کیا ہم خود کو زیادہ خوش رکھ سکتے ہیں؟

خوش رہنے کی دعا عام طور پر دی جاتی ہے جس سے اس انمول شے کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ تاہم خوشی ہر ایک کا نصیب نہیں ہوتی۔ زندگی میں غم اور دکھ ہمارا پیچھا کرتے رہتے ہیں لہٰذا ضروری ہے کہ ان سے چھٹکارہ پانے اور خوشی حاصل کرنے کے طریقوں کا پتا چلایا جائے۔ بعض اوقات انسان خوشی پانے کے ہنر سے آگاہ نہ ہونے پر بھی زندگی کا لطف نہیں اٹھا پاتا۔ ان لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا شروع کریں جن سے آپ کو مسرت اور دلی سکون ملتا ہے۔ عام طور پر ہمارا دن تین حصوں میں تقسیم ہوتا ہے۔ گھر، دفتر اور دوست۔ تینوں میں خوشی کی تلاش اور پریشانیوں سے نجات کے لیے قدرے مختلف حکمت عملی ضرورت ہوتی ہے۔

گھر میں شریک حیات کے ساتھ بہتر اور خوش گوار تعلقات کا ہونا ضروری ہے۔ دفتر میں اپنے ہنر کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ کام کرنے والوں سے اچھا تعلق ہونا چاہیے۔ ایسی جگہ کام کرنے کو ترجیح دینی چاہیے جہاں کا ماحول آپ کو پریشان نہ کرے۔ منفی خیالات اور جذبات کو اپنے ذہن میں نہ آنے دیں کیونکہ یہ ہماری خوشی کے دشمن بن جاتے ہیں۔ ان اندرونی خیالات کی وجہ سے بیرونی خوشی کا احساس نہیں ہو پاتا۔ آئیے اس بارے میں مزید جانتے ہیں۔ خوشی کاارادہ کریں خوش رہنے کے لیے شعوری فیصلہ کرنا چاہیے ۔

معروف برطانوی فلسفی برٹرینڈ رسل اپنی کتاب کنکوئسٹ آف ہیپینس میں کہتے ہیں کہ خوشی انعام کی صورت میں نہیں ملتی اسے پانا پڑتا ہے۔ اسے پانے کے لیے انسان کو اپنی اندرونی اور بیرونی دنیا کو بدلنے کی کوششیں کرنا ہوتی ہے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق خوش رہنے کے لیے خوش رہنے کا ارادہ کرنا ضروری ہے۔ اپنے آپ سے خوش رہنے اور پریشان نہ ہونے کا عہد کرنا ہوتا ہے۔ خوشی کو اپنی زندگی کے بڑے مقاصد میں سے ایک بنانا پڑتا ہے۔ خوشی کے چھوٹے سے موقع کو بھی اہم جاننا چاہیے۔ دوسروں کی تعریف کریں شاید ہی کوئی فرد اپنی تعریف نہ سننا چاہے لیکن دوسروں کی تعریف کرنے میں کنجوسی پرتی جاتی ہے۔ اگر کسی نے تھوڑا سا بھی اچھا یا نیکی کا کام کیا ہے تو اس کی تعریف ضرور کرنی چاہیے اور شکریہ بھی ادا کرنا چاہیے۔ یہ کھلے دل کی علامت ہے۔ تنگ دل لوگ نہ خود خوش ہو پاتے ہیں اور نہ ہی دوسروں کو خوش دیکھ پاتے ہیں۔ ان میں خود کو شامل مت کیجیے۔ لوگوں کی مناسب انداز میں تعریف کر کے آپ نا صرف ان کے لیے مسرت کا سامان پیدا کریں گے بلکہ وہ آپ کے بارے میں مثبت تاثر قائم ہوتا ہے۔ گھر ہو یا دفتر تعریف کرنے سے لوگوں کے رویے بہتر ہوتے ہیں۔

اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ بے جا تعریف کی جائے۔ معاف کرنا سیکھیں کسی نے آپ کے ساتھ کچھ برا کیا ہو تو دکھ اور تکلیف کا ہونا فطری ہوتا ہے۔ لیکن اگر یہ دل و دماغ پر چھا جائے توانسان ہمہ وقت کوفت میں رہتا ہے جس سے خوشی جاتی رہتی ہے۔ بعض اوقات معاف نہ کرنے کی صورت میں پیدا ہونے والا ذہنی دباؤ ہمیں پریشان کیے رکھتا ہے ۔ یہ تشویش اورمایوسی کو بڑھا کر ہماری خوشی چھین لیتا ہے۔ اس سے چھٹکارہ پانے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ درگزر کو اپنی شخصیت کا حصہ بنالیں۔ معاف کرنا آسان نہیں ہوتا لیکن یہ ناممکن بھی نہیں۔ اگر کسی نے دھوکا دیا ہے تو معاف کرنے کی جانب پہلا قدم یہ ہو گا کہ آپ دھوکا دینے والے کے نکتہ نظر سے حالات کا جائزہ لیں اور یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ اس نے ایسا کیوں کیا ہو گا۔ اس وقت کو یاد کریں جب آپ نے کسی کو معاف کیا تھا۔ اپنے آپ سے کا عہد کریں کہ آپ درگزر سے کام لیں گے اور پھر اس پر قائم رہیں۔ منفی خیالات دور بھگائیں جسمانی صفائی کی طرح ذہنی صفائی بھی لازمی ہے۔

جسم سے میل اور گندگی کو صاف کرنا پڑتا ہے تو ذہن سے منفی خیالات کو۔ان خیالات کی آمد از خود ہوتی ہے تاہم انہیں ذہن سے نکالنے کے لیے شعوری کوشش کرنا پڑتی ہے۔ یہ مختلف طریقوں سے کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے سب سے پہلے اس وقت کویاد کرنا چاہیے جب منفی خیالات وارد نہیں ہوئے تھے۔ اس کے بعد زندگی کے مثبت پہلوؤں کی جانب توجہ مبذول کرنی چاہیے۔ متعدد سرگرمیاں منفی خیالات کو ذہن سے نکالنے میں مدد دیتی ہیں۔ ان میں مراقبہ، سیروسیاحت اور کتب بینی شامل ہیں۔ دولت خوشی نہیں خرید سکتی زندگی کی بنیادی ضروریات کا پورا ہونا ضروری ہے جس کے لیے دولت کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن اگر دولت ہی کو خوشی سمجھ لیا جائے تو خوشی روٹھ جاتی ہے۔

دولت کو سب کچھ سمجھ کر اس کی دوڑ میں بعض لوگ اتنے اندھے ہو جاتے ہیں کہ انہیں اور کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ وہ اپنوں سے دور ہو جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ اپنے لیے بھی وقت نہیں نکال پاتے۔ یقینا دولت چاہیے ہوتی ہے لیکن اسے خوشی کی قیمت پر حاصل نہیں کرنا چاہیے۔ اچھے دوست بنائیں ان افراد سے دوستی کریں جو آپ کا خیال رکھتے ہیں اور جن کے ساتھ وقت بتا کر مسرت کا احساس ہوتا ہے۔ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ زیادہ تعداد میں اچھے دوست رکھنے والے افراد زیادہ خوش و خرم رہتے ہیں۔ پس نئے اور اچھے دوستوں کی تلاش شروع کیجیے۔ مقصد تلاش کریں روزمرہ کی زندگی میں بہت سے کام ہماری ضرورت ہوتے ہیں چاہے ہم انہیں پسند کریں یا نہ کریں۔

مثال کے طور پر ہمیں بعض اوقات اس جگہ بھی ملازمت کرنی پڑتی ہے جہاں ہم کرنا نہیں چاہتے۔ تاہم کچھ فارغ وقت بھی ملتا ہے جسے بہت سے لوگ ٹی وی، فلم یا انٹرنیٹ پر ضائع کر دیتے ہیں۔ اس کی ایک اہم وجہ زندگی میں مقصد نہ ہونا ہے۔ زندگی کا بامعنی اور بامقصد ہونا ضروری ہے ۔ جتنا وقت ملے اپنے مقصد کے حصول کی کوشش کرنی چاہیے۔ چاہے چھوٹا ہو یا بڑا اپنی زندگی کا کوئی مثبت مقصد بنائیں اور اسے پانے کے جتن کریں۔ اس سے خوشی اور روحانی سکون بھی ملے گا اور دوسروں کا بھلا بھی ہو گا۔

محمد اقبال

Advertisements

مشکل حالات سے کیسے نمٹیں؟

مثبت رویہ کامیاب زندگی کی کلید ہے۔ اچھے حالات میں تو مثبت رویہ رکھنا اتنا مشکل نہیں لیکن وقت پلٹا کھا جائے تو ہم اس سے دامن چھڑا لیتے ہیں۔ جان رکھیں کہ ناکامیاں، مشکلات اور پریشانیاں بھی زندگی کا ہی حصہ ہیں، چاہے وہ چھوٹی ہوں یا بڑی، اس لیے اگر آپ واقعی ایک کامیاب شخصیت بننا چاہتے ہیں تو ہر طرح کے حالات میں اپنا رویہ اور سوچنے کا انداز برقرار رکھنا پڑے گا۔ خراب حالات کے باوجود اپنی سوچ کو ہمیشہ بہتر رکھنے کے لیے کچھ آزمودہ طریقے ہیں، جیسا کہ

وقفہ لیں آپ کی زندگی معمول کے مطابق گزر رہی ہو تو ایسا لگتا ہے کہ یہ ہمیشہ ہی ایسی رہے گی، پھر اچانک کچھ ہو جاتا ہے۔ آپ کے تمام منصوبے درہم برہم ہو جاتے ہیں، ہم حیران رہ جاتے ہیں اور پھر ردِ عمل دکھاتے ہیں۔ بد قسمتی سے یہی ردِ عمل بسا اوقات مسئلے کو خطرناک بنا دیتا ہے۔ ہم ایسے فیصلے کرتے ہیں جو اچھی طرح سوچ بچار کے بعد نہیں کیے جاتے۔ اس لیے جب بھی ایسے حالات کا سامنا ہو، کچھ قدم پیچھے ہٹیں اور مسئلے کے بارے میں سوچیں۔ یہ قدم آپ کو اس کا معقول حل سوچنے کا موقع دے گا۔

منزل پر نظر ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ ایسے حالات میں توجہ ان چیزوں پر چلی جاتی ہے جن پر نظر ڈالنے کی چنداں ضرورت نہیں ہوتی۔ گاڑیوں کی ریس میں جب ڈرائیور کو مشکل صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ اپنی نظر آگے کی طرف رکھتے ہیں، ورنہ ان کی گاڑی تباہ ہونے کا خطرہ زیادہ ہو جاتا ہے۔ یعنی ان کی نظر ہدف پر رہتی ہے اور یہی رویہ انہیں مسئلے سے باہر نکالتا ہے۔ توجہ حل پر، مسائل پر نہیں خراب حالات خاموش نہیں رہتے، وہ چیخ چیخ کر آپ کی توجہ اپنی جانب مبذول کرواتے ہیں اور آپ اس پر بھرپور ردِ عمل دکھاتے ہیں۔

اتنا کہ اُٹھتے بیٹھتے بات بھی انہی مسائل کے بارے میں کرتے ہیں یعنی انہیں ضرورت سے زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ مسئلے کے بجائے اگر آپ اس کے حل پر بات کریں تو یہ حالات آپ کو بہت کچھ سکھا سکتے ہیں۔ اس لیے شکوہ شکایت کے بجائے مسئلے کے حل کی حوصلہ افزائی کریں اور مثبت نتائج پر زور دیں۔ مثبت طاقت حاصل کریں ذہن کی ساخت کچھ ایسی ہے کہ اسے کسی سمت میں بس دھکا دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ پھر یہ پہاڑی سے لڑھکتے پتھر کی طرح ہو جاتا ہے اور اس سمت میں چلتا چلا جاتا ہے۔

اس لیے آپ کو اپنی سوچ کو مستحکم کرنے کے لیے کچھ کام کرنا ہو گا۔ جب خراب حالات آپ کے جذبات کو چھیڑیں تو کسی ایسے دوست سے ملاقات کریں جو آپ کے حوصلے بلند کرے۔ خود کلامی انسان کی سب سے بڑی طاقتوں میں سے ایک اپنی سوچ پر گرفت پانے کی قوت ہے۔ مسائل کے بجائے اپنی زندگی کی اچھی چیزوں پر سوچیں۔ خود سے بات کر کے زندگی کے مثبت پہلوؤں پر دھیان دیں، ان کا لطف اُٹھائیں اور خوشی اور سکون کو محسوس کریں۔ یہ وقت بھی گزر جائے گا اس جملے کو ہمیشہ اپنے ذہن میں تازہ رکھیں۔ کتنے بھی بُرے حالات ہوں، لیکن یہ وقت بھی گزر جائے گا۔ یوں آپ بدترین صورت حال میں بھی امید سے جڑے رہیں گے۔ اس سے آپ کا رویہ بھی بدلے گا، بہتر احساس بھی جنم لے گا اور آپ کو دوبارہ آگے بڑھنے کے لیے راستہ بھی ملے گا۔

زرتاشیہ میر

کامیاب افراد صبح 4 بجے کیوں اٹھتے ہیں؟

صبح سورج طلوع ہونے سے پہلے اٹھنا ہوسکتا ہے بیشتر افراد کو ناممکن کام لگتا ہو مگر بڑی تعداد میں کامیاب کاروباری افراد اور لیڈروں کا ماننا ہے کہ علی الصبح 4 بجے بستر سے نکل آنا ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ یہ بات ایک نئی رپورٹ میں سامنے آئی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق صبح بہت جلد اٹھنا کسی فرد کی ذہنی وہ جسمانی کارکردگی میں اضافے کا باعث بنتا ہے کیونکہ اس وقت مداخلت کا امکان نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ یعنی اس وقت لوگ سوشل میڈیا کو نہیں دیکھتے جبکہ اتنی صبح ایس ایم ایس یا میسجنگ وغیرہ کے لیے بھی کوئی فرد دستیاب نہیں ہوتا۔

رپورٹ کے مطابق اس وقت کو کام سے ہٹ کر سرگرمیوں جیسے ورزش، ذاتی نگہداشت، ذاتی نشوونما، روحانی نشوونما اور خاندان کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ہمارا جسم دن کے آغاز میں زیادہ متحرک ہوتا ہے، جبکہ ذہن بھی علی الصبھ زیادہ الرٹ ہوتا ہے جس کے باعث ذہنی و جسمانی کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ ایپل کے سی ای او او ٹم کک سمیت اس وقت متعدد کامیاب ترین افراد صبح چار بجے اٹھنے کو اپنی کامیابی کی ایک وجہ قرار دیتے ہیں۔

خیال رہے کہ 1400 سال قبل اسلامی تعلیمات میں بھی صبح جلد اٹھنے کی تاکید کی گئی تھی۔ اب سائنس نے بھی اس کی تصدیق کی ہے تاہم صبح جلد اٹھنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو رات کو جلد سونا ہے۔ اس لیے رات کو دوستوں سے ملنے یا دیگر مشاغل کا وقت کم ہوتا ہے تاہم زندگی میں کامیابی کے لیے اتنی قربانی تو دینی پڑتی ہے۔

حقیقی خوشی دولت سے نہیں ملتی : نئی تحقیق

ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ آمدن دگنی ہونے کی نسبت اچھی صحت اور اچھا شریکِ زندگی لوگوں کی زندگیوں کو زیادہ خوش و خرم بناتا ہے۔ لندن سکول آف اکنامکس کی اس تحقیق میں دو لاکھ لوگوں کی زندگیوں پر مرتب ہونے والے مختلف حالات کا جائزہ لیا گیا۔ اس سے پتہ چلا کہ ڈپریشن یا بےچینی کی بیماری لوگوں کی خوشی پر سب سے زیادہ اثرانداز ہوتی ہے، جب اچھے شریکِ حیات کی وجہ سے سب سے زیادہ خوشی نصیب ہوتی ہے۔ تحقیق کے شریک منصف کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے ‘ریاست کا نیا کردار سامنے آتا ہے۔’ یہ تحقیق دنیا بھر میں کیے جانے والے رائے عامہ کے متعدد بین الاقوامی جائزوں پر مشتمل ہے۔

سائنس دانوں نے معلوم کیا کہ آمدن دگنی ہو جانے سے ایک سے لے کر دس تک کے پیمانے میں خوشی صرف 0.2 درجے کے قریب بلند ہوئی۔ تحقیق کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ اپنی آمدن کے خود پر پڑنے والے اثر کی بجائے دوسروں سے اپنی آمدن کے تقابل کا زیادہ احساس کرتے ہیں۔ تاہم اچھا شریکِ حیات مل جانے سے خوشی میں 0.6 درجے اضافہ ہو جاتا ہے، جب کہ شریکِ حیات کی موت یا علیحدگی سے اسی قدر کمی واقع ہوتی ہے۔ تاہم اس پیمانے پر سب سے زیادہ منفی اثر ڈپریشن اور بےچینی کی بیماری سے پڑتا ہے، جس سے خوشی 0.7 درجے گر جاتی ہے۔ اسی طرح بےروزگاری سے بھی اسی قدر کمی واقع ہوتی ہے۔

تحقیق کے شریک مصنف پروفیسر رچرڈ لیئرڈ نے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاست کو اپنے شہریوں کی خوشی میں نیا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے، اور وہ دولت پیدا کرنے سے زیادہ خوشی پیدا کرنے پر زور دے۔ انھوں نے کہا: ‘شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ جو چیزیں ہماری خوشی اور دکھ میں سب سے زیادہ کردار ادا کرتی ہیں وہ ہمارے سماجی تعلقات اور ہماری ذہنی اور جسمانی صحت ہیں۔

‘ماضی میں ریاست غربت، بےروزگاری، تعلیم اور جسمانی صحت جیسے مسائل کے خلاف جنگ لڑتی رہی ہے۔ لیکن گھریلو تشدد، کثرتِ شراب نوشی، ڈپریشن اور بےچینی، امتحانوں کا دباؤ، وغیرہ بھی اتنے ہی اہم ہیں۔ انھیں مرکزی اہمیت دینے کی ضرورت ہے۔’

سچے کھرے لوگوں کی نشانیاں

سچے اور کھرے، جن کے اندر کوئی بناوٹ اور تصنع نہ ہو، ایسے افراد کی تلاش ایک بڑا مشکل کام ہے اور آج کے زمانے میں تو چراغ چھوڑئیے، سرچ لائٹ لے کر نکلنے سے بھی ایسے لوگ بمشکل ملیں گے، لیکن کیا آپ ایسے لوگوں کی پہچان جانتے ہیں؟ ہوسکتا ہے کہ وہ دفتر میں آپ کے برابر میں بیٹھا ہوا شخص ہی ہو؟ آپ کو ایسے افراد کی کچھ علامتیں بتاتے ہیں، امید ہے آپ کو ڈھونڈنے میں آسانی ہوگی۔

1-ایسے لوگ جیسے ہوتے ہیں، ویسے ہی نظر آتے ہیں۔ یہ ایسا کرنے یا بننے کی کوشش نہیں کرتے کہ جس کی وجہ سے لوگوں کی نظروں میں پسندیدہ بن جائیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ لوگوں کی پروا نہیں کرتے بلکہ وہ ایسے فیصلے کرنے میں بھی نہیں چوکتے جو ہر دل عزیز نہ ہوں۔ وجہ سادہ سی ہے، سچے اور کھرے لوگوں کو دوسروں کی توجہ کی ضرورت نہیں ہوتی، وہ شو بازی نہیں کرتے۔

2- دوسری نشانی یہ ہے کہ وہ دوسروں کے لیے فتوے جاری نہیں کرتے۔ یہ کھلے ذہن کے ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے لوگ ان تک رسائی بھی حاصل کرتے ہیں اور دلچسپی بھی دکھاتے ہیں۔ ایسے شخص سے بھلا کون بات کرنا چاہے گا، جو پہلے ہی اپنی رائے بنا چکا ہے اور کسی کی سننے کو تیار نہیں۔

3- سچے ، کھرے اور حقیقی افراد اپنا راستہ خود متعین کرتے ہیں۔ یہ اپنے اطمینان اور خوشی کے احساس کو دوسروں کی رائے پر نہیں بناتے۔ وہ جانتے ہیں کہ وہ کون ہیں اور یوں وہ کچھ اور بننے کی اداکاری نہیں کرتے۔ کس سمت میں جانا ہے ،اس کا تعین ان کے اندر سے ہوتا ہے، اپنے اصولوں اور اپنی اقدار سے۔

4- حقیقی افراد کی ایک اور پہچان یہ ہوتی ہے کہ وہ سخی ہوتے ہیں۔ چاہے معاملہ آپ کو کچھ سکھانے کا ہو، کام کے گر اور راز بتانے کا ہو یا پھر مالی پریشانی میں مدد کا۔ وہ اپنے علم اور مال کو کبھی خود تک محدود نہیں رکھتے۔ ساتھ ہی وہ سب کی عزت کرتے ہیں۔ وہ کبھی خواہ مخواہ اور زبردستی کے عزت دار بننے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ سب کو یکساں احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ چاہے وہ ان کے منیجر ہوں یا جس ہوٹل میں دوپہر کا کھانا کھاتے ہیں، وہاں کا بیرا۔

5- کھرے لوگوں کی ایک پہچان یہ ہے کہ وہ مادہ پرست نہیں ہوتے اور خوشی کے لیے کسی چمکتی دمکتی نئی چیز کے محتاج نہیں ہوتے۔ آپ کو آجکل ایسے لوگ نظر آتے ہوں گے، جو زبردست اور جدید ترین چیزیں خرید کر سٹیٹس بنانے اور عزت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کچھ کرنے کے بعد بھی خوش اور مطمئن نہیں ہو پاتے۔ خوشی دراصل اندر سے پیدا ہونے والا ایک احساس ہے، اسے باہر سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

6- قابل اعتماد ہونا بھی سچے اور کھرے لوگوں کی ایک بڑی نشانی ہے۔ لوگ ان کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں، انہیں اپنا ہم راز بناتے ہیں، اپنی مشکلات سامنے رکھتے ہیں کیونکہ وہ ان پر بھروسہ کرتے ہیں کیونکہ ایسے لوگ جو کہتے ہیں وہ کرتے ہیں۔ اگر وہ وعدہ کرتے ہیں، تو اسے پورا کرتے ہیں۔

7- ایسے لوگوں کی آخری اہم ترین علامت یہ ہے کہ یہ انا پرست ہرگز نہیں ہوتے۔ انہیں اپنے اندر کے خوشی کے احساس کو بڑھانے کے لیے بیرونی تعریفوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ نہ ہی انہیں شہرت کی طلب ہوتی ہے اور نہ ہی یہ دوسرے لوگوں کی کامیابی کا سہرا اپنے سر پر باندھتے ہیں۔ یہ منافق نہیں ہوتے، وہ جوکہتے ہیں وہ کرتے ہیں۔ ایسا نہیں کہ وہ آپ کے سامنے کچھ اور کہتے ہوں، لیکن پس پردہ کچھ اور ہوں۔

زندگی میں سب سے زیادہ پچھتاوا کس چیز کا ہے؟

زندگی میں پچھتاوا کس شخص کو محسوس نہیں ہوتا مگر وہ کون سے فیصلے ہوتے ہیں جو لوگوں کو سب سے زیادہ پچھتانے پر مجبور کردیتے ہیں؟ درحقیقت زندگی میں مواقعوں کو چھوڑ دینے کا پچھتاوا ایسا ہوتا ہے جو زندگی بھر پیچھا نہیں چھوڑتا۔ یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔ کارنیل یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے دوران عمر کی 7 ویں دہائی گزارنے والے افراد سے پوچھا گیا کہ اگر انہیں ماضی میں کچھ کرنے کا موقع دیا جائے تو وہ کیا چیز دوبارہ کرنا پسند کریں گے؟

تو جواب میں سامنے آیا کہ ایسی چیزیں جو نوجوانی میں نہیں کرسکیں وہ اس کی تلافی کرنا پسند کریں گے۔ جیسے تعلیم مکمل کرنا، کیرئیر میں ترقی کا عزم، اپنی شخصیت کا خیال رکھنا وغیرہ۔ تحقیق کے مطابق جب ہم پچھتاوے کے بارے میں سوچتے تو ہم میں سے بیشتر کے لیے سب سے بڑا پچھتاوا وہ چیزیں ہوتی ہیں جو ہم کسی نہ کسی وجہ سے کر نہیں پاتے، حالانکہ ہمارے پاس وقت، پیسے یا توانائی بھی ہوتی ہے۔ محققین کا کہنا تھا کہ لوگوں کو سب سے زیادہ پچھتاوا اس بات کا ہوتا ہے کہ ہمارے پاس موقع تھا مگر ہم نے کچھ کیا نہیں، یا ہم نے بہت زیادہ انتظار کیا۔

معاف کرنا سیکھیے

ستائیس برس جیل میں قیدکاٹنے کے بعد جب نیلسن مینڈیلاآزاد دنیا میں واپس آیا تو ہر چیز بدل چکی تھی۔ سب سے انقلابی تبدیلی جدوجہدکاکامیاب ہوناتھا جس کی بدولت سفید فام اقلیت کے ظلم اوراقتدارکاسورج غروب ہوچکا تھا۔ جنوبی افریقہ میں سیکڑوں برس کے بعد سیاہ فاموں کو اپنے ملک پرحکومت کرنے کاموقعہ ملاتھا۔ شہربدل چکے تھے۔ گھر بدل چکے تھے۔ لوگ بدل چکے تھے۔ مگرسب سے بڑی بات یہ تھی کہ نیلسن مینڈیلاخودبھی بدل چکاتھا۔

گورے خوف سے کانپ رہے تھے کہ ان کے ساتھ کیا سلوک روارکھاجائے گا۔ پورا ملک خاموش تھا۔ یہ گیارہ فروری 1990ء کادن تھا۔
نیلسن مینڈیلا’’وکٹرورسٹر‘‘جیل سے آزاد ہورہاتھا ۔ سب کواندازہ تھاکہ وہ ملک کاصدر ہوگا۔ جیلر سوچ رہاتھاکہ اب ملک سے فرارہوجاناچاہیے کیونکہ اس نے تنہائی، جسمانی اذیت اورذہنی  تشدد سمیت  نیلسن مینڈیلا کو ہر بلاکے سامنے ڈال دیاتھا۔ قیدخانے سے نکلتے وقت مینڈیلا واپس مڑا۔ جیلرسے ہاتھ ملایا۔ اس کے خاندان کی خیریت پوچھی ۔ شکریہ ادا کیا اور باہر آگیا۔ لاکھوں کا ہجوم اس کا منتظر تھا۔وقت نے اختیارات کی تلواراس کے نحیف ہاتھوں میں تھمادی تھی۔ اس کے ساتھ ہروہ زیادتی کی گئی جو ممکن تھی مگر مینڈیلا نے زندگی کاسب سے بڑاسبق سیکھ لیا تھا۔

ہرایک کو دل سے معاف کرکے اپنے ملک کو ترقی کی شاہراہ پرگامزن کرنے کاسبق۔ پرسی یوتر جنوبی افریقہ کاکامیاب ترین سفید فام وکیل تھا۔ وہ دل سے قائل تھاکہ کالوں کوحکومت کرنے کاکوئی حق نہیں۔1963ء میں پرسی نیلسن مینڈیلاکے خلاف حکومت کی طرف سے وکیل مقررہوا تھا۔ مشہورمقدمہ جسے رائے وؤنیاٹرائل کہاجاتاہے ۔ نیلسن مینڈیلاکوعمرقیدکی سزاسنائی گئی۔ اسے زنجیریں پہنادی گئیں اور روبن آئس لینڈ  کی اذیت گاہ میں منتقل کردیاگیا۔ فیصلے  کے بعد پرسی اپنے ملک کا نجات دہندہ قرار دیاگیا۔ ایک ایسا کامیاب وکیل جس نے دنیاکے خطرناک ترین ملزموں کوان کے منطقی انجام تک پہنچا ڈالا۔

نیلسن مینڈیلا کا صدربننا پرسی کے لیے موت کے پیغام جیسا تھا۔ وہ ملک سے بھاگنے کامنصوبہ بنارہاتھا کہ ایوان صدرسے پیغام آیا کہ صدر اس کے اعزاز میں کھانا دینا چاہتے ہیں۔ پرسی سمجھاکہ یہ ایک مذاق ہے۔ اپنے خاندان کوبتاکرگیاکہ اسے قصرِصدارت میں بلاکرقتل کردیاجائے گا یاجیل بھیج دیاجائے گا۔ مینڈیلا نے دروازے پر اسے خوش آمدیدکہا۔ سادہ سے کھانے کا اہتمام تھا۔ کھانے کے بعد مینڈیلا نے پرسی کا شکریہ ادا کیا اور اسے معاف کردیا اور یہ کہاکہ وہ تو محض وکیل کی حیثیت سے اپنے فرائض پورے کررہاتھا۔ پرسی کئی دن دھاڑیں مارمارکرروتارہا۔
کرسٹوبرینڈجیل کا ایک ملازم تھا۔ ایسا دیہاتی جوزیادہ تعلیم یافتہ بھی نہیں تھا تاہم  وہ سمجھتا تھا کہ جنوبی افریقہ میں امن صرف اس لیے ہے کہ وہاں انگریز حکومت کررہے ہیں۔ اس کا تبادلہ روبن آئی لینڈکی جیل میں کردیاگیا۔جب ڈیوٹی پرپہنچا توجیلرنے بتایاکہ جیل میں دنیا کے خطرناک ترین مجرم رکھے گئے ہیں۔ اسے حکم دیا گیاکہ جانورنماانسانوں سے کم سے کم رابطہ رکھنا چاہیے اوریہ کسی رعایت کے حقدارنہیں ہیں۔ کرسٹو انتہائی درشت رویہ کا حامل تھا۔ ڈیوٹی بی سیکشن میں لگادی گئی۔ یہاں کئی قیدی تھے۔ نیلسن مینڈیلاان میں سے ایک تھا۔جب وہ پہلی باراحاطے میں گیا توصبح کاوقت تھا۔
قانون کے مطابق تمام خطرناک قیدیوں کو ایک گھنٹے کے لیے کھولا گیا۔ مینڈیلاآہستہ آہستہ چلتا ہوا کرسٹو کے پاس آیااورپوچھنے لگاکہ تم نئے افسرہو۔کرسٹونے سختی سے جواب دیا’’ دفع ہوجاؤاوراپنے کام سے کام رکھو‘‘ مینڈیلا خاموشی سے اپنی کوٹھڑی کی صفائی میں مصروف ہوگیا۔ کئی دن گزر گئے۔ دونوں کے درمیان کوئی مکالمہ نہ ہوا۔ ایک دن مینڈیلا دوبارہ اس کے پاس آیا اور کہا کہ جیل کے احاطہ میں چندسبزیاں اورپودے لگانے کی اجازت دی جائے۔ کرسٹو نے پھراسکی بے عزتی کی اورانکارکردیا۔ گھر واپس آکر کرسٹو جیل کے قوانین کامطالعہ کرتارہا۔وہاں سبزیوں کے بیج فراہم نہ کرنے کے متعلق کوئی قانون نہیں تھا۔
کرسٹو نے خبطی بوڑھے کوچند بیج لادیے۔ مینڈیلانے مٹی میں کیاری بنائی اورکھرپہ سے تمام بیج لگادیے۔ کرسٹونے محسوس کیاکہ عجیب قیدی ہے۔ یا تومطالعہ کرتارہتا ہے یا پھر کیاریوں میں پودوں کی دیکھ بھال کرتا رہتا ہے۔ بہرحال قوانین کے مطابق خطرناک قیدی سے بہت کم باتیں کرتا تھا۔ کوئی ایسا ذہنی تشددنہیں جوکرسٹو نے منڈیلا پرنہ کیا ہو۔ جب مینڈیل صدر بنا، توکرسٹو کو بلوایا۔اس کے ساتھ ڈھیروں تصاویربنوائیںاور معاف کردیا۔معافی کی بازگشت پوری دنیامیں گونجی۔جنوبی افریقہ کے لوگوں میں صدرکا رویہ دیکھ کرصلح پسندی اور امن کے جذبات ابھرنے لگے۔
جنوبی افریقہ میں سب سے مقبول کھیل رگبی تھا۔ وہاں  نام کی ایک سفیدفام ٹیم تھی۔ گہرے سبزرنگ کی بنیان پہنتی تھی۔ اس کے کھلاڑی سیاہ فام ٹیم سے نفرت کرتے تھے۔ رگبی کی اس ٹیم کوسفیدفام بالادستی کا نشان تصور کیا جاتا تھا۔ ٹیم سیاہ جلدوالوں کے لیے نفرت کانشان تھی۔ مینڈیلا کورگبی سے خاصا لگاؤتھا۔آزادی حاصل کرنے کے بعد ساؤتھ افریقہ میں رگبی کاورلڈکپ ہوا۔ پوری دنیاسے کھیل کی مایہ نازٹیموں نے حصہ لیا۔سب کاخیال تھاکہ ملک کاصدراس ٹیم کی حوصلہ افزائی نہیں کرے گا۔
بلکہ گمان تھاکہ اس ٹیم کو ٹورنامنٹ میں حصہ نہیں لینے دیا جائے گا۔مینڈیل انے سب کے اندازے غلط ثابت کردیے۔ میچ والے دن گہرے سبزرنگ کی شرٹ پہن کراسٹیڈیم میں آگیا۔ تماشائیوں کو سانپ سونگھ گیا۔
مینڈیلانے اسپرنگ بک کے حق میں نعرے لگانے شروع کردیے۔اس کے کپتان فرینکواس کوبلاکرگلے لگالیا۔ کہا کہ ٹیم اب جنوبی افریقہ کی ٹیم ہے۔ اسے ہرقیمت پرجیتناہوگا کیونکہ یہ پورے ملک کی عزت کا سوال ہے۔فرینکواس اوراس کی ٹیم اس جذبے سے کھیلی کہ ٹورنامنٹ جیت گئی۔ مینڈیلا سبزلباس پہنے میدان میں آیااور اپنے ہاتھوں سے کپتان کوٹرافی دی۔ اس نے دنیا کو پیغام دیا کہ وہ اپنے ملک کونسلی تعصبات سے آگے لے جانا چاہتا ہے اور اپنے دشمنوں کومعاف کرنے کاحوصلہ رکھتاہے۔
اب اپنے ملک  پرنظرڈالیے۔کسی شعبہ پرغور کیجیے۔ خواہ وہ سیاسی ہو،سرکاری ہو،سماجی ہو،مذہبی ہویااقتصادی ہو۔ ہرجگہ آپکودرشتی،انتقامی ذہنیت اوربے رحمی کے اوصاف نظر آئیںگے۔سب سے پہلے سرکاری شعبہ سے شروع کروں گا۔ صرف اس لیے کہ میراتعلق اسی شعبہ سے ہے۔ بہت سے ایسے افسروں کوجانتاہوں جنہوں نے اپنی پوری زندگی دوسروں کونقصان پہنچانے میں صَرف کردی ہے۔ اپنے سے پہلے موجود افسروں کی کمزوریاں نکال کرانھیں تکلیف پہنچانے کو ثواب سمجھتے ہیں۔عام لوگوں کوہروقت گالیاں دیتے ہیں۔ ان کی بے عزتی کرکے خوش ہوتے ہیں۔
سیاستدانوں کے عام سے سفارشی رقعوں کی فوٹوکاپیاں کراکراپنے جیسی منفی صفات کے مالک افسروں میں تقسیم کرتے ہیں۔ بتاتے ہیں کہ آج فلاں اہم آدمی کے کہنے کے باوجودکام نہیں کیا۔ یہ نہیں بتاتے کہ کام میرٹ پرہونے والاتھا یا نہیں۔ میرے پاس درجنوں افسروں کے نام ہیں جنہوں نے پوری زندگی خلقِ خداکے فائدے کے لیے کوئی کام نہیں کیا۔ وہ اذیت پسندی کا ایسا نشان ہیں جنھیں ہمار انظام اپنی کمزوری کی بدولت برداشت کررہاہے۔
آپ سیاست پرنظرڈالیے۔ تقریباًہرسیاستدان کی ایک معمولی سی خواہش ہے کہ اس کے مخالفوں کے سر درختوں سے لٹکے ہوں۔ مذہبی حلقوں نے اپنے اپنے مسلکی قلعے تیار کررکھے ہیں۔ہرفرقہ دوسرے کوکھرامسلمان نہیں سمجھتا۔ ایک دوسروں کوواجب القتل قراردیناعام سی بات ہے۔ حد تو یہ ہے کہ کاروباری طبقہ بھی ایک دوسرے کے خلاف اسی طرح سربکف ہے۔ایک کانقصان دوسرے کا فائدہ ہے۔نجی شعبہ میں اقتصادی دشمنی عروج پرہے۔میں ہر شعبہ سے اَن گنت مثالیں دے سکتاہوں جہاں ایک دوسرے کے لیے صرف اور صرف انتقام اوربربادی کے جذبات ہیں۔
اپنے ملک کو ناکام ریاست بالکل نہیں سمجھتا۔ مگراسے ایک مشکل سماج ضرورگردانتاہوں۔ہرشخص کسی نہ کسی اندھے انتقام کی آگ میں جل رہاہے۔اس کے دل میں یہ احساس موجزن رہتاہے کہ اپنے مخالف کوسبق ضرور سکھائے۔ صاحبان! یہاں زخموں پرمرہم رکھنے والے لوگ بہت ہی کم ہیں یاشائد خاموش ہوچکے ہیں۔کسی شعبہ میں نیلسن مینڈیلا جیسا بے لوث انسان نظرنہیں آتا جو اذیت پہنچانے والے کو بھی معاف کرنے کا ظرف رکھتا ہو 
راؤ منظر حیات