کسی کو مارنے کے بعد یہ کہہ دینا آسان ہے کہ یہ سب دہشت گرد تھے

پاکستان میں حقوق انسانی کی تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کے مطابق گزشتہ رات لاہور کے نزدیک پنجاب پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی کی جانب سے مبینہ پولیس مقابلے میں مارے جانے والے دس افراد کی ہلاکت ماورائے عدالت قتل ہے۔ ایچ آر سی پی کے چیئرپرسن ڈاکٹر مہدی حسن نے بی بی سی کی نامہ نگار نادیہ سلیمان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کسی کو مارنے کے بعد یہ کہہ دینا آسان ہے کہ ‘یہ سب دہشت گرد تھے اس لیے مارے گئے ہیں۔ یہ سب ماورائے عدالت قتل ہیں۔’ انھوں نے کہا اگر کسی پہ دہشت گردی کا الزام ہے اور پولیس ان کے خلاف کارروائی کرتی ہے تو انھیں گرفتار کر کے قانون کے مطابق چوبیس گھنٹے کے اندر عدالت میں پیش کرنا ضروری ہے۔

پولیس کے انسدادِ دہشت گردی کے ڈپارٹمنٹ سی ٹی ڈی کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق جمعہ اور ہفتے کی درمیانی شب لاہور کے نواحی علاقے مناواں میں پولیس مقابلے کے دوران کالعدم تنظیم کے 10 مبینہ دہشت گردوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا۔ پریس ریلیز میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والے شدت پسندوں میں لاہور کے مال روڈ پر ہونے والے دھماکے کا سہولت کار بھی شامل تھا۔ ڈاکٹر مہدی حسن نے مزید کہا کہ عدالت سے یہ فیصلہ ملنا ضروری ہے کہ کوئی دہشت گرد ہے یا نھیں: ‘پولیس کے کہنے پہ یقین نھیں کیا جا سکتا کہ جو لوگ مارے گئے ہیں وہ لوگ دہشت گرد ہیں۔’ انھوں نے کہا کہ مرنے والوں کے بارے میں پولیس کا یہ موقف تسلیم کر لیا جاتا ہے کہ وہ دہشت گرد تھے اس لیے مقابلے میں مارے گئے جب کہ مقابلے میں عام طور پر پولیس والوں کو کوئی نقصان نھیں ہوتا۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی سماجی کارکن طاہرہ عبداللہ کہتی ہیں کہ ماورائے عدالت قتل کی اجازت نہ ہمارا قانون دیتا ہے اور نہ ہمارا آئین۔ طاہرہ عبداللہ نے کہا کہ نوّے کی دہائی میں انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کا قیام، اس کے بعد پروٹیکشن آف پاکستان ایکٹ، پھر فوجی عدالتوں کا قیام اور حال ہی میں ان کی مدت میں توسیع، ان سب قوانین کی موجودگی میں ماورائے عدالت ہلاکتیں سمجھ سے بالاتر ہیں۔

طیبہ کیس کا ”خوشگوار” انجام ؟

مجھے تو رتی بھر حیرت نہیں ہوئی کہ طیبہ کے والدین نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اور ان کی اہلیہ کو تشدد کرنے پر معاف کر دیا ہے اور دونوں ملزموں سے صلح کر لی ہے، جس کے بعد یہ قصہ بھی تمام ہو گیا ہے۔ ایسے تو ہزاروں واقعات میری زندگی میں فلم کی طرح گزرے ہیں، جب کسی بااثر کے خلاف کمزور انصاف کے لئے کھڑا ہوا، دو چار دن انصاف کے رکھوالوں نے بھی اس کا ساتھ  دیا اور معاشرہ بھی اس کے ہمرکاب ہوا، لیکن پھر خبر آئی کہ اس کمزور نے ایک طاقتور کو معاف کر دیا ہے۔ اب بہت سے بقراطی دانشور بھی کہہ سکتے ہیں کہ معاف کر دینا تو عظمت کی نشانی ہے، مگر وہ اس بات کا شاید ہی جواب دے سکیں کہ ہر بار کمزور ہی کیوں معاف کرتا ہے، کبھی کسی طاقتور کو بھی غریب اور مظلوم کو معاف کرتے دیکھا ہے، اسے تو وہ عبرت کا نشان بنا دیتا ہے، اس پر کتے چھڑواتا ہے، اس کی ٹانگیں تڑواتا ہے، آنکھیں نکلوا دیتا ہے اور ظلم کا ہر حربہ اختیار کرتا ہے، پھر بھی اس کی تشفی نہیں ہوتی۔

جب قانون کچھوے کی چال چلے گا تو طیبہ جیسے کیس کے مدعی کب تک کسی طاقتور کا دباؤ برداشت کریں گے؟ سب کچھ تو سامنے آ گیا تھا۔ پولیس کی تفتیش، میڈیکل رپورٹ اور زمینی حقائق نے تو ثابت کر دیا تھا کہ طیبہ پر بدترین تشدد ہوا ہے اور انہی دونوں ملزموں نے کیا ہے، مگر انہیں ایک دن بھی جیل نہیں بھیجا گیا، گرفتار کرکے تفتیش نہیں کی گئی، قانون کی موشگافیاں ان کی ڈھال بنتی رہیں۔ادھر طیبہ کے والدین اسلام آباد میں رلتے رہے، پھر انہیں چند ٹکوں کی پیش کش کی گئی ہو گی، یہ بھی باور کرایا گیا ہوگا کہ ایک جج کے خلاف تمہیں انصاف نہیں ملے گا، یہ چند ٹکے جو مل رہے ہیں، انہیں وصول کرو اور صلح نامہ لکھ دو۔ ویسے بھی تم نے پاکستان ہی میں رہنا ہے، یہاں سے بھاگ نہیں جانا، تمہارے لندن یا امریکہ میں فلیٹس نہیں کہ جہاں تم یہاں سے جا کر شاہانہ زندگی گزار سکو، اس لئے جو ملتا ہے لو اور طیبہ کو اس صدمے کے ساتھ، جو اب اس کے دماغ سے ساری زندگی نہیں نکلے گا، کسی محفوظ جگہ لے جاؤ اور زندگی گزارو۔ سویہ سب کچھ تو ہوتا آیا ہے، ہوتا رہے گا۔ انصاف کے اسی طرح شادیانے بجتے رہیں گے، عدل کا اسی طرح بول بالا ہوتا رہے گا۔ آج طیبہ تھی تو کل کوئی رضیہ اسی طرح سامنے آئے گی، سوموٹو ایکشن کے ذریعے ملک بھر میں انصاف کی دہائی مچ جائے گی، پھر یہ خبر ملے گی کہ رضیہ کے والدین نے فی سبیل اللہ بااثر شخصیت کو معاف کر دیا ہے اور اب ہنسی خوشی زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے زمانے میں بھی میری طرح پوری قوم یہ دیکھتی تھی کہ ظلم و زیادتی کے کسی واقعہ پر سپریم کورٹ بڑی شدومد اور جانفشانی سے ازخود نوٹس لیتی۔ آئی جی، چیف سیکرٹری اور نجانے کون کون سے با اختیار افسر طلب کئے جاتے، ملزموں کی گرفتاری کا حکم دیا جاتا، ہٹو بچوکی صدائیں گونجتیں اور پھر اس ساری مشق کے بعد تان صلح نامے پر ٹوٹتی اور سب ہاتھ جھاڑ کر اللہ اللہ خیر سلا کا ورد کرنے لگتے۔ مَیں نے تونہیں سنا یا دیکھا کہ کسی مظلوم کے مقابلے میں کسی ظالم طاقتور کو سزا ملی ہو۔ بس دو چار دن کا میڈیا پر تماشا ضرور دیکھنے کو ملتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ جیسے ملک میں انصاف سوئے ہوئے ببر شیر کی طرح اچانک دھاڑتا ہوا اُٹھ کھڑا ہوتا ہے، لیکن پھر انگڑائی لے کر سو جاتا ہے اور معاملات کسی اگلے ظلم کے واقعہ تک جوں کے توں چلتے رہتے ہیں۔ مَیں تو پہلے دن سے سمجھتا تھا کہ طیبہ کیس میں ایک بے جوڑ مقابلہ رکھ دیا گیا۔

ممولے کو شہباز سے لڑانے کا مقابلہ، چیونٹی سے ہاتھی مروانے کا مقابلہ، عفریتوں میں گھرے مظلوم کو طاقتور کے سامنے کھڑا کر دینے کا مقابلہ، اس مقابلے کا کیا انجام ہونا ہے اس مملکتِ خدا داد میں، یہ تو اندھے کو بھی پتہ ہے۔ مگر اس کے باوجود ہم یہ مزاحیہ فلم بڑے شوق سے دیکھتے ہیں اور بڑی بڑی توقعات وابستہ کرلیتے ہیں ۔ شیدے ریڑھی والے کے خلاف کوئی مقدمہ شقدمہ ہو جائے تو پولیس آؤ دیکھتی ہے نہ تاؤ، صبح دیکھتی ہے نہ شام، ثبوت مانگتی ہے، نہ تفتیش کرتی ہے، سیدھا اٹھا کے تھانے میں باقی سارے مراحل اس کے بعد طے ہوتے ہیں۔ مگر کسی بااثر شخص کے خلاف ثبوت بھی آ جائیں اور تمام شواہد بھی، اسے ضمانت قبل از گرفتاری کی شاہانہ سہولت فراہم کی جاتی ہے اور اس وقت تک یہ سہولت واپس نہیں لی جاتی جب تک اس کے خلاف مقدمہ درج کرانے والا مظلوم اسے معاف نہ کر دے۔ ایسے حالات میں مظلوم فریق کی حالت مرتا کیا نہ کرتا، جیسی ہوتی ہے۔

آپ دیکھیں کہ پاکستان میں معاملات کو کتنی خوبصورتی سے نمٹایا جاتا ہے۔ طیبہ کیس کے بعد جب ایک صلح نامہ تیار کیا جاتا ہے تو پورے ملک میں دہائی مچ جاتی ہے کہ ایک حاضر سروس جج نے اپنی حیثیت کا ناجائز فائدہ اُٹھا کر طیبہ کے والدین کو صلح پر مجبور کر دیا۔ عدلیہ پر تنقید ہونے لگتی ہے تو سوموٹو ایکشن کے ذریعے یہ معاملہ ایک نئی شکل اختیار کر جاتا ہے، طیبہ کو برآمد کرایا جاتا ہے، جج کو معطل کر دیا جاتا ہے، پولیس سے رپورٹ طلب کی جاتی ہے، کیس میں تشدد ثابت ہو جاتا ہے اور یہ بھی کہ تشدد جج صاحب کی اہلیہ نے ہی کیا اور شوہر نے معلوم ہونے کے باوجود اسے نہیں روکا۔ دو چار دن کی پیشیوں کے بعد جب گرد بیٹھتی ہے تو نتیجہ وہی نکلتا ہے جو ابتدا ہی میں نکل آیا تھا، یعنی صلح ہوجاتی ہے۔ پہلی صلح اگر غیر قانونی قرار پائی تھی تو دوسری قانونی قرار پاتی ہے۔ ہر ایسے کیس کی، جس میں ایک طرف طاقتور اور دوسری طرف کمزور ہو، یہی کہانی نکلتی ہے اور اس کا نتیجہ بھی یہی ہوتا ہے۔

اس کے بعد حالات پھر اسی ڈگر پر چل نکلتے ہیں۔ پولیس آئے روز شہریوں پر تشدد کرتی ہے، جعلی پولیس مقابلوں میں بندے مارتی ہے۔ گھسی پٹی ایک ہی کہانی گھڑتی ہے، سب کو معلوم ہوتا ہے کہ جھوٹ اور فریب سے اس کہانی کو تیار کیا گیا ہے، مگر کسی پولیس والے کا بال بھی بیکا نہیں ہوتا۔ 302 کے مقدمات تک درج ہو جاتے ہیں، لیکن آج تک کوئی بتائے کہ کسی پولیس والے کو سزا ہوئی ہو، اسے کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے تاکہ وہ مدعیوں پر دباؤ ڈال کر صلح نامہ لکھوائے اور پھر کسی جعلی پولیس مقابلے کے لئے تیار ہوجائے۔ اس بار ذرا معاملہ مختلف تھا۔ پولیس کی بجائے ایک حاضر سروس جج مظلوم کے مقابلے میں آ کھڑے ہوئے تھے۔ ملک میں عدلیہ کے نئے کردار کی بازگشت بھی سنائی دے رہی تھی،اس لئے خواہ مخواہ یہ امید پیدا ہوگئی تھی کہ اس بار کم از کم ایک اچھی مثال قائم کر دی جائے گی۔ ریاست پوری طرح طیبہ اور اس کے خاندان کی پشت پر آ کھڑی ہو گی۔ ایک تیز رفتار عمل سے گزار کراس کیس کا فیصلہ کیا جائے گا، تا کہ ملک بھر میں یہ پیغام جائے کہ آئندہ کسی نے ایسا ظلم کیا تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا، مگر صاحب کہاں؟ طبقہ اشرافیہ کی گرفت اتنی کمزور تو نہیں، جو طیبہ جیسی کسی معصوم بچی کے ہاتھوں ٹوٹ جائے۔ اس میں اتنی طاقت تو ہے کہ وہ اس ملک کے لولے لنگڑے نظام کو اپنے گٹھ جوڑ سے مفلوج کرکے رکھ دے اور غریبوں کو یہ سوچنے کی بھی جرأت نہ ہو کہ انہیں طاقتور کے مقابلے میں انصاف مل سکتا ہے۔

مَیں بھی ایک خوش فہم آدمی ہوں۔ ایسا خوش فہم جو تنکوں سے بھی دریا پار کرنے کی اُمیدیں باندھ لیتا ہے۔ طیبہ کیس سامنے آیا اور سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس کے بعد جس طرح پورے ملک میں ہاہا کار مچی، میرا خیال تھا کہ اب حالات بہتری کی طرف ضرور جائیں گے۔ خاص طور پر چائلڈ لیبر کے حوالے سے قانون سازی کی جائے گی۔ اسے محکمہ لیبر کی دسترس سےنکال کر پولیس کی دسترس میں دے کر قابل دست اندازی پولیس بنا دیا جائے گا۔ طیبہ کیس ملک میں ایک بہت بڑی مثال ثابت ہو گا۔ مجھے کیا پتہ تھا کہ اس کا نتیجہ بھی’’ڈھاک کے تین پات‘‘ ہی نکلے گا۔ جو اشرافیہ اسمبلیوں کے اندر بیٹھی ہے، اس کے تو ڈیرے ہی ایسے غریبوں کے بچوں سے آباد ہیں۔ معصوم بچوں کو ان کی بیگمات اپنی خدمت کے لئے وقف رکھتی ہیں اور غلامی کا یہ سلسلہ نسل درنسل چلتا ہے۔ بڑا شوروغوغا ہوتا ہے کہ بچوں کو سکول نہ بھیجنے والے والدین کے خلاف یہ ہو جائے گا، مگر ہوتا اس لئے کچھ نہیں کہ گھروں میں کام کرنے والی بچوں کی فوج تو ہے ہی بااثر افراد کی غلام۔

طیبہ کیس توکسی وجہ سے سامنے آ گیا، گھروں میں کام کرنے والی بچیوں کے ساتھ کیا کچھ ہوتا ہے، اس کی تو صرف کہانیاں ہی سامنے آتی ہیں، کاش ایسی کہانیاں بھی سامنے نہ آئیں۔ کاش طیبہ کیس جیسے واقعات پر پردہ پڑا رہے، تا کہ ہم اپنے نظام انصاف کی تعریفیں سن کر بھنگڑے ڈالتے رہیں، لیڈروں کے اس بیان پر تالیاں بجاتے رہیں کہ کسی غریب پر ظلم کو برداشت نہیں کیا جائے گا، قانون سب کے لئے برابر ہے وغیرہ وغیرہ۔ طیبہ کیس ایک بار پھر ہمارے نظام انصاف کی چولیں ہلا گیا ہے۔ ایک بار پھر یہ ثابت ہوگیا ہے کہ ایسے واقعات کا خوشگوار انجام یہی ہوتا ہے کہ مظلوم ہاتھ جوڑ کر صلح کرلے اور طاقتور کو اس طرح معاف کرے کہ اس کا ظلم، طاقت اور کروفر مزید شدت کے ساتھ نمایاں ہو جائے۔ طیبہ کیس کے اس ’’خوشگوار‘‘ انجام پر ملک کے غریبوں کو بہت بہت مبارک باد کہ اس میں کم از کم انہیں کسی کو معاف کرنے کا جھوٹا سچا موقع تو ملا، وگرنہ تو ان کی ساری زندگی طاقتوروں سے معافیاں مانگتے ہی گزر جاتی ہے۔

نسیم شاہد

نیب میعشت اور اعلی عدلیہ : ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی

Read dr-shahid-hasan-siddiqui Column nab-maeshat-aor-aala-adlia published on 2016-09-22 in Daily JangAkhbar

 

ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی

کمزور، لاچار اور بے اختیار عدالتی نظام

یوں لگتا ہے کہ پاکستان میں سب سے بے بس، کمزور، لاچار اور بے اختیار عدالتی نظام ہے۔ اس نظام کے سامنے روز ایسے ملزم پیش ہوتے ہیں جن کے بارے میں ججوں کو سو فیصد یقین ہوتا ہے کہ ان سے جرم سرزد ہوا ہے لیکن وہ انھیں سزا نہیں دے سکتے۔کہتے ہیں اس کے خلاف صفحۂ مثل پر کچھ نہیں، ہم سزا کیسے دیں۔ یہ صرف چند ہفتے پہلے کی بات ہے کہ مشہور ممبر قومی اسمبلی اس بنیاد پر نااہل قرار دے دیا گیا کہ اس کی ڈگری جعلی ہے۔

 موصوف ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں پیش تھے۔ اینکر نے سوال پوچھا، آپ نے کس مضمون میں ایم ا ے کیا ہے۔ کہنے لگے یار تیرہ چودہ سال پرانی بات ہے، اب یاد تھوڑا رہتا ہے۔ اینکر کے بار بار اصرار کرنے پر بتایا کہ اتنا یاد ہے کہ میں نے ایم اے آرٹس کے مضمون میں کیا ہے۔ یہ اینکر اگر مزید دو تین سوال اور کرتا تو پاکستان بھر میں مناسب سی تعلیم رکھنے والا شخص بھی یہ فیصلہ کر سکتا تھا کہ اس ممبر اسمبلی کی ایم اے کی ڈگری جعلی ہے۔ لیکن کس قدر بے بس ہے ہمارا عدالتی نظام کہ موصوف کو عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کر کے اس کے مضمون کے مطابق چند سوال پوچھ کر یہ فیصلہ نہیں کر سکتا کہ اس کی ڈگری جعلی ہے۔

اس کا یہ عذر پیش کیا جاتا ہے کہ اگر ہم نے ایسا کرنا شروع کر دیا تو پھر ایک لائن لگ جائے گی۔ یعنی آپ اس خوف سے درست فیصلہ نہیں کرتے کہ آپ کو ایسے ہزاروں درست فیصلے کرنا پڑ جائیں گے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ ڈگری تصدیق کرنے والے محکمے کے پاس بھیجو، تصدیق کر دے تو مان لو بے شک سامنے کھڑا شخص جاہل مطلق ہی کیوں نہ نظر آ رہا ہو۔ ایسا بہت کچھ روز عدالت کے سامنے ہو رہا ہوتا ہے۔ قانون میں ایک لفظ ’’alibi‘‘ ایلی بائی ہے جس کا مطلب ہے کہ فلاں شخص جس پر قتل یا کسی اور جرم کے ارتکاب کا الزام ہے وہ تو موقع پر موجود ہی نہیں تھا۔
 روزانہ عدالتوں میں جعلی سرٹیفکیٹ پیش ہوتے ہیں، جعلی جہاز کی ٹکٹیں اور بورڈنگ پاس دکھائے جاتے ہیں، کئی دفعہ تو یوں ہوتا ہے کہ کسی کرائے کے پیشہ ور قاتل کی گرفتاری ڈالی جاتی ہے، پھر اسے خاموشی سے چند گھنٹوں کے لیے حوالات سے نکالا جاتا ہے۔ وہ قتل کر کے واپس حوالات آ جاتا ہے۔ موقع پر دس لوگ موجود ہوں، وہ سب کے سب گواہی دیں، لیکن کس قدر بے بسی ہے عدالت کی کہ وہ صفحۂ مثل پر آئی ہوئی اس  پر خود تحقیق کا آغاز نہیں کر سکتی۔
روزانہ عدالت کے روبرو پیش ہونے والے گواہوں کو کہیں پیسے دیکر اور کہیں ڈرا دھمکا کر بیان بدلنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اسے بیرون از عدالت تصفیہ بھی کہتے ہیں۔ اکثر بااثر قاتل گھرانے کے لوگ مقتول کے گھرانے کو دھونس، جبر یا پھر ان کی غربت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سرمائے کا استعمال کر کے گواہوں کو بٹھاتے ہیں اور عدالت کس قدر بے بس ہو جاتی ہے کہ اس کو علم بھی ہو کہ اس شخص نے قتل کیا ہے، وہ اسے باعزت بری کر دیتی ہے۔ پاکستان کی جیلوں میں روزانہ ایسے ہزاروں افراد قید کر دیے جاتے ہیں جن کا نام دشمنی کی بنیاد پر ایف آئی آر میں لکھا جاتا ہے۔
 چالان پیش ہونے تک یہ عدالت کی دسترس میں نہیں آ پاتے، البتہ عدالتیں ہی انھیں ریمانڈ بھی دے رہی ہوتی ہیں۔ اگر کسی طرح ان بے گناہوں کے خلاف چالان بھی مکمل ہو جائے تو مقدمے کی آخری عدالت کی فیصلے کی بنیاد پر پھانسی پر بھی جھول جاتے ہیں۔ ایک دندناتے ہوئے مجرم کا عدالت کے ہاتھوں سے نکل جانا اور ایک بے گناہ کا سزا پا جانا ہمارے عدالتی نظام پر ایک سوال ہے جس کا جواب کوئی تلاش نہیں کرتا۔ البتہ اس عدالتی نظام کو مضبوط کرنے کے خواہش مند آپ کو ہر طبقۂ خیال میں ملیں گے۔
عدلیہ کی آزادی پر گھنٹوں دلائل دینے والوں میں وکیلوں کی فوج ظفر موج سے لے کر دانشور، سیاست دان اور صحافی سب شامل ہیں۔ ان سب کے سامنے گزشتہ دنوں سرمایہ اور طاقت کے نشے میں دھت بااثر لوگوں کی اولادوں نے قتل کیے۔ میڈیا کی چکا چوند روشنی میں مائیں اپنے لخت جگر کا ماتم کرتی نظر آئیں۔ لوگ باقاعدہ قاتلوں کی نشاندہی کرتے رہے۔ کراچی میں شاہ زیب اور لاہور میں زین کا قتل ایسے روز روشن کی طرح واضح حقیقتوں میں سے تھے کہ ان میں مجرم کا بچ نکلنا کسی کے تصور میں بھی نہیں آ سکتا تھا۔
 حیرت کی بات ہے زین کے قتل کے وقت وہ تمام گواہان جو انگلیاں اٹھا اٹھا کر صدیق کانجو کے بیٹے مصطفی کانجو کی فائرنگ کو زین کے قتل کی وجہ بتاتے تھے عدالت میں پلٹ گئے جیسے یہ سب ہوا ہی نہیں تھا۔ اب فیصلہ یوں ہے کہ وہاں گولیاں بھی چلیں، آپس میں لڑائی بھی ہوئی، سنسناتی گولی زین کے سینے میں اتری لیکن ان تمام لوگوں کی موجودگی کے باوجود عدالت کے سامنے یہ ثابت نہ ہو سکا کہ کس کی گولی زین کو موت کے گھاٹ اتار گئی۔ سب باعزت بری۔ یہ ہے ہمارے عدالتی نظام کی بے بسی۔
لیکن میرا المیہ یہ نہیں ہے کہ اس عدالتی نظام کا ماتم کروں جسے اینگلوسیکسن قانون کہتے ہیں اور جسے ہمارا آئین تحفظ دیتا ہے۔ میرا ماتم یہ ہے کہ یہی آئین اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ اس ملک میں کوئی قانون قرآن و سنت کے منافی نہیں بنایا جا سکتا۔ اس اینگلوسیکسن قانون کے تحت اگر روز گواہ بیٹھ جائیں اور مجرم عدالت سے باعزت بری ہو جائے تو کوئی اس نظام پر انگلی نہیں اٹھاتا۔ لیکن اس ملک میں اللہ کے بتائے ہوئے اس اصول قصاص و دیت کے تحت اگر کوئی وارث اپنے مقتول کے قاتل کو معاف کر دے تو اخبارات کے صفحے اس قانون کے خلاف کالے ہونے لگتے ہیں۔ 
رات کو ٹاک شوز میں دانشور اسلام کے اس قانون کے خلاف آستین چڑھا لیتے ہیں، صدیوں سے پاکستان کے قبائلی معاشرے میں یہ اصول رائج ہے کہ جب جرگہ کسی قتل کا فیصلہ کرنے بیٹھتا ہے تو وہ یہ طے کر لیتے ہیں کہ ہم قتل کے بدلے قتل کروا کر دشمنی کو مزید ہوا نہیں دینا چاہتے۔ اس لیے خوں بہا لے کر صلح اور امن کی رسم کا آغاز کیا جائے۔ اسلام کے اس بنیادی اصول کو اپناتے ہوئے انھوں نے صدیوں پرانی دشمنیوں کو ختم کیا۔ لیکن ہم وہ بدقسمت ’’پڑھے لکھے‘‘ لوگ ہیں جو ایسے عدالتی نظام کا دفاع کرتے ہیں جہاں دھونس، دباؤ اور لالچ سے عدالت کے سامنے جھوٹ بول کر قاتل کو چھڑا لیا جائے لیکن اسلام کے اصولوں کے تحت کسی کو معاف کر کے دنیا میں امن اور آخرت میں اجر عظیم کا سودا نہیں کرنے دیتے۔
ہماری منافقت اور اسلام سے دشمنی کا یہ عالم ہے کہ روزانہ ہزاروں بے گناہ غلط ایف آئی آر درج ہونے کی وجہ سے جیل میں پھینک دیے جاتے ہیں لیکن کسی وکیل، انسانی حقوق کے چیمپئن یا این جی او کے کرتا دھرتا نے یہ آواز نہیں اٹھائی کہ پاکستان کے ضابطہ فوجداری میں ترمیم کی جائے اور اس وقت تک کسی کو گرفتار نہ کیا جائے جب تک تفتیش مکمل نہ ہو جائے۔ انسانی حقوق کے علمبرداروں کو آج تک ایسے ہزاروں لوگ نظر نہیں آئے جو صرف ایف آئی آر میں نام درج ہونے کی وجہ سے سالوں جیل میں سڑتے رہتے ہیں۔ لیکن جیسے اسی ضابطۂ فوجداری کی وجہ سے توہین رسالت کا مقدمہ درج ہوتا ہے تو سب کی آنکھیں غصے سے ابلنے لگتی ہیں۔ 
ہر کوئی الفاظ کے تیر لے کر سامنے آ جاتا ہے۔کسی میں اتنی جرأت تو ہے نہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی توہین کو جرم قرار نہ دے، اسے کبھی آمر کا بنایا ہوا قانون کہہ کر بات کی جاتی ہے اور کبھی کہا جاتا ہے کہ ضابطہ فوجداری کا قانون بدل دیا جائے۔ ہزاروں بے گناہ مجرم جیل کی سلاخوں کے پیچھے اس نظام کی بھینٹ چڑھ رہے ہوتے لیکن سب کو توہین رسالت کے مجرم ہی مظلوم نظر آتے ہیں لیکن جیلوں میں موجود ہزاروں بے گناہ یاد نہیں آتے۔ صرف وہی لوگ یاد آتے ہیں جن پر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کی توہین کا الزام تھا۔ کیا ایسا کرنا بذات خود توہین رسالت کی سزا کا تمسخر اڑانا نہیں ہے۔
کس نے قانون کو ہاتھ میں لیا اور کون بے گناہ مارا گیا، کس پر الزام جھوٹا اور کون عالمی ایجنڈے پر اس قانون کے خلاف بول رہا تھا، یہ سب کچھ سپریم کورٹ اور پاکستان کے بے بس عدالتی نظام میں زیربحث آتا ہے۔ فیصلے ہوتے ہیں لیکن ایک عدالت اس سے بالاتر ہے۔ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و آلہ و سلم بازار سے گزر رہے تھے کہ مکہ کے لوگوں نے اشارہ بازی شروع کی اور کہا یہ شخص کہتا ہے کہ اس کے پاس جبریل آتا ہے (نعوذ باللہ) جبرائیل علیہ السلام خود شریف لائے اور ان کی جانب انگلی کا اشارہ کیا تو ان کے جسم سے خون بہنے لگا اور ایسی بدبو آئی کہ ان کے قریب کوئی نہ جاتا تھا (طبرانی الاوسط)۔

 قبیلہ بنونجار کا ایک شخص مسلمان ہوا، کاتب وحی مقرر ہوا، پھر نصرانی ہو گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا مذاق اڑاتا کہ میں نے وحی میں بہت سی ایسی باتیں لکھ دیں جن کا انھیں پتہ نہ چلا۔ کچھ دن بعد اس کی گردن ٹوٹ گئی۔ لوگوں نے دفن کیا، لاش کو زمین نے قبول نہ کیا۔ صبح باہر پڑی تھی، اگلی صبح اور نیچے دفن کیا، پھر ایسا ہوا، پھر کیا، آخر لاش ویرانے میں پھینک دی گئی (مسلم) آپ فیصلے کرتے جاؤ، اینگلوسیکسن قانون کا تحفظ اور اللہ کے بتائے ہوئے اصولوں کا تمسخر اڑاتے جاؤ لیکن جان رکھو کہ اس کائنات کی آخری عدالت وہ قادر مطلق کی ہے جو جب، جہاں، جس وقت چاہے اپنے فیصلے کا اعلان کر دے اور ہماری چیخ و پکار سننے والا بھی کوئی نہ ہو۔

اوریا مقبول جان