ورزش کیوں ضروری ہے ؟

دراصل ورزش ہر شخص کے لیے ضروری ہے۔ اس سے صحت قائم رہتی ہے اور جسم اچھی حالت میں رہتا ہے۔ ورزش سے دوران خون تیز ہو جاتا ہے۔ جو لوگ محنت کا کام کرتے ہیں ان کے لیے ورزش بہت ضروری ہے۔ مختلف قسم کی ورزشیں ہیں جن سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ سب سے آسان چہل قدمی ہے۔ جو ہر آدمی کے لیے ممکن ہے لیکن سیر کے وقت لباس موزوں ہونا چاہیے۔ خصوصاً موسم سرما میں گرم لباس ہونا چاہیے۔ کھلی ہوا میں سیر کرنی چاہیے۔ فاصلہ اور تیزی آدمی کی ضرورت اور رفتار پر منحصر ہوتی ہے۔ عام طور پر 40 تا 50 منٹ کی چہل قدمی کافی ہوتی ہے۔ تیرنا اور گھڑسواری بہترین ورزش ہے۔ ورزش جتنی ہلکی ہو اچھا ہے۔

لیکن پابندی ضروری ہے۔ بیرونی کھیل بہتر ورزش ہیں۔ بڑھاپے میں ہلکی ورزش کرنی چاہیے۔ جسم کی مالش بھی ایک ورزش ہے۔ جہاں انسان کی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے ورزش ضروری ہے وہاں مقررہ وقت پر سونا بھی صحت کیلئے انتہائی ضروری ہے کیونکہ جو توانائی محنت کے دوران خرچ ہوتی ہے۔ وہ نیند کے دوران پوری ہو جاتی ہے۔ گہری نیند جسم کے قواء کو مکمل آرام پہنچاتی ہے۔ اس طرح وہ زیادہ فعال ہو جاتے ہیں۔ اچھی نیند کے لیے غذا کا ہضم ہو جانا ضروری ہے۔ ورنہ منہضم غذا کا معدہ میں ہونا نیند میں خلل پیدا کر دے گا اور برے خواب نظر آئیں گے۔ بعض لوگ کھانا کھاتے ہی سو جاتے ہیں جو کہ بالکل غلط ہے ایسا کرنے سے پیٹ بڑھ جاتا ہے اور انسان طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ مثلاً موٹاپا، ذیابیطس، بدہضمی اور ضعف دماغ وغیرہ، چنانچہ نیند کا وقت مقرر کر لینا چاہیے۔ 

ویسے نیند کا بہترین وقت رات کا ہے۔ رات میں مکمل اور گہری نیند لی جا سکتی ہے۔ رات میں جلد سونے کی اور صبح جلد اٹھنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ رات کے کھانے اور سونے کے درمیان کم از کم دو گھنٹوں کا وقفہ ہونا چاہیے۔ شیرخوار بچے نیند کے زیادہ محتاج ہوتے ہیں۔ جوان بچوں سے کم اور بوڑھے اور بھی کم نیند چاہتے ہیں طبعی طور پر شیر خوار بچوں کو 15 تا 20 گھنٹے سونا چاہیے، بچے 10 تا 12 گھنٹے، جوان 8 گھنٹے اور بوڑھے 6 گھنٹے یا کم۔ کچھ لوگ دیر تک سونے کے عادی ہوتے ہیں اور صبح بھی دیر سے اٹھتے ہیں جو صحت کے اعتبار سے مناسب نہیں۔ نیند میں زیادہ یا کم سونا دونوں ہی صحت کے لیے مضر ہیں۔
 

Advertisements

احساسِ تنہائی کیا ہے ؟

تنہائی کبھی نعمت ہے تو کبھی مصیبت۔ ادیبوں اور شاعروں نے تنہائی کو غنیمت سے تعبیر کیا ہے کیونکہ ہر وقت انہیں کوئی نہ کوئی خیال گھیرے رہتا ہے، لہٰذا تنہائی کہاں ہے؟ تنہائی کیا ہے ؟ اس بات کا دارومدار انسان کی سوچ پر ہے۔ بعض لوگ تنہائی کے لمحات ڈھونڈنے میں ساری زندگی صرف کرتے ہیں اور کچھ لوگ تنہائی کی ناگن کے ساتھ لڑتے لڑتے زندگی بتاتے ہیں۔ تنہائی کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ انسان دنیا میں تنہا آتا ہے اور تنہا ہی دنیا سے چلا جاتا ہے۔ مشہور و معروف شاعر حکیم مومن خان مومن نے اپنے ایک لافانی شعر سے خود کو ہی نہیں تنہائی کو بھی لازوال بنا دیا ہے۔ شعر یوں ہے۔

 تم میرے پاس ہوتے ہو گویا

 جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

 انسان اکیلا ہو سکتا ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ وہ احساسِ تنہائی کا شکار ہو۔ احساسِ تنہائی اس وقت شروع ہوتا ہے جب ایک انسان اپنے آپ کو سماجی طور پر ٹھکرایا ہوا اور علیحدہ تصور کرنے لگے، وہ رشتہ داروں ، دوست و احباب کی کمی محسوس کرنے لگے۔ ایسے انسان کے لئے تنہائی کا مطلب ہوتا ہے، میرا کوئی نہیں ہے اور میں کسی کا نہیں ہوں۔ جیسے مرزا غالب فرما گئے ہیں 

رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو

 ہم سخن کوئی نہ ہو اور ہم زباں کوئی نہ ہو

 بے در و دیوار سا اک گھر بنانا چاہئے

 کوئی ہمسایہ نہ ہو اور پاسباں کوئی نہ ہو

 پڑئیے گر بیمار تو کوئی نہ ہو تیمار دار اور

 اگر مر جائیے تو نوحہ خواں کوئی نہ ہو

 تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ تنہائی کا احساس انسان کی صحت کے لئے ضرر رساں ہو سکتا ہے۔

ایک یونیورسٹی میں کی گئی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جو طلبا دوستوں سے ملنے جلنے کی بجائے تن تنہا زندگی گزارنے کے عادی تھے ان کا نظامِ قوتِ مدافعت ان طلبا کے مقابلے میں بے حد ضعیف تھا جو اپنا وقت دوستوں کے ساتھ ہنسی مذاق، کھیل کود اور تفریح میں گزارنے کے عادی تھے۔ اسی تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ کچھ طالب علم دوستوں کے درمیان رہ کر بھی احساسِ تنہائی کے شکار تھے، ایسے طلبا میں سے بیشتر نیند میں دائمی خلل کے بھی شکار تھے۔ احساسِ تنہائی کے شکار لوگ ہر وقت ذہنی دباؤ میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ان کا فشار خون بڑی تیزی سے بلند یوں کو چھو سکتا ہے اور بعض اوقات دوائیوں کے استعمال سے بھی کم نہیں ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں ان کے جسم میں کولیسٹرول اور سیٹرس ہارمون کورٹیزول کی مقدار زیادہ ہونے کا امکان ہوتا ہے۔ 

محققین کا کہنا ہے کہ ایسے لوگ پریشانی، مایوسی اور افسردگی جیسے نفسیاتی امراض میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ مگر محققین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ سماجی علیحدگی اور احساسِ تنہائی میں فرق واضح کرنا لازمی ہے۔ اپنی مرضی سے سماجی علیحدگی اختیار کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ فرد احساسِ تنہائی کا شکار ہو۔ سماجی زندگی سے کنارہ کشی کا مطلب یہ نہیں کہ فرد کو احساسِ تنہائی بھی ہو۔ سماجی زندگی سے دوری اختیار کرنا فرد کا اپنا فیصلہ ہوتا ہے جبکہ احساسِ تنہائی ایک مخصوص ذہنی کیفیت ہے۔ کچھ لوگ ’’لوگوں کے سیلاب‘‘ سے دور اپنی ایک الگ دنیا بسا کر اطمینان کا سانس لیتے ہیں۔

 احساسِ تنہائی میں مبتلا ہونے کا مطلب’’اکیلا‘‘ ہونا نہیں ہے۔ مثال کے طور پر ایک شخص کسی بھیڑ یا جشن میں بھی اپنے آپ کو تنہا محسوس کرتا ہے اور کوئی شخص اکیلا ہونے کے باوجود بھی تنہائی کے احساس کا شکار نہیں ہوتا۔ احساسِ تنہائی ایک ایسی درد بھری ذہنی کیفیت ہے جس میں مبتلا شخص اپنے آپ کو سماجی زنجیرسے ’’کٹا ہوا‘‘ حلقہ محسوس کر کے یہ سوچنے لگتا ہے کہ اس کی بنیادی اور ضروری خواہشات پورا کرنے میں کوئی بھی شخص دلچسپی نہیں لے رہا ہے۔ اس لئے یہ ایک نفسیاتی عارضہ ہے۔ 

جب احساسِ تنہائی کسی بھی شخص کو اپنی گرفت میں لیتا ہے تو 

٭وہ محسوس کرتا ہے کہ اسے ’’محفل‘‘ سے نکالا گیا ہے۔ 

٭اس کا کوئی چاہنے والا نہیں ہے۔ 

٭وہ اپنے ماحول میں اپنے آپ کو بیگانہ محسوس کرتا ہے۔ 

٭ اسے یوں لگتا ہے کہ ایسا کوئی شخص نہیں جس کے ساتھ وہ اپنے تجربات، احساسات اور دکھ درد بانٹ سکے۔ 

٭اسے دوست بنانے میں دشواری پیش آتی ہے۔ وہ کسی اجنبی کے ساتھ سلام کرنے کی حد سے آگے نہیں بڑھ سکتا ۔ اور پھر اِن کے منفی اثرات یوں ظاہر ہوتے ہیں۔ 

٭احساسِ تنہائی کا شکار فرد احساس کمتری میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ 

٭اسے ہر وقت یہ خیال ستاتا ہے کہ ’’یہاں کسی کو بھی میری ضرورت نہیں ہے‘‘۔ 

٭ وہ دعوتوں اور محفلوں میں جانے سے گھبراتا ہے۔ 

٭وہ خود پسندی اور ’’خود آگہی‘‘ کے وہم میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ 

٭وہ کوشش کے باوجود اپنے جذبات اور احساسات بیان نہیں کر سکتا ہے۔ 

٭وہ دوسروں سے ہم کلام ہونے سے کتراتا ہے۔ 

٭وہ اپنے مسائل و مشکلات کسی دوسرے سے بیان کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتا ہے۔ 

٭وہ ایک مخصوص اور تنگ دائرے میں مقید ہو کر رہ جاتا ہے۔ اور پھر وہ ’’موجودہ جگہ‘‘ یا ماحول سے راہِ فرار اختیار کرتا ہے۔ مثلاً اگر وہ والدین کے ساتھ رہتا ہو تو اچانک کسی وقت بنا سوچے سمجھے گھر سے بھاگ کرکسی اور جگہ پناہ لیتا ہے، اس وقت وہ یہ بھی نہیں سوچتا کہ اسے مستقبل میں کن مشکلات ومسائل کا سامنا کرنا پڑے گا، اسی لئے گھر سے دور رہ کر ایسے نوجوان ایسی غلطیوں کے مرتکب ہو جاتے ہیں جن کا خمیازہ انہیں عمر بھر بھگتنا پڑتا ہے۔  

نذیر مشتاق

 

نقطہ نظر پیش کرنے کا درست طریقہ : ڈیل کارنیگی

اگر آپ کو مکمل یقین ہے کہ دوسرا شخص غلط کہہ رہا ہے اور آپ بے دھڑک اسے کہہ دیتے ہیں کہ تم غلط کہہ رہے ہو۔ تو کیا ہوتا ہے میں اسے واضح کرتا ہوں۔ مسٹر سانتے نیو یارک کا ایک نوجوان وکیل ہے۔ ایک بار اس نے امریکی سپریم کورٹ کے سامنے ایک بڑے اہم مقدمے میں دلائل دیئے۔ اس مقدمے کا تعلق بہت زیادہ رقم سے تھا اور اس میں ایک بہت ہی اہم قانونی نکتہ تھا۔ دلائل کے دوران ایک جج نے وکیل سے پوچھا۔ ’’ اس قسم کے قانونی معاملے میں زیادہ سے زیادہ میعاد چھ برس ہوتی ہے نا۔‘‘ مسٹر سانتے ایک دم رک گئے اور انہوں نے ایک لمحے کے لیے جج کی طرف گھور کر دیکھا اور پھر جواب دیا ’’ عزت مآب اس قسم کے قانون میں کوئی میعاد نہیں ہوتی۔‘‘ ’’ عدالت میں ایک سناٹا طاری ہو گیا۔‘‘ سانتے نے بتایا ’’ میں بالکل صحیح کہہ رہا تھا مگر جج غلطی پر تھا اور ایسا میں نے اسے بتا دیا تھا۔ 

لیکن کیا اس سے جج مطمئن ہو گیا ؟ نہیں۔ میں یہی سمجھتا تھا کہ میری قانونی پوزیشن بہت مضبوط ہے اور میرا خیال تھا کہ میں نے پہلے سے زیادہ اچھے دلائل دیئے ہیں لیکن میں نے ایک مشہور اور قابل جج کو اس کی غلطی کا بتا کر بہت بڑی غلطی کی اور اس طرح میں نے اس کے جذبات اور عزت نفس کو ٹھیس پہنچائی۔‘‘ ہم میں سے محض چند لوگ منطقی ہوتے ہیں۔ باقی سب میں صرف تعصب بھرا ہوا ہوتا ہے۔ ہم میں سے بہت سے اپنے ذہن میں حسد، شک خوف اور جلن کے جذبات لیے ہوئے ہوتے ہیں اور بہت سے لوگ اپنے مذہب اپنے بالوں کے سٹائل یا اپنے پسندیدہ ایکٹر کے بارے میں اپنا ذہن نہیں بدلنا چاہتے۔

اس لیے اگر آپ اس بات پر مائل ہوں کہ آپ لوگوں کو یوں بتائیں کہ وہ غلط ہیں تو ہر صبح ناشتے سے پہلے یہ پیراگراف ضرور پڑھیں۔ یہ جیمز ہاروے رابنسن کی مشہور کتاب The Mind in the Making سے لیا گیا ہے۔ ’’ ہم بعض اوقات کسی قسم کے دباؤ یا بھاری جذبات کے بغیر اپنا ذہن بدل رہے ہوتے ہیں۔ لیکن اگر ہمیں بتا دیا جائے کہ آپ غلط ہیں تو یہ بات ہمیں سخت ناگوار گزرتی ہے۔ ایک چھوٹا سا لفظ ’’ میرا یا میری‘‘ انسانی معاملات میں سب سے اہم ہے اور یہیں سے عقل کا ارتقا ہوتا ہے۔ اس میں بھی اتنی ہی طاقت ہوتی ہے جتنی ان الفاظ میں ہوتی ہے۔ جیسے ’’ میرا گھر‘‘ میرا والد، میرا ملک، میری کار اور میرا خدا، ہم ہر وقت اس یقین میں رہتے ہیں کہ جو کچھ ہم کہیں گے اسے سچ مانا جائے گا اور ہم اس وقت سخت ناراض ہو جاتے ہیں جب ہمارے خیالات پر ذرا برابر بھی شک کیا جائے۔ اور ایسی صورتحال میں ہم اپنے خیالات سے ہی چمٹے رہتے ہیں خواہ وہ غلط ہی کیوں نہ ہوں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہم نہ صرف دوسروں کو ناراض کرتے ہیں بلکہ اپنے لیے بھی ناخوشگوار حالات کا سامان پیدا کرتے ہیں۔‘‘ 

مشہور نفسیات دان کارل راجرز نے اپنی مشہور کتاب On Becoming a Person میں لکھا ہے۔ میں اس وقت کو اپنے لیے بہت قیمتی سمجھتا ہوں جب میں کسی دوسرے شخص کا نقطہ نظر سمجھنے کیلئے خود کو تیار کر لوں۔ جن الفاظ میں یہ بیان کیا گیا ہے، ہو سکتا ہے وہ آپ کو عجیب سے لگیں۔ لیکن یہ بہت ضروری ہے کہ آپ دوسروں کا نقطہ نظر سمجھنے کے لیے خود کو تیار کریں۔ بہت سی باتوں کے بارے میں ہمارا پہلا رد عمل ان کے خیالات کو جانچنا ہونا چاہیے۔ جب کوئی شخص اپنے کسی خیالی رویے یا جذبات کا اظہار کرتا ہے تو ہم فوراً یہ سوچتے ہیں ’’ یہ غلط ہے‘‘ ’’ یہ صحیح ہے‘‘ یہ بالکل فضول ہے۔ 

بہت کم ہم اس کے جذبات اور خیالات کو سمجھنے کے لیے خود کو آمادہ کرتے ہیں۔ میں نے ایک بار ایک اندرونی سجاوٹ کے ماہر کو اپنے گھر کے لیے پردے تیار کرنے کا آرڈر دیا۔ جب اس نے مجھے بل بنا کر دیا تو مجھے بہت مایوسی ہوئی۔ چند روز بعد میرا ایک دوست گھر آیا اور اس نے پردوں کو دیکھا۔ میں نے پردوں کی قیمت بتائی تو فوراً وہ چونک اٹھا ’’ کیا؟‘‘ اس نے کہا میں نے پردوں کی بہت زیادہ قیمت ادا کی ہے۔ ہاں یہ صحیح تھا اور اس نے مجھے صحیح بتایا تھا مگر بہت سے لوگ اپنے فیصلوں کے بارے میں سچائی سننا پسند نہیں کرتے۔ اس لیے ایک انسان کی طرح میں نے اپنے فیصلے کا دفاع کرنا شروع کر دیا۔ میں نے اسے بتایا کہ بہترین چیز خریدنے کے لیے زیادہ قیمت تو ادا کرنی پڑتی ہے۔

اگلے دن ایک اور دوست میرے گھر آیا اس نے پردوں کی تعریف کی اور اس نے کہا کاش مجھے بھی اپنے گھر کے لیے ایسے پردے مل جائیں میرا رد عمل بہت مختلف تھا۔ میں نے کہا کہ میں اتنے مہنگے پردے خرید نہیں سکتا تھا لیکن میں نے ان کے لیے پیسے دیئے ہیں جس کا مجھے افسوس ہے۔ ’’ جب ہماری غلطی ہو تو ہمیں تسلیم کر لینا چاہیے۔ اکثر یہ ہوتا ہے کہ ہم اپنی غلطی کو اندر ہی اندر تسلیم کر رہے ہوتے ہیں اور اگر ہمیں بڑی ملائمت کے ساتھ ہماری غلطی کا احساس دلایا جائے تو ہم اپنی غلطی کو اعلانیہ طور پر تسلیم بھی کر سکتے ہیں مگر اگر کوئی بحث کے ذریعے دلائل کے زور سے ہمیں غلط ثابت کرنے کی کوشش کرے تو ہم تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہوتے۔‘‘

امریکی سول وار کے دوران گریلے امریکہ کا سب سے مشہور ایڈیٹر تھا وہ ابراہام لنکن کی پالیسیوں کی بڑی شد و مد کے ساتھ مخالفت کرتا تھا۔ اسے یقین تھا کہ وہ اس قسم کے طور طریقوں سے لنکن کو اپنا ہمنوا بنا سکتا ہے۔ وہ ہر مہینے اورہر سال بعد لنکن پر سخت ترین الفاظ کے ساتھ تنقید کرتا دراصل اس نے لنکن کی موت سے ایک دن پہلے اس پر سخت ترین الفاظ میں طنز اور ذاتی حملے کئے تھے۔ لیکن کیا ان تمام حرکتوں سے اس نے ابراہام لنکن کو اپنا ہمنوا بنا لیا؟ ہرگز نہیں۔

ڈیل کارنیگی

 

خوش رہنا ہے؟ تو انداز فکر تبدیل کر لیجیے

کام یاب زندگی کو ہم خوشی سے تعبیر کرتے ہیں۔ زندگی میں خوشی کااحساس سکون اور طمانیت عطا کرتا ہے اور یہی کام یاب زندگی کی علامت سمجھے جاتے ہیں لیکن فی زمانہ ہر شخص خوشی کی تلاش میں سرگرداں نظر آتا ہے۔ خصوصاً خواتین بیشتر وقت پریشان رہتی ہیں۔ مختلف باتوں کی وجہ سے ہمہ وقت تفکرات میں گھری رہتی ہیں حالاںکہ خدا نے بے شمار نعمتیں اور رشتے عطا کیے ہوتے ہیں۔ مثلاً پیارکرنے والا شوہر، ہمدرد بہنیں اور سہیلیاں مگر پریشانیوں میں گھر کر وہ ایسے تمام پیارے رشتے اور بہت کچھ نظر انداز کر دیتی ہیں جب کہ زندگی میں یہ سمجھنا از حد ضروری ہے کہ ہمیں اپنی خوشیوں کا محور ایک ہی شخص یا ایک ہی چیز کو نہیں بنا لینا چاہیے۔ خوشیوں کے رنگ تو ہر سو بکھرے ہوتے ہیں۔ کبھی بھی اپنی خوشیوں کو کسی بھی ایک معاملے، ایک رشتے، اور فرد واحد تک محدود نہیں کرنا چاہیے۔

مثال کے طور پر ایک خاتون جس کا شوہر بہت اچھا ہے ان کے تعلقات نہایت اچھے ہیں، گھریلو زندگی بہت خوش گوار ہے، بہت اچھی سہیلیاں ہیں، پیارے پیارے سے بچے ہیں لیکن اگر وہ دفتر میں اپنی کارکردگی سے مطمئن نہیں یا ان کی ترقی نہیں ہو رہی تو وہ خوش نہیں ہیں۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ اگر مثبت انداز فکر سے سوچا جائے تو زندگی میں بے شمار رشتے اور دیگر معاملات بھی خوشیوں کا باعث ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر والدین، پیار کرنے والے اہل خانہ، ہنس مُکھ سا بھائی، اورپیار کرنے والی بھابھی، لیکن اگر ساس کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں ہوں تو وہ خاتون خوش نہیں رہتیں کیوں کہ ہم اپنے پاس موجود بے شمار نعمتوں اور پیارے پیارے رشتوں کے ہوتے ہوئے بھی اپنی خوشیوں کا محور اس ایک شخص یا ایک معاملے کو بنا لیتے ہیں، حالاںکہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔

ہر شخص کی زندگی میں ایسے بہت سے معاملات اور بہت سی باتیں اور بہت سے رشتے ہوتے ہیں جن کے متعلق سوچیں تو یاسیت، افسردگی اور بے چینی کا شکار ہو جائیں۔ شاید اپنی زندگی کے متعلق منفی انداز سے سوچنے لگیں لیکن زندگی میں کام یاب اور خوش وہی لوگ رہتے ہیں جو یہ سیکھ لیتے ہیں کہ اپنی زندگی میں ان چیزوں کو اپنا محور بنائیں ان کے متعلق سوچیں جو ہمیں بے حد پیاری ہوں، جو رشتے دل کے قریب ہوں۔ مثلاً بچے، اپنی پیاری اولاد، وہ بہترین سہیلی جو ہر سکھ دکھ میں ساتھ ہے۔ چاہے کیسے ہی حالات کیوں نا ہوں لیکن وہ ہمیشہ ساتھ کھڑی رہتی ہے۔ شوہر جو ہر معاملے میں ساتھ دیتے ہیں۔ زندگی میں آنے والے سرد و گرم میں ہمہ وقت ساتھ ہیں۔

اکثر گھروں میں چھوٹے موٹے جھگڑے تو ہوتے ہی رہتے ہیں۔ ان کی بنیاد پر کوئی فریق انتہائی قدم اٹھانے کے متعلق سوچنے لگتا ہے۔ مثال کے طور پر اکثر ساسوں کو بہووں سے بے انتہا شکایات ہوتی ہیں۔ دوسروں سے گفت گو کے دوران بھی ان کا یہ انداز ہوتا ہے کہ میں بہت پریشان ہوں، میری اور میری بہو کی بالکل نہیں بنتی اور شاید میں کسی دن خودکشی کرلوںگی۔ کتنی عجیب بات ہے کیوںکہ بہو تو صرف آپ کی زندگی کا ایک حصہ ہے۔ آپ کی زندگی صرف اس حصے تک محدود نہیں ہے۔ اس خول سے باہر نکل کر دیکھیں کتنا کچھ ہے صرف انداز فکر تبدیل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

ہم عموماً روزانہ گھر کے آنگن میں، بالکونی میں یا لان میں بیٹھ کر چائے پیتے ہیں، کبھی محسوس کیا کہ خوب صورت پرندے اڑ رہے ہوتے ہیں، سامنے پارک میں لوگ ہنس رہے ہوتے ہیں، واک کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ کتنا خوب صورت منظر ہوتا ہے۔ باہر قدرت کے حسین نظارے ہمارے لیے ہیں لیکن ہم دیکھتے ہی نہیں، ہم محسوس ہی نہیں کرتے کیوںکہ ہم اپنی سوچ کا محور صرف منفی چیزوں یا منفی باتوں کو بنا لیتے ہیں اور اسی میں مصروف رہتے ہیں۔ اگر ہم اپنی سوچ کا انداز تبدیل کر لیں تو زندگی خود بخود خوب صورت ہوتی چلی جائے گی۔ اپنی زندگی میں مثبت سوچ کے ساتھ ایک نیا قدم اٹھائیں۔ مثبت سوچ کے ساتھ جینے کا عزم کریں۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر پریشان ہونا یا ناخوش ہونا چھوڑ دیں۔ اگر شادی نہیں ہوئی، ہمسفر نہیں ملا تو یہ سوچیں کہ کنوارا رہنے کے کیا فائدے ہیں۔ ہر ذمے داری سے آزادی، اماں ابا سے لاڈ اٹھوانے کا بھی ایک اپنا ہی مزہ ہے۔

اگر ذاتی گھر نہیں ہے تو کرائے کے مکان میں کیا کیا فائدے ہیں۔ اگر شوہر سے ناخوش ہیں تو اس کو سمجھنے کی کوشش کریں، خوش رہیں اور دیگر بہت سارے پیارے رشتے جو ارد گرد موجود ہیں ان کے متعلق سوچیں۔ صرف آنکھیں کھولنے، سوچ کے در وا کرنے، پریشان کُن صورت حال سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے۔ جب ہم کسی مسئلے سے اپنی توجہ ہٹا لیتے ہیں وہ مسئلہ خود بخود صحیح ہو جاتا ہے۔ رشتے خود بخود اپنی جگہ بنانے لگتے ہیں۔ معاملات ٹھیک ہونے لگتے ہیں۔ بہت زیادہ سوچنا اور متفکر ہونا چھوڑ دیں تو معاملات از خود بہتر ہونے لگیں گے۔ اس طرح اپنی زندگی کو ہر قدم پر تبدیل کریں۔ مثبت طرز فکر کے ساتھ چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے دامن کو بھرنے کی کوشش کریں۔ زندگی میں خوشیوں کے رنگ بکھر جائیں گے۔

منیرہ عادل
 

خود اعتمادی بڑھائیں اور زندگی میں کامیاب ہو جائیں

اگر شخصیت میں اعتماد ہو تو کم تعلیم کے باوجود زندگی میں ترقی ممکن ہے جبکہ خوداعتمادی سے محرومی اعلیٰ تعلیم اور صلاحیت کو بھی ماند کر دیتی ہے۔
درحقیقت حقیقی اعتماد شخصیت میں ایک جادو سا بھر دیتا ہے ۔ ایسا ہونے پر لوگوں کو خود پر اور اپنی صلاحیت پر یقین ہوتا ہے اور خود اعتمادی سے بھرپور افراد کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جنھیں کرنے سے گریز کرتے ہیں جو درج ذیل ہیں۔

جواز نہیں تراشتے
خوداعتماد لوگوں کو جس ایک چیز پر یقین ہوتا ہے وہ ذاتی تاثیر ہے، ان کا ماننا ہوتا ہے کہ وہ چیزوں کو بنا سکتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ایسے افراد کبھی بھی ٹریفک میں پھنسنے کی وجہ سے تاخیر یا ترقی نہ ملنے پر انتظامیہ کی شکایات نہیں کرتے، درحقیقت ایسے افراد کبھی بہانے یا جواز نہیں تراشتے کیونکہ انہیں یقین ہوتا ہے کہ وہ اپنی زندگیوں پر کنٹرول رکھتے ہیں۔

وہ ہمت نہیں ہارتے
خوداعتمادی کی دولت سے مالامال افراد اپنی پہلی کوشش ناکام ہونے پر ہار نہیں مانتے، وہ اس کام میں سامنے آنے والی مشکلات اور ناکامیوں کو رکاوٹ کے طور پر دیکھتے ہیں جسے عبور کرنا ہوتا ہے۔ وہ بار بار ایک چیز مکمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ وہ یہ جاننے کی کوشش بھی کرتے ہیں کہ آخر ان کی ناکامی کی وجہ کیا ہے اور کس طرح اگلی بار اس سے بچا جا سکتا ہے۔

وہ کام کرنے کے لیے اجازت ملنے کا انتظار نہیں کرتے
خوداعتماد افراد کے لیے یہ ضروری نہیں کہ کوئی انہیں بتائے کہ کیا کرنا ہے یا کیسے کرنا ہے، وہ وقت ضائع کیے اور سوالات کیے اپنے کام کو نمٹاتے ہیں، وہ بس اپنے کام کو نمٹانا چاہتے ہیں اور اسے پورا کرتے ہیں۔

انہیں توجہ کی خواہش نہیں ہوتی
لوگ ان افراد کو زیادہ نہیں پسند کرتے جو توجہ حاصل کرنے کے لیے بے تاب ہوتے ہیں، خوداعتماد افراد جانتے ہیں کہ وہ اپنی حد تک کتنے موثر ہیں اور انہیں خود کو اہم ثابت کرنے میں دلچسپی نہیں ہوتی۔ ایسے افراد بس اپنے اندر درست رویہ پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ خود کو ملنے توجہ کو بھی دیگر افراد کے کام کی جانب مبذول کراتے ہیں۔

انہیں مسلسل تعریف کی ضرورت نہیں ہوتی
کیا آپ نے کسی ایسے شخص کو دیکھا ہے جو چاہتا ہے لوگ اسے مسلسل سراہے؟ خوداعتماد افراد ایسا نہیں کرتے، انہیں نہیں لگتا کہ ان کی کامیابی کا انحصار دیگر افراد کی تعریف پر ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ جتنا بھی اچھا کام کریں، ہمیشہ کوئی نہ کوئی ایسا ہوگا جو لازمی تنقید کرے گا۔

وہ کام ٹالتے نہیں
لوگ کاموں کو ٹالتے کیوں ہیںَ کئی بار اس کی وجہ بس یہ ہوتی ہے کہ وہ سست ہوتے ہیں جبکہ متعدد بار اس کی وجہ ان کا خوفزدہ ہونا ہوتا ہے، یعنی تبدیلی، ناکامی یا ہو سکتا ہے کامیابی کا خوف۔ خوداعتماد افراد کاموں کو ٹالتے نہیں کیونکہ وہ خود پر یقین رکھتے ہیں اور توقع کرتے ہیں کہ ان کے اقدامات انہیں مقصد کے قریب لے جائیں گے۔

دیگر افراد سے موازنہ نہیں کرتے
ایسے افراد اپنے فیصلے دوسرون کے سر تھوپتے نہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ہر ایک کے پاس کچھ نہ کچھ خاص ہوتا ہے، اور انہیں دیگر افراد کی ہمت یا حوصلہ توڑنے کی ضرورت نہیں ہوتی تاکہ خود اچھا محسوس کر سکیں۔ دیگر افراد سے موازنہ کرنا شخصیت کو محدود کرتا ہے ۔ خوداعتمادی کے نتیجے میں لوگ اپنا وقت دیگر افراد سے موازنہ میں ضائع نہیں کرتے۔

تنازعے سے بچنے کی کوشش نہیں کرتے
خوداعتماد افراد کی نظر میں تنازعہ ایسی چیز نہیں جس سے ہر قیمت پر بچا جائے، بلکہ وہ اسے ایسے دیکھتے ہیں کہ اس کو کیسے موثر طریقے سے نمٹائیں۔ ناخوشگوار بات چیت یا فیصلے کرنے سے وہ ہچکچاتے نہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ تنازع زندگی کا حصہ ہے۔

وسائل کی کمی کو آڑے نہیں آنے دیتے
ایسے افراد اپنے راستے سے اس لیے پیچھے نہیں ہٹ جاتے کیونکہ ان کے پاس وسائل، عملہ یا رقم نہیں، اس کی بجائے وہ آگے بڑھنے کے لیے کوئی راستہ ڈھونڈتے ہیں یا کوشش کرتے ہیں کہ ان کے بغیر ہی آگے بڑھ سکیں۔

بہت زیادہ مطمئن نہیں ہوتے
ایسے افراد جانتے ہیں کہ بہت زیادہ اطمینان ان کے مقاصد کے حصول کے لیے خاموش قاتل ثابت ہوتا ہے۔ جب وہ اطمینان محسوس کرنے لگتے ہیں تو اسے خطرے کی جھنڈی کے طور پر لیتے ہیں اور اپنی شخصیت کی حدود کو پھیلانے لگتے ہیں، ان کے خیال میں تھوڑا سا عدم اطمینان ذاتی زندگی اور کیرئیر دونوں کے لیے اچھا ہوتا ہے۔
 

ملازمت کے لیے انٹرویو کی تیاری کیسے کریں ؟

آپ کیا بننا چاہتے ہیں، یہ متعین کرنا بہت اہم ہے۔ آپ کی ملازمت وہ ہے جو آپ کے اپنے تصورات سے بہتر طور پر ملتی ہے۔ یہ شے صلے اور تسکین دونوں صورتوں میں آپ کو وہاں لے جائے گی جو آپ کی منزل ہے۔ بہتر معاش کے انتخاب کے لیے آپ کو اپنے متعلق جاننے کی ضرورت ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ پہلے اپنا ذہن تیار کریں اور پھر یکسو ہو کر فیصلہ کریں کہ آپ کو کس قسم کی ملازمت کی ضرورت ہے اور اس کے مطابق خود کو تیار کریں۔ 

مناسب رویہ: دوران انٹرویو امیدوار بہتر رویہ اپنائے کیونکہ نامناسب رویہ امیدوار کو بہت مہنگا پڑے گا اور وہ اس کا مستقبل تباہ کر سکتا ہے۔ جذباتی رویہ ناپختگی کی علامت ہے جو دوران انٹرویو قطعی طور پر ناقابل قبول ہے۔ رویہ امیدوار کی شخصیت کے مشاہدہ کے لیے استعمال کرنے والے طریقوں میں سب سے زیادہ اہم ہے۔ 

مزاج اور طبیعت: انٹرویو کے دوران میں جارح مزاج رکھنے والے افراد کو چاہیے کہ وہ سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے آپے سے باہر نہ ہوں اور ہر سوال کا جواب ٹھنڈے دماغ سے دیں۔ اگر آپ کو سوالوں کے درست جوابات نہ آتے ہوں تو تحمل سے جواب دے کر آگے بڑھے چلے جائیں۔ 

سماعت: بہت سے لوگوں کی قوت سماعت کمزور ہوتی ہے اگر امیدوار آواز نہیں سن سکتا تو اسے فوراً اپنی سمعی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے تا کہ دوران انٹرویو اسے کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔

غصہ: غصہ ایسی خطرناک شے ہے جو دشمنی، جارحیت اورتباہی سے وابستہ ہوتی ہے۔ اس لیے پیچیدہ سوالات کے جوابات دیتے وقت امیدوار کو اپنا غصہ ظاہر نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ آپ کے مستقبل پر اثر انداز ہو گا۔ اگر آپ غصہ کرنے میں حق بجانب ہیں تو پھر بھی غصے کا اظہار نہ کریں۔ 

آداب و عادات: اچھے آداب و عادات کا اظہار امیدوار کی شخصیت کو دلکش اور خوبصورت بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے لہٰذا اچھے اخلاق کے لیے امیدوار کی شخصیت میں دونوں پہلوئوں کا ہونا ضروری ہے۔ اگر امیدوار دوسروں کے ساتھ اچھا رویہ اپنانے اور بات کرنے کے سلیقے اور مجلس میں بیٹھنے جیسے آداب سے بخوبی آگاہ ہو تو وہ انٹرویو لینے والے کی نظر میں کامیاب امیدوار ہو گا۔

اعتماد: اعتماد انسانی شخصیت کا سب سے خوبصورت پہلو ہے جو ہر انسان کو ہر مشکل سے نمٹنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق اعتماد ہی دماغ کی دلیری کا یقین دلاتا ہے لہٰذا انٹرویو کے دوران ہر سوال کا جواب اعتماد اور یقین کے ساتھ ہی دیجیے۔ 

احساسِ مقابلہ: احساسِ مقابلہ زیادہ محنت کرنے اور زندگی میں بہتری کے آثار پیدا کرنے کے علاوہ فرد کو اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے سخت جدوجہد کرنے کی تحریک دیتا ہے جو بالآخر اور خوشی مہیا کرتا ہے لہٰذا یہ ہر امیدوار کے لیے ضروری ہے کہ وہ کبھی کبھار مقابلوں کے مواقع میں حصہ لیتا رہے تا کہ وہ خوشی اور کامیابی کے احساسات سے روشناس ہو کر اس لذت کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ 

لاعلمی: لاعلمی کا مطلب اپنی مرضی سے کسی چیز کو نظر انداز کرنا ہے۔ ویسے بھی لاعلمی ہماری روز مرہ زندگی میں مشترکہ عمل بن گیا ہے۔ بہت سے لوگ ہر روز لمحہ لمحہ چھوٹی چیزوں کو نظر انداز کرکے لاعلمی کا شکار ہو جاتے ہیں لہٰذا ضرور ی ہے کہ امیدوار اپنے گرد و پیش میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کو ذہن میں رکھے اور ایسا راستہ اختیار کرے کہ جو اسے لاعلمی سے باہر نکال دے تاکہ امیدوار لاعلمی کا شکار نہ ہو۔
 

کامیابی کے راستے

وقت کو ترتیب دینے کے بارے میں پہلا جھوٹ یا غیر مثبت یقین یہ ہے کہ آپ بہت زیادہ منظم، سرد مزاج، رکھ رکھاؤ رکھنے والے اور غیر جذباتی ہیں۔ ترقی کے راستے کی یہ پہلی رکاوٹ ہے ۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ وقت کو ترتیب دینے سے وہ اپنی آزادی اور بے ساختگی کو کھو دیں گے اور زمانے کے ساتھ نہیں چل پائیں گے۔ اورکچھ لوگوں کا خیال ہے کہ وہ اس طرح بہت سخت اور غیر لچک دار ہو جائیں گے۔ یہ اعتراضات کسی لحاظ سے سچ ثابت نہیں ہوتے۔ کئی لوگوں محض اپنے اس جھوٹ کو چھپانے کے لیے یہ سب کہتے ہیں کیونکہ وہ اپنے آپ کو ان اصولوں کا پابند نہیں کر پاتے۔ 

حقیقت یہ ہے کہ ایسے غیر منظم لوگ آزاد نہیں ہیں۔ کیونکہ جو لوگ اپنے خیالات اور افعال پر اختیار نہیں رکھ سکتے وہ کبھی آزاد نہیں ہو سکتے۔ بے عمل اور خود پر اختیار نہ ہونے کے باعث وہ ایسی جھوٹی افواہیں پھیلاتے ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وقت کو ترتیب دینے والا شخص زیادہ منظم ہوتا ہے اور اسے زندگی میں زیادہ مواقع، آزادی، آرام و سکون اور سچی خوشی ملتی ہے اور وہ خود پر زیادہ اختیار رکھتا ہے۔ خود کو منظم کرنے کی ابتداء آپ آنے والے وقت کے بارے میں سوچ کر، حالات و واقعات کے نتائج کے بارے میں منصوبہ بندی کر کے اور خود کو مکمل طور پر تیار کر کے کر سکتے ہیں۔ جب آپ اپنے حالات کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھال لیں تو آپ مکمل طور پر آزاد ہو جاتے ہیں۔ 

دوسری رکاوٹ : وقت کو ترتیب دینے کے بارے میں دوسری رکاوٹ ذہن کی منفی پروگرامنگ ہے جو آپ کو اپنے والدین اور بااثر لوگوں کی صحبت میں ملتی ہے۔ اگر آپ کے والدین یا دوسرے لوگ آپ کو کہیں کہ آپ بہت زیادہ سست، دیر کرنے والے یا جو کام شروع کیا اُسے دیر سے ختم کرنے والے ہیں تو ممکن ہے کہ آپ بڑے ہو کر بھی ایسے ہی ہوں کیونکہ آپ کا لاشعور ان ابتدائی احکامات کی اتباع کرے گا۔ ایسے رویے کے حامل بہت سے لوگ معذرت خواہانہ انداز میں کہتے ہیں ’ میں ایسا ہی ہوں ‘، ’ میرے ساتھ ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے‘۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی سست اور غیر منظم یا بااختیار اور قابل پیدا نہیں ہوتا۔ وقت کو ترتیب دینے اور ذاتی قابلیت حاصل کرنے کا ہنر کچھ اصولوں پر بار بار عمل کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔ اگر ہم میں بُرا سیکھنے کی عادات موجود ہیں تو ہم انہیں اچھا سیکھنے کی عادات میں بدل سکتے ہیں۔ 

تیسری رکاوٹ ، اپنی ذات پر اعتماد کا فقدان: وقت کو ترتیب دینے کے بارے میں تیسری بڑی ذہنی رکاوٹ اپنی ذات پر اعتماد کا فقدان ہے۔ کچھ لوگوں کو یہ یقین ہوتا ہے کہ ان میں وقت کو ترتیب دینے کی صلاحیت کا فقدان ہے اور اکثر لوگوں کا یہ عقیدہ ہوتا ہے کہ یہ ایسی کمی ہے جو ان کو وراثت میں ملی ہے۔ لیکن وقت کو ناقص ترتیب دینے یا بہتر انداز میں ترتیب دینے کے کوئی بھی جین اور کروموسوم نہیں ہیں۔ کسی بھی شخص میں خود کو منظم کرنے کی وراثتی کمی نہیں ہوتی۔ یہاں ہم ایک مثال پیش کرتے ہیں جس سے یہ ثابت ہوجائے گا کہ آپ کا ارادہ، آپ کی تحریک کا پیمانہ اور خواہش وہ عنصر ہیں جو آپ سے دنیا کا کوئی بھی کام کروا سکتے ہیں۔

تصور کریں کوئی شخص آپ کو اگلے تیس دن میں انتہائی بہتر ترتیب دینے پر آپ کو دس لاکھ روپے دے گا۔ تصور کریں آپ کی نگرانی کے لیے ہر جگہ کیمرے لگا دیئے گئے ہیں۔ یقینا ان تیس دنوں میں آپ اپنے وقت اور صلاحیتوں کو بھر پور انداز میں استعمال کریں گے اور آپ کی دن بھر کی ترجیحات اپنی اعلیٰ صلاحیتوں کو استعمال میں لا کر بہتر نتائج دینا ہے۔ ہر روز آپ کو احساس ہو گا کہ آپ کی بہتر اندازمیں استعمال کی گئی صلاحیتیں آپ کو دس لاکھ روپے کا حقدار ٹھہرا  دیں گی۔ آپ ان تیس دنوں میں کتنے متحرک ہوں گے اور کس بہتر انداز سے اپنی صلاحیتوں کو استعمال میں لائیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ دس لاکھ روپے حاصل کر نے کی خاطر دنیا کے متحرک ترین انسان بن جائیں اور اپنی صلاحیتوں کو استعمال میں لا کر انعام جیت جائیں گے۔ آپ کے لیے اچھی خبر یہ ہے کہ ایک مہینے کی جہد مسلسل، آپ کی وقت کو ترتیب دینے کی صلاحیتیں اور دوسری کئی صلاحیتیں آپ کی ذات کا حصہ بن جائیں گی اور آپ ساری زندگی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر کے اس میں بہتری لاتے جائیں گے۔  

کیا ہم خود کو زیادہ خوش رکھ سکتے ہیں؟

خوش رہنے کی دعا عام طور پر دی جاتی ہے جس سے اس انمول شے کی اہمیت
کا اندازہ ہوتا ہے۔ تاہم خوشی ہر ایک کا نصیب نہیں ہوتی۔ زندگی میں غم اور دکھ ہمارا پیچھا کرتے رہتے ہیں لہٰذا ضروری ہے کہ ان سے چھٹکارہ پانے اور خوشی حاصل کرنے کے طریقوں کا پتا چلایا جائے۔ بعض اوقات انسان خوشی پانے کے ہنر سے آگاہ نہ ہونے پر بھی زندگی کا لطف نہیں اٹھا پاتا۔ ان لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا شروع کریں جن سے آپ کو مسرت اور دلی سکون ملتا ہے۔ عام طور پر ہمارا دن تین حصوں میں تقسیم ہوتا ہے۔ گھر، دفتر اور دوست۔ تینوں میں خوشی کی تلاش اور پریشانیوں سے نجات کے لیے قدرے مختلف حکمت عملی ضرورت ہوتی ہے۔

گھر میں شریک حیات کے ساتھ بہتر اور خوش گوار تعلقات کا ہونا ضروری ہے۔ دفتر میں اپنے ہنر کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ کام کرنے والوں سے اچھا تعلق ہونا چاہیے۔ ایسی جگہ کام کرنے کو ترجیح دینی چاہیے جہاں کا ماحول آپ کو پریشان نہ کرے۔ منفی خیالات اور جذبات کو اپنے ذہن میں نہ آنے دیں کیونکہ یہ ہماری خوشی کے دشمن بن جاتے ہیں۔ ان اندرونی خیالات کی وجہ سے بیرونی خوشی کا احساس نہیں ہو پاتا۔ آئیے اس بارے میں مزید جانتے ہیں۔ خوشی کاارادہ کریں خوش رہنے کے لیے شعوری فیصلہ کرنا چاہیے ۔ 

معروف برطانوی فلسفی برٹرینڈ رسل اپنی کتاب کنکوئسٹ آف ہیپینس میں کہتے ہیں کہ خوشی انعام کی صورت میں نہیں ملتی اسے پانا پڑتا ہے۔ اسے پانے کے لیے انسان کو اپنی اندرونی اور بیرونی دنیا کو بدلنے کی کوششیں کرنا ہوتی ہے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق خوش رہنے کے لیے خوش رہنے کا ارادہ کرنا ضروری ہے۔ اپنے آپ سے خوش رہنے اور پریشان نہ ہونے کا عہد کرنا ہوتا ہے۔ خوشی کو اپنی زندگی کے بڑے مقاصد میں سے ایک بنانا پڑتا ہے۔ خوشی کے چھوٹے سے موقع کو بھی اہم جاننا چاہیے۔ دوسروں کی تعریف کریں شاید ہی کوئی فرد اپنی تعریف نہ سننا چاہے لیکن دوسروں کی تعریف کرنے میں کنجوسی پرتی جاتی ہے۔ اگر کسی نے تھوڑا سا بھی اچھا یا نیکی کا کام کیا ہے تو اس کی تعریف ضرور کرنی چاہیے اور شکریہ بھی ادا کرنا چاہیے۔ یہ کھلے دل کی علامت ہے۔ تنگ دل لوگ نہ خود خوش ہو پاتے ہیں اور نہ ہی دوسروں کو خوش دیکھ پاتے ہیں۔ ان میں خود کو شامل مت کیجیے۔ لوگوں کی مناسب انداز میں تعریف کر کے آپ نا صرف ان کے لیے مسرت کا سامان پیدا کریں گے بلکہ وہ آپ کے بارے میں مثبت تاثر قائم ہوتا ہے۔ گھر ہو یا دفتر تعریف کرنے سے لوگوں کے رویے بہتر ہوتے ہیں۔ 
اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ بے جا تعریف کی جائے۔ معاف کرنا سیکھیں کسی نے آپ کے ساتھ کچھ برا کیا ہو تو دکھ اور تکلیف کا ہونا فطری ہوتا ہے۔ لیکن اگر یہ دل و دماغ پر چھا جائے توانسان ہمہ وقت کوفت میں رہتا ہے جس سے خوشی جاتی رہتی ہے۔ بعض اوقات معاف نہ کرنے کی صورت میں پیدا ہونے والا ذہنی دباؤ ہمیں پریشان کیے رکھتا ہے ۔ یہ تشویش اورمایوسی کو بڑھا کر ہماری خوشی چھین لیتا ہے۔ اس سے چھٹکارہ پانے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ درگزر کو اپنی شخصیت کا حصہ بنالیں۔ معاف کرنا آسان نہیں ہوتا لیکن یہ ناممکن بھی نہیں۔ اگر کسی نے دھوکا دیا ہے تو معاف کرنے کی جانب پہلا قدم یہ ہو گا کہ آپ دھوکا دینے والے کے نکتہ نظر سے حالات کا جائزہ لیں اور یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ اس نے ایسا کیوں کیا ہو گا۔ اس وقت کو یاد کریں جب آپ نے کسی کو معاف کیا تھا۔ اپنے آپ سے کا عہد کریں کہ آپ درگزر سے کام لیں گے اور پھر اس پر قائم رہیں۔ منفی خیالات دور بھگائیں جسمانی صفائی کی طرح ذہنی صفائی بھی لازمی ہے۔
جسم سے میل اور گندگی کو صاف کرنا پڑتا ہے تو ذہن سے منفی خیالات کو۔ان خیالات کی آمد از خود ہوتی ہے تاہم انہیں ذہن سے نکالنے کے لیے شعوری کوشش کرنا پڑتی ہے۔ یہ مختلف طریقوں سے کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے سب سے پہلے اس وقت کویاد کرنا چاہیے جب منفی خیالات وارد نہیں ہوئے تھے۔ اس کے بعد زندگی کے مثبت پہلوؤں کی جانب توجہ مبذول کرنی چاہیے۔ متعدد سرگرمیاں منفی خیالات کو ذہن سے نکالنے میں مدد دیتی ہیں۔ ان میں مراقبہ، سیروسیاحت اور کتب بینی شامل ہیں۔ دولت خوشی نہیں خرید سکتی زندگی کی بنیادی ضروریات کا پورا ہونا ضروری ہے جس کے لیے دولت کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن اگر دولت ہی کو خوشی سمجھ لیا جائے تو خوشی روٹھ جاتی ہے۔
دولت کو سب کچھ سمجھ کر اس کی دوڑ میں بعض لوگ اتنے اندھے ہو جاتے ہیں کہ انہیں اور کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ وہ اپنوں سے دور ہو جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ اپنے لیے بھی وقت نہیں نکال پاتے۔ یقینا دولت چاہیے ہوتی ہے لیکن اسے خوشی کی قیمت پر حاصل نہیں کرنا چاہیے۔ اچھے دوست بنائیں ان افراد سے دوستی کریں جو آپ کا خیال رکھتے ہیں اور جن کے ساتھ وقت بتا کر مسرت کا احساس ہوتا ہے۔ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ زیادہ تعداد میں اچھے دوست رکھنے والے افراد زیادہ خوش و خرم رہتے ہیں۔ پس نئے اور اچھے دوستوں کی تلاش شروع کیجیے۔ مقصد تلاش کریں روزمرہ کی زندگی میں بہت سے کام ہماری ضرورت ہوتے ہیں چاہے ہم انہیں پسند کریں یا نہ کریں۔
مثال کے طور پر ہمیں بعض اوقات اس جگہ بھی ملازمت کرنی پڑتی ہے جہاں ہم کرنا نہیں چاہتے۔ تاہم کچھ فارغ وقت بھی ملتا ہے جسے بہت سے لوگ ٹی وی، فلم یا انٹرنیٹ پر ضائع کر دیتے ہیں۔ اس کی ایک اہم وجہ زندگی میں مقصد نہ ہونا ہے۔ زندگی کا بامعنی اور بامقصد ہونا ضروری ہے ۔ جتنا وقت ملے اپنے مقصد کے حصول کی کوشش کرنی چاہیے۔ چاہے چھوٹا ہو یا بڑا اپنی زندگی کا کوئی مثبت مقصد بنائیں اور اسے پانے کے جتن کریں۔ اس سے خوشی اور روحانی سکون بھی ملے گا اور دوسروں کا بھلا بھی ہو گا۔
محمد اقبال

مشکل حالات سے کیسے نمٹیں؟

مثبت رویہ کامیاب زندگی کی کلید ہے۔ اچھے حالات میں تو مثبت رویہ رکھنا اتنا مشکل نہیں لیکن وقت پلٹا کھا جائے تو ہم اس سے دامن چھڑا لیتے ہیں۔ جان رکھیں کہ ناکامیاں، مشکلات اور پریشانیاں بھی زندگی کا ہی حصہ ہیں، چاہے وہ چھوٹی ہوں یا بڑی، اس لیے اگر آپ واقعی ایک کامیاب شخصیت بننا چاہتے ہیں تو ہر طرح کے حالات میں اپنا رویہ اور سوچنے کا انداز برقرار رکھنا پڑے گا۔ خراب حالات کے باوجود اپنی سوچ کو ہمیشہ بہتر رکھنے کے لیے کچھ آزمودہ طریقے ہیں، جیسا کہ
وقفہ لیں آپ کی زندگی معمول کے مطابق گزر رہی ہو تو ایسا لگتا ہے کہ یہ ہمیشہ ہی ایسی رہے گی، پھر اچانک کچھ ہو جاتا ہے۔ آپ کے تمام منصوبے درہم برہم ہو جاتے ہیں، ہم حیران رہ جاتے ہیں اور پھر ردِ عمل دکھاتے ہیں۔ بد قسمتی سے یہی ردِ عمل بسا اوقات مسئلے کو خطرناک بنا دیتا ہے۔ ہم ایسے فیصلے کرتے ہیں جو اچھی طرح سوچ بچار کے بعد نہیں کیے جاتے۔ اس لیے جب بھی ایسے حالات کا سامنا ہو، کچھ قدم پیچھے ہٹیں اور مسئلے کے بارے میں سوچیں۔ یہ قدم آپ کو اس کا معقول حل سوچنے کا موقع دے گا۔ 
منزل پر نظر ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ ایسے حالات میں توجہ ان چیزوں پر چلی جاتی ہے جن پر نظر ڈالنے کی چنداں ضرورت نہیں ہوتی۔ گاڑیوں کی ریس میں جب ڈرائیور کو مشکل صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ اپنی نظر آگے کی طرف رکھتے ہیں، ورنہ ان کی گاڑی تباہ ہونے کا خطرہ زیادہ ہو جاتا ہے۔ یعنی ان کی نظر ہدف پر رہتی ہے اور یہی رویہ انہیں مسئلے سے باہر نکالتا ہے۔ توجہ حل پر، مسائل پر نہیں خراب حالات خاموش نہیں رہتے، وہ چیخ چیخ کر آپ کی توجہ اپنی جانب مبذول کرواتے ہیں اور آپ اس پر بھرپور ردِ عمل دکھاتے ہیں۔
اتنا کہ اُٹھتے بیٹھتے بات بھی انہی مسائل کے بارے میں کرتے ہیں یعنی انہیں ضرورت سے زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ مسئلے کے بجائے اگر آپ اس کے حل پر بات کریں تو یہ حالات آپ کو بہت کچھ سکھا سکتے ہیں۔ اس لیے شکوہ شکایت کے بجائے مسئلے کے حل کی حوصلہ افزائی کریں اور مثبت نتائج پر زور دیں۔ مثبت طاقت حاصل کریں ذہن کی ساخت کچھ ایسی ہے کہ اسے کسی سمت میں بس دھکا دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ پھر یہ پہاڑی سے لڑھکتے پتھر کی طرح ہو جاتا ہے اور اس سمت میں چلتا چلا جاتا ہے۔ 
اس لیے آپ کو اپنی سوچ کو مستحکم کرنے کے لیے کچھ کام کرنا ہو گا۔ جب خراب حالات آپ کے جذبات کو چھیڑیں تو کسی ایسے دوست سے ملاقات کریں جو آپ کے حوصلے بلند کرے۔ خود کلامی انسان کی سب سے بڑی طاقتوں میں سے ایک اپنی سوچ پر گرفت پانے کی قوت ہے۔ مسائل کے بجائے اپنی زندگی کی اچھی چیزوں پر سوچیں۔ خود سے بات کر کے زندگی کے مثبت پہلوؤں پر دھیان دیں، ان کا لطف اُٹھائیں اور خوشی اور سکون کو محسوس کریں۔ یہ وقت بھی گزر جائے گا اس جملے کو ہمیشہ اپنے ذہن میں تازہ رکھیں۔ کتنے بھی بُرے حالات ہوں، لیکن یہ وقت بھی گزر جائے گا۔ یوں آپ بدترین صورت حال میں بھی امید سے جڑے رہیں گے۔ اس سے آپ کا رویہ بھی بدلے گا، بہتر احساس بھی جنم لے گا اور آپ کو دوبارہ آگے بڑھنے کے لیے راستہ بھی ملے گا۔
 
زرتاشیہ میر

کامیاب افراد صبح 4 بجے کیوں اٹھتے ہیں؟

صبح سورج طلوع ہونے سے پہلے اٹھنا ہوسکتا ہے بیشتر افراد کو ناممکن کام لگتا ہو مگر بڑی تعداد میں کامیاب کاروباری افراد اور لیڈروں کا ماننا ہے کہ علی الصبح 4 بجے بستر سے نکل آنا ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ یہ بات ایک نئی رپورٹ میں سامنے آئی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق صبح بہت جلد اٹھنا کسی فرد کی ذہنی وہ جسمانی کارکردگی میں اضافے کا باعث بنتا ہے کیونکہ اس وقت مداخلت کا امکان نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔
یعنی اس وقت لوگ سوشل میڈیا کو نہیں دیکھتے جبکہ اتنی صبح ایس ایم ایس یا میسجنگ وغیرہ کے لیے بھی کوئی فرد دستیاب نہیں ہوتا۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت کو کام سے ہٹ کر سرگرمیوں جیسے ورزش، ذاتی نگہداشت، ذاتی نشوونما، روحانی نشوونما اور خاندان کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ہمارا جسم دن کے آغاز میں زیادہ متحرک ہوتا ہے، جبکہ ذہن بھی علی الصبھ زیادہ الرٹ ہوتا ہے جس کے باعث ذہنی و جسمانی کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ ایپل کے سی ای او او ٹم کک سمیت اس وقت متعدد کامیاب ترین افراد صبح چار بجے اٹھنے کو اپنی کامیابی کی ایک وجہ قرار دیتے ہیں۔
خیال رہے کہ 1400 سال قبل اسلامی تعلیمات میں بھی صبح جلد اٹھنے کی تاکید کی گئی تھی۔ اب سائنس نے بھی اس کی تصدیق کی ہے تاہم صبح جلد اٹھنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو رات کو جلد سونا ہے۔ اس لیے رات کو دوستوں سے ملنے یا دیگر مشاغل کا وقت کم ہوتا ہے تاہم زندگی میں کامیابی کے لیے اتنی قربانی تو دینی پڑتی ہے۔