صحرائے چولستان میں تاریخی قلعہ دراوڑ کے قریب ڈیزرٹ جیپ ریلی

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں صحرائے چولستان میں تاریخی قلعہ دراوڑ کے قریب 13 ویں چولستان ڈیزرٹ جیپ ریلی کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔

اس جیپ ریلی میں ملک بھر سے 100 سے زائد جبکہ کینیڈا اور تھائی لینڈ سے تعلق رکھنے والے تین غیرملکی ڈرائیورز بھی حصہ لے رہے ہیں۔

صوبہ پنجاب کے محکمہ سیاحت کے جانب سے جیپ ریلی کا آغاز سنہ 2005 میں ہوا تھا جس کا مقصد پنجاب میں موٹو سپورٹس کا فروغ ہے۔

اس جیپ ریلی کا روٹ چولستان صحرا میں تین اضلاع بہاولپور، بہاولنگر اور رحیم یار خان میں تقریبا 450 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔

اس چار روزہ تقریب میں جیپ ریسوں کے علاوہ علاقائی ثقافت اور مقامی فنکاروں کے فن کا مظاہرہ بھی کیا جاتا ہے۔

 

Advertisements

کیا ہے ہمارے پاس، کچھ بھی تو نہیں

چہرے پر کمزوری اور تکلیف کے آثار، ہاتھوں اور سینے پر جھلسنے کے بعد گہرے زخم لیے مجید قمبرانی ہسپتال سے چھٹی ملنے کے بعد اپنی زمین پر پہنچے ہیں۔ وہی زمین جہاں اٹھارہ ماہ کی محنت کے بعد تیار ہونے والی گنے کی فصل، کٹ تو گئی ہے لیکن زمین پر ہی پڑی سوکھ رہی ہے۔ مجید قمبرانی میر پور خاص سندھ کے چھوٹے کاشتکار ہیں، یہ سوچ کر کہ شوگر ملیں چلیں گی اور وہ اپنا گنا بیچیں انھوں نے اپنی فصل کٹوائی تھی تاکہ رقم ملنے پر اپنا ادھار چکائیں اور بیٹی کی شادی کی تاریخ بھی مقرر کریں۔ لیکن سندھ کی بیشتر شوگر ملیں اکتوبر میں چلنے کے بجائے اب سے چند دن قبل چلنا شروع ہوئی ہیں۔

ملک بھر اور خصوصاً سندھ میں کسان، گنے کی مقررہ قیمت نہ ملنے اور شوگر ملیں نہ چلنے پر احتجاج کر رہے تھے۔ مجید بھی ایسے ہی ایک احتجاج میں شریک تھے، جہاں حالات سے دلبرداشتہ ہو کر انھوں نے خود کو آگ لگا کر مارنے کی کوشش کی۔ ان کی زندگی تو بچ گئی لیکن اُن کے جسم کے کچھ حصے جھلس گیا۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مجید قمبرانی نے بتایا کہ ‘بس جذبات میں، ٹینشن میں، پریشان تھا، مجبور تھا میں نے سوچا اس سے بہتر ہے مر جاؤں، جان چھٹ جائے گی۔ میرا بازو ایسے جل رہا تھا جیسے لکڑی کو آگ لگی ہو۔’

مجید قمبرانی کہتے ہیں کہ ’ہم اپنے بچوں سے زیادہ فصل کا خیال کرتے ہیں۔ اگر ملیں وقت پر چلیں تو ہمیں بھی کچھ رقم مل جائے۔ کچھ بھلا ہو جائے۔’ اٹھارہویں ترمیم کے بعد زراعت کا محکمہ صوبائی حکومت کو ملنے کے بعد سے گندم اور گنے سمیت اجناس کی امدادی یا کم سے کم قیمت کا اعلان کرنا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ قانون کے تحت سندھ کی شوگر ملوں میں گنے کی کرشنگ کا آغاز 15 اکتوبر سے شروع ہونا اور کرشنگ کے آغاز سے ایک ماہ قبل امدادی قیمت کا اعلان کرنا لازم ہے لیکن کسانوں کی جانب سے احتجاج کے بعد سندھ حکومت نے دسمبر میں گنے کی امدادی قیمت 182 روپے فی من مقرر کی۔ سندھ میں سات لاکھ ایکٹر زمین پر کھڑی گنے کی فصل تو پک کر تیار ہو گئی لیکن دوسری جانب شوگر ملیں گنا خریدنے کو تیار نہیں ہیں۔

کسانوں کے احتجاج کے بعد سندھ میں حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے رہنما آصف زرداری نے شوگر ملیں فوری کھلوانے کا اعلان کیا لیکن شوگر ملیں نہ چلنے سے کاشتکاروں کو کافی نقصان ہوا ہے۔ کسانوں کے حقوق کے لیے آواز اُٹھانے والی تنظیم فارمرز آرگنائیزیشن کونسل کے سندھ کے صدر جاوید جونیجو کہتے ہیں کہ یہ پہلی مرتبہ ہے جب سندھ میں شوگر ملوں نے جنوری میں کرشنگ شروع کی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ’سندھ میں 29 میں سے 19 شوگر ملیں ایک بڑے گروپ کی ہیں، اس لیے اُن کی اجارہ داری ہے۔’ جاوید جونجیو کہتے ہیں کہ شوگر ملیں کاشتکاروں کو سرکاری نرخ 182 روپے فی من بھی نہیں دے رہی ہیں اور دیر سے ملیں چلنے سے کاشتکاروں کو نقصان ہو رہا ہے۔

ادھر مجید قمبرانی بھی اپنے گنے کا وزن سوکھ کر آدھا رہ جانے پر بہت پریشان ہیں کیونکہ وزن کم ہونے سے اس کی قیمت بھی کم ملے گی۔ انھوں نے بتایا کہ ’دو سے تین لاکھ روپے خرچ آتا ہے، بیج ڈالتے ہیں کھاد لیتے ہیں ادھار پر، پیسے نہیں ملیں گے تو مقروض ہو جاؤں گا۔’  پنجاب حکومت نے گنے کی فی من امدادی قیمت 180 روپے مقرر کی تھی، جس کے بعد سندھ حکومت نے گنے کی امدادی قیمیت 182 روپے فی من مقرر کی۔ دوسری جانب شوگر ملز مالکان کا کہنا ہے کہ یہ قیمت بہت زیادہ ہے۔ سندھ حکومت کی جانب سے اعلان کردہ امدادی قیمت کے خلاف شوگر ملز سمیت دیگر فریقین نے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔ جاوید جونیجو کہتے ہیں کہ سندھ میں گنے کے کاشتکاروں کے مسائل گذشتہ آٹھ سال سے بڑھ رہے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ’آٹھ سال پہلے جب چینی چالیس روپے فی کلو تھی تو یہ ہم سے ڈھائی سو روپے فی من گنا خریدتے تھے اب چینی پچاس روپے سے اوپر ہے اور یہ اب ایک سو بیاسی روپے فی من بھی دینا نہیں چاہتے۔ یہ جان بوجھ کر ہمارے ساتھ زیادتی کرتے ہیں۔’ کسانوں کو گنے کی فی من قیمت کا معاملہ تو اب عدالت میں زیر سماعت ہے لیکن کاشتکاروں کا الزام ہے کہ شوگر ملز مالکان اور بااثر حکومتی افراد کے روابط کے سبب کسانوں کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔ مجید قمبرانی کہتے ہیں کہ ’حکومت کو چاہیے ہمارے جیسے غریب کسانوں کا خیال کرے، کیا ہے ہمارے پاس، کچھ بھی نہیں ہے۔’

سارہ حسن
بی بی سی اردو، میر پور خاص
 

کھیر تھر پارک : وادی کوہ تراش

کھیر تھر پارک میں کرچات سینٹر سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع کوہ تراش کی وادی آج بھی انسانی تہذیب کو اپنے دامن میں لپیٹے ہوئے ہے کوہ تراش فارسی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں تراشنے والوں کا پہاڑ۔ پہاڑ اور اس کے نواح میں 3500 قبل از مسیح کے انسانی تہذیب کے آثار ملے ہیں یہ آثار ایک مکمل آبادی اور تہذیب کے بھر پور شواہدات فراہم کرتے ہیں۔ کھیر تھر پارک کا علاقہ جغرافیائی لحاظ سے خشک خطوں میں شمار کیا جاتا ہے اور بنیادی طور پر یہ علاقہ بارانی رہا ہے تاہم یہاں پر سالانہ بارش کا اوسط 6 سے 8 انچ رہا ہے۔ 1994ء سے یہ علاقہ مکمل طور پر خشک سالی کا شکار ہے۔ پہاڑوں پر سے گھاس پھونس، ترائی میں درختوں سے سبزہ اور موسمی ندی نالوں میں پانی خشک ہو گیا ہے اور صورتحال بدتر ہو چلی ہے۔

کھیر تھر نیشنل پارک کو عالمی حیثیت کے حامل ہونے کے علاوہ ملکی قوانین کے تحت بھی تحفظ حاصل ہے سندھ وائلڈ لائف آرڈیننس کے تحت کھیر تھر نیشنل پارک کی حدود میں کسی بھی قسم کی کھدائی، کان کنی یا کسی بھی مقاصد کے استعمال کے لیے زمین کی صفائی یا ہمواری جیسے اقدامات پر پابندی عائد ہے صوبائی حکومت کے ایک اور حکم مجریہ 1970ء کے مطابق پارک میں تیل و گیس کے لیے کان کنی خصوصی طور پر ممنوع ہے۔ مظاہر فطرت کے تحفظ کے لیے قائم نیشنل پارک لوگوں کی معلوماتی تفریح کا اہم ذریعہ ہوتے ہیں لیکن کھیر تھر نیشنل پارک فروغ سیاحت کے ذمے دار اداروں کی فہرست میں شامل ہونے کے باوجود ماحولیاتی سیاحت سے دلچسپی رکھنے والوں کی نظروں سے اوجھل ہے اس کی بنیادی وجوہات مناسب قیام و طعام کی سہولتوں کا فقدان اور کچے راستوں پر سفر کے لیے مناسب نشانوں کی عدم موجودگی بھی شامل ہیں۔

اگر سندھ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ اور حکومت سندھ فروغ سیاحت سے متعلق اداروں کے تعاون سے کرچات تک پہنچنے کے لیے پختہ سڑک، سیاحوں کے لیے مناسب کرائے پر قیام و طعام اور گارڈن کی فراہمی اور بجلی کے لیے شمسی توانائی کا پلانٹ استعمال کرے اور فروغ سیاحت کے لیے ذرائع ابلاغ کی مدد سے مہم چلائیں تو کھیر تھر نیشنل پارک سیاحت کے فروغ کی بہترین مثال بن سکتا ہے۔ پہاڑی سلسلوں سے بھرے ہوئے اس نیشنل پارک میں میدانی علاقے بھی ہیں اور بنجر علاقے بھی ہیں تاہم گھنے جنگلات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

سندھ کی پلاسٹک سرجری

جب جی ایم سید حیات تھے اور سندھ کے تعلیمی اداروں کی دیواروں پر جی ایم سید رہبر آ ، سندھو دیش مقدر آ کے نعرے لکھے ہوتے تھے تو نہ تو کوئی انھیں مٹاتا تھا اور نہ ہی یہ نعرے لکھنے یا لکھوانے والے غائب ہوتے تھے۔ بلکہ ضیا الحق کی جانب سے سن میں گلدستے بھیجے جاتے تھے کیونکہ اس زمانے میں حکومتِ وقت کو سندھو دیش سے زیادہ ایم آر ڈی کی وفاق پرست تحریک بالخصوص پیپلز پارٹی سے خطرہ محسوس ہوتا تھا۔ یہ بھی حسنِ اتفاق ہے کہ اسی زمانے میں سندھ کے شہری علاقوں میں آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن ( اے پی ایم ایس او ) کے بطن سے مہاجر قومی موومنٹ کا جنم ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ اس نے مہاجروں کی فرسٹریشن سے جنم لیا اور ایک طالبہ بشریٰ زیدی کی ٹریفک حادثے میں موت نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔

 مگر فیصلہ سازوں نے سیاست حرام قرار دینے کے باوجود اس نئی شہری تحریک کے ابھار یا سرگرمیوں کی اس مارشل لائی گرفت کے ساتھ حوصلہ شکنی نہیں کی جو پیپلز پارٹی جیسی دیگر مخالف سیاسی جماعتوں کے لیے مختص تھی۔ نئی تنظیم کے ابھرنے سے پیپلز پارٹی کا شہری علاقوں میں سیاسی راستہ بند ہو پایا یا نہیں البتہ گیہوں سے زیادہ گھن پس گیا۔جماعتِ اسلامی اور جمیعت علماِ پاکستان جیسی جماعتوں کو نئے نقشے کے تحت شہر بدر ہونا پڑ گیا۔ اگر ایم کیو ایم پیپلز پارٹی وغیرہ کو بیلنس کرنے کے لیے وجود میں لائی بھی گئی تھی تو تھوڑے ہی عرصے بعد خود ایم کیو ایم کی روڈ رولر سیاست کو توازن میں رکھنے کے لیے شہری علاقوں میں کوئی متبادل قوت باقی نہ رہی۔

مگر اس اسٹرکچرل خامی کا احساس آرکیٹیکٹ حضرات کو نوے کی دھائی میں ہوا۔چنانچہ ایم کیو ایم کے پر کترنے کے لیے جناح پور کے نقشے اور ایم کیو ایم حقیقی سامنے لائے گئے مگر تب تک جن بوتل سے نہ صرف نکل چکا تھا بلکہ اس کا حجم اتنا بڑھ گیا تھا کہ کنگ سائز بوتل بنانے تک اسے برداشت کرنا ایک مجبوری ہو گئی۔ بے نظیر اور نواز شریف حکومتوں کے کھردرے اناڑی پن نے حالات کو اور بگاڑ دیا۔ چنانچہ سارا منافع سود سمیت پرویز مشرف نے اپنی سیاسی بقائی سہولت کے لیے کیش کرا لیا۔ پکا قلعہ اور جناح پور سازش کی ڈسی ایم کیو ایم کو آٹھ برس تک فری ہینڈ ملا۔ لیکن اس نے یہ وقت شہری علاقوں کو بحثیتِ مجموعی آگے لے جانے کے بجائے پارٹی اور شخصی آمریت کو مضبوط کرنے اور اپنوں اپنوں میں ریوڑیاں بانٹنے میں استعمال کر لیا اور اس کے عوض اسٹیبلشمنٹ کے ایجنڈے کو بھی آگے بڑھانے میں بطور سہولت کار استعمال ہو گئی۔ اس کا منہ بولتا ثبوت بارہ مئی دو ہزار سات کی شکل میں تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔

مگر وہ جو انگریزی میں کہتے ہیں کہ ضرورت سے زیادہ لمبا رسہ پھانسی کا پھندہ بھی باآسانی بن جاتا ہے۔ جب یہ گمان یقین میں بدل جائے کہ اس وقت جو ہرا ہرا ہے کل بھی ہرا ہرا رہے گا تو پھر گائے بھول جاتی ہے کہ کتنا چرنا ہے کہ جگالی کی گنجائش رہے اور بد ہضمی نہ ہو۔ جیسے ہی مشرف دور گیا ایم کیو ایم کے لیے سائے لمبے ہونے لگے۔ مگر سب یہی سمجھتے رہے کہ یہ شام نہیں بادل ہیں۔ چنانچہ گذشتہ برس بائیس اگست کو ایم کیو ایم کی لندن قیادت نے اپنے ہی ہاتھوں لمبے رسے سے خود کو سیاسی پھانسی دے لی۔

بجائے اس کے کہ اسٹیبلشمنٹ خود بخود مائنس ون ہو جانے پر خوش ہوتی اور ایم کیو ایم کی مقامی پاکستان نواز قیادت کو اپنے ہاتھ پیر سیدھے کرنے اور زمین پر ٹکنے کا موقع دیتی۔ اس نے نوے کی دہائی کی طرح پھر پیراشوٹی راستہ اپنایا اور ایم کیو ایم پاکستان ، حقیقی اور پی ایس پی کو ایم کیو ایم کے ہی مانوس بنیر تلے یکجا ہو کر ماضی سے ناطہ توڑنے کا موقع دینے کے بجائے خود شطرنج کھیلنے بیٹھ گئی۔ حالانکہ ایوب خان کی سن چونسٹھ کی پہلی، ضیا الحق کی دوسری اور نوے کی دہائی کی تیسری پلاسٹک سرجری سے شہری سیاست کا منہ سیدھا ہونے کے بجائے اور ٹیڑھا گیا۔ مگر سرجن آج بھی پرامید ہے کہ اس بار کی چوتھی پلاسٹک سرجری پچھلی بد نمائیاں دور کر دے گی۔ رہے ووٹر تو ان کے بارے میں فرض کر لیا گیا ہے کہ وہ جہاں ہے جیسا ہے کی بنیاد پر نئے تخلیق کردہ حقائق بھی پہلے کی طرح قبول کر لیں گے۔

مگر آج کی اور پچھلی نسل میں ایک فرق ہے۔ پچھلی نسل موبائیل فون ، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا سے محروم تھی لہذا آنکھوں میں جوتوں سمیت گھسنے کا تجربہ آسانی سے کیا جا سکتا تھا۔ اب کی بار لوگ بھلے کچھ نہ کر پائیں مگر انھیں پتہ سب ہے کہ کون کیا کرتب دکھا رہا ہے۔ حتیٰ کہ وہ روبوٹ اور جاندار میں بھی تمیز کرنے لگے ہیں۔ بات شروع ہوئی تھی سندھی قوم پرستوں سے اور کہاں سے کہاں نکل گئی۔ ہاں تو میں یہ کہہ رہا تھا کہ جب قوم پرستوں کے حوصلے بلند تھے اور تعلیمی ادارے بھی ان کے گڑھ تھے اور وہ کھلم کھلا سندھو دیش کے نعرے لگاتے پھرتے تھے تب تو وہ آزاد رہے یا زیادہ سے زیادہ جیل چلے گئے۔

اب جب کہ بظاہر قوم پرستی محض نعروں کی حد تک رہ گئی ہے۔ زیادہ تر چلبلے بیرونِ ملک ہیں اور جو یہاں ہیں وہ پوری طرح ہز ہائی نیس کے اعتماد میں ہیں۔ تو اس وقت ایسی کیا افتاد آن پڑی کہ بقول ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان سندھ میں جتنے سیاسی کارکنان یا حقوق کے وکیل پچھلے پانچ برس میں اٹھائے یا غائب کیے گئے ان میں سے ستر فیصد موجودہ سال کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران غائب ہوئے۔ اور اس دفعہ جو باریک گجو جال ڈالا گیا ہے اس میں صرف خطرناک شارکیں اور آکٹوپس ہی نہیں بلکہ کیکڑے ، کچھوے ، چھوٹی مچھلیاں حتیٰ کہ جھینگے بھی پھنس رہے ہیں۔

اب تو سندھ اسی کی دہائی جیسا سیاسی خطرہ بھی نہیں۔ اب وہ پیپلز پارٹی بھی نہیں کہ جس کے لیے تیس پینتیس برس پہلے آہنی ہاتھ بنایا گیا تھا۔ آج کی پیپلز پارٹی تو آہنی ہاتھ چھوڑ بغیر دستانے والا ہاتھ دیکھ کے بھی راستہ چھوڑ دیتی ہے۔ تو پھر سندھ پر خصوصی آہنی نظرِ کرم کیوں ؟ تحریکِ انصاف اور ن لیگ کو ویسے ہی سندھ میں ووٹ بینک بنانے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں۔ مذہبی انتہا پسند تنظیموں کو پھلنے پھولنے کے لیے ووٹ بینک کی ہی ضرورت نہیں۔ ایسی تنظیموں کے پنپنے کے سبب روائیتی مذہبی سیاسی جماعتوں کی کرنسی اب نہ کراچی میں چلتی ہے نہ دادو میں۔ کراچی میں بظاہر امن و امان بحال ہو چکا ہے۔شہر کی رونقیں لوٹ آئی ہیں۔ 

مگر یہ پرسکون چہرہ اس مریض کا ہے جو ابھی آپریشن تھیٹر کی میز پر انستھیسیا کے اثر میں ہے۔ جب اسے وارڈ میں منتقل ہونے کے بعد واک کرنے کی اجازت ملے گی تب پتہ چلے گا کہ پلاسٹک سرجری کس قدر کامیاب رہی۔ باقی سندھ میں کوئی ایسا بیل بھی دکھائی نہیں دے رہا جسے لال کپڑا دکھا کے کہا جائے ’’ آ بیل مجھے مار ’’۔ سنا ہے تین سو بائیسویں بار کوئی بے ضرر سا سندھ گرینڈ الائنس بھی بنایا گیا ہے۔ تو پھر آہنی ہاتھ سے شطرنج کھیلنے کی ضرورت کیوں محسوس ہو رہی ہے۔ کوئی تو بتائے۔ اپن کی سمجھ میں تو کچھ نہیں آریلا ہے۔ 

وسعت اللہ خان
 

مکلی کا عالمی ورثہ تجاوزات اور قبضے کے نرغے میں

سرخ اینٹوں اور کاشی گری کے فن سے تعمیر ‘مرزا باقی بیگ ازبک’ کے یادگار کی مرمت جاری ہے، اس یادگار کی دیواروں اور مقبرے کے گنبد میں دراڑیں پڑ گئی تھیں۔ مرزا باقی بیگ کا تعلق ترخائن شاہی خاندان سے تھا۔ اس خاندان نے سولھویں صدی میں سندھ پر حکومت کی۔ باقی بیگ کی یادگار مکلی کے قبرستان میں واقع ہے۔ یہ دنیا کا وسیع ترین قبرستان ہے یونیسکو نے 1981 میں عالمی ورثہ قرار دیا تھا۔ جہاں چودھویں صدی عیسوی سے لیکر سترھویں صدی کے حکمران خاندانوں اور جنگجوؤں کی قبریں موجود ہیں جن کو بارشوں، ہوا کے دباؤ، سورج کی تپش اور نگرانی کے فقدان نے ان آثاروں کو زبوں حال کر دیا ہے۔

بالاخر اقوام متحدہ کے ثقافتی ادارے یونیسکو نے اس ورثے کو عالمی ورثے سے خارج کرنے کی دھمکی دے دی، جس کے بعد حکومت سندھ نے اس طرف توجہ دی اور یونیسکو بہتری کی یقین دہانی کرائی۔ مکلی قبرستان کے کیوریٹر سرفراز جتوئی کا کہنا ہے کہ چالیس سے پچاس ایسے یادگاریں ہیں جنہیں ہنگامی بنیادوں پر مستحکم کیا گیا ہے ان میں سے کچھ پتھر اور کچھ اینٹوں سے بنی ہوئی تھیں، ان پر پودے نکل آئے تھے جن کی جڑیں اندر جا رہی تھیں اور نتیجے میں دراڑیں پڑ گئیں اور جب بھی بارش ہوتی تھی تو پانی بنیادوں میں چلا جاتا تھا۔ اب چونے اور بجری کے پلستر سے ان دراڑوں کو بند کر دیا گیا ہے۔

یہاں سماں، ارغون، ترخان اور مغل ادوار کے شاہی خاندانوں کے 80 سے زائد یادگار موجود ہیں جو پتھر، اینٹوں یا دونوں کی مدد سے بنائے گئے ہیں ان پر فارسی، سندھی اور عربی زبان تحریر ہے۔ اس میں سے مقامی سندھی حکمران جام نظام الدین اور عیسیٰ بیگ ترخائن دوئم کے یادگار نمایاں ہیں۔ نامور آرکیا لوجسٹ ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری کہتے ہیں سماں مقامی حکمران تھے اور رن آف کچھ میں ان کے کزن حکمران تھے۔ سماں فن تعمیر میں اس کی جھلک نظر آتی ہے جس میں زیادہ اثر پتھر کے فن کا ہے۔ ارغون اور ترخائن وسطی ایشیا سے آئے تھے انہوں نے اینٹ اور کاشی گری کا استعمال کیا۔ چونکہ مغل خود بھی وسطی ایشیا سے آئے تھے اور انڈیا میں انہیں سو سال ہو چکے تھے تو اس امتزاج نے ایک نئے طرح کے فن تعمیر کو جنم دیا۔

ٹھٹہ سندھ کا خوشحال خطہ سمجھا جاتا تھا جہاں کیٹی بندر، شاہ بندر نام سے بندرگاہیں اور کئی درسگاہیں موجود تھیں۔ ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری کہتے ہیں کہ اس علاقے کا بحیرہ ہند کے ذریعے پوری دنیا سے رابطہ تھا۔ بارہویں ، تیرہویں اور چودہویں صدی میں یہاں تجارت نے فروغ پایا اور دنیا بھر سے لوگ اکھٹے ہو رہے تھے اسی دوران آرٹ اور کرافٹ نے اپنا عروج حاصل کیا۔ مکلی کا قبرستان قومی شاہراہ کی دونوں اطرف میں پھیلا ہوا تھا لیکن اس کے نصف حصے پر قبضہ ہو چکا ہے، جس کی نشاندھی یونیسکو کی جانب سے بھی کی گئی ہے۔
نامور آرکیالوجسٹ ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری کہتے ہیں کہ مکلی کا پورا قبرستان اور اس سے ملحقہ جو تہذیبی عناصر اور اسٹریکچر ہیں، جیسے کلان کوٹ، قبرستان کا دوسرا حصہ جو جنوب میں ایک ہزار ایکڑ رقبے پر محیط ہے اور ٹھٹہ شہر یہ سب عالمی ورثے پر مشتمل ہے لیکن جو سڑک کے شمال میں 912 ایکڑ قبرستان ہے ہم سمجھتے ہیں کہ بس یہ ہی ہماری ہریٹیج سائیٹ ہے۔

مکلی قبرستان کے کیویٹر سرفراز جتوئی کا کہنا ہے کہ مغربی طرف زیادہ قبضے اور تجاوزات ہیں۔ سروے میں ایسے پونے تین سو گھروں اور دو سو کے قریب دکانوں کی نشاندھی ہوئی ہے، انہیں متبادل جگہ فراہم کرنے کے لیے بائی پاس مکلی پر 15 ایکڑ زمین مختص کر دی گئی ہے، کچھ عرصے میں انہیں بیدخل کر دیا جائے گا۔ یونیسکو نے غیر قانونی تجاوزات کے علاوہ افرادی قوت کی قلت، موسمی اسٹیشن کی عدم دستیابی، صفائی ستھرائی، تاریخی حوالے کے نوٹس بورڈز کے فقدان اور لوگوں کی بے تحاشہ آمدرفت کی بھی نشاندھی کی تھی۔

مکلی قبرستان کے کیویٹر سرفراز جتوئی کا کہنا ہے کہ قبرستان میں موسمی اسٹیشن قائم کیا گیا ہے تاکہ بارشوں، سورج کی تپش اور ہوا کے دباؤ کو مانیٹر کیا جا سکے، اس کے علاوہ آس پاس سے ملبہ ہٹا دیا گیا ہے اور کوڑے دان لگائے جا رہے ہیں، تاہم لوگوں کی آمدرفت ایک بڑا مسئلہ ہے کیونکہ یہاں 10 سے زائد مزارات ہیں جن پر میلے بھی لگتے ہیں پہلے لوگوں بسوں اور بڑی گاڑیوں میں اندر جاتے تھے اس کی روک تھام کی گئی ہے۔

ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، مکلی ٹھٹہ
 

سندھ کے صحرائی ضلعے تھرپارکر کا پہلا سیاحتی ریزورٹ

سندھ کے صحرائی ضلعے تھرپارکر کے علاقے ننگرپارکر میں اپنی نوعیت کا پہلا سیاحتی ریزورٹ سیاحوں کے لئے کھول دیا گیا۔ بائیس کمروں پر مشتمل اس سیاحتی ریزورٹ کو انگریزوں سے آزادی کی جدوجہد میں جان دینے والے حریت پسند روپلو کولہی کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ یہ ریزورٹ صوبائی حکومت کے محکمہ سیاحت کی جانب سے قائم کیا گیا ہے۔ بھارتی سرحد سے ملحقہ اس علاقے میں سیاحتی سرگرمیوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کے پیش نظر ایسے ریزورٹ کی کمی شدت سے محسوس کی جا رہی تھی۔ 

ننگرپارکر کا علاقہ ساون کی بارش کے بعد حسین منظر پیش کرتا ہے اور سندھ کے مخلتف علاقوں سے لوگ بڑی تعداد میں یہاں پھیل جانے والی ہریالی کو دیکھنے آتے ہیں۔ حالیہ بارش کے بعد ضلع تھرپارکر کے اس علاقے میں ہزاروں افراد سیاحت کے لیے آئے۔ ریزورٹ میں رہائش کی تمام جدید ترین سہولتوں کے علاوہ پانی, بجلی, گیس اور دیگر سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔ سیاح ریزورٹ میں کمرے اب فون پر بُک کروا کر ننگر پارکر کی خوبصورتی کو اور بھی انجوائے کرسکتے ہیں۔

​صوبائی وزیر سیاحت سید سردار شاہ کا کہنا ہے کہ ننگرپارکر کی کارونجھر پہاڑیوں کے درمیان ایک پکنک پوائنٹ بھی تعمیر کیا جا رہا ہے جو جلد مکمل کر لیا جائے گا اور سیاحوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائے گا۔ ضلع تھرپارکر, سندھ ہی نہیں بلکہ پاکستان کے غریب ترین اضلاع میں شمار ہوتا ہے لیکن ضلعے میں کوئلے کی کان کنی اور سیاحت کے بے شمار مواقع موجود ہیں جو یہاں کے رہنے والوں کی زندگیاں بدل سکتے ہیں۔
 

تھر کا انسانی المیہ

سندھ کے ضلع تھر پارکر میں قحط اور ناکافی طبی سہولتوں کی بنا پر گزشتہ کئی سال سے بچوں سمیت انسانی اموات کا افسوسناک سلسلہ تھمنے میں نہیں آ رہا ہے۔ قومی کمیشن برائے انسانی حقوق نے سال 2016 کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا کہ تھر پارکر میں قلت خوراک اور علاج معالجے کی ناکافی سہولتوں کے باعث 13 سو سے زائد بچے موت کے منہ میں جا چکے ہیں جبکہ محکمہ صحت کے ذرائع نےصرف سال رواں میں 172 سے زائد بچوں کی اموات کی تصدیق کی ہے۔ تھر کے انسانی المیہ کا عدلیہ کی جانب سے بھی سوموٹو نوٹس لیا گیا لیکن تاحال یہ مسئلہ حل طلب ہے۔ 

ایک خبر کے مطابق سول اسپتال مٹھی میں صحت کی سہولتیں اور معیاری ادویہ نہ ہونے کی وجہ سے مزید تین بچوں سمیت پانچ افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ کئی روز تک موسلا دھار بارشیں ہونے کے باوجود علاقے میں ہنوز غذائی قلت برقرار ہے اور انتظامیہ کی جانب سے مچھر مار اسپرے بھی نہیں کیا گیا جس سے وبائی امراض پھیل رہے ہیں۔ تھر کے دور دراز دیہات سے مٹھی اسپتال آنے والے مریضوں کی بڑی تعداد چکن گونیا، ملیریا، گیسٹرو میں مبتلا بتائی گئی ہے، غذائی قلت کے شکار مریضوں کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔ محکمہ صحت کے ترجمان کے مطابق ضلع بھر میں وبائی امراض پر قابو پانے کے لئے میڈیکل ٹیمیں بھیجی جا رہی ہیں۔

تھر میں غذائی بحران کے مستقل حل اور طبی سہولتوں کی فراہمی کے لئے ضروری ہو گیا ہے کہ حکومتی سطح پر تھر کے باسیوں کیلئے خصوصی پیکیج کا اعلان کیا جائے اس حوالے سے تھر پر یو این کی تازہ رپورٹ کی سفارشات سے بھی مدد مل سکتی ہے ۔ علاقے میں مضبوط انفراسٹرکچر کی تعمیر پر غور کیا جانا چاہئے۔ ضلع میں اسپتالوں کی تعداد میں اضافہ کے ساتھ وہاں پر بہترین طبی سہولتوں کی فراہمی ممکن بنانے سے بچوں سمیت انسانی جانوں کا تحفظ کیا جاسکتا ہے۔ مریضوں کی جانب سےمقامی اسپتالوں و طبی مراکز میں غیر معیاری ادویہ کی جو شکایات سامنے آرہی ہیں ان کا دور کیا جانا بھی ضروری ہے۔

اداریہ روزنامہ جنگ

تھر میں ہریالی کی بہار

تھر میں ہریالی کی بہار آئی اور صحرا نے سبزے کی چادر اوڑھ لی، یہ حسین مناظر دیکھنے سیاحوں کی بڑی تعداد نے تھر کا رخ کر لیا، مقامی لوگوں کا کاروبار بھی چمک اُٹھا ۔

تھرپارکر میں بارشیں اپنے ساتھ خوشی اور خوشحالی بھی لے آئیں، پہلے علاقے کو ہریالی نے آباد کیا پھر سیاحوں کے ہجوم لگ گئے قدرتی نظاروں کے دیکھنے کے لئے صوبے بھر کے سیاحوں کا تانتا بندھ گیا۔

مٹھی کی گڈی بھٹ پر آنے والوں کا استقبال ڈھول کی تھاپ پر کیا جاتا ہے، گھوڑے اورجھولے بھی موجود ہیں جن سے بچےلطف اندوز ہوتے ہیں۔ سیاحوں کی مسلسل آمد سے علاقے کی رونق میں نہ صرف اضافہ ہوا بلکہ کاروبار بھی چمکا اٹھا ہے۔
 

مغلیہ دور کا شاہکار : 99 گنبدوں والی شاہجہاں مسجد

یہ ایک عظیم الشان مسجد ہے جو ہنوز زیر استعمال ہے اور یہ شہر ٹھٹھہ میں ہے مقامی تواریخ کے مطابق یہ شہنشاہ شاہجہان کا ایک تحفہ تھا جو اس نے شہر کی مہمان نوازی کے اعتراف کے طور پر دیا جب وہ اپنے والد سے باغی ہو کر کچھ عرصہ یہاں پناہ گزین رہا تھا یہ 1644ء میں شروع ہوئی اور 1647ء میں مکمل ہوئی لیکن اس کی فرش بندی گیارہ سال بعد تک ہوتی رہی اس پر 9 لاکھ روپے لاگت آئی یہ ایک کاروان سرائے کی شکل میں بنی ہے ایک بڑا صحن ہے جس کے اردگرد 90 گنبد ہیں کمروں کی غلام گردش ہے جبکہ ایک طرف کے وسط میں اصل مسجد ہے اور اس کے مقابل اس کا مثنیٰ ہے یہ 190X315 ہے اور 6316 مربع گز زمین گھیرے ہوئے ہے بیرونی حصہ بالکل سادہ اور سفید ہے جبکہ پورا اندرونی حصہ زمین سطح سے بلند ترین گنبد کے مرکز تک رنگین ٹائیلوں سے بنا ہوا ہے جن میں نہایت حیرت انگیز تنوع کے خوبصورت نمونے کنندہ ہیں۔ 
پہلوئوں کے چھوٹے چھوٹے گنبد ایسے نمونوں سے لائے ہوئے نہیں ہیں لیکن شروع میں وہ بھی ایسے ہی تھے یہ عمارت بہت بری طرح مرمت طلب تھی جب سربارٹل فریدے نے 1855ء میں چندہ جمع کر کے اسے بچا لیا جس میں حکومت نے بھی 5 ہزار روپے دیے تھے۔ 1894ء میں اس طرح ساڑھے 20 ہزار روپے جمع کیے گئے اور ہالہ اور ملتان میں بنی ہوئی ٹائیلوں سے دیواروں کے عریاں چہروں کو بحال کیا گیا۔ نیا کام پرانے کے معیار کا تو نہیں ہے لیکن خوش قسمتی سے دیواروں کے زیریں حصوں پر ہی زیادہ کام کی ضرورت تھی جہاں نمونے نسبتاً سادہ ہوتے ہیں اوپر کی طرف نمونے مربع یا چھ طرفی ٹائیلوں پر کنندہ نہیں کیے گئے جیسا کہ مکلی پہاڑیوں کے مقابر پر ہیں بلکہ ان پر مختلف رنگوں اور شکلوں کی باریک ٹائیلوں کے ساتھ پچی کاری کی گئی ہے۔
شیخ نوید اسلم
 

وادئ سندھ اور تہذیبیں

یہ قیاس ہوتا ہے کہ سندھ کی ’’سلطنت‘‘ (اگر اس کی وسعت کی وجہ سے اسے یہ
نام دینا جائز ہے) کے خاتمے کے بعد تمدنی انتشار کا ایک لمبا دور گزرا۔ کچھ اسی طرح کے حالات نے سندھ کی تہذیب کو جنم دیا تھا مگر اب ان حالات میں کچھ دُور افتادہ بیرونی عناصر بھی شامل ہو گئے تھے۔ ہڑپہ میں تہذیبِ سندھ والے شہر کی جگہ شاید خاصی مدت گزر جانے کے بعد ’’قبرستان ایچ‘‘ کا تمدن وجود میں آیا۔ یہ نام اسے ایک قبرستان کی وجہ سے دیا گیا ہے جو حقیقی ہڑپہ تمدن کے کھنڈرات کے ساتھ پایا گیا ہے۔ قبرستان ایچ والے لوگ بھدی اور بے ڈھنگی عمارتیں اور اچھی نقاشی والے مٹی کے برتن بناتے تھے۔

ان میں کچھ نیم ہڑپہ عناصر موجود ہیں مگر بنیادی طور پر وہ اپنی مخصوص نوعیت کے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ تمدن وسطی سندھ کے ایک ٹکڑے تک محدود تھا لیکن اس کی کافی کھوج ابھی نہیں ہوئی ہے۔ موہنجو داڑو کے 80 میل جنوب میں سندھ کی تہذیب کے چھوٹے قصبے چاہنو داڑو کی جگہ پر نچلے درجے کے ایک کے بعد ایک کر کے دو غاصب تمدن قائم ہوئے۔ انہیں مقامی ناموں ’’جُھکر‘‘ اور ’’جھنگر‘‘ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ تیس میل دور آمری میں بھی یہی ہوا۔ جُھکر والے دیہاتی مٹی کے برتن بناتے تھے اور گول بٹن جیسی مہریں استعمال کرتے تھے جن پر عموماً گول یا چوکور خانے دار نمونے بنے ہوئے تھے۔ یہ شمالی ایران اور کاکیشیا میں دوسرے ہزار سالہ قبل مسیح قرن میں پائے جانے والے نمونوں کے مشابہہ ہیں۔

شمالی بلوچستان کی ژوب وادی میں مغل فنڈی مقام پر قبروسائی نشاندہی کرنے والے ڈھیروں سے ایک تین پایوں والا مرتبان‘ گھوڑے کی گھنٹیاں‘ انگوٹھیاں اور چوڑیاں پائی گئی ہیں۔ ان کا موازنہ وسطی ایران میں سیالک کے مقام پر ’’قبرستان بی‘‘ سے برآمد ہونے والے سامان سے کیا گیا ہے۔ یہ سامان لگ بھگ ایک ہزار سال قبل مسیح کا ہے‘ لیکن ہوسکتا ہے کہ اس کے بعد کا ہی ہو۔ کچھ اِکادُکا چیزیں دریافت ہوئی ہیں‘ جو اسی طرح مغرب میں ایران اور کاکیشیا کی طرف اشارہ کرتی ہیں‘ ان کی مثالیں ہیں۔ لگ بھگ بارہویں صدی قبل مسیح کا کانسے کا مشہور چُھدا جو سندھ کے مغرب میں کوہ سلیمان میں واقع فورٹ مندو سے ملا ہے اور تانبے کا ایسا محور والا کلہاڑا جو افغانستان کی سرحد پر قدم وادی میں پایا گیا ہے۔

اس تھوڑے سے سامان سے مجموعی طور پر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ مقامی کم مایہ تمدنوں کو کچھ تو اپنی نیم سندھی وراثت سے ملاتی اور کچھ عناصر انہوں نے شمالی مغرب سے حاصل کرکے اپنے اندر سمو لئے تھے۔ حسب سمت سے درحقیقت آریوں کے حملے ہوئے تھے۔ مادی طور پر وادئ سندھ میں عظیم تہذیبِ سندھ اور اس کے بعد وجود میں آنے والے کم مایہ تمدنوں کے درمیان کوئی حقیقی تسلسل نہیں تھا۔ اس تسلسل کی غیرموجودگی غور طلب ہے۔
زبیر رضوی