مغلیہ دور کا شاہکار : 99 گنبدوں والی شاہجہاں مسجد

یہ ایک عظیم الشان مسجد ہے جو ہنوز زیر استعمال ہے اور یہ شہر ٹھٹھہ میں ہے مقامی تواریخ کے مطابق یہ شہنشاہ شاہجہان کا ایک تحفہ تھا جو اس نے شہر کی مہمان نوازی کے اعتراف کے طور پر دیا جب وہ اپنے والد سے باغی ہو کر کچھ عرصہ یہاں پناہ گزین رہا تھا یہ 1644ء میں شروع ہوئی اور 1647ء میں مکمل ہوئی لیکن اس کی فرش بندی گیارہ سال بعد تک ہوتی رہی اس پر 9 لاکھ روپے لاگت آئی یہ ایک کاروان سرائے کی شکل میں بنی ہے ایک بڑا صحن ہے جس کے اردگرد 90 گنبد ہیں کمروں کی غلام گردش ہے جبکہ ایک طرف کے وسط میں اصل مسجد ہے اور اس کے مقابل اس کا مثنیٰ ہے یہ 190X315 ہے اور 6316 مربع گز زمین گھیرے ہوئے ہے بیرونی حصہ بالکل سادہ اور سفید ہے جبکہ پورا اندرونی حصہ زمین سطح سے بلند ترین گنبد کے مرکز تک رنگین ٹائیلوں سے بنا ہوا ہے جن میں نہایت حیرت انگیز تنوع کے خوبصورت نمونے کنندہ ہیں۔

پہلوئوں کے چھوٹے چھوٹے گنبد ایسے نمونوں سے لائے ہوئے نہیں ہیں لیکن شروع میں وہ بھی ایسے ہی تھے یہ عمارت بہت بری طرح مرمت طلب تھی جب سربارٹل فریدے نے 1855ء میں چندہ جمع کر کے اسے بچا لیا جس میں حکومت نے بھی 5 ہزار روپے دیے تھے۔ 1894ء میں اس طرح ساڑھے 20 ہزار روپے جمع کیے گئے اور ہالہ اور ملتان میں بنی ہوئی ٹائیلوں سے دیواروں کے عریاں چہروں کو بحال کیا گیا۔ نیا کام پرانے کے معیار کا تو نہیں ہے لیکن خوش قسمتی سے دیواروں کے زیریں حصوں پر ہی زیادہ کام کی ضرورت تھی جہاں نمونے نسبتاً سادہ ہوتے ہیں اوپر کی طرف نمونے مربع یا چھ طرفی ٹائیلوں پر کنندہ نہیں کیے گئے جیسا کہ مکلی پہاڑیوں کے مقابر پر ہیں بلکہ ان پر مختلف رنگوں اور شکلوں کی باریک ٹائیلوں کے ساتھ پچی کاری کی گئی ہے۔

شیخ نوید اسلم

Advertisements

وادئ سندھ اور تہذیبیں

یہ قیاس ہوتا ہے کہ سندھ کی ’’سلطنت‘‘ (اگر اس کی وسعت کی وجہ سے اسے یہ نام دینا جائز ہے) کے خاتمے کے بعد تمدنی انتشار کا ایک لمبا دور گزرا۔ کچھ اسی طرح کے حالات نے سندھ کی تہذیب کو جنم دیا تھا مگر اب ان حالات میں کچھ دُور افتادہ بیرونی عناصر بھی شامل ہو گئے تھے۔ ہڑپہ میں تہذیبِ سندھ والے شہر کی جگہ شاید خاصی مدت گزر جانے کے بعد ’’قبرستان ایچ‘‘ کا تمدن وجود میں آیا۔ یہ نام اسے ایک قبرستان کی وجہ سے دیا گیا ہے جو حقیقی ہڑپہ تمدن کے کھنڈرات کے ساتھ پایا گیا ہے۔ قبرستان ایچ والے لوگ بھدی اور بے ڈھنگی عمارتیں اور اچھی نقاشی والے مٹی کے برتن بناتے تھے۔

ان میں کچھ نیم ہڑپہ عناصر موجود ہیں مگر بنیادی طور پر وہ اپنی مخصوص نوعیت کے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ تمدن وسطی سندھ کے ایک ٹکڑے تک محدود تھا لیکن اس کی کافی کھوج ابھی نہیں ہوئی ہے۔ موہنجو داڑو کے 80 میل جنوب میں سندھ کی تہذیب کے چھوٹے قصبے چاہنو داڑو کی جگہ پر نچلے درجے کے ایک کے بعد ایک کر کے دو غاصب تمدن قائم ہوئے۔ انہیں مقامی ناموں ’’جُھکر‘‘ اور ’’جھنگر‘‘ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ تیس میل دور آمری میں بھی یہی ہوا۔ جُھکر والے دیہاتی مٹی کے برتن بناتے تھے اور گول بٹن جیسی مہریں استعمال کرتے تھے جن پر عموماً گول یا چوکور خانے دار نمونے بنے ہوئے تھے۔ یہ شمالی ایران اور کاکیشیا میں دوسرے ہزار سالہ قبل مسیح قرن میں پائے جانے والے نمونوں کے مشابہہ ہیں۔

شمالی بلوچستان کی ژوب وادی میں مغل فنڈی مقام پر قبروسائی نشاندہی کرنے والے ڈھیروں سے ایک تین پایوں والا مرتبان‘ گھوڑے کی گھنٹیاں‘ انگوٹھیاں اور چوڑیاں پائی گئی ہیں۔ ان کا موازنہ وسطی ایران میں سیالک کے مقام پر ’’قبرستان بی‘‘ سے برآمد ہونے والے سامان سے کیا گیا ہے۔ یہ سامان لگ بھگ ایک ہزار سال قبل مسیح کا ہے‘ لیکن ہوسکتا ہے کہ اس کے بعد کا ہی ہو۔ کچھ اِکادُکا چیزیں دریافت ہوئی ہیں‘ جو اسی طرح مغرب میں ایران اور کاکیشیا کی طرف اشارہ کرتی ہیں‘ ان کی مثالیں ہیں۔ لگ بھگ بارہویں صدی قبل مسیح کا کانسے کا مشہور چُھدا جو سندھ کے مغرب میں کوہ سلیمان میں واقع فورٹ مندو سے ملا ہے اور تانبے کا ایسا محور والا کلہاڑا جو افغانستان کی سرحد پر قدم وادی میں پایا گیا ہے۔

اس تھوڑے سے سامان سے مجموعی طور پر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ مقامی کم مایہ تمدنوں کو کچھ تو اپنی نیم سندھی وراثت سے ملاتی اور کچھ عناصر انہوں نے شمالی مغرب سے حاصل کرکے اپنے اندر سمو لئے تھے۔ حسب سمت سے درحقیقت آریوں کے حملے ہوئے تھے۔ مادی طور پر وادئ سندھ میں عظیم تہذیبِ سندھ اور اس کے بعد وجود میں آنے والے کم مایہ تمدنوں کے درمیان کوئی حقیقی تسلسل نہیں تھا۔ اس تسلسل کی غیرموجودگی غور طلب ہے۔

زبیر رضوی

صحراے تھر کی مختصر تاریخ

تھرپارکر ، سندھ کے جنوب مشرق میں واقع صوبے کا سب سے بڑا ضلع ہے جس کا ہیڈ کوارٹر مٹھی میں ہے۔ اس کا کل رقبہ تقریبا 21 ہزار مربع کلو میٹر اور آبادی13 لاکھ ہے معروف سندھی مؤرخ و محقق دوست ڈیپلائی کے مطابق تھر کے لفظی معنی صحرا ہیں۔ کسی زمانے میں یہاں راجہ کی ریل چلا کرتی تھی لہٰذا تھر کی سماجی زندگی باقی سندھ سے کٹی ہوئی تھی۔ اسی وجہ سے تھر کی زبان ثقافت اور رسم و رواج باقی ماندہ سندھ سے الگ ہیں۔

 قدیم دور میں یہ علاقہ سرسوتی دریا کے ذریعے سیراب ہوتا تھا۔ بعد ازاں ’’مہرانوں نہر‘‘  کے ذریعے اسے سیراب کیا جاتا رہا۔ اس کے علاوہ تھرپارکر کی سیرابی کے لیے دریائے سندھ سے ایک بڑی نہر’’باکڑو‘‘ نکلا کرتی تھی‘ جسے 17 ویں صدی میں کلہوڑا حکم رانوں نے سیاسی مخالفت کی بنیاد پر بند کروا دیا جس کے سبب تھر مزید خشک سالی کا شکار ہوا ان جزوی انتظامات کے باوجودپانی کی دستیابی تھر کا صدیوں سے اہم مسئلہ رہا ہے۔

اس حوالے سے کئی مقامی محاورے مشہور ہیں۔ ’دو سے تہ تھ نہ تہ بر‘‘ یعنی اگر بارش ہو تو تھر گلستان بن جاتا ہے ورنہ بیابان کی مانند ہے۔ دوسری کہاوت ہے کہ تھر آھے کن تے یادھن تے‘‘ یعنی تھر کا انحصار بارشوں کی بوند پر ہے یا بھیڑ بکریوں کے ریوڑ پر ہے۔ تھر کے مقامی لوگ کرنل تھروٹ کو ہمیشہ اچھے الفاظ میں یاد کرتے ہیں۔ انہوں نے 1882ء میں پانی ذخیرہ کرنے کے لیے کئی مقامات پر تالاب بنوائے تھے جہاں سے عام لوگوں کو پانی دستیاب ہوتا۔

اس کے علاوہ سندھ کے صوفی شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ نے بھی تھر کے باشندوں کے کرب کو بھانپتے ہوئے ’’شاہ جو رسالو‘‘ میں بھی تھر کی برسات سے قبل اور بعد کی کیفیات کو قلم بند کیا ہے تھر کے لوگوں کا شہارا ہی میگھ (بارش) ہے میگھا برسا تو لوگ خوش ورنہ دربہ در خاک بہ سر۔ نہ تو کوئی زرخیز زمین ہے نہ جاگیر ان کازیادہ تر انحصار بھیڑ بکریوں پر ہوتا ہے۔ دس بارہ بھیڑ بکریاں نہ بجلی نہ گیس نہ موٹر نہ کار کہیں دور جانا ہو تو اونٹ پر چلے جاتے ہیں ورنہ ساری زندگی اپنے ’’دیس‘‘ تھر میں ہی بسر کریں گے۔‘

ڈاکٹرآصف محمود جاہ

سانحہ سیہون شریف : قیمتی جانوں کے ضیاع پر ملک سوگوار

سندھ کے صوفی بزرگ درگاہ لعل شہباز قلندر کے سیہون میں موجود مزار پر عقیدت مند اور زائرین کی بڑی تعداد موجود تھی، ایسے میں  دہشت گردی نے ان میں سے کئی افراد کے گھر اُجاڑ دیئے۔ سیہون میں لعل شہباز قلندر کی درگاہ پر خودکش دھماکا ہوا، جس میں 80 افراد ہلاک جبکہ 200 سے زائد زخمی ہوئے۔ یہ دھماکا اس وقت ہوا جب مزار میں دھمال جاری تھا، اس کے موقع پر لوگوں کی کثیر تعداد وہاں موجود ہوتی ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں مردوں اور خواتین کے ساتھ 7 بچے بھی شامل تھے۔

سیہون شریف سے

sehwan-sharif-blast-840x480وزیر اعلیٰ سندھ کے آبائی شہر سیہون شریف میں ہوں۔ جمعرات کی شام اپنے لائیو شو کا آغاز ہی کیا تھا کہ کان میں PCR سے دہلا دینے والا پیغام ملا اور پھر سکرین دم توڑتے بچوں، بوڑھوں اور چیختی بلبلاتی بچیوں سے لہولہان ہو گئی۔ ابتدائی خبریں اتنی بڑی تعداد میں اموات کا اشارہ نہیں دے رہی تھیں مگر وقت گزرنے کے ساتھ جب ابتدائی طبی امداد نہ ملنے کے سبب زخمیوں نے دم توڑنا شروع کیا تو رات کے آخری پہر میں یہ تعداد 100 تک پہنچ چکی تھی۔ ایک پروفیشنل صحافی اور اس سے زیادہ دل گرفتگی نے ایسا بے چین کیا ہوا تھا کہ رات ہی کو سیہون جانے کی تیاری شروع کر دی۔ مگر ایک تو کراچی سے حیدرآباد اور پھر سیہون تک اُجڑی ہوئی سڑکیں اور دیو قامت ٹرکوں اور ٹرالروں کا ایسا Photo0191_whrgq_Pak101(dot)comہجوم تھا کہ سیہون پہنچتے پہنچتے دوپہر کا ایک بج گیا۔

سیہون شریف کا سارا بازار بند تھا اور مقامی آبادی سہمے ہوئے چہروں سے لعل شہباز قلندر کی درگاہ کے ارد گرد سر جھکائے آنسو بہاتے نظر آئی۔ مگر جیسے ہی کیمرہ اُنکے سامنے آیا ڈرے سہمے سوگ میں ڈوبے لوگوں کی زبانیں آگ اُگلنے لگیں۔ ’’سائیں‘‘ درجن بھر ایمبولینس بھی نہیں تھیں۔ فرلانگ بھر کے فاصلے پر ٹراما سینٹر جہاں 100 ڈاکٹروں کو ہونا تھا 10 بھی نہیں تھے۔ وزیر اعلیٰ جس کے اپنے شہر میں قیامت برپا تھی آٹھ گھنٹے بعد پہنچے۔ میڈیا کی DSNG گاڑیاں اور مائیک بھی بس بریکنگ خبریں چلا رہے تھے۔ یہ اپیل نہیں کر رہے تھے کہ ڈاکٹر آئیں، خون دیں، ایمبولینسیں پہنچیں۔ ’’سائیں‘‘ ہم برباد ہو گئے، گھر اُجڑ گئے۔ چہار جانب سے یہ ہی صدائیں آ رہی تھیں۔ مزار شریف کے اندر داخل ہوا تو مائیک کے سامنے زبان گُم ہو گئی۔ خونی اعضاء کے لوتھڑے، اجرکیں، چادریں، جوتے اور چپلیں خون آلود۔

بتایا گیا کہ سکیورٹی کے اداروں نے سختی سے کہا ہے کہ کوئی چیز اِدھر سے اُدھر نہ ہو حتیٰ کہ فرش پر بو دیتے خون کے دھبے بھی۔ وزیر اعظم نواز شریف کے بارے میں معلوم ہوا کہ سرکٹ ہائوس میں اعلیٰ سطحی اجلاس میں مقامی انتظامیہ سے بریفنگ لے رہے ہیں۔ سخت سکیورٹی سے لگا کہ وزیر اعظم لعل شہباز قلندر کے مزار پر حاضری بھی دیں گے۔ مگر گھنٹے بھر بعد معلوم ہوا کہ انٹیلجنس نے اجازت نہیں دی۔ زخمیوں کو دیکھنے سابق صدر آصف زرداری کے شہر نوابشاہ چلے گئے ہیں جو بینظیر آباد کہلاتا ہے۔ یہ خبر بھی اُس تصویر سے ملی جو سرکاری طور پر جاری ہوئی تھی اور جس میں وہ ایک ہسپتال میں ایک بچی کو تسلی دے رہے تھے۔ وزیر اعظم کی مزار شریف نہ آنے کی تصدیق ہوئی تو گھنٹوں سے انتظار کرتے زائرین کیلئے دروازے کھول دیئے گئے۔

ٹھیک اُسی وقت یعنی 24 گھنٹے پہلے 6 بج کر58 منٹ پر خودکش حملہ آور نے دھمال ڈالنے والوں کو خون میں نہلا دیا تھا۔ لعل شہباز کے عقیدت مند ایک بار پھر وجد میں آ کر دھمال ڈال رہے تھے۔ سخی شہباز قلندر۔۔۔ دما دم مست قلندر۔۔۔ یہ پیغام تھا دہشتگردوں اور خود کش حملہ آوروں کو جو ایک دہائی سے تعلیمی اداروں، بازاروں، درگاہوں اور امام بارگاہوں پر خودکش حملے کر کے یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی شریعت کی دہشت سے پوری قوم کو موت کی نیند سلا دینگے۔ نہ وہ اب تک کامیاب ہوئے ہیں اور نہ انشاء اللہ اُنکی درندانہ خواہشیں اور خواب کبھی پورے ہونگے۔

مجاہد بریلوی

سندھ کی قدیم تہذیب کے لوگوں نے موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کیا، تحقیق

 آج کی دنیا میں آب و ہوا میں تبدیلی (کلائمٹ چینج) زراعت سے لے کر طرزِ زندگی تک ہر معاملے پر اثر انداز ہو رہی ہے لیکن اب 7 سالہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ قدیم وادی سندھ کے لوگ موسموں کے بدلتے ہوئے مزاج سے نہ صرف آشنا تھے بلکہ خود کو اس لحاظ سے ڈھالنے کی کئی عملی تدابیر بھی اختیار کی تھیں۔ کرنٹ اینتھروپولوجی نامی تحقیقی جریدے نے فروری میں ایک تحقیقی مقالہ شائع کیا ہے جس میں جنوبی ایشیا کی عظیم موہن جو دڑو اور ہڑپہ تہذیب پر موسمیاتی اثرات اور اس پر عوامی ردِعمل کو نوٹ کیا گیا ہے۔ 3 ہزار قبل مسیح سے لے کر 1300 قبل مسیح تک پروان چڑھنے والی یہ تہذیب پاکستان سے ہندوستان تک پھیلی ہوئی تھی جب کہ اس کے مسقط سے بھی روابط تھے۔

یونیورسٹی آف کیمبرج اور بنارس یونیورسٹی بھارت کے ماہرین نے 2007 سے 2014 تک بھارت میں وادی سندھ کے مشہور آثار کوٹلہ ڈاہر اور اس کے نزدیک واقع ایک گہری جھیل اور اس کے اطراف آبادی میں پانی، زراعت اور زمین پر تحقیق کی ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق تمام آبادیوں میں پانی کو مرکزی اہمیت حاصل رہی ہے، موہن جو دڑو کی تہذیب قدیم بھی ہے اورپیچیدہ بھی، جہاں 2500 سے 1900 قبل مسیح تک مون سون بارشوں میں کمی واقع ہوئی اور جھیل کی سطح کم ہوئی۔

اس کا مقابلہ کرنے کے لیے وادی سندھ کے لوگوں نے زراعت میں تبدیلی کی، چاول، دالیں اور باجرہ کی کاشت جاری رکھی۔ ان میں سے چاول کے لیے بہت پانی درکار ہوتا ہے لیکن ماحولیاتی تبدیلی کے باوجود قدیم لوگوں نے کسی نہ کسی طرح پانی کی فراہمی کو یقینی بنائے رکھا۔ اس کے علاوہ دیگر شواہد سے بھی معلوم ہوا ہے کہ وادی سندھ کے لوگ تیزی سے بدلتے ہوئے موسم کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔

سندھ کے صوفی شاعر حضرت سچل سرمست

سندھ کی تاریخ حضرت سچل سرمست ؒ کے تذکرے کے بغیر نامکمل ہے۔ حضرت سچل سرمست ؒ سندھی زبان کے مشہور صوفی شاعراور مجذوب تھے ۔ انکا کلام سات مختلف زبانوں میں ملتا ہے (سندھی، عربی‘ فارسی ‘بلوچی‘ سرائیکی ‘ پنجابی اوراردو) مگر زیادہ حصہ سندھی اور سرائیکی پر مشتمل ہے۔ سچل سرمست 1739ء میں پیدا ہوئے۔ جائے پیدائش صوبہ سندھ میں ضلع خیرپورکے گاؤں رانی پور کا قریبی علاقہ درازہ ہے۔ اُن کا تعلق فاروقی خاندان سے ہے۔ اس خاندان میں کئی اہم ہستیاں گذری ہیں۔ ان میں سچل سرمست ؒ کے دادا میاں صاحب ڈنو عرف محمد حافظ ایک اہم بزرگ اور شاعر تھے۔ اس خاندان کے جدِ امجد محمد بن قاسم کے لشکر میں شامل تھے جو 93ھ میں سندھ پر حملہ آور ہوا تھا یہ شیخ شہابُ الدین تھے جو بعد میں سیہون کے حاکم مقرر ہوئے۔ میاں صاحب ڈنو بھی سندھ کے کلھوڑہ حاکموں کے دور میں اہم سرکاری عہدوں پر فائز رہے۔ ان کی شاہ عبداللطیف بھٹائی سے ملاقات کا واقعہ بھی مشہور ہے۔ یہ دونوں بزرگ چلہ کشی والی غار میں ملے تھے۔ میاں صاحب ڈنوایک اہلِ دل درویش گذرے ہیں۔

اُنکا سندھی کلام بھی موجود ہے جو ظاہر پرستی اور خدا پرستی کے متعلق ہے۔ مُلا کو خاص طور پہ ہدفِ تنقید بنایا گیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ مُلا عشقِ حقیقی تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا۔ مُلا مجاور اور کوے کی مشابہت اسطرح کرتے ہیں۔ مُلا مجاور اور کوا تینوں ایک ہیں۔ ’’ملا وصال سے دور ہے ‘ محبت سے نا واقف ہے‘ مجاور کھانے کے انتظار میں ہے اور کوا وہاں تک نہیں پہنچ سکتا جہاں تک بڑے پرندے اُڑتے ہیں۔‘‘میاں صاحب ڈنو کے چھوٹے بیٹے اور سجادہ نشین میاں عبدالحق بھی شاعر تھے۔ سچل سرمست ؒ کے والد کا اسمِ گرامی میاں صلاح الدین تھا جو اپنے والد کی زندگی میں ہی انتقال کر گئے تھے جسکی وجہ سے میاں عبدالحق سجادہ نشین ہوئے۔

سچل سرمست ؒ کے والد کاانتقال ہو گیا تھا لہٰذا بچپن ہی سے اپنے چچا میاں عبدالحق کی نگہداشت میں آگئے تھے چچا نے انہیں عربی فارسی اور تصوف کے اسرارو رموزسے آگاہ کیا۔ حافظ عبداللہ کے پاس قرآن شریف اور دیگر علوم کے لئے گئے۔ قرآن مجید حفظ کیا۔ اس وجہ سے سچل سرمست کو حافظ عبدالوہاب کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔ اُنکا اصل نام عبدالوہاب تھا چونکہ وہ بچپن سے ہی سچ بولا کرتے تھے لہٰذا لوگ انہیں سچل کے نام سے پکارنے لگے انہوں نے اپنی شاعری میں بھی سچل نام کو بطور تخلص استعمال کیا۔ سچل تنہائی پسند اور خاموش طبع شخص تھے۔ تنہائی کو پسند کرتے تھے اس لیے اکثر جنگل کی طرف نکل جاتے تھے‘فکر میں غرق رہتے تھے۔ کبھی کوئی شکار نہ کیا نہ ہی کبھی کسی پرندے یا جانور کو ذبح کیا۔ کسی قسم کا نشہ نہیں کیا۔ اُنکے دور میں منشیات عام ہو گئی تھیں نوجوانوں کو نشے کی لت پڑ گئی تو انہیں سمجھایا مگرنشے کے عادی نوجوان انکے خلاف ہوگئے اور ان پر آوازیں کسنے لگے۔ جوانی ہی سے نماز کے پابند تھے درود و وظائف میں مصروف رہتے تھے۔ پچاس برس کی عمر میں موج مستی اور عروج کی حالت میں بیخود ہو جاتے تھے۔ بیخودی اور مستی کی ایسی حالت دیکھ کر لوگوں نے مست کے نام سے بھی پکارنا شروع کر دیا سچل سرمست کے نام سے مشہور ہو گئے۔ مولانا رانی پوری اُنکے حلیے اور شکل و صورت کے بارے میں لکھتے ہیں کہ:

’’اُن کا قد سیدھا اور درمیانہ تھا رنگ صاف بادام کی طرح خدوخال دلکش اور آنکھیں بڑی بڑی آھو چشم گیسو دراز تھے۔ سفید پیرہن سفید شال یا چادر اوڑھے رکھتے تھے، کھدر کا تہبند باندھتے تھے، سر پر سبز تاج ہوتا‘‘۔

مرزا علی قلی بیگ لکھتے ہیں کہ:

’’ پیری میں سفید ریش مبارک رکھتے تھے، جوتا کبھی پہنتے کبھی ننگے پاؤں بھی نکل جاتے، ہاتھ میں لاٹھی ہوتی تھی، سواری استعمال نہیں کرتے تھے۔ زمین پر یا لکڑی کے صندل پر بیٹھتے اور سو جاتے ،چارپائی استعمال نہیں کرتے تھے۔طنبورہ بھی ساتھ رکھتے تھے‘‘۔

ازدواجی زندگی: سچل سرمست کی شادی اپنے چچا میاں عبدالحق کی دختر نیک اختر سے ہوئی۔ ایک فرزند عطا ہوا جو بچپن میں ہی وفات پا گیا۔ شادی کے صرف دو سال بعد شریکِ حیات وفات پا گئی مگر زندگی بھر دوسری شادی کرنے کا خیال تک نہ آیا۔

سچل سرمست کی شاعری۔ ان کی شاعری میں عشق بنیادی موضوع ہے۔ اسکے لئے انہوں نے تاریخی داستانوں کا سہارا بھی لیا ہے۔ اس سلسلے میں شاہ عبداللطیف بھٹائی کا اثر لیاہے۔ ہیر، سسی، مومل ، نوری اور جام تماچی اور دیگر کرداروں کے بھیس میں اپنا درد واضح انداز میں بیان کیا۔ مثلاََ نوری اور جام تماچی کے قصہء عشق سے انکساری کا سبق اخذ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انکساری انسان کے

اعلٰی درجات و صفات میں سے ایک صفت ہے۔ ترجمہ:

ملاح عورت کے دل میں ذرا برابر غرور نہیں

آنکھوں کے اشاروں سے بادشاہ کو گرویدہ کیا

اسلئے سمہ حکمران کو وہ سب رانیوں سے زیادہ پسند آئی

پروفیسر کلیان آڈوان نے لکھا ہے کہ سچل سرمست کے تصور میں ایک غیر فرقہ وارانہ سماج تھا، جسے اب classless society کہا جاتا ہے۔ انکے شعر کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے

ہیں ۔ ترجمہ:

سب رسوم و رواج توڑ دو ۔۔۔مرد بنومردانہ۔۔۔سچل غلامی والا وہم دور کرو۔ شملا باندھ شاہانہ

سچل سرمست کی آواز نہایت بلند ہے۔ وہ بیباک صوفی شاعر تھے۔ فرسودہ رسومات کے خلاف لکھا اور مُلا کے تنگ نظریات اور منافرت والی پالیسی کو رد کیا۔ سچل سرمست ایک وسیع النظر انسان تھے۔ انہوں نے انسان کی عظمت کو اہمیت دی۔ وسیع انسانی برادری کے تصور کولیکر بے تعصبی کی تعلیم دی۔ ہندو بھی انکے مرید ہو گئے اور اسلام قبول کیا یہ سب صرف بے تعصبی کی وجہ سے ممکن ہوا۔ سچل پیر و مریدی سے بھی نالاں تھے۔ فرماتے ہیں۔

نا میں شیعہ۔ نا میں سنی۔ نا میں سید سداواں

نا میں مرید۔ نا میں پیر۔ سارے فقر کا فقیر

نا میں حاکم نا میں ظالم۔ میں ہوں امن کا امیر

امن کی اہمیت آج کے دور میں بھی مسلم ہے۔ ظلم کی مخالفت کر تے ہوئے اُنہوں نے عالمی برادری کو ایک جانا۔ انکی شاعری میں رجائیت پسندی واضح نظر آتی ہے قنوطیت نظر نہیں آتی جبکہ عشقیہ شاعری میں کہیں کہیں قنوطیت بھی دکھائی دیتی ہے۔ اگر سچل کی شاعری میں پُر امیدی نا ہوتی تو شائد وہ اتنے کامیاب شاعر نہ ہوتے۔غلامی کی نفسیات کو رد کرتے ہوئے پیغام دیا ترجمہ : بارات کے پیچھے نہ چلو۔ خود کو دولہا کی طرح جانو۔ رہنمائی کرو۔

اکثر سوانح نگار وں نے بزرگ ہستیوں کی سوانح حیات لکھتے ہوئے یہ بھی لکھا ہے کہ وہ عشقِ حقیقی سے سر شار تھے۔ فقط چندایک مجاز کے رنگ میں رنگے ہوئے تھے۔ اکثر کی زندگی میں ابتدا میں مجاز اور آخر میں حقیقت کی طرف اشارے بھی ملتے ہیں۔ سچل سرمست کی سوانح عمری میں ان کی جوانی کے ادوار کا مختلف تذکرہ ملتا ہے۔ مولانا رانی پوری اُنکے بچپن کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ عین دورِ جوانی میں اپنے نفس پر قابو رکھتے تھے۔ اپنے فقیرانہ اور قلندرانہ خیالات میں گُم رہتے تھے۔ سچل سرمست کی زندگی میں کسی مغنیہ کے آنے کے حوالے بھی ملتے ہیں۔ انکے کلام میں بھی حسن و عشق کے کئی اشارات و استعارات ملتے ہیں۔ سچل نے بھی دیگر شعراء کی طرح عالمی بھائی چارہ اور انسان دوستی کو اپنے کلام میں اُجاگر کیا۔ ظلم و وحشت کی مذمت کی اور مذہبی منافرت اور فرقہ بندی کو غلط جانا۔ 1829 میں 90 برس کی عمر میں وفات پائی۔

مہ جبین ملک

منچھر جھیل : پاکستان میں میٹھے پانی کی سب سے بڑی جھیل

This photo of Manchar Lake is courtesy of TripAdvisor

دنیا کی سب سے قدیم جھیل منچھر جھیل کراچی سے قریباً 280 کلومیٹر (175میل) کے فاصلے پر ضلع دادو کے تعلقہ جوھی کھیرتھر پہاڑ کے دامن میں واقع ہے۔ یہ جھیل کب وجود میں آئی، اس کے متعلق حتمی طور پر کوئی کچھ نہیں کہا جاسکتا البتہ یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ یہ جھیل موہن جودڑو اور ہڑپہ کی تہذیبوں سے بھی قدیم ہے، یعنی یہ قدیم ترین پتھر کے دور سے اسی جگہ پر موجود ہے۔ منچھر جھیل دریائے سندھ سے قدرے بلندی پر واقع ہے۔ اس لیے جب دریا میں سیلابی کیفیت ہوتی ہے تو دریا کا زائد پانی حفاظتی پشتے توڑ کر پورے علاقے میں پھیل جاتا ہے ،مگر جب دریا کی سیلابی کیفیت ختم ہو جاتی ہے تو جھیل کا زائد پانی دریائے سندھ میں واپس ہو جاتا ہے اور منچھر جھیل اپنی اصل حالت میں واپس آجاتی ہے۔

ان حالات کے پیش نظر گذشتہ صدی کے دوران سے دریائے سندھ کے ساتھ ملانے کے لیے ایک ’’اڑی‘‘ نامی نہر بنا دی گئی تھی، جس سے دریا کا سیلابی پانی منچھر جھیل میں محفوظ ہو جاتا ہے، یہ جھیل 520 مربع کلومیٹر کے وسیع عریض علاقے میں پھیلی ہوئی ہے۔ منچھر جھیل سے لاکھوں لوگوں کی قسمتیں وابستہ ہیں۔ ا س جھیل کو دیکھا جائے، تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہاں بھی کوئی شہر آباد ہے۔ اس شہر میں ہزاروں کشتیوں پر سوار پورے کا پورا خاندان نسل در نسل آباد ہے۔ ان خاندانوں کو ’’میر بحر‘‘ کہا جاتا ہے، ان کی صبح کہیں ہوتی ہے تو شام کہیں۔ میر بحروں کی تمام تر خوشیاں، مصائب اور تکالیف اس جھیل ہی سے وابستہ ہیں منچھر جھیل ان کے لیے ذریعہ آمدنی اور غذا کی فراہمی کا وسیلہ بھی ہے۔ جھیل میں قریباً دو سے زائد اقسام کی مچھلیاں جو صدیوں سے منچھر جھیل میں پائی جاتی ہیں بالکل ختم ہوگئیں ،اب جو مچھلیاں اس جھیل میں ہیں،ان میں سندھی حرگو، گندن، لوھر، سنگاڑا، پھندملی، موراکا اور کڑوا وغیرہ شامل ہیں۔ اس وقت مچھر جھیل مچھلیوں کی افزائش کا سب سے بڑا مرکز ہے۔

اس جھیل سے لاکھوں من مچھلیاں ہر سال پکڑی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ اس جھیل میں کنول کافی مقدار میں پیدا ہوتا ہے۔ لوگ کنول کے بیجوں کلیوں اور اس کی جڑوں کو بطور سبزی پکا کر کھاتے ہیں، جہاں ہری بھری گھاس اچھا موسم اور قدرتی جھیل ہو ،وہاں پرندوں کا دور دراز علاقوں سے آنا ایک فطری بات ہے۔ سردیوں کے موسم میں منچھر جھیل ہر قسم کے پرندوں سے بھر جاتی ہے ۔پرندے عارضی طور پر مختلف ممالک سے ہر سال یہاں آتے ہیں، اکثر یہاں سائبریا اور اس قسم کے ٹھنڈے ممالک سے پرندے منچھر جھیل میں آتے ہیں۔ اس جھیل میں آنے والے پرندوں کی متعدد اقسام ہوتی ہیں، مثلاً ہنس لاکو جانی، راج ہنس، آڑی (آری جل مرغی) نیگری ( نیل سر) کا نیرو (چونچ بزا) ڈگوش ( چھوٹی بطخ) کنگھا ( لنگور) چنچلوں ( چکیکلو بطخ) گنگ مرغیاں اور مختلف بطخیں وغیرہ شامل ہیں ۔اس کے علاوہ منچھر جھیل میں سندھی ہنس بھی کافی تعداد میں پائے جاتے ہیں یہ ہنس تین طرح کے ہوتے ہیں؛ ایک بھورے رنگ کے ہنس دوسرے سفید منہ والے اور تیسرے کلغی والے ہنس، کہا جاتا ہے کہ یہ ایک نایاب نسل ہے، جو اس جھیل میں پائی جاتی ہے۔ آج کل تو ان پرندوں کو رائفل یا بندوق سے مارا جاتا ہے، لیکن اس سے پہلے میر بحر یعنی زندہ اپنے ہاتھوں سے پکڑتے تھے۔

موسم سرما میں منچھر جھیل میں پانی کی سطح کافی کم رہتی ہے اور دور دور تک خشک سالی ہوتی ہے۔ اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میر بحروں کے یہ خاندان مختلف غذائی اجناس کی کاشت کرتے ہیں۔ یہاں غذائی اجناس میں گندم، جوار، جو، سرسوں،کپاس اور چاول وغیرہ شامل ہیں میر بحر حضرات انہیں نہ صرف اپنی ضروریات کے لیے استعمال کرتے ہیں بلکہ قریبی منڈیوں میں فروخت کرکے اپنی ضروریات زندگی پوری کرتے ہیں۔ منچھر جھیل کو سیاحت کا مرکز بنا جاسکتا ہے، یہاں کے عوام کا عرصہ دراز سے مطالبہ ہے کہ منچھر پر ایک ڈیم بنایا جائے تاکہ جو ھی تحصیل اور سہیونا کی لاکھوں ایکڑ زمین کاشت ہوسکے۔

شیخ نوید اسلم

 (پاکستان کی سیر گاہیں)