کيا پاکستان سے يورپ کی طرف غير قانونی ہجرت ختم ہو پائے گی ؟

پاکستانی وکيل ضياء اعوان کا کہنا ہے کہ بہتر مستقبل کی تلاش میں پاکستان سے يورپ کی طرف غير قانونی مہاجرت دہائيوں پرانا سلسلہ ہے جو آئندہ بھی جاری رہے گا۔ وہ اس مسئلے کا حل ہجرت کے قانونی راستوں کی دستيابی ميں ديکھتے ہيں۔ پاکستانی صوبہ بلوچستان کے علاقے تربت سے حال ہی ميں بيس افراد کی لاشيں مليں جنہيں گولياں مار کر ہلاک کيا گيا تھا۔ ابتدائی تفتيش کے بعد پتہ چلا کہ يہ سب افراد پاکستانی صوبہ پنجاب کے مختلف حصوں تعلق رکھتے تھے اور روزگار کی خاطر انسانوں کے اسمگلروں کے سہارے غير قانونی طور پر يورپ کی جانب روانہ تھے۔ حکام کے مطابق يہ تمام تارکين وطن مبینہ طور پر بلوچ علیحدگی پسندوں کے ہاتھوں مارے گئے۔ بعد ازاں پاکستانی وفاقی تفتيشی ادارے ايف آئی اے کے حکام نے متعلقہ اسمگلروں کو بھی گرفتار کر ليا۔ ليکن کيا يہ کہانی يہيں ختم ہو گئی؟

پاکستان سے يورپ کی طرف غير قانونی ہجرت کوئی نيا مسئلہ نہيں۔ يہ سلسلہ 1960ء کی دہائی سے ہی چلا آ رہا ہے، جب دوسری عالمی جنگ کے بعد ترقياتی کاموں اور صنعتوں کی بحالی کے ليے يورپ کے متعدد ممالک کو مزدور درکار تھے اور اميگريشن سے متعلق پاليسياں بھی مقابلتاً نرم تھيں۔ وسطی پنجاب ميں آج کئی ايسے علاقے ہيں، جنہيں ’منی يورپ‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ منڈی بہاالدين، کھارياں، گوجرانوالہ، گجرات اور ديگر کئی علاقوں ميں کئی خاندانوں سے کا ايک نہ ايک شخص بيرون ملک مقيم ہے اور موجودہ نسليں بھی اسی تگ و دو ميں لگی ہوئی ہيں۔ تاہم پچھلے چند ايک سالوں سے يورپ کو مہاجرين کے بحران کا سامنا ہے اور ايسے ميں نہ صرف پناہ سے متعلق یورپی پاليسياں کافی سخت ہو گئی ہيں بلکہ ہجرت کے راستے اور طريقہ ہائے کار بھی زيادہ خطرناک ہو گئے ہيں۔

پاکستانی فيڈرل انويسٹيگيشن ايجنسی کے اعداد و شمار کے مطابق اس سال اب تک انسانوں کے قريب چار سو اسمگلروں کو پکڑا جا چکا ہے جبکہ پچھلے سال لگ بھگ دو ہزار ايسے ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی تھی۔ ايف آئی اے کا موقف ہے کہ تربت ميں پيش آنے والا واقعہ ’دہشت گردی‘ کے زمرے ميں آتا ہے ليکن اگر انسانوں کے اسمگلر اپنی آنکھوں ميں يورپ پہنچنے کے خواب سجائے نوجوانوں کو پر خطر راستوں سے نہ لے کر جاتے، تو کيا يہ سانحہ پيش آتا؟

انسانوں کی اسمگلنگ سے متعلق امور پر مہارت رکھنے والے پاکستانی وکيل ضياء اعوان کے بقول ويسے تو غير قانونی ہجرت کے دوران ہولناک انجام کی کہانياں کئی ہيں ليکن اس طرح دہشت گردی کا واقعہ شاید شاذ و نادر ہی پيش آيا ہو۔ ڈی ڈبليو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’يہ ايک پريشان کن بات تھی کہ اسمگلروں نے نوجوانوں کو ايسے مقامات تک پہنچايا، جہاں دہشت گرد تھے اور انہوں نے ان تارکین وطن کو نشانہ بنايا۔‘‘ وکيل ضياء اعوان نے بتايا کہ ’ان راستوں سے ہجرت سالہا سال سے جاری ہے اور پاکستان ميں غربت، بے روزگاری، آبادی ميں اضافے، حکومت کی طرف سے قيادت کے فقدان، غير محفوظ سرحدوں اور عدم مساوات اور اسی طرز کے ديگر اسباب کی بناء پر آئندہ بھی جاری رہے گی‘۔

پاکستانی وکيل کے مطابق زمينی راستوں سے غير قانونی ہجرت کے خاتمے کے ليے ايک باقاعدہ فورس درکار ہے، جو صرف حکومت پاکستان تنہا نہيں کر سکتی۔ ’’اس کے ليے خطے کے ديگر ملکوں کو ساتھ مل کر کام کرنا ہو گا۔‘‘ اس معاملے کا ايک اور رخ يہ بھی ہے کہ ’يہ مانگ اور ترسيل کا معاملہ ہے‘۔ اعوان کے بقول يورپ ميں لوگوں کی بڑھتی ہوئی عمروں کے سبب طلب آج بھی بہت ہے ليکن آج ترجيح کسی اور ملک کو دی جاتی ہے اور کل کسی اور ملک کو دی جائے گی۔ ان کا مزيد کہنا تھا، ’’يورپ خود ايک سياسی ايجنڈے پر کام کر رہا ہے۔ اسی ضمن ميں شامی، افغان اور ديگر ملکوں کی شہريت کے حامل لوگوں کو وہاں پناہ دی گئی۔ ظاہر ہے ايسے ميں ديگر ملکوں کے لوگ بھی قسمت آزماتے ہيں کيونکہ اس طرح ہجرت کے راستے تو کبھی بند نہيں ہوتے۔‘‘

ضياء اعوان کے مطابق ہيومن ٹريفکنگ يا اسمگلنگ کے مسائل پر قابو پانے کے ليے کئی سطحوں پر اقدامات کی ضرورت ہے۔ ’’اس کے ليے ملک ميں قيادت، معاشی ترقی، آبادی ميں اضافے پر کنٹرول، کئی ملکوں کی ايک مشترکہ ٹاسک فورس کا قيام اور ديگر اقدامات شامل ہيں۔‘‘ ضیا اعوان کا مزید کہنا تھا کہ ’لوگ ہميشہ خوشحالی اور ترقی کی سمت ميں جاتے رہيں گے اور اگر انہيں قانونی راستے فراہم نہ کيے گئے تو اس طرز سے غير قانونی ہجرت کو روکنا نا ممکن سی بات ہے‘۔

بشکریہ DW اردو

Advertisements

ترکی : یورپ جانے والے زنجیروں سے جکڑے پاکستانیوں کو بازیاب کرا لیا

ترکی میں پولیس نے غیر قانونی طور پر یورپ جانے والے زنجیروں سے جکڑے پاکستانیوں کو بازیاب کرا لیا۔ ترک روزنامہ “حریت” کے مطابق مقامی پولیس نے استنبول میں خفیہ اطلاعات پر کارروائی کرتے ہوئے چھاپوں کے دوران  پاکستانی یرغمالیوں کو بازیاب کرایا ہے جنہیں انسانی اسمگلروں نے ایک عمارت کے تہہ خانے میں قید کیا ہوا تھا۔ ان افراد کو 10 ہزار ڈالرز کے عوض یورپ پہنچانے کا جھانسہ دے کر ترکی لایا گیا تھا اور انہیں کہا گیا تھا کہ وہ یہ رقم یورپ پہنچنے کے بعد ادا کریں۔ مقامی پولیس کے مطابق کارروائیوں میں تین پاکستانی اسمگلروں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جن پر تارکین وطن کو گمراہ کرنے کے الزامات ہیں۔

چند ماہ قبل ترکی سے متعدد پاکستانی شہری پہلے بھی بازیاب ہو چکے ہیں۔ انسانی اسمگلروں نے انہیں اغوا کر کے بدترین تشدد کا نشانہ بنا کر ویڈیو پاکستان بھیجی تھیں۔ پاکستانی حکام کی درخواست پر ترک پولیس نے انہیں کارروائیاں کرتے ہوئے متعدد پاکستانیوں کو بازیاب کرایا تھا۔ خیال رہے کہ یورپ جانے کے خواہش مند پاکستانی شہری بلوچستان سے ایران، وہاں سے ترکی پہنچ کر یورپ جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ گزشتہ چند برس میں ہزاروں شامی، عراقی، پاکستانی اور افغانی شہری غیر قانونی طریقوں سے یورپ پہنچ چکے ہیں۔ چند روز قبل ہی بلوچستان میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے 20 افراد کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔ یہ تمام افراد انسانی اسمگلروں کو رقم دے کر براستہ ایران، ترکی یورپ جانے کے خواہش مند تھے۔

سوچا تھا بیٹا ملک سے باہر جائے گا تو غربت ختم ہو گی

سیالکوٹ کے گاؤں جیٹھیکے پہنچی تو ایک مقامی شخص سے پوچھا کہ اسلم کا مکان کون سا ہے جن کا بیٹا بلوچستان کے واقعے میں محفوظ واپس لوٹا ہے؟
اس پر ادھیڑ عمر شخص نے جواب میں پوچھا کہ ’وہ کمہار کا گھر؟‘ اور پھر جواب کا انتظار کیے بغیر کہا: ’تھوڑا آگے جائیں، ایک کھمبے کے پاس دائیں کو مڑ جائیں اور کسی سے پوچھ لیں تو وہ بتا دے گا۔‘ کمہار چند دہائیاں پہلے تک قِسم قِسم کے برتن بنانے کے فن میں مہارت سے پہچانے جاتے تھے، مگر پھرمٹی کے برتنوں کی جگہ المونیم اور سٹیل نے لے لی تو کوزہ گری کا یہ فن بھی ماضی کا قصہ بن گیا۔

تنگ سی گلی میں داخل ہوں تو پہلے اسلم کمہار کا کرائے کا مکان ہے جہاں آج عید کی سی خوشیاں منائی جا رہی ہیں۔ اسی مکان سے کچھ فاصلے پر قیصر محمود کا کچی اینٹوں کا مکان بالکل الگ احساس دے رہا ہے۔ یہاں کی فضا سوگوار ہے۔ دونوں گھروں میں فاصلہ زیادہ نہیں لیکن خوشی اور غمی مختلف انتہاؤں پر دکھائی دے رہے ہیں۔ بلوچستان میں تربت کے قریب گذشتہ ہفتے پیش آنے والے وہ دو واقعات جن میں پنجاب کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے 20 افراد ہلاک ہو گئے تھے، ان کے تانے بانے انھی غربت کے مارے علاقوں سے ملتے ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں قیصر محمود کا 17 سالہ بیٹا ماجد گھمن شامل ہے، اور بچ جانے والوں میں اسلم کا 16 سالہ بیٹا حیدر علی ہے جو آج ہی گھر لوٹا ہے۔ ماجد گھمن اور حیدر علی سمیت اس گاؤں کے تین لڑکے اُس قافلے کا حصہ تھے جسے حکام کے مطابق مبینہ طور پر ‘بلوچ علیحدگی پسندوں نے نشانہ بنایا۔’ یہ تمام افراد روز گار کی تلاش میں کچھ ایجنٹوں کے ذریعے غیر قانونی طور پر ترکی اور یونان جا رہے تھے اور انھیں پہلے مرحلے میں بلوچستان کے راستے ایران میں داخل ہونا تھا۔ اس مقصد کے لیے صوبے کے انتہائی غیر محفوظ علاقے کا انتخاب کیا گیا۔

حیدر علی معجزانہ طور پر بچ گئے۔ اوپر تلے کئی قمیضیں پہنے حیدر علی کی آواز بات کرتے ہوئے کپکپا رہی تھی۔ حیدر علی کے مطابق انھیں بیرون ملک پہنچانے کے وعدے کرنے والا ایجنٹ اس سفر کے دوران کہیں بھی ان کے ساتھ نہیں تھا۔ کوئٹہ پہنچنے پر بعض نقاب پوش افراد نے انھیں اپنے ساتھ لیا اور پنجگور آ گئے۔ پنجگورمیں انھیں کسی دوسرے نقاب پوش گروہ کے حوالے کیا گیا۔ یہاں 15 نوجوانوں پر مشتمل ایک اور قافلہ پہلے سے موجود تھا۔ ‘ہمارے چہروں پر کپڑا چڑھا دیا گیا، سامان اور موبائل فون لے لیا، مارتے پیٹتے ہم سب کو آپس میں مکس کر دیا گیا اور 15، 15 افراد کے دو قافلے تیار کر کے دو ڈالوں (ایسی بڑی گاڑی جس کی پچھلے حصے پر چھت نہ ہو) میں لاد دیا۔‘ یہ بتاتے ہوئے حیدر علی کی آنکھوں میں خوف مزید گہرا اور زبان لڑکھڑانے لگی۔

یہی وہ وقت تھا جب حیدر علی اپنے جگری دوست ماجد گھمن سے جدا ہوا۔ مگر یہ دونوں گاڑیاں ایک ساتھ ‘ایران کی سرحد پار کرنے’ تربت کی جانب روانہ ہوئے۔
حیدر علی کے مطابق ان کی آنکھیں اور چہرہ ڈھانپ دیا گیا تھا اور انھیں کچھ پتہ نہ تھا کہ وہ کس علاقے میں ہیں۔ ‘اچانک ڈالا رکا اور یہ سمجھ آئی کہ شاید کوئی خرابی ہو گئی ہے، ڈرائیور اور دوسرے لوگ اس سے اتر گئے۔’ حیدر علی کہتے ہیں کہ دوسری گاڑی ان سے کچھ فاصلے پر تھی۔ ‘ایک دم شدید فائرنگ کی آواز آئی، یہ بہت قریب سے آ رہی تھی، ہم نے گاڑی سے چھلانگ لگائی اور بھاگنے لگ گئے، وہ رات کا وقت تھا اور میں نہیں جانتا کہ میں کس طرف بھاگ رہا تھا، اور باقی سب کہاں گئے، زندہ بھی تھے یا نہیں۔’

حیدر علی کے مطابق وہ رات بھر انجانی سمت میں بھاگتے رہے اور بالآخر چائے کے ایک کھوکھے پر پہنچے جہاں ایک پٹھان نے اس وقت ان کی مدد کی۔ ‘پٹھان ہمیں بس اڈے پر لایا اور گاڑی پر بٹھایا، میرے ساتھ گوجرخان کا ایک لڑکا تھا، ہم وہاں سے کوئٹہ آئے اور گھر اطلاع دی کہ ہم واپس آ رہے ہیں۔’ تب حیدر علی نہیں جانتے تھے کہ ان کے ساتھ بیرون ملک جانے والے دیگر افراد زندہ ہیں یا نہیں۔
دوسری جانب ماجد گھمن کے گھر سوگ کا عالم ہے۔ ان کے والد قیصر محمود گھر کے باہر خالی پلاٹ میں سر پکڑے بیٹھے تھے۔ ‘سوچا تھا یہ بیٹا ملک سے باہر جائے گا تو غربت بالآخر ختم ہو گی۔’

قیصر محمود گاؤں ہی میں کسی کے کھیتوں پر کام کرتے ہیں۔ ان کا ایک اور بیٹا دبئی میں ہے ‘جس کے پیسوں سے کچا گھر کھڑا کیا ہے۔’ 13 نومبر کے بعد ماجد گھمن کے ساتھ ان کے اہل خانہ کا جب دو روز تک رابطہ نہ ہوا تو انھوں نے ایجنٹ کو فون کیا۔ ماجد کی والدہ بتاتی ہیں کہ ‘ایجنٹ نے ہمیں یہ بتایا کہ ہمارے بچے پولیس نے گوادر میں گرفتار کر لیے ہیں اور ان کی رہائی کے لیے مزید رقم چاہیے۔’ ان کے مطابق ایجنٹ نے یہ نہیں بتایا کہ ان کے بچے ہلاک کر دیے گئے ہیں۔ یہ رابطہ 15 نومبر کو ہوا جب ان افراد کی لاشیں تربت سے مل چکی تھیں۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ایجنٹ غیر قانونی طور پر باہر لے جانے اور سنہرے مستقبل کا جھانسہ دے کر غریب گھروں کے ان بچوں کو موت کی وادی میں دھکیل دیتے ہیں۔ ‘یہ ایجنٹ شاید ان نوجوانوں کو کسی اور گروہ کو فروخت کرتے ہیں اور خرید و فروخت کا یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہتا ہے جب تک یہ افراد یورپ پہنچ جائیں یا پھر سرحد پار کرنے کی کوشش میں گرفتار کر لیے جائیں۔’ ان کے خیال میں ایجنٹ دیگر گروہوں سے قیمت وصول کرنے کے ساتھ ساتھ غریب اہل خانہ سے بھی مختلف بہانوں سے رقم بٹورتے رہتے ہیں۔

خیال رہے کہ پنجاب سے بڑی تعداد میں نوجوان روزگار کے مواقع نہ ہونے اور انتہائی غربت کی وجہ سے ملک سے باہر جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ یہاں غیرقانونی طور پر ملک سے باہر لے جانے والے ایجنٹ زیادہ تر لوگوں سے ‘ایڈوانس رقم لیتے ہیں جو ایک سے دو لاکھ کے درمیان ہوتی ہے۔’ تاہم بعض اوقات ایجنٹ وقتی طور پر نصف رقم لیتے ہیں اور باقی رقم یہ کہہ کر وصول کرتے ہیں کہ باہر جانے والے فرد گرفتار یا اغوا ہو گیا ہے، رہائی یا بازیابی کے لیے رقم درکار ہو گی۔’ مقامی انتظامیہ کے مطابق پنجاب کے صرف اِس ایک گاؤں کے 40 فیصد سے زائد نوجوان غیرقانونی طور پر دیگرممالک میں مقیم ہیں۔

زندہ واپس آنے والے حیدر علی کے مطابق وہ کل 30 لوگ تھے۔ جن میں سے 20 کی لاشیں سیکیورٹی فورسز کو دو مختلف علاقوں سے ملی ہیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق تربت کے اسسٹنٹ کمشنر ڈاکٹر جمیل احمد بلوچ کا کہنا ہے کہ 15 افراد کو قتل کرنے کے بعد ‘پانچ لڑکوں کو ممکنہ طور پر اغوا کیا گیا تھا جنھیں دو دن بعد مار دیا گیا۔‘ یہ ابھی تک واضح نہیں ہو سکا کہ ان ٹرالوں میں لدے باقی آٹھ افراد کہاں ہیں۔

فرحت جاوید
بی بی سی اردو، اسلام آباد

پاکستان میں چائلڈ لیبر کی سب سے بڑی وجہ غربت ہے

پاکستان میں اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے محنت (آئی ایل او) کے نمائندے ظہیر عارف کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بچوں سے محنت و مشقت سے متعلق 21 سال پرانے اعدادوشمار دستیاب ہیں جن میں گھروں میں کام کرنے والے بچوں سمیت بدترین اقسام کی چائلڈ لیبر شامل نہیں ہیں۔ غیر رسمی شعبوں میں بچوں سے کروائی جانے والی محنت مشقت پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئےانھوں نے بتایا کہ ‘ہم سب جانتے ہیں کہ گھروں میں بچوں کی ایک بڑی تعداد ڈومیسٹک ورکرز کے طور پر کام کرتی ہے، اس کے علاوہ چوڑیاں بنانے کے کام سے لے کر سرجیکل آلات، کھیلوں کے سامان اور گہرے پانیوں میں ماہی گیری جیسے خطرناک پیشوں کی ایک پوری فہرست ہے جو ‘ورسٹ فارم آف چائلڈ لیبر’ یا بچوں سے مزدوری کی بدترین اقسام میں آتے ہیں لیکن اس کے بارے میں کوئی اعدادوشمار نہیں ہیں۔’

واضح رہے کہ پاکستان کے ادارہ برائے شماریات نے بچوں سے محنت مشقت کےاعدادوشمار آخری بار ایک سروے کے ذریعے سنہ 1996 میں جمع کیے تھے جس کے مطابق ملک میں 33 لاکھ بچہ مزدور تھے۔ آئی ایل او کے کنونشن فار ورسٹ فارم آف چائلڈ لیبر پر پاکستان نے سنہ 2001 میں دستخط کیے تاہم اب تک اس بارے میں کوئی اعداد وشمار اکھٹے نہیں کیے جا سکے ہیں۔ انھوں نے کہا: ‘تعلیم و آگہی نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو اندازہ نہیں ہوتا ہے کہ بچے کے ساتھ کیا کیا ہو سکتا ہے۔ وہ ٹریفکنگ میں آ سکتا ہے، دہشت گرد کاروائیوں میں استعمال ہو سکتا ہے۔ خطرناک پیشوں میں کام کرنے کی وجہ سےاس کی جان جا سکتی ہے۔’

ظہیر عارف نے تشویش ظاہر کی کہ اعدادوشمار اکھٹے نہ کرنے کی جانب حکومتوں کی عدم توجہی کی وجہ سے اس بنیادی مسئلے کو جڑ سے ختم کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ‘شاید یہ حکومت کی ترحیجات میں شامل نہیں ہے۔ کسی مسئلےسے نمٹے کے لیے پہلے تو ہمیں یہ پتا ہو کہ ہمارے ہاں کس حد تک چائلڈ لیبر ہے۔’ آئین میں 18 ویں ترمیم کے بعد صوبوں نے چائلڈ لیبر سے متعلق قانون سازی تو کی ہے لیکن اس پر سختی سے عمل درآمد کرانے کے ایک مربوط میکینزم بنانے کی ضرورت ہے۔ صوبوں کےمحکمہ لیبر کی استعداد بڑھانے پر زور دیتے ہوئے ظہیرعارف نےکہا کہ ‘محکمہ لیبر کے پاس انسپکٹرز موجود ہیں لیکن انھیں اتنی آگہی نہیں ہے جتنی کہ ضرورت ہے۔ (آئی ایل او) اس سلسلے میں ان کی تربیت کرتا ہے۔’

بچہ مزدوری کی وجوہات پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستان سمیت تمام ترقی پذیر ممالک میں یہ بات قابل قبول ہے کہ بچوں سے کام کرایا جائِے۔ ‘سب سے بڑی وجہ غربت ہے۔ یہ ایک شیطانی چکر ہوتا ہے جس سے نکلنا بہت مشکل ہے۔ بچوں کو کام پر اس لیے رکھا جاتا ہے کہ ایک بالغ آدمی کو انھیں پوری مزدوری دینا پڑے گی جبکہ بچہ سستے میں یا مفت میں کام کر دے گا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ بچہ ایک نوجوان کی نسبت زیادہ دیر تک اور زیادہ انرجی کے ساتھ کام کرتا ہے جس سے زیادہ سے زیادہ کام لیا جا سکتا ہے۔’

بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں آئی ایل او کا کیا لائحہ عمل ہوتا ہے؟ اس پران کا مؤقف تھا کہ’عام طور پر حکومتیں جن کنونشنز پر دستخط کرتی ہیں ان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ ان پر پوری طرح سےعمل کریں۔ خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ حکومت کو مطلع کیا جاتا ہے اور ادارہ میکینزم بنانے میں ان کی مدد کرتا ہے۔’ انھوں نے سیالکوٹ میں سرجیکل آلات کی صنعت میں کسی حد تک بچہ مزدوری کنٹرول کرنے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ’ ہم نےسیالکوٹ چیمبرآف کامرس، ایمپلائیز ایسوسی ایشنز، ٹریڈ یونینزاور ورکرز فیڈریشن کےساتھ مل کرکام کیا تا کہ آجر اور مزدور دونوں کی یونین کے نمائندگان کو آگاہی دی جا سکے۔’

شمائلہ خان

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان میں کم سِن گھریلوں ملازمین تشدد کا شکار کیوں بنتے ہیں؟

ماں باپ کا سہارا بننے کے لیے گھر سے نکلنے والی رضیہ تین مہینے بعد گھر لوٹی تو لہولہان تھی۔ فیصل آباد میں گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی رضیہ کا ایک ہی قصور تھا: روٹی جلنا۔ رضیہ ان ہزاروں پاکستانی بچوں میں شامل ہے جو غربت کے باعث لوگوں کے گھروں میں کام کرنے پر مجبور ہیں، کبھی قرضہ اتارنے کے لیے تو کبھی گھر کے معاشی حالات سدھارنے کے لیے۔ رضیہ کا تعلق فیصل آباد کے گاؤں بچیانہ سے ہے اور وہ فیصل آباد کے ایک متمول گھرانے میں ملازم تھیں۔ رضیہ نے خود پر ہونے والے تشدد کے بارے میں بتایا۔

‘میں روٹی بنانے گئی تو روٹی جل گئی۔ مالکن نے بہت مارا۔ میں ڈر کر چھت پر چھپنے کے لیے بھاگی۔ لیکن وہ مجھے چھت سے کھینچتے ہوئے نیچے لے آئی۔ پھر شیشے کی بوتل میرے سر پر دے ماری۔ دوسری بار مارنے لگی تو میں نے ہاتھ آگے کر دیا۔ میرے ہاتھ پر لگی اور میں بری طرح زخمی ہو گئی۔ لیکن وہ نہیں رکی، اس کے بعد اس نے مجھے چھری ماری۔’ پاکستان میں نابالغ بچوں کو گھروں میں ملازم رکھنا عام ہے۔ مگر ان کم عمر بچوں کے بنیادی حقوق اور تحفظ کے لیے کوئی قانون موجود ہی نہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں گھریلو ملازمین بالخصوص بچوں پر تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

گذشتہ برس پاکستان 167 ممالک کے گلوبل سلیوری انڈیکس یعنی غلامی کے عالمی اشاریے میں چھٹے سے تیسرے نمبر پر آ گیا تھا۔ ڈومیسٹک ورکرز یونین کے سیکریٹری مختار اعوان نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معاشرتی بے حسی اور معاشی مجبوری کے باعث پاکستان میں کم عمر بچوں سے مشقت کروانا ایک ایسا جرم ہے میں خود والدین اعانت جرم کے مرتکب ہیں۔

‘یہ لوگ دیہی علاقوں سے آتے ہیں اور انتہائی غریب لوگ ہوتے ہیں۔ کچھ پیسوں کے عوض اپنے بچوں کو دوسروں کے گھروں میں کام کرنے کے لیے چھوڑ آتے ہیں۔ گھریلو ملازمین میں زیادہ ترچھوٹی عمر کی بچیاں رکھی جاتی ہیں کیونکہ نہ اس نے بولنا ہے اور نہ ہی کسی چیز سے انکار کرنا ہے۔ گھریلو ملازمین پر تشدد کے تقریباً 80 سے 90 فیصد کیس رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔’

مبینہ تشدد کے بعد رضیہ کے گھر والوں نے اس کے خلاف آواز بلند کرنے کی بہت کوششیں کیں۔ رضیہ کے والد نے تھانے کے متعدد چکر لگائے لیکن ایف آئی آر تک نہ کٹی۔ محمد اسلم کا کہنا تھا کہ انصاف صرف امیروں کو ہی ملتا ہے۔ ‘غریب ہیں، جس تھانے میں بھی جاتے ہیں وہ آگے کہیں اور بھیج دیتے ہیں۔ وہ امیر لوگ ہیں انہوں نے پیسے دیے ہوئے ہیں، ہمارے پاس کوئی پیسہ نہیں، اسی لیے ہماری نہیں سنی گئی۔’ گلوبل سلیوری انڈیکس ترتیب دینے والے ادارے واک فری فاؤنڈیشن کے مطابق اس وقت پاکستان میں اکیس لاکھ سے زیادہ بچے جبری مشقت پر مجبور ہیں۔

اس کی بنیادی وجہ متعلقہ قانون کی عدم موجودگی ہے۔ اسی لیےاگر رضیہ جیسے متاثرین تھانے تک پہنچ بھی جائیں تو معاملہ لمبی کاغذی کارروائی کی نظر ہو جاتا ہے۔ رضیہ کا کیس فیصل آباد کے تھانے مدینہ ٹاون میں زیر تفتیش رہا۔ تاہم کئی ہفتے گزرنے کے بعد بھی ایف آئی آر تک درج نہ ہوئی۔ جب بی بی سی نے مدینہ ٹاون تھانے کے انویسٹی گیشن انچارج محمد اشرف سے اس بارے میں پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ کیس کی تحقیقات زخمیوں کی نوعیت کا تعین نہ ہونے کی وجہ سے رکی ہوئی ہے۔ جس کے لیے میڈیکل رپورٹ ڈیکلیئر ہونا ضروری ہے۔

رضیہ کے والدین کا کہنا ہے کہ وہ شہر سے دور رہتے ہیں مگر کرایہ نہ ہونے کے باوجود وہ تھانے کے کئی چکر لگا چکے ہیں۔ تاہم کیس میں خاطرخواہ پیش رفت نہیں ہوئی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ طویل قانونی چارہ جوئی سے بچنے کے لیے عام طور پر اس طرح کے معاملات میں کچھ رقم لے دے کر معاملہ رفع دفع کر دیا جاتا ہے۔ مختار اعوان کا کہنا ہے اس کیس میں بھی رضیہ کے والدین کو بالآخر صلح کرنی پڑی۔

حنا سعید

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہو

پاکستان میں ہر سال 240 ارب روپے کی خیرات

73442e475a770997322d9389106f121e

پاکستان میں ہر سال انفرادی سطح پر دی جانے والی خیرات کی سالانہ رپورٹ کے مطابق ملک کے 98 فیصد گھرانے جو رقم خیرات، صدقات اور عطیات کی صورت میں دیتے ہیں اس کی کل مالیت 240 ارب روپے بنتی ہے۔ نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) میں منگل کو ایک تقریب میں پیش کی جانے والی اس رپورٹ کے مطابق پاکستانی شہری ہر سال مختلف معاشرتی اور مذہبی وجوہات کی بنا پر دل کھول کر خیرات کرتے ہیں۔ یہ رپورٹ انٹرنیٹ پر بھی دستیاب ہے اور اس کے خاص نکات میں بتایا گیا ہے کہ سنہ 1998 سے لے کر سنہ 2014 تک سالانہ دی جانے والی خیرات کی رقم میں تین گنا اضافہ ہوا ہے اور یہ 70 ارب سے بڑھ کر 240 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔

رپورٹ سے اخذ کیے گئے نتائج میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ انفرادی سطح پر دی جانے والی خیرات کا 68 فیصد حصہ براہ راست ضرورت مند رشتہ داروں، معذور افراد اور بھکاریوں کو دیا جاتا ہے۔ مدرسوں اور مساجد کو ملنے والی خیرات کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ خیراتی اداروں کی طرف سے صرف تین فیصد حصہ مساجد اور مدرسوں کو ملتا ہے جبکہ رپورٹ کے مطابق نجی طور پر دی جانے والی خیرات کا تقریباً 30 فیصد مساجد اور مدرسوں کے حصے میں آتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے زیادہ تر لوگ مذہبی بنیادوں پر خیرات کرتے ہیں جب کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کی جانے والی خیرات اس کے بعد آتی ہے۔people-jostle-to-get-free-food-distributed-at-a-camp-for-flood-survivors-in-risalpur-pakistan-35515307اس رپورٹ میں ملک کے مختلف صوبوں سے دی جانے والی خیرات کے اعداد و شمار دیے گئے ہیں اور آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں ہر سال 113 ارب کی خیرات دی جاتی ہے جبکہ سندھ میں 78 ارب روپے، خیبر پختونخوا سے 38 ارب روپے اور بلوچستان سے 10 ارب روپے کی خیرات دی جاتی ہے۔ رپورٹ میں زکوٰۃ اور زکوٰۃ کے علاوہ دی جانے والی خیرات کے اعداد و شمار بھی ہیں جن کے مطابق زکوٰۃ کی مدد میں 25 ارب روپے جبکہ زکوٰۃ کے علاوہ تقریباً 71 ارب روپے دیے جاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کھالوں کی صورت میں جو خیرات ہوتی ہے اس کی مالیت پانچ ارب روپے بنتی ہے جبکہ ملک کے مختلف حصوں میں قائم مزاروں اور درباروں کو ساڑھے چھ ارب روپے خیرات اور صدقات کی صورت میں ملتے ہیں۔

فراز ہاشمی

بی بی سی اردو ڈاٹ کام