بلند ترین پاکستانی چوٹی جو اب تک سر نہیں ہو سکی

خوبصورت قول ہے: ’’زندگی بھی پہاڑ کے مانند ہے۔ اس پر چڑھنا کٹھن ہے، مگر جب انسان چوٹی پر پہنچ جائے، تو متحیر کر دینے والے نظارے اس کے منتظر ہوتے ہیں۔‘‘ بلند و بالا پہاڑ فطرت کا شاہکار ہیں۔ خوش قسمتی سے خطہِ پاکستان فطرت کی ان ہیبت ناک اور دیوہیکل نشانیوں سے بھرا پڑا ہے۔ چناں چہ دنیا کے مشکل ترین مشغلوں میں سے ایک، کوہ پیمائی کے عاشق ارض پاک کی جانب کھینچے چلے آتے ہیں۔ یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی، کے ٹو پاکستان میں واقع ہے۔ مگر کم ہی لوگوں کو علم ہے کہ دنیا کی بلند ترین ’’دوشیزہ چوٹی‘‘ بھی ارض پاکستان کی زینت ہے۔ کوہ پیمائی کی اصطلاح میں دوشیزہ چوٹی سے مراد وہ چوٹی ہے جو ابھی تک سر نہ ہوئی ہو۔ اس پاکستانی چوٹی کا نام ’’موشو چیش‘‘ (Muchu Chhish) ہے جو 7453 میٹر (24452 فٹ) بلند ہے۔ یہ دنیا کی ساٹھویں جبکہ وطن عزیز کی پچیسویں بلند ترین چوٹی ہے۔ یہ قراقرم سلسلہ ہائے کوہ کے ذیلی سلسلے، ’’سبتورا موز تاغ‘‘ کا حصہ ہے۔

سبتورا موز تاغ کے پہاڑ وادی ہنزہ کے مغرب میں واقع ہیں۔ یہ پہاڑ قراقرم کو ہندوکش اور پامیر کے سلسلہ ہائے کوہ سے جدا کرتے ہیں۔ سبتورا موز تاغ کے پہاڑ پہلو بہ پہلو دور تک چلے گئے ہیں۔ اس ذیلی پہاڑی سلسلے کی بلند ترین چوٹی ’’سبتورا سار‘‘ کہلاتی ہے۔ یہ 7795 میٹر بلند چوٹی پاکستان کی دسویں جبکہ دنیا کی پچیسویں بلند ترین چوٹی ہے۔ سبتورا موز تاغ میں اکثر برفانی تودے گرتے رہتے ہیں۔ مزید براں علاقے میں طوفانی ہوائیں چلنا بھی معمول ہے۔ ان پہاڑوں کا بیشتر ڈھلوانی حصّہ بھی چپٹا ہے۔ یہ عوامل سبتورا موز تاغ کی چوٹیاں سرکرنا انتہائی مشکل بنا دیتے ہیں۔

2014ء میں برطانیہ کے مشہور کوہ پیما، پیٹر تھامسن نے موشو چیش سر کرنے کی کوشش کی تھی۔ تاہم نہایت سخت برف نے اسے چھ ہزار میٹر بلندی سے واپس ہونے پر مجبور کر دیا۔ یوں وہ دنیا کی بلند ترین کنواری چوٹی سر کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ سائنس و ٹیکنالوجی میں محیر العقول کارنامے سرانجام دینے کے بعد حضرت انسان کائنات کی وسیع پہنائیوں میں کمندیں ڈال رہا ہے۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ آج بھی کرہ ارض پر موشو چیش جیسے مقامات موجود ہیں جو اس کی ہمت و جرات کو چنوتی دیتے اور جذبہ مہم جوئی ابھارتے ہیں۔

یاد رہے، اعداد و شمار کی رو سے بھوٹان میں واقع چوٹی ’’گنگھڑ پوینسم‘‘ (Gangkhar Puensum) دنیا کی بلند ترین دوشیزہ چوٹی ہے۔ اس کی اونچائی 7570 میٹر ہے۔ مگر حکومت بھوٹان نے دیومالا اور مقامی روایات کی وجہ سے اس پر چڑھنے پر پابندی لگا رکھی ہے۔ اسی لیے قانونی طور پر پاکستان کی موشو چیش ہی کرہ ارض پر بلند ترین دوشیزہ چوٹی سمجھی جاتی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے وقتوں میں کون ہمت کا متوالا اس پاکستانی چوٹی پر انسانی دلیری و عزم کے جھنڈے گاڑتا ہے۔

سید عاصم محمود

Advertisements

مغلیہ دور کا شاہکار : 99 گنبدوں والی شاہجہاں مسجد

یہ ایک عظیم الشان مسجد ہے جو ہنوز زیر استعمال ہے اور یہ شہر ٹھٹھہ میں ہے مقامی تواریخ کے مطابق یہ شہنشاہ شاہجہان کا ایک تحفہ تھا جو اس نے شہر کی مہمان نوازی کے اعتراف کے طور پر دیا جب وہ اپنے والد سے باغی ہو کر کچھ عرصہ یہاں پناہ گزین رہا تھا یہ 1644ء میں شروع ہوئی اور 1647ء میں مکمل ہوئی لیکن اس کی فرش بندی گیارہ سال بعد تک ہوتی رہی اس پر 9 لاکھ روپے لاگت آئی یہ ایک کاروان سرائے کی شکل میں بنی ہے ایک بڑا صحن ہے جس کے اردگرد 90 گنبد ہیں کمروں کی غلام گردش ہے جبکہ ایک طرف کے وسط میں اصل مسجد ہے اور اس کے مقابل اس کا مثنیٰ ہے یہ 190X315 ہے اور 6316 مربع گز زمین گھیرے ہوئے ہے بیرونی حصہ بالکل سادہ اور سفید ہے جبکہ پورا اندرونی حصہ زمین سطح سے بلند ترین گنبد کے مرکز تک رنگین ٹائیلوں سے بنا ہوا ہے جن میں نہایت حیرت انگیز تنوع کے خوبصورت نمونے کنندہ ہیں۔

پہلوئوں کے چھوٹے چھوٹے گنبد ایسے نمونوں سے لائے ہوئے نہیں ہیں لیکن شروع میں وہ بھی ایسے ہی تھے یہ عمارت بہت بری طرح مرمت طلب تھی جب سربارٹل فریدے نے 1855ء میں چندہ جمع کر کے اسے بچا لیا جس میں حکومت نے بھی 5 ہزار روپے دیے تھے۔ 1894ء میں اس طرح ساڑھے 20 ہزار روپے جمع کیے گئے اور ہالہ اور ملتان میں بنی ہوئی ٹائیلوں سے دیواروں کے عریاں چہروں کو بحال کیا گیا۔ نیا کام پرانے کے معیار کا تو نہیں ہے لیکن خوش قسمتی سے دیواروں کے زیریں حصوں پر ہی زیادہ کام کی ضرورت تھی جہاں نمونے نسبتاً سادہ ہوتے ہیں اوپر کی طرف نمونے مربع یا چھ طرفی ٹائیلوں پر کنندہ نہیں کیے گئے جیسا کہ مکلی پہاڑیوں کے مقابر پر ہیں بلکہ ان پر مختلف رنگوں اور شکلوں کی باریک ٹائیلوں کے ساتھ پچی کاری کی گئی ہے۔

شیخ نوید اسلم

مردم شماری

سخت گرمی، دھوپ اور پیاس میں سارا دن گلیوں میں گھومنا۔ دھول مٹی کا سامنا۔ میں مردم شماری ٹیم میں شامل تھا۔ پیشہ ورانہ ذمہ داریوں اور لوگوں کے عجیب و غریب رویوں کے درمیان توازن برقرار رکھنا۔ گھر گھر جانا اور لوگوں کے کوائف اکھٹے کرنا۔ ایک تھکا دینے والا مشکل کام۔ جو ہمیں روز کرنا پڑتا ہے۔ اس دن ہم سندھ کے دور افتادہ علاقے میں چھوٹے سے گھر تک پہنچے۔ ٹوٹے ہوئے دروازے پر لٹکا ہوا ٹاٹ کا پردہ گھر کی زبوں حالی چھپانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ ’’مردم شماری ٹیم!‘‘میں نے دروازہ بجاتے ہوئے آواز لگائی۔ کچھ دیر میں ایک بوڑھی عورت اپنی پیوند زدہ چادر سنبھالتی ہوئی باہر آ گئی۔ زندگی میں آنے والے نشیب و فراز ، ہزاروں جھریاں بن کر اس کے چہرے پر ثبت ہو گئے تھے۔

ہمیں دیکھ کر وہ یوں مسکرائی گویا ہمارا ہی انتظار کر رہی ہو۔ ’’اماں! گھر میں کتنے افراد ہیں؟‘‘ میں نے پوچھا۔ ’’بس میں اور میرا بیٹا۔‘‘ وہ اپنا پوپلا منہ کھول کر بولی۔ ’’اچھا! کیا نام ہے اس کا؟‘‘ میں رجسٹر پر لکھنے لگا۔ ’’ساجد وہ بھی تیری طرح فوج میں ہے۔ لاہور میں مردم شماری ڈیوٹی لگی ہے۔‘‘ اس نے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر آنکھوں کو سورج کی روشنی سے بچاتے ہوئے کہا۔ ’’مگر وہ یہاں نہیں رہتا۔ صرف چھٹیوں میں آتا ہے۔ ‘‘وہ کچھ سوچ کر اداس ہو گئی۔ میرا دل بجھ گیا۔ ایک اکیلی بوڑھی عورت جس کی آنکھیں اپنے بیٹے کو دیکھنے کے لئے ترس جاتی ہونگی۔ ’’ہاں اماں! نام تو لکھنا پڑے گا ناں۔ ‘‘میں نے سوچوں کو جھٹک دیا۔ ’’ٹھہر میں تیرے لئے پانی لاتی ہوں۔‘‘ وہ بمشکل اٹھی اورمسکرا کر اندر چلی گئی۔ وطن کے لئے ہم فوجیوں کو کتنی جدائیاں سہنا پڑتی ہیں۔ مجھے اپنی ماں یاد آنے لگی۔

کچھ لمحے گزرے ہونگے کہ اندر سے اس کے رونے کی آواز آنے لگی۔ وہ کسی سے فون پر بات کر رہی تھی۔ میں نے کان لگا کر سننے کی کوشش کی لیکن کچھ سمجھ نہیں آیا۔ میں بے چین ہو گیا۔ اندر جانا خلاف ڈیوٹی تھا۔ اضطراب میں پہلو بدلتا رہا۔ تھوڑی دیر بعد وہ آنسو پونچھتی ہوئی باہر آ گئی۔ میں سوال کرنے ہی والا تھا کہ وہ بولی۔ ’’بیٹا! ساجد کا نام لکھا کیا لسٹ میں؟‘‘ ’’ہاں اماں ! لکھ لیا‘‘میں جلدی سے بولا۔ ’’کاٹ دے۔‘‘وہ روتی ہوئی وہیں دروازے پر گر پڑی۔ میں آنکھیں پھاڑے اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ ’’بیدیاں روڈ پر دھماکہ ہو گیا ہے۔ ظالموں نے اسے مار ڈالا۔‘‘وہ چلا رہی تھی۔ میری ٹیم کے ساتھی بھاگ کر وہاں جمع ہو گئے۔ جو اپنوں کو شمار کرنے نکلا تھا، اب خود شمار نہیں ہو سکتا تھا۔ مجھے چکر آنے لگے۔ رجسٹر میرے ہاتھ سے گر گیا۔

ذیشان یاسین

کسی کو مارنے کے بعد یہ کہہ دینا آسان ہے کہ یہ سب دہشت گرد تھے

پاکستان میں حقوق انسانی کی تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کے مطابق گزشتہ رات لاہور کے نزدیک پنجاب پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی کی جانب سے مبینہ پولیس مقابلے میں مارے جانے والے دس افراد کی ہلاکت ماورائے عدالت قتل ہے۔ ایچ آر سی پی کے چیئرپرسن ڈاکٹر مہدی حسن نے بی بی سی کی نامہ نگار نادیہ سلیمان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کسی کو مارنے کے بعد یہ کہہ دینا آسان ہے کہ ‘یہ سب دہشت گرد تھے اس لیے مارے گئے ہیں۔ یہ سب ماورائے عدالت قتل ہیں۔’ انھوں نے کہا اگر کسی پہ دہشت گردی کا الزام ہے اور پولیس ان کے خلاف کارروائی کرتی ہے تو انھیں گرفتار کر کے قانون کے مطابق چوبیس گھنٹے کے اندر عدالت میں پیش کرنا ضروری ہے۔

پولیس کے انسدادِ دہشت گردی کے ڈپارٹمنٹ سی ٹی ڈی کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق جمعہ اور ہفتے کی درمیانی شب لاہور کے نواحی علاقے مناواں میں پولیس مقابلے کے دوران کالعدم تنظیم کے 10 مبینہ دہشت گردوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا۔ پریس ریلیز میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والے شدت پسندوں میں لاہور کے مال روڈ پر ہونے والے دھماکے کا سہولت کار بھی شامل تھا۔ ڈاکٹر مہدی حسن نے مزید کہا کہ عدالت سے یہ فیصلہ ملنا ضروری ہے کہ کوئی دہشت گرد ہے یا نھیں: ‘پولیس کے کہنے پہ یقین نھیں کیا جا سکتا کہ جو لوگ مارے گئے ہیں وہ لوگ دہشت گرد ہیں۔’ انھوں نے کہا کہ مرنے والوں کے بارے میں پولیس کا یہ موقف تسلیم کر لیا جاتا ہے کہ وہ دہشت گرد تھے اس لیے مقابلے میں مارے گئے جب کہ مقابلے میں عام طور پر پولیس والوں کو کوئی نقصان نھیں ہوتا۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی سماجی کارکن طاہرہ عبداللہ کہتی ہیں کہ ماورائے عدالت قتل کی اجازت نہ ہمارا قانون دیتا ہے اور نہ ہمارا آئین۔ طاہرہ عبداللہ نے کہا کہ نوّے کی دہائی میں انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کا قیام، اس کے بعد پروٹیکشن آف پاکستان ایکٹ، پھر فوجی عدالتوں کا قیام اور حال ہی میں ان کی مدت میں توسیع، ان سب قوانین کی موجودگی میں ماورائے عدالت ہلاکتیں سمجھ سے بالاتر ہیں۔

پاکستان میں چائلڈ لیبر کی سب سے بڑی وجہ غربت ہے

پاکستان میں اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے محنت (آئی ایل او) کے نمائندے ظہیر عارف کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بچوں سے محنت و مشقت سے متعلق 21 سال پرانے اعدادوشمار دستیاب ہیں جن میں گھروں میں کام کرنے والے بچوں سمیت بدترین اقسام کی چائلڈ لیبر شامل نہیں ہیں۔ غیر رسمی شعبوں میں بچوں سے کروائی جانے والی محنت مشقت پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئےانھوں نے بتایا کہ ‘ہم سب جانتے ہیں کہ گھروں میں بچوں کی ایک بڑی تعداد ڈومیسٹک ورکرز کے طور پر کام کرتی ہے، اس کے علاوہ چوڑیاں بنانے کے کام سے لے کر سرجیکل آلات، کھیلوں کے سامان اور گہرے پانیوں میں ماہی گیری جیسے خطرناک پیشوں کی ایک پوری فہرست ہے جو ‘ورسٹ فارم آف چائلڈ لیبر’ یا بچوں سے مزدوری کی بدترین اقسام میں آتے ہیں لیکن اس کے بارے میں کوئی اعدادوشمار نہیں ہیں۔’

واضح رہے کہ پاکستان کے ادارہ برائے شماریات نے بچوں سے محنت مشقت کےاعدادوشمار آخری بار ایک سروے کے ذریعے سنہ 1996 میں جمع کیے تھے جس کے مطابق ملک میں 33 لاکھ بچہ مزدور تھے۔ آئی ایل او کے کنونشن فار ورسٹ فارم آف چائلڈ لیبر پر پاکستان نے سنہ 2001 میں دستخط کیے تاہم اب تک اس بارے میں کوئی اعداد وشمار اکھٹے نہیں کیے جا سکے ہیں۔ انھوں نے کہا: ‘تعلیم و آگہی نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو اندازہ نہیں ہوتا ہے کہ بچے کے ساتھ کیا کیا ہو سکتا ہے۔ وہ ٹریفکنگ میں آ سکتا ہے، دہشت گرد کاروائیوں میں استعمال ہو سکتا ہے۔ خطرناک پیشوں میں کام کرنے کی وجہ سےاس کی جان جا سکتی ہے۔’

ظہیر عارف نے تشویش ظاہر کی کہ اعدادوشمار اکھٹے نہ کرنے کی جانب حکومتوں کی عدم توجہی کی وجہ سے اس بنیادی مسئلے کو جڑ سے ختم کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ‘شاید یہ حکومت کی ترحیجات میں شامل نہیں ہے۔ کسی مسئلےسے نمٹے کے لیے پہلے تو ہمیں یہ پتا ہو کہ ہمارے ہاں کس حد تک چائلڈ لیبر ہے۔’ آئین میں 18 ویں ترمیم کے بعد صوبوں نے چائلڈ لیبر سے متعلق قانون سازی تو کی ہے لیکن اس پر سختی سے عمل درآمد کرانے کے ایک مربوط میکینزم بنانے کی ضرورت ہے۔ صوبوں کےمحکمہ لیبر کی استعداد بڑھانے پر زور دیتے ہوئے ظہیرعارف نےکہا کہ ‘محکمہ لیبر کے پاس انسپکٹرز موجود ہیں لیکن انھیں اتنی آگہی نہیں ہے جتنی کہ ضرورت ہے۔ (آئی ایل او) اس سلسلے میں ان کی تربیت کرتا ہے۔’

بچہ مزدوری کی وجوہات پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستان سمیت تمام ترقی پذیر ممالک میں یہ بات قابل قبول ہے کہ بچوں سے کام کرایا جائِے۔ ‘سب سے بڑی وجہ غربت ہے۔ یہ ایک شیطانی چکر ہوتا ہے جس سے نکلنا بہت مشکل ہے۔ بچوں کو کام پر اس لیے رکھا جاتا ہے کہ ایک بالغ آدمی کو انھیں پوری مزدوری دینا پڑے گی جبکہ بچہ سستے میں یا مفت میں کام کر دے گا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ بچہ ایک نوجوان کی نسبت زیادہ دیر تک اور زیادہ انرجی کے ساتھ کام کرتا ہے جس سے زیادہ سے زیادہ کام لیا جا سکتا ہے۔’

بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں آئی ایل او کا کیا لائحہ عمل ہوتا ہے؟ اس پران کا مؤقف تھا کہ’عام طور پر حکومتیں جن کنونشنز پر دستخط کرتی ہیں ان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ ان پر پوری طرح سےعمل کریں۔ خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ حکومت کو مطلع کیا جاتا ہے اور ادارہ میکینزم بنانے میں ان کی مدد کرتا ہے۔’ انھوں نے سیالکوٹ میں سرجیکل آلات کی صنعت میں کسی حد تک بچہ مزدوری کنٹرول کرنے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ’ ہم نےسیالکوٹ چیمبرآف کامرس، ایمپلائیز ایسوسی ایشنز، ٹریڈ یونینزاور ورکرز فیڈریشن کےساتھ مل کرکام کیا تا کہ آجر اور مزدور دونوں کی یونین کے نمائندگان کو آگاہی دی جا سکے۔’

شمائلہ خان

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

تین اسلامی ثقافتوں کا شاہکار مقبرہ حضرت شاہ رکن عالم ؒ

تین اسلامی ثقافتوں عربی، ایرانی اور ملتانی طرز تعمیر کا شاہکار مقبرہ حضرت شاہ رکن عالمؒ ملتان کے مستریوں کی مہارت کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ اس کی چار دیواری 1081 فٹ طویل ہے۔ برصغیر کے عظیم روحانی پیشوا شیخ الاسلام حضرت بہاء الدین زکریا ملتانی ؒکے پوتے، حضرت صدرالدین عارف باللہ اور فرغانہ کی شہزادی حضرت بی بی راستی کے فرزند حضرت شاہ رکن الدین عالم کا 7 صدیوں پرانا مقبرہ اپنے دیدہ زیب طرز تعمیر کی وجہ سے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کی تاریخی ورثہ کی لسٹ میں شامل ہے۔ مقبرے کے طرز تعمیر کی وجہ سے ملتان پوری دنیا میں نمایاں ہے۔

یہ مقبرہ برصغیر کے اونچے ترین مقبروں میں شامل ہے، تین تہوں پر مشتمل مقبرے کا گنبد 170 فٹ بلند ہے جبکہ گنبد میں قیمتی لکڑی کا استعمال کیا گیا ہے جو دیمک سے مکمل طور پر محفوظ ہے۔ مقبرہ کی اونچائی 110 فٹ اور اندرونی جانب سے 48 فٹ کھلا جبکہ بیرونی جانب سے لمبائی چوڑائی 78 فٹ بنتی ہے۔ تاریخی حوالوں کے مطابق اس پرکشش مزار کو سلطان غیاث الدین تغلق نے دیپال پور کی گورنری کے دوران 1320ء سے 1324ء کے درمیان تعمیر کرایا۔ تعمیر کے کچھ عرصے بعد ہی حضرت شاہ رکن عالم ؒکی اس مقبرے میں تدفین کی گئی۔

مستطیل رقبہ زمین پر تعمیر یہ ہشت پہلو مقبرہ روغنی ٹائلوں سے مزین ہے، مقبرہ پر نقش و نگار، کاشی کاری اور گلکاری نمایاں ہے۔ محکمہ اوقاف کی جانب سے 10 اکتوبر 1971ء کو ایک وسیع منصوبہ بندی کے تحت مقبرے کی مرمت کرائی گئی تھی مگر اس کے بعد کبھی صحیح معنوں میں مرمت نہیں کی گئی،محکمہ اوقاف کی اس نااہلی کے باعث یہ تاریخی مقرہ اپنا حسن کھو رہا ہے۔

اشفاق احمد

پی ٹی وی کا عروج و زوال

کچھ عرصہ پہلے ایک چینل کے اینکر نے ایک کالم میں سابق وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید سے ایک ملاقات کا ذکر کیا، جس میں ان کے بقول اُنہیں پی ٹی وی میں ڈائریکٹر نیوز کی پوسٹ کی پیشکش کی گئی تھی، جو انہوں نے ٹھکرا دی، لیکن اس کے ساتھ انہوں نے ایک معنی خیز تبصرہ کیا کہ اگر وہ یہ پیشکش قبول کر لیتے تو آج پرائیویٹ سیکٹر میں صحافت کی دُنیا میں وہ مقام حاصل نہ کر پاتے جو اُنہیں اِس وقت حاصل ہے۔ ان کی یہ بات غور طلب ہے کہ کیا واقعی پی ٹی وی نیوز میں ٹیلنٹ کی کوئی گنجائش نہیں یا وہاں ایسی فضا قائم ہے جو ٹیلنٹ کی قاتل ہے پرائیویٹ چینلوں میں اس وقت اوروں کے علاوہ طلعت حسین، کاشف عباسی، قطرینہ حسین،عاصمہ شیرازی وغیرہ بڑے کامیاب اینکر سمجھے جا رہے ہیں۔ انہوں نے پی ٹی وی سے اڑان بھری ہے اور ان بلندیوں پر پرواز کر رہے ہیں۔ ثابت ہو گیا کہ پی ٹی وی میں ان کا قیام ان کی پرواز میں کوتاہی کا باعث نہیں بنا۔ تاہم یہ سب لوگ پی ٹی وی میں وزیٹر تھے۔ مستقل ملازمین کے کردار کا جائزہ لیں تو اوپر ذکر کئے گئے اینکر کی بات میں کچھ صداقت نظر آتی ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ پی ٹی وی کے بڑے کامیاب لوگ بھی ریٹائرمنٹ کے بعد نجی شعبے میں کہیں نظر نہیں آئے۔ اس میں شاید نجی چینلوں میں اچھی پوزیشن پر موجود ان لوگوں کا تعصب بھی کام کر رہا ہو جو پی ٹی وی سے ہو کر گئے تھے تاہم یہ بھی صحیح ہے کہ پی ٹی وی میں سرکاری پالیسیوں کی گھٹن اور لیڈر شپ کی طرف سے جدت اور Initiative کی حوصلہ شکنی نے ورکرز کے ٹیلنٹ کو ناکامی سے دوچار کیا۔ پالیسی کی حد تک سیاسی اور فوجی حکومتوں کا اتفاق رائے رہا ہے،52 سال کی پی ٹی وی کی تاریخ میں بہت مختصر چند وقفے آئے جب پی ٹی وی کو ایڈیٹوریل آزادی ملی۔ ایک دفعہ تو وزیر اطلاعات جاوید جبار کو اسی شوق میں وزارت بھی قربان کرنا پڑی۔ یہ جنرل (ر) پرویز مشرف کا ابتدائی دور تھا۔ اب نجی چینلوں کی بھرمار سے پیدا ہونے والی صورتِ حال کے پیشِ نظر پی ٹی وی کو لبر الائز کرنے کی ضرورت اور موقع تھا، لیکن ایسا نہیں ہو سکا اور عجب ستم ظریفی ہے کہ اس کی ایک بڑی وجہ یہی نجی چینل بنے ہیں۔ ہوا یہ ہے کہ نجی چینلوں کی اکثریت نے شعوری یا غیر شعوری طور پر منفی ایجنڈے کو آگے بڑھایا ہے یہ حکومت کے لئے بھی منفی ہے اور وسیع تناظر میں معاشرے کے لئے بھی، ان چینلوں نے حکومت کا تقریباً بائیکاٹ کر رکھا ہے اور صرف منفی خبریں دی جاتی ہیں۔

ایک صحافی کی حیثیت سے مَیں بعض دفعہ یہ دیکھ کر حیران ہوتا ہوں کہ کوئی غیر ملکی وزیر خارجہ یا کوئی اور اہم آدمی پاکستان کے دورے پر آیا ہے تو نجی چینل اس کا تقریباً بائیکاٹ کر رہے ہوتے ہیں۔ وزیراعظم کسی ترقیاتی منصوبے کا افتتاح کر رہے ہیں تو اس کا بھی بائیکاٹ مثلاً حال ہی میں اسلام آباد میں اہلِ قلم کانفرنس ہوئی، جس میں مُلک بھر سے چار پانچ سو اہلِ قلم کے علاوہ کچھ غیر ملکی مہمانوں نے بھی شرکت کی۔ وزیراعظم نے افتتاح اور صدر نے افتتاحی تقریب سے خطاب کیا ،لیکن کسی چینل نے لائیو نہیں دکھایا اور نہ ہی شاید کسی نے کوئی پروگرام کیا۔ اس قسم کی بے شمار مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ اس صورتِ حال میں حکومت کا پی ٹی وی پر انحصار بڑھ گیا ہے۔

پی ٹی وی ہی ایک چینل ہے، جس کے ذریعے حکومت اپنا نقطہ نظر لوگوں تک پہنچا سکتی ہے۔ پی ٹی وی اور وزارتِ اطلاعات کے ارباب اختیار کو سوچنا چاہئے کہ اِن حالات میں پی ٹی وی کو مضبوط کرنے کی بڑی ضرورت ہے، لیکن نظر ایسا آتا ہے کہ انہوں نے پی ٹی وی سے سرے سے توجہ ہٹا لی ہے اور اس قومی ادارے کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ اس وقت پی ٹی وی میں قیادت کا شدید بحران ہے، ایم ڈی اور ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر کی پوسٹ خالی ہے۔ ایم ڈی کی پوسٹ ایک سال سے خالی ہے اور ابھی تک بھرتی کے لئے اشتہارہی نہیں دیا گیا۔ ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن کی پوسٹ پر ہفتوں اور مہینوں میں تبدیلی ہو رہی ہے۔ انگریزی چینل پی ٹی ورلڈ بھی ایک کنٹرولر کے حوالے ہے، نہ اس کا کوئی ڈائریکٹر ہے اور نہ چینل ہیڈ۔ ڈائریکٹر نیوز حال ہی میں مقرر کیا گیا ہے۔

اس سے پہلے ایک کنٹرولر کے پاس بڑی دیر چارج رہا، اس شخص کی کنٹرولر کی پوسٹ پر ترقی بھی مشکوک طریقے سے کی گئی تھی۔ نتیجہ حسبِ توقع بہت خراب نکلا اور پی ٹی وی کی تاریخ میں ایک ناخوشگوار باب کا اضافہ ہو گیا اور اس شخص کو ملازمت سے ڈسمس کر دیا گیا، لیکن بعد از خرابی بسیار۔ یہ ساری صورتِ حال پی ٹی وی میں قیادت کے خلاسے پیدا ہوئی ہے، اب بھی وقت ہے کہ ادارے کی تنظیم نوکی جائے اور ایک فل ٹائم ایم ڈی مقرر کیا جائے۔ ایک تجربہ کار شخص کو پی ٹی وی نیوز کا چینل ہیڈ مقرر کیا جائے، جو صورتِ حال کو سنبھال سکے۔ انگریزی چینل کے لئے بھی ایک سینئر آدمی کی ضرورت ہے۔

پی ٹی وی کے زوال کی کہانی کئی عشروں پر محیط ہے ہر حکومت اور شاید ہر ایم ڈی نے اس میں کچھ نہ کچھ حصہ ڈالا ہے۔ پیپلزپارٹی نے بے شمار لوگوں کو صرف سیاسی بنیادوں پر ملازم رکھا، جن کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ ایک اندازے کے مطابق 2009ء میں پی ٹی وی اور وزارت اطلاعات میں ایسے پارٹی وفا داروں کی تنخواہوں پر کروڑوں روپے سالانہ خرچ ہوتے تھے۔ میرٹ کی پامالی اور اقربا پروری بہت برسوں سے عروج پر ہے۔ باہر سے آنے والے منیجنگ ڈائریکٹروں نے بھی ایک آدھ کے سوا ادارے کے وسائل کا اپنے فائدے کے لئے بھرپور استعمال کیا۔ انہوں نے اندر کام کرنے والوں کی نسبت دس گنا تنخواہوں پر اپنے دوستوں کو نوازا اور پی ٹی وی کے مستقل ملازمین میں میرٹ کو نظر انداز کر کے ایسے فیصلے کئے، جن کے دور رس منفی اثرات نکلے۔ پھر نجی شعبے میں میڈیا کا دور شروع ہوا تو ہماری انتظامیہ نے اس چیلنج کے لئے تیاری نہیں کی، نتیجہ ظاہر ہے کہ پی ٹی وی کا گراف بہت نیچے چلا گیا۔ بات یہاں ختم نہیں ہوتی، بلکہ اگر اب بھی صورت حال کو نہ سنبھالا گیا تو ادارے کی اندرونی صورتِ حال بد سے بد ترین ہو جائے گی اور یہ ایک مجرمانہ غفلت ہو گی۔ کیا پی ٹی وی کا انجام بھی سٹیل مل، پی آئی اے اور ریلوے جیسا ہو گا؟

اے خالق سرگانہ

ہمارا پاکستان اور میڈیا کا پاکستان

سیاستدان ہو کہ صحافی دونوں کو زندہ رہنے کے لیے خبر چاہیے۔ اور خبر بھی کراچی، لاہور، پشاور یا اسلام آباد میں چاہیے۔ پارہ چنار میں 24 افراد کی ہلاکت اور 74 کا زخمی ہونا ایک اور افسوس ناک واقعہ ضرور ہے مگر خبر نہیں۔ اگر ہے بھی تو تین بلیٹنز کے بعد چوتھے گھنٹہ وار بلیٹن کی شہہ سرخی بننے کے قابل نہیں۔ خیبر ایجنسی میں نمازِ جمعہ کے موقع پر ایک مسجد میں بم پھٹنا اور تیس سے زائد نمازیوں کا مرنا کافی نہیں۔ آپریشن ضربِ عضب کے لیے ضروری ہے کہ کم ازکم کراچی ایئرپورٹ پر حملے میں دس دھشت گرد مارے جائیں۔

نیشنل ایکشن پروگرام اور فوجی عدالتوں کے قیام کے لیے کوئٹہ کی ہزارہ برادری کی نسل کشی اور ہزاروں کی تعداد میں ہجرت اور یوحنا آباد اور گوجرہ کی کرسچن بستیوں کا جلنا کافی نہیں تاوقتیکہ پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں ڈیڑھ سو بچے اور اساتذہ نہ مریں۔ آپریشن ردّ الفساد اور فوجی عدالتوں کا احیا تبھی ممکن ہے جب لاہور کے چیئرنگ کراس پر دس شہریوں کی ہلاکت اور پاک افغان سرحد بند کرنے کے لیے سیہون میں 72 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو جائے۔ کوئٹہ سول اسپتال میں پچاس وکلا اور شاہ نورانی کے مزار پر ساٹھ سے زائد لاشیں گرنے سے کام نہیں چلے گا۔

حالانکہ پارہ چنار پاک افغان سرحد سے ایک پتھر کی مار پر ہے مگر یہ کوئی ایسا بڑا واقعہ تو نہیں جس کے لیے کابل حکومت سے رسمی احتجاج بھی کیا جا سکے۔ چھوٹے چھوٹے علاقوں میں بڑے بڑے واقعات ہوتے ہی رہتے ہیں۔ چلڈرن آف لیسر گاڈ۔۔۔ خبر تو اصل میں یہ ہے کہ پاناما کیس کا فیصلہ اگلے ہفتے سنایا جائے گا کہ نہیں۔ خبر یہ ہے کہ فاسٹ باؤلر محمد عرفان کو چھ ماہ کے لیے قومی کرکٹ کھیلنے سے روک دیا گیا۔ خبر تو یہ ہے کہ ڈاکٹر عاصم حسین کو سندھ ہائی کورٹ نے ضمانت پر رہا کر دیا۔ خبر تو یہ ہے کہ جماعتِ اسلامی نے کراچی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف دو گھنٹے کے لیے شاہراہِ فیصل بند کر دی۔

اور سب سے بڑی خبر تو یہ ہے کہ عمران خان نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی تا کہ یہ یقین کیا جا سکے کہ جنرل صاحب آج بھی جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہیں کہ نہیں۔ یہ چیک کیا جا سکے کہ تھرڈ ایمپائر کی انگلی اب بھی کام کرتی ہے کہ نہیں۔ اور اس سے بھی بڑی خبر مریم نواز کی یہ ٹویٹ ہے کہ وزیرِ اعظم کے گردے میں ایک چھوٹی سی پتھری ہے مگر آپریشن کی ضرورت نہیں۔ وزیرِ اطلاعات مریم اورنگ زیب نے کہا ہے کہ وزیرِ اعظم کے پیٹ میں کچھ درد سا اٹھا تاہم اللہ تعالی کے فضل و کرم سے وزیرِ اعظم اپنے فرائض بخیر و خوبی انجام دے رہے ہیں۔

یہ اتنی بڑی خبر ہے کہ دو نیوز چینلز کے ٹاک شوز میں ان اسباب کا سیر حاصل تجزیہ بھی ہو گیا کہ ایسے وقت جب پاناما کیس کا فیصلہ سر پر ہے وزیرِ اعظم کے پیٹ میں درد اٹھنے کا مطلب اور مقصد کیا ہے؟ کیا یہ ججوں کی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش تو نہیں؟ کہنے کو پاکستان کا رقبہ سات لاکھ چھیانوے ہزار پچانوے مربع کلومیٹر اور آبادی اٹھارہ سے بیس کروڑ کے درمیان ہے۔ لیکن میڈیا کے خبری نقشے کا پاکستان دیکھا جائے تو یہ ملک چھ شہروں (اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، کوئٹہ، لاہور اور کراچی) پر مشتمل ہے جس کا رقبہ دس ہزار دو سو تئیس مربع کلو میٹر اور آبادی پانچ کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ اس میڈیائی پاکستان کو چھینک بھی آجائے تو بریکنگ نیوز ہے۔ اور باقی پاکستان خود کشی کر لے تب بریکنگ نیوز ہے۔

پیمرا جب لائسنس بانٹ رہا تھا تو جانے عقل کہاں بٹ رہی تھی؟

وسعت اللہ خان

تجزیہ کار

ست پارہ ڈیم : جہاں کبھی جھیل تھی

ست پارہ جھیل اپنے پانی کے گہرے، انتہائی گہرے سبز رنگ، وسط میں واقع ایک چھوٹے سے جزیرے اور اپنی وسعت کے باعث مجھے بے حد محبوب تھی ۔ اب یہاں ست پارہ ڈیم بنایا جا رہا ہے۔ بلندی سے دیکھیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پتھر کی انگشتری میں ایک گہرا سبز زمرد جڑا ہوا ہے۔ جو قریب آنے پر پھیل کر ست پارہ جھیل بن جاتا ہے۔ دیوسائی سے واپسی پر پہلے ست پارہ گائوں آتا ہے۔ اور ہرے بھرے کھیت اور سبز درختوں کے جھنڈ اس پتھریلے منظر میں رنگ بھرنے لگتے ہیں۔ پھر بائیں ہاتھ جھیل کو رکھتے ہوئے راستہ سکردو شہر کی طرف بڑھ جاتا ہے۔ ڈیم کی تعمیر جاری تھی اور جھیل کی سطح بلند ہو کر کافی وسیع ہو چکی تھی۔ اور اس کے درمیان چھوٹا سا ٹاپو بہت حد تک ڈوب چکا تھا اور اب صرف اس کا بالائی سرا اور چند درختوں کی چوٹیاں دکھائی دیتی تھیں۔

اس جھیل سے سکردو کو پینے کا پانی بھی مہیا کیا جاتا ہے۔ جو ایک تندوتیز پختہ نالے کی شکل میں آپ کے ساتھ ساتھ سکردو تک چلتا ہے۔ جب ہم کچی پگ ڈنڈی پر چلتے اس ٹیلے پر پہنچے جہاں بدھ کے مجسمے والی چٹان زیرِ آسمان پڑی موسموں کے تغیر جھیل رہی ہے تو یہ دیکھ کر دکھ ہوا اس کی دیکھ بھال کے لیے کوئی خاطر خواہ انتظام نہیں ہے۔  بس اس کے گرد خاردار تار کی باڑ لگا کر کانٹوں والی جھاڑیاں ڈال دی گئی ہیں۔ (پہلے تو یہ بھی انتظام نہیں تھا)۔ پھر ہمارے بھائیوں نے نہایت بھدے اور جلی حروف میں سرخ روغن سے اس تاریخی چٹان پر ’’نظر سے قتل کرڈالو نہ ہو تکلیف دونوں کو۔‘‘ جیسے بازاری شعر اور اپنے نام پتے ’’دائود خان آف —— ‘‘ وغیرہ مع ٹیلی فون نمبروں کے درج کر دئیے ہیں۔ مجھے نہیں علم کہ اس کام کا مقصد یا فائدہ کیا ہے؟ البتہ یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ اگر کسی غیر اسلامی ملک میں مسلمانوں کے کسی مقدس مقام کے ساتھ ایسا سلوک کیا جائے تو ہمارے جذبات اور احساسات کیا ہوں گے؟ ہم کچھ دیر خاموش بیٹھے سستاتے رہے۔ اگر آپ بدھ صاحب کی طرف منہ کر کے کھڑے ہوں تو آپ کی دائیں جانب دور تک سکردو کی آبادی اور اس سے پرے افق میں گم ہوتا صحرائی منظر پھیلا دکھائی دیتا ہے.

عمران الحق چوہان

ایدھی کی یاد میں یادگاری سکوں کا اجراء

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے خدمت انسانیت کے علمبردار مرحوم عبدالستار ایدھی کی خدمات کے اعتراف میں 50 روپے مالیت کا یادگاری سکہ جاری کر دیا۔ اس سلسلے میں منعقدہ خصوصی تقریب میں گورنر اسٹیٹ بینک اشرف محمود وتھرا نے خصوصی سکے عبدالستار ایدھی کے صاحبزادے فیصل ایدھی کو پیش کیے۔ یاد رہے کہ عبدالستار ایدھی وہ واحد سماجی کارکن ہیں جن کے نام پر یادگاری سکے جاری کیے گئے ہیں۔ پاکستان میں اب تک یہ اعزاز صرف پانچ شخصیات کو حاصل ہے جن میں قائداعظم محمد علی جناح، علامہ محمد اقبال، محترمہ فاطمہ جناح، محترمہ بے نظیر بھٹو اور اب عبدالستار ایدھی بھی شامل ہیں۔

اس سکے کا کل وزن 13.5 گرام ہے جبکہ یہ 75 فیصد تانبہ اور 25 فیصد نکل پر مشتمل ہے۔ گورنر اسٹیٹ بینک اشرف وتھرا کے مطابق ابتدائی طور پر پانچ ہزار سکے جاری کیے گئے ہیں جو 16 مراکز پر دستیاب ہونگے جبکہ ضرورت پڑنے پر مزید سکے جاری کر دیے جائیں گے۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے اس موقع پر عبدالستار ایدھی کی انسانیت کے لیے خدمات کو سراہا اور انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ تقریب میں موجود فیصل ایدھی نے کہا کہ ’میں اسٹیٹ بینک کا مشکور ہوں جنہوں نے عبدالستار ایدھی کی خدمات کے اعتراف میں یادگاری سکے جاری کیے‘۔ فیصل ایدھی کا مزید کہنا تھا کہ ’عبدالستار ایدھی عوام کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے اور لوگوں کی فلاح کے لیے ان کا مشن ہمیشہ جاری رہنا چاہیے‘۔

سکے پر سامنے کی جانب عبدالستار ایدھی کا سال وفات درج ہے جبکہ سکے کے عقبی رخ پر عبدالستار ایدھی کی تصویر اور عرصہ حیات بھی درج ہے۔

خیال رہے کہ ایدھی فاؤنڈیشن کے بانی عبدالستار ایدھی رواں ماہ 8 جولائی کی شب 88 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے، انہیں گردوں کا عارضہ لاحق تھا۔

گزشتہ برس جولائی میں ہی وزیراعظم نواز شریف نے اسٹیٹ بینک کو ہدایات جاری کی تھیں کہ سماجی رہنما عبدالستار ایدھی کی یاد میں یادگاری سکے جاری کیے جائیں۔ پاکستان میں عبدالستار ایدھی کو انسانیت کی خدمت کے اعتبار سے لیجنڈ کا درجہ حاصل ہے، انہوں نے خالی ہاتھ اپنا سفر شروع کیا اور ایدھی فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی۔ ایدھی اور ان کی ٹیم نے میٹرنٹی وارڈز، مردہ خانے، یتیم خانے، شیلٹر ہومز اور اولڈ ہومز بھی بنائے، جس کا مقصد معاشرے کے غریب و بے سہارا لوگوں کی مدد کرنا تھا۔

اس ادارے کا نمایاں کارنامہ 1500 ایمبولینسوں پر مبنی ایمبولینس سروس ہے جو ملک میں دہشت گرد حملوں کے دوران بھی غیر معمولی طریقے سے اپنا کام کرتی نظر آتی ہیں۔ سنہ 2000ء میں گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں ایدھی فاؤنڈیشن کا نام دنیا کی سب سے بڑی فلاحی ایمبولینس سروس کے طور پر درج کیا گیا تھا۔