کیا ہاشمی کا جرم مشرف سے بڑا تھا ؟

نہال ہاشمی ایک ماہ جیل کاٹ کر رہا ہو گئے۔ رہائی پر قسم اٹھا کر کہا کہ انہوں نے کوئی توہین عدالت نہیں کی بلکہ انہیں تو انتقام کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ نہال ہاشمی کی جو تقریر میڈیا نے سنائی اور جس پر انہیں توہین عدالت کا نوٹس دیا گیا وہ قابل اعتراض ضرور تھی لیکن کیا عدالت عظمیٰ کے لیے مناسب تھا کہ ہاشمی کی طرف سے پیش کی گئی غیر مشروط معافی نامہ میں تبدیل کروانے کے باوجود تاکہ اُسے قابل قبول بنایا جائے ، ہاشمی کو نااہل قرار دے کر تیس دن کے لیے جیل بھی بھیج دیا گیا۔ عموماً ایسا ہوتا نہیں۔ عدالتیں معافی مانگنے پر معاف کر دیتی ہیں۔ نہال ہاشمی ایک غریب سیاست دان ہے۔ اُس کو تو سزا دھمکی دینے پر ہوئی۔

توہین عدالت بلکہ اس سے بہت بڑی سزا اگر کسی کو ہونی چاہیے تھی تو وہ جنرل مشرف کو جس نے ایک نہیں بلکہ پچاس سے زیادہ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو نہ صرف غیر قانونی طور پر نکالا بلکہ انہیں بچوں سمیت نظر بند بھی کیا۔ جو مشرف نے عدلیہ اور ججوں کے ساتھ کیا اُس کی کوئی نظیر نہیں ملتی لیکن اس جرم پر مشرف کو تو ایک دن کے لیے بھی جیل نہیں بھیجا گیا۔ مشرف نے اپنے ایک حالیہ ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ اُنہیں سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی مدد سے ملک سے باہر جانے کی اجازت ملی۔ مشرف نے یہ سنگین الزام بھی لگایا کہ ہمارے جج پس پردہ دبائو کے تحت ہی کام کرتے ہیں اوراسی دبائو کے تحت فیصلے دیتے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ اسی دبائو کے تحت انہیں ملک سے باہر جانے کی اجازت دی گئی۔ اس سے بڑی توہین عدالت کیا ہو سکتی ہے؟

لیکن عدلیہ نے مشرف کے اس بیان پر کوئی کان نہ دھرا۔ مشرف نے تو دو بار آئین کو پامال کیا لیکن وہ اس کے باوجود بیرون ملک آرام دہ زندگی گزار رہے ہیں۔ حال ہی میں سپریم کورٹ نے بہت اچھا کیا کہ حسین حقانی کو پاکستان واپس لانے کے لیے ایف آئی اے کو فوری اقدامات کرنے کا حکم دیا۔ کتنا اچھا ہوتا کہ سپریم کورٹ جنرل مشرف کے ریڈ وارنٹ بھی جاری کرتی کیوں کہ مشرف کے جرائم کی سنگینی سے تو کسی کو انکار نہیں ہو سکتا۔ قانون کی بالادستی کو اگر قائم کرنا ہے تو پھر قانون کا اطلاق سب سے پہلے اُن پر ہو جو سب سے طاقت ور ہیں اور جنہوں نے بار بار ثابت کیا کہ وہ جو مرضی آئے کر لیں اُنہیں کوئی چھو بھی نہیں سکتا۔ اچھا ہوتا کہ جس طرح سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ اور نگراں جج کے ذریعے میاں نواز شریف اور اُن کے بچوں کے خلاف عدلیہ کو جلد فیصلہ کرنے کا پابند بنایا ہے، اُسی تیزی سے مشرف کے خلاف بغاوت کے کیس کا بھی فیصلہ کروایا جاتا۔

بغاوت کا کیس تو خصوصی عدالت کے سامنے گزشتہ چار سال سے pending پڑا ہے جبکہ اس بارے میں قانون تو روز کی بنیاد پر کیس سننے اور جلد فیصلہ کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ قانون تو یہ بھی کہتا ہے کہ اگر ملزم عدالت میں پیش نہ بھی ہو تو فیصلہ جلد کرو۔ ایک لمبے وقفے کے بعدخصوصی عدالت 8 مارچ کو دوبارہ اس کیس کو سنے گی۔ دیکھنا ہو گا کہ عدلیہ کی جلد انصاف کی فراہمی کی حالیہ مہم کا جنرل مشرف کے خلاف عدالتوں میں التوا مقدمات پر بھی کوئی اثر پڑتا ہے یا سابق ڈکٹیٹر ایک بار پھر ثابت کرنے میں کامیاب ہوں گے کہ وہ قانون سے بالاتر ہیں اور ان کا احتساب نہ تو پاکستان کی حکومت اور نہ ہی عدلیہ کر سکتی ہے۔

سول حکومت اور عدلیہ کے اس امتحان کے ساتھ ساتھ نیب اور اُس کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کو بھی ایک بڑی مشکل نے آن گھیرا ہے۔ اپنے ایک حالیہ فیصلہ میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیب کو ہدایت دی ہے کہ وہ جنرل مشرف کے اثاثہ جات اور مبینہ کرپشن کے متعلق انکوائری کرے۔ نیب چیئرمین جو آج کل سیاستدانوں اور سرکاری افسران کے احتساب میں کافی سرگرم ہے، اس معاملہ میں دو ہفتہ گزرنے کے باوجود کوئی فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں۔ اس بارے میں نیب اور جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے خاموشی اپنا رکھی ہے۔ اس کے جواب کے لیے بھی شاید ہمیں جنرل مشرف کے کسی آئندہ انٹرویو کا انتظار کرنا پڑے گا جس میں اُن سے پوچھا جا سکتا ہے کہ آخر اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ کے باوجود اُن کے خلاف نیب تحقیقات کیوں نہیں شروع کر رہا ؟ کہیں کوئی دبائو تو نہیں!

انصار عباسی

Advertisements

چیف جسٹس صاحب سلامت رہیں

چیف جسٹس افتخار چوہدری تو تب قوم کے دل کی دھڑکن بنے تھے جب انھیں پرویز مشرف نے جبراً برطرف کر دیا تھا۔ مگر جسٹس ثاقب نثار عزت مآب کی بڑھتی ہوئی عوامی مقبولیت تو خود ان کے جرات مندانہ فیصلوں اور خالی از مصلحت بیانات و اقوال کی مرہونِ منت ہے اور ہر آنے والا دن ملک و قوم کے لیے پہلے سے زیادہ امید افزا لگ رہا ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ جب میرے شہر کراچی میں دو برس پہلے جنرل راحیل شریف کی مدتِ عہدہ میں توسیع کے لیے پوسٹرز چپکائے گئے تو کچھ شکی مزاجوں نے بکنا شروع کر دیا کہ یہ پوسٹرز ایجنسیوں نے لگائے ہیں۔ مگر آج کراچی میں سندھ سیکریٹیریٹ کے آس پاس میں نے کسی لائرز فرنٹ کی طرف سے ’’ برائیوں کے خلاف جنگ جسٹس ثاقب نثار کے سنگ والے پوسٹرز برقی کھمبوں سے لٹکتے دیکھے تو دل کو اطمینان سا ہوا کہ وکلا برادری جو اپنے تئیں کسی کو کچھ نہیں سمجھتی اور ان میں سے کچھ کالے کوٹوں نے زیریں عدالتوں میں توڑ پھوڑ کر کے اور کچھ ججوں کو پھنڈ کے اپنی برادری کے لیے خجالت کا جو سامان کیا۔ وہ بھی اپنے افعال پر نادم ہونے کے بعد بطور کفارہ چیف جسٹس کے شانہ بشانہ اس معاشرے سے برائیوں کے خاتمے اور انصاف کے بول بالے کے لیے کھڑے ہیں.

اور کچھ وکیل اپنی جیب سے پوسٹرز چھپوا کر اظہارِ عقیدت کر رہے ہیں۔ یہ بے مثال اظہارِ عقیدت چیف جسٹس کے جرات مندانہ فیصلوں کے سبب ہے ورنہ تو اس ملک میں کئی قاضی القضاہ آئے اور چلے گئے۔ چیف جسٹس نے یونہی دلوں کو نہیں چھوا۔ ان میں ایک عوامی کشش ہے۔ وہ پروٹوکول کو بالائے طاق رکھ کے لوگوں میں گھل مل جاتے ہیں۔ مصلحت کوشی سے کوسوں دور ہیں اور جو بات دل میں وہی زبان پر ہے۔ وہ اس کہاوت کی مکمل تصویر ہیں کہ انصاف صرف ہونا ہی نہیں چاہیے بلکہ ہوتے ہوئے نظر بھی آنا چاہیے۔ پرسوں ہی آپ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے کیفے ٹیریا میں اچانک قدم رکھا اور وکلا کے ساتھ چائے پے چرچا کی۔آپ نے فرمایا کہ ہم سماجی برائیوں کے خلاف جہاد کر رہے ہیں اور اس امر کو یقینی بنانے کی کوشش جاری رکھیں گے کہ شہریوں کو صاف پانی ، صحت مند ماحول ، خالص دودھ اور صاف ستھرے گوشت کی فراہمی سمیت بنیادی سہولتیں دستیاب ہوں۔ کسانوں کو ان کی فصل کی مناسب قیمت ملے۔ آپ نے فرمایا کہ ممکن ہے اعلی عدلیہ کبھی اپنی سمت سے ادھر ادھر بھی ہو گئی ہو مگر دیر آئید درست آئید اب اعلی عدلیہ نے معاشرے سے ناانصافی کے خاتمے کی بنیاد ڈال دی ہے۔ وکلا میرے سپاہی ہیں۔

اب یہ ان پر منحصر ہے کہ بنیاد پر عمارت کی تعمیر مکمل کریں۔ آپ بربنائے عہدہ چونکہ سپریم جوڈیشل کونسل کے بھی سربراہ ہیں لہذا جب وکلا نے آپ کی توجہ کونسل میں ججوں کے خلاف طویل عرصے سے پڑے ریفرینسوں کی جانب مبذول کروائی تو آپ نے کمال فراغ دلی سے فیصلوں میں تاخیر کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ جتنے بھی ریفرینسز سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے ہیں ان سب کا فیصلہ جون تک کر دیا جائے گا تاکہ کوئی یہ انگلی نہ اٹھا سکے کہ عدلیہ خود احتسابی سے تساہل برت رہی ہے۔ اس موقع پر بعض وکلا نے جذباتی ہو کر آپ کی موجودگی میں برتے جانے والے ادب آداب کا خیال نہ کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس انور خان کاسی کے خلاف بھی نعرے لگائے مگر آپ نے اسے الیکشن مہم کی گرما گرمی جان کر درگزر فرمایا۔

مجھے معلوم ہے کہ کچھ بال کی کھال نکالنے والے ضرور کہیں گے کہ سماجی انصاف اور عوامی سہولتوں کو یقینی بنانا عدلیہ کی براہِ راست ذمے داری نہیں بلکہ عدلیہ کو یہ کام حکماً حکومت سے کروانا چاہیے۔ اگر عدلیہ نے اپنے ذمے آٹے دال کا بھاؤ سیدھا کرنے کا بھی کام لے لیا تو پھر پہلے سے موجود انیس لاکھ مقدمات کے فیصلوں میں اور تاخیر ہو سکتی ہے۔ ایسے بال کی کھال نکالنے والوں کو میں بس یہی کہنا چاہوں گا کہ جب پارلیمنٹ یہ تمیز کھو دے کہ اسے کون سا قانون بنانا ہے کون سا نہیں بنانا ، جب وہ ایماندار اور بے ایمان قیادت میں فرق نہ کر سکے اور جب وہ محض کروڑوں ووٹوں سے منتخب ہونے کے زعم میں بس خود کو ہی عوامی امنگوں کا ترجمان سمجھنے لگے اور اس غلط فہمی میں مبتلا ہو جائے کہ عدلیہ کا بس یہی کام ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے بنائے قوانین کی حدود میں رہ کر فیصلے کرے یا ان قوانین کی تشریح تک خود کو محدود رکھے تو پھر تو جمہوریت کے نام پر اندھیر نگری مچنی ہی ہے جو کہ مچ رہی ہے۔ ایسے میں کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ دیگر مقتدر ادارے بشمول عدلیہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے تماشا دیکھتے رہیں۔

یہ ٹھیک ہے کہ آئین پارلیمنٹ نے جنم دیا اور اس میں ترمیم و اضافہ بھی پارلیمنٹ ہی کر سکتی ہے۔ مگر پارلیمنٹ آئین کی جسمانی ماں ہے۔ آئین کی نگہداشت، تربیت اور اس پر نگاہ رکھنے اور اس کے تحت کیے جانے والے اقدامات کی تشریح اعلی عدلیہ کا حق ہے۔ وہ آئین کی نفسیات بہتر سمجھتی ہے۔ اسی لیے اس کے تمام فیصلوں کو پارلیمانی فیصلوں پر برتری حاصل ہے۔ جو اس اصول کو نہیں مانتا اس کے ساتھ کیا ہوتا ہے یہ آپ کو بھی اچھے سے معلوم ہے۔ اعلی عدلیہ کو ایک طعنہ یہ بھی دیا جاتا ہے کہ ماضی میں اس نے وہ فیصلے بھی کیے جن سے فوجی آمروں کو قانونی جواز ملا اور انھوں نے آئین سے جیسے چاہے کھلواڑ کیا۔عدلیہ اس بابت ایک سے زائد بار اعتراف کر چکی ہے۔ اب آپ اور کیا چاہتے ہیں۔

وہ زمانے گئے جب فوج تختہ الٹ دیتی تھی اور ماورائے آئین اقدامات کو بھی زبردستی قانونی جیکٹ پہنوانے کی کوشش کرتی تھی۔ آج کی دنیا میں فوجی کودیتا آؤٹ آف فیشن ہو چکا ہے۔ لہذا مملکت کا قبلہ درست رکھنے اور اداروں کے درمیان چیک اینڈ بیلنس برقرار رکھنے کے لیے اعلی عدلیہ کی ذمے داریاں اور بڑھ گئی ہیں۔ ویسے بھی جوڈیشل ایکٹو ازم اور ازخود نوٹس کے دور میں کسی ادارے کی جانب سے ماورائے آئین قدم اٹھانے کا جواز بے معنی ہو چکا ہے۔ اب جو بھی تبدیلی آنی ہے وہ نظام کے دائرے میں رہتے ہوئے آنی ہے۔ یہ سب ایک آزاد خود مختار عدلیہ کے سبب ہی ممکن ہوا ہے۔ مگر عدلیہ کے فیصلے تب تک موثر نہیں ہو سکتے جب تک اسے عوامی تائید و حمائیت حاصل نہ ہو۔ یہ امر نہائیت حوصلہ افزا ہے کہ اس وقت اعلی عدلیہ کو مملکت کے دیگر مقتدر اداروں اور عوامی جذبات کی ترجمانی کرنے والی ایک آدھ کے علاوہ سب سیاسی و مذہبی جماعتوں کی حمائیت حاصل ہے۔ حالانکہ انصاف کو کسی کی تائید و مخالفت سے کوئی فرق نہیں پڑتا مگر فیصلوں کی روح سمیت مکمل نفاذ میں یقیناً آسانی ہو جاتی ہے۔ ظاہر ہے ہر ایک کو یہ بات ہضم نہیں ہوتی۔ لہذا چیف جسٹس کی ذات کو بھی حملوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ان حملوں کی نوعیت سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ کون اس ملک میں اداروں کی حکمرانی چاہتا ہے کون نہیں چاہتا۔

رکیک حملوں کے معیار کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ عزت مآب چیف جسٹس نے جب گذشتہ برس کوئٹہ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تحریکِ پاکستان میں ایک جانب مسلمان تھے اور دوسری جانب وہ قوم جس کا میں نام بھی لینا نہیں چاہتا تو کچھ حاسدوں نے اس جملے کو سیاق و سباق سے الگ کر کے پروپیگنڈہ شروع کر دیا کہ چیف جسٹس جس قوم کا نام نہیں لینا چاہتے تھے وہ دراصل ہندو ہیں۔ حالانکہ چیف جسٹس کا اشارہ غالباً ان انگریزوں کی طرف تھا جنہوں نے برِصغیر کو دو سو برس غلام بنا کے رکھا۔ اسی طرح جب ایک بار چیف جسٹس نے فنِ تقریر کے محاسن بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ نہ تو کسی خاتون کے اسکرٹ کی طرح اتنی چھوٹی ہو کہ تشنہ لگے اور نہ ہی اتنی طویل کہ سننے والا بور ہو جائے۔ تو بعض جہلا نے یہ شور مچا دیا کہ ہا ہائے یہ تو خواتین کی توہین ہے۔ اگر اعتراض کرنے والے بھی وسیع المطالعہ ہوتے اور انھوں نے چرچل کو بھی پڑھا ہوتا تو شائد وہ خاموش ہو جاتے۔ چیف جسٹس صاحب نے بھی شائد یہی گمان کر کے یہ مثال دی ہو گی کہ میرے سامنے جو حاضرین بیٹھے ہیں انھیں کم ازکم اتنا تو معلوم ہو گا کہ یہ کس کا قول زریں ہے۔ پر مجھے دکھ ہوا کہ سادہ دل چیف جسٹس کو سامعین بھی ملے تو کیسے نابلد و تنگ دل۔

مجھے ابھی سے یہ دکھ لاحق ہے کہ چیف جسٹس صاحب اگلے برس فروری میں ریٹائر ہو جائیں گے۔ کس قدر ستم ظریفی ہے کہ اس ملک پر برے لوگ لمبے لمبے عرصے تک مسلط رہتے ہیں اور جن لوگوں کو لمبے عرصے تک رہنا چاہیے وہ آنکھ پوری جھپکنے سے پہلے ہی ریٹائر ہو جاتے ہیں۔ حضورِ والا آپ بابا رحمت نہیں خدا کی رحمت ہیں اور خدا کبھی اپنی رحمت سے منہ نہیں موڑتا۔ بس اتنی سی تمنا ہے کہ آپ کے بعد آنے والا بھی آپ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے آپ کے مشن کو مزید آگے بڑھائے۔

آمین ، ثم آمین

وسعت اللہ خان

چھتیس سال بعد مکان کا قبضہ چھڑوانے پر مالک کا جسٹس شوکت عزیز صدیقی سے مکالمہ

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے حکم پر وفاقی پولیس نے وکیل سے مکان کا قبضہ چھڑوا کر 36 سال بعد مالک عبدالسمیع کے حوالے کر دیا، اس کے مطابق سیکٹر ای سیون میں دو پراپرٹی ڈیلروں نے اس کے مکان پر قبضہ کیا تھا اور بعد میں انہوں نے ایک وکیل محمد سہیل کے والد کو فروخت کیا،ان کے مطابق 8 دسمبرکو سول جج نے بیلف کو بھیجا جس نے مکان کا قبضہ لے لیا مگراگلے دن محمد سہیل نے ساتھی وکلاء کی مدد سے مکان پر دوبارہ قبضہ کر لیا، عبدالسمیع نے عدالت میں درخواست دائر کی، 18 دسمبر کو عدالت نے ضلعی انتظامیہ کو مکان خالی کرانے کا حکم دیا جس پر محمد سہیل اورساتھی وکیل گلباز مشتاق نے بحث شروع کی اور جسٹس شوکت صدیقی کے ساتھ بدتمیزی کی جس کے بعد فاضل جسٹس نے دونوں کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا اورکہا کہ کیوں نہ ان کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے.

کل کی سماعت کے دوران دونوں عدالت میں پیش نہ ہوئے، جس پر جسٹس شوکت صدیقی نے ان کے لائسنس معطل کرتے ہوئے ممبرشپ معطلی کا حکم بھی دیا۔ اس موقع پر مالک عبدالسمیع نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ جیسے ججز ہوں گے تو غریب اور کمزور کو انصاف ملے گا۔ درخواست پر سماعت کے دوران مالک مکان عبدالسمیع اور ایس ایچ او تھانہ کوہسار اسجد محمود عدالت میں پیش ہوئے، فاضل جسٹس نے ایس ایچ او سے استفسار کیا کہ عدالتی حکم پر عملدر آمد ہوا کہ نہیں ؟ ایس ایچ او نے کہا قبضہ لیکر مالک مکان کو دیدیا ہے، مالک مکان نے کہا قبضہ مل گیا ہے عدالت کے شکر گزار ہیں، دونوں وکلاء سہیل احمد اور گلباز مشتاق کی عدم حاضری پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ توہین عدالت کے شوکاز پر حاضر نہ ہونا بھی توہین عدالت ہے ، آئندہ سماعت تک دونوں وکلاء کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جائیں، آئندہ سماعت پر وکلاءپیش نہ ہوئے تو گرفتاری کا حکم دینگے، عدالت نے آئندہ سماعت 9 جنوری تک ملتوی کر دی۔
 

اہم عدالتی فیصلے اور سیاسی نتائج

عدل و انصاف کو ایک آفاقی حقیقت کا درجہ حاصل ہے۔ دنیا کا کوئی بھی معاشرہ خواہ مسلم ہو یا غیرمسلم، عدل و انصاف کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا۔ عہد ِحاضر میں سماج میں عدل و انصاف کا قیام عدلیہ کا فریضہ ہے۔ جس کے حالیہ فیصلوں کے بعد کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ عدلیہ نے جانبداری سےکام لیا، اگر کوئی ایسا طرز ِ عمل اختیار کرتا ہے تو اس کاعمل توہین عدالت کی ذیل میں تو آتا ہی ہے اس سے عوام کا عدلیہ ایسے معتبر ادارے پر اعتماد بھی متزلزل ہونے کا احتمال رد نہیں کیا جا سکتا۔ وطن عزیز کی سیاست میں پچھلے چند برس سے عدلیہ کو خاص اہمیت حاصل ہوئی ہے کہ اسے بیشتر ایسے معاملات فیصل کرنا پڑے جن کا تعلق سیاستدانوں سے تھا۔

پاناما کیس کے 28 جولائی کے فیصلے، جس میں میاں نواز شریف کو نااہل قرار دیا گیا، سے دو روز قبل مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی حنیف عباسی نے پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان اور سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین کی نااہلی کے لئے سپریم کورٹ میں درخواستیں جمع کرائیں کہ دونوں رہنمائوں نے انتخابات لڑنے کے لئے جمع کرائے گئے کاغذات میں سچائی سے کام نہیں لیا اور اپنے اثاثوں کی مکمل تفصیلات ظاہر نہیں کیں، لہٰذا آئین کی شق 62 کے تحت دونوں کو نااہل قرار دیا جائے۔ اس پر 405 روز کے دوران 50 سماعتوں میں 101 گھنٹے عدالتی کارروائی ہوئی، کم و بیش 7 ہزار دستاویزات کا جائزہ لینے کے بعد عدالت ِ عظمیٰ نے 14 نومبر 2017 کو فیصلہ محفوظ کر لیا۔

گزشتہ روز عدالت ِ عظمیٰ نے دو ایسے فیصلے سنائے جنہیں ملک اور ملکی سیاست میں انتہائی اہمیت حاصل ہے۔ عمران خان کے خلاف مقدمے کا فیصلہ آنے سے قبل عدالت عظمیٰ نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی طرف سے شریف خاندان کے خلاف دائر حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس کو دوبارہ کھولنے سے متعلق اپیل کو مسترد کر دیا، بعد ازاں سپریم کورٹ کے جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے حدیبیہ پیپر ملز سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر نیب کی اپیل کومسترد کرنے کا مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا وجوہات تحریری فیصلے میں بتائی جائیں گی۔ حدیبیہ پیپر ملز کا مقدمہ ایک ایسا مقدمہ تھا جس پر شریف خاندان کےمخالفین سب سے زیادہ انحصار کر رہے تھے اور اسے شریف خاندان کی سیاست کے خاتمے کا باعث بننے والا مقدمہ قرار دے رہے تھے۔ 

تاہم یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ عدالتی فیصلے کسی کی منشا یا جذبات پر فیصل نہیں ہوتے ۔ حدیبیہ پیپر ملز کے مقدمے کو حالیہ سیاست میں اس لئے خاص اہمیت حاصل ہو گی کہ اب مسلم لیگ ن کے مخالفین کے پاس وہ کاری ہتھیار نہیں رہے گا جسے وہ شریف برادران کی سیاست کے خاتمے کے حوالے سے سب سے ’’اہم‘‘ گردان رہے تھے۔ دوسرا اہم فیصلہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کیا اور پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کی نااہلی سے متعلق کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے حنیف عباسی کی درخواست مسترد کر کے عمران خان کو اہل قرار دے دیا جبکہ جہانگیر ترین کے خلاف درخواست کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے انہیں نااہل قرار دے دیا گیا۔ 

چیف جسٹس نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ تحریک ِ انصاف پر غیرملکی فنڈنگ پر درخواست گزار متاثرہ فریق نہیں۔ الیکشن کمیشن غیر جانبدارانہ طور پر پی ٹی آئی کے اکائونٹس کی پچھلے 5 سال تک کی چھان بین کر سکتا ہے۔ جہانگیر ترین کے بارے میں عدلیہ کا کہنا تھا کہ انہیں ایماندار قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ ایک ہی دن عدالت ِ عظمیٰ کے دو مختلف مگر اہم ترین فیصلے اس امر کے غماز ہیں کہ ہماری عدلیہ آزاد ہے اور آزادانہ فیصلے کر رہی ہے اور جب عدلیہ آزاد ہو تو ملک و قوم کو کوئی خطرہ درپیش نہیں ہو سکتا۔ لازم یہ ہے کہ مذکورہ مقدمات کے تمام تر متعلقین عدلیہ کے فیصلوں کو من و عن تسلیم کریں۔ کسی کو اگر ان فیصلوں پر تحفظات بھی ہیں تو اسے صرف وہ راہ اختیار کرنی چاہئے جو اسے آئین نے سجھائی ہے۔ دوسرا کوئی راستہ خود کو آزمائش میں ڈالنے کے مترادف ہو گا۔

اداریہ روزنامہ جنگ
 

لاپتہ افراد کا کمیشن

لاپتہ افراد کا مسئلہ پاکستان کے انسانی حقوق کے ریکارڈ پر سیاہ دھبہ تھا جو اب 16 سال بعد سیاہ صفحے پر محیط ہو گیا ہے۔ سپریم کورٹ میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے دائر کردہ عرضداشتوں کی سماعت کے دوران خیبر پختون خواہ اور وفاق کے نمایندے پیش ہوئے مگر ان حکومتوں کے نمایندوں کی فائلوں میں لاپتہ افراد کے لواحقین کی تسلی اور تشفی کے لیے کچھ نہیں تھا، معزز جج صاحبان غصے کے سوا کچھ اور نہ کر سکے۔ سینیٹ میں پیپلزپارٹی کے فعال رکن سنیٹر فرحت اللہ بابر نے کوئٹہ میں سینیٹ کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں لاپتہ افراد کے موضوع پر اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے قائم کیا جانے والا کمیشن اپنے اہداف کے حصول میں ناکام ہو چکا ہے، لہذا نیا کمیشن قائم کیا جائے۔

لاپتہ افراد کی اصطلاح یوں تو بہت پرانی ہے مگر نئی صدی کے آغاز کے بعد سے سیاسی جماعتوں کے کارکنوں، سماجی کارکنوں اور طالب علموں وغیرہ کے اچانک لاپتہ ہونے کے بعد یہ اصطلاح استعمال ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ نامعلوم افراد چار دروازوں والی ڈبل کیبن گاڑیوں میں آتے ہیں۔ عمومی طور پر یہ افراد راتوں کو گھروں میں آتے ہیں اور متعلقہ افراد کو ساتھ لے جاتے ہیں۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان افراد کو حراست میں لینے سے انکار کرتے ہیں، پھر ان افراد کے لواحقین متعلقہ ہائی کورٹ میں حبس بے جا کی عرضداشتیں دائر کرتے ہیں۔

معزز عدالتیں وفاق کی وزارت داخلہ اور صوبوں کے افسروں کو طلب کرتی ہیں۔ یہ سب لوگ ان افراد کی گرفتاری سے انکار کر دیتے ہیں تو پھر یہ تصور کیا جاتا ہے کہ ان افراد کو نامعلوم افراد نے اغواء کیا ہے۔ افتخار چوہدری سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے عہدے پر فائز ہوئے تو انھوں نے ازخود کارروائی کے اصولوں کے تحت لاپتہ افراد کے لواحقین کی عرضداشتوں کی سماعت کی تو وزارت داخلہ نے اپنا جواب داخل کیا۔ وزارت داخلہ نے اپنے جواب میں ان افراد کی فہرست پیش کی جو مختلف نوعیت کے حفاظتی مراکز میں بند ہیں۔

ان میں سے کچھ لوگ وزارت داخلہ کی رپورٹ جمع کرانے سے پہلے اپنے گھروں کو پہنچ گئے، کچھ کو سرکاری طورپر بازیاب کرایا گیا اور کچھ لوگوں کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ بیرونِ ملک چلے گئے، خاص طور پر اس فہرست میں شامل کچھ لوگوں نے افغانستان جانے کی تصدیق کی۔ معزز عدالت نے اپنے سابق جج جسٹس جاوید اقبال کو سندھ ہائی کورٹ کے ایک اور سابق جج جسٹس غوث محمد اور سابق انسپکٹر جنرل پولیس پر مشتمل کمیشن کے قیام کا اعلان کیا۔ اس کمیشن کے پاس عدالتوں کی طرح توہین عدالت کا اختیار نہیں ہے۔

سپریم کورٹ کا کوئی معزز جج اس کمیشن کی نگرانی کا فریضہ انجام دے رہا ہے۔ اس بناء پر کمیشن کا قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں پر دباؤ ڈالنا خاصا مشکل تھا مگر کمیشن کے اراکین نے ذاتی طور پر کوشش کی اورکچھ افراد بازیاب ہوئے اورکچھ کے بارے میں نئے حقائق سامنے آئے مگر مجموعی طور پر کمیشن لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کرنے میں ناکام رہا۔ اس صدی کے آغاز پر جب بلوچستان میں مری قبیلے میں سیاسی بے چینی پھیلی اور جسٹس نوازمری کا قتل ہوا تو مری قبیلے کے بعض افراد کے اغواء اور ان کی عدم بازیابی کی خبریں شایع ہوئیں۔ خیبر پختون خواہ سے القاعدہ اور طالبان سے منسلک بعض افراد کے لاپتہ ہونے کی خبریں شایع ہونے لگیں اور یہ سلسلہ پنجاب اور سندھ تک پھیل گیا۔ سندھ میں کالعدم تنظیموں کے کارکنوں کے علاوہ ایم کیو ایم کے کارکنوں کے لاپتہ ہونے کی خبریں شایع ہونے لگیں۔

بلوچستان میں نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد دیگر صوبوں سے آ کر بلوچستان میں آباد ہونے والے اساتذہ، ڈاکٹروں، صحافیوں، وکلاء اور خواتین وغیرہ کی ٹارگٹ کلنگ ہوئی اور بلوچ سیاسی کارکنوں کے لاپتہ ہونے کا کوئٹہ اور دیگر شہروں کے مضافاتی علاقوں سے ملنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ایسی ہی صورتحال کراچی میں ایم کیو ایم کے لاپتہ ہونے والے کارکنوں کے ساتھ بھی ہوئی۔ لاپتہ افراد کا مسئلہ بین الاقوامی میڈیا میں اجاگر ہونے لگا۔ بلوچ قوم پرست ماما قدیر نے اپنے بیٹے کے اغواء اور اس کی مسخ شدہ لاش ملنے کے بعد لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے پہلے کوئٹہ اور پھر کراچی میں بھوک ہڑتال کی اور اسلام آباد تک مارچ کیا۔ انسانی حقوق کی پاسداری کے لیے جدوجہد کرنے والی تنظیموں نے اس مارچ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا جس کی بناء پر جینیوا میں ہونے والی اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس کے ایجنڈے میں یہ مسئلہ شامل کیا گیا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھی بعض رکن ممالک نے پاکستان میں لاپتہ افراد کے مسئلے کا بھارت کے زیر کنٹرول کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے موازنہ کیا۔ یہی وجہ تھی کہ انسانی حقوق کونسل میں پاکستان مخالف لابی کو بھرپور استعمال کیا گیا۔ سیاسی اور سماجی کارکنوں کے لاپتہ ہونے کا معاملہ بین الاقوامی ایجنڈا بن گیا ۔ مسلم لیگ کے سربراہ میاں نواز شریف کو سپریم کورٹ نے جب پاناما کیس میں نااہل قرار دیا تو ان کی قومی اسمبلی کی لاہور کی نشست خالی ہو گئی۔ اس نشست پر ان کی اہلیہ کلثوم نواز نے انتخاب میں حصہ لیا۔ کلثوم نواز کے غیر موجود ہونے کے باوجود انتخاب میں کامیاب ہوئیں تو اسی شام نواز شریف نے لندن میں الزام لگایا کہ لاہور کے حلقہ 120 میں کام کرنے والے کئی مسلم لیگی کارکنوں کو انتخاب کی رات اغواء کر لیا گیا۔ میاں صاحب کا کہنا تھا کہ نامعلوم مسلح افراد ان لوگوں کو اپنے ساتھ لے گئے۔ لاہور میں مسلم لیگی رہنماؤں نے تصدیق کی کہ ان کے 6 کارکن لاپتہ ہوئے تھے اور وہ اب واپس گھروں کو آگئے ہیں ۔

پنجاب سے مسلم لیگی کارکنوں کے اغواء نے لاپتہ افراد کے مسئلے کو مزید سنگین کر دیا۔ سینیٹ کے چیئرمین میاں رضا ربانی نے کراچی میں ایک نشست میں اقرار کیا کہ سینیٹ اس مسئلے کو حل کرنے میں ناکام رہی۔ 60 ء اور 70ء کی دہائی میں جب لاطینی امریکا کے ممالک میں امریکا نواز حکومتوں کے خلاف کمیونسٹوں کی مزاحمتی تحریکیں مضبوط ہونے لگی تھیں تو پھر ان فوجی حکومتوں نے کمیونسٹوں اور ان کے حامیوں کو اغواء کرنا شروع کیا تھا، امریکی حکمت عملی کے تحت کیوبا میں آنے والے انقلاب کو لاطینی امریکا کے دیگر ممالک میں روکنے کی کوشش کی گئی تھی۔

ہٹلر نے ہزاروں لوگوں کو اغواء کر کے ہلاک کیا اورکنسرٹیشن کیمپوں میں بند کیا تھا۔ ان کیمپوں کی درد ناک داستانوں نے ایک نئے ادب کو تخلیق کیا تھا. مگر پاکستان میں اب ریاستی ادارے 1973ء کے آئین کے تحت فرائض انجام دے رہے ہیں، عدالتیں آزاد ہیں اور پارلیمنٹ قانون سازی کا فریضہ انجام دے رہی ہے۔ آئین کے تحت بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمے داری ہے۔ پاکستان نے اقوام متحدہ کے سول اور پولیٹیکل رائٹس کنونشن پر دستخط کیے ۔ پاکستان کی حکومت اس کنونشن پر عملدرآمد کی پابند ہے۔ اس صورتحال میں لاپتہ افراد کا معاملہ پاکستانی ریاست کے چہرے کو دھندلا کر رہا ہے۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر کی یہ بات درست ہے کہ موجودہ کمیشن متوقعہ نتائج حاصل نہیں کر سکا۔ کمیشن کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نیب کے سربراہ مقرر ہو چکے ہیں اس صورتحال میں جاوید اقبال کو ایک قانون کے تحت بااختیار کمیشن قائم کرنا چاہیے جو اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچا سکے۔

ڈاکٹر توصیف احمد خان
 

نواز شریف کے سخت بیانات، کیا عدلیہ کے خلاف اعلانِ جنگ ہے؟

پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے عدلیہ مخالف بیان نے پاکستان کے  سیاسی ماحول کو ایک بار پھر گرما دیا ہے اور کئی سیاست دان اسے عدلیہ کے خلاف کھلی جنگ قرار دے رہے ہیں۔ میاں نواز شریف نے نیب عدالت میں حاضری کے بعد ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ جج بغض سے بھرے پڑے ہیں۔ بغض اور غصہ ان کے الفاظ میں آگیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ سارا بغض، غصہ اور الفاظ تاریخ کا سیاہ باب بنیں گے۔ اس بیان سے پہلے مریم نواز شریف نے بھی اپنی ٹوئیٹ میں سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے پر شدید تنقید کی تھی اور یہ الزام لگایا تھا کہ انصاف کی کرسی سے زہر اگلا جا رہا ہے۔

پاکستان کے ایک جج نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے کہ ان کے خلاف بدعنوانی کے تین مختلف مقدمات چلانے کے بجائے انہیں ایک کیس کے طور پر پرکھا جائے۔ پاکستان میں سیاست دانوں نے ان بیانات پر شدید ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے نواز شریف پر الزام لگایا کہ وہ اداروں کو تباہ کر رہے ہیں اور اپنی کرپشن بے نقاب ہونے پر ججوں پر حملے کر رہے ہیں۔ مسلم لیگ نے صرف ان بیانات پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ پارٹی کی طرف سے ایک اعلامیہ بھی جاری کیا گیا، جس میں یہ کہا گیا کہ نواز شریف مقبول ترین رہنما ہیں اور یہ کہ ان کے خلاف تضحیک آمیز زبان استعمال کی گئی۔

اعلامیہ میں مزید کہا گیا، ’’شاعری کا سوال لے کر رہبری کا سوال اٹھایا گیا۔ رہبری والوں نے پاکستان بنایا اور قربانیاں دیں۔ وہی پھانسی پر چڑھے، ملک بدر ہوئے اور نا اہل ہوئے۔ نواز شریف کے خلاف جو کچھ کہا گیا وہ کسی بھی سطح کی عدالتی زبان پر پورا نہیں اترتا۔ بینچ نے ماتحت عدالتوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔ بغض، عناد، غصہ اور اشتعال افسوسناک ہے۔‘‘ اس اعلامیے سے اب کئی حلقوں میں یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ تصادم صرف نواز شریف نہیں بلکہ ان کی پارٹی کے زیادہ تر افراد چاہتے ہیں۔

اس صورتِ حا ل پر تبصرہ کرتے ہوئے سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب اور ماضی میں نواز شریف کے قریب سمجھے جانے والے نون لیگی رہنما سردار دوست محمد کھوسہ نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’مسئلہ یہ ہے میاں صاحب عدلیہ سے تصادم کرنا چاہتے ہیں اور اس کے علاوہ وہ ایک اور ریاستی ادارے سے بھی تصادم چاہتے ہیں تاکہ وہ سیاسی شہید بن سکیں اور عوام کی ہمدردیاں حاصل کریں لیکن اب لوگ ان کا ساتھ نہیں دیں گے۔ جو لوگ دو ہزارتیرہ میں ان کے پاس آئے تھے ۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اس سے پہلے مشرف، پی پی پی اور دوسری جماعتوں میں کام کیا اور وہ اب میاں صاحب کے اردگرد نظر آرہے ہیں۔ بُرا وقت آنے پر وہ فوراﹰ بھاگ جائیں گے۔ جن لوگوں کی اپنی ذاتی سیاسی بنیادیں نہیں ہیں جیسے کہ خواجہ آصف یا خواجہ سعد رفیق یا ان ہی جیسے لوگ شاید میاں صاحب کے ساتھ رہ جائیں۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’جن لوگوں نے میاں صاحب کا برے وقت میں ساتھ دیا جیسا کہ غوث علی شاہ، میرے والد سردار ذوالفقار کھوسہ تو ان لوگوں کو میاں صاحب نے بھلا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج انہیں یہ دن دیکھنے پڑ رہے ہیں۔ اس صورتِ حال میں یہ تصادم کی پالیسی اختیار کرتے ہیں تو ان کے ساتھ کوئی نہیں آئے گا۔‘‘ پی پی پی کے ترجمان اور سابق رکنِ قومی اسمبلی چوہدری منظور نے اس مسئلے پر اپنی رائے دیتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’نون لیگ کی پالیسی یہ ہے کہ عدالتوں پر دباؤ ڈالا جائے۔ دوسرے مرحلے میں جمہوری نظام کو ڈی ریل کیا جائے اور پھر سیاسی شہید بن کر عوام میں ہیرو بننے کی کوشش کی جائے۔ اور پھر معاشی نظام کو مکمل طور پر تباہ کیا جائے.

تاکہ وہ کہہ سکیں کہ ان کے جانے سے معاشی نظام تباہی کا شکار ہو گیا۔ ان کا تو بس نہیں چلتا ورنہ یہ لوگ عدالتوں پر حملے کریں جیسا کہ انہوں نے ماضی میں کیا۔ انہوں نے صرف آج ہی عدلیہ کے خلاف اعلان جنگ نہیں کیا بلکہ یہ جنگ تو پہلے سے ہی چل رہی ہے۔‘‘ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ پی پی پی کی اسٹیبلشمنٹ سے کوئی ڈیل ہو گئی ہے: ’’ہماری ڈیل اس ملک کی عوام سے ہے۔ ہم نے اس ملک میں جمہوریت کے لیے جیلیں کاٹیں ہیں، کوڑے کھائے ہیں اور بہت ساری مشکلات جھیلیں۔ اب اگر جمہوریت کو کوئی خطرہ ہوا تو ہم پھر جدوجہد کریں گے لیکن نون لیگ سے ہاتھ نہیں ملائیں گے۔‘‘

بشکریہ DW اردو

 

انٹر نیٹ پر توہین آمیز خاکے شائع کرنے پر عمر قید کی سزا

پاکستان کی ایک عدالت نے انٹرنیٹ پر توہین آمیز خاکے شائع کرنے کے جرم میں ایک شخص کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ پنجاب کے جنوبی ضلع رحیم یار خان میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے وقاص بھٹی نامی شخص پر جرم ثابت ہونے پر یہ فیصلہ سنایا۔ بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ سال جولائی میں اس شخص کے خلاف سوشل میڈیا پر توہین آمیز خاکے شائع کرنے کا الزام سامنے آیا تھا۔ پولیس نے اسے ضلعی انتظامیہ کے حکم پر تین ماہ تک نظر بند رکھا اور معاملے کی حساسیت کے پیش نظر مقدمے کی ابتدائی سماعتیں ڈسٹرکٹ جیل میں کی جاتی رہیں۔ اس مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے جج نے مجرم پر عمر قید کی سزا کے علاوہ ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔

پاکستان میں انٹرنیٹ پر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر توہین مذہب پر مبنی مواد کی اشاعت کے واقعات گزشتہ ایک سال کے دوران بڑی تعداد میں دیکھنے میں آئے ہیں جن کے خلاف حکام نے کارروائیاں بھی تیز کر رکھی ہیں۔ وفاقی وزرات داخلہ نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اور وفاقی تفتیشی ادارے “ایف آئی اے” کے نمائندوں پر مشتمل ایک کمیٹی بھی تشکیل دی تھی جو انٹرنیٹ پر توہین آمیز مواد کی روک تھام کے اقدام کرے گی۔ اب تک ایسے ہزاروں ویب سائٹ لنکس کو بلاک کیا جا چکا ہے جن پر توہین مذہب پر مبنی مواد کی نشاندہی ہوئی تھی۔
 

سزائے موت کے مجرم کے ‘ آخری 72 گھنٹے‘

آج سینٹرل جیل میں 4 افراد کو پھانسی دے دی گئی‘
اِس طرح کی کئی خبریں ہم نہ جانے کتنی مرتبہ پڑھ اور سن چکے ہیں، لیکن حقیقت یہی ہے کہ اِس خبر نے ہمیں کبھی پریشان نہیں کیا، اور ایسی خبریں ہمیں پریشان کرے بھی تو کیوں کہ اِس سزا سے ہماری ذات کو کوئی نقصان تھوڑی ہو رہا ہے۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ کیا کبھی ہم نے اُن لوگوں کے بارے میں سوچا ہے، جن کو موت کی سزا سنا دی جاتی ہے، اور جن کو پہلے سے ہی یہ بتا دیا جاتا ہے کہ فلاں دن آپ کی زندگی کا آخری دن ہو گا ؟ حقیقت تو یہ ہے کہ ہم شاید ایسا سوچ بھی نہیں سکتے کیونکہ ایسا سوچنے سے ہی ہمارے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔

آج ہم آپ کو ایسے ہی ایک مجرم کی کہانی بتانے جا رہے ہیں جسے تین دن پہلے بتا دیا گیا ہے کہ اگلے 72 گھنٹے بعد اُس کی زندگی کا خاتمہ ہونے جا رہا ہے۔ اُس فرد پر اور اُس کے اہلخانہ پر اب کیا گزر رہی ہے آئیے اُن کے بارے میں جانتے ہیں۔ چونکہ یہ ایک کہانی ہے اِس لیے ہم آپ کو پہلے کرداروں کے بارے میں بتاتے ہیں تاکہ کہانی پڑھنے میں آسانی ہو۔

کردار:
مجرم
پہلا قیدی
دوسرا قیدی
بیوی
بیٹا / بیٹی
پولیس
مدعی
(پھانسی میں 72 گھنٹے باقی ہیں)
تو اِس طرح شروع ہوتا ہے، پھانسی گھاٹ کی طرف سفر

مجرم: سب ختم ہو گیا ہے، اب میں کیا کروں، اب تو کوئی اپیل بھی باقی نہیں رہی اور وارنٹ بھی آ گیا ہے۔ سنا ہے بہت تکلیف ہوتی ہے، آنکھیں باہر نکل آتی ہیں، شکل پہچانی تک نہیں جاتی اور اگر، اگر پھندا ٹھیک سے نہ لگے تو گردن بھی کٹ جاتی ہے۔

پہلا قیدی: دیکھ پریشان نہ ہو، سب ٹھیک ہو جائے گا، بہت سے لوگوں کو معافی ملتے دیکھا ہے، بس رب جس پر کرم کر دے۔

مجرم: مجھے لگتا ہے سب کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے، اِسی طرح ہی جھوٹی تسلیاں دیتے ہیں، میں بھی تو سب کو یونہی جھوٹے دلاسے دیتا رہا ہوں.

(پھانسی میں 48 گھنٹے باقی)
پولیس اہلکار: چلو بھائی، سیل بدلنا ہے تیرا، چلو۔

پہلا قیدی: تیرے گھر والوں نے رحم کی نئی اپیل کی ہے صدر سے

دوسرا قیدی: تیرے وارث کوشش کر رہے ہیں اور رب نے چاہا تو صلح ہو جائے گی.

(پھانسی میں 24 گھنٹے باقی)

بیوی روتے ہوئے: جس دن سے خبر آئی ہے، ہماری تو زندگی ہی ختم ہو گئی ہے، پتہ نہیں ہمارے ساتھ یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے، گھر کی فکر مت کرنا، ہم سب تمہارے لیے دعا کر رہے ہیں۔

بیٹا: ہم سب آپ کو بہت یاد کرتے ہیں۔

پولیس اہلکار: او چلو بھائی، ملاقات کا ٹائم ختم ہو گیا ہے، چلو جلدی کرو۔
(پھانسی میں 2 گھنٹے باقی)

پولیس اہلکار: اوئے کپڑے بدلو اِس کے اور ہتھکڑی لگاؤ ۔۔۔۔ جلدی کرو، مجسٹریٹ صاحب اور سپرنٹنڈنٹ صاحب پہنچ گئے ہیں۔ دھیان سے ذرا، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے۔

مجرم: مجھے معافی دلادو، مجھے نہیں مرنا، مجھ سے غلطی ہو گئی۔

پولیس اہلکار مدعی سے: ابھی بھی وقت ہے، ایک بار پھر اچھی طرح سوچ لیں، اگر آپ چاہیں تو ابھی بھی اسے معاف کر سکتے ہیں۔

مدعی: نہیں

بس یہ ’نہیں‘ کہنے کی دیر تھی اور یوں ایک جیتے جاگتے انسان کی زندگی تمام ہوگئی۔

(پاکستان پریزن مینوئل میں درج اصولوں کے مطابق، ﭘﮭﺎﻧﺴﯽ ﭘﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﮐﻮ 30 ﻣﻨﭧ ﺗﮏ ﻟﭩﮑﺎﺋﮯ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ، جبکہ تختہ دار پر لٹکنے کے بعد صرف 3 منٹ کے اندر ہی موت واقع ہو جاتی ہے۔)

پھانسی پر پابندی ختم ہونے کے بعد دسمبر 2014 سے اگست 2017 تک 475 افراد کو پھانسی پر لٹکایا جا چکا ہے۔ آج پھانسی کی سزا پانے والوں کی تعداد 8000 کے لگ بھگ ہے، جنہیں پھانسی پر لٹکایا جانا ہے۔ قیدیوں اور اُن کے گھر والوں کو سزا کے بارے میں صرف 72 گھنٹے قبل ہی اطلاع دی جاتی ہے۔ زندگی کے حق کو تحفظ دینے میں مدد کرنی چاہیے، کیونکہ حیات سے بڑھ کر انسان کے لیے کوئی اور انعام اور خوشی ہو نہیں سکتی۔

ایاز احمد لغاری
لکھاری ڈان ڈاٹ کام کے اسٹاف ممبر ہیں۔
 بشکریہ روزنامہ ڈان اردو

کیا نواز شریف پارٹی صدر بننے کا اخلاقی جواز رکھتے ہیں ؟

انتخابی قوانین میں ہونے والی حالیہ ترمیم نے اگرچہ نواز شریف کو ایک بار پھر پارٹی صدارت کی کرسی پر بٹھا دیا ہے لیکن اِس ترمیم سے جمہوری اقدار کو ٹھیس بھی پہنچی ہے۔ یقیناً، حکومت کو کرپشن کے الزامات کا سامنا ہے اور اُسے سابق وزیرِاعظم کی سیاسی حیثیت بحال کرنے کی کچھ زیادہ ہی جلدی تھی۔ جہاں تک مسلم لیگ ن کا تعلق ہے تو اب اُس کی لگام بھی سابق وزیر اعظم کے ہاتھوں میں ہے جنہیں سپریم کورٹ کے حکم نامے کی نافرمانی کرتے ہوئے حکمران جماعت کی کمان سونپی گئی ہے۔ بلاشبہ، نواز شریف کی دوبارہ تاج پوشی سے پارٹی حلقوں میں اتحاد قائم رکھنے میں مدد ملے گی اور اس طرح خاندانی سیاسی سلسلے کی قیادت خاندان کے کسی دوسرے فرد کو منتقل بھی نہیں کرنی پڑے گی۔ لیکن کیا اس طرح ان کی اخلاقی حیثیت بھی بحال ہو سکتی ہے؟ پارٹی قیادت سنبھالنے سے وہ ان الزامات سے بری نہیں ہوں گے جن کا سامنا وہ عدالتوں میں کر رہے ہیں۔

اس سے بھی پریشان کن بات تو یہ ہے کہ قانون میں جس طرح فرد واحد کے لیے ترمیم لائی گئی اور جس طریقہ کار کے تحت لائی گئی ہے، اُس نے جمہوری معیار کو کافی ٹھیس پہنچائی ہے۔ اب عدالت سے سزا یافتہ کوئی بھی شخص سیاسی جماعت تشکیل دے سکتا ہے اور اُس کی قیادت بھی کر سکتا ہے۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ، ایک شخص جس پر عوامی عہدہ رکھنے پر پابندی ہے وہ بھی اب کنگ میکر بن سکتا ہے اور اپنے نمائندوں کے ذریعے حکومت کو چلا سکتا ہے۔ بظاہر تو ترمیم کی اِس طرح جلد بازی میں منظوری کا مقصد عدالتوں کو دباؤ میں لانا تھا، لیکن خیال یہ ہے کہ یہ طریقہ کار کچھ زیادہ مددگار ثابت نہیں ہو گا، بلکہ لگتا ہے کہ ایک نئی قانونی جنگ چھڑ جائے گی، کیونکہ عدالتوں میں اِس ترمیم کو پہلے ہی چیلنج کر دیا گیا ہے۔

بے شک، پرویز مشرف کی فوجی حکومت نے بے نظیر بھٹو کو پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی قیادت سے دور رکھنے کے اپنے درپردہ مقصد کو پورا کرنے کی خاطر اِس قانون کا استعمال کیا تھا۔ لیکن یہاں اِس قانون میں ترمیم کا مقصد کسی ناجائز اقدام کی درستگی نہیں بلکہ ایک نااہل رہنما کو فائدہ پہنچانا تھا۔ یہ عمل ہماری سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوری کلچر کے فقدان کو بھی ظاہر کرتی ہے جو اب زیادہ سے زیادہ خاندانی جاگیر کی صورت اختیار کر چکی ہیں اور جنہیں چند افراد کے مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ جمہوریت اپنی طاقت قانون کی حکمرانی سے حاصل کرتی ہے، اِس کی مزاحمت سے نہیں۔ جمہوریت صرف اُسی صورت مؤثر انداز میں کام کر سکتی ہے جب سیاسی جماعتیں اپنے رہنماؤں کو غلط کام کرنے پر مذمت کرنے کے قابل ہوتی ہیں اور اُن کی قسمت کے فیصلے کے لیے عدالت کا انتظار نہیں کرتیں۔

مگر پاکستان میں صورتحال بالکل مختلف ہے، یہاں کرپشن کے الزامات کا سامنا کرنے والے اہم عہدہ پر فائز تو ہوتے ہی ہیں بلکہ اُن کے حامی اُن کے قصیدہ خواں بنے بیٹھے ہیں۔ مثلاً، وہ شخص جس پر منی لانڈرنگ کا الزام ہے وہ کس طرح ملکی اقتصادی اور مالیاتی معاملات سنبھال سکتا ہے؟ ہاں آگے سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسحاق ڈار کو ابھی مجرم قرار نہیں دیا گیا، بلکہ مقدمے کی غیر جانبداری پر بھی سوال اٹھایا جا سکتا ہے، لیکن کیا یہ بہتر نہیں ہو گا کہ تمام الزامات سے بری ہونے تک وہ اپنے عہدے سے دستبردار رہیں؟

یقیناً، ایک داغدار وزیر خزانہ ایک ایسی معیشت کے معاملات کو مؤثر انداز میں نہیں سنبھال سکتا ہے جو مسلسل زوال کا شکار ہے۔ جبکہ ترسیل رقم میں گراوٹ اور برآمدات میں کمی کے باعث غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر میں پریشان کن حد تک کمی واقع ہو رہی ہے۔ جب ادائگیوں کے توازن میں ریکارڈ خسارے کی وجہ سے آئی ایم ایف کا دروازہ کھٹکھٹانا حکومت کے لیے ناگزیر بن چکا ہے۔ قرضے کا بوجھ اب حد سے زیادہ بڑھتا جا رہا ہے۔ مقدمے میں الجھے وزیر خزانہ کے لیے غیر ملکی اداروں کے ساتھ مذاکرات کرنا انتہائی مشکل ہو گا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ کئی ماہ سے وزارت خزانہ مفلوج بنی ہوئی ہے۔

حکومت، جو اس وقت سابق وزیر اعظم کی سیاسی حیثیت بحال کرنے میں مصروف ہے، وہ تیزی کے ساتھ اپنا دائرہ اختیار بھی کھوتی جا رہی ہے۔ اداروں کے درمیان تصادم نے صورتحال کو مزید بگاڑ دیا ہے۔ پیر کے روز سابق وزیرِاعظم کی پیشی کے دوران احتساب عدالت کے باہر جو انوکھا واقعہ پیش آیا، وہ کافی نامبارک ہے۔ رینجرز کی تعیناتی پر اٹھنے والا تنازعہ لاقانونیت کی سی صورتحال کو ظاہر کرتا ہے۔ بلاشبہ، یہ ایک سنگین مسئلے کا باعث ہے کہ وزیر داخلہ کو پتہ ہی نہیں تھا کہ رینجرز کو کس نے بلایا، بلکہ اُس وقت تو مزید عجیب و ٖغریب صورتحال تب پیدا ہو گئی جب رینجرز نے احسن اقبال کو عدالت کی حدود میں داخل ہونے سے روک دیا۔ حقیقت تو یہ بھی ہے کہ رینجرز کسی کے احکامات کے بغیر تو یہاں آئی نہیں تھی اور عوام کے آگے وزیرِ داخلہ کا غصہ اور ریاست کے اندر ایک ریاست موجود ہونے کا بیان دینا دراصل اُن کی بے بسی کو ظاہر کرتا ہے۔

بلاشبہ یہ حکومت کے لیے اچھا شگون نہیں ہے۔ یہ واقعہ حکومت کے سکڑتے دائرہ اختیار کے خیال کو تقویت بخشتا ہے، جبکہ حکومت نے اپنا زیادہ تر دھیان معزول وزیر اعظم اور ان کے خاندان کے دفاع پر مرکوز رکھا ہوا ہے۔ چھت پر چڑھ کر کسی ’غائب ہاتھ’ کے بارے میں چلانا کافی نہیں۔ یہی تو انتظامیہ ہے، احمق۔ ہم تو پہلے ہی یہ دیکھ چکے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ زیادہ سے زیادہ اختیار حاصل کرتی جا رہی ہے۔ نواز شریف نے سیاسی جماعتوں کے درمیان ایک اعلیٰ سطحی قومی مذاکرات کا مطالبہ کیا ہے، اور اِس تجویز سے تو کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا۔ کیونکہ جمہوری عمل کو مضبوط بنانے کے لیے بڑی سیاسی جماعتوں کو کسی قسم کے فریم ورک پر متفق ہونے کی اشد ضرورت ہے۔ لیکن نواز شریف کو یہ مطالبہ کرنے میں شاید دیر ہو چکی ہے اور وہ ایسے وقت پر مطالبہ کر رہے ہیں جب انہیں صادق اور امین نہ ہونے پر نااہل قرار دیے جا چکا ہے اور وہ مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں۔ یوں دیگر سیاسی جماعتیں اُن کے اِس ارادے کو شک کی نگاہ سے دیکھتی ہیں۔ شکوک شبہات یہ بھی ہیں کہ وہ خود کو کٹھن حالات سے نکالنے کے لیے یہ سب کر رہے ہیں۔

نواز شریف کے پاس گزشتہ 4 برس کے دوران دستور کے مطابق جمہوری عمل کو مضبوط کرنے کا سنہری موقعہ تھا۔ لیکن اس کے برعکس وہ پارلیمنٹ کو غیر مؤثر اور دیگر سویلین اداروں کو کمزور کرنے کی وجہ بنے، یوں غیر منتخب عناصر کو اپنے اختیارات کا دائرہ کار وسیع کرنے کا موقعہ مل گیا۔ جبکہ سابق وزیر اعظم نے خاندان کے قریبی افراد کی مدد سے اپنی ذات تک محدود حکمرانی کو قائم کیا۔ کابینہ کا اجلاس بھی کبھی کبھار ہی ہوتا اور بعد میں وہ کابینہ بھی ربر اسٹیمپ میں بدل گئی۔ اِس وقت عدلیہ کے ساتھ چل رہی اُن کی لڑائی کی وجہ سے وہ زیادہ تر سیاسی جماعتوں کو ایک جگہ جمع نہیں کر پائیں گے۔

بلاشبہ سویلین بالادستی کے قیام اور طاقت میں موجود اِس عدم توازن کو ختم کرنے کے لیے میثاق جمہوریت یا اعلیٰ سطحی مذاکرات درکار ہیں، جس کے باعث غیر منتخب اداروں کو منتخب سویلین حکومتوں کو کھوکھلا کرنے کا موقعہ مل جاتا ہے۔ لیکن اپنی ذات تک محدود طاقت کا نام سویلین بالادستی نہیں ہے۔ جمہوریت صرف انتخابی مینڈیٹ جیتنے کا نام نہیں بلکہ جمہوریت کا مطلب قانون کی حکمرانی اور جمہوری احتساب پر عملدرآمد ہونا ہے۔ کاش کہ نواز شریف اِس بات کو سمجھتے۔ اہم ترین بات یہ کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان ایک معاشی معاہدے کی اشد ضرورت ہے تاکہ اقتصادی پالیسیوں میں کوئی رکاوٹ پیش نہ آئے، پھر چاہے اقتدار میں کوئی بھی جماعت ہو۔ شاید، یہ کام انتخابات کے بعد ممکن ہو پائے گا۔

زاہد حسین
یہ مضمون 4 اکتوبر 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔
 

ریمنڈ ڈیوس کی کتاب سے متاثرین کے اہلخانہ کے زخم پھر ہرے

صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں 6 سال قبل فہیم شمشاد کو قتل کرنے والے امریکی سیکیورٹی ایجنٹ ریمنڈ ڈیوس کی کتاب نے مقتول کے اہل خانہ کے زخم دوبارہ ہرے کر دیے۔ مصطفیٰ آباد میں واقع اپنے گھر پر فہیم کی والدہ حلیمہ بی بی نے صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ وہ ہر روز اپنے بیٹے کو یاد کرتی ہیں اور اس غم نے انہیں بستر تک محدود کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ جنوری 2011 میں امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس نے لاہور میں فہیم اور فیضان نامی 2 افراد کو قتل کر دیا تھا، حال ہی میں امریکی جاسوس کی کتاب ‘دی کنٹریکٹر’ سامنے آئی تھی جس میں انہوں نے اس واقعے کے حوالے سے اپنی یادداشتوں کو بیان کیا تھا۔

فہیم کی والدہ حلیمہ کا کہنا تھا کہ امریکی ایجنٹ کے ہاتھوں قتل ہونے والا ان کا 21 سالہ بیٹا الیکٹریشن تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اُس صبح کو کبھی فراموش نہیں کر سکتیں جب انہوں نے اپنے بیٹے کو گھر سے روانہ کیا۔ فہیم کے والد شمشاد اور بڑے بھائی وسیم نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات سے لاعلم تھے کہ فہیم بھی خفیہ ایجنسی کے لیے کام کر رہا تھا۔ نپے تُلے الفاظ میں وسیم نے بتایا کہ فہیم اور فیضان کے اہل خانہ کو دیت کی ادائیگی میں پاکستان کی خفیہ ایجنسی کے سربراہ جنرل پاشا کا کوئی کردار نہیں تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ خون بہا کے ذریعے ریمنڈ کی رہائی میں اہم کردار اُس وقت کے صدر آصف علی زرداری نے ادا کیا۔ وسیم کے مطابق جب وہ عدالت پہنچے تو کمرہ عدالت میں ایسے انتظامات کیے گئے تھے کہ ہم ریمنڈ ڈیوس کو نہ دیکھ پائیں. انہوں نے کہا کہ اہل خانہ نے دیت کا فیصلہ صرف قومی اور ملکی مفاد میں تسلیم کیا، جب اہل خانہ کو علم ہوا کہ ان کی جانب سے دیت تسلیم کرنے کو فیصلے پر لوگ ناپسندیدگی کا اظہار کر رہے ہیں تو وہ کئی ہفتوں تک منظرعام پر نہ آئے، بعد ازاں انہوں نے ٹوبہ ٹیک سنگھ میں مصطفیٰ آباد کے علاقے میں گھر خریدا اور یہاں رہائش اختیار کر لی۔

وسیم کا مزید کہنا تھا کہ ڈیوس کے خلاف فہیم کے قتل کی ایف آئی آر ان کی شکایت پر درج ہوئی تھی لیکن عجیب بات یہ ہے کہ دہشت گردی، ممنوعہ ہتھیاروں کے استعمال اور امریکی جاسوس سے ملنے والے حساس مقامات کے نقشوں کے حوالے سے دفعات ایف آئی آر میں شامل نہیں کی گئیں۔ فہیم کے والد شمشاد نے بتایا کہ ان کا مرحوم بیٹا پانچ بھائیوں اور دو بہنوں میں سب سے چھوٹا اور اہل خانہ کا لاڈلہ تھا، ان کے بیٹے کی شادی کے صرف 3 ماہ بعد اس کا قتل ہو گیا جس کے بعد اس کی بیوہ نے بھی خودکشی کر لی۔