لیونارڈو ڈاونچی کی پانچ سو سال پرانی پینٹگ 45 ارب روپے سے زائد میں فروخت

دنیا کی سب سے نایاب تصویر’مونا لیزا‘ کے خالق لیونارڈو ڈاونچی کی ایک اور نایاب پینٹنگ کو ایک شخص نے 45 کروڑ امریکی ڈالرز میں خرید کر اسے دنیا کی سب سے مہنگی پینٹنگ کا درجہ دے دیا۔ نیو یارک کے آکشن ہاؤس میں فروخت ہونے والی لیونارڈو ڈاونچی کی کم سے کم 500 سال پرانی تصویر ’سلواتور مونڈی‘ کو نامعلوم شخص نے ٹیلی فون پر بولی کے آخری اوقات میں 45 کروڑ امریکی ڈالر (پاکستانی 45 ارب سے زائد) میں خرید لیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹس پریس (اے پی) کے مطابق 26 انچ اونچی نایاب پینٹنگ کی بولی 10 کروڑ ڈالر سے شروع ہوئی، جو 40 کروڑ ڈالر تک جا پہنچی۔ پینٹنگ کی بولی جب 30 کروڑ تک پہنچی تو آکشن ہاؤس میں تالیوں کی گونج سنائی دی، تاہم ’سلواتور مونڈی‘ کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا۔
نیلامی کے آخری 20 منٹ کے دوران پینٹنگ کی بولی 40 کروڑ ڈالر لگائی گئی، یوں آکشن ہاؤس کی فیس اور خریدار کی غیر موجودگی کی فیس سمیت ’سلواتور مونڈی‘ کی رقم ریکارڈ 45 کروڑ ڈالر تک جا پہنچی۔

یہ دنیا کی واحد پینٹنگ ہے جو اتنی بڑی رقم میں فروخت ہوئی، اس سے قبل ستمبر 2015 میں ڈچ امریکن مصور ولیم ڈی کوننگ کی ایک پینٹنگ 30 کروڑ ڈالر میں فروخت ہوئی تھی۔ مئی 2015 میں مصور پکاسو کی (ویمن آف الجزائر) بھی 17 کروڑ ڈالر سے زائد میں فروخت ہوئی تھی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ لیونارڈو ڈاونچی کی یہ نایاب تصویر ان 20 پینٹنگز میں سے ایک ہے جو انہوں نے سن 1500 اور 1505 کے درمیان بنائی تھیں۔

 

Advertisements

کیا سوشل میڈیا نوجوانوں کے درمیان خود کشی کی وجہ بن رہا ہے؟

امریکا میں سنجیدہ حلقے نوعمر (ٹین ایج) لڑکے اور لڑکیوں میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے رحجان سے سخت پریشان ہیں اور ان کے خیال میں اس کی وجہ فیس بک اور سوشل میڈیا ہو سکتے ہیں۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گزشتہ دو عشروں سے نوجوانوں میں خودکشی کا رحجان بتدریج کم ہو رہا تھا لیکن سال 2010 سے 2015 کے درمیان اس میں واضح اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ماہرین اس کی وجہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس ضمن میں کوئی واضح جواب کسی کے پاس نہیں لیکن نفسیاتی و سماجی ماہرین کے مطابق انٹرنیٹ پر تنقید یعنی ’سائبر بلیئنگ‘ (cyber bullying) اس کی وجہ ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق سوشل میڈیا پر نوعمر بچوں کی ذہنی تباہی کے تمام لوازمات موجود ہیں۔

امریکہ میں کئی نوجوان لڑکے لڑکیوں کی خودکشی کے بعد جب سوشل میڈیا کے استعمال اور اس کے اثرات پر ایک سروے کیا گیا تو کولوراڈو کی ایک 17 سال لڑکی نے بتایا کہ وہ انسٹا گرام کی تصاویر اور پوسٹس دیکھ دیکھ کر اکتا جاتی ہے۔ اس مہم کے تحت نوعمر بچوں کو آف لائن وقت گزارنے کو بھی کہا گیا تھا۔ اس مہم میں نوجوانوں سے کہا گیا ہے کہ وہ کم ازکم ایک ماہ تک آف لائن رہیں اور انٹرنیٹ سے دور رہیں۔ ایک اور 17 لڑکی کلو ای شلنگ نے کہا کہ سوشل میڈیا سے جس برے انداز میں لوگ گزر رہے ہیں وہ ان کے بارے میں کچھ پوسٹ نہیں کرتے۔ امریکہ میں سی ڈی سی کے مطابق امریکہ میں 13 سے 18 سال کی بڑی آبادی انٹرنیٹ پر موجود ہے۔ ایک سروے میں 13 سے 18 سال کے 5 لاکھ نوعمر لڑکے اور لڑکیوں کو شامل کیا گیا۔ ان سے دوستوں سے ملاقات اور سماجی تعلقات اور سوشل میڈیا استعمال کرتے ہوئے ان کے موڈ کے بارے میں پوچھا گیا اور خودکشی کے خیالات کی چھان بین بھی کی گئی۔

پانچ لاکھ نوعمر بچوں کے سروے کے بعد اس مطالعے سے جو نکات سامنے آئے وہ کچھ اس طرح تھے کہ شرکا روزانہ اوسط پانچ گھنٹے اپنے اسمارٹ فون پر صرف کرتے ہیں اور یہ شرح 2009 میں 8 فیصد تھی جو 2015 میں بڑھ کر 19 فیصد تک جا پہنچی۔ اب جو بچے روزانہ ایک گھنٹہ صرف کرتے تھے ان کے مقابلے میں زیادہ یعنی پانچ گھنٹے اسمارٹ فون سے کھیلنے والوں میں خودکشی کے خیالات 70 فیصد زائد نوٹ کیے گئے۔ 2015 میں 36 فیصد شرکا نے کہا کہ وہ خود کو اداس اور بے بس محسوس کرتے ہیں جبکہ 2009 میں یہ شرح 32 فیصد تھی۔ لڑکیوں میں یہ شرح 2015 تک 45 فیصد تک نوٹ کی گئی۔ جو لوگ بار بار سوشل میڈیا پر جاتے تھے، وہ بقیہ لوگوں کے مقابلے میں 14 فیصد زیادہ ڈپریشن کے شکار تھے۔ اس کی وجہ سوشل میڈیا پر وہ پوسٹس ہیں جنہیں دیکھ کر کوئی الجھن تو کوئی احساسِ کمتری کا شکار ہو جاتا ہے۔

اس سروے کی سربراہ ڈاکٹر جین ٹوینگے سان ڈیاگو یونیورسٹی میں نفسیات کی پروفیسر ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ والدین اپنے نوعمر بچوں پر نظر رکھیں اور ان کےلیے اسمارٹ فون استعمال کرنے کے وقت کی حد مقرر کریں۔ تاہم نوجوانوں کے ایک معالج ڈاکٹر وکٹر اسٹراسبرگر کہتے ہیں کہ اس ضمن میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ وکٹر کے مطابق کچھ لوگ سوشل میڈیا کو اس کا ذمہ دار نہیں سمجھتے اور مثال دیتے ہیں کہ جب امریکہ میں کامک بکس آئیں، جب ٹی وی کا راج شروع ہوا اور جب راک اینڈ رول کا رحجان بڑھا تو لوگوں نے کہا کہ اب دنیا خاتمے کے قریب ہے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ تاہم سوشل میڈیا دو طرفہ تنقید کا ایک اہم ذریعہ ہے اور یہاں لوگ خفیہ رہتے ہوئے بھی دوسروں پر اثر انداز ہوتے ہیں اور ہمیں اسی منفی قوت کو سمجھنا ہو گا۔

بشکریہ روزنامہ ایکسپریس اردو

مردان واقعہ اور ریاست کی ذمہ داری

 مردان یونیورسٹی میں ایک طالب علم کو توہین مذہب کے الزام پر یونیورسٹی کے  ہی طلبہ نے بے دردی سے قتل کر دیا۔ نہ ان سنگین الزامات کی تحقیقات کی گئیں، نہ ہی معاملہ پولیس اور عدالت کے پاس گیا بلکہ ہجوم نے خود ہی الزام لگایا، اپنی عدالت لگائی اور سزا بھی دے دی۔ اس واقعہ کی وزیر اعظم نواز شریف، عمران خان، آصف علی زرداری، مولانا سمیع الحق، مفتی محمد نعیم اور دوسرے کئی سیاسی و مذہبی رہنمائوں نے مذمت کی جبکہ وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا اور متعلقہ پولیس ڈی آئی جی کے مطابق ابھی تک کی تحقیقات میں توہین مذہب کے کوئی ثبوت نہیں ملے۔ خیبر پختون خوا حکومت نے معاملہ کی جوڈیشل انکوائری کا حکم دے دیا ہے جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان نے بھی اس معاملہ کا سو موٹو نوٹس بھی لے لیا ہے۔

امید ہے آئندہ چند ہفتوں میں کیس کے تمام حقائق سامنے آ جائیں گے اور یہ کہ مشال خان پر لگائے گئے الزامات کی نوعیت درست تھی یا غلط یا کہ اُسے کسی سازش کا نشانہ بنا کر اس طرح قتل کروایا گیا۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ ریاست کے ہوتے ہوئے کسی بھی گروہ یا افراد کے مجمع کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ الزام کے بنیاد پر قانون ہاتھ میں لے کر کسی کی جان لے لیں۔ الزام کیسا بھی ہو اس کے لیے معاملہ پولیس، عدالت اور ریاست کے حوالے کیا جائے۔ اگر ہجوم اور گروہوں کو الزام لگا کر لوگوں کو مارنے کی اجازت دے دی جائے تو پھر تو یہاں کوئی بھی نہیں بچے گا اور خصوصاً ایک ایسے معاشرے میں جہاں سنگین سے سنگین الزامات لگانے کا رواج عام ہو اور اس کام کے لیے میڈیا اور سوشل میڈیا کو خوب استعمال کیا جاتا ہو۔

یہاں ریاست اور ریاست کے ذمہ داروں کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے اور اس سوال پر غور کرنا چاہیے کہ آخر ہماری ریاست گستاخی کے الزام میں سزا پانے والوں میں سے کسی ایک کی سزا پر بھی عمل درآمد میں کیوں ناکام رہی۔ ریاست کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ شہریوں کو قانون کی عمل داری نظر آئے تا کہ ہر کسی کو یقین ہو کہ کسی بھی قسم کا جرم کرنے والا سزا سے نہیں بچ سکتا۔ مردان واقعہ کا ایک ا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ مشال خان کے قتل کا حوالہ دے کر ایک طبقہ نے اسلام، blasphemy law اور ماضی قریب میں عدالت، حکومت اور پارلیمنٹ کی طرف سے سوشل میڈیا پر سے گستاخانہ مواد کو بلاک کرنے اور گستاخی کے مرتکب افراد کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات پر سوال اٹھانے شروع کر دیئے۔ کچھ نے کہا کہ مردان یونیورسٹی کا واقعہ blasphemy law کا غلط استعمال ہے۔

کوئی ان سے پوچھے یہ قانون کہاں کسی مجمع یا گروہ کو الزام کی بنیاد پر کسی بھی فرد کو مارنے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ قانون تو ریاست کو گستاخی کے الزام پر کارروائی کی ہدایت دیتا ہے۔ جو کچھ حال ہی میں عدلیہ، پارلیمنٹ اور حکومت نے سوشل میڈیا پر سے گستاخانہ مواد کو ہٹانے کے لیے کیا وہ انتہائی قابل تعریف اقدام ہے اور اس کا مقصد ایک ایسے فتنہ پر قابو پانا ہے جو کسی بھی اسلامی معاشرے میں اشتعال انگیزی، نفرت اور غم و غصہ کا باعث بنتا ہے۔ کسی ایک واقعہ کا بہانہ بنا کر کوئی اگر یہ چاہے کہ blasphemy law کو ہی ختم کر دیا جائے یا کوئی آزادی ٔرائے کے مغربی standards کو یہاں لاگو کیا جائے تو ایسا ممکن نہیں ہو سکتا کیوں کہ اس سے فتنہ بڑھے گا۔ مردان کا واقعہ کسی مدرسہ میں نہیں بلکہ عبدالولی خان یونیورسٹی میں ہوا جس میں ملوث طلبہ کی اکثریت کا مبینہ طور پر ایسی سیاسی جماعتوں کی طلبہ تنظیموں سے تعلق ہے جو اپنے آپ کو سیکولر اور لبرل کہتی ہیں لیکن افسوس کہ بحث ساری اسلام کے متعلق کی جا رہی ہے۔

ایسے موقعوں پر ہی ٹی وی چینلز کو علماء کرام کو بلا کر یہ پوچھنے کا موقع ملتا ہے کہ اسلام اس بارے میں کیا کہتا ہے۔ مردان واقعہ پر عدلیہ اور حکومت دونوں نے نوٹس لے لیا اور امید کی جا سکتی ہے کہ اس معاملہ میں پورا پورا انصاف ہو گا لیکن کیا چیف جسٹس آف پاکستان، وزیر اعظم نواز شریف، عمران خان، دوسرے رہنما اور ہمارا میڈیا زرا اس بات پر غور کرے گا کہ ہر ایسے موقع پر ہم اسلام کو لا کر کٹہرے میں تو کھڑا کر دیتے ہیں لیکن اسلام کی تعلیمات کو فروغ دینے کے لیے ہم کیا کر رہے ہیں۔ جب ہم اسکولوں میں، اپنے گھروں میں، میڈیا کے ذریعے اور حکومتی سطح پر معاشرے کو اسلامی تعلیمات سے آگاہ نہیں کریں گے اور اس ضد پر قائم رہیں گے کہ ریاست کا مذہب کے معاملات میں کوئی کردار نہیں تو پھر اسلام سے شکایت کیسی۔

میں چوہدری نثار علی خان سے متفق ہوں کہ مشال خان کے وحشیانہ قتل کو مذہب کے ساتھ جوڑنا قابل افسوس ہے۔ میری حکومت، پارلیمنٹ ، عدلیہ، سیاسی جماعتوں اور میڈیا سے گزارش ہے کہ لوگوں کو اسلام پڑھانے اور معاشرہ کو قرآن و سنت کے مطابق ماحول فراہم کرنے میں اپنا اپنا کردار ادا کریں جیسا کہ آئین پاکستان کی منشاء ہے۔ جہاں تک توہین مذہب اور گستاخی کے جرم کا تعلق ہے تو اس بارے میں ایک اصول پر ہم سب کو کاربند رہنا چاہیے اور وہ یہ کہ جس پر یہ جرم ثابت ہو گیا اُسے نشان عبرت بنائیں جس نے کسی پر جھوٹا الزام لگایا اُس پر قذف لگائیں۔ اسی طرح سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر کو روکا جائے اور ایسا کرنے والوں کو سزائیں دی جائیں۔

اس کے ساتھ ساتھ میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے دوسروں پر توہین مذہب کے جھوٹے الزامات لگانے والوں سے بھی سختی سے نپٹا جائے، انہیں سزائیں دی جائیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسے مواد (جھوٹے الزامات) کو بھی سوشل میڈیا پر بلاک کیا جائے اور میڈیا پر ان کی تشہیر کو سختی سے روکا جائے۔ ہمیں نوجوانوں اور بچوں کو یہ تعلیم بھی دینی چاہیے کہ وہ نہ صرف ہر صورت میں اپنے دین اور مقدس ہستیوں کا احترام کریں بلکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق دوسروں کے مذاہب کو بھی بُرا مت کہیں۔

انصار عباسی

سائبر کرائمز : ایک ارب ای میل اکائونٹس ہیک ؟

ان دنوں ہر طرف ای میل چوروں کا چرچہ ہے۔ کہیں وکی لیکس زیر بحث ہے تو کوئی امریکی انتخابات میں ای میلز اکائونٹس کی ہیکنگ کے ذریعے روسی مداخلت پر تبصرہ کر نے میں مگن ہے۔ ایک اور چونکا دینے والی رپورٹ اس کے علاوہ ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل ،عالمی شہرت یافتہ گلوکار جسٹن بیبرر، شکاگو یونیورسٹی اور اٹلانٹا پولیس ڈیپارٹمنٹ سمیت کئی ٹوئٹڑ اکائونٹس کی ہیکنگ پر لوگوں کا دھیان کم ہی گیا ہے۔ چند ہیکروں نے ٹوئٹر اکائونٹس ہیک کر کے ان پر مغرب کے خلاف مہم کا آغاز کر دیا تھا ۔ بعض اکائونٹس پر ترکی کے جھنڈے کے پوسٹ کر کے ہٹلر کا رسوائے زمانہ ’’سواسٹکا‘‘ پوسٹ کر دیا ہے۔ مقصد یہ باور کرانا ہے کہ بعض مغربی ممالک میں ہٹلر کا اثر اب بھی باقی ہے ۔  صدر طیب اردگان کے ہالینڈ کے خلاف سخت جملے بھی ہیکروں نے تصویروں کے ساتھ لکھ دئیے ہیں۔ ایک کمپنی نے اپنے ایک ارب ای میل اکائونٹس کی ہیکنگ کا اعتراف کیا ہے۔ ہیکروں نے ان اکائونٹس کی ہیکنگ کے لئے ہزاروں اکائونٹس کا سہارا لیا۔ ایک سرچ انجن نے 2014ء میں 50 کروڑ اکائونٹس ہیک کر نے کی خبریں منظر عام پر آنے کے بعد اپنے سسٹم کو بہتر بنانے کی کوشش کی۔ ہیکروں کے بعض گروپس نے کم از کم 80 لاکھ اکائونٹس کی معلومات چرائیں۔ 2013ء میں بھی کم از کم ایک ارب اکائونٹس میں سے لوگوں کی نجی زندگی کی معلومات چرا لی گئی تھیں۔ ایسا دوسرا بڑا واقع پچھلے سال 22 ستمبر کو پیش آیا۔ اس دوران یہ بھی انکشاف ہوا کہ ایک کم عمر بچہ بھی اس کام میں ملوث ہے۔ یہ بھی کہنا ہے کہ بعض ہیکروں کو پس پردہ بعض حکومتوں کی حمایت حاصل ہے۔

 ایک سرچ انجن کی درخواست پر امریکہ کے قائم مقام اٹارنی جنرل نے غیر قانونی طور پر لوگوں کی نجی زندگی میں داخل ہونے اور ای میلز ہیک کرنے پر 33 سالہ روسی تی متری الیگزینڈرو ،43 سالہ روسی ایگور اینا تولی وچ ، 39 سالہ روسی الیگزے اور 22 سالہ کریم باراتوف کے خلاف مقدمات بنا دئیے ہیں۔ کریم بارہ توف کو امریکی پولیس نے 14 مارچ کو کینیڈا سے حراست میں لے لیا ہے جبکہ باقی تین روسی ’’اشتہاری‘‘ قرار دے دئیے گئے ہیں۔ ان پر روس کے لئے جاسوسی کرنے کے الزامات ہے۔

ایک سرچ انجن کی درخواست پر امریکہ کے قائم مقام اٹارنی جنرل نے غیر قانونی طور پر لوگوں کی نجی زندگی میں داخل ہونے اور ای میلز ہیک کرنے پر 33 سالہ روسی تی متری الیگزینڈرو ،43 سالہ روسی ایگور اینا تولی وچ ، 39 سالہ روسی الیگزے اور 22 سالہ کریم باراتوف کے خلاف مقدمات بنا دئیے ہیں۔ کریم بارہ توف کو امریکی پولیس نے 14 مارچ کو کینیڈا سے حراست میں لے لیا ہے جبکہ باقی تین روسی ’’اشتہاری‘‘ قرار دے دئیے گئے ہیں۔ ان پر روس کے لئے جاسوسی کرنے کے الزامات ہے۔

محمد سعد صہیب

دولت کی غیر منصفانہ تقسیم

16 جنوری کو کئی خیراتی این جی اوز اور اداروں کی مشترکہ تنظیم ’’آکسفیم‘‘ کی ایک انتہائی اہم رپورٹ جاری کی گئی۔ اس رپورٹ کو سوئزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں جاری عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس کے موقع پر جاری کیا گیا۔ آکسفیم کی اس رپورٹ کو عالمی میڈیا میں تو بھرپور کوریج ملی، مگر پاکستان میں ایک دو بڑے اخبارات اور ایک دونیوز چینلوں کے سوااس انتہائی اہم رپورٹ کو نظرانداز کیا گیا۔ آکسفیم کی اس رپورٹ کے انکشافات دنیا کے ساتھ ساتھ پاکستان کے لئے بھی بہت زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔ یہ رپورٹ خاص طور پر ایسے ماہرین معیشت کے لئے بھی اہمیت کی حامل ہے جو دن رات مغرب، خاص طور پر امریکی سرمایہ داری نظام کا راگ الاپتے ہیں، پاکستان سمیت تیسری دنیا کے ملکوں کے لئے اسی نظام کو ماڈل کے طور پر پیش کرتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ اس نظام کو اپنانے سے تیسری دنیا کے تمام معاشی مسائل حل ہو جائیں گے۔

امریکی سرمایہ داری نظام کی چمک دمک سے مرعوب افراد کے لئے آکسفیم کی اس رپورٹ کا مطالعہ کرنا بہت ضروری ہے۔ آکسفیم کی اس رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا کے صرف آٹھ امیر ترین انسان اتنی دولت رکھتے ہیں، جتنی اس دنیا کی نصف آبادی، یعنی 3.6 بلین افرادکے پاس کل دولت ہے۔ ان آٹھ ارب پتی افراد میں سے چھ کا تعلق امریکہ سے ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق دنیا میں انتہائی امیر مگر تعداد میں کم اشرافیہ اور عام اکثر یتی آبادی کے مابین دولت کی تقسیم میں فرق بہت زیادہ تیزی کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔ رپورٹ کے اعداد وشمار کے مطابق 2015ء میں 62 افراد ایسے تھے ، جن کے پاس دنیا کی نصف آبادی کے برابر دولت تھی، مگر اب صرف آٹھ انسانوں کے پاس ہی کل عالمی آبادی کے نصف کے برابر دولت ہے۔ آکسفیم کے مطابق اس وقت دنیا کے ایک فیصد امیر طبقے کے پاس کل دنیا کی دولت کا 90 فیصد ہے اور گزشتہ 25 سال میں اس ایک فیصد امیر طبقے کی دولت اور سرمائے میں دنیا کی90 فیصد سے زائد آبادی کی دولت کے مقابلے میں بہت زیادہ اضافہ ہو رہا ہے۔

سابق امریکی صدر ریگن اور سابق برطانوی وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر کے دور میں سرمایہ داری نظام کو ایک طر ح کا جواز بخشنے کے لئے Trickle-down effect کی اصطلاح سامنے لائی گئی تھی، جس کے مطابق اگر امیروں کی جیبیں اتنی زیادہ بھر دی جائیں تو دولت خود بخود ان بھری جیبوں سے نیچے کی جانب منتقل ہو جائے گی، یوں عام طبقات بھی امیروں کی دولت سے مستفید ہو پائیں گے، مگر آکسفیم کی اس رپورٹ کے مطابق گزشتہ 25 سال کے دوران کسی بھی قسم کا ٹریکل ڈاؤن اثر دیکھنے میں نہیں آ رہا۔ امیر اشرافیہ کی دولت میں مسلسل اضافے کے باوجود یہ دولت سماج میں نچلے طبقات تک نہیں پہنچ پا رہی۔ امریکہ کے کاروباری میگزین ’’فاربس‘‘کے مطابق 1,810 ارب پتی افراد کے پاس 6.5 کھرب (ٹریلین) ڈالرموجود ہیں، جبکہ کل آبادی کے 70 فیصد کے پاس ملا کر بھی اتنی دولت نہیں ہے۔

اگلے 20 سال کے عرصے میں500 امیر افراد اپنے وارثوں کو 2.1 کھرب ڈالر وراثت کے طور پر منتقل کریں گے۔ یہ رقم ایک ارب تیس کروڑ کی آبادی والے ملک بھارت کے جی ڈی پی سے بھی زیادہ ہے۔آکسفیم کی اس رپورٹ میں معروف ماہر معیشت تھامس پیکیٹی کی اس تحقیق کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، جس کے مطابق گزشتہ تیس سال سے امریکہ میں عام طبقات کی آمدنیوں میں معمولی سا اضافہ ہوا، مگر اسی عرصے کے دوران ایک فیصد امیر ترین امریکیوں کی آمدنیوں میں 300 فیصد تک اضافہ ہوا۔ آمدنی میں اس قدر تفاوت کی مثالیں صرف امریکہ میں ہی نہیں ملتیں، بلکہ غریب ممالک میں بھی یہی صورت حال ہے۔ جیسے ویت نام کا امیر ترین فرد فام ناٹ وانگ ایک دن میں اتنا زیادہ کماتا ہے، جتناویت نام کا غریب فرد 10 سال میں بھی نہیں کما سکتا۔

آکسفیم کی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کیسے انتہائی منظم نظام کے تحت یہ ساری دولت امیروں کو مزید امیر بناتی چلی جا رہی ہے۔ سرمایہ کاری کے شعبے میں ہونے والے بڑے بڑے منافعوں کو مالک اور چند اعلیٰ عہدوں پر فائز ٹاپ ایگزیکٹو ہی اڑا کر لے جاتے ہیں۔ کارپوریٹ سیکٹرز میں بڑی بڑی تنخواہ پر ایسے افراد کو تعینات کیا جاتا ہے ، جو ٹیکس چوری کرنے کے’’قانونی‘‘ طریقے تلاش کر کے بتاتے ہیں۔ جیسے’’ایپل‘‘ جیسی اتنی بڑی عالمی کمپنی اپنے یورپی منافعوں پر صرف 0.005 فیصد ٹیکس ادا کرتی ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں ہر سال 100 بلین ڈالرزکا خسارہ اس لئے ہو تا ہے، کیونکہ ان ممالک سے حاصل ہونے والے منافع میں سے ٹیکس ہی ادا نہیں کیا جاتا، جبکہ کارپوریٹ سیکٹرز اور بڑی کمپنیوں میں کام کرنے والے مزدورں کو جائز اجرتیں بھی نہیں دی جاتیں۔

اس رپورٹ میں انٹرنیشنل لیبرآرگنائیزیشن کی تحقیق کا حوالہ دیا گیا ہے، جس کے مطابق دنیا میں لگ بھگ 21 ملین افراد ایسے ہیں جن سے جبری مشقت لی جا رہی ہے اور اسی جبری مشقت سے ہرسال 150 ارب ڈالر کا منا فع بھی بنایا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں کارپوریٹ سیکٹر کی بڑھتی ہوئی طاقت کی جانب بھی اشارہ کیا گیا ہے، اگر صرف ٹیکس یا ریوینو کے اعتبار سے دیکھا جائے تو اس وقت دنیا کے69 بڑے معاشی ادارے کارپوریشنز ہیں نہ کہ ممالک۔ اس کی انتہائی دلچسپ مثال یہ ہے کہ دنیا کی 10 بڑی کمپنیاں جن میں ’’وال مارٹ‘‘ ’’شیل‘‘ اور ’’ایپل ‘‘ بھی شامل ہیں، ان سب کا ریونیو دنیا کے 180 ممالک کی حکومتوں کے کل ریوینوسے بھی زائد ہے۔

ایسے اعداد وشمار سے واضح ہو رہا ہے کہ سرمایہ داری نظام میں کارپوریٹ سیکٹرز کا کردار اب کئی معاملات میں ریاستوں سے بھی زیادہ ہو چکا ہے، اس لئے کارپوریٹ سیکٹر آج کی بڑی ریاستوں کی داخلہ اور خارجہ پالیسی پر بھرپور طریقے سے اثر انداز ہو رہا ہے۔ رپورٹ میں معروف ماہر معیشت گبرئیل زیک مین کی اس تحقیق کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جس کے مطابق لگ بھگ7.6 ٹریلین ڈالرز کی دولت کو آف شور اکاونٹس یا ایسے ممالک میں خفیہ طور رکھا گیا ہے، جہاں ٹیکس کا کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ جیسے اگر صرف براعظم افریقہ کے ممالک میں رکھی گئی ناجائز اور خفیہ دولت پر ٹیکس لیا جائے تو افریقہ کو اس سے ہرسال 14 ارب ڈالر حاصل ہو سکتے ہیں۔ اس رقم سے افریقہ کے چارملین بچے، جو بھوک کا شکار ہیں، ان کو آسانی سے خوراک مل سکتی ہے۔

آکسفیم کی اس رپورٹ کو دیکھ کر آسانی سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ موجودہ عالمی سرمایہ داری نظام سراسر حرص، لالچ اور لوٹ کھسوٹ پر مبنی نظام ہے۔اس نظام کے غیر منصفانہ کردار کے باعث جہاں ایک طرف مشرقی ممالک سیاسی عدم استحکام اور سما جی بے چینی کا شکار ہو رہے ہیں تو دوسری طرف آج امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ جیسے مسخرے اور یورپ میں دائیں بازو کی انتہا پسند قوم پرست جماعتیں عام لوگوں کے مسائل پر جذباتیت کو بھڑکا کر مقبول ہو رہی ہیں، حالانکہ عوام کے مسائل کا حل انتہا پسندی پر مبنی قوم پرستی میں نہیں ہے، اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس نظام کو سمجھا جائے جس کے اندر رہتے ہوئے وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن ہی نہیں۔

عمر جاوید

‘امریکا کو نواز شریف، زرداری جیسا صدر مبارک’

2president-barack-obama-and-president-elect-donald-trump-leave-the-white-house-inauguration-day-2017

20 جنوری کو ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے 45 ویں صدر منتخب ہوگئے، ان کی حلف برداری کی تقریب کے موقع پر کئی نامور شخصیات وہاں موجود رہیں، تاہم سوشل میڈیا پر لوگوں نے اس تقریب کی کچھ اور ہی منظر کشی کی۔ اس تقریب کے آغاز سے اختتام تک سوشل میڈیا پر لوگوں نے ہر جذبے، غلطی اور دلچسپ لمحات پر اپنے تبصرے دینا شروع کردیئے۔

یہاں دیکھیں کہ ٹوئٹر پر صارفین نے ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کو کیسا پایا:

ایک صارف نے کہا ‘ٹرمپ اپنی اہلیہ کو پیچھے بھول گئے، اوباما نے انہیں سکھایا کہ خواتین کے ساتھ کیسا برتاؤ کرنا چاہیئے’۔

 8199874-3x2-700x467

ایک خاتون کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی اہلیہ نے اس موقع پر بھی مشعل اوباما کی نقل کی۔

کسی نے کہا ‘لگتا ہے میلانیہ ٹرمپ کا تحفہ، مشعل اوباما کو کچھ زیادہ پسند نہیں آیا’۔

ایک صارف نے ہلیری کلنٹن کی غصہ والی تصویر شیئر کرکے لکھا، ‘ہلیری، ڈونلڈ کی حلف برداری کی تقریب میں جادو گرنی بن کر آئی ہیں’۔

کسی نے کہا ڈونلڈ ٹرمپ کے خطاب کو سن کر ایسا محسوس ہوا جیسے انہیں جرمن زبان میں بات کرنی چاہیے تھی۔

جبکہ کسی کا کہنا تھا ‘جب بھی میں ٹرمپ کے خطاب میں کچھ نیا سنتا مجھے کوئی خوفناک کہانی یاد آجاتی’۔

ایک صارف نے ٹرمپ کے خطاب کو فلم ‘بیٹ مین’ کے ولن کے ایک جملے کی نقل کہا۔

کسی نے لکھا ‘جہاں آج کچھ لوگ دکھی ہیں، وہیں کچھ پلاسٹک کی تھیلی سے کھیلنا پسند کررہے ہیں’۔

ایک صارف نے مشعل اوباما کے عجیب و غریب جذبات کی ویڈیو شیئر کرکے لکھا ‘میں آپ کو سمجھ سکتا ہوں’۔

کچھ لوگوں نے میلانیہ اور ٹرمپ کے پہلے ڈانس کا بھی مذاق اڑایا۔

تاہم پاکستانی اداکار حمزہ علی عباسی کی پوسٹ نے شاید سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔

انہوں نے لکھا ‘امریکا کو آصف علی زرداری اور نواز شریف جیسے صدر کا انتخاب کرنے پر مبارکباد’۔

’سرجیکل سٹرائیکس کی بجائے بھوکی فوج کا پیٹ بھرو’

انڈیا میں بی ایس ایف یعنی بارڈر سکیورٹی فورسز کے ایک جوان نے اپنی خوراک کے معیار سے متعلق اپنی ویڈیو سوشل میڈیا پر نشر کرکے جو تہلکہ مچایا اس نے نہ صرف بی ایس ایف اور بھارتی حکومت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے بلکہ ٹویٹر پر سامنے آنے والا ردعمل بھی دلچسپ ہے۔ سپاہی تیج بہادر یادو نے اپنے ویڈیو کلپ میں سینیئر فوجی حکام پر سنگین الزامات عائد کیے تھے۔ ٹویٹر پر ‘ہیش ٹیگ بی ایس ایف سولجرز فیسِنگ فوڈ کرائسِس’ کے عنوان سے اس پر نہ صرف انڈیا بلکہ پاکستان سے بھی بہت سی ٹویٹس ہو رہی ہیں۔

تیج بہادر یادو کی ویڈیو کے بعد بی ایس ایف کو اپنے دفاع میں بیان دینا پڑا۔ انڈین نیوز چینل ‘زی نیوز’ نے بی ایس ایف حکام کے حوالے سے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ‘سپاہی تیج بہادر شرابی ہیں۔ ان کا ماضی مشکلات میں گزرا ہے۔’ اس پر انڈین صحافی ہریندر بویجا نے اپنی ٹویٹ میں سوال اٹھایا کہ ‘اگر بی ایس ایف کے جوان کا ڈسپلین خراب تھا اور وہ مدہوش تھا تو اس کے خلاف اس وقت ایکشن کیوں نہیں لیا گیا۔ اب کیوں، جبکہ اس نے ویڈیو پوسٹ کی؟’

اپنے پیغام میں تیج بہادر نے الزام لگایا تھا کہ جوانوں کے لیے سامان کی کمی نہیں ہے لیکن ان کے حصے کا راشن فوجی افسر بازار میں فروخت کر رہے ہیں اور انھیں مناسب کھانا تک نہیں ملتا ہے۔ روہِت کمار گپتا، سوشل میڈیا ایکٹیوِسٹ ہیں۔ انھوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ‘یہ ایک شرمناک واقعہ ہے۔ سچ بولنے پر انھیں سزا نہیں ملنی چاہیے۔ آئیں ان کی حمایت کریں۔’

اس خبر اور اس پر ظاہر کیے جانے والے ردعمل کو بڑے ذرائع ابلاغ نے بھی آج اپنا موضوع بنایا ہے۔

‘جنتا کا رپورٹر’ نامی انڈین نیوز ویب سائٹ نے ٹویٹ کیا ہے کہ سپاہی کی حالتِ زار پر شرمناک بیان کے بعد بی ایس ایف کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

پاکستانیوں نے اس خبر پر اپنے زاویہ نظر سے ٹویٹس کی ہیں۔ مثلاً بلاگر احمد علی نے تبصرہ کیا ہے: ‘انڈین حکومت اپنے فوجیوں تک کو تو کِھلا نہیں سکتی اور دعوٰی کرتی ہے پاکستان کے خلاف سرجیکل سٹرائک کا۔’

فوٹوگرافر ارم احمد خان نے اپنی ٹویٹ میں بھارتی حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ ‘پاکستان کے اندر جعلی سرجیکل سٹرائیکس کی منصوبہ بندی کی بجائے اپنی بھوکی فوج کا پیٹ بھرو۔’

پاکستانی کالم نگار شاہزیب خان نے ٹویٹ کیا ‘بی ایس ایف کے سپاہی یادو نے انڈین آرمی میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی اور سپاہیوں کے لیے خوراک کی کمی کو طشت از بام کر دیا ہے۔’

انڈیا میں شوبز کی معروف شخصیت نوید جعفری نے اپنے ٹیوٹیر اکاؤنٹ پر حکام کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا: ‘حکامِ اعلی کچھ شرم کرو! وہ لوگ ہماری حفاظت پر مامور ہیں۔ ہم اپنے جوانوں کو سلام کرتے ہیں۔’

سوشل میڈیا پر کئی کامنٹس میں طنزاً کہا جا رہا ہے ‘تو اب وزرا کو بولنے پر مجبور کرنے کے لیے ویڈیوز سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنا پڑیں گی۔’

ماضی میں بھی عام شہریوں کی ایسی کئی پوسٹس کی کئی مثالیں موجود ہیں جنھوں نے اپنے تخلیق کاروں کو شہرت اور مقبولیت سے ہمکنار کیا ہے۔ اب ان میں سپاہی تیج بہادر یادو کا نام بھی شامل ہوگیا ہے۔

’پاکستان واقعی ایک حیران کن ملک ہے‘

امریکی شہری کیسنڈرا ڈی پیکول تن تنہا دنیا کے سفر پر ہیں اور 190 ممالک کا سفر طے کرنے بعد وہ پاکستان پہنچی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ‘پاکستان ایک چھپا ہوا جوہر ہے جس کی خوبصورتی تاحال دنیا کے سامنے نہیں آسکی‘۔ 27 سالہ امریکی خاتون کیسنڈرا ڈی پیکول نے 15 جولائی 2015 کو دنیا کے تمام 196 خودمختار ممالک دیکھنے کے لیے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا۔ ان کا پہلا پڑاؤ مغربی بحرالکاہل کے ایک چھوٹے سے ملک پلاؤ میں ہوا اور ان کا سفر مسلسل جاری رہا اور 190 ممالک کا سفر کرنے کے بعد وہ پاکستان پہنچیں۔ ان کا مقصد کم از کم وقت میں تمام ممالک کا سفر کرکے گینس بک آف ورلڈ ریکارڈ میں اپنا نام شامل کرنا اور دنیا کو سیاحت کے لیے پرامن اور پاس شعبے کو مستحکم بنانے کا پیغام دینا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘پاکستان آنے سے قبل ان کے کچھ خدشات تھے جو اب دور ہوچکے ہیں اور وہ دوبارہ یہاں آنا چاہیں گی۔’ ‘دنیا کے 190 ممالک گھومنے کے بعد میں کہہ سکتی ہوں کہ جن تین ممالک نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا ان پاکستان، اومان اور بھوٹان سرفہرست ہیں۔’

کیسنڈرا کا کہنا تھا کہ انھوں نے نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پاکستان کے حوالے سے حالیہ بیان نہیں سنا لیکن ان کا ذاتی تجربہ ہے کہ ‘پاکستان واقعی ایک حیران کن ملک ہے مجھے اندازہ نہیں تھا کہ یہاں کے لوگ اور یہاں کی ثقافت انتہائی خوبصورت ہے۔’  کیسنڈرا ڈی پیکول کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد تمام دنیا میں امن کا پیغام پہنچانا ہے۔ وہ ایک مسافر بھی ہیں اور سیاحت و سفر کے حوالے سے نوجوانوں کو تربیت اور رہنمائی بھی فراہم کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ‘پاکستان آنے سے پہلے میں نے اس ملک کے بارے میں بہت کچھ پڑھا اور تحقیق کی لیکن جو کچھ میڈیا دکھاتا ہے پاکستان اس کے بالکل برعکس ہے۔’ ان کا کہنا تھا کہ ‘میں نے اپنا برقع اور عبایا بھی ساتھ رکھا ہوا تھا کہ پاکستان میں اس کی ضرورت ہوگی لیکن ابھی تک اس کی ضرورت پیش نہیں ہے۔’ پاکستانی خواتین کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ‘پاکستان میں قیام کے دوران میں بہت سی نوجوان خواتین سے ملی اور مجھے ان کی قابلیت اور اعتماد دیکھ کر بہت اچھا محسوس ہوا۔’

کیسنڈرا نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ پاکستان کی شمالی علاقہ جات اور چھوٹے شہروں اور قصبوں کو دیکھنا چاہتی ہیں لیکن اس بار یہ ممکن نہیں ہو سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ بہت جلد پاکستان دوبارہ آئیں گی اور اپنی یہ تمنا پوری کریں گی۔

پاکستان میں ان کا قیام کراچی، لاہور اور پھر اسلام آباد میں رہا جہاں یونیورسٹی اور کالجوں کے طالب علموں کے ساتھ انھوں نے مختلف مذاکروں میں حصہ لیا اور انھیں بتایا کہ کیسے اپنے ملک کو اچھے انداز میں پیش کیا جا سکتا اور ایک کامیاب سیاحتی لکھاری بننے کے لیے کیا کچھ کیا جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے انڈیا کا بھی سفر کیا ہے اور انھوں نے پاکستان کو انڈیا کی ثقافت، رنگ اور انداز زندگی کو بہت مخلتف پایا۔  انھوں نے بتایا کہ بلاشبہ سیاحت ایک مہنگا شعبہ ہے لیکن آپ پیسے بچاتے ہوئے بھی کئی نئی جگہوں کی سیر کرسکتے ہیں۔ ‘ایسا نہیں ہے کہ آپ جہاں جائیں بڑے بڑے ہوٹلوں میں رہیں یا پرآسائش گاڑیوں میں سفر کریں۔ آپ ضرورت کے مطابق کسی کم قیمت جگہ پر قیام کر سکتے، وہی کھا سکتے ہیں جو وہاں عام لوگ کھاتے ہیں، ویسے ہی سفر کر سکتے ہیں جیسے مقامی عام لوگ کرتے ہیں۔’

اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے تقریبا 25 ممالک کا دورہ صرف 2000 ڈالر میں کیا۔ اس دوران وہ ٹرین سٹیشنوں پر سوئیں، بغیر کھائے پیے رہیں اور ‘ہچ ہائیکنگ’ کرتی ہوئی مشرق وسطیٰ، افریقہ، جنوبی امریکہ اور ایشیا میں گھومیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے اب نوجوان بلاگروں اور سیاحت کے حوالے سے لکھنے والوں کے لیے بہت سے دروازے کھل گئے ہیں جن کا بھرپور استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کیسنڈرا کا کہنا تھا کہ ان کا اگلی منزل افریقی ملک ارٹیریا ہے اور وہ جلد جنگ زدہ یمن کے سفر پر ہوں گی۔

شیراز حسن

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد