روپے کی بے قدری معاشی مشکلات کم کر سکے گی ؟

اب جب کہ موجودہ حکومت کے ختم ہونے میں ٹھیک ایک ماہ باقی ہے ایسے میں یہ حکومت ملک کے لیے معاشی مسائل کا ایک انبار چھوڑ کر جا رہی ہے۔ ملکی معیشت کی کوئی کل اٹھا کر دیکھ لیں ہر سمت معاشی مشکلات منہ کھولے کھڑی نظر آتی ہیں۔ بیرونی قرضے کا حجم دیکھیں تو یہ 90 ارب ڈالر کی حد عبور کر چکا ہے۔ عوام اور مجموعی ملکی معیشت اس کا کس طرح بوجھ اُٹھائے گی۔ اس کا پتا نہیں، زرمبادلہ کی آمدنی کا اہم ذریعہ برآمدات ہیں، وہ 22 ارب ڈالر سے آگے نہیں جا سکیں اور اس طرح تجارتی خسارہ 33 ارب ڈالر متوقع ہے، یہ خسارہ کس طرح پورا ہو گا اس کا جواب حکومتی حلقوں کے پاس نہیں۔ پی آئی اے اور اسٹیل مل کا خسارہ 500 ارب روپے ہو چکا ہے، کب تک ملکی معیشت اس خسارے کو برداشت کرے گی، سیاسی پارٹیوں کو اس کی کوئی فکر نہیں.

سماجی خدمات کی فراہمی مثلاً تعلیم و صحت کے معاملے میں سرکاری بجٹ نہ ہونے کے برابر ہے، چناں چہ غریب آدمی کی حالت کیسے بہتر ہو گی اس پر کسی کی توجہ نہیں۔ لیکن آج کے کالم میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے 20 مارچ کے اس اقدام کی بات ہو گی جس کے نتیجے میں روپے کی قدر میں کمی کر دی گئی اور اس طرح امریکی ڈالر جو 19 مارچ تک 110 روپے کا مل رہا تھا اب اس کی قیمت 115 روپے ہو گئی، یعنی قدر میں 4 فی صد کمی۔ اسی طرح کا ایک اقدام اسٹیٹ بینک کی جانب سے 8 دسمبر کو کیا جا چکا ہے جب روپے کی قدر میں 4.3 فی صد کمی کر دی گئی تھی اور ڈالر کی قیمت 104 روپے سے بڑھ کر 110 روپے ہو گئی تھی۔ اس طرح گویا صرف چار ماہ میں روپے کی قدر میں 8 سے 9 فی صد کمی ہو گئی اور ڈالر 115 روپے تک چلا گیا۔

ڈالر کی بے قدری کی جو وجوہ بتائی جا رہی ہیں ان میں یہ کہا جا رہا ہے کہ روپے کی قدر پر بہت دباؤ تھا، زرمبادلہ کے ذخائر 14 ارب ڈالر سے کم ہو کر 11 ارب ڈالر پر آگئے ہیں۔ جولائی 2017ء سے لے کر فروری 2018ء تک کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 10.8 ارب ڈالر ہو گیا ہے، کمزور روپے کی قدر برآمدات کو بڑھانے اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم کرنے میں مددگار ثابت ہو گی ۔ ڈالر پر دباؤ کم ہو گا لیکن جن امیدوں پر یہ اقدام کیا گیا ہے وہ شاید پوری نہ ہوں مگر ملکی معیشت اور عام آدمی پر جو برا اثر پڑے گا وہ یقینی ہے۔ مثلاً ڈالر مہنگا ہونے سے ملک میں آنے والی درآمدات مہنگی ہو جائیں گی جس کے نتیجے میں خشک دودھ، چائے، ادویات، کاسمیٹکس، صنعتوں میں استعمال ہونے والا خام مال، پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہو جائیں گی۔

روزمرہ کی بعض اشیا کی قیمتوں کے بڑھ جانے سے اور ٹرانسپورٹیشن کی لاگت بڑھ جانے سے مہنگائی میں اضافہ ہو گا۔ دودھ کی قیمتوں میں اضافے کا کمشنر کراچی نے اعلان کردیا ہے جو اب 94 روپے فی لٹر کے حساب سے فروخت ہو گا۔ پٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے سے تجارتی سرگرمیوں کے بار برداری کے اخراجات بڑھ جائیں گے جس سے مہنگائی کی ایک نئی لہر آئے گی۔ اسی طرح درآمدی خام مال، کیمیکل اور مشنری کے مہنگا ہونے سے پیداواری لاگت میں اضافہ ہو گا تو ملکی مصنوعات کے علاوہ برآمدات بھی مہنگی ہو جائیں گی۔ اس طرح حکومت کا برآمدات میں اضافے کا خواب پورا نہیں ہو گا۔ اسی سلسلے میں پاکستان کا گزشتہ بیس پچیس سال کا ماضی گواہ ہے کہ روپے کی قدر میں کمی کرنے کے باوجود پاکستان میں برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا۔

برآمدات میں اضافے کے لیے پیداواری لاگت میں کمی، کوالٹی میں اضافہ، ویلیو ایڈیشن سرمایہ کاری اداروں میں کرپشن اور بدانتظامی میں کمی ضروری ہے۔ آئی ایم ایف کی شرائط کو پورا کرتے ہوئے حکومت نے بجلی اور گیس پر سبسڈی ختم کر دی اور ان کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا۔ اس طرح پیداواری لاگت بڑھ گئی اور برآمدات کے معاملے میں پاکستان، انڈیا، چین اور ویت نام سے پیچھے رہ گیا۔ جب کہ مشینری، آٹو موبائل اور خام مال کی درآمدات میں اضافے سے برآمد و درآمد کا فرق بہت بڑھ گیا جسے تجارتی خسارہ کہا جاتا ہے۔ چناں چہ موجودہ حکومت یا آنے والی نگراں حکومت اگر واقعی تجارتی خسارہ کم کرنا چاہتی ہے تو روپے کی قدر میں کمی کے بجائے ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جن سے پیداواری لاگت میں کمی ہو اور بین الاقوامی مارکیٹ میں پاکستانی برآمدات باآسانی اپنی جگہ بنا سکیں، اسی طرح تجارتی خسارہ کم ہو گا اور ڈالر پر دباؤ میں کمی آئے گی، ورنہ روپے کی بے قدری سے سوائے مہنگائی میں اضافے کے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔

ڈاکٹررضوان الحسن انصاری

Advertisements

Turkish agency builds over 600 water wells in Pakistan

A Turkish aid agency has built more than 600 water wells across Pakistan as part of a water-purification project. The International Humanitarian Relief Foundation built the wells in several provinces including the second-largest province Punjab.

کيا پاکستان سے يورپ کی طرف غير قانونی ہجرت ختم ہو پائے گی ؟

پاکستانی وکيل ضياء اعوان کا کہنا ہے کہ بہتر مستقبل کی تلاش میں پاکستان سے يورپ کی طرف غير قانونی مہاجرت دہائيوں پرانا سلسلہ ہے جو آئندہ بھی جاری رہے گا۔ وہ اس مسئلے کا حل ہجرت کے قانونی راستوں کی دستيابی ميں ديکھتے ہيں۔ پاکستانی صوبہ بلوچستان کے علاقے تربت سے حال ہی ميں بيس افراد کی لاشيں مليں جنہيں گولياں مار کر ہلاک کيا گيا تھا۔ ابتدائی تفتيش کے بعد پتہ چلا کہ يہ سب افراد پاکستانی صوبہ پنجاب کے مختلف حصوں تعلق رکھتے تھے اور روزگار کی خاطر انسانوں کے اسمگلروں کے سہارے غير قانونی طور پر يورپ کی جانب روانہ تھے۔ حکام کے مطابق يہ تمام تارکين وطن مبینہ طور پر بلوچ علیحدگی پسندوں کے ہاتھوں مارے گئے۔ بعد ازاں پاکستانی وفاقی تفتيشی ادارے ايف آئی اے کے حکام نے متعلقہ اسمگلروں کو بھی گرفتار کر ليا۔ ليکن کيا يہ کہانی يہيں ختم ہو گئی؟

پاکستان سے يورپ کی طرف غير قانونی ہجرت کوئی نيا مسئلہ نہيں۔ يہ سلسلہ 1960ء کی دہائی سے ہی چلا آ رہا ہے، جب دوسری عالمی جنگ کے بعد ترقياتی کاموں اور صنعتوں کی بحالی کے ليے يورپ کے متعدد ممالک کو مزدور درکار تھے اور اميگريشن سے متعلق پاليسياں بھی مقابلتاً نرم تھيں۔ وسطی پنجاب ميں آج کئی ايسے علاقے ہيں، جنہيں ’منی يورپ‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ منڈی بہاالدين، کھارياں، گوجرانوالہ، گجرات اور ديگر کئی علاقوں ميں کئی خاندانوں سے کا ايک نہ ايک شخص بيرون ملک مقيم ہے اور موجودہ نسليں بھی اسی تگ و دو ميں لگی ہوئی ہيں۔ تاہم پچھلے چند ايک سالوں سے يورپ کو مہاجرين کے بحران کا سامنا ہے اور ايسے ميں نہ صرف پناہ سے متعلق یورپی پاليسياں کافی سخت ہو گئی ہيں بلکہ ہجرت کے راستے اور طريقہ ہائے کار بھی زيادہ خطرناک ہو گئے ہيں۔

پاکستانی فيڈرل انويسٹيگيشن ايجنسی کے اعداد و شمار کے مطابق اس سال اب تک انسانوں کے قريب چار سو اسمگلروں کو پکڑا جا چکا ہے جبکہ پچھلے سال لگ بھگ دو ہزار ايسے ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی تھی۔ ايف آئی اے کا موقف ہے کہ تربت ميں پيش آنے والا واقعہ ’دہشت گردی‘ کے زمرے ميں آتا ہے ليکن اگر انسانوں کے اسمگلر اپنی آنکھوں ميں يورپ پہنچنے کے خواب سجائے نوجوانوں کو پر خطر راستوں سے نہ لے کر جاتے، تو کيا يہ سانحہ پيش آتا؟

انسانوں کی اسمگلنگ سے متعلق امور پر مہارت رکھنے والے پاکستانی وکيل ضياء اعوان کے بقول ويسے تو غير قانونی ہجرت کے دوران ہولناک انجام کی کہانياں کئی ہيں ليکن اس طرح دہشت گردی کا واقعہ شاید شاذ و نادر ہی پيش آيا ہو۔ ڈی ڈبليو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’يہ ايک پريشان کن بات تھی کہ اسمگلروں نے نوجوانوں کو ايسے مقامات تک پہنچايا، جہاں دہشت گرد تھے اور انہوں نے ان تارکین وطن کو نشانہ بنايا۔‘‘ وکيل ضياء اعوان نے بتايا کہ ’ان راستوں سے ہجرت سالہا سال سے جاری ہے اور پاکستان ميں غربت، بے روزگاری، آبادی ميں اضافے، حکومت کی طرف سے قيادت کے فقدان، غير محفوظ سرحدوں اور عدم مساوات اور اسی طرز کے ديگر اسباب کی بناء پر آئندہ بھی جاری رہے گی‘۔

پاکستانی وکيل کے مطابق زمينی راستوں سے غير قانونی ہجرت کے خاتمے کے ليے ايک باقاعدہ فورس درکار ہے، جو صرف حکومت پاکستان تنہا نہيں کر سکتی۔ ’’اس کے ليے خطے کے ديگر ملکوں کو ساتھ مل کر کام کرنا ہو گا۔‘‘ اس معاملے کا ايک اور رخ يہ بھی ہے کہ ’يہ مانگ اور ترسيل کا معاملہ ہے‘۔ اعوان کے بقول يورپ ميں لوگوں کی بڑھتی ہوئی عمروں کے سبب طلب آج بھی بہت ہے ليکن آج ترجيح کسی اور ملک کو دی جاتی ہے اور کل کسی اور ملک کو دی جائے گی۔ ان کا مزيد کہنا تھا، ’’يورپ خود ايک سياسی ايجنڈے پر کام کر رہا ہے۔ اسی ضمن ميں شامی، افغان اور ديگر ملکوں کی شہريت کے حامل لوگوں کو وہاں پناہ دی گئی۔ ظاہر ہے ايسے ميں ديگر ملکوں کے لوگ بھی قسمت آزماتے ہيں کيونکہ اس طرح ہجرت کے راستے تو کبھی بند نہيں ہوتے۔‘‘

ضياء اعوان کے مطابق ہيومن ٹريفکنگ يا اسمگلنگ کے مسائل پر قابو پانے کے ليے کئی سطحوں پر اقدامات کی ضرورت ہے۔ ’’اس کے ليے ملک ميں قيادت، معاشی ترقی، آبادی ميں اضافے پر کنٹرول، کئی ملکوں کی ايک مشترکہ ٹاسک فورس کا قيام اور ديگر اقدامات شامل ہيں۔‘‘ ضیا اعوان کا مزید کہنا تھا کہ ’لوگ ہميشہ خوشحالی اور ترقی کی سمت ميں جاتے رہيں گے اور اگر انہيں قانونی راستے فراہم نہ کيے گئے تو اس طرز سے غير قانونی ہجرت کو روکنا نا ممکن سی بات ہے‘۔

بشکریہ DW اردو
 

ترکی : یورپ جانے والے زنجیروں سے جکڑے پاکستانیوں کو بازیاب کرا لیا

ترکی میں پولیس نے غیر قانونی طور پر یورپ جانے والے زنجیروں سے جکڑے پاکستانیوں کو بازیاب کرا لیا۔ ترک روزنامہ “حریت” کے مطابق مقامی پولیس نے استنبول میں خفیہ اطلاعات پر کارروائی کرتے ہوئے چھاپوں کے دوران  پاکستانی یرغمالیوں کو بازیاب کرایا ہے جنہیں انسانی اسمگلروں نے ایک عمارت کے تہہ خانے میں قید کیا ہوا تھا۔ ان افراد کو 10 ہزار ڈالرز کے عوض یورپ پہنچانے کا جھانسہ دے کر ترکی لایا گیا تھا اور انہیں کہا گیا تھا کہ وہ یہ رقم یورپ پہنچنے کے بعد ادا کریں۔ مقامی پولیس کے مطابق کارروائیوں میں تین پاکستانی اسمگلروں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جن پر تارکین وطن کو گمراہ کرنے کے الزامات ہیں۔

چند ماہ قبل ترکی سے متعدد پاکستانی شہری پہلے بھی بازیاب ہو چکے ہیں۔ انسانی اسمگلروں نے انہیں اغوا کر کے بدترین تشدد کا نشانہ بنا کر ویڈیو پاکستان بھیجی تھیں۔ پاکستانی حکام کی درخواست پر ترک پولیس نے انہیں کارروائیاں کرتے ہوئے متعدد پاکستانیوں کو بازیاب کرایا تھا۔ خیال رہے کہ یورپ جانے کے خواہش مند پاکستانی شہری بلوچستان سے ایران، وہاں سے ترکی پہنچ کر یورپ جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ گزشتہ چند برس میں ہزاروں شامی، عراقی، پاکستانی اور افغانی شہری غیر قانونی طریقوں سے یورپ پہنچ چکے ہیں۔ چند روز قبل ہی بلوچستان میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے 20 افراد کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔ یہ تمام افراد انسانی اسمگلروں کو رقم دے کر براستہ ایران، ترکی یورپ جانے کے خواہش مند تھے۔
 

سوچا تھا بیٹا ملک سے باہر جائے گا تو غربت ختم ہو گی

سیالکوٹ کے گاؤں جیٹھیکے پہنچی تو ایک مقامی شخص سے پوچھا کہ اسلم کا مکان کون سا ہے جن کا بیٹا بلوچستان کے واقعے میں محفوظ واپس لوٹا ہے؟
اس پر ادھیڑ عمر شخص نے جواب میں پوچھا کہ ’وہ کمہار کا گھر؟‘ اور پھر جواب کا انتظار کیے بغیر کہا: ’تھوڑا آگے جائیں، ایک کھمبے کے پاس دائیں کو مڑ جائیں اور کسی سے پوچھ لیں تو وہ بتا دے گا۔‘ کمہار چند دہائیاں پہلے تک قِسم قِسم کے برتن بنانے کے فن میں مہارت سے پہچانے جاتے تھے، مگر پھرمٹی کے برتنوں کی جگہ المونیم اور سٹیل نے لے لی تو کوزہ گری کا یہ فن بھی ماضی کا قصہ بن گیا۔

تنگ سی گلی میں داخل ہوں تو پہلے اسلم کمہار کا کرائے کا مکان ہے جہاں آج عید کی سی خوشیاں منائی جا رہی ہیں۔ اسی مکان سے کچھ فاصلے پر قیصر محمود کا کچی اینٹوں کا مکان بالکل الگ احساس دے رہا ہے۔ یہاں کی فضا سوگوار ہے۔ دونوں گھروں میں فاصلہ زیادہ نہیں لیکن خوشی اور غمی مختلف انتہاؤں پر دکھائی دے رہے ہیں۔ بلوچستان میں تربت کے قریب گذشتہ ہفتے پیش آنے والے وہ دو واقعات جن میں پنجاب کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے 20 افراد ہلاک ہو گئے تھے، ان کے تانے بانے انھی غربت کے مارے علاقوں سے ملتے ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں قیصر محمود کا 17 سالہ بیٹا ماجد گھمن شامل ہے، اور بچ جانے والوں میں اسلم کا 16 سالہ بیٹا حیدر علی ہے جو آج ہی گھر لوٹا ہے۔ ماجد گھمن اور حیدر علی سمیت اس گاؤں کے تین لڑکے اُس قافلے کا حصہ تھے جسے حکام کے مطابق مبینہ طور پر ‘بلوچ علیحدگی پسندوں نے نشانہ بنایا۔’ یہ تمام افراد روز گار کی تلاش میں کچھ ایجنٹوں کے ذریعے غیر قانونی طور پر ترکی اور یونان جا رہے تھے اور انھیں پہلے مرحلے میں بلوچستان کے راستے ایران میں داخل ہونا تھا۔ اس مقصد کے لیے صوبے کے انتہائی غیر محفوظ علاقے کا انتخاب کیا گیا۔

حیدر علی معجزانہ طور پر بچ گئے۔ اوپر تلے کئی قمیضیں پہنے حیدر علی کی آواز بات کرتے ہوئے کپکپا رہی تھی۔ حیدر علی کے مطابق انھیں بیرون ملک پہنچانے کے وعدے کرنے والا ایجنٹ اس سفر کے دوران کہیں بھی ان کے ساتھ نہیں تھا۔ کوئٹہ پہنچنے پر بعض نقاب پوش افراد نے انھیں اپنے ساتھ لیا اور پنجگور آ گئے۔ پنجگورمیں انھیں کسی دوسرے نقاب پوش گروہ کے حوالے کیا گیا۔ یہاں 15 نوجوانوں پر مشتمل ایک اور قافلہ پہلے سے موجود تھا۔ ‘ہمارے چہروں پر کپڑا چڑھا دیا گیا، سامان اور موبائل فون لے لیا، مارتے پیٹتے ہم سب کو آپس میں مکس کر دیا گیا اور 15، 15 افراد کے دو قافلے تیار کر کے دو ڈالوں (ایسی بڑی گاڑی جس کی پچھلے حصے پر چھت نہ ہو) میں لاد دیا۔‘ یہ بتاتے ہوئے حیدر علی کی آنکھوں میں خوف مزید گہرا اور زبان لڑکھڑانے لگی۔

یہی وہ وقت تھا جب حیدر علی اپنے جگری دوست ماجد گھمن سے جدا ہوا۔ مگر یہ دونوں گاڑیاں ایک ساتھ ‘ایران کی سرحد پار کرنے’ تربت کی جانب روانہ ہوئے۔
حیدر علی کے مطابق ان کی آنکھیں اور چہرہ ڈھانپ دیا گیا تھا اور انھیں کچھ پتہ نہ تھا کہ وہ کس علاقے میں ہیں۔ ‘اچانک ڈالا رکا اور یہ سمجھ آئی کہ شاید کوئی خرابی ہو گئی ہے، ڈرائیور اور دوسرے لوگ اس سے اتر گئے۔’ حیدر علی کہتے ہیں کہ دوسری گاڑی ان سے کچھ فاصلے پر تھی۔ ‘ایک دم شدید فائرنگ کی آواز آئی، یہ بہت قریب سے آ رہی تھی، ہم نے گاڑی سے چھلانگ لگائی اور بھاگنے لگ گئے، وہ رات کا وقت تھا اور میں نہیں جانتا کہ میں کس طرف بھاگ رہا تھا، اور باقی سب کہاں گئے، زندہ بھی تھے یا نہیں۔’

حیدر علی کے مطابق وہ رات بھر انجانی سمت میں بھاگتے رہے اور بالآخر چائے کے ایک کھوکھے پر پہنچے جہاں ایک پٹھان نے اس وقت ان کی مدد کی۔ ‘پٹھان ہمیں بس اڈے پر لایا اور گاڑی پر بٹھایا، میرے ساتھ گوجرخان کا ایک لڑکا تھا، ہم وہاں سے کوئٹہ آئے اور گھر اطلاع دی کہ ہم واپس آ رہے ہیں۔’ تب حیدر علی نہیں جانتے تھے کہ ان کے ساتھ بیرون ملک جانے والے دیگر افراد زندہ ہیں یا نہیں۔
دوسری جانب ماجد گھمن کے گھر سوگ کا عالم ہے۔ ان کے والد قیصر محمود گھر کے باہر خالی پلاٹ میں سر پکڑے بیٹھے تھے۔ ‘سوچا تھا یہ بیٹا ملک سے باہر جائے گا تو غربت بالآخر ختم ہو گی۔’

قیصر محمود گاؤں ہی میں کسی کے کھیتوں پر کام کرتے ہیں۔ ان کا ایک اور بیٹا دبئی میں ہے ‘جس کے پیسوں سے کچا گھر کھڑا کیا ہے۔’ 13 نومبر کے بعد ماجد گھمن کے ساتھ ان کے اہل خانہ کا جب دو روز تک رابطہ نہ ہوا تو انھوں نے ایجنٹ کو فون کیا۔ ماجد کی والدہ بتاتی ہیں کہ ‘ایجنٹ نے ہمیں یہ بتایا کہ ہمارے بچے پولیس نے گوادر میں گرفتار کر لیے ہیں اور ان کی رہائی کے لیے مزید رقم چاہیے۔’ ان کے مطابق ایجنٹ نے یہ نہیں بتایا کہ ان کے بچے ہلاک کر دیے گئے ہیں۔ یہ رابطہ 15 نومبر کو ہوا جب ان افراد کی لاشیں تربت سے مل چکی تھیں۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ایجنٹ غیر قانونی طور پر باہر لے جانے اور سنہرے مستقبل کا جھانسہ دے کر غریب گھروں کے ان بچوں کو موت کی وادی میں دھکیل دیتے ہیں۔ ‘یہ ایجنٹ شاید ان نوجوانوں کو کسی اور گروہ کو فروخت کرتے ہیں اور خرید و فروخت کا یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہتا ہے جب تک یہ افراد یورپ پہنچ جائیں یا پھر سرحد پار کرنے کی کوشش میں گرفتار کر لیے جائیں۔’ ان کے خیال میں ایجنٹ دیگر گروہوں سے قیمت وصول کرنے کے ساتھ ساتھ غریب اہل خانہ سے بھی مختلف بہانوں سے رقم بٹورتے رہتے ہیں۔

خیال رہے کہ پنجاب سے بڑی تعداد میں نوجوان روزگار کے مواقع نہ ہونے اور انتہائی غربت کی وجہ سے ملک سے باہر جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ یہاں غیرقانونی طور پر ملک سے باہر لے جانے والے ایجنٹ زیادہ تر لوگوں سے ‘ایڈوانس رقم لیتے ہیں جو ایک سے دو لاکھ کے درمیان ہوتی ہے۔’ تاہم بعض اوقات ایجنٹ وقتی طور پر نصف رقم لیتے ہیں اور باقی رقم یہ کہہ کر وصول کرتے ہیں کہ باہر جانے والے فرد گرفتار یا اغوا ہو گیا ہے، رہائی یا بازیابی کے لیے رقم درکار ہو گی۔’ مقامی انتظامیہ کے مطابق پنجاب کے صرف اِس ایک گاؤں کے 40 فیصد سے زائد نوجوان غیرقانونی طور پر دیگرممالک میں مقیم ہیں۔

زندہ واپس آنے والے حیدر علی کے مطابق وہ کل 30 لوگ تھے۔ جن میں سے 20 کی لاشیں سیکیورٹی فورسز کو دو مختلف علاقوں سے ملی ہیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق تربت کے اسسٹنٹ کمشنر ڈاکٹر جمیل احمد بلوچ کا کہنا ہے کہ 15 افراد کو قتل کرنے کے بعد ‘پانچ لڑکوں کو ممکنہ طور پر اغوا کیا گیا تھا جنھیں دو دن بعد مار دیا گیا۔‘ یہ ابھی تک واضح نہیں ہو سکا کہ ان ٹرالوں میں لدے باقی آٹھ افراد کہاں ہیں۔

فرحت جاوید
بی بی سی اردو، اسلام آباد
 

یورپ کا سفر کسے کیسے کھا گیا ؟ دلدوز داستانیں شائع

آنکھوں میں بہتر مستقبل کے خواب سجائے غیر قانونی طریقے سے یورپ جانے
والا مزید ایک پاکستانی راستے میں ہی ہلاک ہو گیا ہے۔ حالیہ کچھ عرصے کے دوران نوشہرہ ورکاں کے ایک ہی دیہات کا ہلاک ہونے والا یہ چھٹا نوجوان ہے۔
غیر قانونی طریقے سے یورپ پہنچنے کی کوشش میں ہلاک ہونے والا پچیس سالہ مشتاق احمد ڈیڑھ ماہ پہلے اپنے گھر سے نکلا تھا۔ مشتاق کے والدین کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق ان کا بیٹا اس وقت ہلاک ہوا، جب وہ ایک گاڑی پر سوار ایران کی سرحد عبور کرنے کی کوشش میں تھا۔ بتایا گیا ہے کہ سرحد پر سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے گاڑی کا ٹائر پھٹ گیا اور وہ حادثے کا شکار ہو گئی۔
مشتاق احمد کی میت گزشتہ روز ان کے گاؤں متہ ورکاں لائی گئی۔ متہ ورکاں میں حالیہ چند ماہ کے دوران یورپ جانے کی خواہش میں ہلاک ہونے والا یہ چھٹا نوجوان ہے۔ چند ماہ پہلے اسی گاؤں کے پانچ نوجوان ترکی سے غیرقانونی طور پر یونان جاتے ہلاک ہو گئے تھے۔

ہلاک ہونے والے مشتاق احمد کے سات بہن بھائی ہیں جبکہ ان کے والد پہلے ہی وفات پا چکے ہیں۔ آخر اس گاؤں کے نوجوان کیوں غیر قانونی طریقے سے یورپ جانا چاہتے ہیں؟ اس حوالے سے نوشہرہ ورکاں کے مقامی صحافی میاں عمران بشیر کا ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ آج سے پچیس تیس سال پہلے جو لوگ یورپ گئے، ان میں سے زیادہ تر یورپ کے اچھے معاشی حالات کی وجہ سے وہاں سیٹل ہو گئے تھے۔ اب ان لوگوں کی اور مقامی لوگوں کی مالی یا معاشی ترقی کی رفتار میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ آج کے نوجوان اپنے اردگرد کے ایسے ہی لوگوں کو دیکھ کر متاثر ہوتے ہیں اور ان جیسی پرآسائش زندگی کی تلاش میں یورپ جانا چاہتے ہیں۔ 

امیدوں کے سفر کی منزل، عمر بھر کے پچھتاوے
غیر قانونی طریقے سے یورپ جانا انتہائی پرخطر ہے لیکن دیہاتوں کے نوجوان اس کے باوجود ایسا کرنے سے باز نہیں آ رہے۔ آخر نوجوان اس طرح غیر قانونی طریقے سے ہی یورپ کیوں جا رہے ہیں؟ اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم کرتے ہوئے عمران بشیر نے بتایا، ’’ہمارے ہاں خاندان بڑے اور ذرائع آمدن کم ہیں۔ یورپ جانے کا سب سے سستا طریقہ ’ڈنکی‘ ہی ہے، جس میں تین لاکھ روپے میں بندہ یونان تک پہنچ جاتا ہے۔ غربت، تعلیم میں کمی اور معاشی مسائل کی وجہ سے نوجوان قانونی طریقے سے یورپ جانا افورڈ نہیں کر سکتے اور وہ ’ڈنکی‘ کا طریقہ ہی اپناتے ہیں۔ بیس سے تیس سال کی عمر تک کے نوجوان فطری طور پر ناسمجھدار، ایڈونچر پسند اور ڈر یا خوف سے عاری مزاج کے ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایجنٹوں کے دکھائے گئے مستقبل کے سہانے سپنے، ڈنکی کے دوران ایجنٹوں کی طرف سے آرام دہ اور مشکلات سے پاک سفر کی جھوٹی منظر نگاری، اس کے اہم اسباب ہیں۔‘‘

ایک ہی گاؤں میں چھ نوجوانوں کی ہلاکتوں کے باوجود اس گاؤں کے درجنوں نوجوان مستقبل میں بھی غیر قانونی طریقے سے یورپ جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ مقامی افراد ان تلخ تجربات سے کیوں کچھ سبق حاصل نہیں کر رہے اور سادہ لوح انسان کس طرح ایجنٹوں کی نرغے میں آ جاتے ہیں؟ عمران بشیر اس پر روشنی ڈالتے ہوئے کہتے ہیں، ’’نئے ایجنٹ ماضی میں نوجوانوں کی ہلاکتوں کو نا تجربہ کار ایجنٹوں کے کھاتے میں ڈال کر خود کو بڑا ایجنٹ ظاہر کرتے ہیں، نوجوانوں کو ہر قسم کی گارنٹی دینے کے لیے تیار ہوتے ہیں اور سادہ لوح دیہاتی ان پر آنکھیں بند کر کے یقین کر لیتے ہیں۔‘‘

گوجرانوالہ ڈویژن کے تقریبا ہر شہر اور تحصیل میں ایجنٹ اور ان کے سب ایجنٹ نوجوانوں کو غیر قانونی طریقے سے یورپ تک پہنچانے ( ڈنکی لگوانے) کا کاروبار کر رہے ہیں۔ نوشہر ورکاں کے مقامی صحافی الزام عائد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس کاروبار میں ایف آئی اے کے اہلکار بھی ملوث ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اتنی زیادہ قیمتی جانیں ضائع ہونے کے باوجود بھی اس پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
عمران بشیر کا انکشاف کرتے ہوئے کہنا تھا کہ نوشہرہ ورکاں ہی کے کئی دیہاتوں کے لوگوں نے ایران اور ترکی میں اپنے سیف ہاؤسز بنا رکھے ہیں اور اسی کام کے ذریعے وہ لاکھوں، کروڑوں روپے کما رہے ہیں، ’’سب ایجنٹ یہاں سے بندے تیار کر کے انہیں ایران تک پہنچاتے ہیں، اس کے بعد ایران میں بیٹھے انسانی اسمگلر ان نوجوانوں کو ترکی میں بیٹھے ایجنٹوں کے حوالے کر دیتے ہیں۔ اسی طرح یہ سلسلہ یونان تک چلتا ہے۔ ہر انسانی اسمگلر اپنے حصے کی رقم وصول کرکے نوجوانوں کو اگلے ایجنٹ کے ہاتھوں فروخت کر دیتا ہے۔‘‘

بشکریہ DW اردو

 

گڈانی جہاں روز قانون ٹوٹتے اور سمجھوتے ہوتے ہیں

گڈانی کے ساحل پر موجود تباہ حال ٹینکر پر کچھ مزدور سوار ہیں جو گیس بتی سے اس کو کاٹ رہے ہیں۔ ایک سال تک کنارے پر موجود اس تباہ حال آئل ٹینکر کی ایک سال کے بعد کٹائی ہو رہی ہے۔ گذشتہ سال گیس بتی سے ایسے ہی کٹائی کے دوران دھماکے سے آگ بھڑک اٹھی تھی، جس میں 25 زائد مزدور ہلاک ہو گئے تھے۔ اس حادثے کے بعد مزدوروں کی سلامتی اور تربیت کو یقینی بنانے کا وعدہ کیا گیا تھا یعنی ربڑ کے جوتوں، دستانوں، ہیلمٹ، اور ڈانگری لباس کی فراہمی، لیکن اس پر عمل درآمد محدود ہے۔ شپ بریکنگ ورکرز یونین کے سربراہ بشیر محمودانی کہتے ہیں کہ ‘کچھ یارڈز میں ہیلمٹ فراہم کیے گئے ہیں کسی کو ٹوپی پہنا کر آپ یہ نہیں کہہ سکتے ہیں کہ سکیورٹی فراہم کر دی گئی ہے، ہمارا مطالبہ رہا ہے کہ جب ایک مزدور کام کرنے آئے تو اس کو مکمل سکیورٹی ہونی چاہیے اگر رات کو کام ہو رہا ہے تو روشنی کا معقول انتظام کیا جائے۔’

گڈانی کا ساحل اس وجہ سے بھی شپ بریکنگ کے لیے سازگار ہے کیونکہ یہاں سمندر گہرا ہے اور جہاز کو کنارے تک لانے میں دشواری نہیں ہوتی۔ یہاں ساحل کو 300 سے زائد پلاٹس میں تقسیم کیا گیا ہے جن کے مالکان مقامی وڈیرے یا صوبائی حکومت ہے، موجودہ وقت یہاں پر 30 سے 40 کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔
گذشتہ ایک سال میں یہاں 70 کے قریب جہاز لائے گئے، جن میں کوئی آئل ٹینکر نہیں تھا، تاہم پھر بھی جہاز میں آگ لگنے کے واقعات پیش آئے، جس میں کم از کم سات مزدور ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔

سبز علی پچھلے دنوں ایک ایسے ہی حادثے میں زخمی ہو گئے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ وینچ مشین آپریٹر ہیں۔ کام کے دوران ایک انگلی مشین کے اندر چلی گئی اور کچل گئی جس کا علاج جاری ہے۔ ‘ڈاکٹر نے کہا ہے کہ اس میں راڈ لگے گی اور صحتیاب ہونے میں دو سے ڈھائی ماہ لگ سکتے ہیں۔’ مقامی مزدوروں نے ہمیں بتایا تھا کہ سبز علی کو زخمی حالت میں بھی کام کرنے کے لیے کہا گیا تھا لیکن سپروائزر کی موجودگی میں اس کا کہنا تھا کہ ‘سیٹھ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ علاج کرایا جائے گا اور دہاڑی بھی جاری رہے گی۔’ حادثات کے بعد یہاں ایمبولینس کی موجودگی کو یقینی بنایا گیا ہے، تاہم ہسپتال اور برن وارڈ کی تعمیر نہیں ہو سکی جن کا شپ بریکرز نے حکومت سے وعدہ کیا تھا۔ ہپستال کے لیے ایک مقامی شخص نے زمین عطیہ کی تھی، جس پر سنگ بنیاد بھی رکھا گیا تھا ۔  یہاں شپ بریکرز مزدورں کی خود بھرتی نہیں کرتے بلکہ یہ بھرتیاں ٹھیکیداروں کی مدد سے کی جاتی ہیں اور مزدوروں کو دہاڑی سے زیادہ کوئی مرعات نہیں ملتی۔ 

ضمیر حسین نامی مزدور نے بتایا کہ وہ سارا دن لوہا اٹھاتے ہیں۔ انھوں نے تیل سے آلودہ اپنی شلوار قمیص کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ‘کپڑے دیکھو، جوتے وغیرہ کمپنیاں نہیں دیتیں، کہتے ہیں اپنے لے کر آؤ۔ تنخواہ بھی وقت پر نہیں ملتی۔ ہمارے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں انھیں چھوڑ کر مزدوری کے لیے آتے ہیں، یہاں حالات ایسے ہیں کہ وقت پر تنخواہ تک نہیں دیتے۔’ شپ بریکنگ انڈسٹری میں گذشتہ سال کے حادثے کے بعد چار کے قریب یارڈز کو ماڈل کے طور پر بنایا گیا ہے، جن میں چوھدری غفور کا یارڈ بھی شامل ہے، جہاں پچھلے سال حادثہ پیش آیا تھا۔ ان یارڈز میں مزدوروں کو ہیلمٹ، دستانے، لانگ شوز اور ڈانگری پہنے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ آگ بجھانے والے آلے بھی داخلی راستے کے ساتھ موجود ہیں۔

مزدور رہنما بشیر محمودانی کا کہنا ہے کہ انسپیکشن کے لیے آنے والے افسران کو یہی یارڈز دکھائے جاتے ہیں۔ اس صنعت میں کام کرنے والے زیادہ تر مزدور جنوبی پنجاب اور خیبر پختون خوا کے علاقے اپر دیر سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایک وعدہ ان کے لیے کوارٹروں کی تعمیر کا بھی تھا۔ فی الوقت مزدوروں کی اکثریت لکڑی کے کیبنوں میں مقیم ہے جو جہاز کی ناکارہ لکڑی سے بنائے گئے ہیں۔
ایک مزدور محمد یاسین کا کہنا ہے کہ ‘کوارٹر میں گنجائش نہیں ہے۔ ایک جگہ میں درجنوں مزدور موجود ہوتے ہیں، کوئی ادھر تو کوئی ادھر کے چکر لگا رہا ہوتا ہے، کینٹین کا بھی انتظام نہیں، 12 رپے کی روٹی اور 70، 80 روپے کا سالن ہوتا ہے، مشکل سے 15 ہزار رپے کماتے ہیں جس میں سے پانچ سے چھ ہزار روٹی کا بل بن جاتا ہے۔’

گڈانی میں پینے کے میٹھے پانی کی سہولت دستیاب نہیں ہے۔ یارڈز میں مالکان پانی کے ٹینکر منگواتے ہیں جبکہ مزدورں کی رہائشی کالونی میں کنویں کھودے گئے ہیں جن کا پانی کھارا ہوتا ہے۔ شپ بریکنگ ورکرز یونین کے سربراہ بشیر محمودانی کا کہنا تھا کہ ‘حکومت نے جو کمیٹیاں بنائی تھیں اس میں مالکان نے کہا تھا کہ پینے کے پانی کی فراہمی یقینی بنائیں گے، ہسپتال اور رہائشی کوارٹر بنا کر دیں گے، لیکن ایک بھی وعدے پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ جبکہ ہمارا دیرینہ مطالبہ رہا ہے کہ پینے کے پانی کے لیے آر آو پلانٹ لگایا جائے، ہر پلاٹ میں کینٹین اور صاف ستھری رہائش کالونی ہو۔’

شپ بریکرز اونرز ایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین حاجی عبدالغفور میمن کیمرے پر آنا پسند نہیں کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ صورتحال کافی بہتر ہے، ہر ماہ مقامی ہسپتال کو ایک لاکھ تک کی دوائیں فراہم کی جا رہی ہیں، ہپستال بھی بنے گا اور مزدوروں کے بچوں کو اسکول میں داخلہ بھی دلایا جائے گا۔’ گڈانی حادثے کے بعد اس وقت کے وزیر اعظم میاں نواز شریف نے تحقیقات کے لیے وفاقی وزیر پورٹ اینڈ شپنگ کو تحقیقات کے لیے بھیجا تھا، ایک سال کے بعد وہ پیش رفت سے مطمئن ہیں۔

‘کمیشن کی سفارشات پر قانون سازی ہو رہی ہے، اس وقت یہ اسمبلی کے اندر پراسیس میں ہے کیونکہ اس سےقبل پاکستان میں شپ بریکنگ کا کوئی قانون موجود نہیں تھا، جو اب بنایا جا رہا ہے، جن لوگوں کی غفلت تھی ان کو سزا بھی ملی اور جو مارے گئے انھیں معاوضے کی ادائیگی بھی کر دی گئی تھی۔’ شپ بریکنگ انڈسٹری ماحولیات کے علاوہ انسانی صحت کے لیے بھی جان لیوا ہے، یہاں نگرانی کے لیے نصف محکمے اور درجنوں ملازم تعینات ہیں لیکن ہر روز قانون ٹوٹتے اور سمجھوتے ہوتے ہیں۔

ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، گڈانی
 

پاکستان میں تعلیمی اخراجات میں 153 فیصد اضافہ ہوا : رپورٹ

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایک عام طالب علم کے تعلیمی اخراجات میں 153 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ایس بی پی کے افراط زر کے نگراں ادارے نے گزشتہ ماہ ستمبر میں سالانہ بنیادوں پر ایک رپورٹ جاری کی جس کے مطابق کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) کی بنیاد پر مہنگائی میں رہائش کے کرایہ کے بعد تعلیم کا سب سے بڑا حصہ ہے۔ یاد رہے کہ رواں برس 18 اگست کو کراچی میں والدین نے اسکولوں کی فیس میں مسلسل اضافے کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ سندھ ہائی کورٹ نے ایک درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے کراچی کے تمام نجی اسکولوں کو پابند کیا تھا کہ وہ فیس کی مد میں 5 فیصد سے زائد اضافہ نہیں کریں گے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں کروڑوں بچے اسکول جانے کی اہلیت نہیں رکھتے کیونکہ ان کے والدین ان کے تعلیمی اخراجات پورا نہیں کر سکتے جبکہ ملک کے سرکاری اسکول ان بچوں کو بہتر تعلیم فراہم کرنے کے اہل نہیں۔ پاکستان میں بچوں کی تعلیم اس لیے بھی زیادہ مہنگی ہے کیونکہ ایک مڈل کلاس خاندان کی آمدنی کا بڑا حصہ نجی تعلیمی ادارے کی نظر ہو جاتا ہے۔ وزارت تعلیم اور پروفیشنل ایجوکیشن ٹریننگ کے ذیلی ادارے نیشنل ایجوکیشن منیجمینٹ انفارمیشن سسٹم (این ای ایم آئی ایس) نے 2016 – 2015 میں پاکستان ایجوکیشن شماریات رپورٹ جاری کی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ اسکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد میں کمی ہوئی۔

تاہم اسکولوں کا رخ نہ کرنے والے بچوں کی ایک کثیر تعداد موجود ہے اور ایسا لگتا ہے کہ ایک پوری نسل ناخواندہ ہے جبکہ حکومت بھی بچوں کی تعلیم پر توجہ نہیں دے رہی۔ نجی تعلیمی ادارے تو فیس کی مد میں والدین سے پیسے لے ہی رہے ہیں لیکن ان کی کمر بچوں کی مہنگی کتابوں، کاپیوں اور اسٹیشنری کا سامان توڑ دیتی ہے اور یہی اسکولوں میں تعلیم کو مہنگا کرنے کی ایک اور وجہ ہے۔ ایس بی پی کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس سال ستمبر میں تعلیم کے حوالے سے مہنگائی 153 فیصد رہی جو ہزاروں کی تعداد میں بچوں کو اسکول چھوڑنے پر مجبور کر سکتی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ملک میں اسکول نہ جانے والے بچوں میں سے 44 فیصد کی عمریں 5 سے 16 برس کے درمیان ہیں۔ خیال رہے کہ ملک میں سرکاری تعلیمی اداروں کی اسکولوں کی حالت انتہائی خراب ہے اس لیے یہ ممکن نہیں ہو سکتا کہ جو بچہ نجی اسکول میں تعلیم کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتا وہ سرکاری اسکول میں تعلیم حاصل کر لے۔

شاہد اقبال 

یہ خبر 22 اکتوبر 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی.
 

بلوچستان : باون فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور

بلوچستان میں 52 فیصد سے زیادہ آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے لیکن بدقسمتی سے صوبائی حکومت کے پاس اس کے حل کے لیے کوئی جامع منصوبہ نہیں ہے۔ غربت کے حوالے سے کیے گئے ایک سروے کے مطابق ملک میں فاٹا کے بعد سب سے زیادہ غربت بلوچستان میں ہے جہاں 52 فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں ۔ کئی حکومتیں آئیں اور چلی گئیں مگر صوبے میں غربت کی شرح کم ہونے کے بجائے بڑھتی ہی چلی گئی۔

ستر سال سے کسی نے بھی غربت کے خاتمے اور غربت مٹانے کیلئے اقدامات نہیں کئے ۔ بلوچستان میں غربت کی سب سے بڑی وجہ بے روزگاری اور تعلیم کی کمی ہے، سرکاری ونجی ملازمتیں نہ ہونے کی وجہ سے بے روزگار نوجوانوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ حکومت کے پاس غربت کے خاتمے کے لیے دلاسوں کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جہاں غربت زیادہ ہوتی ہے وہاں جرائم جنم لیتے ہیں ، صوبے کو بےامنی اور جرائم کی دلدل سے نکالنے کا واحد حل غربت کا خاتمہ ہے ۔

 

زندگی کب تک خریدی اور فروخت کی جائے گی؟

پاکستان میں گردوں کی غیر قانونی پیوند کاری کے واقعات عام سننے میں آتے

ہیں۔ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ وہ کیا سماجی عوامل ہیں جن کے سبب لوگ اپنے جسم کا قیمتی عضو بیچنے پر تیار ہو جاتے ہیں۔ میڈیکل سنٹر کے کمرے میں داخل ہوتے ہی میری نظر دیوار سے لگے بیڈ پر بیٹھی چالیس سال کے لگ بھگ ایک خاتون پر پڑی جن کے چہرے پر کمزوری اور پریشانی دونوں کی آمیزش تھی۔ جوں ہی میں نے اپنا تعارف میڈیا کے نمائندے کے طور پر کروایا تو وہ ایک دم بولیں،’’ پلیز میری تصویر مت بنائیے گا۔ میری بچیوں کا مستقبل تباہ ہو جائے گا۔‘‘ میں نے آہستہ سے اُن کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا،’’ آپ پریشان نہ ہوں، اگر آپ نہیں چاہیں گی تو میں آپ سے کوئی بات نہیں کروں گی۔ تسلی رکھیں کوئی کام آپ کی مرضی کے خلاف نہیں ہو گا۔‘‘

خاتون نے تشکر بھرے لہجے میں کہا کہ ایک بیوہ اور تین بچیوں کی ماں کے لئے اس کی سب سے بڑی دولت اس کی عزت ہی ہوتی ہے اور یہ کہ اگر اُن کی تصویر اس معاملے میں اخبار میں چھپی تو بہت برا ہو گا۔ میری یقین دہانی پر خاتون کا اعتماد بحال ہوا اور اُنہوں نے اپنی کہانی بیان کرنا شروع کی لیکن اس وعدے کے ساتھ کہ میں اُن کا اصل نام اور پتہ نہیں لکھوں گی ۔ پتہ چلا کہ تین بیٹیوں کی یہ بیوہ ماں کئی سالوں سے گردوں کی خرابی کے مرض میں مبتلا تھیں۔ بہت علاج کروایا لیکن مرض بگڑتا ہی چلا گیا۔ آخر ایک ماہ قبل ڈاکٹر نے انہیں گردے کی پیوند کاری کا مشورہ دے دیا۔ یہ خاتون اسی کشمکش میں تھیں کہ ایک روز ہسپتال کے وارڈ بوائے نے انہیں مسئلے کے حل کی ترکیب بتاتے ہوئے سترہ لاکھ روپوں کا بندو بست کرنے کو بھی کہا۔ اس پر بچیوں نے باپ کی طرف سے ماضی میں خریدے گئے پلاٹ کو بیچنے کا مشورہ دیا کیونکہ اُن کے نزدیک ماں کی زندگی زمین سے زیادہ قیمتی تھی۔

غرض یہ کہ زمین بیچی، وارڈ بوائے کے ذریعے رقم ڈاکٹر کو جمع کرائی گئی اور مذکورہ خاتون نوشہرہ کے علاقے پبّی کے دُعا میڈیکل سنٹر میں علاج کے لئے داخل ہو گئیں۔ آپریشن اگلے روز کرنا طے پایا لیکن آپریشن سے قبل ہی ایف آئی اے اور پبی پولیس کے مشترکہ چھاپے میں آپریشن کرنے والی ٹیم کو گرفتار کر لیا گیا۔ اس ٹیم میں سرجن سمیت نو افراد شامل تھے۔ گرفتاری کی وجہ گردے کی غیر قانونی پیوند کاری بتائی گئی۔ اب وہ بیوہ خاتون اور اُن کی بیٹی پریشان تھیں کہ اتنی بڑی رقم بھی ہاتھ سے گئی اور علاج بھی نہ ہو سکا۔ اس پر مستزاد یہ کہ کلینک کا مالک طیب فرار ہو چکا تھا۔ ان ماں بیٹی کے ساتھ ساتھ گردہ فروخت کرنے والا عباس بھی پریشان تھا کہ آخر اس کو ملنے والے اُن دو لاکھ روپوں کا کیا ہو گا جن کی امید پر وہ پنجاب سے خیبر پختونخوا آیا تھا۔

ماں بیٹی اور عباس کی پریشانی کا قصہ سننے کے بعد جب میں وارڈ کی طرف گئی تو ننکانہ صاحب کے رہائشی بابر کا قصہ اور بھی پریشان کن تھا۔ بابر وہ نوجوان تھا جس کا رات کے پچھلے پہر گردہ نکال کر افغانستان کے سمیع اللہ کو لگایا جا رہا تھا۔ لیکن عین آپریشن کے دوران ہی چھاپہ پڑ گیا۔ بابر نے گفتگو کے دوران بتایا کہ اُس پر لوگوں کا بہت قرض واجب الادا تھا جسے اتارنے کے لیے اُس نے گردہ بیچنے کا فیصلہ کیا۔ بابر اور عباس کی ایک ہی جیسی کہانی تھی بس چہرے اور نام مختلف تھے۔ لیکن اس سارے معاملے میں سب سے اہم وہ کردار تھے جو قصوروار ہوتے ہوئے بھی اس سارے کھیل سے فی الحال باہر تھے۔ بیوہ خاتون جس شخص کو وارڈ بوائے کہہ کر بلا رہی تھی، عباس اسے ڈاکٹر ظفر کہہ کر تو بابر، احمد علی کے نام سے پکار رہا تھا۔

تاہم یہ پتہ لگانا کہ اصل مجرم کون ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے۔ فی الحال پبی کے اس میڈیکل سنٹر کو سِیل کر کے مریضوں کو پشاور کے حیات آباد کڈنی سنٹر منتقل کر دیا گیا ہے۔ 

صحافی فرزانہ علی

بشکریہ DW اردو