مردم شماری

سخت گرمی، دھوپ اور پیاس میں سارا دن گلیوں میں گھومنا۔ دھول مٹی کا سامنا۔ میں مردم شماری ٹیم میں شامل تھا۔ پیشہ ورانہ ذمہ داریوں اور لوگوں کے عجیب و غریب رویوں کے درمیان توازن برقرار رکھنا۔ گھر گھر جانا اور لوگوں کے کوائف اکھٹے کرنا۔ ایک تھکا دینے والا مشکل کام۔ جو ہمیں روز کرنا پڑتا ہے۔ اس دن ہم سندھ کے دور افتادہ علاقے میں چھوٹے سے گھر تک پہنچے۔ ٹوٹے ہوئے دروازے پر لٹکا ہوا ٹاٹ کا پردہ گھر کی زبوں حالی چھپانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ ’’مردم شماری ٹیم!‘‘میں نے دروازہ بجاتے ہوئے آواز لگائی۔ کچھ دیر میں ایک بوڑھی عورت اپنی پیوند زدہ چادر سنبھالتی ہوئی باہر آ گئی۔ زندگی میں آنے والے نشیب و فراز ، ہزاروں جھریاں بن کر اس کے چہرے پر ثبت ہو گئے تھے۔

ہمیں دیکھ کر وہ یوں مسکرائی گویا ہمارا ہی انتظار کر رہی ہو۔ ’’اماں! گھر میں کتنے افراد ہیں؟‘‘ میں نے پوچھا۔ ’’بس میں اور میرا بیٹا۔‘‘ وہ اپنا پوپلا منہ کھول کر بولی۔ ’’اچھا! کیا نام ہے اس کا؟‘‘ میں رجسٹر پر لکھنے لگا۔ ’’ساجد وہ بھی تیری طرح فوج میں ہے۔ لاہور میں مردم شماری ڈیوٹی لگی ہے۔‘‘ اس نے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر آنکھوں کو سورج کی روشنی سے بچاتے ہوئے کہا۔ ’’مگر وہ یہاں نہیں رہتا۔ صرف چھٹیوں میں آتا ہے۔ ‘‘وہ کچھ سوچ کر اداس ہو گئی۔ میرا دل بجھ گیا۔ ایک اکیلی بوڑھی عورت جس کی آنکھیں اپنے بیٹے کو دیکھنے کے لئے ترس جاتی ہونگی۔ ’’ہاں اماں! نام تو لکھنا پڑے گا ناں۔ ‘‘میں نے سوچوں کو جھٹک دیا۔ ’’ٹھہر میں تیرے لئے پانی لاتی ہوں۔‘‘ وہ بمشکل اٹھی اورمسکرا کر اندر چلی گئی۔ وطن کے لئے ہم فوجیوں کو کتنی جدائیاں سہنا پڑتی ہیں۔ مجھے اپنی ماں یاد آنے لگی۔

کچھ لمحے گزرے ہونگے کہ اندر سے اس کے رونے کی آواز آنے لگی۔ وہ کسی سے فون پر بات کر رہی تھی۔ میں نے کان لگا کر سننے کی کوشش کی لیکن کچھ سمجھ نہیں آیا۔ میں بے چین ہو گیا۔ اندر جانا خلاف ڈیوٹی تھا۔ اضطراب میں پہلو بدلتا رہا۔ تھوڑی دیر بعد وہ آنسو پونچھتی ہوئی باہر آ گئی۔ میں سوال کرنے ہی والا تھا کہ وہ بولی۔ ’’بیٹا! ساجد کا نام لکھا کیا لسٹ میں؟‘‘ ’’ہاں اماں ! لکھ لیا‘‘میں جلدی سے بولا۔ ’’کاٹ دے۔‘‘وہ روتی ہوئی وہیں دروازے پر گر پڑی۔ میں آنکھیں پھاڑے اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ ’’بیدیاں روڈ پر دھماکہ ہو گیا ہے۔ ظالموں نے اسے مار ڈالا۔‘‘وہ چلا رہی تھی۔ میری ٹیم کے ساتھی بھاگ کر وہاں جمع ہو گئے۔ جو اپنوں کو شمار کرنے نکلا تھا، اب خود شمار نہیں ہو سکتا تھا۔ مجھے چکر آنے لگے۔ رجسٹر میرے ہاتھ سے گر گیا۔

ذیشان یاسین

Advertisements

پاکستان میں نیم فوجی فورسز کہاں کہاں تعینات ہیں؟

پاکستان میں پنجاب رینجرز ویسے تو صوبے کے بعض ضلعوں کے علاوہ ملک کے دیگر علاقوں میں بھی اندرونی سلامتی سے متعلق فرائض انجام دے رہی ہے لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ اس نیم فوجی دستے کو ملک کے سب سے بڑے صوبے میں قیامِ امن کی ذمہ داری دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پاکستان رینجرز کو ملک کا سب سے بڑا نیم فوجی دستہ تصور کیا جاتا ہے جس کے قیام کا مقصد ملک کی مشرقی سرحد کی حفاظت کرنا ہے۔ پاکستان کے دو صوبوں سندھ اور پنجاب کی سرحد انڈیا کے ساتھ ملتی ہے اس لیے ان دو صوبوں میں پاکستان رینجرز کے صدر دفاتر بنائے گئے ہیں۔

صوبہ سندھ میں ‘سندھ رینجرز’ کئی دہائیوں سے سرحدوں کے علاوہ شہری علاقوں میں بھی قیام امن کی ذمہ داری ادا کر رہی ہے۔ پنجاب رینجرز کی ویب سائٹ پر شائع تفصیلات مطابق سرحدوں کی حفاظت کے علاوہ پنجاب ریجنرز بوقت ضرورت ملک کے اندر قیام امن کی ذمہ داری بھی ادا کرتی ہے۔ ضرورت کے مطابق قلیل مدت کی تعیناتی کے علاوہ ملک کے بعض علاقوں میں پنجاب رینجرز قیام امن کے لیے مستقل بنیادوں پر بھی تعینات ہیں جن میں گلگت بلتستان، اسلام آباد، تربیلا، راجن پور کے علاوہ صوبہ سندھ کا ضلع کشمور بھی شامل ہے۔ رینجرز کی صوبائی سطح پر سربراہی میجر جنرل رینک کا فوجی افسر کرتا ہے جو وزارت داخلہ کے ماتحت ہوتا ہے۔

رینجرز کی طرح اس نیم فوجی دستے کے بھی دو حصے ہیں۔ ایک بلوچستان میں امن قائم کرنے کی ذمہ داری ادا کرتا ہے جب کہ دوسرا حصہ خیبر پختونخوا اور وفاقی کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں میں تعینات ہے۔ رینجرز کی طرح اس نیم فوجی دستے کی قیادت بھی صوبے کی سطح پر میجر جنرل کے رینک کا فوجی افسر کرتا ہے اور وہ اصولی طور پر وزارت داخلہ کو جوابدہ ہوتا ہے۔ لیکن ان دونوں صوبوں میں جاری شورش اور شدت پسندی کے باعث فرنٹئیر کور کے اختیارات رینجرز کے مقابلے میں بہت مختلف اور زیادہ ہیں جن پر بعض سیاستدانوں اور سول سوسائٹی کے رہنماؤں کی جانب سے گاہے بگاہے تنقید بھی سامنے آتی رہتی ہے۔

فرنٹیئر کانسٹیبلری

ملک کے چاروں صوبوں میں ان بڑے نیم فوجی دستوں کے علاوہ بعض دیگر نیم فوجی دستے بھی پاکستان کے مختلف علاقوں میں قیام امن کے لیے پولیس کو معاونت فراہم کرتے ہیں۔ فرنٹیئر کانسٹیبلری ان میں نمایاں ہے۔ یہ فورس بنیادی طور پر خیبر پختونخوا میں قیامِ امن کے لیے پولیس کی معاونت کے لیے بنائی گئی تھی لیکن اہم مقامات، خاص طور پر غیر ملکی سفارت کاروں کے تحفظ کے لیے اس فورس کے اہلکار ملک بھر میں تعینات کیے جاتے ہیں۔ اس فورس کو باقاعدہ طور پر وفاقی نیم فوجی دستہ کہا جا سکتا ہے کیونکہ اس کی سربراہی پولیس افسر کرتا ہے جسے وفاقی وزارت داخلہ براہ راست تعینات کرتی ہے۔

لیویز

یہ نیم فوجی دستہ صوبہ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور شمالی علاقوں کے مختلف اضلاع میں تعینات کیے جاتے ہیں۔ ان دستوں کی قیادت تو پاکستان کی بری فوج کے افسر کرتے ہیں لیکن ان میں مقامی افراد کو بھرتی کیا جاتا ہے۔ ان مقامی نیم فوجی دستوں کو قائم کرنے کا مقصد ان افراد کا اپنے علاقوں کے بارے میں معلومات کو استعمال کرنا بھی بتایا جاتا ہے۔ ان مقامی نیم فوجی دستوں میں چترال سکاؤٹس، خیبر رائفلز، سوات لیویز، کرم ملیشیا، ٹوچی سکاؤٹس، ساؤتھ وزیرستان سکاؤٹس، ژوب ملیشیا اور گلگت سکاؤٹس شامل ہیں۔

دیگر نیم فوجی دستے

ملکی بندرگاہوں، سمندری حدود اور ہوائی اڈوں کی حفاظت کے لیے چھوٹے چھوٹے نیم خود مختار نیم فوجی دستے بھی بنائے گئے ہیں جن کا مینڈیٹ مخصوص علاقوں یا تنصیبات کی حفاظت تک ہی محدود ہوتا ہے۔

انسداد دہشت گردی کی خصوص فورسز

گذشتہ چند برسوں کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں نے اپنے خود مختار حفاظتی دستے بھی تیار کیے ہیں جن کے بارے میں زیادہ معلومات جاری نہیں کی جاتیں۔ ان میں پاکستان کی ایٹمی تنصیبات کی حفاظت کے لیے تیار کی گئی خصوص فورس، پولیس اور دیگر انٹیلیجن ایجنسیوں کے اپنے نیم فوجی دستے شامل ہیں۔ ان تمام نیم فوجی دستوں کی تعداد کو خفیہ رکھا جاتا ہے تاہم بعض اندازوں کے مطابق ان تمام فورسز کی مجموعی تعداد پانچ لاکھ کے قریب ہے۔

آصف فاروقی

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

راحیل شریف کی سعودی عرب میں تعیناتی کی تین شرائط

سعودی اتحاد کی کمان سابق آرمی چیف راحیل شریف نے تین شرائط پر سنبھالنے کی حامی بھری جبکہ سعودی عہدیداروں سے ملاقات میں وزیراعظم نوازشریف نے بھی آمادگی ظاہر کرتے ہوئے راحیل شریف کی تعیناتی کو پاکستان کیلئے اعزاز قرار دیا۔ جنرل (ر) امجد شعیب کا کہنا تھا کہ سعودی حکام نے وزیراعظم نواز شریف سے بات کی تھی کہ جنرل راحیل شریف کو اسلامی فوجی اتحاد کا سربراہ بنایا جائے جس کی انہوں نے اجازت دی تھی ۔

اُنہوں نے کہا کہ راحیل شریف نے اسلامی فوجی اتحاد کا سربراہ بننے کیلئے سعودی عرب کے سامنے 3 شرائط رکھی تھیں، پہلی شرط، ایران کو فوجی اتحاد میں شامل کیا جائے، چاہے وہ مبصر کی حیثیت سے ہی ہو، دوسری شرط یہ تھی کہ راحیل شریف کسی کی کمان میں کام نہیں کریں گے، ایسا نہ ہو کہ اصل سربراہی کسی سعودی کمانڈر کے پاس ہو اور انہیں اس کے نیچے کام کرنا پڑے۔ تیسری شرط یہ تھی کہ انہیں مسلم ممالک میں ہم آہنگی پیدا کرنے کیلئے صلح کار کے طور پر کام کرنے کی اجازت ہونی چاہئے، بوقت ضرورت وہ مسلم دنیا میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ راحیل شریف سے رابطہ ہوا اور یہ سب کچھ راحیل شریف نے ہی بتایا۔

کوئٹہ حملہ : شہید کیپٹن روح اللہ کیلئے تمغہ جرأت

 آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کوئٹہ کے پولیس ٹریننگ سینٹر میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے دوران جان کی بازی ہارنے والے کیپٹن روح اللہ کے لیے تمغہ جرأت اور زخمی نائب صوبیدار محمد علی کے لیے تمغہ بسالت کا اعلان کردیا۔ پاک افواج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کیپٹن روح اللہ اور نائب صوبیدار محمد علی کے لیے تمغوں کا اعلان کیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق دونوں جوان پولیس ٹریننگ سینٹر میں دہشت گردوں کے خلاف جوانمردی سے لڑے اور انھوں نے ایک خودکش حملہ آور کے حملے کو ناکام بنایا۔ کیپٹن روح اللہ کی فیس بک پروفائل کے مطابق وہ 5 مئی 1999 کو پیدا ہوئے تھے۔

یاد رہے کہ پیر 24 اکتوبر کی رات 11 بج کر 10 منٹ پر کوئٹہ کے سریاب روڈ پر واقع پولیس ٹریننگ کالج پر دہشت گردوں نے اس وقت دھاوا بولا جب کیڈٹس آرام کررہے تھے جس کے بعد فائرنگ اور دھماکوں کا آغاز ہوگیا۔ حملے کے نتیجے میں 60 اہلکار جاں بحق جبکہ 100 سے زائد زخمی ہوئے، عام طور پر اس اکیڈمی میں 700 کے قریب کیڈٹس موجود ہوتے ہیں۔ حملے کے بعد جائے وقوعہ پر فرنٹیئر کور (ایف سی) اور فوج کے اسپیشل سروسز گروپ (ایس ایس جی) کمانڈوز پہنچے جنہوں نے ریسکیو آپریشن شروع کیا۔

بلوچستان کے وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے بتایا تھا کہ واقعے میں تین دہشت گرد ملوث تھے، انہوں نے پہلے واچ ٹاور میں موجود گارڈ کو نشانہ بنایا اور پھر اندر اکیڈمی گراؤنڈز میں داخل ہوگئے۔ جوابی آپریشن کی قیادت کرنے والے فرنٹیئر کانسٹیبلری(ایف سی) بلوچستان کے آئی جی میجر جنرل شیر افگن نے بتایا تھا کہ ’ایف سی کے آنے کے تین سے چار گھنٹے بعد صورتحال پر قابو پالیا گیا‘۔

انہوں نے بتایا کہ دہشت گرد افغانستان میں موجود اپنے ساتھیوں سے مسلسل رابطے میں تھے، تینوں حملہ آوروں نے خود کش جیکٹس بھی پہن رکھی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ’دو حملہ آوروں نے خود کو دھماکے سے اڑالیا جبکہ تیسرے دہشت گرد کو سیکیورٹی اہلکاروں نے ہلاک کیا‘۔ واقعے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم داعش نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا جبکہ حملہ آوروں کی تصاویر بھی جاری کردی گئیں۔

سول ملٹری روابط ’’ڈان‘‘ کی نظر میں

انگریزی روزنامہ ’’ڈان‘‘ لاہور کا 6 اکتوبر کا شمارہ میرے سامنے کھلا ہوا ہے۔ اس میں صفحہ اول پر ایک عجیب و غریب سٹوری شائع کی گئی ہے۔۔۔ لیکن جب آپ یہ کالم پڑھیں گے تو یہ موضوع میڈیا پر بہت رگیدا جا چکا ہوگا۔ تاہم مناسب ہوگا پہلے اس کا ترجمہ دیکھ لیا جائے۔

اسلام آباد: سویلین حکومت نے پاکستان کی فوجی قیادت کو ایک ایسی واشگاف اور بنی بنائی (Orchestrated) وارننگ دی ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی اور جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی برادری میں پاکستان کی تنہائی بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ اسی وارننگ میں حکومت کی طرف سے بہت سے کلیدی اقدامات اٹھانے پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی بات بھی کی گئی ہے۔

سوموار (3 اکتوبر 2016ء) کو جو آل پارٹی کانفرنس بلائی گئی تھی اس میں کم از کم دو ایسے ایکشن لینے پر رضامندی ظاہر کی گئی جن کو پبلک نہیں کیا گیا۔۔۔ پہلا اقدام یہ تھا کہ جنرل رضوان اختر ڈی جی آئی ایس آئی، قومی سلامتی کے مشیر ناصر خان جنجوعہ کو اپنے ہمراہ لیں اور چاروں صوبوں کا دورہ کریں اور وہاں کی صوبائی ایپکس کمیٹیوں اور آئی ایس آئی کے سیکٹر کمانڈروں کو ایک پیغام پہنچائیں ۔۔۔۔ وہ پیغام یہ ہے کہ اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ایسے عسکریت پسند گروہوں کے خلاف کہ جن پر پابندی لگ چکی ہو اور جن کے خلاف سویلین اداروں کی طرف سے ایکشن لینا حدود باہر کر دیا گیا ہو، ان کے خلاف فوج کی طرف سے فراہم کردہ انٹیلی جنس کی بنیاد پر کوئی مداخلت نہ کی جائے۔

اور اس پیغام کی دوسری شق یہ ہے کہ پٹھانکوٹ سانحے کی تحقیقات کی از سر نو تحقیق کی جائے اور ساتھ ہی ان ممبئی حملوں کے ٹرائل بھی دوبارہ شروع کئے جائیں جو راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں زیر سماعت ہیں۔

یہ دونوں فیصلے اس غیر معمول زبانی گفتگو کے بعد لئے گئے ہیں جو پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف اور ڈی جی آئی ایس آئی کے مابین ہوئی۔ یہ فیصلے مسلم لیگ نون کی حکومت کی ایک بالکل نئی سوچ اور اس کے اہم مفادات (ہائی سٹیکس) کے غماز بھی ہیں۔

اس ہفتے جو بڑی اہم (Crucial) ملاقاتیں ہوئیں ان کی تفصیل ذیل میں دی جا رہی ہے۔ یہ تفصیلات اُن حضرات نے روزنامہ ’’ڈان‘‘ کو بتائیں جو وہاں موقع پر موجود تھے۔ تاہم ان سب نے اپنا نام ریکارڈ پر لانے سے منع کر دیا اور جن اشخاص کے بارے میں یہ باتیں اور خبریں منسوب کی گئیں انہوں نے بھی ان کی توثیق کرنے سے انکار کر دیا:

سیکرٹری خارجہ کی پریذنٹیشن

منگل وار کو جو آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہوئی اس میں سیکرٹری خارجہ اعزاز چودھری نے وزیراعظم کے دفتر میں سول اور ملٹری آفیسرز کے ایک چھوٹے سے گروپ کو ایک الگ اور خصوصی پریذنٹیشن دی۔ اس اجلاس کی صدارت وزیراعظم نے کی۔ اس میں وفاقی اور صوبائی کابینہ کے سینئر افسروں نے شرکت کی۔ اور فوج کی طرف سے آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل نے اپنے وفد کی قیادت کی۔

سیکرٹری خارجہ نے پاکستان کی طرف سے سفارتی سطح پر کی جانے والی مساعی کا اجمالاً ذکر کیا جس کا لب لباب یہ تھا کہ پاکستان کو سفارتی تنہائی کا مسئلہ درپیش ہو رہا ہے اور حکومت اس کے جواب میں جو کچھ بتا رہی ہے اس کو بڑے بڑے ممالک زیادہ درخوراعتناء نہیں گردان رہے۔۔۔ جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے تو روابط زیادہ بگڑ چکے ہیں اور خدشہ ہے کہ مزید بگڑیں گے کیونکہ امریکہ مطالبہ کررہا ہے کہ حقانی نیٹ ورک کے خلاف ایکشن لیا جائے ۔ اور بھارت کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر چودھری نے کہا کہ پٹھانکوٹ کی تحقیقات ابھی پایہ ء تکمیل کو نہیں پہنچیں اور نہ ہی جیشِ محمد کے خلاف کوئی ایکشن ابھی تک لیا گیا ہے۔ اور انڈیا کے یہی دو بڑے مطالبات ہیں۔

اس کے بعد کمرے کی فضا پر اس وقت مکمل سکوت چھا گیا جب مسٹر چودھری نے یہ کہا کہ اگرچہ چین، پاکستان کو سپورٹ کرتا ہے لیکن چین بھی یہ چاہتا ہے کہ پاکستان کو اپنا راستہ تبدیل کرنے کو ترجیح دینی چاہیے خاص طور پر ایسے پس منظر میں کہ جب چین نے جیشِ محمد کے لیڈر پر اقوام متحدہ کی طرف سے پابندیاں لگانے کی قرارداد کو ملتوی کروا دیا ہے۔ چین بارہا یہ کہہ چکا ہے کہ پاکستان اپنے روئیے میں تبدیلی کی آپشن پر غور کیوں نہیں کرتا؟

غیر معمولی نوک جھونک

سیکرٹری خارجہ کے ان غیر متوقع اور منہ پھٹ (Blunt) استخراجات (Conclusions) نے ڈی جی آئی ایس آئی اور بہت سے سویلین افسروں کے مابین ایک حیرت انگیز اور ایک بہت بڑی تبدیلی ء فکر و نظر کو ہوا دے دی۔سیکرٹری خارجہ کے استخراجات کا جواب دیتے ہوئے جنرل اختر نے پوچھا کہ پاکستان کو تنہائی کی طرف لڑھکنے سے بچانے کے لئے کیا اقدامات اٹھائے جائیں؟ مسٹر چودھری کا جواب بڑا زور دار بھی تھا اور دوٹوک بھی۔ انہوں نے کہا: ’’بین الاقوامی برادری کا سب سے بڑا مطالبہ یہ ہے کہ مسعود اظہر اور جیشِ محمدکے خلاف ایکشن لیا جائے اور حافظ سعید اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف بھی!‘‘۔

یہ سن کر جنرل اختر نے جواب دیا کہ حکومت کو چاہیے کہ اس کے خیال کے مطابق جو بھی قصوروار ہو اس کو گرفتار کر لے۔ تاہم جب جنرل اختر یہ بات کہہ رہے تھے تو معلوم نہ ہو سکا کہ ان کا اشارہ کس طرف تھا۔ کیا وہ ان لوگوں کی طرف اشارہ کر رہے تھے جن کے گروپوں پر پابندیاں لگی ہوئی ہیں یا وہ ایک عمومی بات کر رہے تھے کہ حکومت جس کو مجرم سمجھتی ہے، اس کو گرفتار کرلے؟۔۔۔ اس موقع پر غیر متوقع طور پر اور اچانک وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کی طرف سے ایک بے باکانہ (Bold) مداخلت نے تمام حاضرین کو مزید ششدر کرکے رکھ دیا!

چھوٹے شریف نے جنرل اختر کو مخاطب ہوتے ہوئے شکائت کی کہ جب بھی سویلین حکام کسی گروپ کے خلاف ایکشن لیتے ہیں، سیکیورٹی کے ادارے (فوج) پردے کے پیچھے کارروائی شروع کر دیتے ہیں کہ گرفتار شدگان کو کیسے رہا کروایا جائے۔ یہ سننا تھا کہ تمام ماحول پر ایک دم وہی گہرا سکوت چھا گیا جو بالعموم اس قسم کی غیر معمولی اور غیر متوقع نوک جھونک کے بعد دیکھنے میں آتا ہے۔ اس صورت حال میں رفعِ کشیدگی کے لئے خود وزیراعظم آگے بڑھے اور جنرل اختر سے براہِ راست مخاطب ہوئے اور کہا کہ ماضی میں جن پالیسیوں پر عمل کیا جاتا تھا وہ ریاست کی اجتماعی ذمہ داری تھی ۔ لیکن موجودہ واقعات و حالات کے تناظر میں ڈی جی آئی ایس آئی کو الزام نہیں دیا جا رہا۔

وزیراعظم کی حکمت عملی

سوموار کو جو یہ ناقابلِ یقین واقعات پیش آئے ان کو بچشمِ خود دیکھنے والے حضرات کا کہنا ہے کہ سیکرٹری خارجہ کی یہ پریذینٹیشن اور وزیراعلیٰ شہبازشریف کی یہ مداخلتِ بے جا خود وزیراعظم کی ایماء پر ہوئی تاکہ فوج کو ایکشن لینے پر اکسایا جائے۔ اور اس کے بعد ہی یہ فیصلہ کیا گیا کہ ڈی جی آئی ایس آئی کو بین الصوبائی دوروں پر بھیجا جائے۔

لیکن جن لوگوں نے یہ کیفیت دیکھی تھی انہوں نے روزنامہ ’’ڈان‘‘ کے ساتھ اپنے خیالات شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ڈی جی آئی ایس آئی اور سویلین حکام کے مابین اس آویزش نے زیادہ تلخ مزاجی اور تندخوئی کا روپ نہ دھارا۔ اس سے پہلے اسی ملاقات میں ڈی جی آئی ایس آئی، جنرل اختر نے کہا کہ نہ صرف فوج کی پالیسی یہ ہے کہ عسکریت پسند گروپوں میں کوئی امتیاز روا نہ رکھا جائے۔ بلکہ فوج اس پالیسی پر عملدرآمد کرنے کے سلسلے میں بھی پوری طرح کوشاں (Comitted) ہے۔ تاہم آئی ایس آئی چیف نے بہت سے گروپوں کے بارے میں ایکشن لینے کی ٹائمنگ پر اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایکشن لیتے ہوئے اس بات کا خیال رکھا جائے کہ یہ ایکشن بھارتی دباؤ کی وجہ سے تو نہیں لیا جا رہا یا ایسا تو نہیں کہ ہم کشمیریوں کو تنہا چھوڑ رہے ہیں۔

بہت سے حکومتی اہلکاروں کا کہنا یہ ہے کہ سوموار والا یہ ’’آمنا سامنا‘‘ وزیراعظم کی طرف سے کھیلا جانے والا ایک بڑا جواء ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان پر بڑھتے ہوئے سفارتی دباؤ کو ٹالنے کی کوشش کی جائے۔ یہی اہلکار یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ایک اور الگ ملاقات میں وزیراعظم نے آرمی چیف کو زیادہ زور دار اور زیادہ توانا الفاظ میں کہا ہے کہ اگر موجودہ پالیسی میں ردوبدل نہ کیا گیا تو پاکستان کو مزید تنہائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تا ہم اس بارے میں سرکاری اہلکاروں کی رائے منقسم ہے کہ وزیراعظم کا یہ جواء کامیاب بھی ہو گا یا نہیں۔ ایک اہلکار نے ڈی جی آئی ایس آئی کے تبصرے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: ’’اسی تبصرے کو تو سننے کے لئے ہم نے ساری زندگی انتظار کیا ہے ۔دیکھتے ہیں اب کیا ہوتا ہے!‘‘۔۔۔ ایک اور حکومتی اہلکار نے یہ تبصرہ بھی کیا: ’’نومبر تک انتظار کرو کہ کیا ایکشن لیا جاتا ہے۔۔۔ تب تک بہت سی باتوں کا فیصلہ ہو جائے گا!‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آپ نے ڈان کے صفحہ اول پر شائع ہونے والی اس چار کالمی سٹوری کا ترجمہ پڑھا۔ بہتر ہوگا اگر اصل سٹوری بھی پڑھ لیں تاکہ تفہیمِ مطالب میں کوئی ابہام نہ رہے۔ ویسے میں نے اپنی سی کوشش کی ہے کہ ترجمہ میں متن کی روح کو مجروح نہ ہونے دوں۔ اس سٹوری کے مصنف مسٹر سائرل المیڈا (Cyril Almeida) ہیں جو ’’ڈان‘‘ کے سٹاف پر ہیں۔ ان کے کالم اسی اخبار میں شائع ہوتے رہتے ہیں اور اخبار کی انتظامیہ کی اوور آل پالیسیوں کے غماز ہوتے ہیں۔ یہ سٹوری پڑھ کر دو تین سوال میرے ذہن میں ابھرتے ہیں۔مثلاً:

اگر کسی ایک یا ایک سے زیادہ چشم دید حضرات نے سائرل صاحب کو اس سٹوری کی روئیداد سنائی تھی اور ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ ہمارا نام شائع نہ کیا جائے تو اس خبر کو صفحہ اول پر لگانے کی کیا ضرورت تھی؟۔۔۔دوسرے یہ کہ اوڑی پر حملہ اور اس پر بھارتی وزیراعظم کا ردعمل تو ان ایام میں پہلے ہی اخباری خبروں اور تبصروں کا موضوع بنا ہوا ہے! ایسے میں پاکستانی قوم کو بھارت کے خلاف اتفاق رائے کی اشد ضرورت ہے نہ کہ اختلافِ رائے کی۔ ہم جانتے ہیں ایک طویل عرصے سے سول اور ملٹری روابط میں کشیدگی کا بیرومیٹر مختلف ریڈنگ ظاہر کرتا رہتا ہے۔ لیکن آج ایسے موقع پر کہ آرمی کی چوٹی کی قیادت کو ایک آدھ ماہ بعد تبدیل ہو جانا ہے، آئی ایس آئی اور سویلین قیادت کے مابین غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کوئی ایسی مستحسن کوشش شمار نہیں ہوگی۔

اور تیسرے ڈان اخبار کا ایک بڑا نام ہے اور نہ صرف پاکستان بلکہ انڈیا میں بھی سب سے زیادہ پڑھا جانا والا پاکستانی اخبار یہی ہے۔ ایسے میں یہ فیصلہ میں قارئین پر چھوڑتا ہوں کہ اخبار کے ایک سینئر صحافی اور کالم نگار نے امروزہ ہنگام میں جس پاکستانی ’’سول ملٹری آویزش‘‘ کو موضوعِ سخن بنایا ہے کیا اس سے پاکستانی قارئین کی ڈھارس بندھے گی یا بھارتی قارئین کے من میں لڈو پھوٹیں گے؟

لیفٹیننٹ کرنل (ر)غلام جیلانی خان

پاکستانی فوج کے کتنے کاروبار ہیں ؟

گیارہ سال قبل بھی کِسی سیاستدان نے پارلیمنٹ میں یہ بیہودہ سوال اُٹھایا تھا کہ پاکستانی فوج کے کتنے کاروبار ہیں۔ اُس وقت کے وزیر دفاع مرحوم راؤ سکندر نے تحریری جواب دیا تھا کہ 55۔ اِس ہفتے پارلیمنٹ میں پھر سوال اُٹھایا گیا کہ کُل کتنے دھندے ہیں۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے جواب دیا 50۔ دھندہ مندہ ہونے پر پریشانی تو اپنی جگہ لیکن جو چیز اُس وقت بھی پریشان کن تھی اور اب بھی ہے کہ پارلیمنٹ میں دی گئی فہرست کے مطابق پاکستان نیوی کے پاس اپنی کوئی ہاؤسنگ سوسائٹی نہیں ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں ایک خاندان کے ایک سو سے زیادہ کاروبار بھی ہیں پاکستانی افواج کا پچاس پچپن بزنس چلانا کوئی اچنبے کی بات نہیں لیکن پاکستان نیوی کے پاس اپنی ایک بھی ہاؤسنگ سکیم نہ ہونا لمحہ فکریہ ہے۔

پاکستان نیوی ایک مدبر ادارہ ہے اِس پر نہ کبھی کوئی جنگ شروع کرنے کا الزام لگا ہے نہ کوئی جنگ ہارنے کا۔ اکثر مارشل لاء بھی بغیر اِسے بتائے لگا دیے جاتے ہیں۔ جہوریت آئے یا مارشل لاء بحریہ سمندری سرحدوں کی حفاظت میں مصروف رہتی ہے۔ بحریہ پاکستانی فوج میں وہ سفید پوش بھائی ہے جو ہو سکتا ہے اپنے بھائیوں کی خوشحالی دیکھ کر دِل میں کڑھتا ہو لیکن بظاہر اُن کی مال و دولت دیکھ کر ماشا اللہ ہی کہتا ہے۔ کبھی بھی کھل کر اپنا حصہ نہیں مانگتا کہ محلے والے کیا سوچیں گے۔ اگر پارلیمنٹ میں پیش کی جانے والی فہرست پر نظر ڈالیں تو پاکستان کی بّری فوج اور فضائیہ نے آپ کی زندگی کو آسان بنانے کے لیے ایسی ایسی سہولیات فراہم کر دی ہیں کہ آپ کو کسی سویلین سیٹھ کو منہ لگانے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔ آپ ایک ملٹری ہسپتال میں پیدا ہو سکتے ہیں جہاں پر ملٹری میڈیکل کالج کے تربیت یافتہ ڈاکٹر مناسب معاوضے پر آپ کی ابتدائی صحت یقینی بنائیں گے۔ بچے سیریل شوق سے کھاتے ہیں تو فوجی سیریل پیش خدمت ہے۔ اِس کے لیے دودھ چاہیے ہو گا تو نُور پور کا خالص دودھ دستیاب ہے۔

چینی بھی چاہیے؟ آرمی ویلفیئرشوگر مل سے لے لیں۔ بچہ تھوڑا بڑا ہو گا تو اُسے عسکری پراجیکٹ سے جوتے اور کپڑے دلوا دیں۔ سکول بھیجنا ہے تو فضائیہ ویلفیئر ایجوکیشن سسٹم میں ڈال دیں اُس کے بعد کئی یونیورسٹیوں میں معیاری تعلیم کا بندوبست ہے۔ کاشتکاری کا رجحان ہے تو اوکاڑہ سیڈز سے بیج خریدیے، فوجی فرٹیلائزرز سے لے کر کھاد ڈالیے۔ گوشت کی ضرورت ہے تو فوجی میٹ سے خریدیے۔ باہر کھانے کا چسکا ہے تو بلیو لیگون ریسٹورنٹ آ جایے، گھر چاہیے تو ڈی ایچ اے میں پلاٹ خریدیے، عسکری سیمنٹ لیں۔ پیسے کم پڑ رہے ہیں تو عسکری بینک حاضر ہے۔

ذاتی حفاظت کے لیے اگر پولیس اور رینجرز سے اعتبار اُٹھ گیا ہے تو عسکری گارڈز یا فوجی سکیورٹی سروسز میں کسی کا اِنتخاب کر لیں۔ اور اگرچہ پارلیمنٹ میں اِس کا ذکر نہیں کیا گیا اگر کوئی چوری چکاری ہوئی ہے تو تربیت یافتہ سراغ رساں کتوں کی خدمات بھی حاصل کی جا سکتی ہیں۔ یا عسکری جنرل انشورنس سے پالیسی خریدیں اور اِن سب جھمیلوں سے نجات حاصل کریں۔ اگر آپ پاکستان کی پھلتی پھولتی معیشت کو دیکھیں تو یہ کافی چھوٹے چھوٹے دھندے ہیں۔ اصل کاروبار جائیداد کا ہے جس میں فوج نے بڑا نام کمایا ہے۔ آٹھ ڈی ایچ اے بن چکے ہیں اور جو پہلے سے بنے تھے اُن کی حدیں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ کراچی ڈی ایچ اے کا فیز 8 اِتنا بڑا ہے کہ اِس میں پہلے ساتوں فیز سما جائیں۔

پاک فضائیہ نے اِس کاِر خیر میں دیر سے حصہ ڈالنا شروع کیا لیکن چھوٹتے ہی گوجرانوالہ میں رہائشی سکیم بنا ڈالی۔ گوجرانولہ میں فضائیہ کا کوئی بیس نہیں ہے لیکن شاہین جب آشیانہ بنانے پر آتا ہے تو اِن باتوں کی پرواہ نہیں کرتا۔ اب کراچی میں شاہینوں کے آشیانے کے نام پر لگژری فلیٹ بن رہے ہیں اور دھڑا دھڑ بِک رہے ہیں۔ اب اِس پلاٹوں اور فلیٹوں کی ریل پیل میں نیوی کے پاس کیا ہے۔ کچھ نہیں۔ بس کراچی میں دو تین بلڈنگیں جہاں دفاتر کرائے پر دے کر گزارا ہوتا ہے۔ ایک کشتیاں بنانے کی ورکشاپ، کچھ پٹرول پمپ اور شاید ایک آدھ ایل این جی ٹرمینل کا وعدہ۔

بُرا ہو ملک ریاض کا جو 1996 میں نیوی سے ایک معاہدہ کر کے اِس کا نام لے اُڑا۔ تب سے پورے ملک میں بحریہ ٹاؤن کے نام سے گھر، پلاٹ اور اُن کی فائلیں بیچ بیچ کر اربوں کما چکا ہے۔ پاکستان کی اصلی بحریہ 20 سالوں سے عدالتوں کے چکر لگا رہی ہے کہ ہمارا نام ہمیں واپس دلوایا جائے لیکن عدالتیں اُس کے ساتھ وہی کر رہی ہیں جو سفید پوشوں کے ساتھ کرتی ہیں۔ کوئی ہے جو پاکستان کی بحریہ کو اُس کا نام واپس دِلوا سکے تا کہ وہ بھی اپنے دوسرے وردی پوش افسر بھائیوں کی طرح مستقبل کی فکر سے آزاد ہو سکے۔ اب تو ایئر پورٹ سکیورٹی فورس نے بھی اپنی ہاؤسنگ سکیم بنا ڈالی۔ کیا ہمارے سفید وردی والے محافظوں کی اِتنی بھی عزت نہیں؟

محمد حنیف

مصنف اور تجزیہ نگار

آصف نواز جنجوعہ

پاکستان کی بری فوج کے سابق چیف آف اسٹاف۔ چکری راجگاں، ضلع جہلم میں پیدا ہوئے۔ سینٹ میری اسکول راولپنڈی میں تعلیم حاصل کی۔ پھر سینڈھرسٹ (برطانیہ) میں رائل ملٹری اکیڈمی سے بنیادی فوجی تربیت مکمل کرنے کے بعد مارچ 1957ء میں پاکستان آرمی میں بطور کمیشنڈ آفیسر بھرتی ہوئے، وہ سولجرز کی چوتھی جنریشن سے تعلق رکھتے تھے۔ کمیشن ملنے کے بعد پنجاب رجمنٹ کی شیر دل بٹالین میں شامل ہوئے۔ 1972ء میں اپنی پیرنٹ بٹالین کی کمان کی۔ 1965ء اور 1971ء کی پاک بھارت جنگوں میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ اور نیشنل ڈیفنس کالج راولپنڈی سے بھی گریجویشن کی۔ 1978ء میں بریگیڈیئر اور 1982ء میں میجر جنرل کے عہدے پر ترقی ملی۔ 

ساڑھے 3 سال تک ایک انفنٹیری ڈویژن کی کمان کی۔ بعد ازاں کا کول ملٹری اکیڈمی کے کمانڈنٹ بنا دیے گئے۔ 1988ء میں انہیں لیفٹیننٹ جنرل اور مارچ 1991ء میں جنرل بنا دیا گیا۔ 11 جون 1991ء کو انہیں پاکستان آرمی کا چیف آف اسٹاف بنا دیا گیا۔ انہوں نے 16 اگست 1991ء کو یہ عہدہ سنبھالا، ہلالِ امتیاز، ستارہ بسالت اور بار کے اعزازات حاصل کیے۔ ان کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی، تا ہم ان کی بیوی کے اس انکشاف پر کہ انہیں ہلاک کیا گیا ہے حکومت نے کمیشن مقرر کیا اور امریکا میں ان کے سیل بند نمونوں کی تحقیق کی گئی لیکن یہ الزام ثابت نہ ہوا۔