میں نے بینظیر بھٹو کی تصویریں باہر پھینک دی ہیں

وحید احمد کی اہلیہ مجھے اپنے چھوٹے سے کمرے میں ایک دیوار پر لگی میخیں دکھاتے ہوئے بتا رہی تھیں کہ یہاں پہلے بینظیر بھٹو کی تصویریں آویزاں تھیں۔
اسی دیوار پر ایک گھڑی تھی جس میں وقت نجانے کب سے رُکا ہوا ہے۔ کمرے میں کچھ چارپائیاں اور ایک طرف چولہا تھا جو سوئی گیس نہ ہونے کی وجہ سے بند رہتا ہے۔ ان کا یہ کرائے کا چھوٹا سا گھر راولپنڈی کے محلے ڈھوک رتہ کی تنگ سی گلیوں میں واقع ہے۔ اس خاندان کی تباہی کا سفر 27 دسمبر 2007 کو شروع ہوا اور اب تک جاری ہے۔ ‘میرے شوہر پہلے برگرز بیچتے تھے اور ہمارا گزر بسر ہو جاتا تھا، بچے تعلیم حاصل کر رہے تھے اور سفید پوشی کی زندگی گزر رہی تھی۔‘

27 دسمبر کو ان کے شوہر معذور ہوئے، بچوں کی تعلیم کا سلسلہ ختم ہوا، تمام جمع پونجی علاج پر لگ گئی اور نوبت فاقوں تک پہنچ گئی۔ وحید احمد بتاتے ہیں ‘ہم 27 دسمبر کو بینظیر بھٹو کے آخری جلسے میں گئے اور دھماکے میں میری ٹانگ پر زخم آیا۔ ڈاکٹروں نے میری ایک ٹانگ کاٹ دی کہ کینسر پھیل جائے گا، دوسری بھی تقریباً ضائع ہو چکی ہے‘۔ وحید احمد کہتے ہیں کہ دس سال تک ان کا علاج ہوتا رہا۔ ‘پیپلز پارٹی میں سے کسی نے مدد نہ کی۔ سارا علاج خود کرایا۔ کسی بھی زخمی کی مدد نہیں کی گئی۔ کسی نے پلاٹ بیچا اور کسی نے قرض اُدھار لے کر علاج کرایا۔ کئی زخمی اس لیے مر گئے کہ ان کا علاج نہ ہو سکا‘۔

وحید احمد 1970 سے پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ بطور کارکن منسلک رہے ہیں لیکن اب وہ اس جماعت کی قیادت سے سخت نالاں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان سمیت سب زخمیوں اور ہلاک ہونے والوں کے لواحقین سے کئی وعدے کیے گئے مگر کوئی وعدہ وفا نہیں ہوا۔ وحید احمد کہتے ہیں کہ وہ پیپلز پارٹی کی خاطر دو مرتبہ جیل گئے۔ ‘مجھے اس جماعت سے عشق تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کو مانتا تھا۔ لیکن اب میں نے پیپلز پارٹی کو چھوڑ دیا ہے۔ صرف اس محلے میں ہی سینکڑوں پارٹی کارکن تھے، اب کوئی پیپلز پارٹی کو یاد بھی نہیں کرتا‘۔

راولپنڈی میں موجود پیپلز پارٹی کے ان پرانے کارکنوں سے بات چیت کے بعد یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اس جماعت کی قیادت اور کارکنان کے بیچ ایک بڑی خلیج حائل ہو چکی ہے۔ رابطوں کا فقدان اور خاص طور پر ستائیس دسمبر کو زخمی ہونے والے کارکنوں کو اُن کے حال پر چھوڑنے کے اس قدر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں کہ یہاں کے عوام یا تو کسی بھی جماعت کی حمایت نہیں کرتے، یا وہ پاکستان مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف میں بٹ گئے ہیں۔ لیکن پیپلز پارٹی کا وجود دِھیرے دِھیرے ختم ہو رہا ہے۔

اسی محلے میں ہماری ملاقات اختر سعید سے بھی ہوئی جو پیپلز پارٹی کے کارکن بھی ہیں اور یونین کونسل کی سطح پر عہدیدار بھی ہیں۔ وہ کرائے کے مکان میں رہتے ہیں اور قیادت سے کچھ خفا بھی ہیں۔ 27 دسمبر کو ان کے پیٹ میں گولی لگی تھی اور وہ کہتے ہیں کہ ان کے علاج میں پارٹی نے مدد کی۔ جس کی ایک وجہ شاید ان کی اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ علیک سلیک تھی جو غریب ریڑھی بان وحید احمد کی پہنچ سے باہر تھی۔ اس سوال پر کہ وہ اور دیگر کارکنان بینظیر بھٹو کی کمی محسوس کرتے ہیں یا نہیں، محمد سعید نے بتایا کہ ‘بی بی کی شہادت کے بعد یہ خلا پُر کرنا ناممکن ہے، وہ ہماری لیڈر تھیں، آج وہ زندہ ہوتیں تو پارٹی ورکرز کے حالات مختلف ہوتے‘۔

پیپلز پارٹی کے یہ کارکنان بینظیر بھٹو حملہ کیس میں عدالتی فیصلے سے مایوس ہیں اور قاتلوں تک نہ پہنچنے کا ذمہ دار بھی وہ پیپلز پارٹی کی موجودہ قیادت ہی کو ٹھہراتے ہیں۔ اختر سعید نے بتایا کہ ان سے عام لوگ سوال کرتے ہیں کہ پیپلز پارٹی اپنے پانچ برسوں میں قاتلوں کو پکڑنے میں کیوں ناکام رہی تو ان کے پاس ان سوالوں کا کوئی جواب نہیں ہوتا۔ جب ان کارکنوں سے پوچھا کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے ساتھ انصاف ہوا ہے تو وحید احمد کا کہنا تھا ‘انصاف نہیں ہوا، میں نے اپنی پوری زندگی اس پارٹی کو دی لیکن نہ ہمارے ساتھ انصاف ہوا، نہ بی بی کے ساتھ انصاف ہوا’۔ یہی سوال جب وحید احمد کی اہلیہ سے کیا تو وہ دیوار پر لگی خالی میخوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے غصے سے بولیں ‘انصاف؟ میں نے بینظیر بھٹو کی تصویریں باہر پھینک دی ہیں۔ دس سال کوئی ہماری خبر لینے نہیں آیا۔ میرا گھر تباہ ہو گیا لیکن کسی نے حال تک نہیں پوچھا۔ یہ کیا انصاف دیں گے‘۔

فرحت جاوید
بی بی سی اردو، اسلام آباد

Advertisements

کلبھوشن کی اہلیہ کے جوتے میں ریکارڈنگ چپ یا کیمرا تھا

دفترخارجہ نے کہا ہے کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن کی اہلیہ کے جوتوں میں کچھ مشکوک محسوس ہوا تھا اس لیے جوتا واپس نہیں کیا تاہم باقی تمام سامان اور جیولری واپس کر دی، جوتے میں ریکارڈنگ چپ یا کیمرا تھا جس کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر فیصل نے اپنے بیان میں کہا کہ کلبھوشن کی اہلیہ کے جوتے کی چھان بین کی جا رہی ہے ان کو متبادل جوتا فراہم کر دیا گیا تھا، ان کے جوتے میں میٹل کی کوئی چیز تھی جوتے میں میٹل کی انکوائری کی جا رہی ہے کہ وہ ریکارڈنگ چپ تھی یا کیمرا تھا۔

انڈیا پاکستان بارڈر پر 200 فٹ بلند پاکستانی پرچم

پاکستان نے صوبہ پنجاب میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان گنڈا سنگھ بارڈر پر 200 فٹ بلندی پر پاکستانی پرچم لہرایا گیا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق بانی پاکستانی محمد علی جناح کے یوم پیدائش کے موقع پر گنڈا سنگھ بارڈر پر منعقدہ تقریب میں پرچم لہرایا گیا۔ خیال رہے کہ انڈیا نے رواں برس مارچ میں لاہور سے متصل اٹاری سرحد پر 360 فٹ بلند پول نصب کر کے اس پر جھنڈا لہرایا تھا جبکہ اسی سال اگست میں پاکستان کی جانب سے اٹاری کے بالکل سامنے واہگہ سرحد پر 380 فٹ اونچے پول پاکستانی پرچم نصب کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ مارچ میں اٹاری سرحد پر انڈیا کی جانب سے 360 فٹ اونچے پول پر نصب 120 فٹ لمبا اور 80 فٹ چوڑا لہرایا گیا تھا۔ یہ پرچم کئی بار تیز ہواؤں کی وجہ سے پھٹا اور نصب کیے جانے کے بعد حکام کو ایک ماہ کے عرصے میں تین بار سوا لاکھ انڈین روپے کی لاگت سے تین بار پرچم کو تبدیل کرنا پڑا تھا۔ اس مسئلے کے بعد مقامی سطح پر مطالبات کیے گئے کہ پرچم کی کوالٹی کو بہتر بنایا جائے تاکہ یہ نہ پھٹے یا پھر تکنیکی رپورٹ طلب کی جائے تاکہ تیز ہواؤں کے باعث پرچم پھنٹے کے واقعات نہ ہوں۔

قائد اعظم محمدعلی جناح کی بلوچستان سے محبت

قائد اعظم محمد علی جناح کو بلوچستان اور اہل بلوچستان سے خاص لگاؤ اورانس تھا، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے قیام پاکستان سے قبل اور بعد میں اس صوبے کے متعدد دورے کیے۔ قائد اعظم محمد علی جناح کے بلوچستان کے دوروں کا آغاز 1934 کے وسط سے ہوا تھا، اس وقت انہوں نے صوبے میں تقریبا ًدو ماہ قیام کیا، اس کے بعد قائد اعظم نے کوئٹہ اور زیارت کے علاوہ مستونگ، قلات، پشین، ڈھاڈر اورسبی سمیت اندرون صوبہ کئی دورے کیے۔ بانی پاکستان کے بلوچستان سے تعلق اور محبت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے مشہور 14 نکات میں اس صوبے میں اصلاحات کا مطالبہ بھی شامل تھا ۔

جناح کیپ کے نام سے شہرت پانے والی اور بابائے قوم کی شخصیت کا حصہ بن جانے والی قراقلی ٹوپی بھی انہیں کوئٹہ ہی میں پیش کی گئی تھی۔ قائد اعظم نے بلوچستان سے اپنی محبت کا ثبوت قیام پاکستان کے بعد فروری 1948 میں سبی میں پہلے سالانہ دربار میں طبیعت کی خرابی کے باوجود شرکت کر کے بھی دیا ۔
بابائے قوم نے زندگی کے آخری ایام زیارت کے پر فضا مقام پر واقع ریزیڈینسی میں ہی گزارے ، وہ قیام پاکستان سے قبل جدوجہد آزادی اور بعد میں نوزائیدہ مملکت کے امور بھی یہاں سے چلاتے رہے، یہی وجہ ہے کہ زیارت ریذیڈینسی کو قومی ورثہ قرار دے کر قائداعظم سے ہی منسوب کر دیا گیا، ان کی یہ قیام گاہ اہل بلوچستان کے لیے یقینا ًایک بیش بہا اثاثہ ہے۔

ان کی بلوچستان سے محبت اور انس کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے اپنی زندگی کے آخری ایام زیارت میں گزارے، علالت کے باوجود قائد نےکسی بڑے شہر جانے کی بجائے زیارت کو ترجیح دی، زیارت میں وقت گزارنا بلوچستان اور یہاں کے لوگوں سے قائد کی محبت کا مظہر ہے۔ نواب ثناء زہری کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمارے آباؤ اجداد نے بڑی قربانیوں کے بعد یہ ملک حاصل کیا ہے، بلوچستان سمیت ملک بھر کےعوام کسی صورت ملک کے اتحاد اور سلامتی کو خطرے میں پڑنے نہیں دیں گے، ہم سب مل کر پاکستان کے خلاف ہونے والی سازشوں کو ناکام بنا دیں گے۔انہوں نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ ملک میں رواداری اور جمہوریت کو فروغ دے کر ہی قائد کو خراج عقیدت کا حق ادا کیا جا سکتا ہے اور آج قائد کے زرین اصولوں پرچلتے ہوئے ملک کو درپیش چیلنجوں کا سامنا کر سکتے ہیں۔

راشد سعید

مسعود احمد برکاتی؛ میرے عظیم استاد کی چند ذاتی یادیں

استادِ محترم و مکرم سید مسعود احمد برکاتی سے میرا تعلق لگ بھگ تیرہ سال پر محیط ہے۔ فروری 1992 سے لے کر 16 فروری 2005 تک ایک طویل رفاقت ہے جو ماہ نامہ ہمدرد نونہال اور ماہ نامہ ہمدرد صحت کے حوالے سے یادوں کا ایک عظیم ذخیرہ رکھتی ہے۔ استاد گرامی سے میری پہلی ملاقات 1991 کے کسی مہینے ہوئی کہ جب میں ان کے پاس اپنی چند شائع شدہ تحریریں لے کر ہمدرد نونہال کے دفتر پہنچا۔ وہ اس وقت ہمدرد صحت ترتیب دے رہے تھے۔ مجھ سے مختصر سی ملاقات کی اور فرمایا کہ چند روز بعد آنا۔ تاہم، وہ چند روز، چند ماہ میں بدل گئے۔ اس زمانے میں موبائل فون تو ہوا نہیں کرتا تھا، جیسے تیسے لینڈ لائن پر بات ہوئی تو انہوں نے وقت دیا۔ دوسری ملاقات میں انہوں نے میری تحریروں والی فائل دیکھی جس میں کئی مؤقر روزناموں اور جرائد میں شائع شدہ میرے تراجم جمع تھے۔

برکاتی صاحب کےلیے سب سے اہم بات یہ تھی کہ میں نے چند برس استاد گرامی جناب سید قاسم محمود مرحوم کی زیر ادارت شائع ہونے والے ماہ نامہ سائنس میگزین میں بطور اسسٹنٹ ایڈیٹر گزارے ہیں۔ حکیم محمد سعید شہید اور مسعود احمد برکاتی، سید قاسم محمود کی بہت زیادہ عزت کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ شخص جن ہے، کیوں کہ اس نے وہ کام تن تنہا کیے ہیں جو ادارے کرتے ہیں۔ خیر، برکاتی صاحب نے مجھے دوبارہ آنے کو کہا۔ غالباً انہوں نے میرے جانے کے بعد سید صاحب (سید قاسم محمود مرحوم) کو فون کیا تھا تاکہ وہ میری بات کی توثیق کر سکیں، کیوں کہ ہمدرد میں ملازمت کے کچھ عرصے بعد میری ملاقات سید صاحب سے دورانِ سفر بس میں ہوئی تو انہوں نے مجھے بتایا کہ برکاتی صاحب کا فون آیا تھا، وہ تمہارے بارے میں پوچھ رہے تھے۔

برکاتی صاحب کا حکیم محمد سعید اور ہمدرد نونہال کے ساتھ سفر کا باقاعدہ آغاز 1952 میں ہوا جب حکیم صاحب مرحوم نے انہیں ماہ نامہ ہمدرد نونہال کی ادارت سنبھالنے کو کہا۔ ساتھ ہی ماہ نامہ ہمدرد صحت کے مدیر منتظم کی ذمے داریاں بھی دیں، جبکہ حکیم صاحب ہمدرد صحت کے مدیر اعلا تھے۔ اس سے قبل انہوں نے اپنے بڑے بھائی حکیم محمود برکاتی شہید کے ساتھ مل کر محنت مزدوری کی۔ بتاتے تھے کہ جب پاکستان آنے کے بعد ہم کراچی آئے تو ہمیں پتا چلا کہ حیدرآباد اسٹیشن کی تعمیر ہو رہی ہے اور وہاں مزدوروں کی ضرورت ہے۔ چنانچہ ہم دونوں مزدوری کرنے حیدر آباد چلے گئے۔ حیدرآباد اسٹیشن پر ہم دونوں بھائیوں کے ہاتھ کی لگائی گئی اینٹیں بھی ہیں۔ بعد میں ٹیوشن مل گئیں تو جسمانی مزدوری چھوڑ دی اور ذہنی مزدوری پر آگئے۔

ہمدرد سے تقریباً پینسٹھ سالہ پیشہ ورانہ رفاقت کے دوران انہوں نے بلا ناغہ ہمدرد نونہال کو اپنی معیاری تدوین کے ذریعے نسلوں کی ذہنی اور جسمانی نمو کا ذریعہ بنایا۔ مدیر کی حیثیت سے ان کا سب سے بڑا کمال یہ رہا کہ کتنے ہی نشیب و فراز آئے، ٹیکنالوجی بدلی، لیکن انہوں نے ہمدرد نونہال کے معیار اور بالخصوص مزاج پر حرف نہ آنے دیا۔ حکیم صاحب مرحوم کے بہ قول، برکاتی صاحب کا اس سے زیادہ کمال یہ ہے کہ انہوں نے ایک شمارے میں بھی ایسی بات نہیں لکھی جو ہمدرد نونہال کی ساکھ کو متاثر کرے اور اس کی اشاعت متاثر ہو۔ جو لوگ صحافت اور خاص کر ادارت سے تعلق رکھتے ہیں، وہ اس بات کی گہرائی کو محسوس کر سکتے ہیں۔

برکاتی صاحب کے ساتھ کام کرتے ہوئے ان کے کام اور مزاج کا خوب اندازہ ہوا۔ خاص طور پر جب مذکورہ بالا رسالے مرتب کرتے تو انتہائی یکسوئی اور توجہ سے کام کرتے۔ ایک رسالے کی ترتیب میں عموماً دو ڈھائی گھنٹے اور بعض اوقات چار پانچ گھنٹے لگا دیتے تھے۔ اس دوران کسی کو مخل ہونے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اتنا معیاری رسالہ پینسٹھ سال تک جاری رکھا بلکہ تحریروں کے معیار پر کبھی حرف نہ آنے دیا۔

تدوین کے مراحل میں پروف خوانی (پروف ریڈنگ) انتہائی مشکل کاموں میں سے ہے اور یہ کام مشاق اور تجربہ کار آدمی ہی کو کرنا چاہیے۔ برکاتی صاحب سے یہ فن بھی خوب سیکھنے کا موقع ملا۔ عموماً لوگ پروف خوانی مبتدین کے ذمے لگادیتے ہیں۔ یہ بڑی غلطی ہے۔ پروف خوانی کے حوالے سے برکاتی صاحب نے ایک واقعہ سنایا کہ ایک مرتبہ جب ان کی ملاقات علامہ سید سلیمان ندوی سے ہوئی تو ان سے باتوں باتوں میں تحریر کی پروف خوانی پر بات چل نکلی۔ برکاتی صاحب نے کہا کہ اس کا کوئی حل بتائیے کہ تحریر شائع ہونے کے بعد جو غلطیاں سامنے آتی ہیں، وہ تحریر کی اشاعت سے پہلے درست کر لی جائیں۔ علامہ ندویؒ نے فرمایا کہ جب آدمی پروف خوانی کرتا ہے تو بعض الفاظ پر شیطان اپنی انگلی رکھ دیتا ہے۔ گویا، کچھ بھی کر لو، چند غلطیاں تو اشاعت کے بعد ہی سامنے آتی ہیں۔

برکاتی صاحب کے ساتھ کام کر کے اندازہ ہوا کہ وہ ایک اچھے لکھاری اور بہترین مدیر ہونے کے علاوہ ایک کامیاب منتظم بھی تھے۔ تیرہ سے پندرہ افراد کے شعبے کو چلانا انہیں آتا تھا۔ تمام افراد کو ان کے مزاج کے مطابق چلاتے تھے۔ کام کے دوران اگر بہت زیادہ جلدی نہ ہو تو دھیمی رفتار سے کام کرتے تھے، کیوں کہ علمی کاموں کےلیے انتہائی یکسوئی اور صبر کی ضرورت ہے جو آج، بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ، مفقود ہے۔ کام کے دوران برسبیل تذکرہ، اپنی زندگی کے مختلف واقعات بھی بتاتے رہتے تھے جو میری پیشہ ورانہ زندگی میں بہت ہی کارآمد ہیں اور میرے لیے ایک اثاثہ بھی۔

دراصل، ہمدرد فاؤنڈیشن میں ہونے کی وجہ سے ان کی ملاقات دنیا کے بڑے ذہنوں سے ہوتی رہتی تھی اور وہ اپنی یادداشتیں اگرچہ تحریر تو نہ کر پائے، لیکن زبانی ذکر ضرور کرتے تھے۔ ہمدرد فاؤنڈیشن میں اُن کا رعب اور دبدبہ خوب تھا۔ کہتے تھے کہ میں اگر دفتر میں نہ ہوں، تب بھی سب کو دیکھتا رہتا ہوں۔ دوسری جانب کسی کی بہتر کارکردگی پر کچھ تعریف و تحسین بھی کرتے تھے۔ اول، انتہائی سینئر تھے اور دوم، سنجیدہ طبیعت کے مالک تھے، اس لیے عملہ ان سے دور ہی رہنے کی کوشش کرتا تھا۔ تاہم، بعض عوامل کے باعث میں چند امور پر ان سے نہ صرف اختلاف کیا کرتا تھا بلکہ ان سے ادب کے ساتھ اس اختلاف کا اظہار بھی کرتا تھا۔ چنانچہ آخری چند برسوں میں وہ مجھ سے کئی ادارتی، ادارہ جاتی اور ذاتی معاملات پر مشورہ بھی کرنے لگے تھے۔

ایک مرتبہ میں نے ایک تعلیمی ادارے میں داخلہ لے لیا اور برکاتی صاحب کو اپنا استعفا پیش کیا۔ نوجوانی کا جوش تھا اور کوئی گھریلو ذمے داریاں نہ تھیں، لہٰذا ایسا کرنے میں مجھے کوئی پس و پیش نہ تھا۔ برکاتی صاحب نے پوچھا، اپنی والدہ کو بتایا ہے کہ تم استعفا دے رہے ہو؟ میں نے کہا کہ نہیں۔ انہوں نے میری والدہ کو فون کر دیا اور مجھ سے اظہارِ ناراضی کیا کہ جب تک تمہاری والدہ مجھے نہیں کہیں گی، میں تمہارا استعفا قبول نہیں کروں گا۔ مزید تعلیم حاصل کرنی ہے تو یہیں رہتے ہوئے تمہارے پاس بہت موقع ہے۔

برکاتی صاحب کو دنیا بچوں کے ادب کے حوالے سے جانتی ہے۔ لیکن بہت کم لوگوں کو یہ پتا ہے کہ برکاتی صاحب کا نام اُردو تدوین اور انشا پردازی میں سب سے بلند ہے۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ اردو قواعد و انشا پر سب سے بڑی اتھارٹی ڈاکٹر رشید حسن خاں صاحب (شاہ جہاں پور، ہندستان) نے اپنی ایک کتاب ‘‘اُردو املا’’ کا انتساب ہی مسعود احمد برکاتی صاحب کے نام منسوب کیا۔ اس کے علاوہ میں نے اپنے دَورِ ہمدرد میں دیکھا کہ ڈاکٹر شان الحق حقی مرحوم جو اس زمانے میں آکسفورڈ کی مشہورِ زمانہ ڈکشنری کا انگریزی سے اُردو میں ترجمہ کر رہے تھے، جب وہ کسی لفظ کے ترجمے میں پھنس جاتے تھے تو برکاتی صاحب کے پاس آ جایا کرتے تھے اور ان سے اس مشکل لفظ کا ترجمہ پوچھتے تھے۔

برکاتی صاحب اور حقی صاحب کے درمیان اس دَور کی مجلسیں میرے لیے نہ صرف ناقابل فراموش یادیں ہیں بلکہ میرے پیشہ ورانہ علم اور تجربے میں نایاب اضافہ بھی۔ جب ترجمے کے کسی مسئلے پر حقی صاحب مرحوم پھنس جاتے تو برکاتی صاحب کے پاس آجاتے۔ برکاتی صاحب مجھے بلا لیتے، کیوں کہ پے در پے مختلف لغات کی ضرورت پڑتی تھی اور ادارتی عملے میں واحد نوجوان میں ہی تھا جو بھاری بھرکم لغات سے واقف بھی تھا اور انہیں اٹھا کر برکاتی صاحب کی میز تک پہنچا سکتا تھا۔ چنانچہ برکاتی صاحب کے کمرے میں بڑی میز کے ایک جانب برکاتی صاحب ہوتے تو دوسری جانب ان کے سامنے ڈاکٹر شان الحق حقی؛ اور میں ان دونوں کے درمیان بیٹھا ان دونوں کی لغوی بحثوں سے محظوظ ہوتا۔ اس دوران میں نے ان دونوں اُردو دانوں کو ایک لفظ کی زیر زبر پیش پر وَاللہ، دو دو ڈھائی ڈھائی گھنٹے بحث کرتے دیکھا۔

لغت کی بات چلی تو میں یہ ذکر کرتا چلوں کہ برکاتی صاحب کے دفتر میں اردو، عربی، فارسی اور روسی زبانوں کی درجنوں لغات موجود تھیں۔ برسبیل تذکرہ یہ بھی بتاتا چلوں کہ انہوں نے ایک زمانے میں روسی زبان بھی سیکھی تھی، لیکن اس میں مہارت نہیں تھی۔ البتہ اردو، فارسی اور عربی میں خوب گیرائی رکھتے تھے۔ ایک مرتبہ کسی صاحب نے ایک ترجمے میں ’’دماغ افروغ‘‘ لکھا تو لغات کھول کر بیٹھ گئے اور تقریباً پون گھنٹے کی تحقیق کے بعد انہوں نے اسے ’’ذہن افزوں‘‘ سے تبدیل کر ڈالا۔ لغت کا استعمال خوب کیا کرتے تھے۔ ان کی صحبت کے باعث مجھ میں بھی یہ عادت پختہ ہو گئی۔

میں آج دیکھتا ہوں کہ بڑے بڑے اہل زبان اور اہل قلم، بہ شمول صحافی، لغت سے استفادے کی اس عظیم صفت سے عاری ہیں۔ چنانچہ انہیں لفظ کا شعور ہے نہ وہ زبان دانی کا مزاج رکھتے ہیں۔ اپنی سستی اور علمی نا دوستی کے باعث انہوں نے غلط العوام ہی کو اپنا شیوہ بنا رکھا ہے۔ استاد محترم و مکرم کا پورا نام سید مسعود احمد برکاتی تھا، لیکن وہ اپنا نام ’’مسعود احمد برکاتی‘‘ ہی لکھا کرتے تھے۔ میں نے ایک مرتبہ یہ ذکر چھیڑا تو کہنے لگے کہ تین لفظی قلمی نام ہی سب سے اچھا لگتا ہے۔ دو لفظی نام چھوٹا ہو جاتا ہے جبکہ تین سے زائد الفاظ کا نام بولنے اور یاد کرنے میں بھاری ہوتا ہے۔ یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ مسعود احمد برکاتی صاحب حکیم نہیں تھے۔ میں نے فیس بک پر بعض افراد کی پوسٹس دیکھیں جن پر ’’حکیم مسعود احمد برکاتی‘‘ درج تھا۔ شاید یہ غلط فہمی ان کے بڑے بھائی حکیم محمود احمد برکاتی شہید کے نام سے مماثلت کے باعث ہوئی ہے۔

استادِ گرامی سے میری آخری ملاقات مؤرخہ 2 نومبر 2015 کو ان کے دفتر واقع ہمدرد فاؤنڈیشن، ناظم آباد، کراچی میں ہوئی۔ اس کے بعد سے میری کوشش یہ رہی کہ ایک نالائق (یا لائق) شاگرد کی حیثیت سے اپنےاستاد محترم کا جامع انٹرویو کر لوں۔ ان سے دو تین مرتبہ فون پر اس حوالے سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ مجھے اپنے سوالات لکھ کر بھیج دو۔ میں نے چند سوالات مرتب کیے اور انہیں کوریئر کر دیے۔ مجھے نہیں معلوم کہ ان تک یہ سولات پہنچے یا نہیں، کیوں کہ اس کے بعد ایک آدھ مرتبہ جب میں نے ان سے انٹرویو کی بات کی تو انہوں نے یہی فرمایا۔ میں آج جس منصب اور مرتبے پر ہوں، اور جس معیار کا پیشہ ورانہ کام کر رہا ہوں، اس شخصیت کی تشکیل اور پیشہ ورانہ مہارت میں میرے استادِ عظیم مسعود احمد برکاتی مرحوم کا بہت کردار ہے۔ اللہ تعالیٰ استاد گرامی کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلا ترین مقام عطا فرمائے (آمین)۔

سید عرفان احمد

بھارتی جیلوں میں قید بے نام پاکستانی

’ماں کے لیے تو ایک رات اپنے بچے کے بغیر کاٹنا مشکل ہوتی ہے اور میں سات ماہ سے اس کی راہ تک رہی ہوں۔ ہر پل، ہر لمحہ یہ سوچتی ہوں کہ ابھی دروازہ کھلے گا اور میرا حسنین گھر میں داخل ہو گا۔ نہ جانے وہ کس حال میں ہو گا ؟ اس کا خیال کون رکھتا ہو گا ؟ وہ بدنصیب تو بول سکتا ہے اور نہ ہی سن سکتا ہے۔‘‘
عشرت جاوید یہ کہتے ہوئے آبدیدہ ہو گئی۔ وہ کبھی اپنی گود میں بیٹھی چھوٹی بیٹی کے سر پر ہاتھ پھیرتی تو کبھی اپنے بیٹے کے گم ہونے کی داستان سنانے لگ جاتی۔ عشرت جاوید کا 15 سالہ بیٹا حسنین 2 مئی 2017 کو گھر سے نکلا اور پھر واپس لوٹ کرنہیں آیا۔ اب سات ماہ بعد انہیں معلوم ہوا ہے کہ ان کا بیٹا پڑوسی ملک بھارت کے شہر امرتسر کی سینٹرل جیل میں قید ہے۔ یہ خاندان لاہور رِنگ روڈ کے قریب واقع چھوٹی سی آبادی بھماں کا رہائشی ہے۔ حسنین کے والد جاوید اقبال گھروں میں رنگ و روغن کرتے ہیں، ان کے سات بچے ہیں جن میں حسنین سب سے بڑا اور پیدائشی طور پر گونگا بہرا ہے۔ ایک چھوٹی بیٹی بھی اسی معذوری کا شکار ہے۔ بیٹے کے زندہ سلامت ہونے کی خبرسے ان کے مرجھائے چہرے پھر سے کھل اٹھے ہیں اور اب یہ لوگ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ کب ان کا جگر گوشہ واپس گھر آئے گا۔

حسنین کو 17 مئی 2017 کو بھارتی بارڈرسیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے اہلکاروں نے گرفتارکیا تھا۔ گونگا بہرا ہونے کی وجہ سے یہ اپنا نام پتا، کچھ نہیں بتا سکتا تھا جس کی وجہ سے اس کی شناخت کرنا مشکل تھی۔ بھارتی حکام کے مطابق یہ بچہ پاکستانی کرنسی نوٹ، قائداعظم کی تصویر اور پاکستانی پرچم کو پہچان لیتا تھا؛ اسی بنا پر امرتسر جیل انتظامیہ نے نئی دہلی میں پاکستانی سفارتخانے کو آگاہ کیا اور بچے کی تصویر انہیں بھیجی تاکہ اس کی شناخت ہو سکے۔ اس طرح اس بچے کے خاندان کو تلاش کرنا ممکن ہوا۔ یہ تو صرف ایک حسنین کی کہانی ہے۔ بھارت کی امرتسر جیل میں اس وقت 30 قیدی ایسے ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ وہ پاکستانی ہیں لیکن آج تک ان کی شہریت کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ ان 30 قیدیوں میں دو گونگے اور بہرے ہیں۔ مئی 2017 میں جاری کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق بھارتی جیل حکام نے ان 30 قیدیوں کے بارے میں نئی دہلی میں پاکستانی سفارتخانے کو آگاہ کیا تاہم ابھی تک پاکستان میں ان کے خاندانوں کا کوئی سراغ نہیں لگایا جا سکا ہے۔

یہ 30 قیدی اس وقت امرتسر جیل کے ٹرانزٹ کیمپ میں ہیں۔ اس کیمپ میں ایسے قیدیوں کو رکھا جاتا ہے جو اپنی سزائیں مکمل کر چکے ہیں لیکن ان کی شہریت کی تصدیق نہ ہونے کی وجہ سے ان کی رہائی نہیں ہو پاتی۔ ان میں 30 سالہ گونگا بھی ہے جسے 2007 میں بھارت میں غیرقانونی داخلے کے الزام میں گرفتار کر کے پاسپورٹ ایکٹ کے تحت سزا سنائی گئی۔ اس بیچارے کی سزا مکمل ہوئے دس سال گزر چکے ہیں مگر اسے ابھی تک رہائی نصیب نہیں ہو سکی؛ کیونکہ وہ اپنا نام بتا سکتا ہے اور نہ یہ معلوم ہو سکا ہے کہ وہ پاکستان کے کس علاقے کا رہنے والا ہے؟ اسی طرح ایک خاتون شکلہ گھوش ہے، 57 سالہ اس خاتون کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ یہ پاکستانی ہے، اس کے والد کا نام کرن موہن ہے، ممکنہ طور پر یہ خاتون سندھ کی رہائشی ہو سکتی ہے تاہم آج تک اس کی بھی شہریت کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ 38 سالہ عبداللہ کا تعلق بلوچستان سے بتایا جاتا ہے، اسے 1997 میں گرفتار کیا گیا۔ ایک اورشخص تنویر احمد ہے جس کا تعلق قصور سے ہے، اسے گزشتہ برس فروری میں بی ایس ایف نے گرفتار کیا، اس نے خود کشی کی کوشش کی تھی جسے بی ایس ایف نے ناکام بنا دیا اوراب یہ بھی 6 ماہ سزا کاٹنے کے بعد ٹرانزٹ کیمپ میں ہے۔

ٹرانزٹ کیمپ میں قید کے دوران علی نام کا ایک گونگا 2014 میں دم توڑ گیا تھا۔ اس کی اپنے گھر واپسی کی امیدیں اس کے ساتھ ہی دم توڑ گئیں اوراسے بھارت میں ہی سپردِ خاک کر دیا گیا تھا۔ ان قیدیوں میں چند ایک ایسے ہیں جن کا ذہنی توازن درست نہیں۔ بھارتی حکام کے مطابق ان قیدیوں کے بارے میں پاکستانی سفارتخانے کو آگاہ کیا گیا مگرصرف چارافراد کی شہریت کی تصدیق ہو سکی ہے، جبکہ باقی قیدیوں کے خاندان کو تلاش نہیں کیا جا سکا اور یہ لوگ سزائیں مکمل ہونے کے باوجود قیدیوں جیسی زندگی گزارنے پرمجبور ہیں۔ ایسے قیدیوں کی شہریت کی تصدیق کیوں نہیں ہو پاتی؟ اس کی کئی ایک وجوہ ہیں۔ ان قیدیوں کی طرف سے غلط معلومات فراہم کی جاتی ہیں جن کی پاکستان کی طرف سے تصدیق نہیں ہو پاتی۔ اس کے علاوہ کئی لوگ ذہنی معذوری کا شکار ہوتے ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنے بارے میں درست معلومات نہیں دے پاتے اور اسی بنا پر ان کی رہائی بھی ممکن نہیں ہو پاتی ہے۔

پاکستانی سفارتی حکام کا مؤقف ہے کہ جب تک کسی قیدی کی شہریت کی تصدیق نہیں ہو جاتی کہ وہ پاکستانی شہری ہے، اس وقت تک ہم اسے کیسے قبول کر سکتے ہیں ؟ اگر ہم لے بھی لیں تو اسے کہاں بھیجیں گے؟ دوسرا مسئلہ یہ بھی ہے کہ پاکستانی اور بھارتی شہری شکل وشباہت میں خاصی مماثلت رکھتے ہیں، اب محض کسی کے پاکستانی ہونے کے دعوے ہی سے اسے قبول نہیں کیا جا سکتا، جب تک کہ اس دعوے کی تصدیق نہ ہو سکے۔ اس کی بڑی مثال بھارتی لڑکی گیتا کی ہے جو گونگی اور بہری تھی، اسے پاکستان نے خیر سگالی کے طور پر بھارت کے حوالے کیا مگر اب دو سال گزر جانے کے باوجود بھارت میں گیتا کے والدین کو تلاش نہیں کیا جا سکا ہے۔ اب تک دس خاندانوں سے گیتا کو ملوایا جا چکا ہے لیکن وہ خاندان اپنے دعوے کی تصدیق نہیں کر سکے اور گیتا پاکستان کے ایدھی ہوم سے رہا ہو کر بھارت کے اناتھ آشرم میں زندگی گزار رہی ہے۔

ہمیں ایسے افراد کے بارے میں کوئی واضح انتظامی و سفارتی لائحہ عمل مرتب کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بھارتی جیل میں قید کسی بھی مبینہ پاکستانی کی شہریت کی بروقت تصدیق کی جا سکے۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں لوگوں کی بڑی تعداد تک پہنچنا اور کسی گمشدہ شخص کے بارے میں معلومات حاصل کرنا خاصا تیز رفتار اور آسان ہو گیا ہے۔ اس معاملے کا مثبت پہلو یہ ہے کہ بہت سے لوگ صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بھی ایسی معلومات کی تشہیر کا ذریعہ بنتے ہیں۔ اگر انہیں سرکاری ذرائع سے براہِ راست ایسی اطلاعات ملیں گی تو یقیناً وہ بھی ایسے افراد کی شناخت اور انہیں ان کے اہلِ خانہ سے دوبارہ ملوانے کے کام میں اہم عمل انگیز بن سکیں گے۔ لیکن یہ سوچنے کےلیے جدید آلات سے زیادہ انسانی ہمدردی پر مبنی سوچ کی ضرورت ہے؛ اور یہ سوچ شاید ہمارے ملک کے کرتا دھرتاؤں میں مفقود ہے۔

آصف محمود

کیا موجودہ پاکستان ہی جناح کا خواب تھا ؟

مشہور برطانوی صحافی بیورلے نیکلز نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ’’ورڈِکٹ آن انڈیا‘‘ میں محمد علی جناح کو ہندوستان میں اہم ترین شخصیت قرار دیا تھا۔ اپنے اس بیان کی دلیل میں اُنہوں نے لکھا ہے کہ جناح آل انڈیا مسلم لیگ اور کانگریس کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتے تھے اور اگر وہ نہ ہوتے تو ہندوستان مکمل طور پر قتل و غارت اور انارکی کی بھینٹ چڑھ جاتا۔ وہ مزید کہتی ہیں کہ اگر گاندھی موجود نہ رہتے تو اُن کے بعد نہرو، راج گوپال اچاریہ، پٹیل اور متعدد دیگر رہنما موجود تھے جو ہندوؤں کی قیادت سنبھال سکتے تھے۔ تاہم اگر جناح نہ رہتے تو آل انڈیا مسلم لیگ میں کوئی بھی قابل ذکر رہنما نہیں تھا جو مسلمانوں کی باگ دوڑ سنبھالنے کی اہلیت رکھتا ہو۔

جناح اس بات کے ضامن تھے کہ ہندوستان میں انارکی نہ پھیلے اور ہندوستان کی آزادی اور تقسیم کا مقصد پر امن طریقے سے حل ہو۔ 1940 میں آل انڈیا مسلم لیگ کی طرف سے قرارداد پاکستان منظور ہونے کے بعد جناح پر الزامات لگنے لگے کہ وہ ہندوؤں کے خلاف منافرت کے جذبات بھڑکا رہے ہیں۔ اس کے دو برس بعد اُنہوں نے الہ آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے واضح کر دیا کہ وہ ہندو برادری کے خلاف کسی قسم کی نفرت میں یقین نہیں رکھتے۔ اُنہوں نے کہا ، ’’میں زندہ رہوں یا نہ رہوں، ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب نہ صرف مسلمان بلکہ یہ ہندو برادری بھی میرے اس اقدام کی قدر کرے گی۔‘‘ تاہم جو پاکستان 1947 میں وجود میں آیا، وہ اُن کے اصل خواب کا محض ایک حصہ ہی تھا۔ آخری برسوں میں اُن کی جان لیوا بیماری کے دوران کانگریس کے شدید دباؤ اور وائس رائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی چالاکیوں کے پس منظر میں وہ اُس پاکستان کو تسلیم کرنے پر آمادہ ہو گئے جو وہ اس سے قبل دو بار مسترد کر چکے تھے۔

وہ ایسا پاکستان چاہتے تھے جس میں پنجاب اور بنگال کی تقسیم نہ ہو۔ اگر ایسا ممکن ہو جاتا اور وہ قیام پاکستان کے بعد کچھ برسوں تک اس نوزائدہ ملک کی راہنمائی کیلئے زندہ رہتے تو شاید آج کا پاکستان اُس پاکستان سے یکسر مختلف ہوتا جو اُنہوں نے 1947 میں قبول کیا تھا۔ تاہم 1948 میں تپ دق سے اُن کے انتقال کے بعد پاکستان میں کوئی ایسا رہنما مو جود نہیں تھا جو آئینی اُمور اور فہم و فراست میں اُن کا ہم پلہ ہوتا۔ یوں مرکز، صوبوں اور ریاستی اداروں کے درمیان چپکلش اور رسا کشی کا ایک دور شروع ہو گیا اور آزادی کے محض 24 برس بعد ہی یہ ملک دو لخت ہو گیا۔

آج آزادی کے 70 برس بعد بھی پاکستان میں ریاست، حکومت اور عوام کے درمیان شدید بداعتمادی اور بدامنی کی فضا موجود ہے اور تمام ادارے مفلوج ہو کر بڑی حد تک اپنے آئینی کردار کو نبھانے سے قاصر ہیں۔ اگرچہ قائد اعظم کی شخصیت اب بھی پاکستانی عوام اور ریاست کیلئے مرکزی حیثیت رکھتی ہے، ملکی سیاست اور قیادت اُن کے راہنما اُصولوں سے دور نظر آتی ہے۔ قائد اعظم کے بارے میں مشہور کتاب The sole Spokeman کی مصنفہ ڈاکٹر عائشہ جلال کا کہنا ہے کہ سرحد کے دونوں جانب جناح کی بے قدری نے اُن اصولوں کو پامال کر دیا ہے جن کے تحت اُنہوں نے اپنی تمام زندگی جدوجہد کی تھی۔ بھارت میں اُنہیں فرقہ ورانہ اور نسلی منافرت کی بنیاد پر ہندوستان کی تقسیم کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے ایک ایسی شخصیت سے تعبیر کیا گیا جن کی وجہ سے ہندوستان کا نقشہ بدل کر رہ گیا۔ پاکستان میں اُ ن کا حوالہ محض جذباتی نعروں تک محدود ہو کر رہ گیا۔

عائشہ جلال کہتی ہیں کہ قوموں کو ہمیشہ عظیم ہیرو درکار ہوتے ہیں اور قائد اعظم بلا شبہ پاکستان کے ایک ایسے ہیرو ہیں جن پر ساری قوم فخر کرتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ پاکستان میں بھی قائداعظم کی شخصیت کو جس انداز میں پیش کیا گیا ہے، کیا وہ حقائق اور خود اُن کے اصولوں سے مطابقت رکھتا ہے؟ کیا موجودہ پاکستان کو قائد اعظم کا پاکستان کہا جا سکتا ہے؟ کیا قائداعظم کی شخصیت اور کردار موجودہ پاکستان کے حالات سے مطابقت رکھتے ہیں؟ یہ یقیناً سب کیلئے ایک ایک لمحہ فکریہ ہے۔

شبّیر جیلانی