مکلی کا تاریخی قبرستان اور شاہ جہانی مسجد

ٹھٹھہ کے تاریخی قبرستان ’’مکلی‘‘ کے تاریخی قبرستان میں پانچ لاکھ سے زیادہ
قبریں اور مقبرے موجود ہیں۔ اس شہر خموشاں میں بہت سے بزرگ، شہدا، ولی اور اللہ والے مدفون ہیں۔ قبرستان میں داخل ہوتے ہی یہاں کے مکینوں کے لیے فاتحہ پڑھی۔ یہاں آ کر دل کو سکون ملا۔ شہر خموشاں میں تھوڑی دیر گزار کر تاریخی شاہجہانی مسجد کا رُخ کیا اور یہاں جمعہ کی نماز ادا کی۔ رانا یوسف اور فاروقی صاحب خوبصورت اور مغلیہ فن تعمیر کا شاہکار مسجد اور اس کے بے شمار گنبدوں کو دیکھ کر دنگ رہ گئے۔

بدین کے قریب پہنچ کر 2011-12ء میں یہاں سیلاب کا دور یاد آگیا جب ہر طرف پانی ہی پانی تھا۔ بدین شہر مکمل طور پر پانی میں ڈوبا ہوا تھا۔ پانی کا سمندر عبور کر کے کشتیوں میں جا کر متاثرین کی خدمت کی تھی۔ 2011ء کے آخر میں بدین آنا شروع ہوئے اور اب چھ سال گزر چکے اہل سندھ کی مسلسل خدمت جاری ہے۔ کیمپ کے بعد زیر تکمیل کنواں دیکھنے گئے 250 فٹ سے زیادہ گہرائی والا بڑا کنواں دیکھ کر دل راضی ہو گیا۔ 

جھانک کر اس کنوئیں کی دور سے نظر آنے والی پاتال میں صاف پانی کے چمکتے ذرات دیکھ کر دل کو خوشی ہوئی۔ مگر دور تک نظر دوڑانے سے ایک دم چکر سا آگیا۔ سلام کنواں بنانے والوں پہ کہ انہوں نے بڑی مہارت کے ساتھ جان کی پرواہ کیے بغیر 250 فٹ نیچے اتر کر کنوئیں کی کھدائی کی۔ شفیق فاروقی صاحب کہنے لگے کہ ترکی کی ایک شاعرہ کہتی ہے کہ مجھے اس بات کا ہمیشہ ملال رہے گا کہ جوانی کی عمر بے مقصد گزار دی۔

لیکن اب جو باقی ہے وہ تیری نظر ہے۔ دعا ہے بقایا زندگی اے مالک دو جہاں! تیری یاد میں، تیری مخلوق خدا کی خدمت میں گزر جائے۔ شعر سنا کر درویش بولے کہ میرا حال بھی ترکی شاعرہ جیسا ہے اب میری بھی اب یہی خواہش ہے کہ باقی زندگی میں آپ لوگوں کے ساتھ مخلوق خدا کی خدمت میں گزار دوں۔ یہ کہتے کہتے وہ آبدیدہ ہو گئے ۔

ڈاکٹر آصف محمود جاہ

Advertisements

مغلیہ دور کا شاہکار : 99 گنبدوں والی شاہجہاں مسجد

یہ ایک عظیم الشان مسجد ہے جو ہنوز زیر استعمال ہے اور یہ شہر ٹھٹھہ میں ہے مقامی تواریخ کے مطابق یہ شہنشاہ شاہجہان کا ایک تحفہ تھا جو اس نے شہر کی مہمان نوازی کے اعتراف کے طور پر دیا جب وہ اپنے والد سے باغی ہو کر کچھ عرصہ یہاں پناہ گزین رہا تھا یہ 1644ء میں شروع ہوئی اور 1647ء میں مکمل ہوئی لیکن اس کی فرش بندی گیارہ سال بعد تک ہوتی رہی اس پر 9 لاکھ روپے لاگت آئی یہ ایک کاروان سرائے کی شکل میں بنی ہے ایک بڑا صحن ہے جس کے اردگرد 90 گنبد ہیں کمروں کی غلام گردش ہے جبکہ ایک طرف کے وسط میں اصل مسجد ہے اور اس کے مقابل اس کا مثنیٰ ہے یہ 190X315 ہے اور 6316 مربع گز زمین گھیرے ہوئے ہے بیرونی حصہ بالکل سادہ اور سفید ہے جبکہ پورا اندرونی حصہ زمین سطح سے بلند ترین گنبد کے مرکز تک رنگین ٹائیلوں سے بنا ہوا ہے جن میں نہایت حیرت انگیز تنوع کے خوبصورت نمونے کنندہ ہیں۔ 
پہلوئوں کے چھوٹے چھوٹے گنبد ایسے نمونوں سے لائے ہوئے نہیں ہیں لیکن شروع میں وہ بھی ایسے ہی تھے یہ عمارت بہت بری طرح مرمت طلب تھی جب سربارٹل فریدے نے 1855ء میں چندہ جمع کر کے اسے بچا لیا جس میں حکومت نے بھی 5 ہزار روپے دیے تھے۔ 1894ء میں اس طرح ساڑھے 20 ہزار روپے جمع کیے گئے اور ہالہ اور ملتان میں بنی ہوئی ٹائیلوں سے دیواروں کے عریاں چہروں کو بحال کیا گیا۔ نیا کام پرانے کے معیار کا تو نہیں ہے لیکن خوش قسمتی سے دیواروں کے زیریں حصوں پر ہی زیادہ کام کی ضرورت تھی جہاں نمونے نسبتاً سادہ ہوتے ہیں اوپر کی طرف نمونے مربع یا چھ طرفی ٹائیلوں پر کنندہ نہیں کیے گئے جیسا کہ مکلی پہاڑیوں کے مقابر پر ہیں بلکہ ان پر مختلف رنگوں اور شکلوں کی باریک ٹائیلوں کے ساتھ پچی کاری کی گئی ہے۔
شیخ نوید اسلم