلہ نہیں کرتی، یہ خطے میں عسکری چیلنج بنے رہیں گے۔ اب تو وہ اپنے نظریات، مالی امداد اور سیاسی بنیادیں مختلف متصادم علاقوں اور اپنی اسٹرٹیجک ضرورت کے علاقوں کو برآمد بھی کر رہے ہیں۔

ان میں پہلے افغانستان اور جنوبی ایشیا ہیں، اس کے بعد ایشیائی بحر الکاہل کی باری آئے گی۔ اب تک مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے 15000 جنگجوؤں کو تربیت دی جا چکی ہے۔ ان کی ممکنہ رکنیت اور مقاصد تاحال غیر متعین ہیں لیکن ایک بات یقینی ہے کہ وہ اسلامی ممالک کی طرف سے انسداد دہشت گردی کی کوششوں کے لیے ایک واضح خطرہ ہیں۔ دوسرے، اسلامی فورسز اور ریاستوں کے مابین جوائنٹ انٹیلی جنس شیئرنگ کا کوئی میکنزم موجود نہیں ہے، ان کا انحصار مغرب پر ہے جو ان کا پارٹنر ہے، لہذا وہ اسی کی عینک سے دہشت گردی کو دیکھنے پر مجبور ہیں تیسرے، ان گروپوں کی بڑھتی ہوئی فوجی صلاحیت اور اس کے ساتھ ساتھ تنہا اپنے زور بازو پر پوری دنیا میں دہشت گردانہ حملے کرنے کی اہلیت بہت بڑا چیلنج ہے ۔عالم اسلام تو یقینی طور پر ان کے حملوں کی زد میں ہے، لہذا آئندہ قیادت کو اس کا خاطر خواہ جوا ب دینا ہو گا۔
فوجی اتحاد کی شکل میں مسلمان ممالک کا قریب آنا ایک قدرتی تقاضا ہے، اس سے خطرے کی گھنٹیاں نہیں بجنا چاہئیں، اس لیے کہ اگر تقریباً تمام مسلم ریاستوں کا مغرب کو مرکزی حیثیت دے کر انسداد دہشت گردی کے اتحاد میں شامل ہونا قابل تحسین ہے تو پھر داعش کے خلاف ان کے اسلامی فوجی اتحاد میں کیا قباحت ہے؟
اگر ایران پر عائد پابندیاں اٹھائی جا سکتی ہیں اور مغربی ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات ٹھیک ہو سکتے ہیں تو یہ کیوں سوچا جاتا ہے کہ ایران، داعش کے خلاف اتحاد میں شامل نہیں ہو گا۔ آخر ایران اسلامی تنظیم کانفرنس (او آئی سی) کا رکن ہے، اس کے باوجود کہ اس کے بیشتر رکن ممالک سنی ہیں۔ دراصل شیعہ سنی بحث تازہ ترین پیشرفت جہاں سعودی عرب کو کٹر یا سخت گیر سنی ریاست اور ایران کو جنونی شیعہ ریاست کہا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے، اس لیے کہ دونوں ریاستیں مختلف مسالک کی حامل ہونے کے باوجود عملیت پسند بھی ہیں، وہ اپنے مسلکی رنگ سے بالا ہو کر اتحادوں میں شامل ہونے اور بین الاقوامی نظام کے ساتھ معاملہ بندی کرنے کی زبردست صلاحیت رکھتی ہیں۔ اس لیے اگر پاکستان اس اتحاد میں شامل ہوتا ہے اسے شیعہ اور سنی کا رنگ دینے کی بجائے ایک ریاست اور حقیقی سیاسی صورت حال کی روشنی میں دیکھا جانا چاہیے۔
اگر یہ اتحاد شیعہ مخالف نہیں بلکہ داعش مخالف ہے تو ایک بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کی اس میں شمولیت کو متنازع کیوں بنایا جا رہا ہے، بالخصوص اس حقیقت کے باوجود کہ تقریباً تیس لاکھ پاکستانی باشندے مشرق وسطیٰ میں مقیم ہیں یا ان وہاں کاروباری آنا جانا لگا رہتا ہے اور اگر اتحاد کا ایجنڈا بھی فطری ہے تو پھر مغرب کو کیوں فکر لاحق ہے؟ موجودہ دور میں پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جنہوں نے انسداد دہشت گردی کی مہم چلائی اور قومی وبین الاقوامی سطح پر کامیاب ہوا۔ پاکستان کی فوجی اہلیت مشرق وسطیٰ میں ٹریننگ، فوجی صلاحیت میں اضافے اور ممکنہ اسلامی نیٹو تشکیل دینے میں ممد ومعاون ثابت ہو سکتی ہے۔ علاوہ ازیں پاکستان واحد ملک ہے جس کے ایران اور سعودی عرب دونوں کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں اس لیے وہ شیعہ سنی رنگ کو مدھم کر سکتا ہے۔ پاکستان واحد ملک ہے جو نہ صرف دہشت گردی کے خلاف بین الاقوامی فوجی مہم کی قیادت کر سکتا ہے بلکہ یہ مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کو متاثر کرنے والے دہشت گرد گروپوں کے خلاف گیم چینجر کردار ادا کرنے کا دم خم بھی رکھتا ہے۔ پاکستان اور ترکی کی دفاعی پیداوار، مصری افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور پاکستان کی قیادت مل کر اسلامی نیٹو کو حقیقی روپ دے سکتے ہیں اور یہ مشرق وسطیٰ میں مغربی بالادستی ولے سیکورٹی نظام کے لیے چیلنج ثابت ہو سکتا ہے، اس لیے کہ وہاں سیکورٹی کے عصبی مرکز کی جگہ اسلامی ممالک کا نیا اتحاد لے لے گا۔
آخری بات یہ کہ پاکستان اور اس خطے کی سیکورٹی کا مشرق وسطیٰ کی سیکورٹی کے استحکام سے قریبی تعلق ہے جسے کسی بھی صورت میں مغرب کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا، اس لیے کہ ان کا ماضی ظاہر کرتا ہے کہ مغرب نے خطے میں صرف اپنے مفادات کو فوقیت دی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ علاقائی رہنما اور پوری اسلامی دنیا خطے اور عالمی سیکورٹی نظام میں اپنا جائز حق حاصل کرے۔ یاد رکھیں کہ پاکستان کا فیصلہ دوسرے ممالک نہیں بلکہ اس کے مفادات اور عالمی نظام سے اس کے روابط کی بنیاد پر ہو گا جو وہ خود کرے گا۔
ڈاکٹر ماریہ سلطان
بشکریہ روزنامہ 92 نیوز

مردم شماری

سخت گرمی، دھوپ اور پیاس میں سارا دن گلیوں میں گھومنا۔ دھول مٹی کا سامنا۔

میں مردم شماری ٹیم میں شامل تھا۔ پیشہ ورانہ ذمہ داریوں اور لوگوں کے عجیب و غریب رویوں کے درمیان توازن برقرار رکھنا۔ گھر گھر جانا اور لوگوں کے کوائف اکھٹے کرنا۔ ایک تھکا دینے والا مشکل کام۔ جو ہمیں روز کرنا پڑتا ہے۔ اس دن ہم سندھ کے دور افتادہ علاقے میں چھوٹے سے گھر تک پہنچے۔ ٹوٹے ہوئے دروازے پر لٹکا ہوا ٹاٹ کا پردہ گھر کی زبوں حالی چھپانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ ’’مردم شماری ٹیم!‘‘میں نے دروازہ بجاتے ہوئے آواز لگائی۔ کچھ دیر میں ایک بوڑھی عورت اپنی پیوند زدہ چادر سنبھالتی ہوئی باہر آ گئی۔ زندگی میں آنے والے نشیب و فراز ، ہزاروں جھریاں بن کر اس کے چہرے پر ثبت ہو گئے تھے۔ 

ہمیں دیکھ کر وہ یوں مسکرائی گویا ہمارا ہی انتظار کر رہی ہو۔ ’’اماں! گھر میں کتنے افراد ہیں؟‘‘ میں نے پوچھا۔ ’’بس میں اور میرا بیٹا۔‘‘ وہ اپنا پوپلا منہ کھول کر بولی۔ ’’اچھا! کیا نام ہے اس کا؟‘‘ میں رجسٹر پر لکھنے لگا۔ ’’ساجد وہ بھی تیری طرح فوج میں ہے۔ لاہور میں مردم شماری ڈیوٹی لگی ہے۔‘‘ اس نے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر آنکھوں کو سورج کی روشنی سے بچاتے ہوئے کہا۔ ’’مگر وہ یہاں نہیں رہتا۔ صرف چھٹیوں میں آتا ہے۔ ‘‘وہ کچھ سوچ کر اداس ہو گئی۔ میرا دل بجھ گیا۔ ایک اکیلی بوڑھی عورت جس کی آنکھیں اپنے بیٹے کو دیکھنے کے لئے ترس جاتی ہونگی۔ ’’ہاں اماں! نام تو لکھنا پڑے گا ناں۔ ‘‘میں نے سوچوں کو جھٹک دیا۔ ’’ٹھہر میں تیرے لئے پانی لاتی ہوں۔‘‘ وہ بمشکل اٹھی اورمسکرا کر اندر چلی گئی۔ وطن کے لئے ہم فوجیوں کو کتنی جدائیاں سہنا پڑتی ہیں۔ مجھے اپنی ماں یاد آنے لگی۔
کچھ لمحے گزرے ہونگے کہ اندر سے اس کے رونے کی آواز آنے لگی۔ وہ کسی سے فون پر بات کر رہی تھی۔ میں نے کان لگا کر سننے کی کوشش کی لیکن کچھ سمجھ نہیں آیا۔ میں بے چین ہو گیا۔ اندر جانا خلاف ڈیوٹی تھا۔ اضطراب میں پہلو بدلتا رہا۔ تھوڑی دیر بعد وہ آنسو پونچھتی ہوئی باہر آ گئی۔ میں سوال کرنے ہی والا تھا کہ وہ بولی۔ ’’بیٹا! ساجد کا نام لکھا کیا لسٹ میں؟‘‘ ’’ہاں اماں ! لکھ لیا‘‘میں جلدی سے بولا۔ ’’کاٹ دے۔‘‘وہ روتی ہوئی وہیں دروازے پر گر پڑی۔ میں آنکھیں پھاڑے اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ ’’بیدیاں روڈ پر دھماکہ ہو گیا ہے۔ ظالموں نے اسے مار ڈالا۔‘‘وہ چلا رہی تھی۔ میری ٹیم کے ساتھی بھاگ کر وہاں جمع ہو گئے۔ جو اپنوں کو شمار کرنے نکلا تھا، اب خود شمار نہیں ہو سکتا تھا۔ مجھے چکر آنے لگے۔ رجسٹر میرے ہاتھ سے گر گیا۔
ذیشان یاسین
 

پاکستان میں نیم فوجی فورسز کہاں کہاں تعینات ہیں؟

پاکستان میں پنجاب رینجرز ویسے تو صوبے کے بعض ضلعوں کے علاوہ ملک
کے دیگر علاقوں میں بھی اندرونی سلامتی سے متعلق فرائض انجام دے رہی ہے لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ اس نیم فوجی دستے کو ملک کے سب سے بڑے صوبے میں قیامِ امن کی ذمہ داری دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پاکستان رینجرز کو ملک کا سب سے بڑا نیم فوجی دستہ تصور کیا جاتا ہے جس کے قیام کا مقصد ملک کی مشرقی سرحد کی حفاظت کرنا ہے۔ پاکستان کے دو صوبوں سندھ اور پنجاب کی سرحد انڈیا کے ساتھ ملتی ہے اس لیے ان دو صوبوں میں پاکستان رینجرز کے صدر دفاتر بنائے گئے ہیں۔

صوبہ سندھ میں ‘سندھ رینجرز’ کئی دہائیوں سے سرحدوں کے علاوہ شہری علاقوں میں بھی قیام امن کی ذمہ داری ادا کر رہی ہے۔ پنجاب رینجرز کی ویب سائٹ پر شائع تفصیلات مطابق سرحدوں کی حفاظت کے علاوہ پنجاب ریجنرز بوقت ضرورت ملک کے اندر قیام امن کی ذمہ داری بھی ادا کرتی ہے۔ ضرورت کے مطابق قلیل مدت کی تعیناتی کے علاوہ ملک کے بعض علاقوں میں پنجاب رینجرز قیام امن کے لیے مستقل بنیادوں پر بھی تعینات ہیں جن میں گلگت بلتستان، اسلام آباد، تربیلا، راجن پور کے علاوہ صوبہ سندھ کا ضلع کشمور بھی شامل ہے۔ رینجرز کی صوبائی سطح پر سربراہی میجر جنرل رینک کا فوجی افسر کرتا ہے جو وزارت داخلہ کے ماتحت ہوتا ہے۔

رینجرز کی طرح اس نیم فوجی دستے کے بھی دو حصے ہیں۔ ایک بلوچستان میں امن قائم کرنے کی ذمہ داری ادا کرتا ہے جب کہ دوسرا حصہ خیبر پختونخوا اور وفاقی کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں میں تعینات ہے۔ رینجرز کی طرح اس نیم فوجی دستے کی قیادت بھی صوبے کی سطح پر میجر جنرل کے رینک کا فوجی افسر کرتا ہے اور وہ اصولی طور پر وزارت داخلہ کو جوابدہ ہوتا ہے۔ لیکن ان دونوں صوبوں میں جاری شورش اور شدت پسندی کے باعث فرنٹئیر کور کے اختیارات رینجرز کے مقابلے میں بہت مختلف اور زیادہ ہیں جن پر بعض سیاستدانوں اور سول سوسائٹی کے رہنماؤں کی جانب سے گاہے بگاہے تنقید بھی سامنے آتی رہتی ہے۔

فرنٹیئر کانسٹیبلری
ملک کے چاروں صوبوں میں ان بڑے نیم فوجی دستوں کے علاوہ بعض دیگر نیم فوجی دستے بھی پاکستان کے مختلف علاقوں میں قیام امن کے لیے پولیس کو معاونت فراہم کرتے ہیں۔ فرنٹیئر کانسٹیبلری ان میں نمایاں ہے۔ یہ فورس بنیادی طور پر خیبر پختونخوا میں قیامِ امن کے لیے پولیس کی معاونت کے لیے بنائی گئی تھی لیکن اہم مقامات، خاص طور پر غیر ملکی سفارت کاروں کے تحفظ کے لیے اس فورس کے اہلکار ملک بھر میں تعینات کیے جاتے ہیں۔ اس فورس کو باقاعدہ طور پر وفاقی نیم فوجی دستہ کہا جا سکتا ہے کیونکہ اس کی سربراہی پولیس افسر کرتا ہے جسے وفاقی وزارت داخلہ براہ راست تعینات کرتی ہے۔
لیویز
یہ نیم فوجی دستہ صوبہ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور شمالی علاقوں کے مختلف اضلاع میں تعینات کیے جاتے ہیں۔ ان دستوں کی قیادت تو پاکستان کی بری فوج کے افسر کرتے ہیں لیکن ان میں مقامی افراد کو بھرتی کیا جاتا ہے۔ ان مقامی نیم فوجی دستوں کو قائم کرنے کا مقصد ان افراد کا اپنے علاقوں کے بارے میں معلومات کو استعمال کرنا بھی بتایا جاتا ہے۔ ان مقامی نیم فوجی دستوں میں چترال سکاؤٹس، خیبر رائفلز، سوات لیویز، کرم ملیشیا، ٹوچی سکاؤٹس، ساؤتھ وزیرستان سکاؤٹس، ژوب ملیشیا اور گلگت سکاؤٹس شامل ہیں۔
دیگر نیم فوجی دستے
ملکی بندرگاہوں، سمندری حدود اور ہوائی اڈوں کی حفاظت کے لیے چھوٹے چھوٹے نیم خود مختار نیم فوجی دستے بھی بنائے گئے ہیں جن کا مینڈیٹ مخصوص علاقوں یا تنصیبات کی حفاظت تک ہی محدود ہوتا ہے۔
انسداد دہشت گردی کی خصوص فورسز
گذشتہ چند برسوں کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں نے اپنے خود مختار حفاظتی دستے بھی تیار کیے ہیں جن کے بارے میں زیادہ معلومات جاری نہیں کی جاتیں۔ ان میں پاکستان کی ایٹمی تنصیبات کی حفاظت کے لیے تیار کی گئی خصوص فورس، پولیس اور دیگر انٹیلیجن ایجنسیوں کے اپنے نیم فوجی دستے شامل ہیں۔ ان تمام نیم فوجی دستوں کی تعداد کو خفیہ رکھا جاتا ہے تاہم بعض اندازوں کے مطابق ان تمام فورسز کی مجموعی تعداد پانچ لاکھ کے قریب ہے۔
آصف فاروقی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

راحیل شریف کی سعودی عرب میں تعیناتی کی تین شرائط

سعودی اتحاد کی کمان سابق آرمی چیف راحیل شریف نے تین شرائط پر سنبھالنے
کی حامی بھری جبکہ سعودی عہدیداروں سے ملاقات میں وزیراعظم نوازشریف نے بھی آمادگی ظاہر کرتے ہوئے راحیل شریف کی تعیناتی کو پاکستان کیلئے اعزاز قرار دیا۔ جنرل (ر) امجد شعیب کا کہنا تھا کہ سعودی حکام نے وزیراعظم نواز شریف سے بات کی تھی کہ جنرل راحیل شریف کو اسلامی فوجی اتحاد کا سربراہ بنایا جائے جس کی انہوں نے اجازت دی تھی ۔ 

اُنہوں نے کہا کہ راحیل شریف نے اسلامی فوجی اتحاد کا سربراہ بننے کیلئے سعودی عرب کے سامنے 3 شرائط رکھی تھیں، پہلی شرط، ایران کو فوجی اتحاد میں شامل کیا جائے، چاہے وہ مبصر کی حیثیت سے ہی ہو، دوسری شرط یہ تھی کہ راحیل شریف کسی کی کمان میں کام نہیں کریں گے، ایسا نہ ہو کہ اصل سربراہی کسی سعودی کمانڈر کے پاس ہو اور انہیں اس کے نیچے کام کرنا پڑے۔ تیسری شرط یہ تھی کہ انہیں مسلم ممالک میں ہم آہنگی پیدا کرنے کیلئے صلح کار کے طور پر کام کرنے کی اجازت ہونی چاہئے، بوقت ضرورت وہ مسلم دنیا میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ راحیل شریف سے رابطہ ہوا اور یہ سب کچھ راحیل شریف نے ہی بتایا۔